ٹائپنگ مکمل فسانہ مبتلا

شمشاد

لائبریرین
فسانہ مبتلا ریختہ صفحہ 5

تعارف

نذیر احمد 1836ء میں بجنور میں پیدا ہوئے ابتدائی تعلیم رواج کے مطابق گھر پر حاصل کی اور عربی، فارسی، منطق، فلسفہ ابتدائے عمرمیں ہی پڑھ لیا۔ پھر ماں باپ نے دہلی بھیجا جہاں پنجابی کڑے کی اورنگ آبادی مسجد کے مدرسے میں مولوی عبد الخالق صاحب کے سپرد کر دیے گئے۔ 1845ء میں قدیم دہلی کالج میں داخل ہوئے۔ یہاں ماسٹر رام چندر ان کے استاد اور ذکاء اللہ، محمد حسین آزادؔ، پیارے لال آشوبؔ ہم جماعت تھے۔نذیر احمد ماسٹر رام چندر سے خاص قربت رکھتے تھے۔ چنانچہ عیسائیت کی طرف مائل ہوئے۔ مگر بزرگوں، دوستوں اور عزیزوں کے اثرات نے بالآخر انہیں تبدیلی مذہب سے باز رکھا۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد مدرس ہو کر پنجاب گئے۔ پھر ڈپٹی انسپکٹر آف اسکول کی حیثیت سے کانپور اور الہ آباد میں رہے۔ الہ آباد کے قیام کے دوران میں حکومت برطانیہ کے نافذ کیے ہئے قوانین و ضوابط کے اُردو ترجمے بھی کیے جو مستند مانے گئے۔ کچھ عرصے بعد تحصیل دار اور ڈپٹی کلکٹر ہو گئے۔ 1877ء میں سالار جنگ نے، جو ان کے تراجم سے بہت متاثر تھے، انہیں حیدر آباد بلایا جہاں وہ پہلے کمشنر مقرر ہوئے، پھر ممبر بورڈ آف ریونیو بنا دیے گئے۔ اسی زمانے میں نظام کی معلمی کے فرائض بھی انجام دیے۔ سالار جنگ کے انتقال کے بعد وہ دہلی چلے آئے اور پھر تصنیف و تالیف میں مصروف ہو گئے۔ فسانۂ مبتلا اُسی زمانے کی تصنیف ہے۔ نذیر احمد نے قرآن کا ترجمہ بھی سلیس اُردو میں کیا تھا جس پر زبان کے نقطۂ نظر سے سخت اعتراضات کیے گئے اور اس ترجمے کو سراسر بے ادبی و گستاخی بلکہ کفر قرار دیا گیا۔ سر سید کی تحریک کے وہ نہایت سرگرم رُکن تھے اور محمڈن ایجوکیشنل کانگریس، ایم اے اور کالج، انجمن حمایت الاسلام اور دوسرے قومی اداروں سے وابستہ رہے۔ 1897ء میں حکومت نے انہیں شمش العلماءکا خطاب دیا اور اس کے بعد ایڈنبرا یونیورسٹی نے ایل ایل ڈی کی اور

فسانہ مبتلا ریختہ صفحہ 6

پنجاب یونیورسٹی نے ڈی ایل ڈی کی اعزازی ڈگریاں عطا کیں۔ آخر عمر میں سنسکرت سے بھی دلچسپی ہوئی اور درس و تدریس کا شغل جاری رہا۔ ان کا انتقال 28 اپریل 1912ء کو ہوا۔

نذیر احمد کی شخصیت پر مذہب کا اثر بہت گہرا تھا۔ وہ دہلی کالج کی تعلیم اور سر سید تحریک کے اثر کی بدولت کٹر پن اور ہٹ دھرمی سے بچے رہے مگر اسلامی شعائر و عقائد کے معاملے میں وہ سر سید سے زیادہ سخت گیر تھے۔ ان کے ہاں ‘اصلاح‘ سے مراد مغربیت نہیں بلکہ اسلامی احیاء تھی۔

نذیر احمد اُردو کے پہلے ناول نگار ہیں۔ فنی نقطۂ نظر سے نذیر احمد کے ناولوں پر بہت سے اعتراضات کیے جا سکتے ہیں۔ دراصل اُردو میں ناول کے فن کو پہلے پہل متعاف کرانے والے فن کار سے کمال فن کا تقاضا غلط ہے۔ یہی کیا کم ہے کہ انہوں نے اس صنف کے امکانات کا اندازہ لگایا اور اپنے بس بر ان سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی۔ چنانچہ نذیر احمد کے ناول پر سب کچھ کہہ چکنے کے بعد بھی یہ کہے بغیر نہیں رہا جا سکتا کہ انہوں نے نہ صرف اردو میں ایک نئی اور وسیع امکانات کی حامل صنف ادب کا اضافہ کیا بلکہ جو کچھ بھی ادبی ورثہ انہیں اپنے ماضی سے ملا تھا اس کے مطابق ناول کو سنوارنے، اردو کی ادبی فضا میں اسے گوارہ بنانے اور اس طبقے کی ذہنی سطح کے مطابق اسے ڈھالنے کی کوشش کی جس کی اصلاح انہیں مقصود تھی۔ ان کے ناولوں میں انیسویں صدی کے آخر اور بیسویں صدی کے آغاز میں پروان چڑھنے والے مسلم متوسط طبقے کی معاشرت، اس کے داخلی تضادات اور خارجی اثرات اور ان سے پیدا ہونے والے مسائل پر زور ہے۔ "شریف" گھرانوں کے اخلاق و عادات، سماجی حیثیت، انفرادی کردار اور باہمی رشے ان کے پسندیدہ موضوعات تھے جنہیں بڑی خوبی کے ساتھ انہوں نے پیش کیا۔

نذیر احمد نے متعدد ناول لکھے جو شرفا میں مقبول ہوئے اور عرصے تک روشن خیال والدین اپنے بچوں کے لئے ان کا مطالعہ ضروری قرار دیتے رہے۔ ادب کی مقصدیت اور افادیت کے نظریے کا سب سے زیادہ واضح اور گہرا اثر اس زمانے کے سماج پر نذیر احمد کے ناولوں کے ذریعے ہی پڑا۔ کیونکہ ان میں پڑھنے والوں کو اپنے احباب و اعزہ کی شخصیتوں کے چلے پھرتے عکس بھی

فسانہ مبتلا ریختہ صفحہ 7

نظر آتے تھے اور جن مسائل کو نذیر احمد نے چھیڑا وہ بھی دل کو لگنے والے تھے۔ نذیر احمد کے اسلوب کی دل کشی اور زبان کے تاثر کا بھی اپنا جادو تھا۔ چنانچہ نذیر احمد کے ناول محض دانشورں کی محفلوں تک محدود نہیں رہے بلکہ معمولی پرھی لکھی عورتوں کے حلقے میں بھی پہنچ گئے۔

نذیر احمد کے ناولوں کے کردار تمثیلی ہیں۔ آپ ناول پڑھنے سے پہلے کرداروں کے نام سُن کر اندازہ لگا سکتے ہیں کہ کہانی میں ان کا رول کیا ہو گا، اور انجام بخیر ہوگا یا نہیں۔ ظاہر ہے جب ڈھلے ڈھلاے کردار پہلے سے موجود ہیں تو کہانی کا ارتقاء بھی طے شدہ اور جانے بوجھے انداز میں ہو گا۔ چنانچہ ان کے ناول کے پلاٹ کا بھی کم و بیش صحیح قیاس چند ابتدائی ابواب پڑھ کر کیا جا سکتا ہے۔ ان کے باوجود نذیر احمد کے ناول دلچسپ اور اثر انگیز ہیں۔ ان کا مطالعہ و مشاہدہ بہت گہرا تھا۔ وہ کردار کے مختلف پہلوؤں کو اس قدر واضح طور پر اور مناسب مقام پر اُبھارتے ہیں کہ پڑھنے والا اس کی شخصیت سے اچھی طرح مانوس ہو جاتا ہے۔ مکالموں کے ذریعے کرداروں کے رویے اور مختلف حالت میں ان کا ردِ عمل آج بھی نہ صرف دلچسپ بلکہ بصیرت افروز اور معلومات آفریں ہے۔ حقیقیت یہ ہے کہ 1857ں میں انگریزوں کے مکمل قبضے کے بعد سے پہلی جنگ عظیم سے کچھ قبل تک ہندوستانی مسلمانوں کی ذہنی و جذباتی زندگی کا مطالعہ نذیر احمد کے ناولوں کے مطالعے کے بغیر شاید مکمل نہیں ہو سکتا۔

نذیر احمد کے ناولوں میں "مشترکہ خاندان" کی حیثیت بنیادی ہے، جن کی فضا پر سخت قسم کا پُرانا ڈسپلن طاری ہے۔ ان کے کرداروں پر سب سے پہلے خاندان اور پھر سماج کے فرائض عائد ہوتے ہیں۔ بحیثیت افراد کے وہ ہر طرف سے کسے اور بندھے ہوئے ہیں۔ وہ منفرد تو ہو سکتے ہیں مگر صرف اخلاقی برتری کی بنا پر اور یہ اخلاقی برتری نام ہے ایک شریف و باحیثیت رئیس، باوفا شوہر، فرض شناس بیوی، سعادت مند بیٹے، نیک طینت نوجوان، شفیق بزرگ اور دیانت دار ملازم کا۔ المیے کا آغاز اس وقت ہوتا ہے جب ان میں سے کسی میں کوئی کسر رہ جائے۔ اور یہی المیہ ان کی ہر کہانی کی وجہ جواز ہے۔ زیر نظر ناول کا ہیرو مبتلاؔ بھی ایک ایسا ہی کردار ہے۔ وہ

فسانہ مبتلا ریختہ صفحہ 8

خاندانی بندھنوں میں پھنسا ہوا ہے مگر اس کی فطرت اسے ان سے نکلنے پر اُکساتی ہے۔ ان سے نکلنا اس کی تقدیر میں نہیں اور فطرت کو کچلنا اس کے بس میں نہیں۔ چنانچہ وہ ایک المیے کا ہیرو بنا۔ اسے فخر خاندان ہونا تھا مگر ننگ خاندان ہو گیا۔ ابتدائی تربیت ضرورت سے زیادہ لاڈ پیار میں ہوئی۔ کم سنی میں شادیکر دی گئی۔ صاحب حیثیت اور حسن پرست تھا۔ جوان ہوا، عاشق ہوا اور پھر برباد ہوا کیونکہ اس نے دوسری شادی اپنی محبوبہ سے کی تھی۔ جس کا حسب نسب بھی مشتبہ تھا۔ فسانۂ مبتلاؔ تعداد ازدواج کی مخالفت میں لکھا گیا تھا اور ‘مقصدیت‘ شروع سے آخر تک ناول کے ہر ہر صفحے میں حاوی نظر آتی ہے۔ مکالمے بسا اوقات بے حد طویل ہیں، اتنے طویل کہ مکالمے نہیں مدلل مباحث بن جاتے ہیں اور میر متقیؔ کی تقریر تو پورا مضمون ہے۔ جسے مبتلاؔ بڑے صبر و ضبط کے ساتھ سُنتا رہتا ہے۔ بزرگوں کی بات کاٹنا اس زمانے کے آدابِ معاشرت کے خلاف تھا۔ اس لیے اس تقریر کو حقیقت سے بالکل عاری بھی نہیں کہا جا سکتا۔

نذیر احمد ریاست و امارت کے مخالف نہیں، اس سے پیدا ہونے والی بُرائیوں کے مخالف ہیں اور اس کا علاج ان کے نزدیک یہ ہے کہ خواہ آپ نئی روشنی کے کتنے ہی دلدادہ ہوں، سماجی اور اخلاقی بندشیں ڈھیلی نہ ہونے دیں۔ اگر یہاں چوکے تو سب کچھ ہاتھ سے گیا۔

"فسانۂ مبتلا المعروف بہ محصنات" کے متعدد ایڈیشن شائع ہو چکے ہیں۔ سب سے پہلا ایڈیشن اغلاط کا پُشتارہ تھا۔ نذیر احمد اس سے سخت نامطمئن تھے، چنانچہ انہوں نے اس کی تصیح کی اور نظر ثانی و ترمیم و اصلاح کے بعد پہلا صحیح ایڈیشن مطبع انصاری دہلی سے اور پھر دوسرا شمسی پریس دہلی سے چھپوایا۔ زیر نظر متن کی ترتیب ان ہی دونوں ایڈیشنوں کی بنیاد پر کی گئی ہے۔ کتاب میں جابجا حواشی درج ہیں اور خاتمے پر ایک مرثیہ اور پھر فرہنگ ہے جسے مصنف نے ہی مرتب کیا تھا۔ یہ سب کچھ اس ایڈیشن میں بالکل اُسی طرح قائم رکھا گیا ہے۔

صدیق الرحمٰن قدوائی
جامعہ نگر، نئی دہلی نمبر 25
5ستمبر 1971ء

فسانہ مبتلا ریختہ صفحہ 9

دیباچہ الکتاب

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

اللہ اللہ وہ بھی کیا دن تھے کہ سر ولیمؔ میور ممالک مغربی و شمالی کے لفٹنٹ گورنر تھے، اور مسٹر ایم کمپسنؔ تعلیم کے ڈائرکٹر۔ تعلیم کے اعتبار سے یہ دونوں صاحب مسلمانوں کے گویا ہارون الرشید اور منصور تھے۔ اور ہنود کے بکرماجیت اور بھوج۔ انگریزی جتنی پڑھی جائے، تھوڑی، مگر کتنی ہی کیوں نہ پھیلے، ہندوستان کی ملکی زبان تو بن بیٹھنے سے رہی، قوم من حیث القوم ادیر سویر جب کبھی ترقی کرے گی، اپنی ہی زبان میں پڑھنے لکھنے سے۔ سر ولیم میورؔ کا یہی گُر تھا۔ وہ زبانِ اردو کی پرداخت کے پیرائے یںہمارے فلاح کی فکر میں تھے۔انہی کی قدردانی مجھے تصنیف و تالیف کی باعث ہوئی، یہاں تک کہ عورتوں کی تعلیم کا سلسلہ مرتب ہو گیا۔ خانہ داری میں ماڑۃ العروس، معلومات ضروری میں بناتؔ النعش، خدا پرستی میں توبۃ النصُوح، ان کتابوں نے ایسا رواج پایا کہ انگریزی، بنگالی، گجراتی، بھاکا، مرہٹی پنجابی، کشمیری، سات زبانوں میں ترجمہ ہوا اور اس وقت تک بدعات چالیس ہزار جلدیں چھپ چکیں۔ ان ہی دنوں مجھے یہ خیال ہوا تھا کہ مسلمانوں کی معاشرت میں عورتوں کی جہالت اور نکاح کے بارے میں مردوں کی آزادی، دو بہت بڑے نقص ہیں۔ میں نے ایک نقص کے رفع کرنے (چہل المقل) کی کوشش کی ہے، تو دوسرے نقص کے دفع میں بھی کچھ کرنا ضرور ہے۔ قصے کا منصوبہ ذہن میں ٹھہر چکا تھا کہ سر ولیمؔ میور ولایت چلے گئے اور میں حیدر آباد۔ اب کہ خدمت سے علیٰحدہ ہو کر خانہ نشین ہوا۔ فرزند ارجمند، اصلح و اسعد، مولوی بشیر الدین احمد موقع پا کر متقاضی

فسانہ مبتلا ریختہ صفحہ 10

ہوئے۔ اگر اس کتاب سے کوئی فائدہ مترتب ہوا، اور ان شاء اللہ ہو گا، تو لوگوں کو مجھ سے بڑھ کر مولوی بشیر الدین احمد کا شکر گزار ہونا چاہیے۔ کیونکہ انہوں نے اس کتاب کے لکھنے میں میری اس قدر مدد کی ہے کہ فی الواقع شریف تصنیف ہوئے اور شریک بھی، شریک غالب فقط۔

نذیر احمد وفقہُ اللہ التزوُدیغد
دہلی، 22 اگست 1885ء
 
آخری تدوین:

اوشو

لائبریرین
صفحہ ۔۔۔11

تمہیدِ قصہ

بسم اللہ الرحمن الرحیم

مبتلا1 تھا تو تخلص، مگر چوں کہ پھبتا ہوا تھا، ایسا مشہور ہوا کہ اصلی نام کو دور کے رشتہ دار تک بھی نہیں جانتے تھے اور مبتلاؔ کے نام سے لڑکے شہر کے تمام گلی کوچوں میں، جب تک امرد رہا غزلیں اور واسوخت، جوان ہوا تو گیت اور ٹھمریاں، بوڑھا ہوا تو اس کے مرے پیچھے بھی مدتوں تک مرثیے اور نوحے گاتے اور پڑھتے پڑے پھرتے تھے۔ ہمارے یہاں کی شاعری میں عشق بازی اور بدتہذیبی کے سوا ہے کیا۔ شریف خاندانوں کے نوجوان لڑکے اکثر اسی مکتب سے خرابی کے لچھن سیکھتے اور اسی اکھاڑے میں برے کوتکوں کی مشق بہم پہنچاتے ہیں۔ جس شاعری سے ہم بحث کر رہے ہیں اس کے تین درجے ہیں۔ سننا، سیکھنا، کہنا۔ ان میں سے پہلے دو درجے تو ہمارے طرزِ تعلیم میں داخل ہیں۔ جس کا شمار پڑھے لکھوں میں ہے، ممکن نہیں کہ حرف شناسی کے بعد اس کا پہلا سبق یہ نہ ہو۔
2۔ اے داغ بر دل از غمِ خالِ تو لالہ را
شرمندہ ساخت آہوئے چشمت غزالہ را
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1۔ صرف عربی کی رو سے مبتلا کے الف مقصورہ کو ی کی صورت میں لکھنا چاہیے مگر ہم نے جان بوجھ کر صاحب تخلص کی نقل و تقلید کی ہے۔ 2۔ محمود نامہ فارسی کی ایک مشہور کتاب مبتدیوں کو پڑھائی جاتی ہے، یہ اس کا پہلا شعر ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ ۔۔۔ 12

جن باتوں کی بھننگ کان میں پڑنا نوجوانوں کے حق میں سمِ قاتل ہے سبقاً سبقاً ازبر کرائی جاتی ہیں اور جن خیالات کا ایک بار دل میں گزر جانا دنیا و دین دونوں کی تباہی کا موجب ہو سکتا ہے، برسوں کی مشق و تمرین سے خاطر نشین کیے جاتے ہیں تاکہ طبعی ہو جائیں، ناممکن الزوال، اور فطری بن جائیں، جن کا نکلنا محال۔ بےچارہ مبتلاؔ اس عموم سے مستثنیٰ، اس کلیے سے خارج نہ تھا بلکہ اس پر تو ایک دوسری خلقی بلا مسلط تھی کہ کم بخت صورت شکل کا اچھا، رنگ کا گورا، اعضا کا متناسب، یعنی شعر کا موضوع لہ واقع ہوا تھا۔ یہ تو عقل میں نہیں آتا کہ تخلص تک نوبت پہنچی ہو اور شعر نہ کہا ہو۔ مگر مخمس، قصیدہ اور مثنوی و واسوخت اور غزل اور رباعی کا کیا مذکور، ہم تک تو مبتلاؔ کا کوئی مصرع نہیں پہنچا۔ قیاس چاہتا ہے کہ اگر اس نے شعر گوئی کی ہو گی تو اوائلِ عمر میں، کیونکہ تیس برس کی عمر سے تو ہم اس کو خانہ داری کی ایسی مصیبتوں میں پھنسا ہوا پاتے ہیں کہ ایسی حالت میں فراغِ خاطر اور اجتماعِ حواس، جو شرطِ شاعری ہے، میسر ہو نہیں سکتا۔ مبتلاؔ کے اوائلِ عمر کا کلام، غالب ہے کہ حسنِ ادا اور شوخی اور نزاکت سے خالی نہ ہو اور اس میں تو شبہ ہی نہیں کہ جب وہ مشاعرے میں غزل پڑھتا ہو گا تو میر انشاء اللہ خاں 1 کی طرح واہ واہ اور سبحان اللہ اور مکرر پڑھنے کی فرمائشوں کا بڑا غل ہوتا ہو گا۔ مبتلاؔ کا زمانہ کچھ ایسا متقدم نہیں ہے۔ کچھ نہیں تو سو دو سو اس کے دیکھنے والے اب بھی شہر میں زندہ اور موجود ہوں گے۔ پس اگر ہم جستجو کرتے تو اس کا کلام تھوڑا بہت کسی نہ کسی جگہ سے ملتا پر ملتا۔ مگر ہم نے اس قصہ کے آگے اس کے کلام کا کچھ خیال نہیں کیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1۔ میرا انشاء اللہ خاں بھی بڑے خوبصورت اور طرح دار تھے۔ ڈاڑھی مونچھ کا کہیں پتہ نہ تھا کہ شعر کہنے لگے۔ مشاعرے میں آدھے سے زیادہ میر انشاء اللہ خاں کے ہوا خواہ ہوتے تھے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ ۔۔۔ 13

پہلی فصل

مبتلاؔ کی ولادت اور طفولیت

اس تمول کے اعتبار سے مبتلاؔ ایک خوش حال باپ کا بیٹا تھا اور چوں کہ اکٹھی نو بیٹیوں کے بعد پیدا ہوا، اس سے بڑھ کر اللہ آمین اور کس کی ہو گی۔ بیٹے کا ارمان تو شروع ہی سے تھا۔ ہر مرتبہ ملنے جلنے، دیکھنے بھالنے والے مولوی، ملاں، نجومی، رتال حتیٰ کہ دائی جی کے خوش کرنے کو کہہ دیا کرتے تھے کہ اب کے ضرور بیٹا ہو گا۔ مگر ایک عمر اسی میں گزر گئی۔ توقع کی، ناامیدی کے واسطے۔ امید لگائی، ناکامیابی کے لئے۔ مبتلاؔ کی نوبت میں تو یاس اس درجے کو پہنچ چکی تھی کہ سارے گھر میں کسی کو بیٹے کا شان و گمان تک بھی نہ تھا۔ دم کے پانی، تعویذ، گنڈے، ٹونے ٹوٹکے اور دوا درمن برسوں سے موقوف تھے۔ مبتلاؔ پیدا ہوا تو سب سے پہلے دائی کو معلوم ہوا کہ بیٹا ہے۔ اس نے اتنی عقل مندی کی کہ لوگوں پر بیٹے کا ہونا فوراً ظاہر نہیں ہونے دیا۔ ورنہ زچہ، جس کو سکون اور قرار درکار تھا، مارے خوشی کے پھولی نہ سماتی، اور الٹے لینے کے دینے پڑ جاتے۔ بارے بتدریج سب کو خبر ہوئی، سنتے کے ساتھ جو کھڑا تھا تو کھڑا اور بیٹھا تھا تو بیٹھا، سجدے میں گڑ پڑا۔ کسی کے منھ سے دعا نکلی، کوئی لگا بے ساختہ زچہ گیریاں گانے، کسی نے دوڑ کر چٹا چت زچہ اور بچے کی بلائی لے لیں۔ غرض گھر کیا، اسی وقت سارے محلے میں غل مچ گیا اور صبح ہوتے ہوتے تو گلی میں ڈلیوں سے، اور گھر میں بیبیوں سے، تل دھرنے کو جگہ نہ تھی۔ ہر چند بیٹے کا ارمان اس بلا کا تھا کہ کیسا ہی بدصورت بیٹا ہوتا چوم چاٹ کر ماتھے چڑھاتے۔ مگر اس خاندان میں ہمیشہ سے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ ۔۔۔ 14

صورتوں سے پرچول رہا کرتی تھی۔ گھر میں جو آتا، بچے کو دیکھنا چاہتا۔ یہ لوگ پرچھاویں اور نظر کے ڈر سے اس کے دکھانے میں مضایقہ کرتے تھے۔ جب بیبیوں کا بہت تقاضا ہوا اور گرمی پڑنے لگیں، تو زچہ کے پاس گھر کی کوئی عورت بیٹھی تھی، اس نے کہا : "خدا کے لئے بیبیو، ذرا ہوا کا رخ چھوڑو، کہ دم گھٹا جاتا ہے، مرد بچے کی صورت کیا دیکھنا ہے، خدا عمر دے، پروان چڑھائے، الٰہی! ماں باپ کا کلیجا ٹھنڈا رہے۔" ایک بی بی ، باوجودیکہ خود بھی ہجوم کرنے والیوں میں تھیں، بو اٹھیں: "لوگو! کیا بھیڑ لگائی ہے، اللہ رکھے پانچ بہنوں کا بھائی ہے، انیس بیس کے فرق سے اپنی بہنوں میں ملتا ہوا ہو گا۔" اتنے میں دائی اندر سے نکلی تو ساری بیبیوں نے اس کو گھیر لیا۔ "کیوں بوا! بچہ پورے دنوں کا صحیح سلامت تو ہوا؟" دائی۔ "ہاں، پورے دن بھی کیسے! خوب بھرپور ہاتھ پاؤں، بال، ناخن، سب خاصے توانا، ماشاءاللہ پٹڑے کا پٹڑا اور ان کے جتنے بچے ہوئے سب اسی طرح کے۔ خدا کے فضل سے کوکھ بہت صاف ہے۔" بیبیاں۔ "کیوں بوا! بہنوں میں ملتا ہوا تو ہے۔" دائی۔ "بہنوں کو اس سے کیا نسبت؟ لڑکیاں بھی اچھی صورت کی ہیں، مگر اس سے پہلے کی دو لڑکیاں، کہ ایک دو مہینے کی ہو کر اتر گئی، اور دوسری دو سوا دو برس کی، بس دونوں آفتاب ماہتاب تھیں۔ اور یہ تو خدا جیتا رکھے، نور کا پتلا ہے۔ بڑی بری غلافی آنکھیں، اونچی اور ستی ہوئی ناک، پتلے ہونٹ، چھوٹا سا دہانہ، چمکتے ہوئے سیاہ گھونگر والے بال، کتابی چہرہ، صراحی دار لمبی گردن، سانچے میں دھلا ہوا بدن۔ میری اتنی عمر ہونے آئی، تیرہ برس کی بیاہی آئی تھی، تب سے اپنی ساس کے ساتھ یہ کام کرنے لگی۔ خدا جھوٹ نہ بلوائے اتنے بچے میرے ہاتھ سے ہوئے کہ جن کا شمار نہیں، مگر ایسا قبول صورت 1 بچہ میں نے تو بڑے بڑے نامی گرامی امیروں کے ہاں بھی، جن کے حسن کی آج بڑی دھاک ہے، نہیں دیکھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1۔ مقبول کی جگہ بولا جاتا ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ ۔۔۔ 15

بات یہ ہے کہ اللہ عمر دے اور بھاگوان ہو۔" سب نے کہا: "آمین۔" مبتلاؔ کے پیدا ہونے کی روداد جو ہم نے اوپر بیان کی اس سے ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ مبتلاؔ کے ساتھ ماں باپ اور عزیز و اقارب نے کیا کچھ چوچلے نہ کیے ہوں گے۔ غرض وہ تمام خاندان اور سارے کنبے میں ایک انوکھی چیز سمجھا جاتا تھا اور حقیقت میں جس جس پہلو سے دیکھیے وہ انوکھی چیز تھا بھی۔ جب سے پیدا ہوا سارے سارے دن، ساری ساری رات گودوں میں ہی رہتا۔ نہالچے پر لٹانے کی نوبت نہ آتی تھی۔ اپنے ہی گھر میں ماں، نانی، خالہ، ممانی، ایک کم آدھی درجن سگی بہنیں۔ اتنے آدمی لینے والے تھے کہ ایک سے ایک چھینے لیتا تھا۔ باپ کا یہ حال تھا کہ جتنی دیر ممکن تھا، گھر میں رہتے اور جتنی دیر گھر میں رہتے، خود لیے رہتے یا پیشِ نظر رکھتے۔ مبتلاؔ کے پہلے پانچ بلکہ ساتھ آٹھ برس کی زندگی، یعنی جب تک وہ محتاجِ پرورش رہا، اس قابل ہے کہ مستقلاً ان حالات کی ایک کتاب لکھی جائے، مگر ہم کو تو اس کے دوسرے ہی معاملات سے بحث کرنی ہے۔ اس کی پرورش کے متعلق ہم اتنا ہی لکھنا کافی سمجھتے ہیں کہ اگرچہ خاندان کے لوگ سب کے سب دین کے پابند نہ تھے مگر مبتلاؔ کا باپ بڑا نمازی اور پرہیز گار آدمی تھا۔ مولوی شاہ حجت اللہ صاحب کے وعظ سے اس کو ایسا عشق تھا کہ آندھی جائے، مینھ جائے، طبیعت درست ہو نہ ہو، جہاں سنا کہ مولوی صاحب کا وعظ ہے، سب سے پہلے موجود۔ گھر کی بڑی بوڑھیاں بھی نماز پڑھتی تھیں۔ بایں ہمہ جو احتیاطیں مبتلاؔ کی پرورش میں برتی جاتی تھیں ان سے ایسا مستنبط ہوتا تھا کہ ان لوگوں کے پندار میں مبتلاؔ کی تن درستی نہ صرف غذا سے، اور آب و ہوا سے، بلکہ مکان سے، برسوں سے، مہینوں سے، دنوں سے، لیل و نہار کے خاص خاص اوقات سے، اپنے بیگانے کی نگاہ سے، آئے گئے کی پرچھائیں سے، لوگوں کی باتوں سے، دلی خیالات سے، تنہائی سے، تاریکی سے، چاندنی سے، کسوف و خسوف سے، کتے سے، بلی سے، چھپکلی سے، دیو سے، بھوت سے، جن سے، پری سے، غرض ہر چیز سے، جو واقعی ہے اور ہر چیز سے جو ادھائی ہے، معرضِ خطر

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ ۔۔۔ 16

میں ہے۔ ہم تو معاذ اللہ کسی کلمہ گو مسلمان پر کفر اور شرک کا الزام کیوں لگانے لگے۔ مگر بہ مجبوری اتنی بات کہنی پڑتی ہے کہ مبتلاؔ کے ساتھ جو برتاؤ کیے جاتے تھے واہمۂ شرک اور مظنۂ کفر سے خالی نہ تھے۔ یہ بات کہ جس خدا نے ہم کو پیدا کیا ہے وہی ایک وقتِ مقررہ تک، جس کا حال اسی کو معلوم ہے، ہماری زندگی اور تن درستی کی حفاظت کرتا ہے۔ اور جس طرح بدوں اس کے فضل و کرم کے ہم دنیا میں آ نہیں سکتے تھے، اسی طرح بغیر اس کی مدد اور حمایت کے ایک لمحہ دنیا میں رہ بھی نہیں سکتے۔ سوتے جاگتے، چلتے پھرتے، اٹھتے بیٹھتے کہیں اور کسی حالت میں ہوں ہم اس کی پناہ میں ہیں اور اس کا سایۂ رحمت ہمارے سر پر ہے۔ وہ ہر مرض میں ہمارا طبیب ہے اور ہر مصیبت میں ہمارا معین و مددگار، ہر تکلیف میں ہمارا غم گسار۔ بدون اس کی مرضی کے نہ غذا میں تقویت ہے، نہ دوا میں تاثیر۔ بغیر اس کے حکم کے، نہ زہر زہر ہے نہ اکسیر اکسیر۔ غرض یہ بات ان لوگوں کے معتقدات میں تو ضرور ہو گی جو مبتلاؔ کو پال رہے تھے، مگر ان کے برتاؤ توکل و انابت کی کوئی بات ہمارے دیکھنے میں نہ آئی، بلکہ ان کی تدبیریں سن کر حیرت ہوتی تھی کہ مبتلا کا پلنا اور پرورش پانا کیسا، یہ گراں جان ان نادان دوستوں کے ہاتھ سے بچ کیوں کر گیا۔ کوئی دکھ، کوئی روگ نہ تھا کہ جس کو یہ لوگ اسبابِ غلط اور ادعائی نظر آسیب وغیرہ کی طرف منسوب نہ کرتے ہوں اور چوں کہ تشخیص میں غلطی ہوتی تھی، اسی وجہ سے جو تدبیریں کی جاتی تھیں، غلط در غلط۔ مگر مبتلاؔ خلقتاً توانا پیدا ہوا تھا۔ ہمیشہ اس کی طبیعت امراض پر غالب آتی رہی۔ بہر کیف مبتلاؔ کسی نہ کسی طرح خدا کے فضل سے پل پلا کر بڑا ہوا۔ یہاں تک کہ ان گنا 1 برس بھی خیریت ساتھ گزرا۔ مبتلاؔ کی تعلیم و تربیت سے مستورات کو ظاہر میں تو کچھ سروکار نہ تھا۔ ہر چند وہ مکتب میں نہیں بیٹھا، کسی استاد سے اس نے سبق نہیں لیا، تاہم ہمارے نزدیک
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1۔ آٹھیں برس کو ان گنا اور میٹھا برس کہتے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ ۔۔۔ 17

(اور ہمارے نزدیک کیا بلکہ واقع میں) ایک اعتبار سے اس کی تعلیم و تربیت بہت کچھ ہو چکی تھی۔ دنیا میں سارے لوگ پڑھے لکھے نہیں ہوتے اور نہ پڑھنے لکھنے پر زندگی یا معاش کا انحصار ہے۔ اصل چیز ہے عادات کی درستی، مزاج کی شائستگی، طبیعت کی اصلاح۔ سو جس وقت بچہ پیدا ہوتا ہے، اسی وقت سے وہ اخذ 1 کر چلتا ہے ان لوگوں کی خو بو جو اس کو پالتے، اس کو اٹھاتے بٹھاتے، اس کو سلاتے، اس کو کھلاتے پلاتے ہیں۔ ظاہر میں معلوم ہوتا ہے کہ بچے ایک مضغۂ گوشت کی طرح پڑے ہیں، نادان اور لایعقل۔ نہیں نہیں۔ وہ اپنے سارے حواس سے، ظاہری ہوں یا باطنی، بڑی کوشش کے ساتھ کام لے رہے ہیں۔ چیزوں کو دیکھتے ٹٹولتے، آوازوں کو سنتے اور جو دیکھتے سنتے ہیں اس کو حافظے میں رکھتے جاتے ہیں۔ اس کی ایک آسان شناخت ہے کہ اگر بڑی عمر میں ہم کوئی دوسری زبان سیکھنی چاہیں تو کس قدر کوشش کرنی ہوتی ہے! بعض بعض اوقات سارے سارے دن رٹنا پڑتا ہے اور ہم کو اپنی مادری زبان 2 سے، لکھنا آتا ہے تو لکھنے سے، اس زبان کی صرف و نحو سے، لغت سے بھی بڑی مدد ملتی رہتی ہے، تب ہم کو کہیں برسوں میں جا کر وہ زبان آتی ہے، تاہم ناقص و ناتمام۔ بچے جن کو ہماری سہولتوں میں سے کوئی سہولت بھی حاصل نہیں، کیا کچھ زحمت اٹھاتے ہوں گے کہ ذہین ہوئے تو برس کے اندر ہی اندر، ورنہ ڈھائی تین برس کی عمر میں تو مٹھے، لدھڑ، کند ذہن تک طوطے کی طرح چرغنے لگتے ہیں۔ کیا اتنی بات سے کہ کسی نے ہپا اور مما اور ابا اور اما دس بیس بار سکھانے کے طور پر اس کے سامنے کہہ دیا، کوئی دعویٰ کر سکتا ہے کہ ہم نے ان کو بولنا سکھایا، زبان کی تعلیم کی؟ نہیں۔ یہ سب بچوں کی ذاتی کوشش ہے۔ پھر یہ خیال کرنا بھی غلط ہے کہ بچوں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1۔ یعنی لے چلتا ہے، اخذ بہ معنی گرفتن۔ 2۔ وہ زبان جو ماں باپ اور پالنے پوسنے والے سکھاتے ہیں، یعنی دیس کی زبان۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ ۔۔۔ 18

کی ساری ہمت صرف زبان کے سیکھنےمیں ہی مصروف رہتی ہے۔ ایک زبان، کیا بھلا برا۔ ادب، قاعدہ، نشست برخاست، رغبت اور نفرت، سود و زیاں، دوست دشمن، خویش و بےگانہ، محبت اور عداوت، حیا اور غیرت، غصہ اور لالچ، حسد اور رشک وغیرہ وغیرہ سارے سبق ان کو ایک ساتھ شروع کرا دیے جاتے ہیں۔ پس مبتلاؔ، جس کی عمر آٹھ برس کی ہو چکی تھی، پڑھ چکا تھا جو کچھ اس کو پڑھنا تھا۔ اور سیکھ چکا تھا جو کچھ اس کو سیکھنا تھا۔ ماں سے، باپ سے، نانی سے، خالہ سے، بہنوں سے، گھر کے نوکروں سے، آئے گئے سے۔ عمر کے اعتبار سے اس کی تعلیم و تربیت کی ایسی مثال تھی کہ جیسے کپڑا مول لیا گیا، درزی نے قطع کیا، سیا اور کھڑا کرنے کے بعد اس نے پہنا کر بھی دیکھ لیا۔ صرف بخیہ کر دیان باقی ہے اب اگر کپڑا بدرنگ یا گلا ہوا نکلے، یا کہیں سے تنگ ہو جائے، تو درزی اس میں کیا کمال کرے گا۔ کپڑا لیتے وقت یا قطع کراتے وقت یہ باتیں دیکھنے کی تھیں، اور نہیں دیکھیں تو جھک مارو اور وہی پہنو۔ گلا ہوا کہ پہنا اور کھسکا۔ کچے رنگ کا جس میں پہلے ہی دن دھبے نمودار ہوں، تنگ کہ پہلے سے بدن میں بدھیاں پڑیں اور سانس اندر کا اندر اور باہر کا باہر رہ جائے۔ اب دیکھنا چاہیے کہ مبتلاؔ پر زنان خانے کی تعلیم کا کیا اثر مترتب ہوا تھا۔ جوں جوں وہ بڑا ہوتا گیا ضدی، چڑچڑا، غصیلا، مچلا، ہٹیلا، زود رنج، مغرور، خود پسند، طماع، حریص، تنگ چشم، بودا، ڈرپوک، شوخ، شریر، بےادب، گستاخ، کاہل، آرام طلب، جابر، سخت گیر، گھر گھسنا، زنانہ مزاج بنتا گیا۔ اس کو دنیا و مافیہا 1 کی کچھ خبر تو تھی نہیں۔ کبھی وہ بے رت کے پھلوں اور بے موسم کے میووں کے لئے گھنٹوں لوٹتا اور پٹخنیاں کھاتا، پہروں ایڑیاں رگڑتا، اور آخر کو ایڑیوں کے بدلے اپنے چاہنے والوں اور نازبرداروں سے ناک رگڑوا لیتا، تب بہ مشکل چپ کرتا۔ وہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1۔ یعنی دنیا اور جو کچھ دنیا میں ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ ۔۔۔ 19

جب جی چاہتا، جتنی چاہتا، کھاتا، اور اپنی بے اعتدالیوں اور بے احتیاطیوں سے بیمار پڑتا اور الٹا ماں سے لڑتا۔ ایک مرتبہ سنا کہ وہ اس بات پر خوب رویا اور بہت بکھرا کہ ہائے، بادل کیوں گرج رہا ہے! ہر چند سارا گھر اس بات کے اہتمام میں لگا رہتا کہ کوئی امر اس کے خلافِ مزاج نہ ہو، مگر اس کو رونے اور بگڑنے کے لیے ہر وقت کوئی نہ کوئی بہانہ، ایک نہ ایک حیلہ مل ہی جاتا تھا۔ اس کی ناخوشی کا روکنا حقیقت میں انسان کے اختیار سے خارج اور آدمی کی قدرت سے باہر تھا۔ کوئی جان نہیں سکتا تھا کہ وہ کس بات پر روٹھ جائے گا، اور روٹھے پیچھے کسی کو خبر نہ تھی کہ کیوں کر منے گا۔ لاکھ اللہ آمین کیوں نہ ہو، کہاں تک برداشت؟ کتنا تحمل؟ آخر رفتہ رفتہ لوگ اس کے لاڈ پیار میں کمی کرنے لگے۔ سب سے پہلے بڑی اور بیاہی ہوئی صاحبِ اولاد بہنوں نے بےرخی ظاہر کی۔ آخر تھیں تو اسی کی بہنیں، جب اس کی شوخی و شرارت سے عاجز آتیں، جھڑک دیتیں اور گھرک بیٹھتیں، بلکہ ایک تو ایسی جلے تن تھی کہ یہ اس کے پاس بھانجے کو دق کرنے اور بوٹیاں توڑنے گیا اور اس نے دور ہی سے ڈانٹا کہ "خبردار جو میرے بچے کو چھیڑا ہو گا، میں ایسے چوچلے ایک نہیں سمجھتی، دیکھ، خدا کی قسم میں مار بیٹھوں گی۔" ماں کا بھی مبتلاؔ کے ہاتھوں دم ناک میں تھا۔ مگر سچ کہا ہے "حبک الشیٔ یعمی و یصم" 1 ، وہ کھسیانی تو ہوتی تھی، مگر ادھر جوش آیا اور فوراً ٹھنڈی پڑ گئی۔ تیوری پر بل پڑ چلا تھا کہ کھلکھلا کر ہنس دی۔ مبتلاؔ کی برائیوں کو برائی سمجھنا تو درکنار، وہ اس کی طرف سے ساری دنیا سے ہر وقت لڑنے کو تیار تھی۔ ایک مرتبہ مبتلاؔ خدا جانے کس بات پر، پیچھے سے ماں کی چوٹی کو گھسیٹے جاتا تھا، سب سے بڑی بہن نے (جس کی پہلونٹی کی بیٹی مبتلاؔ سے بھی دو برس بڑی تھی) دیکھ کر کہا: "سبحان اللہ! کیا ماں کا وقار ہے، لاڈ پیار بہت دیکھے، مگر اتنا ناہموار! اس درجے بےتمیز! جب ماں کا یہ ہدڑا کر رکھا ہے تو
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1۔ انسان کو ایک چیز کی محبت اندھا اور بہرا کر دیتی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ ۔۔۔ 20

ہمارا تو سر مونڈ کر بھی بس نہیں کرے گا۔ ہائے تو میرا بیٹا نہ ہوا تجھ کو ایسا ٹھیک بناتی کہ یاد ہی تو کرتا۔" باوجودے کہ بیٹی نے نصیحت کی بات کہی تھی مگر ماں پنجے جھاڑ کر اس کے پیچھے لپٹی اور سر ہو گئی۔ ماں کی پردہ داری کی وجہ سے باپ کو مبتلاؔ کی شوخیوں کی پوری پوری خبر نہیں ہونے پاتی تھی پھر بھی جس قدر حال چار و ناچار معلوم تھا اس سے انہوں نے اتنا تو سمجھ لیا تھا کہ اس کا اٹھان اچھا نہیں۔ مبتلاؔ کو چھٹا سال لگا تھا، باپ نے اس کو مکتب میں بٹھانا چاہا، عورتوں نے عذر کیا کہ "آئے دن تو یہ بیمار رہتا ہے، مکتب کی قید، استاد کی تنبیہہ سے اس کا نگوڑا اتنا سا جی رہا سہا اور بھی اداس ہو جائے گا، ابھی تو جینے دو۔" اور مبتلاؔ کی ماں نے تو کھلم کھلا کہہ دیا کہ "جب تک اصل خیر سے ان گنا نہ گزر جائے میں تو اس کو نہ پڑھاؤں نہ لکھاؤں۔" غرض عورتوں کی ہٹ اور ہیکڑی نے مبتلا کے پورے تین برس کھوئے مگر سچی بات یہ ہے کہ مبتلاؔ کا باپ اپنی طرف سے برابر اس کوشش میں لگا رہا۔ اس پر بھی جو مبتلاؔ تین برس تک آوارہ ہوتا رہا تو یہ اس کے باپ کا مساہلہ اور ضعف، ماں کی نادانی اور حماقت اور خود مبتلاؔ کی بدقسمتی اور کم بختی۔ اتنا تھا کہ جب باپ کو مبتلاؔ کی کوئی بےجا بات معلوم ہوتی تو ڈراتے دھمکاتے تو نہیں مگر نرمی اور دل جوئی کے ساتھ اس کو سمجھا ضرور دیتے کہ بیٹا یہ حرکت بہت نامناسب ہے اور خود اس کے ساتھ ظاہری پیار اخلاص اتنا نہ رکھتے کہ ماں کی چوٹی کے ساتھ ان کی ڈاڑھی بھی کھسوٹنے لگتا۔ مبتلاؔ کو باپ کا کسی طرح کا خوف تو نہ تھا، مگر یوں کہو کہ زیادہ میل جول نہ ہونے کی وجہ سے ایک طور جھجک اور رکاوٹ تھی، چاہو اس کو لحاظ سے تعبیر کر لو۔ مگر کیا اتنا کرنے سے مبتلاؔ کے باپ نے باپ ہونے کا فرض ادا کیا؟ ہر گز نہیں! اس نے عورتوں کو مبتلا کی شرارتوں کی پردہ داری کرنے دی، اس نے بیٹے کے حالات سے پوری پوری خبر نہ رکھی۔ اس نے جتنی خبر رکھی اس کا بھی تدارک، جیسا چاہیے تھا، نہ کیا۔ اس نے مستورارتِ ناقصات العقل کی رائے میں آ کر جلد سے جلد بیٹے کو پڑھنے کے لیے نہ بٹھایا اور اس کے اکٹھے تین برس ضائع ہونے دیے۔ اتنا غنیمت ہوا کہ مبتلاؔ کو اس کی ماں نے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ ۔۔۔ 21

اپنے وہم کے پیچھے اکیلا دوکیلا گھر سے باہر نہیں نکلنے دیا، ورنہ محلے میں دھوبی، کنجڑے، بھٹیارے، قصائی، تیلی، اس قسم کے لوگ بھی رہتے تھے۔ اگر کہیں مبتلاؔ ان لوگوں کے لڑکوں میں کھیلنے کودنے پاتا، تو ساری خوبیاں جا کر ایک ذاتی شرافت باقی تھی، وہ بھی گئی گزری ہوتی۔ جب تک میٹھا برس ختم ہو مبتلاؔ کے مزاج کی تلخی اور اضعافاً مضاعفۃً بڑھ گئی تھی۔ ادھر ابھی سالگرہ کو دو تین مہینے باقی تھے کہ باپ نے بسم اللہ اور مکتب جانے کی چھیڑ چھاڑ شروع کی۔ بارے اس مرتبہ عورتوں نے بھی چنداں مزاحمت نہیں کی اور سالگرہ اور بسم اللہ دونوں تقریبیں ایک ساتھ ہو گئیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 

شمشاد

لائبریرین
فسانہ مبتلا ریختہ صفحہ 22

دوسری فصل

مبتلاؔ کی تعلیم بکتنی اور اس کا اثر

اتنا تو ہو اکہ مبتلاؔ کے لیے دروازے پر مکتب بٹھانا پڑا۔ شروع شروع میں تو میاں جی کے پاس تک جانے اور مکتب میں بیٹھنے کے لیے مبتلاؔ نے خوب خوب فیل مچائے اور غضب بکھرا، مگر آخر سودے کی چٹ اور پیسوں کے لال اور ماں کے چمکارنے پچکارنے سے جانے اور بیٹھنےتو لگا۔ بیٹھے پیچھے پڑھنا چنداں مشکل نہ تھا۔ ذہن اور حافظہ دونوں خدا داد اس بلا کے تھے کہ جو دوسرے لڑکے ہفتوں میں کرتے تھے، وہ بھی بڑی ریں ریں کے ساتھ، مبتلاؔ گھنٹوں میں کھیلتے کودتے، چلتے پھرتے، اُٹھتے بیٹھتے کر لیتا۔ کہتے ہیں کہ دو دن میں تو اس نے الف بے کے حرور مردد ایسی اچھی طرح پہچان لیے تھے کہ کتابوں میں سے آپ ڈھونڈ دھونڈ کر بتاتا۔ پڑھنا تھا کہ اس کے ساتھ واہ وا شاباش شروع ہوئی۔ اس سے دل کی اُمنگ بڑھتی چلی اور ہر دا کھلتا گیا۔ مبتلاؔ نہ مطالعہ دیکھتا نہ سبق یاد کرتا، نہ آموختہ پڑھتا، مگر ایک ہی دفعہ کے دیکھ لینے سے وہ سب ہم سبقوں میں میر ہی رہتا تھا۔ بدشوقی اور شوخی اور شرارت کی نسبت جو چاہو سو کہو، پڑھنے لکھنے کے متعلق تو میاں کو اس کی شکایت کرنے کا موقع ملا نہیں۔ پرلے سرے کی بو توجہی اور حد درجے کی بدشوقی۔ پر چھ برس میں اس کی فارسی کی استعداد ایسی ہو گئی تھی کہ مکتب کے لڑکے تو کیا، خود میاں جی باوجودے کہ اچھے جید فارسی داں تھے، اور درسی کتابیں بھی ان کو خوب مستحضر تھیں، اس کو سبق دیتے ہوئے بھناتے تھے۔ مبتلاؔ کو مکتب

فسانہ مبتلا ریختہ صفحہ 23

کی تعلیم نے اتنا فائدہ تو پہنچایا کہ اس کو ایک دوسرے ملک کی زبان جس کی بدوں اردو کی تکمیل نہیں ہو سکتی، اچھی خاصی آ گئی۔ مگر اس تعلیم سے اس کو ایک بہت بڑا نقصان بھی پہنچا، جو کو اندر باہر کسی نے جانا پہچانا نہیں۔ یہ کہنا مشکل ہے کہ مبتلاؔ کو اپنا حسین ہونا کب سے معلوم ہوا۔ ہم اوپر لکھ چکے ہیں کہ اس خاندان میں صورت شکل کی بڑی پرچول رہتی تھی۔ اس خاندان کی عورتوں کے نزدیک تو دنیا بھر کے ہنر، سلیقے، حسب نسب، دولت، تن درستی اور گورا رنگ اور نقشہ ایک طرف، صورت شکل تو انسان کے اختیار کی بات نہیں۔ خدا جس کو جیسا چاہتا ہے بناتا ہے۔ ایک ہی ماں کے پیٹ سے دس بچے ہوتے ہیں۔ اور کیا خدا کی قدرت ہے کہ دس کی دس شکلیں، ورنہ ایک دوسرے سے ملتبس ہو کر کوئی پہچان نہ پڑے۔ انسان کے چہرے کی بساط کیا، اتنی ہی سی جگہ میں ہزاروں لاکھوں کروڑوں مختلف نقشے ، یہ سب اس کی قدرت کی دلیلیں ہیں۔ آدمی اتنا سمجھے تو اپنے چہرے مہرے پر نہ ناز کرے نہ دوسرے پر ہنسے۔ مگر مبتلاؔ کے خاندان کو ایسے خیالات سے کیا واسطہ؟ یہاں تو چھوٹے بڑے، بُڈھے، جوان، بیاہے، کوارے سب کو صورت شکل کا پٹنا تھا۔ آپس ہی میں اسی صورت شکل کے پیچھے ایک کی ایک سے نہیں بنتی تھی۔ ایک، ایک کو چڑاتی۔ ایک ایک نقلیں کرتی۔ اور اگر اتفاق سے کنبے میں کوئی تقریب ہوتی اور یہ لوگ مہمان جاتے، یا کہیں شامت کی ماری کسی نئی دلہن کو دیکھ آتے، تو بس مہینوں ان کو صورتوں کا جھگڑا لگا رہتا۔ یہاں تک کہ ان عورتوں کی ایسی عادتیں دیکھ کر لوگ ان سے ملنے میں مضائقہ کرنے لگے تھے۔ مبتلاؔ کا ایسے خاندان میں پیدا ہونا اور پرورش پانا ہی اس بات کی دلیل ہے کہ جب اس کو بات کے سمجھنے کا شعور ہوا تو شاید سب سے پہلی بات جو اس نے سمجھی، یہی ہو گی کہ حُسنِ صورت اس کو کہتے ہیں، اور میں

فسانہ مبتلا ریختہ صفحہ 24

اس کا مصداق (1) ہوں۔ مگر جب تک مبتلاؔ زنان خانے کی نگرانی میں رہا، اس کی عمر ہی کیا تھا؟ سات آٹھ برس! اس وقت تک وہ اتنا ہی سمجھ سکتا تھا کہ میٹھی چیز سب کو بھاتی ہے اور چوں کہ وہ اپنے ذائقے میں بھی اس کی لذت پاتا تھا، اس نے سمجھا تھا کہ حقیقت میں بھانے کی چیز ہے۔ آگ کو چھوتےہوئے لوگ ڈرتے ہیں اور اس نے بھی شاید دو چار بار اس سے چہکا کھایا ہو۔ اس سے اس کو معلوم تھا کہ آگے سے جل جاتےہیں۔ غرض جس چیز کی نسبت لوگوں کو کہتے سنا کہ اچھی یا بُری ہے، آپ بھی تجربہ کیا تو ثابت ہوا کہ جس چیز سے آرام پہنچے، دل کو خوشی ہو، اچھیہے اور جس سے ایذا پہنچ، تکلیف ہو، بُری۔ حسن کی خوبی کی نسبت اس کو ایسا یقین کرنے کا کوئی ذریعہ نہ تھا کیوں کہ اس کو حسن سے متلذذ ہونے کی اس وقت تک اہلیت ہی نہ تھی۔مکتب میں بیٹھنے کے بھی ایک مدت بعد اس میں جوانیکے ولولوں کی تحریک شروع ہوئی اور جُوں جُوں یہ تحریک قوت اور اشتداد پکڑتی گئی، اس پر پسندیدگیٔ حسن کی وجہ منکشف ہوتی گئی۔ اسیکا تذکرہ گھر میں تھا، اور اسی کا سبق مکتب میں؛ اور اب لگا اندر سے دل بھی اسی کی گواہی دینے۔ مبتلاؔ نے جو زبان فارسی کے سیکھنے میں غیر معمولی ترقی کی، اس کا بھی سبب یہی تھا کہ اکثر کتابیں نظم جن کو مبتلاؔ کی صورت شکل کا آدمی بے مزا میر ذرا لے سے پڑھے تو اچھے خاصے ثقہ مجرے کا مزا ملے۔ مضموندیکھو تو جھڑا عاشقی جس کے نام سےنو عمر آدمی کے مُنہ میں رال بھر آئے۔ مادہ قابل، طبیعت مناسب، مبتلاؔ کا تو حال یہ تھا کہ جو شعر عاشقانہ ایک بار بھی اس کی نظر سے گزرا، دیکھتے کے ساتھ ہی کانقش فی الحجر (2) ہو گیا۔ غرض فیضانِ مکتب سے حضرت میں ایک صفت اور پیدا ہوئی یعنی عاشق مزاجی
--------------------------------------------------------------------------------------------------
(1) یعنی میری صورت اچھی ہے۔
(2) جیسے پتھر کی لکیر

فسانہ مبتلا ریختہ صفحہ 25

تیسری فصل

مبتلاؔ کا مدرسے میں تعلیم پانا اور بُرے لڑکوں کی صحبت میں آوارہ ہونا

مبتلاؔ کے باپ کی تو پہلے ہی سے یہ رائے تھی کہ اس کو شروع سے مدرسے میں بٹھایا جائے، مگر عورتوں کو مبتلاؔ کی اتنی مفارقت بھی گوارا نہ ہوئی۔ ناچار پورے چھ برس میاں جی کو نوکر رکھ کر اس کو گھر ہی پر تعلیم کرایا۔ اب میاں کیا بھی سرمائی معلومات ہو چکنے پر آیا اور فارسی کی درسی متداول کتابیں سب مبتلاؔ کی نظر سے نکل گئیں۔ اور بات صاف تو یہ ہے کہ مبتلاؔ کے سر میں اب اور ہوا بھری ہوئی تھی۔ اس کی آنکھیں ڈھونڈتی تھیں یاروں کے جلسے، دوستوں کی صحبتیں، اور وہ گھر پر میسر نہ تھیں۔ باپ نے کچھ اور سوچا۔مبتلاؔ نے کچھ اور، غرض سب کی اصلاح سے مبتلاؔ مدرسے میں داخل ہوا۔ گو مبتلاؔ نے چھ برس مکتب میں تعلیمپائی۔مگر مکتب کیا تھا، برائے نام اس کا جی بہلنے کےلیے چار پانچ ریزگی لڑکے اور بٹھا لیے گئے تھے۔ یعنی بحسابے چودہ برس کی عمر تھ مبتلاؔ بھونری میں پلا، اور دنیا کی کسی قسم کی ہوا اس کو نہ لگنے پائی۔ اب جو مدرسے کی
----------------------------------------------------------------------------------------------------
(1) بحسابے یعنی ایک حساب سے

فسانہ مبتلا ریختہ صفحہ 26

عربی جماعت میں داخل ہوا، تو اس نے دیکھا لڑکوں کا جنگل، کہ سات سات آٹھ آٹھ برس کی عمر سے لے کر بیس بیس پچیس پچیس برس تک کے اچھے خاصے جوان، ہر ذات کے، ہر پیشے کے، چار ساڑھے چار سو لڑکے ایک جگہ جمع ہوتے ہیں۔ اگرچہ انگریزی، عربی، فارسی، سنسکرت، ریاضی کی جماعتیں علیٰحدہ ہیں اور ہر جماعت کا کمرہ الگ مگر اوقاتِ درس کے علاوہ سب ایک دوسرے سے بلا امتیاز آزادانہ ملتے ہیں۔ بات چیت کرتے اور کھیلتے ہیں۔ مبتلاؔ کو یہ حالدیکھ کر بلا مبالغہ ایسی خوشیہوئی جیسے کسی جانور کو قفس سے آزاد کر کے باغمیں چھوڑ دیا جائے۔ اب تک وہ یہی جانتا تھا کہ میاں جی ہوئے، مولوی ہوئے، بڈھے ہیہوتے ہوں گے کیوں کہ اس نے اپنے میاں جی کو دیکھا تھا۔ پلکیں تک سفید، یہاں مدرسے میں آ کر دیکھا مدرس اکثر جوان، کہ اب سے چار چار پانچ پانچ برس پہلے خود طالب علم تھے۔ امتحان دیا، کامیاب ہوئے، زمرۂ مدرسین میں داخل کر لیے گئے۔ اس کو دیہ دیکھ کر بڑی حیرت ہوئی کہ بعض مدرس اپنی جماعت کے بعض بعض طالب علموں سے بھی کم سن ہیں۔ جس جماعت میں مبتلاؔ داخل ہوا، چوں کہ عربی کی سب سے چھوٹی جماعت تھی، اس میں طالب علموں کی بڑی کثرت تھی۔ رجسٹر میں تو ستر لڑکوں کا نامتھا،مگر پچاس پچپن ہمیشہ حاضر رہتے تھے۔ ان میں ایک تہائی کے قریب مبتلاؔ سے بہت بڑی عمر کے تھے۔ اس جماعت کو جو مولوی صاحب پڑھاتے تھے، جیسے ان کی جماعت سب جماعتوں میں چھوٹی تھی،ویسےہی ویسے ہی تمامر میں خود بھی سب سے چھوٹے تھے۔عمر میں، قد و قامت میں، وقعت و وجاہت میں، یعنی قسمت سے مدرس بھی ملے تو یار استاد۔ لونڈا تھا نکیلا اور طرح در، مدرسے کے احاطے میں پاؤں کا دھرنا تھا، کہ چاروں نے مبتلاؔ کو ہاتھوں ہاتھلیا۔ بعضے تو ٹکٹکی باندھ باندھکر ایسی بُری طرح گھورتے تھے کہ گویا آنکوں کے رستے کھائے جاتے ہیں، پہلے ہی سے لڑکوں میں بہت سی

فسانہ مبتلا ریختہ صفحہ 27

ٹولیاں تھیں۔ اب ایک بڑی بھاری اور نئی ٹولی مبتلاؔ کی قائم ہوئی۔ ایک جماعت بندی تو سرکاری تھی کہ جس قدر لڑکے ہم سبق ہوتے سب کے سب وقت واحد میں ایک اُستاد سے پڑھتے۔ مگر ایک جماعت بندی لڑکوں نے آپس میں ٹھہرا رکھی تھی، جس کو ہم نے ٹولی سے تعبیر کیا۔ جس طرح سرکاری جماعت بندی کے اوقات مقرر تھے کہ مثلاً جب ریاضی کا گھنٹہ آیا، عربی اور فارسی اور سنسکرت کی جماعتوں سے جو جو ریاضی کا پڑھنے والا تھا، ماسٹر صاحب کی خدمت میں آ حاضر ہوا۔ اسی طرح ٹولیوں کے اجتماع کے بھی خاص خاص اوقات تھے۔ مدرسے کے وقت سے ذرا پہلے لڑکے سویرے مدرسے میں آ پہنچتے، یا جب ایک بجے نماز کے لیے ایک گھنٹے کی چھوٹی ہوتی، یا مدرسہ برخاست ہونے کے بعد،ان تین وقتوں میں جو لڑکا جس ٹولی کا تھا، اس میں آ ملتا۔ اور بعض پُھٹیل بھی پڑے پھرتے تھے جو کسی ٹولی میں نہ تھے۔ یہ ٹولیاں ایک مجمع ناجائز تھیں، اور ان کی اغراضِ مشترکہ کہ تمام تر بے ہودہ۔ مدرسے کے سارے انتظام اچھے تھے۔ چیزیں وہ پڑھاتے تھے جو دنیا میں بکار آمد ہوں۔ شوق کے مستعل کرنے کو امتحان کا قائدہ نہایت عمدہ تھا۔ فرداً فرداً ایک ایک لڑکے کو الگ الگ سبق پڑھانے سے جماعت جمات کو پڑھانے کا نہایت مفید طریقہ تھا۔ اس سے لڑکوں میں ایک طرح کی مناقست (۱) پیدا ہوتی تھی کہ ایک پر ایک سبقت لے جانی چاہتا تھا۔ دوسرے ہم سبق ہونے سے ایک، ایک کی مدد کر سکتا تھا۔ تیسرے لڑکو کی لیاقت کا موازنہ اور مقابلہ بخوبی ہو سکتا تھا۔ لڑکی کو حاضر باشی کا پابند کرنے کے لیے ترتیب، نشست کا رد و بدل بھی بہت مؤثر تھا۔ پڑھائی اس قدر تھی کہ لڑکوں کے تمام وقت کو مشغول رکھنے کے لیے بخوبی کافی تھی۔ نوبت
--------------------------------------------------------------------------------------------------
(۱) باہم ایک دوسرے سے پڑھنے کی کوشش کرنا۔

فسانہ مبتلا ریختہ صفحہ 28

یہ نوبت مختلف مضامین کے پڑھانے سے طبیعت ملول اور کُند نہیں ہونےپاتی تھی۔ غرض سب ہی انتظام بھلے تھے، مگر افسوس لڑکوں کے چال چلن اور اخلاق کی طرف کسی کو مطلق توجہ نہ تھی۔ ہر مدرس اس فکر میں رہتا کہ جس چیز کا پڑھانا اس سے متعلق ہے، اس چیز کے امتحان میں لڑکے بُرے نہ رہیں۔ جب تک کوئی لڑکا اس شرط کو پارو کیے جاتا ہے اگرچہ چوری چھپے، ناجائز طور پر، دوسروں سے مدد لے کر ہی کیوں نہ ہو، کسی کو اس کے کردا ر سے بحث نہیں۔ چوری کرو، جھوٹ بولو، سرِ بازار جوتی پیزار لڑو، گالیاں دو اور گالیاں کھاؤ، شرافت کو بٹا لگاؤ، بدمعاشوں میں رہو اور بدمعاش بنع، گیڑیاں کھیلو، پتنگ لڑاؤ، اکھاڑے میں جا کر ڈنٹر پیلو، مُگدر ہلاؤ، گاؤ بجاؤ، غرض جو تمہارا جی چاہے سو کرو۔ مگر جو چیزیں پڑھائی جاتی ہیں ان میں امتحان اچھا دو، تو اسکالرشب بھی ہے، انعام بھی ہے، سرخروئی بھی ہے، آفرین اور تحسین بھی ہے، واہ واہ بھی ہے، چھٹی بھی ہے، سرٹیفکٹ بھی ہے اور آخرکار نوکری بھی ہے۔ مدرس خوش، پرنسپل صاحب راضی۔ مبتلاؔ کی افتاد تو روز پیدائش سے بگڑی ہوئی تھی۔ زنان خانے میں پرورش پاتا تھا کہ اس کے دل میں بدی کا بیج بویا گیا۔ مکتب میں تھا کہ بیج کا درخت ہوا۔ اب مدرسے میں میں آ کر وہ درخت پھولا اور پھلا۔ گھر میں بچھڑا تھا۔ مکتب میں بچھڑے کا بیل ہوا اور مدرسے میں بیل کا سانڈ۔ کسی قسم کی آوارگی نہ جو اس سے بچی ہو اور کسی طرح کی بے ہودگی نہ تھی جو اس نے نہ کی ہو۔ جس طرح مبتلاؔ مدرسے کے بُرے لڑکوں کی صحبت میں بانکا بنا، چھیلا بنا، طرح دار بنا، مسخرہ بنا، کوچہ گر بنا، ننگ خاندان بنا اور کیا کیا بنا، اسی طرح مبتلاؔ تخلص رکھ کر شاعر بنا اور فضیحتیں تو رفتہ رفتہ بھولی بسری ہو گئیں۔ شاعری کی یادگار اس کا منحوس تخلص رہ گیا۔ ہم کو تو اس کے نام سے اس قدر نفرت ہو گئی ہے کہ اس کے حالات کا دریافت کرنا کیسا، سننے کو بھی جی نہیں چاہتا۔ مگر خیر منہ پر بات آئی رک نہیں سکتی۔ آٹھ برس یہ کم بخت

فسانہ مبتلا ریختہ صفحہ 29

مدرسے میں رہا۔ آخر کچھ نہ کچھ پڑھتا ہی ہو گا کہ عربی کی دوسرے جماعت تک اس نے ترقی کی۔ دس روپے مہینہ وظیفہ پاتا تھا۔ برس کے برس انعام بھی ملتے رہتے تھے۔ ایک سال سُنا کہ ایسا اچھا امتحان دیا کہ تمغہ ملا۔ یہ کچھ تعجب کی بات نہیں، اور نہ اس سے آوارگی کا الزام دفعہ ہو سکتا ہے۔ ہم کو اس کی ذکاوت کا حال معلوم ہے۔ وہ اس بلا کی ذہین تھا کہ مدرسے کی پڑھائی کی اس کے آگے کچھ حقیقت ہی نہ تھی۔ برس میں ایک بار تو امتحان ہوتا تھا، اکثر انگریزوں کے بڑے دن سے پہلے۔ پس امتحان کے مہینے ڈیڑھ مہینے آگے سے وہ تیاری کر لیتا ہو گا۔ لیکن فرض کیا کہ وہ اچھی طرح پڑھتا ہو ہو، تو بدوضع کو پڑھنے فائدہ؟ علم سے حاصل؟ اس سے جاہل بمدارج بہتر ان پڑھ۔ کہیں بھلا مدرسے سے پہر سوا پہر رات گئے، بلکہ کبھی آدھی، کبھی پچھلی رات کو تو اس کا گھر میں آنے کا معمول تو شروع سے تھا۔ اور پھر اچھی طرح سورج نہیں نکلا کی اس کے شیاطین الانس (۱) لگے گھر پر آ کر کنڈی کھٹکھٹانے، دستک دینے اور پکارنے، سیٹی بجانے۔ اب نوبت یہاں تک پہنچ گئی تھی کہ تین تین چار چار دن تک برابر غائب۔ ماں کو یہ تمام تفصیلی حالات معلوم تھے مگر اب اس کی محبت کا دوسرا رنگ تھا۔ بیٹے سے اس قدر ڈرتی تھی جیسے قصائی سے گائے۔ اس کے دل میں آپ سے آپ یہ خوف سما گیا تھا کہ، بیٹا ہے، ماشاء اللہ جوان، ایسا نہ ہو میرے بات کا بُرا مان کر کہیں کو نکل جائے یا اپنے تئیں ہلاک کر لے تو پھر میں کدھر کی ہوئی۔ اس ڈر کے مارے بے چاری کبھی چوں نہیں کرتی تھی۔ اور مبتلاؔ نے اپنے تئیں، اس کے نزدیک ایسا ہوا بنا رکھا تھا کہ جب اس کی صورت دیکھی، ہکا بکا رہ جاتی۔ پہلے سے بھی مبتلاؔ کی شرارتوں کی باپ سے باپ سے پردہ داری کی جاتی تھی۔ اب انہیں شرارتوں کی بدکرداریاں ہو گئی تھیں۔ ادھر شرارتو
----------------------------------------------------------------------------------------------------
(۱) شریر لڑکے

فسانہ مبتلا ریختہ صفحہ 30

میں ترقی ہوئی، اُدھر پردہ داری میں زیادہ اہتمام ہونے لگا۔ مگر باپ نے دھوپ میں ڈاڑھی سفید نہیں کی تھا۔ بڈھا اس کی چال ڈھال سے، اس کی گفتگو سے، اس کی کن انکھیوں سے تاڑ لیتا تھا۔ مگر بی بی کا مغلوب تھا اور جوب جانتا تھا کہ اس کو بیٹے کے ساتھ شغف ہے۔ اور یوں بھی ہر کام میں مساہلت کرنا، اس کی ہمیشہ کی عادت تھی اور ان ہی وجوہ سے اس نے مبتلاؔ کی اصلاح کی طرف کبھی پوری توجہ نہ کی۔ اب جوان بیٹے کے کیا منہ لگتا۔ ایک کہتا، تو دس سُنتا۔ آخر اس کے سوائے اور کچھ نہ سوجھ پڑی کہ جس قدر جلد ممکن ہو، اس کو پابند کر دیا جائے۔
 

شمشاد

لائبریرین
فسانہ مبتلا ریختہ صفحہ 51

ساتویں فصل

مبتلاؔ کے چچا میر متقیؔ کا اپنی بھانجی یعنی مبتلاؔ کی بی بی کے سامنے تعزیت کے طور پر وعظ کہنا

ماموں کا آنا سُن کر بھانجی کو، ماں باپ اور ساس سسُر کا مرنا، بھائیوں کا ظلم اور سب سے بڑھ کر مبتلاؔ کا اس سے بے تعلق رہنا، اپنے بے کسی، گھر کی تباہی، آئندہ کی نا امیدی غرض ساری داستانِمصیبت اول سے آخر تک یاد آ گئی۔ وہ دل ہی دل میں رونے کی تیاری کر چکی تھی۔ جوں ماموننےاندر قدم رکھا اور بھانجی کے ساتھ نظر دوچار ہوئی، اس نے کسی طرح لڑکھڑاتے ہوئے کھڑی ہو کر سلام تو کر لیا اور پھر تو ایسی بلکی کہ غش کھا کر گر پڑی۔ ہاتھ پاؤں ٹھنڈے پڑ گئے۔ دانت پچی ہو گئے، لخلخے سنگھائے، منہ پر گلاب کے چھینٹے دیے۔ بارے ہوش آیا تو اس نے ایسی بین شروع کیے کہ سننے والوں کے کلیجے منہ کو آنے لگے، دل دہل گئے۔ آخر متقیؔ نے سر پر ہاتھ پھیرا اور سمجھایا کہ مصیبت میں اس قدر رنج کرنا عبودیت کی شان نہیں ہے۔ رنج مصیبت کو بڑھاتا ہے۔ جیسے محبت ماں کو اکلوتے بیٹھے کے ساتھ ہوتی ہے، اس سے لاکھوں کروڑوں درجے بڑھی ہوئی محبت خدا کو اپنے تمام بندوں کے ساتھ ہے۔ اگر خدا نہ چاہے تو کیا بندے آپ سے آپ پیدا ہو جائیں۔

فسانہ مبتلا ریختہ صفحہ 52

اور اپنے اختیار سے زندگی کریں، ایسا خیال کرنا تو کفر کے علاوہ غلطِ صریح بھی ہے۔ بندے بھلے اور بُرے، امیر اور غریب، اور ضعیف، حاکم اور محکوم، بادشاہ اور رعیت یہاں تک کہ ولی اور پیغمبر، سب کے سب اس قدر عاجز اور بے اختیار ہیں کہ بدوں خدا کی مرضی کے ایک پتا ہلانا چاہیں تو نہیں ہلا سکتے۔ ایک ذرے کو جگہ سے سرکانا چاہیں تو نہیں سرکا سکتے۔ کسی انسان کا نفع و ضرر نہ خود اس کے اختیار میں ہے نہ کسی دوسرے انسان کے۔ دنیا میں جسی کسی کو جس کسی کے ساتھ کسی طرح کی محبت ہے اس کے یہی معنی ہو سکتے ہیں کہ جس کے ساتھ محبت رکھتا ہے اس کا فائدہ چاہتا ہے نہ یہ کہ اس کو فائدہ پہنچاتا ہے یا پہنچا سکتا ہے۔ اس واسطے دنیا کی ساری محبتیں از برائے نام ہیں۔ سچی اور اصلی محبت خدا کی ہے کہ سارے نعمتیں اور ساری برکتیں جو ہم کو حاصل ہیں، یہاں تک کہ زندگی اسی کی دی ہوئی ہے بایں ہمہ انسان کو اس کی زندگی میں ایزائیں بھی پہنچتی ہیں مگر ان میں ضرور انسان کا کوئی نہ کوئی فائدہ مضمر ہوتا ہے۔ مثلاً طبیب کہ وہ کسی مریض کا علاج کرتا ہے۔ کبھی اس کو کڑوی دوا پلاتا ہے اور کبھی اس کی فصد لیتا ہے، کبھی بیمار کے زخم کو شگاف دیتا اور کبھی شاید اس کے عضو کو کاٹ بھی ڈالتا ہے مگر ایسا کرنے کیا کوئی شبہ کر سکتا ہے کہ طبیب اپنے بیمار کے ساتھ عداوت رکھتا ہے۔ اسی طرح جو تکلیفیں ہم کو دنیا میں پہنچتی ہیں، اور بلا شبہ خدا کی مقدس مرضی سے پہنچتی ہیں، ظاہر میں تکلیف ہیں اور باطن میں آرام۔ ابتدا میں ایذا ہیں اور انجام میں راحت اول تو اس کا فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ وہ تکلیف حقیقت میں بھی تکلیف ہے یا نہیں۔ فرض کرو کہ کسی عورت کا شوہر مر جائے، ظاہر میں بیوگی ایک بڑی مصیبت ہے، مگر یہ ممکن نہیں کہ مرد زندہ رہتا اور بیوی پر سوکن لا کر اس کو زندہ درگور کرتا یا بیوی سے اس کا دل ایسا پھرتا کہ جب تک جیتا اس کو سخت ایذا دیتا یا ایسے امراض

فسانہ مبتلا ریختہ صفحہ 53

میں مبتلا ہوتا کہ سارے گھر کی زندگی دشوار کر دیتا اور اسی طرح کے اور بہت سے احتمالات ہیں جن کی وجہ سے ایک عورت اپنی بیوگی کو ترجیح دے سکتی ہے۔ سُہاگ پر بس جب تک انسان کو علم مستقبلات یعنی علم غیب نہ ہو، اور وہ اس کو نہ ہوا ہے اور نہ ہو گا، وہ کسی حالت کو جو اس پر یا کسی پر طاری ہو بُرا کہہ نہیں سکتا۔ دنیا کے بہت سے واقعات کو ہم پسند کرتے ہیں۔ مگر جس طرح ہماری معلومات ناتمام ہے اسی طرح جو نتیجے ہم اپنی معلومات سے نکالتے ہیں ناقص، ادھوری روداد اور اس پر فیصلہ ناکانی تحقیقات اور اس پر تجویز اور مانا کہ جو تکلیف ہم کو پہنچی، حقیقت میں تکلیف ہے، تو کیا شفیق باپ اپنے پیارے بیٹے کو، منصف اور رحم دل بادشاہ اپنی عزیز رعیت کو، تادیب یا تنبیہ یا اصلاح یا کسی دوسری مصلحت سے ایذا نہیں پہنچاتا۔ ہمیشہ ایسی ایذائیں پہنچی رہتی ہیں۔ نہ فریاد نہ شکایت۔ پس اگر خدا کی طرف سے ایک ایذا پہنچ جائے، (جانے دو اس بے شمار احسانوں کو اور بھول جاؤ اس کی نامحصور نعمتوں کو) تو بندہ کیوں منہ پُھلائے۔ کس لیے بڑ بڑائے۔ سب سے بڑا فائدہ جو مصیبت سے انسان کو پہنچتا ہے۔ یہ ہے کہ مصیبت دل میں باتخصیص عجز و انکسار کی صفت پیدا کرتی ہے اور خدا کو یاد دلاتی ہے اور حقیقت میں مصیبت کے وقت بندہ خدا کی طرف رجوع کرتا ہے۔ تو وہ مصیبت نہیں رحمت ہے لیکن خدا کو یاد کرنے اور اس کی طرف رجوع کرنے یہ معنی نہیں ہیں کہ شکایت کرو اور اس سے ناراض رہو بلکہ اس کے یہ معنی ہیں کہ اس کی رحمت پر پورا بھروسا اور اعتماد کر کے صمیم قلب سے یقین کر لو کہ جو کچھ ہوا خوب ہوا، بہتر ہوا، مناسب ہوا اور یوں ہی ہونا چاہیے تھا۔ یہ تو درجہ رضا اور تسلیم کا ہے اور اسی کا نام صبر جمیل ہے۔ اور آدمی کو، جس کا عقیدہ ضعیف اور دل کمزور اور جس کی ہنت کوتاہ اور جس کا ارادہ متزلزل ہے، اس درجے پر پہنچنا دشوار ہے۔ اگر اعلیٰ علیین پر نہیں پہنچ سکتے تو ایک سیڑھی دو سیڑھی

فسانہ مبتلا ریختہ صفحہ 54

کچھ تو اُچکو، کسی قدر تو اُبرو کہ اسفل السافلین کفران سے نکلو۔ یوں کہنے کو تو منہ سے سب ہی کہتے ہیں کہ دنیا فانی ہے، چند روزہ ہے، خواب ہے، سُراب ہے، سایہ ہے، سحاب ہے، برقِ بے تاب ہے۔ مگر مصیبت کے وقت بخوبی ظاہر ہو جاتا ہے کہ زبان ہمارے دل کا سچا ترجمان نہیں۔ کیا کوئی فانی ایک فانی حالت کے لیے اتنا غُل مچاتا اور روتا پیٹتا ہے۔مصیبت پر جو منفعت ہم نے ہمیشہ مترتب ہوتے دیکھی وہ تو یہ ہے کہ مصیبت آدمی کے مستقبل کو اس کی ماضی سے ضرور بہتر کر دیتی ہے یعنی اگر انسان کاہل تھا تو مصیبت کے بعد ضرور چست و چالاک ہو جاتا ہے۔ آرام طلب تھا تو جفاکش، بھولا تھا تو سیانا،مسرف تھا تو کفایت شعار، بدپرہیز تھا تو محتاط، جلد باز تھا تو دھیما، آرارہ تھا تو نیک کردار، جس آدمی پر کبھی مصیبت نہیں پڑی نہ اس کی عقل کا ٹھکانا، نہ اس کی رائے کا بھروسا، نہ اس کا دین درست، نہ اس کے اخلاق سائستہ، اس کے علاوہ آدمی کا دستور ہے کہ ایک حالت کیسی ہی عمدہ کیوں نہ ہو اگر ساری عمر یکسانی کے ساتھ چلی جائے تو اس حالت کی عمدگی کا احساس باقی نہیں رہ جاتا بلکہ اُکتا کر خود اس حالت سے نفرت کرنے لگتا ہے۔ ایک باورچی کو میں جانتا ہوں جو نمکین اور میٹھے چانول یعنی متنجن وغیرہ پکانے میں کامل استاد تھا۔ شہر میں کہیں نہ کہیں شادی یا غمی کی کوئی نہ کوئی تقریب لگی ہی رہتی تھی۔ جس کے یہاں چانولوں کی پُخت ہوتی، اسی باورچی سے پکواتا۔ اور اس کو مزدوری کے علاوہ دستور کے مطابق تہ دیگی کی چوٹی دار رکابی بھی ملتی۔ وہ ایک رکابی ایسی ہوتی تھی کہ اس کا سارا گھر اس کو کھا کر اٹل ہو جاتا۔ پس ان لوگوں کو دونوں وقت عمدہ سے عمدہ بریانی اور بہتر سے بہتر متنجن کھانے کو ملتا تھا۔ پس یہ ایک حالت تھی کہ اگر کسی غریب آدمی کے سامنے جو بریانی متنجن کو ترستا ہو بیان کیجیے تو سنتے کے ساتھ ہی رال ٹپک پرے۔ مگر اس باورچی اور اس کے اہل و عیال کا کیا حال تھا

فسانہ مبتلا ریختہ صفحہ 55

کہ منتیں کر کے بریانی متنجن کی رکابیاں ہمسائے کے لوگوں کو دیتے اور ان سے روٹی چٹنی مانگ کر کھاتے۔ پس ہم نے تن درستی کی قدر بیماری سے جانی، وطن کی پردیس سے، تونگری کی مفلسی سے، آرام کی دکھ سے، راحت کی مصیبت سے۔ تو جو شخص حقیقی راحت کا خواہاں ہے، ضرور ہے کہ مصیبت کا بھی مزہ چکھے۔ مصیبت زدہ کے لیے سب سے بہتر تدبیر یہ ہے کہ وہ دوسرے مصیبت مندوں پر نظر کرے۔ مثلاً اگر اس کو صرف بیوگی کی شکایت ہے تو پائے گی کہ اس جیسی اور اس سے بدتر لاکھوں بیوہ عورتیں اور بھی ہیں۔ شاید یہ ایک مدت خانہ داری کرنے کے بعد بیوہ ہوئی ہیں اور ہزارہا اللہ کی بندیاں ایسی بھی ہیں جنہوں نے شوہر کی صورت تک نہیں دیکھی۔ پس وہ بیوگی کے علاوہ لا ولد بھی ہیں اور شاید ان کو روٹی کا بھی کہیں آسرا نہ ہو۔ پس بیوہ اور لاولد کے علاوہ محتاج بھی، نگھری ندری بھی اور شاید دُکھیا بیمار بھی، اور شاید اندھی لُولی اور اپاہج بھی کسی کو اگر کھجلی کی ایذا ہے تو وہ دیکھے گا۔ اپنے ہی جیسے آدمی کو کوڑھی اور کوڑھ میں کیڑے اور کیڑوں کے ساتھ زخم اور زخموں میں سوزش العیاذ باللہ۔ جس کی آنکھ میں ناخنہ ہے کیا اس کو اس سے تسلی نہیں ہو گی کہ دوسروں کی آنکھ میں ٹینٹ یا دوسرے کا لڑے بلکہ اندھے بھی ہیں۔ غرض دنیا کا حال یہی ہے کہ ایک سے ایک بہتر ہے۔ پس کیوں کوئی مغرور ہو، اور ایک سے ایک بدتر ہے تو کس لیے کوئی ناصبور ہو۔ بیٹھی میں یہ نہیں کہتا کہ تم پر مصیبت نہیں پڑی۔پڑی مگر اس مصیبت پر جو تمہارے حالت ہے شکر کے قابل ہے کہ خدا کی فضل و کرم سےتندرست ہو۔ عزت و آبرو کے ساتھ گھر میں بیٹھی ہو۔ تم نے کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلایا۔ تم نے دروازے دروازے بھیک نہیں مانگی۔ تم نے پیٹ کے واسطے کسی کی خدمت نہیں کی، ٹہل نہیں کی۔ گو ماں باپ کو خدا نے اُٹھا لیا۔ مگر ابھی تمہارے غمگسار، تمہارے خبر گیر، تمہارے سر پرست

فسانہ مبتلا ریختہ صفحہ 56

موجود ہیں اور ان میں سے ایک میں بھی ہوں کہ باپ جتنی نہیں کروں گا تو اس سےپورا اطمینان رکھو کہ ان شاء اللہ اپنے مقدور بھر تمہارے حال کی اصلاح، تمہارے معاملات کی درستی میں کسی طرح کی کوتاہی بھی مجھ سے نہ ہو گی۔ لاؤ اسی شہر سے بلکہ اسی محلے سے بلکہ اسی کوچے سے بلکہ تمہارے پڑوس سے جتنی عورتیں کہو بلا لاتا ہوں جن کو دیکھ کر تم ضرور رحم کرو گی اور سمجھو گی یہ مجھ سے زیادہ دُکھیا ہیں۔ ایک حکیم کا قول ہے کہ دنیا میں ہر شخص خوش ہے اس واسطے کہ وہ اپنی حالت کو کسی دوسرے کی حالت سے بدلنا نہیں چاہتا۔ جس دن پہلے پہل میں نے یہ بات کتاب میں لکھی دیکھی تو میں ذرا اس پر ٹھٹکا پھر میں نے سوچا کہ اس کو میں اپنے ہی اوپر کیوں نہ آزماؤں۔ تو میں نے اپنی جان پہچان کے پانچ چھ آدمی تجویز کیے جن کی حالت بنظر ظاہر، میں اپنی حالت بہتر سمجھتا تھا لیکن اچھی طور پر غور کیا تو ایک لا ولد تھے، دوسرے بیٹے تو رکھتے تھے مگر ناہموار۔ تیسرے دائم المرض۔ چوتھے شدت سے کنجوس، پانچویں بیوی کی بدمزاجی اور بدسلیقگی اور بدزبانی سے عاجز۔ چھٹے لا مذہب۔ غرض کسی کو بے داغ نہ پایا۔ تب اس حکیم کے مقولے کی تصدیق اور میرے دل کی تشفی ہوئی اور پھر ایک بات اور بھی سوچنے کے قابل ہے کہ غم کیسا ہی سخت اور صدمہ کتنا ہی بھاری کیوں نہ ہو رفتہ رفتہ خود بخود اس کا اثر مضمحل ہوتے ہوتے آخر کار محو ہو جاتا ہے۔ کبھی ہمارے باپ بھی مرے تھے۔ ہم بھی ان کے فراق میں تمہارے طرح بہتیرا روئے دھوئے، غمگین اور اُداس رہے۔ آخر بھول بسر گئے۔ غرں انسان کو چار و ناچار صبر تو کرنا پڑتا ہے۔ کیا کرے دیوار سے ٹکرا کر، کوئیں میں گِر کر، افیوں کھا کر حرام موت مو رہے مگر اس کو صبرِ محمود نہیں کہتے۔ صبر محمود وہی صبر ہے کہ نزولِ مصیبت کے وقت ہو جب کہ رنج دل کو نچوڑتا اور کلیجے کو کھرچتا ہے۔ آنسو ہیں کہ نکلے چلے آتے ہیں اور سانس ہے کہ پیٹ میں نہیں سماتا۔ وہ بندے

فسانہ مبتلا ریختہ صفحہ 57

کے لیے سخت آزمائش کا وقت ہے۔ معاذ اللہ اگر خدا کی شان میں شکایت کا کوئی کلمہ اس کے مُنہ سے نکل گیا یا اس کے دل میں خدا کی نسبت جل و علا شانہ، بے رحمی یا بے انصافی کا خیال وسوسے کے طور پر بھی آ گیا تو بس دُنیا خراب عاقبت برباد۔


(۱) خَسِرَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةَ ۚ ذَٰلِكَ هُوَ الْخُسْرَانُ الْمُبِينُ ‎﴿الحج:١١﴾

متقی نے جو یہ باتیں عقل کی، دین کی، نصیحت کی بیان کیں تو بھانجی پر ایسا اثر ہوا کہ گویا گرتی ہوتی ہوئی دیوار کو تھونی لگا دی۔ ڈوبتے ہوئے کو اُچھال کر کنارے پر پہنچایا۔ مُرجھائے ہوئے درخت کو پانی دیا۔
--------------------------------------------------------------------------------------------------
(۱) دنیا اور دین دونوں کا ٹوٹا، یہی کُھلا ہوا ٹوٹا ہے۔
 
صفحہ 41

چھٹی فصل

مبتلا کے چچا کا حج سے واپس آنا

مبتلا کے حقیقی چچا میر متقی ایک مدّت سے نواب رام پور کے سرکار میں نوکر تھے اور وہیں ایک شریف خاندان میں انہوں نے اپنا نکاح بھی کر لیا تھا۔ مبتلا ان دنوں مکتب میں پڑھتا تھا کہ میر تقی دلّی ہو کر بھائی سے ملتے ہوئے حج کو گئے۔ ارادہ تو صرف حرمین شریفین کا کر کے گئے تھے مگر وہاں پہنچ کر یہ خیال ہوا کہ سالہا سال کے ارادے میں تو اب بمشکل گھر سے نکلنا ہوا کیا معلوم اب زندگی میں پھر یہاں آنا نصیب ہو یا نہ ہو، لاؤ لگتے ہاتھوں جہاں تک ہو سکے زیارتیں تو کر لو ۔ پورے تین برس تو زیارتوں میں لگے پھر تین برس تک متواتر ایسا اتفاق پیش آ آ گیا کہ جب واپسی کا ارادہ کرتے تھے بیمار ہو ہو جاتے تھے۔ غرض ساتویں برس لوٹے تو بمبئی میں پہنچ کر انہوں نے ارادہ کر لیا تھا کہ بھوپال میں استاد سے، احمد آباد میں پیر سے اور دلّی میں بھائی سے ملتا ہوا رام پور جاؤں گا۔ دہلی میں داخل ہوئے تو تھوڑی رات گئی تھی/ سیدھے بھائی کے دروازے پر کھڑے ہوئے۔ کیا دیکھتے ہیں کہ پھاٹک بند اور طبلے کی تھاپ کی آواز اندر سے چلی آ رہی ہے۔ سمجھے کہ ناچ ہو رہا ہے۔ تھوڑی دیر میں بڑے زور کے قہقہے سنائی دئیے۔ معلوم ہوا کہ بھانڈ نقل کر رہے ہیں۔ میر تقی کو پہلے ذرا سا دھوکا ہوا کہ میں نے گھر کی شناخت میں تو غلطی نہیں کی۔ گلی کے نکڑ تک لوٹ کر گئے۔ ادھر دیکھا اُدھر دیکھا کی، بے شک سات برس کے عرصے میں

صفحہ 42

تھوڑے بہت تغیرات بھی ہوئے مگر نہ اس قدر جہاں آدیم پیدا ہوا، پرورش پائی، بڑ ا ہوا، رہا سہا اس گھر کو نہ پہچانے۔ پھر خیال ہوا کہ شاید بھائی نے اس گھر کو چھوڑ دیا ہے۔ اسی سوچ میں کھڑے تھے کہ ایک شخص گلی کی طرف لپکا ہوا چلا آ رہا تھا۔ جب ان کے برابر آیا انہوں نے اس سے پوچھا کیوں صاحب یہ کون سی گلی ہے وہ کہتا ہوا اپنی دھن میں چلا گیا کہ اس کو سادات کا کوچہ کہتے ہیں۔ اب ان کو اس کا تو یقین ہو گیا کہ گھر کے پہچاننے مجھ سے غلطی نہیں ہوئی۔ اب اتنی بات اور رہ گئی کہ بھائی اس گھر میں ہیں یا نہیں۔ اس شخص کی جلدی نے ان کو اس کے پوچھنے کی مہلت نہ دی/ اتنے میں دیکھا کہ ایک بوڑھے سے آدمی بغل میں بچھونا دبائے لکڑی ٹیکتے ہوئے اندر گلی سے آہستہ آہستہ چلے آ رہے ہیں۔ ان سے تھوڑی دور پیچھے ایک جوان سا آدمی ہے اور وہ ذرا تیز چل رہا ہے۔ یہاں تک کہ جب بڑے میاں کے برابر آیا تو کہنے لگا کہ اے حضرت خیر ہے یہ اس وقت آپ بچھونا لیے ہوئے کہاں جا رہے ہیں۔ لائیے بچھونا مجھ کو دیجیے میں پہنچا دوں۔ بڑے میاں نے کہا نہیں بھائی تم کیوں تکلیف اٹھاؤ بچھونے میں ایسا کیا بوجھ ہے۔ کیا کریں جب سے بے چارے میر مہذب مرے، ان کا لڑکا خدا اس کو نیک ہدایت دے بری صحبت میں پڑ کر ایسا آوارہ ہو رہا ہے کہ سارے سارے دن اور ساری ساری رات گھر میں دھماچوکڑی مچی رہتی ہے۔ ہم ٹھیرے دیوار بیچ ان کے پڑوسی اتنا نہیں بن پڑتا کہ گھر میں دو رکعت نماز اطمینان سے پڑھی جائے۔ ناچا میں تو اس مسجد میں چلا جاتا ہوں۔ متقی بھائی کے مرنے کی خبر سن کر قریب تھا کہ چکر کھا کر وہیں زمین پر گر پڑے۔ مگر آدمی تھا دین دار اس نے إِنَّا لِلّہِ وَإِنَّا إِلَيْہِ رَاجِعونَ (1) کہہ کر ضبط کیا اور اپنے تئیں سنبھالا اور سوچا کہ اگر گھر چل کر دستک دوں، پکاروں تو

(1) ہم اللہ ہی کے ہیں اور اسی کے پاس لوٹ کر جائیں گے۔

صفحہ 43

نقار خانے میں طوطی کی آواز کون سُنے گا۔ اور فرض کیا چیخنے چلانے سے دروازہ کھلا بھی تو رات گئی ہے زیادہ، سب کو تکلیف ہو گی، رونا پیٹنا مچے گا، ماتم برپا ہو گا۔ بہتر ہے کہ رات کو کہیں پڑ رہوں۔ پھر خیال کیا کہ پاس کے پاس اسی مسجد میں ٹھیر جانا مناسب ہے کہ بڑے میاں سے اور حالات بھی دریافت ہوں گے۔ میں گیا اور وضو کر کے نماز پڑھی، دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے۔ بھائی سے اس کو محبّت تھی بہت۔ یوں بھی ہمیشہ غائبانہ اس کے حق میں دعائے خیر کیا کرتا تھا، اب جو حضرت موسیٰ کی دعا اُس کو یاد آئی اور اس کے منہ سے نکلا رَبِّ اَغٗفِرلِیٗ وَ لٗاَخِیٗ وَ اَدٗخِلٗنَا فِی رَحٗمَتِکَ وَ اَنٗتَ اَرٗھَمُ الرَّحِمِیٗنَ (1)۔ جی بھر آیا اور بے اختیار رویا کہ ہچکی بندھ گئی۔ جس کے دل کو ایک اتنا بڑا صدمہ پہنچا ہو اس کو بھوک کیا لگے اور نیند کیوں کر آئے۔ ساری رات گزر گئی کہ صحنِ مسجد میں ننگے سر بیٹھا ہوا کبھی کچھ پڑھ پڑھ کر بھائی کی روح کو بخشتا تھا اور کبھی اس کی مغفرت کے لیے خدا کی بارگاہ میں زارنالی کرتا تھا۔ سفیدۂ صبح نمودار ہوتے ہی اوّل وقت فجر کی نماز پڑھی اور پھر اشراق تک معمولی اوراد میں مشغول رہا۔ جب نافلہ (2) اشراق سے فارغ ہوا تو دیکھا کہ بڑے میاں بھی اپنا بچھونا لپیٹ لپاٹ کر گھر جانے کی تیاری کر رہے ہیں۔ ان کو ضعیفی کے سبب ذرا دھندلا بھی نظر آتا تھا۔ متّقی نے ان کو پہچان کر السّلام علیکم کی اور قریب جا کر اپنے تئیں پہنچوایا اور رات کا ماجرا کہہ سنایا۔ ملے تو میر مہذّب کی صحبتوں کو یاد کر کے بڑے میاں بھی آب دریدہ ہوئے اور متّقی تو رات سے رو رہا تھا۔ سفر کا تکان، ساری رات کا فاقہ، جاگنا اور رونا آنکھیں سوج گئی تھیں، مُنہ سے آواز نہیں نکلتی تھی۔ بارے بڑے میاں نے بہت کچھ سمجھایا، دنیا کے دستور

(1) پروردگار مجھ کو اور میرے بھائی کو بخش اور ہم کو اپنی رحمت میں داخل کر اور تو سب سے بڑا رحم کرنے والا ہے

(2) طلوعِ آفتاب کے بعد فجر کی نماز۔

صفحہ 44

کے مطابق صبر کی تعلیم کی اور کہا کہ مہاں مرحوم تو اللہ کے نیک بندے تھے، یہاں بھی اپنی اچھی گزار گئے اور انشا اللہ وہاں بھی ان کے لیے اچھا ہی اچھا ہے۔ وہ اگر مرے تو اپنی عمر سے مرے اور ایک نہ ایک دن سبھی کو مرنا ہے۔ بڑا رونا اُن کے فرزندِ نا خلف کا ہے کہ اپنے کردار نا سزا سے مرحوم کی روح کو ایذا دے رہا ہے۔ اب تم باپ کی جگہ ہو اس کو سنبھالو اگر ہو سکے۔ اس کو روکو اگر بن پڑے۔ گھر کے نصیب اچھے ہیں کہ تم آ پہنچے۔ خدا کو کچھ بھلا کرنا منظور ہے کہ تم کو بھیجا۔ ابھی وقت ہے اگرچہ تنگ ہے۔ موقع ہے گو اخیر ہے اور تم یہاں مسجد میں اکیلے بیٹھ کیا کرو گے۔ میرے ساتھ چلو۔ تمہارے بھتیجے صاحب تو کہیں دوپہر تک اُٹھیں گے، وہ بھی اٹھائے سے۔ تب تک میرے گھر کچھ ناشتہ کرو۔ ہم کوئی خیر نہیں ہیں، تمہارے بھائی صاحب خدا اُن کو جنّت نصیب کرے، ہم کو عزیزوں سے بڑھ کر سمجھتے تھے، کہا تم کو یاد نہ ہو گا۔ غرض میر متّقی بڑے میاں کے ساتھ ساتھ چلے تو سارے رستے بھائی کا تصور پیشِ نظر تھا اور قدم قدم پر ایسا خیال ہوتا تھا کہ بھائی سامنے سے چلے آ رہے ہیں، پیچھے سے پکار رہے ہیں۔ اس دروازے پر کھڑے باتیں کر رہے ہیں، اس دوکان والے سے کچھ کہہ رہے ہیں۔ کیوں کہ یہ اتّفاقات متّقی کو بھائی کی زندگی میں صد ہا بار پیش آ چکے تھے، ان ہی باتوں کی یادداشت اب تازہ ہو گئی۔ متّقی رات سے بہتیرا رو بھی چکا تھا اور اس نے ارادہ کر لیا تھا کہ اب اگر رونا آئے گا بھی تو روکوں گا، ضبط کروں گا مگر جوں جوں گھر کی طرف پاؤں اُٹھتا تھا دل کی کیفیت متغیّر ہوتی چلی جاتی تھی۔ یہاں تک کہ دروازے پر پہنچ کر تو نہ تھم سکا اور بے اختیار پکار کر رویا۔ رونے کی آواز سن کر پاس پڑوس کے لوگ جمع ہو گئے۔ پھاٹک تو باہر کی طرف سے نہ کھلوا سکے اندر ہی اندر کھڑکی راہ پہلے زنان خانے میں اور پھر مردانے میں خبر پہنچی۔ مبتلا اور اس کے جلسے کے شرکا ابھی تھوڑی دیر ہوئی تھی کہروا(1)

(1) کہاروں کی طرح کا ناچ جو بازاری عورتیں مردانی ٹوپی اوڑھ کر ناچتی ہیں۔

صفحہ 45

دیکھ اور بھیروں(1) سُن کر سوئے تھے۔ میر متّقی کا آنا سُن کی سب کی نیندیں اُچاٹ ہوئیں اور اب کے ہوش اڑ گئے۔ جو لوگ اب سے ڈیڑھ دو گھنٹے پہلے بھانڈوں اور رنڈیوں کو نچوا رہے تھے اب لگے آپ ناچے ناچے پڑے پھر نے۔ چاہتے تھے کہ نکل بھاگیں مگر رستہ کہاں تھا۔ پھاٹک پر تو خود میر متّقی صاحب اور ان کے ساتھ محلے کے چالیس پچاس آدمی کھڑے ہوئے تھے۔ زنان خانے میں ہو کر جانا چاہتے تھے تو پہلے مُہرے پر گھر والی تھی کہ میاں کے سامنے تو لومڑی یا بھیگی بلّی جو کچھ تھی سو تھی مگر ان بد ذاتوں کے حق میں خاص کر اس وقت شیرنی سے کم نہ تھی۔ اس کے علاوہ زنان خانے سے اگر باہر جانے کا راستہ تھا تو دوسروں لوگوں کے گھروں میں سے ہو کر تھا۔ وہ بھلے مانس ان بلاؤں کا اپنے یہاں سے ہو کر گزرنا کیوں جائز رکھتے۔ غرض وہ سب کا سٹپٹانا اور ایک کا ایک سے پوچھنا اور ایک ایک کے آگے ہاتھ جوڑنا، ایک ایک کے پاؤں پڑنا، ایک تماشا تھا قابلِ سیر، ایک کیفیّت تھی لائقِ دید کہ رنڈیاں جو اپنے حسن کے غُرور میں کسی کے ساتھ سیدھی بات تک نہ کرتی تھیں اب ایک ایک کے آگے بچھی جاتی تھیں کہ خُدا کے لیے کہیں ہم کو پناہ دو۔ ایک ایک کے پیچھے لپٹی جاتی تھیں کہ اللہ ہمیں نکال کہیں لے چلو۔ ایک پُکارتی تھی میں انعام و اکرام سے باز آئی، مجھے راستہ بتاؤ۔ دوسری چلّاتی تھی مجھے مجرے کی کوڑی مت دو مگر کسی ڈھب سے گھر پہنچاؤ۔ رات کے جلسے میں ایک طائفہ چلبلا بھانڈ کا بھی تھا۔ ان کمبختوں کو فی الوقت(2) خوب سوجھتی ہے۔ اِدھر تو یہ تمام جمع ہوئی تھی اور اُدھر چُلبلا بے طلب، بے فرمائش تیّار ہو اپنے ساتھیوں کو جمع کر لگا نقل کرنے (نقل) ایک اِدھر سے اُدھر اور اُدھر سے اِدھر دوڑ دوڑ لوگوں کو ہٹاتا ہوا دباتا ہوا پھرنے لگا کہ کیا ہے بے، کیا ہے کیا ہے کا، ہے کا غُل ہے۔ کیوں شور مچا رکھا

بہ صبح کا راگ . ہ عین وقت پر۔

صفحہ 46

ہے۔ دوسرا بولا ابے احمق تو نے سُنا کہ حضرت کے چچا مکّہ معظمہ سے تشریف لائے ہیں۔ پہلا۔ کون چچا ابو جہل یا ابو لہب۔ دوسرا (پہلے کے منہ پر زور سے ایک طمانچہ مار کر) چپ مرور کیا کفر کہتا ہے۔ اب حضرت پیغمبر صاحب کے چچا نہیں، ہمارے (مبتلا کی طرف اشارہ کر کے) حضرت پیر و مرشد کے چچا۔ پہلا۔ ہاں۔ الحمد للہ۔ پھر ڈرنا کیا ہے۔ ہم سب مل کر بھی ان کو چچا بنائیں۔ حج نصیب ہونے اور سلامتی سے واپس آنے کی مبارک باد دیں۔ ناچ دکھائیں، گانا سنائیں۔ دوسرا (پہلے کے منہ پر طمانچہ مارکر) ”ابے توبہ کر توبہ۔ کہیں اوپر سے چھت نہ گر پڑے۔ سیّد آلِ رسول مولوی حاجی جو ابھی خدا کے گھر سے پھرتے چلے آ رہے ہیں، کہیں ناچ دیکھتے ہیں۔ (ناچ دیکھنا حرام) یا گانا سُنتے ہیں۔ (گانا سننا ممنوع) ان کے نزدیک رنڈیاں جہنّٗم کی چھٹپیاں اور بھانڈ دوزخ کے کندے۔“ پہلا ”ہائے میرے اللہ رنڈیوں نے وہاں بھی بھانڈوں کو نہ چھوڑا۔ نرے کُندے ہوئے تو ذرا دیر میں جلتے اور کیوں صاحب یہ سب لوگ مبتلا اور اس کے ساتھیوں کی طرف اشارہ کر کے) کیا ہوں گے؟“ دوسرا۔ ”ان کو کہتے ہیں کہ بھاڑ میں بھونے اور کڑھائی میں تلے اور بھٹی میں جلائے جائیں گے۔“ پہلا ”(دونوں ہاتھوں کو کلّوں پر ہولے ہوئے تھپڑ مار کر اور خوف زدہ آنکھیں بنا کر) الہٰی توبہ۔ دوزخ کی آنچ سے بچائے اور بھانڈوں کو بھوت بنائے۔ آسیب بنائے جو چاہے سو کرے مگر دوزخ کے کُندے نہ بنائے۔ بھلا پھر وہ حاجی صاحب چاہتے کیا ہیں؟“ دوسرا ”چاہتے یہ ہیں کہ نمازیں پڑھو، روزے رکھو، خدا کی بندگی کرو۔ جو روپیہ رنڈیون اور بھانڈوں کو دیتے ہو غریبوں، محتاجوں کو دو۔“ پہلا ”بھئی بات تو واجبی ہے ۔رنڈیوں کا دینا تو محض فضول ہے۔ رہے بھانڈ، ان سے بڑھ کر غریب اور محتاج کون ہو گا۔“ یہ کہہ کر عمامہ باندھ، پائنچے ٹخنوں سے اونچے کر جہاں کھڑا تھا اللہ اکبر کہ کر ہاتھ باندھ اور مُنہ ہی مُنہ میں کچھ بڑبڑانے لگا گویا امام بنا اور نماز شروع ہوئی۔

صفحہ 47

مسخرہ پن تو یہ تھا کہ نیّت باندھ چکا ہے اور پھر ایک طرف یہ کہہ رہا ہے کہ بس بے تامّل پھاٹک کھول دو اور مولوی یا حافظ یا حاجی یا زوّار یا واعظ جو ہوں ان کو آنے دو اور دوسری طرف سب کو اشارہ کر رہا ہے کہ میرے پیچھے مقتدی بن کر کھڑے ہو جاؤ اور پھر بڑبڑانے لگا۔ طائفے کے جتنے بھانڈ تھے سب صف بستہ ہو کر مقتدی بنے اور اس کے پیچھے کھڑے ہوئے ۔ ذرا دیر گزری تھی کہ ایک نے صف میں سے نکل کر امام کی پیٹھ پر دوہتّر مارا ایسے زور سے کہ تھوڑی دور آگے جا کر اوندھے منہ گر پڑا اور کہا ”اے بدعتی یہ کیسی بے وقت اور بے رُخی جماعت کی نماز پڑھ رہا ہے۔ اگر مولوی اسماعیل کے مقلّد سُن لیں تو مارے کفر کے فتووں کے اُلّو کر دیں۔“ امام ”ابے تو کیا جانے صلٰوة الخوف(1) ہے“ اور پھر اسی طرح اپنی جگہ جا کھڑا ہوا۔ گویا اتنی حرکت پر بھی نماز باطل نہیں ہوئی۔ تھوڑی سی دیر کے بعد پیچھے کی صف سے پھر ایک شخص آگے بڑھا اور اس نے امام کا عمامہ اتار تڑا تڑ آٹھ دس بیس لتیڑے رسید کیے۔ امام سر سہلاتا ہوا یہ کہتا ہوا بھاگا کہ کفر کا فتویٰ آیا۔ تو یہ لتیڑے مارنے والا کیا کہتا ہے: ابے ڈر مت۔ فتوی نہیں تیری عبادت کا صلہ ہے۔ امام بولا عمارت کا صلہ ہے تو اس میں مقتدیوں کا بھی حق ہے۔ پھر تو اس سرے سے اس سرے تک بلا امتیاز جوتی کاری ہونے لگی اور رنڈیاں اور بھڑوے اور میر محفل اور تماشائی سبھی پر آفت آئی۔ کہتے ہیں کہ چُلبلا بھانڈ کے طائفے کا بیس روپے روز معمول تھا اور مبتلا اس طائفے کا ایسا گرویدہ تھا کہ اگر خرچ مساعدت کرتا تو ہر رات ان کا ناچ دیکھتا۔ مگر اس پر بھی کئی سو روپے ان لوگوں کے چڑھ گئے تھے۔ اب مبتلا کے چچا کا آنا سُن کر بھانڈوں کو بالکل نااُمیدی ہو گئی اور ایسی نقل کی۔ نقل تو نہایت برجستہ تھی مگر طبیعت کس کی حاضر تھی اور دل

(1) خوف کے عالم کی نماز جیسے لڑائی کے میدان میں۔

صفحہ 48

کس کا ٹھکا نے تھا کہ مزہ لیتا اور داد دیتا۔ مبتلا کی تو ایسی سِٹّی بھولی کہ ننگے پاؤں کبھی اندر جاتا اور کبھی باہر آتا مگر کوئی تدبیر بن نہیں پڑتی تھی۔ آخر اس نے اپنے باپ کے پرانے نوکر وفادار کو آواز دی۔ یہ بوڑھا آدمی اسمِ بامسمّٰی مبتلا کو بہت سمجھاتا رہتا تھا مگر نوکر کی بساط کیا، جب وفادار نے بار بار کہنا شروع کیا مبتلا نے اس کو جھڑک جھڑک دیا۔ وفادار نے دل شکستہ ہو کر مبتلا سے کنار کشی اختیار کی۔ مردانے میں اس کے رہنے کی ایک کوٹھڑی تھی۔ رات دن اسی کوٹھری میں پڑا رہتا۔ اندر سے کچھ فرمائش آتی تو اس کی تعمیل کر دیتا۔ مبتلا کے کسی کام کاج کو ہرگز باتھ نہ لگاتا۔ آدمی تھا زمانہ دیدہ۔ سوچا تھا کہ لیل و نہار اس طرح پر تو سدا چلنے والا نہیں، یا تو یہ رسم و راہ یہیں اور رسم و راہ یہ ہے تو بندۂ درگاہ نہیں۔ وفادار اکیلا کوٹھری میں بیٹھا ہوا دیکھتا نہیں تھا تو سنتا سب کی تھا۔ اس کو میر متّقی کا آنا اور اربابِ جلسہ کا گھبرانا معلوم ہو چکا تھا۔ خلافِ عادت مبتلا کے بُلانے کی آواز سن کر مطلب تو سمجھا مگر جان بوجھ کر چادر تان لیٹ گیا۔ مبتلا نے ایک بار پکارا، دو بار پکارا، تین بار پکارا جواب ندارد. اگر کبھی پہلے ایسا اتفاق ہوا ہوتا تو وفادار کی مجال تھی کہ مبتلا پکارے اور پہلی آواز پر جواب نہ دے مگر میر متّقی کا آنا تھا کہ باہر سے اندر تک سب کا رنگ بدل گیا۔ جو نا چیز تھے وہ اب عزیز تھے، جو با اقتدار تھے وہ اب ذلیل و خوار تھے۔ یہاں تک کہ مبتلا نے خود کوٹھڑی کے دروازے پر آ کر پُکارا۔ میاں وفادار، میاں وفادار جدی اُٹھو۔ چچا آئے۔ وفادار نے گھبرا کر پوچھا ”کیا چھوٹے میاں حج سے تشریف لائے۔“ مبتلا ”ہاں۔“ وفادار نے میر صاحب مرحوم کو یاد کر کے ایک آہ کی اور آنکھوں میں آنسو بھر لایا اور میر متّقی کے صحیح سلامت واپس آنے پر خدا کا شکر کیا۔ اور دروازے کھولنے کے ارادے سے دوڑا۔ مبتلا نے لپک کر روکا کہ ذرا ٹھیرو، ذرا ٹھیرو. مبتلا نے چچا کو دیکھا تو تھا مگر سات برس میں

صفحہ 49

صورت بھُول گیا تھا۔ وفادار سے کہا کہ ذرا کواڑوں کی دڑاڑ میں سے جھانک کر تو دیکھو وہی ہیں۔ وفادار نے پہلی ہی نظر میں پہچان لیا اور کہا کہ بے شک وہی ہیں اور اب تر عین مین سرکار (1) معلوم ہوتے ہیں، مگر ڈاڑھی میں تو وتنی سفیدی نہیں۔ مبتلا یہ سن کر وفادار کے گلے سے لپٹ گیا اور کہا کہ خدا کے لیے کسی طرح مجھ کو اس فضیحتے سے بچاؤ۔ میں ان کم بختوں کو کہاں لے جاؤں اور کس طرح چھپاؤں۔ وفادار کو مبتلا کا اضطرار دیکھ کر بہت ترس آیا اور اس نے کہا کہ تھوڑی دیر کے لیے ان لوگوں کو پاخانے میں کھڑا کر دیجیے۔ چھوٹے میاں آخر اندر جائیں گے اس وقت ان کو نکال باہر کریں گے۔ واقع میں اس کے سوا کوئی تدبیر ہی نہ تھی۔ آخر یہی کیا کہ جھپا جھپ ان سب کو پاخانے میں اوپر تلے ٹھونس، آگے پیچھے دھکیل کنڈی لگا، باہر کا پھاٹک کھول دیا۔ میر متّقی نے دوڑ کر بھتیجے کو چھاتی سے لگایا۔ اس وقت کی کیفیت تھی جس جس نے دیکھی ساری عمر ان کو نہیں بھول سکتا۔ بوڑھا پھونس نہیں مگر ادھیڑ، اور جوان فرشتہ اور شیطان۔ یا رحمت اور قہر، یا نیکی اور بدی کیا ثقہ اور رِند، یا حاجی اور پاجی، کیا چچا اور بھتیجا دونوں ایک دوسرے کے گلے لگے ہوئے کھڑے رو رہے تھے۔ مبتلا تو ڈاڑھیں مار رہا تھا اور میر متّقی کی آنکھوں سے برابر آنسو جاری تھے۔ اور چوں کہ رنج کو بتکلیف ضبط کرتے تھے، بوٹی بوٹی کانپ رہی تھی۔ پچاس ساٹھ آدمی حلقے باندھے ہوئے گرد و پیش تھے اور سب پر رقت طاری تھی۔ کامِل پاؤ گھنٹے کے بعد متّقی نے مبتلا کر سینے سے جدا کیا اور سب کے ساتھ

(1) سرکار سے مراد مبتلا کے والد میر مہذب مرحوم ہیں جو میر متّقی کے حقیقی بڑے بھائی تھے۔

صفحہ 50

اس کو لے جا کر دالان میں بیٹھے۔ تھوڑی دیر سب سکوت میں تھے، آخر کسی نے میر صاحب مرحوم کا ذکرِ خیر نکالا ۔ پہلے ان کے محامد (1) اخلاق کا مذکور رہا پھر علالت اور وفات کا۔ آخر فاتحہ پڑھ کر لوگ رخصت ہوئے اور میر متّقی زنان خانے میں گئے۔

(1) بھلی عادتیں
 

شمشاد

لائبریرین
فسانہ مبتلا ریختہ صفحہ 58

آٹھویں فصل

میر متقیؔ کا مبتلاؔ کے امور خانہ داری کی اصلاح میں کوشش کرنا

متقیؔ کا ارادہ تو یہ تھا کہ بھائی سے مل کر ہفتہ عشرہ رہ کر رام پور روانہ ہوں گا۔ مگر سوچا کچھ اور ہوا کچھ۔ یہاں آ کر دیکھا تو بھائی کو مرے ہوئے چھ مہینے ہو چکے تھے۔ اور بھتیجے صاحب نے وہ اُدھم مچار رکھی تھی کہ خدا کی پناہ۔ دو تین مہینے بھی متقیؔ کے پہنچنے میں دیر ہوتی تو تنخواہوں کا، کرائے کا، رہنے کے موروثی مکان کا، خاندان کی عزت و آبرو کا، بزرگوں کے نام و نمود کا، سب کا فیصلہ ہو چکا تھا۔ باپ کا بیمار پڑھا اور مبتلاؔ کا مدرسے سے اُٹھنا۔ وہ دن اور آج کا دن، اس بندۂ خدا نے بھول کر بھی تو مدرسے کو یاد نہ کیا۔ شروع شروع میں دو چار ہم جماعت بُلانے کو آئے۔ بعض مدرسوں نے بھی کہلا بھیجا۔ مبتلاؔ کس کی سُنتا تھا۔ رُخصت کی غیر حاضری ہوئی۔ اور غیر حاضر ہونا تھا کہ تڑ سے نام کٹ گیا۔ بیٹھے بٹھائے اچھا معقول وظیفہ کھویا۔ اور بات کی بات میں آیندہ کی ساری امیدیں ایک دم سے منقطع ہو گئیں۔ جن جن سرکاروں سے تنخواہیں مقرر تھیں، ضرور تھا کہ پیروی کر کے وارثوں کے نام ان کا اجراء کرایا جائے، مگر یہاں پیروی کرے تو مبتلاؔ، اور نہ کرے تو مبتلاؔ۔ اگر باپ کے مرنے پر مبتلاؔ ان سرکاروں میں جاتا، تو جن سرکاروں کا جیسا دستور تھا، کہیں

فسانہ مبتلا ریختہ صفحہ 59

سے ماتمی خلعت، کہیں سے نقد، کچھ نہ کچھ ملتا پر ملتا، اور تنخواہ بھی کہیں سے پوری کہیں سے ادھوری جا رہی ہوتی ہی ہوتی۔ مگر مبتلاؔ کو اپنے مشاغل لا یعنی سے اتنی فرصت کہاں تھی کہ وہ ان باتوں کو سوچے، اور خلعت یا نقد یا تنخواہ کے لیے سرکاروں میں دوڑ دھوپ کرے۔ غرض جتنے معمولات تھے سب بند ہو گئے۔ اب آمدنی کے نام سے تو رہ گیا کیا، صرف کرایہ! اول تو وہ تھا ہی کتنا، مگر خیر، جس قدر تھا اس کا بھی یہ حال ہوا کہ کسی کے دو روپے دینے ہیں اس نے مانگے، نہ مہینا دیکھا، نہ حساب، نہ کتاب قلم اٹھا کسی کرایہ دار کے نام چھٹی لکھ دی کہ اس کو دو راپے دے کر کرایہ میں مجریٰ کر لو۔ اب وہ چٹھی والا کرایہ دار کے سر ہوا۔ ہر چند وہ کہتا جاتا ہے کہ بھئی ابھی مہینا پورا نہیں ہوا، یا میں نے اپنی گرہ سے مرمت کرئی ہے، چھٹی والا ہے کہ ایک نہیں سُنتا۔ کرایہ داروں نے دیکھا کہ الٰہی! شہر میں ہزارہا مکان اور لاکھوں دُکانیں ہیں، یہ چٹھی کا انوکھا اور نرالا دستور نہ دیکھا نہ سُنا۔ ایک میر صاحب (۱) تھے، اللہ بخشے کہ ایک مہینے کا کرایہ دوسرے مہینے میں، اور دوسرے کا تیسرے میں، وصول ہوتا رہتا تھا۔ بے چارے کبھی ایک سخن بھی تو زبان پر نہیں لائے۔ ان ہی کے صاحبزادے ہیں کہ بے حساب بیٹھے بیٹھے چٹھیاں اُڑاتے ہیں، گویا کوتوالی کے پروانے ہیں، یا تھانے کے حکم نامے۔ غرض اکثروں نے بے دل ہو کر مکان خالی کر دیئے، اور اُٹھ کر کہیں اور جا رہے، اور جائداد اس قدر بدنام ہو گئی کہ کوئی دوسرا کرایہ دار رُخ نہیں۔ مبتلاؔ کے ہاتھ لگ گیا تھا ماں کا زیور، اسیمیں یہ تمام گُل چھرے اُر رہے تھے، دو پونے دو ہزار کا زیور اُس مرحومہ کا تھا، چھ مہینے میں سب خالصے لگ چُکا۔ اب مہینے سوا مہینے سے اُدھار پر گزران تھی۔ متقیؔ نے جو یہ حال بھائی
-------------------------------------------------------------------------------------------------------
(۱) یعنی مبتلاؔ کے والد میر مہذب مرحوم

فسانہ مبتلا ریختہ صفحہ 60

کے گھر کا دیکھا تو کیوں کر ممکن تھا کہ ان لوگوں کو ایسی حالت میں چھوڑ کا چلا جائے؟ ناچار رام پور ا ارادہ سرِ دست فِسخ کیا، اور مبتلاؔ کو ساتھ ساتھ سرکاروں میں لیے لیے پڑا پھرا۔ کسی کے کارپرداز سے ساز باز کیم کسے کے داروغہ کو جا گانٹھا۔ سفارش کی جگہ سفارش پہنچائی اور سعی کے مقام پر سعی کرائے، بعض جگہ اپنی وجاہت سے کام نکالا، اور جہان موقع بن پڑا بھائی کے حُسنِ خدمات پر زور ڈالا۔ غرض کئی مہینے کی دوا دوش سےا تنا تو ہوا کہ میر مۃذبؔ کے زمانِ حیات میں جتنی تنخواہیں تھیں، بلا کم و کاست پوری پوری کھل گئیں، بلکہ بعض سیر چشم سرکاروں نے پچھلے چھ مہینے کی چڑھی ہوئی تنخواہ بھی بلا وصعات دی۔ میر متقیؔ نے ایک پیش بینی یہ کی کہ جس قدر ذاتی تنخواہ تھی یعنی بلا خدمت بطور مدد معاش ملتی تھی، اپنی بھانجی غیرت بیگم یعنی مبتلاؔ کی بی بی کے نام جاری کرائی اور تنخواہ مشروط الخدمنت مبتلاؔ کے نا۔ اس میں مصلحت یہ تھی کہ بی بی کے آگے مبتلاؔ کی ذرا کنی دبتی رہے۔ تنخواہوں کا پچھلا چڑھا ہوا روپیہ جس قدر ملا، اس سے مکانات اور دُکانات کی شکست ریخت کی درستی کرا کے کرایہ داروں کو بسا کر اُن کے سر خط بھی آدھے کرائے کے مبتلاؔ کے نام اور آدھے غیرت بیگم کے نام لکھوا دیئے۔ میر مہذب کے روزِ وفات سے آج تک بیوتات کا حساب بنیے کے یہاں سے اُدھار چلا آتھا تھا۔ حسا کر کے اس کا قرضہ چکایا اور آئندہ کے لیے اچاپت کو مطلقاً بند کر کے یہ قاعدہ باندھ دیا کہ جو چیز درکار ہو، نقد بازار آ جایا کرے۔

فسانہ مبتلا ریختہ صفحہ 61

نویں فصل

میر متقیؔ بڑے بھانجے سید حاضر کو سمجھتاتے ہیں کہ بہن کو محرومُ الارث مت کرو

غیرت بیگم کو بھائیوں نے ترکۂ پدری سے محروم رکھا تھا، اور کس کی مجال تھی کہ ان بِھڑوں کے چھتوں کو چھیڑے۔ وہ اس بلا کے لوگ تھے کہ اگر نالش کی بھننگ بھی ان کے کان میں جا پڑتی تو کہاں کے ماموں، اور کس کی بہن، اور کیسا بہنوئی؟ سب کی عزک کے لاگو ہو جاتے۔ یہ ایک شعر جو مشہور ہے۔

بہ جا جمع مے آیند سادات
فساداتٌ فساداتٌ فساداتٌ

کہتے ہیں کہ کسی نے سید نگر والوں ہی کی شان میں کہا تھا، اور میر متقیؔ کو وہاں کے لوگوں کے ہتکھنڈے بخوبی معلوم تھے، اور مخاصمانہ طور پر بھانجوں کے ساتھ پیش آنا، اور ان کے مقابلے میں مدعی یا مدعا علیہ ہونا، گو بھانجی ہی کا حق طلب کرنے کے لیے کیوں نہ ہو، نہ ان کو شایاں تھا اور نہ غیرت بیگم کے حق میں مفید۔ سید نگر کے سب

فسانہ مبتلا ریختہ صفحہ 62

میں فخراً اپنی فتوحات کے واقعات کا بیان کرتا ہے، یہ لوگ ہمیشہ دیوانی فوجداری کے مقدمات کے تذکرے کرتے رہتے تھے۔ کوئی امیر اپنی مدح پر اتنا ناز نہ کرتا ہو گا جتنا اک کو ڈگریوں اور فیصلوں پر تھا۔ ان لوگوں کی نظروں میں میر متقیؔ صوفی و فقیہ تھے مگر سادہ لوح اور سفینہ عالم و فاضل تھے مگر احمق و لا یعقل۔ میر متقیؔ کو چھوٹا بھانجا سید ناظر، جو غیرت بیگم سے بھی عمر میں چھوٹا تھا، کچہری دربر کا کام دیکتا تھا، اور تمام معاملات مقدمات اسی سے متعلق تھے۔ پس یہ گھر کا عقل کُل تھا۔ سید حاضرؔ جو غیرتؔ سے بڑا اور اکبر اولات تھا، سید نگر میں مکان کی خبرگیری کرتا تھا، اور رعایا سے وصول تحصیل کرنا، اور سپر (۱) کا جتوانا، بوانا، غرض گاؤں کا سب کام کاج اس کو سپرد تھا، ماموں کا آنا سُن کر سید نگر سے سید حاضرؔ تو فوراً اگلے ہی دن آ حاضر ہوا، اور اس نے اس کا بھی انتظار نہ کیا کہ تعزیت کے لیے ماموں کی طرف سےتقدیم ہونی چاہیے۔ لیکن جب وہ واپس جانے لگا تو میر متقیؔ اسی کے ساتھ ادائے رسم تعزیت کے لیے سید نگر گئے۔ ناظرؔ وہاں نہ تھا۔ معلوم نہیں، کسی ضرورت سے غیر حاضر تھا یا قصداً ماموں کی آمد سُن کر ٹل گیا۔ میر متقیؔ نے بتقریب تعزیت، جہاں اور بہت سے باتیں سید حاضر سے کیں، ان میں سے یہ بھی تھی کہ تم کو شروع سے خدا نے بڑا کیا۔ کیوں کہ تم بھائی صاحب مرحوم کی اولاد میں سب سے بڑے ہو۔ لیکن تم پہلے صرف ان کی نسل میں بڑے تھے، اور اب خاندان اور برادری میں بھی بڑے ہو، کیوں کہ تم کو لوگ مرحوم کا جانشین سمجھتے ہیں اور تم ان کے جانشین ہو بھی۔ انسان کو خدا نے ایسے طور کا مخلوق بنایا ہے کہ تمدن اس کو لازم ہے۔ جس طرح تمدن اس کے وجود کی شرط ہے کہ اگر انساں مدنی الطبع نہ وہتے، اور آدی آدمی کے ساتھ مل کر نہ رہتا، تو آگے کو
----------------------------------------------------------------------------------------------------------
(۱) زمیندار کا خود کاشت زمین کو سپر کہتےہیں۔

فسانہ مبتلا ریختہ صفحہ 63

ان کی نسل نہ چلتی۔ اسی طرح تمدن اسی طرح تمدن انسان کی حیات بلکہ اس کی ممات کی بھی شرط ہے۔ تمدن نہ ہو تو انسان کی زندگی عذاب، اور مرے پیچھے اس کی مٹی خراب۔ تمدن کی ضرورت سے آدمی دو دو، چار چار، دس دس، پچاس پچاس، ہزار ہزار، لاکھ لاکھ اور اس سے بھی زیادہ زیادہ اکٹھا ہر کر رہتے ہیں، اور خاندان اور قبیلے اور کُنبے اور برادری اور گاؤں اور قصبے اور شہر اسی تمدن کے مظاہر ہیں۔ تمدن سے لوگوں میں انواع و اقسام کے باہمی تعلقات قائم ہوتے ہیں۔ ماںؔ، باپؔ، بیٹاؔ، بیٹیؔ، میاںؔ بی بیؔ، بھائیؔ بہنؔ اور جتنے طور کے دور و نزدیک کے رشتہ دار ہیں اور ہمسایہؔ اور ہم وطنؔ اور ماتحت، اور زمیندار، اور کاشتکار، اور بائع اور خریدار، وغیرہ یہ سب نام ہیں لوگوں کے باہمی تعلقات کے۔ ہر تعلق کے ساتھ کچھ حقوق ہوتے ہیں اور کچھ ذمہ داریاں، مثلاً باپ اور بیٹے میں ایک طرح کا تعلق ہے۔ باپ کا حق ہے کہ بیٹا اس کا ادب کرے، اس کا حکم مانے اور اس کی ذمہ داری، یا بعبارت دیگر، اس کا فرض یہ ہے کہ بیٹے کو شفقت کے ساتھ پالے، تربیت کرے، پڑھائے لکھائے، ہنر سکھائے، جو اس کے کام آئے۔ لوگوں کا یہ حال ہے کہ تمدن کے حقوق اور فرائض میں اکثر، بلکہ سب کے سب، الا ماشاء اللہ مطفف ہیں۔ مُطبب عربی میں کہتے ہیں اس شخص کو کہ اپنا لینا ہو جُھکی ہوئی تول لے اور دوسرے کا دینا ہو تو اُڑتی ہوئی دے۔ ایسے ہی لوگوں کی شان میں اللہ تعالٰی قرآن مجید میں فرماتا ،


بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

وَيْلٌ لِّلْمُطَفِّفِينَ ‎﴿١﴾‏ الَّذِينَ إِذَا اكْتَالُوا عَلَى النَّاسِ يَسْتَوْفُونَ ‎﴿٢﴾‏ وَإِذَا كَالُوهُمْ أَو وَّزَنُوهُمْ يُخْسِرُونَ ‎﴿٣﴾‏ أَلَا يَظُنُّ أُولَٰئِكَ أَنَّهُم مَّبْعُوثُونَ ‎﴿٤﴾‏ لِيَوْمٍ عَظِيمٍ ‎﴿٥﴾‏ يَوْمَ يَقُومُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ ‎﴿٦﴾‏ سورۃ المطففین۔

(افسوس ہے ڈنڈی ماروں پر، کہ جب لوگوں ناپ کر لینا ہو، تو پورا پورا لیں، اور جب لوگوں کو ناپ کر یا تول کر دینا پڑے، تو ان کو گھاٹا پہنچائیں، کیا یہ لوگ اس بات کا خیال نہیں کرتے کہ ایک بڑا دن آنے والا ہے اور اس اُن کومر کر اُٹھنا ہو گا، اُس دن لوگ پروردگار عالم کے روبرو کھڑے

فسانہ مبتلا ریختہ صفحہ 64

ہوں گے؟) اسی طرح دنیا میں کوئی شخص ایسا نہیں الا مشاء اللہ جو اپنے حق میں سے کسی بھائی کو رتی بھر چھوڑ دے۔ لینے میں تو ایسا سیانا اور سخت گیر اور دوسرے کے حقوق ضائع ہوں، تلف ہوں، کچھ پروا نہیں، ذرا دل پر میل نہیں، دینے میں ایسا گھر کا بھولا اور شریر۔ اس کشمکش اور مفسدے کو روکنے کے لیے اللہ جل شانہ نے دوہر دوہرے انتظام کیے۔ ایک سلطنت ظاہری کہ بادشاہ ہے، اور اس کے پاس فوج ہے، اور توپ ہے اور تلوار ہے، اور قوت ہے، اور پولیس ہے، اور حاکموں کا ایک گرو ہے، اور جلاد ہے، اور جیل خانہ ہے، اور بند ہے، اور تازیانہ ہے۔ اس انتظام کے تفصیلی حالات تم کو مجھ سے بہتر معلوم ہیں۔ دوسرے ایک سلطنت الٰہی ہے جس کو دین یا مذہب یا شرع کہتے ہیں، اس میں توپ کا نام نہیں، تلوار کا کام نہیں، اعوان و انصار نہیں، فوج اور سپاہ درکار نہیں، مگر دنیا میں جس قدر امن اور جتنی عافیت ہے اسی الٰہی سلطنت کی بدولت ہے۔ ظاہر بیں اور کوتاہ بیں ایسا سمجھتے ہیں کہ دنیا کا سارا انتظام حکامِ ظاہر کرتے ہیں۔ استغفر اللہ، نہ کرتے ہیں،اور نہ کر سکتے ہیں، ملک کی ساری پلٹنیں کالوں کی اور گوروں کی، اور سارے رسالے اور توپ خانے اور سارے پولیس کے ملازم، اور سارے حاکم، سب کے مجموعے کو ملک کی مردم شماری پر پھیلا کر دیکھو تو کیا پرتا پڑتا ہے (۱)؟ اگرچہ دس ہزار باشندوں پر ایک کا پرتا بھی نہیں بیٹھے۔ مگر فرض کرو کہ دس ہزار پیچھے ای، تو کیا یہ بات سمجھ میں آنے کی ہے کہ ایک متنفو دس ہزار آدمی کے ظبط پر قادر ہو؟ آدمی تو آدمی، اگر دس ہزار گدھے یا دس ہزار بھیڑ بکری بھی ہوں، تو ایک چرواہا ان کو ایک جگہ کھڑا نہیں رکھ سکتا، نہ یہ کہ ان کو جس کروٹ اُٹھائے، اُٹھیں، اور جس کروٹ بٹھائے
------------------------------------------------------------------------------------------------------------
(۱) اوسط

فسانہ مبتلا ریختہ صفحہ 65

بیٹھیں، ہاں شاید تمہارے دل میں یہ بات خطور کرے گی کہ حاکم ایک کو سزا دیتا ہے تو دس ہزار کو عبرت ہوتی ہے۔ لیکن خیال کرنے کی بات ہے کہ جن کو سزا ہوئی اُتنہیں کو کیا عبر ہوئی کہ دوسروں کو ہوتی؟ ہم نے تو یاں سُنا ہے، خدا جانے جھوٹ یا سچ کہ بدمعاش لوگ اول تو گرفت ہی میں نہیں آتے، اور اگر کوئی شامت کا مارا قضارا ماخوذ بھی ہوا، تو سید نگر والے (وکیل مختار) اس کو سزا نہیں ہونے دیتے۔ اور سزا بھی ہوئی، تو ان کی عبر اس سے ظاہر ہے کہ چھوٹتے ہیں، تو دوسرے قیدیوں کو وصیت کر آتے ہیں کہ دیکھا بھائی میرے چولھے کو ہاتھ نہ لگانا۔ مہینہ پورا نہیں ہونے پائے گا کہ میں پھر آتا ہوں۔ ہم کو تو کبھی اتفاق نہیں ہوا، اور نہ خدا رکے کہ ہو، مگر اخباروںمیں اکثر دیکھا ہے کہ فلاں مقام پر، فلاں خونی کو، فلاں تاریخ، فلاں وقت پھانسی دی گئے۔ دو ہزار اڈمیوں کی بھیڑ تھی۔ عبرت ہو تو ایسی ہو۔ یہ سب نالائق تماشائی تھے اور سنگدل قصائی۔اس کے علاوہ ایک بدیہی دلیل ایسی ہے کہ اس سے تو تم کو میرے پوری بات یا تیقن ہو جائے گا۔ یہ ہلواہا جو بیلوں کو تھان سے کھول کر لیے جا رہا ہے، اس کا کیا نام ہے؟ "حاضرؔ"۔ اس کا نام "غریبا" ہے۔ "متقیؔ" "ذرا اس کو بلانا۔" حاضرؔ نے بلایا تو اس نے ہل تو کندھے سے اُتار کر وہیں رکھ دیا اور اُسی ہل سے بیلوں کو اٹکا سامنے آ کھڑا ہوا۔ متقیؔ : "کیوں میاں! تمہارا کیا نام ہے۔" غریبا : "میاں مجھ کو گریبا کہتے ہیں۔" متقیؔ : "کون ذات ہو۔" غریبا : "ؔگوجر۔" متقی : "تم کتنی کھیتی کرتے ہو؟" غریبا : "میرے کھیتی الگ نہیں، رسید حاضرؔ کی طرف اشارہ کر کے، ہاجر (حاضر) میاں کا ہلواہا ہوں، اور کھار میں ایک دو بیگھے کا کھیت بھوماؔ لونیے کا ہے۔ اس میں ادھواڑ کا بانٹیہ (۱) دار ہوں۔" متقیؔ : بال بچے کتنے ہیں؟" غریبا (مسکرا کر) "بھگوان کی بڑی کرپا ہے۔ آٹھ۔"
-----------------------------------------------------------------------------------------------------------
(۱) یعنی آدھے کا ساجھی

فسانہ مبتلا ریختہ صفحہ 66

متقیؔ : "کسی کا بیاہ برات بھی کیا ہے؟" غریبا : "ابھی سب نیدان (۱) ہیں۔" متقیؔ : "اتنے کنبے میں کیوں کر گزرتی ہو گی؟" غریبا : "حاجر (حاضر) میاں کی دیا سے روکھی سوکھی مسی کُسی دو وخت نہیں تو یک وخت مل ہی جاتی ہے۔ چھوٹے بڑے ان ہی کی ٹہل میں لگے رہتے ہیں، یہی سب کو پالتے ہیں، بھیتر سے بڑی سہایتا رہتی ہے۔" متقیؔ : "اشارے سے غریباؔ کو پاس بلا کر آہستہ سے) "کیوں بے! آج کل تو کھلیان تیار ہیں، رات بے رات موقع پا کرکھلیان پیچھے دو پولی بھی اٹھا لائے تو کسی کو کیا معلوم، اور مزے میں تیرا کام ہو جائے۔" غریباؔ : (دور ہٹ کر) "نا میاں٬ بھگوان بُرا کرم نہ کرائے۔" متقیؔ : "کیوں کیا جاگاؔ چوکیدار سے ڈرتا ہے؟ اس کو ہم سمجھا دیں گے۔" غریباؔ : جاگاؔ (گالی) کہاں کا سورما ہے، ایک ڈپٹ بتاؤں تو (گالی) دھوتیمیں ۔۔۔۔ پر نہیں بُرا کام بُرا ہی ہے۔" متقیؔ : ابے مسخرے! کسی کو کانوں کان تو خبر ہونے کی نہیں، یہ اچھا نہیں کہ تن پر چیتھڑا نہیں، پیٹ کو ٹُکڑا نہیں۔" غریباؔ : مانس (۲) پڑا مت دیکھو، بھگوان سے تو کچھ چھپا نہیں۔" اس کے بعد متقیؔ نے استمالت کی دو چار باتیں کر کے غریباؔ کو رخصت کیا، اور سید حاضرؔ سے کہا "کیوں صاحب! آپ نے دیھا، یہی انتظام الٰہی ہے۔ کہ یہ بے چارہ نہ تو پڑھا نہ لکھا اور نہ شاید ساری عمر کسی پنڈت برہمن کی صحبت میں بیٹھا۔ ضرورت اس درجے کی کہ اگر سچ پوچھیے تو فَمَنِ اضْطُرَّ فِي مَخْمَصَةٍ (۳) کا مصداق ہے۔ اندیشۂ پاسباں سے مطمئن اور اس پر چوری کو سمجھتا ہے کہ بُرا کام ہے۔ اصل میں بُرا سمجھنا اور کو چوری کے ارتکاب سے مانع ہے اور یہ سمجھ یعنی بُری بھلے کا امتیاز، جو خدا نے مرد، عورت، لڑکے، جوان، بوڑھے، خواندہ، ناخواندہ، ذہین، غبی، شہری، دیہاتی، سب بنی آدم
-------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
(۱) یعنی نادان
(۲) یعنی انسان نہ دیکھے مگر خدا تو دیکھتا ہے۔
(۳) قرآن کی ایک آیت کا ٹکڑا ہے۔ جس کے معنی ہیں کہ اگر کوئی شخص بھوک سے بے قرار ہو تو اُس کو مُردار بھی حلال ہے۔

فسانہ مبتلا ریختہ صفحہ 67

کو علی قدرِ مراتب دیا ہے، ایک پاسبان الٰہی ہے جو ہر ایک پر مسلط ہے اس کو کراماً کاتبین (۱) کہو، یا نفس لوامہ (۲) سمجھو یا جن الفاظ سے چاہو تعبیر کرو۔ میرا عقیدہ تو یہ ہے کہ جرموں کا انسداد لاکھ حصے سلطنتِ آلہی کی تاثیر سے ہے، تو شاید ایک حصے حکومتِ ظاہری کی تدابیر سے، حکومت ظاہری میں ایک بڑا نقص یہ ہے حاکم کیسا ہی منصف مزاج کیوں نہ ہو، چونکہ اس کو معاملے کی اصل حقیقت سے تو آگہی ہوتی نہیں، ناچار اُسے روداد کی پابندی کرنی پڑتی ہے۔ اور روداد کی کیفیت تو کوئی ہمارے سید نگری بھائیوں سے پوچھے کہ کہو تو مکھی کو بھینسا بنا دیں اور فرماؤ تو بھینسے کو مچھر بنا کر اُڑا دیں، پس حاکم ظاہری کبھی پورا پورا انصاف کر ہی نہیں سکتا۔ اس کا فیصلہ اندھے کی لاٹھی ہے۔ لگی لگی، نہ لگی نہ لگی! برخلاف سلطنت آلہی کے اُس کا نشانہ ممکن نہیں کہ خطا کرے۔ اس کا مجرم ہو نہیں سکتا کہ سزا سے بچ جائے۔ کس کی مجال ہے کہ اس کی ڈگری کو روکے، کس کی طاقت ہے کہ اس کے حکم کو ٹالے؟ اگرچہ خدائی فیصلوں کے لیے ایک دن مقرر ہے، یعنی روز قیامت، کہ اس دن اللہ جل و شانہُ عدل و انصاف کے تخت پر اجلاس فرمائے گا، اور نیک اور بد، اور سخی اور سوم، اور ظالم اور مظلوم، سب کا اخیر چکوتا کر دے گا فَرِيقٌ فِي الْجَنَّةِ وَفَرِيقٌ فِي السَّعِيرِ (۳) مگر کبھی مصلحتِ آلہی اس کی بھی مقتضی ہوتی ہے کہ اسی دنیا میں بدلا مل جاتا ہے۔ یہی سید نگر ہے، کہ اب سے بہت زیادہ دور بھی نہیں، شاید بیس برس پہلے دس بارہ ہاتھی سادات کے دروازوں پر کھڑےجھولتے تھے، اور ان کی شہرت اور داد و دہش، اور مہمان نوازی، اور مسافر برداری کی کیا شہرت تھی کہ کربلا، اور بغداد، اور حرمین اور نجف، اور کاظمین، تک زوار
--------------------------------------------------------------------------------------------------------------
(۱) فرشتے جو مسلمانوں کے عقیدے کے مطابق اعمالنامہ لکھتے ہیں۔
(۲) آدمی کا دل جو اس کے بُرے کام پر ملامت کرتا ہے۔
(۳) ایک گروہ جنت میں اور ایک گروہ دوزخ میں

فسانہ مبتلا ریختہ صفحہ 68

ہر سال نام سن کر آتے تھے۔ میں اُن دنوں اچھا خاصہ ہوشیار تھا۔ مجھ کو اب تک یاد ہے کہ اس بڑی مسجد میں دو ڈھائی سو طالب علم رہتے تھے۔ اور یہیں کے سادات اُن کےکھانے،کپڑے، کتاب، سب چیزوں کی خبر گیری کرتے تھے۔ طالب علموں کے پڑھانے کے لیے بیش قرار تنخواہوں کے پانچ یا چھ اچھے جید حافظ اور مولوی نوکر تھے۔ سارے مہینے رمضان کے، اور دس دن محرم کے، غربا اور مساکین کے لیے اس قدر کھانے پکتے تھے کہ اس کا ٹھیک اندازہ کرنا مشکل ہے۔ بارہ کوس کے گردے کے تمام خلقت ٹوٹتی تھی، اور کیا نیتوں کی برکت تھی! کہ ہزار دو ہزار پانچ ہزار جتنے آدمی ہوتے ہر شخص کو دو خمیری روٹیاں، ایک پیالہ قلیے کا، اور ایک خوانچہ کھیر کا، وقت پر پہنچ جاتا۔ میرؔ بابا صاحب کا گھر اُن دنوں سب میں بڑھا چڑھا تھا۔ ان کا حال سُنا ہے کہ دونوں وقت گِنے ہوئے پورے سو آدمی دسترخوان پر میر صاحب کے ساتھ کھانا کھاتے تھے۔ اور کیسی خدا کی مہربانی تھی! کہ گلی میں دیکھو تو کوڑیوں لڑکے۔ سید نگر میں کبھی کسی سیدانی کو بانجھ اور چھے سے کم کسی کے بچے سننے میں نہیں آئے۔ غلہ ہمیشہ ارزاں، عام بیماری یا وبا کبھی سید نگر کے سوانے میں داخل نہیں ہوئی۔ یکایک گوجروں سے سوانے کی تکرار ہوئی۔ لٹھ چلا، طرفین سے آدمی مارے گئے۔ بس اس دن سے سید نگر پر تباہی آئی۔ یوں تو سادات اور گوجروں میں سدا سے چھیڑ چھاڑ ہوتی ہی چلی آتی تھی۔ مگر اس مقدمے میں سادات سراسر برسرِ ناحق تھے۔ ہمیشہ سے سید نگر کا سوانا اُس تیس ہزاری باغ کی مشرقی کھائی تھی۔ یہ باغ عین سوانے پر اسی غرض سے لگایا گیا تھا کہ گوجر حد سے متجاوز نہ ہوں۔ تکرار اتنی ذرا سے بات پر ہوئی کہ میر باباؔ کے بڑے بیٹھے، میر مقتدر کے سائیسوں نے گوجروں کی رکھانت کھانس باغ کے پورب کاٹنی شروع کی۔ گوجروں نے مزاحمت کی۔ یہاں تک کہ داتا سنگھؔ نے، جو گوجروں کا سرگروہ اور میرؔ بابا کا مدِ مقابل تھا، اپنا خاص

فسانہ مبتلا ریختہ صفحہ 69

کارندہ میرؔ بابا کے پاس بھیجا۔ وہ کارندہ میر صاحب تک پہنچنے نہیں پایا، کہ بیچ میں میر مقتدرؔ نے اس کو بہت سخت سست کہا، اور حق و ناحق ہزارہا گالیاں داتاؔ سنگ کو دیں۔ میر مقتدرؔ بڑے غصیلے اور بڑے ظالم اور بڑے سخت گیر اور بڑے جابر مشہور تھے۔ کہتے ہیں کہ دو تین خان اُن کے ہاتھ سےہوئے، مگر دب دبا گئے۔ انہوں ظلماً کئی بھلے آدمیوں کی ناموس بگاڑی، اور عزت ریزی کی۔میرؔ بابا کے خاندان میں جو سید لوگ ناتا نہیں کرتے، اصل میں اس کا سبب یہی ہے کہ میرؔ مقتدر نے بلا امتیاز بہت سے عورتوں کو جبراً گھر میں ڈال لیا تھا، کوئی ہندُنی تھی، کوئی چماری، کوئی گرجرنی۔ غرض میرؔ مقتدر کے بعد سے ان کے خاندان کے نست کا اعتبار اٹھ گیا۔ بیٹے کے زور و ظلم نے میرؔ بابا کی تمام نیکیوں کو بے قدر کر رکھا تھا۔ نہیں معلوم دیدہ و دانستہ بیٹے کی حرکات ناشائستہ سے چشم پوشی کرتے تھے، یا واقع میں مقتدرؔ پر ان کا کچھ اقتدار نہ تھا؟ میر مقتدر کا تمام علاقے میں ایسا زلزلہ تھا، کہ کوئی بھلا آدمی سید نگر کی تھانہ داری پر آنے کے لیے رضا مند نہیں ہوتا تھا۔مجبور کیا جاتا، تو توکری سے استعفا دیتا۔ مگر ادھر کا رخ نہ کرتا۔میں ایسا خیال کرتا ہوں کہ سید نگر کو مقتدرؔ کے ظلموں نے تباہ کیا۔ اور نزاع سوانے کا ایک بہانہ تھا۔ جب مقتدرؔ نے داتا سنگھ کے کارندے کو بُرا بھلا کہا، اور اس کے مالکی کو علیٰ رؤس (۱) الاشہاد مُغلظات سنائیں، وہ بیچارہ اپنا سا مُنہ لے کر لوٹ گیا، اور داتاؔ سنگ کے آگے جا کر اپنی پگڑی زمین پر دے ماری، اور کہا کہ تم نے مجھ کو بے عزت کیا یا، اور خود بھی بے عزت ہوئے، آج میرؔ ببا کے بیٹے نے بھری کچہری میں مجھ کو اور تم کو دونوں کو فضیحت کیا، اور ایسی ایسی گالیاں دین کہ کوئی چمار کو بھی نہیں دیتا۔ داتاؔ سنگھ بڑی غیرت اور بڑے طنطنے کا آدمی تھا ، اور کسی بات میں میرؔ بابا سے ہٹیا نہ تھا، سُن کر لال ہو گیا اور کہا کہ اس مسلمان کے چھوکرے کا اتنا مقدرو! خیر
---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
(۱) لوگوں کے ردبرد

فسانہ مبتلا ریختہ صفحہ 70

اب لڑائی ہے تو لڑائی ہی سہی۔ داتاؔ سنگھ کے منہ سے اتنی بات کا نکلنا تھا کہ ڈیڑھ دو ہزار گوجر بھاری بھاری لٹھ کندھوں پر دھر، رکھا نت پر جا موجود ہوئے۔ میر صاحب کے گھسیارے ان کو دور سےدیکھ کر بھاگ کھڑے ہوئے۔ سید نگر میں خبر ہوئی، ادھر سے لچکر سادات نکلا۔ دوپہر کامل لٹھ چلا۔ دو پونے دو سو آدمی زخمی ہوئے۔ چار گھڑی رات جاتے جاتے سرکار فوج توپ لے کر آ پہنچی۔ پکڑ دھکڑ شروع ہوئی، تحقیقات ہونے لگی اور نتیجہ یہ ہے :

قید
قائم الجس ۔۔۔۔۔۔ میعادی ۔۔۔۔۔۔۔ قصاص
5 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 51 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 7
22 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔101 ۔۔۔۔۔۔۔۔ 18

ہنگاموں اور خانہ جنگیوں میں اکثر سزا کا پلہ دونوں طرف برابر رہتا ہے۔ مگر سیدوں نے بڑا غضب یہ کیا کہ ادھر تو سوانے پر لڑائی ہو رہی تھی، ادھر ڈھائی تین سو آدمی سید نگر سے نکل، کنی کاٹ، گوجر پور میں جا گھسے، اور وہاں گوجروں کے مندروں کو توڑا پھوڑا، عورتوں کو بے عزت کیا یوں سیدوں کی طرف سے زیادتی بہت ہوئی اور سزا بھی بہتوں نے پائی۔ میرؔ ببا نے تو جس وقت سرکاری فوج کا آنا سنا، اُسی وقت زہر کھا کر مر رہے۔ میرؔ مقتدر کسی تدبیر سے بھاگ نکلے، گھر بار ضبط ہوا، اسباب نیلام ہوا، بیٹوں مٰن تین یا چار نابالغ بچے تھے، وہ تو بچے، دو نے پھانسی پائی، اور دو (2) کالے پانی بھیجے گئے۔ میر مقتدرؔ کے لیے پانسو روپے کا اشتہار ہوا، مگر پکڑے نہ گئے۔ رفیقؔ، ان کا ایک خانہ پرورد، ان کے ساتھ بھاگا۔ دس بارہ برس بعد اکیلا واپس آیا۔ بڑا نمازی، بڑا پرہیز گار، وہ


فسانہ مبتلا ریختہ صفحہ 71

بیان کرتا تھا ان کی مصیبتیں، کہ سُن کر رونگٹے کھڑے ہوتے تھے۔ کہنا تھا کہ آخرکار کسی مقام پر بغداد کے علاقے میں میر مقتدرؔ مرضِ موت میں مبتلا ہوئے، مگر ایسی سختی کی موت ہم نے تو دیکھی کیا سنی بھی نہیں۔ پورے پندرہ دن بول و براز بند تھا۔ نہ مسہل اثر کرتا تھا، نہ حقنہ، نہ پچکاری۔ دن اور رات مچھلی کی طرح تڑپتے تھے اور کسی وقت تالو سے زبان نہیں لگتی تھی۔ بول و براز کے بند ہونے سے مادے میں سمیت پیدا ہوئی، اور سمیت ظاہر جلد تک پھوٹ پڑی۔ باوجدیکہ نہایت گورے چٹے آدمی تھے اور ان مصیبتوں میں بھی ایرانی معلوم ہوتے تھے، سمیت کی وجہ سے سارا جسم ایسا ہو گیا تھا جیسے سیہ تاب اور سزش اس بلا کی، کہ کیچڑ میں لوٹے لوٹے پھرتے تھے مگر ایک لمحہ قرار نہ تھا۔ مرنے سے سات دن پہلے، نہیں معلوم کیا بات تھی، بے ہوشی میں وطن کے لوگوں کے نام لے لے کہتے تھے : فلانا مجھ کو مارے ڈالتا ہے، فلانا گرم سیخیں میرے پیٹ میں بھونکتا ہے، فلانا مجھ کو تنور میں دھکا دیتا ہے، فلانا میری کھال کھینچتا ہے۔ رفیقؔ کا مقولہ یہ تھا کہ جن لوگوں کے نام وہ لیتے تھے، وہ تھے، جن پر اُنہوںنے ظلم کیے تھے۔ رفیقؔ کا یہ دیکھ کر اس قدر مرعوب ہوا کہ گویا اُسی دن سے اُس نے ترکِ دنیا کیا۔ غرض وہ کم بخت سوانے کا مقدمہ کیا ہوا تھا کہ سید نگر کے حصے کی قیامت آ گئی۔ آبرو اور جان اور مال کا جو نقصان ہوا تھا سو ہوا تھا، ایک بڑا نقصان یہ ہوا کہ سادات سے خیر بالکل اُٹھ گئی۔ اب اس نواح میں سید کے معنی ہیں مُفسد، لڑاکا جھگڑالو، مرد آزار، جھوٹا، جعل ساز مفتری، فتنہ پرداز۔ اور واقع میں لوگوں کے افعال اور معاملات پر نظر کرتے ہیں، تو جس قدر بدنامی ہو رہی ہے، اس سے زیادہ کے مستحق ہیں۔ گوجروں کے ساتھ لڑنے کا مزہ چکھ چُکے تھے، چاہتے تھا کہ لڑائی کے پاس نہ پھٹکتے۔ مگر اُلٹا اثر یہ دیکھنے میں آیا کہ بھائ سے بھائی لڑنے لگا، باپ بیٹے سے، بیٹا ماں سے، میاں بی بی سے، پڑوسی سے پڑوسی سے، حصہ دار حصہ دار سے، زمین دار کاشت کار سے، گویا لڑائی ان کے خمیر میں داخل ہے، یا بے لڑے ان کو نیند نہیں آتی،

فسانہ مبتلا ریختہ صفحہ 72

یا کھانا ہغم نہیں ہوتا۔ شرافت نجابت کے دعوے اتنے لمبے چوڑے کہ کسی کو اپنا کفو نہیں سمجھتے۔ مگر معاملات ایسے کہ پاجی سے پاجی کو شرم آئے اور کمینے سے کمنے کو عار۔ سید نگر کی کھیوٹ نکال کر دیکھو، جھڑا عورتوں کے نام ہیں، کسی کی جورو، کسی کی بیٹی، کسی کی بہن، دیوانی و فوجداری میں مہر اور نان و نفقہ اور طلاق کے جیتنے مقدمے ایک سید نگر کے ہوں گے شاید ساری لفٹنٹی کے نہ ہوں۔ مگر ان تمام فسادات کے نتیجے کیا ہیں؟ تم لوگوں کے گھروں میں اسٹامپ کے بڑے بڑے پُشتارے بہت نکلیں گے، بیبیوں کے جسم پر چاندی کا تار نہیں۔ باوجودیکہ دیہاتی پہناوا ہے، گٹھری میں سلیقے کا کوئی کپٹر نہیں۔ جوار، باجرا، سانواں، کودوں، جو کچھ سیر میں پیدا ہوا اُسی پر تمہاری گزران ہے۔ تمہارا علاقہ شہد کی مکھیوں کا چھتا ہے، جتنے پیدا ہوتے گئے، اُسی میں بھرتے گئے۔ میں اگر تمہارے علاقے کا مہتم بندوبست ہوتا تو بیگھ، بسوا، بسوانسی، کچوانسی، سب موقوف کر کے کسور اعشاریہ میں تمہارا کھیوٹ بناتا۔ یہ حال تو تمہاری حصہ داریوں کا ہو گیا ہے! اس پر طرہ یہ ہے کہ جس حصے کو دیکھیے کثرتِ انتقالات سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ایک کباب ہے اور اس میں ہزار ہا چیونٹیاں۔ سید زادوں کو دیکھا، تو اس سرے سے اُس سرے تک ایک ہوشیار نہیں۔ کسی میں آئندہ کی فلاح کے آثار نہیں، یہ وبال، یہ نکبت، یہ ذلت، یہ افلاس سب تمہارے ہی اعمال کی سزا ہے۔ اور اگر یہ پوری سزا ہوتی ہو تو تم سستے چھوٹ گئے تھے، یقین جانو سزا نہیں ہے، بلکہ تمہید سزا۔ جب سزا کس وقت آئے گا، تو یہ تمہارا قانون اور قاعدہ کچھ نہیں پوچھا جائے گا۔حقوق کے متعلق ایک بات اور ہے جس کو میں چاہتا ہوں کہ تم اس کی طرف زیادہ توجہ کرو۔ وہ یہ ہے کہ انسان کے ذمے دو طرح کے حقوق ہیں، حقوق اللہ اور حقوق العباد۔ لوگ حقوق العباد کی نسبت بڑی غلطی میں پڑے ہیں اور اُن کو آسان سمجھ لیا ہے، حالانکہ بڑی ٹیڑھی کھیر ہے۔ اگر کسی آدمی سے اللہ کے حقوق ضائع ہوں۔ اور

فسانہ مبتلا ریختہ صفحہ 73

سبھی سے ہوتے ہیں، تو بندے کا خدا سے کیا مقابلہ؟ حقوق الٰہی کا ضیاع اکثر سہو و غفلت اور نادانی اور کوتاہ اندیشی کی وجہ سے ہوتا ہے، اور امید ہے کہ خداوند غفور و رحیم بندوں کے ضعف پر نظر فرما کر اُن کے قصور معاف کرے، اور کرے گا۔مگر حقوق العباد کا یہ حال نہیں ہے۔ اس میں ایک بندہ زور سے، ظلم سے، ہیکڑی سے، زبردستی سے، دوسرے بندے کو ستاتا، اس کا دل دُکھاتا، اُس کو ایذا پہنچاتا ہے اور اس قصور کا معاف کرنا نہ کرنا اسی بندۂ مظلوم کے اختیار میں ہے۔ مگر انصاف کرو، دنیا میں کتنے لوگ اس کی پروا کرتے ہیں؟ لاکھوں مظلمے ہیں جن کو بندگانِ خدا مرتے وقت اپنے سروں پر لاد کر لے جاتے ہیں۔ بات یہ ہے کہ دین کو کھیل، اور مذہب کو ہنسی سمجھ رکھا ہے۔مُنہ سے کہتے ہیں کہ مرنا برحق، نکیرین (۱) کے ساتھ سوال و جواب کا ہونا برحق، عذابِ قبر برحق، قیامت برحق، مرے بعد پھر زندہ ہونا برحق، رتی رتی کا حساب دینا برحق، جنت برحق، دوزخ برحق، اور کردار، حق تھو (۲)۔ سید حاضرؔ مجھ میں تم میں قرابت کا ایک تعلق ہے، اور جیسا میں نے تم سے کہا، تعلق سے پیدا ہوتے ہیں حقوق اور فرائض۔ میں اس کو اپنا فرضِ تعلق سمجھتا تھا کہ تمہارے فرائض کو تم پر بالا جمال ظاہر کر دوں، سو میں نے اپنا فرض ادا کیا۔ یہ کہہ کہ متقیؔ بھانجے سے رخصت ہوا، اور چلتے چلتے کہہ گیا کہ "افسوس ہے سید ناظرؔ سے ملاقات نہ ہوئی۔ ان شاء اللہ پھر کسی دن آؤں گا۔ میر متقیؔ نے اچھے خاصے پہر سوا پہر سید حاضرؔ کے ساتھ باتیں کیں، اس تمام وقت میں سید حاضرؔ کا یہ حال تھا کہ ماموں کے مُنہ پر اس کی ٹکٹکی بندھی ہوئی تھی، اور ہمہ تن گوش ہو کر ان کی باتوں میں مستغرق تھا۔ جو لفظ ماموں کے مُنہ سے نکلتا اس کے دل میں کالنقش فی الحجر بیٹھتا چلا جاتا۔ حاضرؔ کے کان مطلق ایسی باتوں سے آشنا نہ تھے۔ اس پر میر متقیؔ کا بیان! کہ گویا ایک دریا ہے کہ موجیں مار رہا ہے، یا ریل ہے کہ فی گھنٹہ
---------------------------------------------------------------------------------------------------
(۱) قبر کے فرشتوں کو نکیرین کہتے ہیں۔
۰۲) یعنی کردار تھوکنے کے قابل

فسانہ مبتلا ریختہ صفحہ 74

سو میل کی رفتار سے دوڑ رہی ہے، یا بھری برسات میں ساون بھادوں کا بادل ہے کہ اُمڈا چلا آ رہا ہے، اور پھر باتیں کھری، سچی، سُتھری، جن میں ذرا اونچ نیچ نہیں۔ چُنیا کے فائدوں کی ضامن، دین کی درستی کی کفیل، بھلائی کی صلاح، بہتری کا مشورہ، سید حاضرؔ بت کی طرح چُپ بیٹھا سنتا رہا۔ اگرچہ گاؤں کا کام کاج کرتا تھا، مگر کون سا گاؤں سید نگر جہاں کے پر چونئے ساہوکاروں کے، شکمی کاشت کار تعلقہ داروں کے، جاہل محض لیاقت شعاروں کے، اہل مقدمہ وکیل مختاروں کے کان کترتے تھے مگر متقیؔ نے اتنا کچھ کہا اور سید حاضرؔ سے چوں کرتے نہ بن پڑی۔
 

اوشو

لائبریرین
صفحہ ۔۔۔ 31

چوتھی فصل

مبتلاؔ کا بیاہ اور اس کا معاملہ بی بی کے ساتھ

یہ کب کی بات ہے کہ مبتلاؔ کو مدرسے میں داخل ہوئے چوتھا برس شورع تھا۔ خوش حال باپ کا بیٹا صورت شکل کا اچھا، بلکہ حد سے زیادہ اچھا، پڑھا لکھا، کماؤ، دس روپیہ کا مدرسے میں وظیفہ دار۔ اس روداد کے لڑکے کو بیٹیوں کی کیا کمی تھی۔ قاعدے کے مطابق مبتلاؔ کے ظاہری حالات دیکھ سن کر لوگ اس قدر ریجھے ہوئے تھے کہ کئی جگہ سے بیٹی والوں نے منہ پھوڑ کر رقعہ منگوا بھیجا۔ دستور کی بات ہے کہ خریداروں کی کثرت ہوتی ہے تو بیچنے والوں کے مغز چل جاتے ہیں۔ مبتلاؔ کی ماں بہنوں کا یہ حال تھا کہ کہیں کی بات ان کے خاطر تلے آتی ہی نہ تھی ورنہ کیا مبتلاؔ جیسا اللہ آمین کا بیٹا سترہ اٹھارہ برس کی عمر تک کوارا بیٹھتا؟ اب تک تو اس کے ایک چھوڑ کبھی کے چار چار بیاہ ہو گئے ہوتے۔ اس گھر کی خوش حالی اتنی ہی تھی کہ قلعے کی تنخواہیں، اسامیاں، مکانات کا کرایہ ملا کر کل سو سوا سو روپے کی آمدنی تھی اور اس میں اتنا بڑا کنبہ! مگر وہ تو مبتلاؔ کا باپ ایسا منتظم اور کفایت شعار آدمی تھا کہ اس نے اپنے سلیقے سے گھر کا بھرم بنا رکھا تھا۔ اس حالت پر جہاں کہیں سے پیام آیا چھوٹے کے ساتھ ایک دم سے چاندی کا بھی نہیں سونے کے پلنگ کی فرمائش ایسے اصرار کے ساتھ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ ۔۔۔ 32

ہوتی تھی گویا کہ نکاح کی شرطِ اعظم ہے اور پھر معاملے کی بات ہے جیسا لینا ویسا دینا۔ ہیکڑی تو تھی کہ لیں تو سنہرا پلنگ اور دینے کے نام پٹاری کے خرچ کے لیے ادھی نہیں کیوں کہ ہمارے خاندان کا دستور نہیں۔ مہر شرع محمدی، سو روپے کا چڑھاوا، سو روپے کا جھومر، صورت شکل اپنی اپنی جگہ سب ہی تلاش کرتے ہیں اور سمجھنے اور غور کرنے والے کو تو یہ بات ہے کہ باوجودے کہ ہر شخص خوبصورتی کا خواہاں ہے مگر بری بھلی، کالی گوری یہاں تک کہ کانڑی، کھدری اللہ کی بندیاں سبھی کھپی چلی جاتی ہیں۔ ہم نے تو اتنی عمر ہونے آئی کسی کو صورت کی وجہ سے کواری بیٹھے نہ دیکھا۔ تاہم چونکہ مبتلاؔ ایک خوبصورت خاندان کا آدمی اور خود بھی بڑا خوبصورت تھا اگر اس کے لیے خوبصورت بی بی تلاش کی جاتی تھی تو کچھ بےجا بات نہ تھی۔ مگر تلاش کرنے کے لیے بھی طریقے ہوتے ہیں کہ عورتیں چوری چھپے، حیلے بہانے کسی نہ کسی طرح لڑکی کو یا تو خود کسی وقت دیکھ آتی ہیں یا اپنے دیکھنے کا موقع نہیں بنتا تو کسی کو بھیج کر دکھلوا لیا کرتی ہیں۔ یہاں تو یہ ضد کہ ہم تو اپنی آنکھ سے دیکھ بھال کر کریں گے اور اپنے ہاتھوں سے لڑکی کے منہ میں مصری کی ڈلی دیں گے۔ کیسی کیسی جگہ سے پیام آئے۔ کہاں کہاں رقعہ گیا۔ مگر کہیں لین دین پر تکرار ہوئی، کہیں صورت پسند نہ آئی، کہیں دیکھنے بھالنے کی شرط نامنظور ہوئی۔ غرض کوئی بات ٹھیری ٹھیرائی نہیں۔ پچاسوں پیام مسترد اور بیسوں جگہ سے رقعہ واپس۔ رشتے ناتےکی بات چیت ہو کر چھٹم چھٹا ہو جانا یا رقعہ واپس آنا کچھ آسان نہیں ہے۔ بیٹی والے اس میں اپنی ہتک سمجھتے ہیں اور ان کو یہ خیال ہوتا ہے کہ ایک جگہ کا رقعہ واپس جائے گا تو دوسروں کو خدا جانے کیا کیا خیالات پیدا ہوں گے۔ اکثر ایسے موقع پر دلوں میں رنجش آجاتی ہے۔ خیر ایک دو جگہ بمجبوری ایسا اتفاق ہو تو مضائقہ نہیں، نہ کہ مبتلاؔ کا رقعہ آج بھیجا اور ادبدا کر دس دن بعد الٹا منگوا لیا۔ جب متواتر واپسی رقعے کی نوبت پہنچی تو سارے شہر میں ایک غل سا پڑ گیا اور جہاں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ ۔۔۔ 33

جہاں سے رقعہ واپس منگوایا گیا ان کے ساتھ بیٹھے بٹھائے ایک طرح کی عداوت قائم ہوئی۔ یہاں تک نوبت پہنچی کہ جس مشاطہ سے کہتے کانوں پر ہاتھ دھرتی، جہاں رقعہ بھیجتے وہ لوگ لانے والے کے اندر آنے تک کے روادار نہ ہوتے۔ پس اس خاندان کے ناز بےجا نے مبتلاؔ کو ایسا نکو بنا دیا کہ اب کوئی اس کی بات کی ہامی نہیں بھرتا تھا۔ رقعے کا بےرد و کد واپس آنا تو ممکن نہیں۔ ایک گھر کا ہم کو حال معلوم ہے کہ وہاں پہلے مشاطہ کی معرفت زبانی بات چیت ہوئی۔ وہ لوگ ان کے کنبے دادر بلکہ کچھ دور کے رشتہ دار بھی تھے۔ مہینوں سوال و جواب ہوتے رہے۔ اکثر باتیں طے ہو کر بعض کی نسبت کچھ تکرار درپیش تھی کہ یکا یک ان کی طرف سے رقعہ جا موجود ہوا۔ بیٹی والے خوش ہوئے کہ گفت و شنید کے بعد جو رقعہ آیا تو بس اس کے یہی معنی ہیں کہ منظور کر لیا۔ چنانچہ یہی سمجھ کر رقعہ تو رکھ لیا اور جواب میں زبانی اتنا ہی کہلا بھیجا کہ ہم کو بسر و چشم منظور ہے، خدا انجام اچھا کرے۔ ان شاء اللہ دو چار دن میں صلاح کر کے کوئی اچھی سی تاریخ ٹھیرا کر کہلا بھیجیں گے۔ سمدھنیں آ کر لڑکی کا منہ میٹھا کر جائیں۔ پھر اللہ خیر کرے جب ان کی مرضی ہو گی بیاہ برات ہو رہے گا۔ ہم تو اس وقت چاہیں تو تیار ہیں، ہمارے یہاں ذرا دیر نہیں۔ جو عورت یہ پیام لے کر گئی تھی، مبتلاؔ والوں نے اسی کے ہاتھ کہلا بھیجا کہ پہلے ہماری شرطوں کے مطابق تحریری اقرار نامہ بھیج دیں تب تاریخ ٹھیرائی جائے۔ تاریخ کا ٹھیرانا ایسا کیا آسان ہے۔ یہ سن کر سب کو سخت تعجب ہوا اور اپنا سا منہ لے کر رہ گئے۔ آخر مبتلاؔ والوں کی طرف سے واپسی رقعے کا تقاضہ ہوا۔دن میں دو دو بار رقعے کے لیے آدمی جاتا اور ایسی سخت سخت باتیں کہتا کہ گویا رقعہ کیا ہے مہاجن کا قرضہ ہے۔ خیر ہار کر رقعہ واپس تو کیا مگر اس طرح کہ مارے غصے کے نکال کر موہری پر پھینک دیا کہ کم خواب کی تھیلی، جس میں رقعہ دستور کے مطابق لپٹ کر آیا تھا، تمام کیچڑ میں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ ۔۔۔ 34

لت پت ہو گئی اور کہا کہ جاؤ اس کو شہد لگا کر چاٹو اور دیکھو خبردار لڑکے کی ماں سے ضرور ضرور کہہ دینا کہ تم نے کنبے داری میں دو مہینے بات لگی رکھ کر آپ ہی رقعہ بھیجا اور پھر آپ ہی ان ہونی باتوں پر اصرار کر کے واپس منگوایا۔ یہ کچھ بھلمنساہت کی بات نہیں ہے۔ ہم نے مانا کہ ان کا بیٹا ان کے لیے چوہے کو ہلدی کی گرہ، اللہ آمین کا ہے مگر دوسروں نے بیٹیاں کوڑے پر پڑی نہیں پائیں۔ ایسی شرطوں سے، جو نہ سنیں نہ دیکھیں، ان کو شہر میں تو ان شاء اللہ بیٹی ملنے کی نہیں۔ سونے کا پلنگ ان کو مانگتے ہوئے شرم نہیں آتی۔ اس سے پہلے تین بیٹیاں بیاہ چکے ہیں اور ابھی اللہ رکھے دو اور موجود ہیں۔ بیٹیوں کو تو ڈھنگ کے نواڑی پلنگ بھی نہ جڑے، بیٹے میں ایسا کیا سرخاب کا پر لگا ہے کہ بدون سونے کے پلنگ اس کو نیند نہیں آتی۔ آئے وہ نگوڑا ہیجڑا زنخا جس کو سارا شہر تھڑی تھڑی کر رہا ہے۔ خدا نہ کرے جو کوئی بھلا مانس اس کو بیٹی دے۔ منھ پر ہاتھ پھیر کر دیکھیں ناک رہ گئی یا کٹ گئی۔ ہمارے نزدیک دنیا جہاں کے نزدیک تو جڑ بنیاد سے کٹ گئی۔ جس گھر سے رقعے کی واپسی کا مذکور ہے اس گھر کی عورتیں ایسی ملنسار تھیں کہ سارے شہر میں ان کا حصہ بخرا چلتا تھا۔ کہیں شادی بیاہ ہو، کوئی دوسری تقریب ہو، ان کے یہاں ضرور بلاوا آتا اور یہ بھی اپنے یہاں کی چھوٹی بڑی تقریبات میں سبھی کو بلاتے، سبھی کو یکساں پوچھتے تھے۔ ان عورتوں نے ضد میں آک کر مبتلاؔ کا اچھی طرح خاکہ اڑایا اور سارے شہر میں خوب ڈھنڈورا پیٹا اور رسوا کیا۔ غرض اس گھر کے بگاڑ نے رہی سہی اور بھی آس توڑ دی۔ اب شہر میں مبتلاؔ کی نسبت ناتے کا ہونا محال تھا۔ بہت قریب کے رشتہ داروں میں جس قدر بیٹیاں تھیں، مبتلاؔ تھے تو بڑے لاڈلے، دودھ پی پی کر ان سب کو رضاعی بہنیں بنا چکے تھے۔ مبتلاؔ کے نزدیک و دور کے رشتہ داروں میں وہی مثل تھی۔ ازیں سو راندہ و زاں سو درماندہ۔ اب
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ ۔۔۔ 35

صرف ایک گھر رہ گیا کہ ہو تو وہیں ہو ورنہ مبتلاؔ ساری عمر کوارا پڑا پھرے۔ مبتلاؔ کی پھوپھی دلی سے دس بارہ کوس سید نگر میں بیاہی ہوئی تھیں۔ وہ لوگ زمیندار تھے مگر زمینداروں میں سربرآوردہ، بڑے بڑے سالم چھ گاؤں کے مالک ان کے بزرگ تو مہمان داری اور مسافر نوازی اور داد و دہش میں دور دور مشہور تھے۔ مگر اب کثرت ٹپی داری کے سبب نہ ویسی آمدنی تھی نہ وہ دل۔ قرب شہر کی وجہ سے رعایا شوخ، حصہ داروں میں طرح طرح کی تکراریں۔ غرض ہمیشہ ان میں کے دو چار آدمی مقدموں کی پیروی کے لیے شہر میں موجود رہتے تھے۔ جس طرح دائم المرض اپنی دوا کرتے کرتے حکیم ہو جاتا ہے اسی طرح یہ لوگ مقدمے لڑتے لڑتے ایسے قانون داں ہو گئے تھے کہ بیرسٹروں کو مات کرتے، وکیلوں کی کچھ حقیقت نہ سمجھتے۔ ڈھونڈھ ڈھونڈھ کر لڑائیاں مول لیتے اور تلاش کر ر کے جھگڑے خریدتے۔ قرب و جواب میں یہ لوگ ایسے لڑاکو اور جھگڑالو مشہور تھے کہ لوگ ان سے رشتہ ناتا کرتے ڈرتے تھے۔ رقعہ کا پہنچنا تو بری بات تھی، اگر ان کے یہاں جھوٹوں بھی تذکرہ ہوتا اور یہ چاہتے تو سچوں سر ہو جاتے اور کچھ ایسے قانونی اڑنگے لگاتے کہ کسی کی ایک نہ چلتی۔ مگر مبتلاؔ کو کوئی دوسرا گھر نہ تھا۔ خدا نے ایسا ان کے غرور کو ڈھایا کہ کس کا پلنگ اور کہاں کا دیکھنا بھالنا۔ مبتلاؔ کی ماں گئیں اور منگنی ٹھیرا کر کان دبار کر چپکی چلی آئیں اور اگر ذرا بھی چیں چپڑ کرتیں تو فوجداری کے استغاثوں اور دیوانی کی نالشوں کے مارے ہوش بگڑ جاتے۔ اب مبتلاؔ کی منگنی کو منگنی نہ سمجھو بلکہ بیچ ڈالنا یا غلام بنا دینا یا عمر قید۔ سمدھیانے تو برابر ہی کے اچھے ہوتے ہیں۔ خیر! اٹھارہ بیس تک کے فرق کا بھی مضائقہ نہیں۔ مگر یہاں تو سید نگر والوں کی اس قدر ہیبت چھا رہی تھی کہ جیسے کسی بڑے جابر کوتوال کی۔ ادھر سے حکم ہوتے تھے ادھر سے تعمیل۔ ادھر سے فرمائش ادھر سے بجا آوری۔ ادھر سے ناز ادھر سے نیاز۔ بعد چندے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ 36

انہوں نے کہلا بھیجا کہ اگلے مہینے کی دسویں کو اس طرح ساز و سامان کے ساتھ بارات یہاں پہنچے۔ ویسا ہی ہوا۔ بیس ہزار روپے کا مہر ماننا ہو گا اور مان لیا۔ ہزار روپیہ جوڑے چڑھاوے کا نقد دینا ہو گا اور دیا۔ پچیس روپے مہینہ پٹاری کا خرچ لکھوانا چاہا اور لکھوا لیا۔ مگر بات یہ ہے کہ سید نگر والوں نے بیٹی کو دیا بھی تو اتنا کہ سونے کا پلنگ تو نہ تھا، شاید ان کے ہاں دستور نہ ہو گا، مگر گلے اور کانوں اور سر کا سارا کا سارا زیور دوہرا ملا۔ جڑاؤ الگ شادی بیاہ میں پہننے کا اور سادہ الگ ہر روز کے استعمال کا۔ غرض سید نگر والوں نے بیٹی کا بیاہ اپنے نام کے مطابق کیا۔ دلی میں اتنا جہیز ملنا مشکل تھا۔ لوگ باہر کی سوبھا اور مال و اسباب کی فہرست دیکھ کر پانچ ساڑھے پانچ ہزار کا جہیز آنکتے تھے، اوپر کا خرچ الگ۔ سو گھر کا دھڑ یوں گھو اور منوں غلہ۔ زمینداروں کے یہاں اس کا حساب کیا۔ انیسویں برس مبتلاؔ کا بیاہ ہوا۔ جہیز کے اعتبار سے تو دلہن بہت اچھی پائی۔ ذات جماعت کچھ پوچھنی نہ تھی۔ سگی پھوپھی کی بیٹی۔ رہی صورت کوئی خاص چیز تو چنداں بری نہ تھی بلکہ الگ الگ دیکھو تو رنگ بھی گورا نہیں تو کھلتا ہوا، چنپئی آنکھ، ناک، دہانہ، ماتھا، مانگ، کسی میں کوئی خاص عیب نہ تھا۔ ہاں چہرے کی مجموعی بناوٹ میں خدا جانے کیا بات تھی، نزاکت اور جسم میں جامہ زیبی نہ تھی۔ ہزار بیبیوں میں بیٹھی ہو تو صاف پہچان پڑتی ہے کہ باہر کی ہے اور سچ تو یہ ہے کہ مبتلاؔ کے پہلو میں رہی سہی اور بھی بےرونق معلوم ہوتی تھی۔ جن دنوں مبتلاؔ کا بیاہ ہوا وہ اپنے آپے میں نہ تھا۔ نشۂ شباب میں سرشار اور بدمست، سیر تماشوں میں منہمک۔ وہ اپنے بیاہ برات کی خبر سن کر خوش ہوتا تھا مگر صرف اس لیے کہ ناچ دیکھنے میں آئیں گے۔ شادی کی تیاری دیکھ کر مسرت ظاہر کرتا تھا مگر فقط اس غرض سے کہ گانا سنیں گے۔ وہ اگر سمجھ کو کام میں لاتا تو اس کی سمجھ رسا تھی اور جان سکتا تھا کہ بیاہ کیا چیز ہے اور بیاہ سے کس طرح کی ذمہ داریاں عائد

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ ۔۔۔ 37

ہوتی ہیں۔ مگر وہ دنیا کے کام میں مطلق غور کرتا ہی نہ تھا۔ اس نے ایک لمحے کے لیے بھی بیاہ کے انجام کو نہ سوچا۔ اس نے نکاح کے وقت قَبِلتُ 1 کہا گویا کہ کھیل ہے۔ اقرار نامہ پر دستخط کیے یعنی ہنسی ہے۔ اس کو بی بی کی طرف ملتفت ہونا چاہیے تھا اور ملتفت ہونے کی اس کی عمر بھی تھی مگر اس کی آنکھیں ڈھونڈتی تھیں ناز و کرشمہ، غمزہ و ادا، مٹک چٹک، وہ شریف زادیوں میں کہاں اور خصوصاً دیہات کی شریف زادیوں میں۔ بس اس نے بی بی کو دیکھا ناپسندیدگی سے، استکراہ سے اور ناخوشی سے۔ اور بی بی کے ساتھ اس کی لشٹم پشٹم گزرتی گئی اور آپس میں ویسی محبت و موانست پیدا نہ ہوئی جیسے نئے بیاہے ہوئے دولہا دولہن میں ہونی چاہیے۔ اور عموماً نہیں تو اکثر ہوا بھی کرتی ہے۔ علاوہ اس کے مبتلاؔ کو ابھی اپنی ہی پرداخت سے فرصت نہ تھی۔ سو دلہنوں کی ایک دلہن تو وہ آپ بنا تھا۔ بناؤ سنگھار میں ہر دم مصروف، زیب و زینت میں ہر لمحہ مشغول۔ وہ خود اپنی حسنِ صورت پر اس قدر فریفتہ تھا کہ آئینہ دیکھنے سے کبھی اس کو سیری ہی نہیں ہوتی تھی۔ اس کو یہاں تک خبط نے گھیر رکھا تھا کہ راستہ چلتا تو مڑ مڑ کر اپنے سائے کو دیکھتا جاتا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1 ۔ میں نے قبول کیا۔ نکاح کے وقت ایجاب و قبول اسی طرح ہوتا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ ۔۔۔ 38

پانچویں فصل

مبتلاؔ کی مصیبتوں کا آغاز اور اس کی بدکرداریاں

بیاہ تک مبتلاؔ کی زندگی نہایت ہی بےفکری سے گزری۔ اس نے چودہ برس کی عمر تک گھر میں ایسے عیش و آرام کے ساتھ پرورش پائی کہ کم تر کسی کو نصیب ہوتا ہے۔ مدرسے میں اس کے یار دوستوں نے ماں باپ سے بڑھ کر اس کی ناز برداریاں کیں۔ مگر اب اس کے عیش کی مدت آرام کی مہلت پوری ہو چکی تھی۔ اور یہی حال ہے دنیاں کی تمام حالتوں کا کہ راحت ہے تو ایک وقتِ خاس تک اور مصیبت ہے تو وہ بھی ایک میعادِ مقررہ تک۔ نہ اس کو ثبات ہے اور نہ اس کو قیام۔ وہ عارضی اور یہ چند روزہ۔ جن کو خدا نے عقلِ سلیم دی ہے وہ ہر حالت کو اسی طور پر انگیز کرتے ہیں کہ ان کے زائل ہونے پر ان کو ملال نہ ہو، تاسف نہ کرنا پڑے۔ اتنا نہیں کھاتے کہ تخمہ ہو۔ ایسے دوڑ کر نہیں چلتے کہ ٹھوکر لگے۔ عادتوں کو طبیعت نہیں ہونے دیتے اور امورِ اتفاقی کو ضروری نہیں سمجھ لیتے۔ لیاقت یا ہنر یا صفت یا جوہر یا خوبی یا مابہ الامتیاز 1 یا سرمایۂ فخر و ناز یا ذریعۂ تعریف یا وسیلۂ تقریب جو کچھ سمجھا۔ مبتلاؔ کے پاس ایک حسنِ صورت تھا اور بس۔ یہی ایک چیز تھی جس کی وجہ سے وہ ہر دل عزیز تھا۔ یہی عمل تھا، یہی تسخیر تھی، یہی کیما تھا اور یہی اکسیر تھی۔ مسیں تو اس کی سترھویں برس بھیگنے لگیں تھیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1 ۔ یعنی جس کی وجہ سے اس کو ہم چشموں میں امتیاز ہو۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ ۔۔۔ 39

اٹھارھوریں صدی میں تو اس کی اچھی خاصی ڈاڑھی نکل آئی۔ شعر
گیا حسن خوبانِ دل خواہ کا
ہمیشہ رہے نام اللہ کا
اور ڈاڑھی بھی نکلی تو اس کثرت سے کہ ماتھا اور ناک اور آنکھوں کی جگہ چھوڑ کر کہیں تل دھرنے کو جگہ باقی نہ رہی۔ جب ڈاڑھی نکلنے کو ہوئی، اگر مبتلاؔ اس کو اس کے طور پر نکلنے دیتا تو برس سوا برس وہ اور بھی حسینوں کے زمرے میں گنا جاتا اور سبزۂ خط اس کی گوری رنگت پر خوب کھلتا مگر اس نے غلطی یہ کی کہ روئیں نمودار ہوتے ہی استرا پھروا دیا۔ استرے کا پھروانا تھا کہ پھد پھدا کر ایک کی جگہ دس روئیں اور روؤں کی جگہ کالے کرخت بال نکل پڑے اور چہرے کی جلد پر جو ماءالشباب 1 کا ایک قدرتی روغن تھا وہ بھی گیا گزرا ہوا۔ اور اب روکھی کھال رہ گئی اور اس پر ہزار ہا بال۔ یہ پہلی مصیبت تھی جو مبتلاؔ پر نازل ہوئی اور اس نے اس پہلی کیفیت کے اس قدر جلد زائل ہو جانے کا سخت رنج کیا اور جب اس کے ان دنوں کے خیالات پر نظر کی جاتی ہے تو اس کا رنج حق بجانب بھی تھا۔ رفتہ رفتہ زوالِ حسن کا اثر اس کی حالت پر مترتب ہونے لگا۔ جو لوگ اس کی ملاقات کے مشتاق رہتے تھے، نفرت اور جودرپۓ گریز کرنے لگے
یار اغیار ہو گئے اللہ
کیا زمانے کا انقلاب ہوا
گرم صحبتوں کی جگہ صاحب سلامت رہ گئی وہ بھی دور کی۔ اختلاط کے عوض راہ گزر کی مٹ بھیڑ وہ بھی اتفاقی۔ اس کی طرزِ زیست نے ادعائی ضرورتوں کو اور ادعائی ضرورتوں نے خرچ کو اتنا بڑھا دیا تھا کہ مدرسے کا وظیفہ اور اس کا چہار چند اور اس کو بمشکل وفا کرتا۔ اب ادھر تو اس کے اعوان و انصار دست کش ہوئے ادھر جو گھر سے مدد ملتی تھی اس میں بی بی نے حصہ بٹانا شروع کیا۔ ضرورتیں اگر جائز اور واجبی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1 ۔ جوانی کی آب

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ ۔۔۔ 40

ہوتیں، گھر سے مدد ملتی۔ مگر حاجتیں ناجائز، اغراض بےہودہ۔ گویم مشکل وگرنہ گویم مشکل۔ جی للچاتا اور ناچار ضبط کرتا۔ طبیعت بھربھراتی اور بمجبوری پتے کو مارتا۔ انگریزی کی کہاوت ہے کہ مصیبتیں ایک ایک کر کے نہیں آتیں۔ یعنی جب آنے کو ہوتی ہیں تو بس ایک تار بندھ جاتا ہے۔ مبتلاؔ کے بیاہ کے بعد سے تو گویا اس کہاوت کے سچا کرنے کو موتیں کچھ ایسی تابڑ توڑ ہوئیں کہ پانچ برس کے اندر ہی جتنے بزرگ تھے، کیا مرد، کیا عورت، ایک کے بعد ایک سبھی تو رخصت ہوئے۔ بہنیں بیاہی جا کر اپنے اپنے گھروں میں آباد تھیں۔ بس اب تنِ تنہا مبتلاؔ رہ گیا اور ایک بی بی کہ وہ بھی اس کی بے التفاتی کی وجہ سے پہلے تو اکثر میکے میں رہتی تھی، چوتھے پانچویں مہینے مہمان داخل سسرال آ گئی تو آ گئی۔ اب کوئی برس دن ہوا تھا کہ ماں اور باپ دونوں کے مر جانے سے بھائیوں نے ترکے سے محروم کرنے کے لیے بلانا چلانا مطلقاً موقوف کر دیا تھا اور بمجبوری نہایت کس مپرسی کی حالت میں مبتلاؔ کے یہاں ڈھئی دیے پڑی تھی۔ مبتلاؔ پر مصیبتوں کا ایسا پہاڑ ٹوٹا تھا کہ اگر وہ ذرا بھی عقل سلیم رکھتا ہوتا تو ساری عمر اس تازیانے کو نہ بھولتا۔ مگر اس کے دل پر تو مہر لگی ہوئی تھی اور آنکھوں پر پردہ پڑا ہوا تھا۔ کیسی عبرت اور کس کا ڈرنا۔ مطلق العنان ہوتے ہی لگا دُلکی دوڑنے، پویہ بھاگنے۔ یہاں تک کہ جن حرکتوں کو پہلے چراتا چھپاتا تھا اب کھلے خزانے ان کے کرنے میں ذرا بھی نہ شرماتا۔ باپ کے مرتے ہی میدان خالی پا کر تعزیت کے حیلے اور غم گساری کے بہانے سے دوست آشناؤں نے پھر اس کو آ گھیرا اور پھر وہی اپنی قدیم پٹی اس کو پڑھا چلے۔ چہلم بھی نہیں ہونے پایا تھا کہ جلسے شروع ہو گئے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 

شمشاد

لائبریرین
فسانہ مبتلا ریختہ صفحہ 107

چودھویں فصل

مبتلاؔ پر میر متقیؔ کے وعظ کا کہاں تک اثر ہوا؟

مبتلاؔ کو جب چچا نے پکڑ کر نصیحت کی سننے کے لیے بٹھایا تھا تو خواہ مخواہ اس کی طبیعت میں ایک ضد سے آ گئی تھی۔ تاہم تھوڑی دیر ادب کی وجہ سے دم نہ مار سکا۔ اور پھر تو میر متقیؔ کی باتوں پر ایسا ریجھا کہ آنکھیں اور مُنہ دونوں کے دونوں کھلے رہ گئے۔ اور جب تک میر متقیؔ نے بات کو ختم نہیں کیا، مبتلاؔ کو کوکئی دیکھتا تو کیا معلوم ہوتا کہ بس حیرت کا ایک پُتلا ہے! چچا کے پاس سے چلے جانے کے بعد بھی کئی دن تک وہ مبہوت سا رہا۔ اُس کا دل تو مان گیا تھا کہ چچا نے جو کچھ کہا ٹھیک کہا، مگر جس بات کی آن پڑ گئی تھی، اس کو بدلتے ہوئے اس کا جی ہچکچاتا تھا۔ آوارگی اس کی طبیعت میں یہاں تک سما رہی تھی کہ ترکِ وضع کرتے ہوئے اُس کو عار ہوتی تھی۔ وہ سوچتا تھا کہ چچا کے کہنے پو چلو تو دوست آشنا، کھانا پہننا، سیر تماشا، تفریح، تمامی مشاغل سب کو ایک دم سے چھوڑ دوں یتعنی ترکِ دنیا کروں تو پھر جیوں کیوں کر؟ اور فرض کیا کہ جبراً قہراً میں نے ترکِ دنیا کیا بھی تو لوگ مجھ کو کیا کہیں گے؟ آخر پرہیز گار بنوں تو پورا بنوں جیسے چچا۔ زربطت کی ٹوپی، خلافِ ثقافت تو اب میں پہننے سے رہا، ناچار شملہ، دوپٹہ، عمامہ باندھنا پڑے گا اور اس کی زد میں بالوں کی جیسی گت بنے گی ظاہر۔ تو ضرور ہوا کہ سب سے پہلے سر منڈاؤں، منڈے سر پر یہ خشخاشی داڑھی اور چڑھی ہوئی مونچھیں کیا بھلی لگیں گی؟ تو لازم آیا کہ داڑھی

فسانہ مبتلا ریختہ صفحہ 108

چھوڑوں اور مونچھوں کو سیدھا کروں، پھر ایسی مقطع صورت پر گلے میں کُرتہ نہ ہو تو خیر نیچی چولی کا انگرکھا اور ٹانگوں میں ایک بر کا گھٹنا، اس وجہ کیا مُنہ لے کر بازار میں نکلوں گا؟ ساری عمر کبھی مسجد میں جانے کا اتفاق نہیں ہوا، اب جو ایک دم سے جا کھڑا ہوں اور جن میں جا کر ملتا ہوں، سبھی انگشت نما ہونا پڑے گا۔مبتلاؔ اسی پس و پیش میں تھا کہ میر متقیؔ ایک دن اس کو وضو کرا، کپڑے بدلوا، اپنے ساتھ جمعہ کی نماز میں لے گئے۔ اور اس کے بعد سے، جب تک رہے، جب نماز کو جاتے مبتلاؔ کو گھر سے ساتھ لے کر نکلتے۔ غرض مبتلاؔ کی وہ جھجک تو جاتی رہی، اور اس کی وضع میں بھی رفتہ رفتہ اصلاح آتی چلی۔ اگر میر متقیؔ کا دو تین مہینے بھی اور رہنا ہو جاتا تو مبتلاؔ کے درست ہو جانے میں کوئی کسر نہ تھی۔ ابھی میر متقیؔ نے کیا ہی کیا تھا؟ مبتلاؔ کو صرف ایک وعظ سنایا، صرف اتنی غرض سے کہ اس کی غفلت کو تازیانہ ہو۔ دیندار بھلا مانس بنتے ہوئے وہ جھیپتا تھا۔ اس کی شرمندگی مٹا دی۔ اگر زیادہ رہنے کا اتفاق ہوتا، تو خدا جانے کتنے وعظ اور کہتے، اور کیا کیا اس کو سکھاتے، سمجھاتے۔ وہ تو اچھی طرح جانتے تھےکہ برسوں کے جمے ہوئے زنگ ہیں یہ کیا ایک رگڑ سے چھوٹنے والے ہیں؟ حُسن پرستی کا وہ بڑا سخت عیب بھی جو گویا مبتلاؔ کی گھٹی میں داخل تھا، میر متقیؔ موقع پر کا اس کا علاج کرتے پر کرتے، مگر مبتلاؔ کو تو اپنے اعمال کی شامت بھگتنی تھی۔

فسانہ مبتلا ریختہ صفحہ 109

پندھویں فصل

میر متقیؔ کا دفعتاً بے وقت رام پور روانہ ہونا اور مبتلاؔ کو سید حاضرؔ اور عارفؔ کے سپرد کر جانا

میر متقیؔ نے مبتلاؔ کی اصلاح پر توجہ شروع کی تھی کہ اتنے میں چپکے چپکے اس گمنام عرضی کی تحقیقات ہونے لگی جو ناظرؔ کی شرارت سے میر متقیؔ کی شکایت میں گورنر کے پاس پہنچی تھی۔ اور تو کچھ حال نہ کُھلا، مگر خلافِ عادت پولیس کے لوگ وقت بے وقت کوئی وعظ سننے کے بہانے سے، کوئی نماز کے حیلے سے آمد و رفت کرنےلگے۔ ان میں جو زیادہ ہوشیار تھے بُتے دے دے کر ٹیڑھے ٹیڑھے، مسئلے پوچھتے تھے۔ مثلاً یہ کہ کیوں حضرت ہندوستان آپ کےنزدیک دار الحرب ہے یا نہیں؟ انگریزوں سے اور ہنود سے سود لینا روا ہے یا نہیں؟ انگریز اگر کابُل ہر پڑھائی کریں اور ایک پلٹن کو امیر کے مقابلے میں لڑنے کا حکم دیں اور ایک مسلمان اُس پلٹن میں پہلے سے نوکر ہو تو اس کو کیا کرنا چاہیے۔ مہدی جنہوں نے مصر میں خروج کیا ہے، مہدی موعود ہیں یا نہیں اور ان کو مدد دینا از روئے شرع شریف کیا حکم رکھتا ہے؟ انگریزی دواؤں کا استعمال درست ہے یا نہیں؟ کچہری سے برابر سود کی ڈگریاں ہوتی ہیں، اس سود کا دینا گناہ ہے یا نہیں؟ انگریزوں کے ساتھ کھانا اور لباس اور طرزِ تمدن میں اُن کے ساتھ تشبۃُ

فسانہ مبتلا ریختہ صفحہ 110

کیا حکم رکھتا ہے؟ میر متقیؔ جہاں دیدہ آدمی تھے، ان باتوں کو دیکھ کر اُن کےکان کھڑے ہوئے اور سمجھے کہ ضرور دال میں کچھ کالا ہے۔ کوتوال شہر سے معرفت اور دور کی صاحب سلامت تو تھی، ایک دن جمعہ کی نماز کو جاتے ہوئے راہ میں کوتوال سے آمنا سامنا ہو گیا۔ میر صاحب نے کہا مجھ کو آپ سے کچھ کہنا ہے، وقت فرصت معلوم ہو تو میں آپ سے ملنا چاہتا ہوں؟ کوتوال نے کہا آج بعد نمازِ مغرب میں خود آپ کی خدمت میں حاضرہوں گا۔ غرض کوتوال کے ساتھ تخلیہ ہوا تو میر صاحب نے فرمایا "کیوں کوتوال صاحب، یہ ماجرا کیا ہے کہ چند روز سے پولیس کے لوگ میری نگرانی کرنے لگے ہیں۔میں دیکھتا ہوں کہ جتنی دیر میں باہر رہتا ہوں پولیس کا ایک نہ ایک آدمی ضرور موجود ہوتا ہے۔ مسئلے پوچھتے ہیں تو پیچ دار، باتیں کرتے ہیں تو اُکھڑی ہوئی،میں دھوپ میں داڑھی سفید نہیں کی۔ یہ لوگ مجھ سے چھپاتے ہیں اور میں سب سمجھتا ہوں، مجھ سے پردہ کرتے ہیں اور میں ان کے تیور پہچانتا ہوں۔ آپ کو معلوم ہے کہ میں یہاں کا رہنے والا ہوں۔ سات برس بعد سفرِ حجاز سے واپس آیا ہوں۔ رام پور جانا چاہتا تھا۔ میں نے کہا لاؤ لگے ہاتھوں بائی سے ملتا جاؤں۔ یہاں پہنچ کر معلوم ہوا کہ بھائی کا انتقال ہو چکا ہے۔ اُن کے معاملاتِ خانہ داری کو دیکھا، سب کے سب ابتر، ناچار ٹھہرنا پڑا۔ اکثر معاملات خدا کے فضل سے درست ہو گئے ہیں، بعض باتیں باقی ہیں؛ اگر میرے حال سے تعرض نہ بھی کیا جائے، تاہم تین چار مہینے سے زیادہ مجھ کو ٹھہرنا منظور نہیں اور ٹھہر سکتا بھی نہیں، لیکن اس نظر بندکی کی حالت میں تو میں ایک دن نہیں رہ سکتا۔ بے اطمینانی کی وجہ سے وہ مطلب بھی فوت ہوتا ہے جس کی وجہ سے میں ٹھہرا ہوں۔ میری سمجھ میں نہیں آتا کہ میں نے سرکار کا ایسا کون سا قصور کیا ہے۔ درس میں نہیں دیتا کہ میرے ساتھ طالب علموں کا ہجوم ہو؛ صاحبِ سلسلہ میں نہیں کہ مُریدوں کا گروہ میرے پاس جمع رہے۔ خطا یا قصور اگر ہے تو یہی کہ جو کوئی اللہ کا بندہ پاس آ بیٹھتا ہے تو نصیحت کی دو چار باتیں اُس سے کہہ دیتا ہوں، اور یہ کام ایسا ہے کہ دنیا

فسانہ مبتلا ریختہ صفحہ 111

کی حکومت کیسی ہی قاہرہ کیوں نہ ہو، مجھ کو اس سے باز نہیں رکھ سکتی۔ نصیحت تو لوگوں کو میں نے کی ہے اور کرتا ہوں اور آیندی بھی جہاں رہوں گا کروں گا اور ضرور کروں گا۔ اگر یہ بغاوت ہے تو میں پکارے کہتا ہوں کہ میں باغی۔ سرکار کو اختیار ہے مجھے قید کرے، مگر ان شاء اللہ وہاں بھی قیدیوں کو نصیحت کرتا رہوں گا۔ سرکارِ شہنشاہ زبردست اور میں اُس کی ایک ادنیٰ رعیت، میرے واسطے ایسی کاروائی کی کیا ضرورت ہے۔ اگر کچھ اشتباہ پیدا ہوا ہے تو مجھ علیٰ رؤس الشہاد طلب کرے۔ میں جواد دہی کو اور اگر قصور ثابت ہوا تو سزا کو حاضر ہوں، مگر ابنائے جنس کی نظر میں ناحق نکو بنانا، مشتبہ ٹھہرانا شیوۂ انصاف سے بہت بعید ہے۔ کوتوال یہ سب باتیں چپ بیٹھا ہوا سنتا رہا اور آخر بولا تو یہ بولا کہ مین اِرادت مندانہ اتنا ہی کہہ سکتا ہوں کہ جب حضرت کا ارادہ تین چر مہینے بعد خود رام پور روانہ ہونے کا ہے، اگر ابھی قصد فرمائیے تو مناسب ہے۔ یہاں کا اگر کوئی کام ہو مجھ کو سپرد کر جائیے۔ ان شاء اللہ اس کا سرانجام خاطر خواہ میرے ذمے۔ میر متقیؔ نے سمجھا کہ اب ٹھہرنا مصلحت نہیں اور زیادہ کاوش کرنے سے بھی کچھ حاصل نہیں۔ فوراً سفر رام پور کا ارادہ کر دیا۔ غیرتؔ بیگم باپ کے مرنے پر تو کیا روئی تھی جیسا کہ چچا کے جانے کا اُس نے ماتم کیا۔ مُبتلاؔ کے خیالات میں بھی تھوڑے ہی دنوں میں اتنا فرق پڑ گیا تھا کہ اُس کو بھی یکایک چچا کے چلے جانے کا رنج ہوا۔ میرمتقیؔ نے ہر ایک کو اس کی جگہ تسلی دی۔ چلتے چلتے مُبتلاؔ سے اتنا کہہ گئے کہ سید حاضرؔ کے خیالات بہت راستے پر آگئے ہیں، اگر تم ان سے مشورہ لو گے تو اُمید ہے کہ نیک صلاح کے دینے میں دریغ نہیں کریں گے۔ یا میاں عارفؔ جن کو تم میرے پاس اکثر دیکھتے تھے، تمہارے مدرسے ہی کے طالب العلم ہیں، بڑے اچھے دل کا لڑکا ہے۔ ہے تو تمہارا ہم عمر، مگر استعداد اور معلومات کے اعتبار سے پورا مولوی ہے۔ بڑی خوبی اُس میں یہ ہے کہ اُس کے خیالات حکیمانہ اور شگفتہ ہیں۔ میں نے اُس سے بھی بتاکید کہدیا ہے اور وہ خود ہفتے میں ایک دو بار تمہارے پاس آیا کریں گے۔ تم بھی اُس سے ربط بڑھا لینا۔ اُس سے تک کو سب طرح کی مدد ملے گی۔

فسانہ مبتلا ریختہ صفحہ 112

سولہویں فصل

میر متقیؔ کے چلے جانے کے مبتلاؔ کس رنگ میں رہا

مبتلاؔ کی تو اُس وقت بعینہ ایسی مثال ہو گئی کہ ایک مریض مرض مہلک میں گرفتار، ایک طبیب حاذق نے اس کا علاج شروع کیا۔ ارادہ تھا کہ منفج ہوں منفجوں کے بعد مسہل، مسہلوں کے بعد تبرید؛ پھر معجونات کا استعمال کرایا جائے۔ ابھی منفج بھی پورے نہ ہونے پائے تھے کہ طبیب صاحب تشریف لے گئے۔ سید حاضرؔ اگرچہ اُس کا پھوپھی زاد بھائی تھا، مگر رشتہ داری کے جھگڑوں کے سبب ایک دوسرے کے ساتھ انس نہ تھا۔ رہ گئے میاں عارفؔ، مولوی تھے، حکیم تھے، شگفتہ خیال تھے، سب کچھ تھے، مگر مبتلاؔ چچا تو نہ تھے۔ مبتلاؔ کو اُن کا کیا لحاظ اور اُن کو مبتلاؔ کا کیا درد؟ پھر بھی بچارے نے، خدا اُن کو جزائے خیر دے، میر متقیؔ کے کہنے پر اتنا تو کیا کہ پیر کے پیر، جمعے کے جمعے مبتلاؔ کے پاس آتے اور گھنٹے دو گھنٹے بیٹھ کر چلے جاتے۔ اسی طرح مبتلاؔ بُدھ کے بُدھ اور اتوار کے اتوار عارفؔ کے گھر جاتا اور یوں ایک دن بیچ دونوں کی ملاقات کا سلسلہ بندھ گیا۔ اس سے اتنا تو ہوا کہ مبتلاؔ کے پرانے یار دوستوں کو اُس پر احاطہ کرنے کا موقع نہ ملا اور جس ڈھرے پر چچا نے اس کو لگا دیا تھا اُس پر تھوڑا چلا، سُست چلا، بدیر چلا، مگر چلا۔ دین داری میں اگر سچ پوچھو تو مبتلاؔ نے ترقی نہیں کی، مگر اُس کا اتنا سنبھلا رہنا بھی غنیمت ہوا کہ پھر اُس نے آوارگی نہیں کی۔ وہ نماز بھی بڑھ لیتا تھا، مگر گنڈے دار۔

فسانہ مبتلا ریختہ صفحہ 113

اب دین کی باتوں کا اگر اہتمام نہیں کرتا تھا تو پہلے طرح اُن پر ہنستا بھی نہ تھا۔ اُس کی ظاہری وضع میں بھی اگلی سی سخافت باقی نہ تھی۔ جب سے باپ مرے اُس نے گھر میں سونا بالکل چھوڑ دیا تھا، چچا کے آنے سے وہ پھر گھر میں سونے لگا تو اُن کے چلےجانے کے بعد وہی معمول رکھا۔ غرض مبتلاؔ دین دار نہیں تو ایک خانہ دار بھلا آدمی بن گیا تھا جیسے اکثر لوگ ہوتے ہیں، مگر حُسن پرستی کی ہُڑک ہر روز دو ایک بار اُس کو اُبھارتی رہتی تھی۔

فسانہ مبتلا ریختہ صفحہ 114

سترھویں فصل

حُسنِ صورت پر مبتلاؔ اور عارؔ ف کا مباحثہ

ایک دان ایسا اتفاق ہوا کہ عارفؔ کے آنے کا وقت تھا اور مبتلاؔ بیٹھا ہو اُن ہی کی راہ دیکھ رہا تھا۔ بیٹھے بیٹھے اُسی حسن پرستی کے خیال میں ایسا محو ہوا کہ عارفؔ سر پر آ کھڑے ہوئے اور اس نے عادت کے مطابق نہ تو اُن کا استقبال کیا اور نہ کھڑے ہو کر اُن کو تعظیم دی۔ جب عارفؔ نے جھک کر السلام علیکم کہا تب سٹ پٹا کر کھڑا ہونے لگا، مگر عارؔ بیٹھ چکے تھے۔ اُنہوں نے ہاتھ پکڑ کر اپنے برابر بٹھا لیا اور پوچھا کہ خیر ہے، آج کس خیال میں مستغرق تھے؟ مبتلاؔ نے ٹالنا چاہا، عارفؔ نے اصرار کیا "نہیں کوئی بات تو ضرور ہے جس کو تم اس قدر غور کے ساتھ سوچ رہے تھے؟" مبتلاؔ : "غور کے بار میں تو چچا نے مجھ پر بڑی سخت تاکید کی ہے۔ؔ" عارؔف : "بلا شبہ ان کا فرمانا درست ہے۔ غور کے معنی کیا ہیں، عقل سے کام لینا اور انسان جے اگر عقل ہی سے کام نہ لیا تو اُس میں اور دوسرے حیوانات میں کوئی مابہ الامتیاز نہیں، مگر پوچھنے سے میری غرض یہ تھی کہ اگر وہ بات مجھ پر ظاہر ہو تو جہاں تک مجھ سے ممکن ہو تمہاری مدد کروں۔ تمہارے چچا نے، جن کو میں اپنے والد کی جگہ سمجھتا ہوں، تم سے غور کرنےکو کہا اور مجھ سے تمہارے مدد کرنےکو۔ پس اگر تم اُن کے کہنے کے مطابق غور کرتے ہو تو اُن ہی کے ارشاد کے موافق مجھ سے مدد بھی لو۔" مبتلاؔ : "جس بات کو میں سوچ رہا تھا، اکثر سوچا کرتا ہوں، مگر ابھی تک کچھ

فسانہ مبتلا ریختہ صفحہ 115

سمجھ میں نہیں آیا، تاہم اتنا تو جانتا ہوں کہ آپ سے اُس میں کچھ مدد ملنے کی توقع نہیں۔" عارفؔ : جب تک تم اُس بات کو مجھ سے بیان نہ کر لو اور میں جواب نہ دے دوں کہ میں کچھ نہیں کر سکتا، اُس وقت تک تم کو میری مدد سے ناامید ہونے کا کوئی محل نہیں۔" مبتلاؔ : اچھا تو آپ مدد کرنے کا وعدہ کرتے ہیں؟" عارفؔ : اھی تم سے کیا وعدہ کروں گا، میں تو وعدہ کر چکا ہوں جناب میر متقیؔ ؔصاحب سے۔" مبتلاؔ : " اُس خاص بات کا اُس وقت تک کچھ مذکور نہ تھا۔" عارفؔ : " مجھ سے جناب میر صاحب نے کسی بات کا مذکور نہیں کیا۔ عام طور پر تمہارے مدد کرنے کو فرمایا اور میں نے اُس کو تسلیم کیا؛ اس سے بڑھ کر اور وعدہ کیا ہو گا؟" مبتلاؔ : "آپ کو میرے خانہ داری کے حالات معلوم ہیں؟" عارفؔ : جس قدر حالات جناب میر صاحب کو معلوم تھے مجھ کو بھی معلوم ہیں۔" مبتلاؔ : بھلا چچا باوا نے آپ سے میری خانہ داری کے بارے میں کبھی کچھ کہا تھا؟" عارفؔ : "اکؑر اس بات کا سخت افسوس کیا کرتے تھے کہ بی بی کے ساتھ تمہارا معاملہ درست نہیں۔" مبتلاؔ "نادرستیٔ معاملہ سے اُن کی کیا مراد تھی؟" عارفؔ " مراد یہ تھی کہ تم کو بی بی کے ساتھ اُنس نہیں، محبت نہیں۔" مبتلاؔ : "بھلا اس کا کچھ سبب بھی انہوں نے بیان کیا تھا؟" عارفؔ : "ہاں یہ فرماتے تھے کہ تمہارے مزاج میں آوارگی ہے، حُسن پرستی کے مزے پڑے ہوئے ہیں، دل میں یہ خبط سما رہ اہے کہ میں حسین ہوں، بی بی نظروں میں بھرتی نہیں۔" مبتلاؔ : " کیا چچا باوا اس بارے میں بھی کچھ کرنے کو تھے؟" عارفؔ : " بے شک، فرماتے تھے کہ مطالب کو تو میں نے اپنے ذہن میں ترتیب دے لیا ہے، اب موقع کی تاک میں ہوں۔" مبتلاؔ : "شاید اُن کا ارادہ تھا کہ اس پر بھی کوئی وعظ کہیں، مگر بھلا ہوا کہ اس کی نوبت نہ آئی، ورنہ چار و ناچار مجھ کو مخالفت کرنی پڑتی۔" عارفؔ : " کچھ تم نے پہلے وعظ کی مخالفت کی ہو گی کہ اس کی کرتے۔" مبتلاؔ "پہلے وعظ میں چچا باوا نے کسی بات میں واقعات کی مخالفت نہیں کی، اس سے میں نے اُن کی مخالفت نہیں کی، مگر میری سمجھ میں نہیں آتا کہ خوب صورتی کے بار میں وہ کہتے تو کیا کہتے۔" عارفؔ " میں نہیں کہہ سکتا کہ

فسانہ مبتلا ریختہ صفحہ 116

کیا کہتے، مگر اتنا انہوں نے ضرور کہا تھا کہ جس قدر اُس کو حسن کے ساتھ فریفتگی ہے ان شاء اللہ اُسی قدر نفرت کرنے لگے تو سہی۔" مبتلاؔ (چونک کر) "میں اور حسن سے نفرت! تو یوں کہیے کہ میرے سر سے دماغ کو اور دماغ سے عقل کو اور عقل سے سلامت کو سب کو سلب کر لینے کی فکر میں تھے۔ بھلا آپ چچا باسا کے اس ارادے کے نسبت کیا خیال کرتے ہیں؟" عارفؔ "مین تو جناب میر صاحب کی شان کو اس سے بہت ارفع سمجھتا ہوں کہ غلط بات ان کے منہ سے نکلے یا اُن کےکلام میں مبالغہ ہو۔ اُس کو خدا نے علم کی، دین داری کی، خلوص کی، خیر خواہیٔ خلائق کی، گویائی کی بہت سے قوتیں دی ہیں۔میرا عقیدہ تو یہ ہے کہ اُنہوں نے چھٹانک بھر کو کہا تومن بھر کر دکھاتے، مگر افسوس ہے کہ یکایک ان کا چلنا ٹھہر گیا۔" مبتلاؔ "آپ بھی اُن کے شاگردِ رشید ہیں۔ حُسن سے نفرت نہیں تو خیر اتنا ہی کیجیے کہ کسی طرح میری یہ سورش تو فرو ہو کہ مجھے اس تصور میں نہ رات کو نیند ہے نہ دن کو قرار ہے۔ یہ کیا بلا میرے سر پر سوار ہے!" عارگؔ "کبھی تم نے اس بات پر غور کیا ہے کہ حُس کیا چیز ہے اور لوگوں کو اس قدر فریفتگی حُسن کے ساتھ کیوں ہے؟" مبتلاؔ "یہ تو کوئی غور کرنے کی بات نہیں ہے۔ مرد، عورت، بوڑھا، جوان، شہری، دیہاتی، خواندہ ناخواندہ، ہر شخص جانتا اور سمجھتا ہے کہ خوبصورتی اس کو کہتے ہیں۔ تفصیل پوچھیے تو تمام شاعروں نے معشوقوں کے سراپا لکھے ہیں۔ آپ کی نظر سے بھی تو ضرور گزرے ہوں گے۔ رندؔ لکھنوی کا سراپا "مرقع خوبی" میرے نزدیک سب سے بہتر ہے۔ اس سراپا میں کئی باتیں خاص ہیں۔ اول تو سر سے لے کر ناخنِ پا تک کسی عضو کو نہیں چھوڑا۔ دوسرے مردوں کا سراپا الگ ہے اور عورتوں کا الگ۔ تیسرے اعضا کی ساخت کے علاوہ اُن کی حرکات کی خوبیاں بھی بیان کی ہیں۔ چوتھے، حُسنِ خلقی اور حُسنِ مصنوعی کا تفرقہ بڑے عمدہ طور پر دکھایا ہے۔ غرض جو کچھ شعرا کے سراپاؤں میں ہے، وہی حسن ہے، اور یہ جو آپ نے پوچھا کہ لوگوں کو اس قدر فریفتگی حُسن کے ساتھ کیوں ہے، تو یہ میرے نزدیک انسان کی طبیعت کا

فسانہ مبتلا ریختہ صفحہ 117

خاصا ہے اور اس کے واسطے سوائے اس کے کہ آدمی کی طبیعت ہی خلقتہً حُسن کی طرف راغب واقع ہوئی ہے اور کوئی وجہ درکار نہیں۔ آپ کا یہ سوال بجنسہ اسی طرح کا ہے جیسے کوئی پوچھے کُہرپا گھاس کو اور مقناطیس لوہے کو کیوں کھینچتا ہے، آگ کیوں جلاتی ہے؟" عارفؔ "شعرا نے جو خیالات سراپاؤں میں ظاہر کیے ہیں، آپ کی سمجھ میں آتا ہے اُن کا ماخذ کیا ہے۔" مبتلاؔ "میرے نزدیک اُن تمام خیالات کا ماخذ وہی طبیعت انسانی ہے جو حکم کرتی ہے کہ اس عضو کو اس وضع، اس ساخت اور اس انداز کا ہونا چاہیے۔" عارفؔ "ہاں، لیکن اگر یہ خیالات طبعی ہوتے تو ضرور تھا کہ سب آدمیوں کے ایک ہی طرح کے ہوں، کیوں کہ آدمی آدمی انسانیت میں سب یکساں ہیں۔ تو اس کے یہی معنی ہیں کہ طبیعت انسانی سب میں یکساں ہے، اور طبیعت یکساں ہوئی تو چاہیے کہ سب کے تقاضے یکساں ہوں، مگر ہم دیکھتے ہیں جو ایک کے نزدیک مطبوع ہے، دوسرے کے نزدیک مکروہ مثلاً بڑی خوب صورتی رنگ کی ہے، کہتے بھی ہیں ایک رنگ ہزار ڈھنگ، لیکن رنگ کے بارے میں مذاق اس قدر مختلف ہیں کہ گورا، سُرخ و سفید، گندم گوں ملیح، چمپئی وغیرہ، کتنی قسم کے رنگ ہیں جن کے پیچھے ہمارے ملک کے لوگ س دُھنتے ہیں، لیکن فرض کرو کہ ان رنگوں میں سے کسی رنگ کا آدمی افریقہ میں جا نکلے تو وہں اس کی کیس قدر ہو گی جیسی کہ ہمارے یہاں جذامی یا مبروص کی۔ افریقہ کے باشندے بھی آدمی ہیں، اُن کی طبیعتوں میں بھی ایسے ہی جوش اور ایسے ہی ولوے پائے جاتے ہیں۔ عشق و محبت اُن میں بھی ہے۔ اُن میں بھی حسین ہیں، مگر ان کے سراپا تمہارے سراپا سے بالکل مختلف۔ خاص خاص اعضاء کی نسبت بھی مذاقوں کے اختلاف کا یہی حال ہے۔ ہم پسند کرتے ہیں بالوں کی سیاہی جس کو ہمارے شعرا تشبیہ دیتے ہیں شبِ دیجور سے، کالی گھٹا سے، مارِ سیاہ سے، عاشق کی تیرہ بختی سے، ظلمات سے، اور اہل یورپ چاہتے ہیں بھورے بال، سونے کے ہم رنگ اور سونا بھی ہندوستان کا نہیں

فسانہ مبتلا ریختہ صفحہ 118

کیلیفورنیا (۱) کا پیتلی۔ ہم ڈھونڈتے ہیں آنکھ موتی چور، جس کی پُتلی سیاہ ہو، صاحب لوگ نیلی کرنجی۔ چینیوں کی نسبت مشہور ہے کہ کمانیاں چڑھا چڑھا آخر ناک کو بٹھا چھوڑا، کیوں کہ اُن کے نزدیک ناک کی اُٹھان سے چہرہ ناہموار ہوتا تھا۔ عورتوں کے پاؤں کو ایسا شکنجے میں کسا کہ کھڑے ہونے سے اُن کا مرکزِ ثقل ہی ٹھکانے پر نہیں رہتا۔ ناچار گر گر پڑتی ہیں۔ ہمارے یہاں دانتوں کا وصف ہے صفائی اور چمک، چینیوں میں تیرگی اور سیاہی۔ افریقہ میں عورتیں دانتوں کو سوہن کرا کے آرے کا ہم شکل بناتی ہیں۔ انگریزنیں ساری دنیا کی عورتوں پر ہنستی ہیں، کسی کے گہنے پر، کسی کے لباس پر، کسی کے بالوں کی بندش پر، کسی کے بناؤ سنگھار پر اور خاص کر چینیوں پر، اور اُن کا کہنا یہ ہے کہ انسان کی اصلی خوب صورتی اُس کی قدرتی بناوت میں ہے، مگر جس وقت اپنی بہنوں پر، جو دوسرے ملکوں کی رہنے والیاں ہیں، ہنستی ہیں، اُن کو اپنی کمر یاد نہیں رہتی۔ مختلف ملکوں کی تاریخیں اور جغرافیے پڑھو تو معلوم ہو کہ حُسن کی نسبت لوگوں کے خیالات کس قدر مختلف ہیں۔ قومی اختلافات سے اُتر کر شخصی اختلافات پر آؤ تو ہر جگہ وہی معاملہ ہے کہ لیلی را بچشم مجنوں باید دید۔ غرض جہاں تک غور کیا جاتا ہے، حُسن کا کوئی مفہوم متعین نہیں ٹھہرتا۔ پس مفہومِ حُسن کو انسان کا طبعی خیال سمجھنا غلط ہے۔ بلکہ وہ ایک شخصی خیال ہے۔ " مبتلاؔ "یہ تو ایک لفظی بحث ہے۔ حُسن کی نسبت میرا خیال طبعی ہو تو، اور شخصی ہو تو، نتیجہ واحد ہے کہ مجھ سے بدوں حججُسن کے صبر نہیں ہو سکتا۔" عارفؔ "واہ وا، لفظی بحث کی بھی خوب کہی! اضی حرت یہ تو علمِ اخلاق کا ایک بڑا ضروری مسئلہ ہے۔ جتنی باتیں طبعی ہیں، یعنی تقاضائے طبیعت انسانی سے سرزد ہوتی ہیں، کسی کے روک رُک نہیں سکتی ہیں، ان کی تبدیلی میں کوشش کرنا محض لا حاصل ہے اور مطلق بے سود، مگر جن کو میں نے شخصی سے تعبیر کیا
---------------------------------------------------------------------------------------------------------
(۱) (امریکہ میں) ایک مقام کا نام ہے۔

فسانہ مبتلا ریختہ صفحہ 119

ضرورتیں ہیں ادعائی، حاجتیں ہیں تکلفی، جن کو آدمی عموماً نہیں، بلکہ افرادِ خاص اپنے اوپر لازم کر لیتے ہیں۔ اگر اُن ادعائی ضرورتوں کا تقاضا کبھی طبعی ضرورتوں سے بھی زیادہ سخت ہوتا ہے، مگر پھر بھی چونکہ تقاضائے طبیعت نہیں ہے، اس کی سورش کو فرد، اسی کی تیزی کو مدہم کرنا ممکن ہے۔مثلاً مطلق کھانا پینا تقاضائے طبیعت انسانی ہے اور کسی تدبیر سے یہ خواہش دفع نہیں ہو سکتی، مگر خاص قسم یا خاص ذائقے یا خاص کیفیت کے کھانے کا التزام تقاضائے طبیعتِ انسانی سے خارج ہے۔ جو لوگ شراب یا افیون یا مدک یا چنڈو یا گانجے یا چرس یا تاڑی یا حقے یا کسی طرح کے نشے کی عادت ڈال لیتے ہیں، اُس کی طلب میں ایسے بے قرار ہو جاتے ہیں جیسے بھوبھل میں مچھلی، تاہم یہ ایک ضرورت ہے جس کو اُن کی طبیعت شخصی تقاضا کرتی ہے، نہ طبیعتِ انسانی۔ اس طرح خداوند تعالیٰ کی حکمتِ کاملہ نے نوعِ انسانی کے باقی رہنے کے لیے ایک قاعدہ ٹھہرا دیا ہے کہ دو طرح کے آدمی بنائے، مرد اور عورت اور دونوں کے لیے عمر کا ایک وقت مقرر کر دیا ہے کہ جب اُس حد پر پہنچیں تو دونوں میں ازخود ایک دوسرے کی طرف رغبت پیدا ہو۔ بس یہاں تک اور صرف یہیں تک تو تقاضائے طبیعت انسانی ہے جیسے مطلق غذا، اور اس سے بڑھ کر کہ جس کی طرف رغبت کرتا ہے پورا یا ادھورا رنڈؔ کے سراپا کا مصداق ہو، از قبیلِ نشہ ہے، اور جہاں انسان کی اور ہزار لغویات ہیں کہ شاید دس ہزار آدمیوں میں ایک بھی اُن سے محفوظ نہیں، ایک طرح لغویت حُسن پرستی بھی ہے۔ بھلا کوئی مجھ کو اتنا تو سمجھا دے کہ طبیعتِ انسانی جس رغبت کا تقاضا کرتی ہے اُس سے اور رندؔ کے یا کسی دوسرے شاعر کے سراپا سے کیا مناسبت؟" مبتلاؔ "میں ایسا سمجھتا ہوں کہ اُسی رغبت میں جس کا طبعی ہونا آپ تسلیم کرتے ہیں، سراپا کو ایسا مدخل ہے جیسا غذا میں مسالے (۱) کو۔ " عارفؔ "بالکل غلط۔ مسالہ جزو غذا ہے، داخلِ غذا
------------------------------------------------------------------------------------------------------------
(۱) لوگ اس کو مصالحہ بھی کہتے ہیں، کیوں کہ ان چیزوں سے کھانے کی اصلاح ہوتی ہے، لیکن اگر لفظ اُردو سمجھیں تو کیا حرج ہے۔

فسانہ مبتلا ریختہ صفحہ 120

اور خود غذا۔:" مبتلاؔ " حُسن کی نسبت آپ کی رائے تمام دنیا کی رائے کے خلاف ہے، اور اگرچہ بادی النظر میں آپ کی دلیل لاجواب معلومہوتی ہے، مگر چونکہ فی الواقع ایک عالم فریفتۂ حُسن ہے اور ازاں جملہ میں بھی ہوں، گو آپ کو قائل نہ کر سکوں، تاہم دل ہے کہ حُسن کے تصور سے پگھلا جاتا ہے۔" عارفؔ " آگر دنیا عبارت ہے اُن لوگوں سے جن کو تمہاری طرح حُسن پرستی کا خبط ہے تو بلا شبہ تمہارا کہنا درست ہے، مگر زیادہ نہیں تو اپنی ہی معرفت کے مثلاً دس گھر معین کرو، کرو اور دیکھو کہ اُن میں کتنے آدمی ہیں، پھر اُن میں اپنے جیسے عاشق مزاج منتخت کرو، تب تم کو معلوم ہو کہ جنونِ عشق عالم گیر ہے یا نہیں، اور ایک بات میں تم سے اور بھی کہتا ہوں کہ یہ تمام خرمستیاں پیٹ بھرے کی ہیں۔ ایک، اور دوسرے یہ روگ اکثر شہریوں ہی کو ہوتے دیکھا، اور تم نے اپنے دل کا جو حال بیان کیا اُس کو میں مانتا ہوں، لیکن بُر مت ماننا، مدرسے کے تمام طالب علموں میں تم سب سے زیادہ معروف و مشہور تھے مگر کس بات میں؟ مدرسے کے چند آوارہ اور بدوضع نوجوان لڑکے تمہارے محبت کا دم بھرتے تےھے اور انہوں نے گفتار سے، کردار سے یہ بات تم پر ثابت کر دی کہ تم بھی حسین ہو۔ آدمی فربہ شود از راہِ گوش؛ سنتے سنتے وہ خیال تمہارے ذہن میں راسخ ہو گیا۔ جب خود جوان ہوئے، اُس خیال کا پیرایہ بدل گیا۔" شعر!

عاشق ہوئے ہین آپ بھی ایک اور شخص پر
بارے ستم کی کچھ تو مکافات چاہیے

مبتلاؔ "آپ مولوی ہو کر آدابِ مناظرہ کا لحاظ نہیں رکھتے۔ آپ کا دعویٰ یہ ہے کہ حُسن کی نسبت لوگوں کے خیالات طبعی نہیں، بلکہ شخصی ہیں اور اس دعوے کے اثبات میں آپ میرے خاص حالت سے استدلال کرتے ہیں۔ دعویٰ عام ہے اور دلیل خاص۔ دنیا میں ہزارہا آدمی حُسن پرست ہیں تو کیا سب کی حُسن پرستی کا یہی سبب ہو سکتا ہے کہ میرے طرح وہ بھی حسین ہیں؟" عارفؔ " تم نے اچھی طرح خیال نہیں کیا، جیسا میرا دعویٰ عام ہے ویسی ہی میری

فسانہ مبتلا ریختہ صفحہ 121

دلیل بھی عام ہے، اور تمہارا تذکرہ تمثیلاً تھانہ کہ استدلالاً میری دلیل یہ ہے کہ حُسن کی نسبت مختلف ملک کے باشندوں اور مختلف قوموں اور مختلف شخصوں کے مذاق مختلف ہیں اور اگر طبعی ہوتے تو مختلف نہ ہوتے۔" مبتلاؔ "آپ کی دلیل کا خلاصہ یہ ہے کہ اقضاءاتِ طبیعت انسانی تمام دنیا میں یکساں ہیں، مگر میرے سمجھنے میں تو یہ بات درست نہیں معلوم ہوتی۔ میں دیکھتا ہوں کہ روئے زمین کے مختلف قطعات میں مختلف طور کی آب و ہوا اور مختلف طور کی پیداوار ہے، اور آب و ہوا اور پیداوار کے اختلاف سے باشندوں کے طبائع کا مختلف ہونا ضرور ہے۔ چنانچہ بعض ملکو کے لوگ آرام طلب ہوتے ہیں اور بعض کے جفاکش؛ بعض کے غصیلے زودرنج، بعض کے متحمل بردبار، بعض کے بہادر دلیر، بعض کے بزدل ڈرپوک، بعض کے سیدھے سادے، بعض کے مفسد چالاک اور بایں ہمہ اختلافات یہ سب خصائص طبعی سمجھے جاتے ہیں۔ اسی طرح حُسن کی نسبت لوگوں کے مذاق مختلف ہوں، ہوں، مذاقِ حُسن پھر بھی طبعی ہی کہا جائے گا۔" عارفؔ "جن خصائص کے اختلاف پر تم مذاقِ حُسن کے اختلاف کو قیاس مع الفارق کرتے ہو۔ وہ خصائص طبعی اور کیمائی ہیں۔ آب و ہوا در لوگوں کے مسامات کشادہ، خون گرم اور رقیق، اور اس کی گردش تیز، اور سرد ملکوں میں اس کے بالکل خلاف۔ اور یہی وجہ ہے کہ گرم ملکوں کے لوگ آرام طلب، غصیلے، اور بزدل اور ذہین ہوتے ہیں۔ لیکن آب و ہوا اور غذا کو اس طرح کا مدخل مذاقِ حُسن میں ہو نہیں سکتا۔ اور اگر ہے۔ تو اس کا ثابت کرنا تمہارا کام ہے۔ ہاں اگر یہ کہو کہ بعض گرم ملکوں کے لوگوں توالد و تناسل کی رغبت جلد پیدا ہوتی ہے، ی وہ لوگ اس رغبت پر زیادہ حریص ہوتے ہیں، تو میں اس کو مانتا ہوں۔ کیونکہ مطلقاً اس رغبت کا طبعی ہونا مجھ کو تسلیم ہے۔ رہی عجلت اور حرص، دونوں حرارت کے آثارِ کیمیائی ہیں۔ مگر ہر پھر کر وہی بات آئی کہ اس رغبتِ طبعی کو شاعروں کے سراپا سے، کہ وہی حُسن ہے، کیا تعلق؟ میری سمجھ میں نہیں

فسانہ مبتلا ریختہ صفحہ 122

آتا کہ کوئی شخص دوسرے شخص کے کسی فضو کو بے سبب، بے غرض، بے مطلب، کیوں اچھا یا بُرا کہہ سکتا ہے؟ مثلاً تمہاری ناک سے اگر کسی کی کوئی غرض متعلق ہو سکتی ہے، تو وہ تم ہی ہو، کہ تم اس سے سونگھتے یا سانس لیتے ہو۔ اگر تمہارک ناک تمہارے کام اچھی طرح دیتی ہے، تو وہ اچھی ہے مگر تمہارے لیے۔ میرا کون سا مطلب تماری ناک سے اٹکا ہے کہ میں اُس کو اچھا یا بُرا سمجھوں! اور یہی حال ہے تمام سراپا کا، جس کے پیچھے رند نے جزو کے جزو سیاہ کیے ہیں۔ غرض تم کو دو باتیں ثابت کرںی چاہیں۔ اول یہ کہ مذاقِ حسن، تقاضائے طبیعتِ انسانی ہے، دوسرے یہ کہ توالد تناسل کی رغبتِ طبعی میں اس کو مدخل ہے۔" مبتلاؔ "ابھی تو میں اسی بات کو سوچ رہا ہوں کہ لوگوں میں مذاقِ حسن مختلف کیوں ہیں۔" عارفؔ "میں نے ان باتوں کو برسوں سوچا ہے۔ آخرا س بات سے دل کو تسلی ہو گئی کہ حُسنِ صورت فی نفسہ کوئی چیز نہیں۔ پھر یہ خیال پیدا ہوا تو کہاں سے پیدا ہوا؟ پہلے ذہن اس طرف منتقل ہوا تھا کہ شید حُسن کا ماخذ علمِ قیافہ ہو۔ یعنی انسان کی روح اور جسم میں ایک تعلق ہے ایسا کہ اعضاء کی شاخت اور وضع سے اُس کے دلی خیالات اور اخلاق پر استدلال کیا جاتا ہے۔ لوگوں نے تجربے سے اس تعلق کو دریافت کر کے جمع کیا تع علمِ قیافہ مدون ہو گیا۔ جو لوگ علم قیافہ کے بڑے ماہر ہوتے ہیں، آدمی کے اعضاء کی بناوٹ سے اُس کے خصائص طبیعت کو پہچان جاتے ہیں۔ عجب نہیں کہ اعضاء کی جو وضع محاسں اخلاق پر دلالت کرتی ہو اس کو اچھا سمجھنے لگے ہوں۔ لیکن جن لوگوں کے حُس کا بڑا چرچا ہے ان کو دیکھا، تو من حیث الاخلاق سب سے بدتر پایا۔ معلوم ہوا کہ علم قیافہ تو حُسن کا ماخذ نہیں ہو سکتا۔ آخر غور کرتے کرتے یہ بات سمجھ میں آئی کہ جس طرح اب لوگوں میں اعلیٰ اور ادنیٰ اور شریف اور سضیع اور خواص اور عوام کا تفرقہ ہے، ایسا ہی ابتدائے دنیا میں سب لوگ تو یکساں حالت میں نہیں رہے ہوں گے۔ جسمانی قوت، یا اعوان و انصار کی کثرت، یا کسی دوسرے وجہ سے بعض لوگ ضرور

فسانہ مبتلا ریختہ صفحہ 123

اکابرِ قوم سمجھے جاتے ہوں گے۔ اور قاعدہ یہ ہے کہ جس کو انسان اپنے سے بہتر اور برتر سمجھتا ہے، اس کی سبھی باتیں اس کو بھلی معلوم ہوتی ہیں۔ یوں سب سے پہلے حُسن کا خیال پیدا ہوا ہو، تع عجب نہیں۔ اور پھر تو مثل دوسرے خیالات کے یہ خیال بھی اباً عن جدِِ متوارث ہوتا چلا آیا۔ اور یہی سبب ہے ملکوں میں مذاقِ حُسن کے مختلف ہونے کا، کہ ہر ملک میں جو شخص سب سے بہتر اور برتر تھا، لوگوں نے اُس ہی کو نمونۂ حُسن قرار دے لیا۔ تم نے نپولین، شاہ فرانس، کی تصویر تو دیکھی ہو گی۔ اُس کی ڈاڑھی تھی چُگی، اور ڈاڑھی کی خوبصورتی ہے بھری ہوئی گول۔ مگر نپولین کے دیکھا دیکھی سارے فرانس نے اپنی ڈاٖھیاں چگی کر ا لیں، اور اسیکو شعارِ خوبصورتی ٹھہرا لیا اور چُگی ڈاڑھی کا نا رکھا، امپریل بیرڈ (IMPERIAL BEARD) یعنی شاہانہ ڈاڑھی۔ ہم لوگوں میں جو انگریزیوضع، کھانے میں، پینے میں، لباس میں، نششت و برخاست میں، طرزِ تمدن میں، ہر چیز میں وبا کی طرح پھیلتی جا رہی ہے، اُس کی بھی یہی وجہ ہے کہ انگریز ہیں، وقت کے حاکم ہیں، ان کی تمام ادائیں بھی خوش نُما لگتی ہیں۔ اور ہم لوگوں کے مذاق ہیں کہ یوماً فیوماً انگریزی طور کے ہوتے چلے جاتے ہیں۔ تغیر خلقت تو اختیاری بات نہیں، مگر رفتہ رفتہ مہندی اور وسمے کے عوض ہمارے یہاں کے بُڈھے انڈے کی زردی خضاب تو ضرور کرنے لگیں گے۔ حُس کی نسبت شخصی مذاقوں کی تاویل چنداں مشکل نہیں، ایک شخص میں تمام محاسنِ صورت کا جمع ہونا تو کمیاب ہے۔ امغر یوں ہی ہوتا ہے کہ بڑے سے بڑے حسینوں میں بھی دو چار نقص ضرور ہوتے ہیَ اب یہ پسند کرنے والے کی تجویز پر منحصر رہا کہ چاہے جس پہلو کو ترجیح دے۔ بعضے رنگ پر مرتے ہیں اور بعضے نقشے کی نزاکت پر نظر کرتے ہیں۔ بعضے حُسن دادا کے خریدار ہیں اور بعضے دامِ زلف کے گرفتار۔" مبتلاؔ " حسن اگر خصائصِ انسانی سے ہوتا تو جو ماخذ آپ نے بیان کیا بلا شبہ قابلِ تسلیم تھا۔ مگر جمادات، نباتات، حیوانات، غرض تمام موجودات

فسانہ مبتلا ریختہ صفحہ 124

میں کوئی چیز حُسن سے خالی نہیں۔

والد مرحوم زندہ تھے، کہ ایک مقدمے کی پیروی کے لیے انہوں نے ناظرؔ بھائی کو گرمیوں کے دنوں میں نینی تال بھیجا اور مجھ کو اُن کے ساتھ کیا۔ یوں تو پہاڑ دھندلا دھندلا کئی منزل سے نظر آتا تھا، مگر تین چار کوس کے فاصلے سے تو ہم اُس کو اچھی خاصی طرح سموچا دیکھنے لگے۔ وہ صبح کا وقت اور پہاڑ کی چوٹیوں پر سفید براق برف، گویا سنگھار میز پر بڑا قدِ آدم آئینہ لگا ہے کہ آفتاب سوتا اٹھ کر پہلے شبنم سے مُنہ دھوے، اور پھر اپنا چہرہ اُس آئینے میں دیکھے، اور جب چوٹیوں کے گردا گرد شفق کی سرخی اور دامانِ کوہ کی سبزی پر آنکھ پڑتی تھی، تو ایسا معلوم ہوتا تھا کہ ایک نازنین گلابی دوپٹہ اوڑھے اور ہری پشواز پہنے غور سے کھڑا ہوا آس پاس کی چیزوں کی سیر دیکھ رہا ہے۔ شروع میں ٹھوڑی دیر تک تو اس کا شعور تھا کہ واقع میں پہاڑ ہے اور ہمارے قوتِ متخیلہ نے اس کو نازنین اور شفق س سبزے کو اس کا لباسِ رنگین بنا لیا ہے۔ مگر آفتاب کی کرن نکلتے ہی اوپر برف کے کنارے اور نیچے ندی نالے سارے جگمگا اُٹھے، جیسے عین مین سچا گوٹا۔ اب تو جو خیال تھا وہ حقیقت الحال ہو گیا۔ قوتِ نامیہ کا ہر طرف یہ زور و شور کہ ایک چپہ بھر جگہ سبزۂ خود رو سے خالی نہیں۔ شاعر تو سبزے کو خوابیدہ باندھتے ہیں، مگر وہاں کا سبزۂ بیدار۔ ہوا کے جھکولوں سے ہر وقت متموج۔ بلا تصنع اس وقت تو یہی خیال میں آتا تھا کہ ہوا کے گدگُدانے سے پہاڑ کے پیٹ میں ہنسی کے مارے بل پڑ پڑ جاتے ہیں۔ دونوں ہاتھوںسے پگڑی سنبھال کر درختوں کو دیکھو تو ایسا شبہ ہو کہ آسمان کی چھت بہت پُرانی ہو چلی تھی۔ شاید اس کی اڑواڑیں ہیں۔ رنگ برنگ کے جانور پُھدک پُھدک کر ادھر سے اُدھر، اور اُدھر سے ادھر، اس طرح اُڑتے پھرتے تھے کہ گویا جگہ جگہ چوتھیاں کھیلی جا رہی ہیں۔ غرض ہر چیز پر ایک قدرتی جوبن تھا کہ جی بے اختیار لوٹا چلا جاتا تھا۔ ایسے کسی موقع پر آپ کے جانے کا اتفاق ہو، تو آپ کو معلوم ہو کہ حُسن ایک کیفیتِ خدادا

فسانہ مبتلا ریختہ صفحہ 125

ہے، ہر جگہ ہے، اور ہر چیز میں ہے۔ اسی نینی تال کے راستے میں ایک ندی ملی تھی۔ اُس میں پتھر کی ہزارہا بٹیاں تھیں۔ اُن میں بھی جو سڈال (۱) تھی نہایت بھلی معلوم ہوتی تھی۔ دنیا کی تمام صنعتیں، تمام دس کاریاں کس غرض سے ہیں؟ صرف اتنی بات کے لیے کہ چیزوں میں حُسن پیدا ہو۔ کسی انگریزی شاپ (دکان) میں میرے ساتھ چلیے تو میں آپ کو دکھا دوں کہ صرف مکان کی آراستگی کے لیے کیسا کیسا اسباب انگریزوں کی ولایت سے بن کر چلا آ رہا ہے۔ زندگی کے تمام ساز و سامان میں کون سی چیز ہے جس میں خوبی نہیں؟ اور یوں آدمی آنکھوں پر ٹھیکری دھرلے اور ہداہت کا انکار کرے تو اس کا علاج نہیں۔ حُسن کو تقاضائے طبیعت ماننا آسان ہے یا ایک عالم کو مجنون اور مبتلائے خبط۔" عارفؔ "بات کو بہت طول ہوتا جاتا ہے، اور حجت اور تقریر سے کبھی کسی بات کا تصفیہ ہوا نہیں، اور مدت العمر کے جمے ہوئے خیال کا دفعتاً دل سے نکلنا بھی مشکل۔ میں تم کو اتنی نصیحت کرتا ہوں کہ جو کچھ میں نے کہا ہے اُس کو مختلف اوقات میں تم خود سوچو۔ اور میں نے بھی یہی کیا تھا کہ مدتوں خود غور کرتا رہا۔ یہ تو میں نہیں کہہ سکتا کہ آخر کار تم میرے رائے کے ساتھ اتفاق کرو گے یا نہ کرو گے، مگر اس کا تو مجھ پورا یقین ہے کہ ان شاء اللہ تمہاری یہ سورش تو ضرور فرو ہو جائے گی۔ جس طرح تم دوسرے چیزوں کا استحسان کرتے ہو۔ یعنی مثلاً نینی تال کی سیر سے تمہارے طبیعت کو ایک طرح کی تفریح ہوئی، اگر اسی طرح کی تفریح تم کو خوبصورت آدمی کے دیکھنے سے ہو، تو اُس میں میری نزدیک کوئی اعتراض کی بات نہیں۔ بلکہ اس استحسان کو تم تقاضائے طبیعت بھی سمجھو، تو چنداں مضائقہ نہیں۔مگر دل میں انصاف کرو کہ اس استحاسان کو اُس استحسان کے ساتھ کیا مناسبت؟ اور فرض کرو کہ استحسانِ مُردم یعنی حُسن پرستی، جیسا تم کہتے ہو تقاضائے طبیت انسانی ہی سہی،

(۱) خوش وضع

فسانہ مبتلا ریختہ صفحہ 126

تو طبیعتِ انسانی کے اور بہت سے تقاضے ہیں، مگر چار و ناچار ان کو روکنا اور ضبط کرنا پڑتا ہے۔ سب میں زیادہ شدید تقاضہ غذا کا ہے۔ تاہم بعض اوقات طبیب حکم دیتا ہے کہ فاقہ کرو، اور فاقہ کرتے ہیں۔ یا غریب آدمی کو ایک وقت کھانا میسر نہیں آتا اور وہ انتڑیوں کو مسوس کر رہ جاتا ہے۔ اسی طرح تقاضائے حُسن پرستی مطلق العنان تو رہ نہیں سکتا۔ حُس کمیاب اور اس کے خواہاں بہت۔ معشوقوں کے غمزہ و ادا سے شہید ہونے کا انتظار بھی نہ کریں۔ آپس ہی میں رقات کی وجہ سے لڑ مریں۔ اور مشکل یہ ہے کہ کمیابی ٹھہری شرط حسن، کیونکہ اگر حسین کثرت سے ہوں، تو بے قدر ہو جائے۔ کوئی اس کی طرف رغبت بھی نہ کرے۔ پس حُس پرستی فی فنسہا ایسی خواہش ہے کہ ہزار خواہشوں میں ایک کی کامیابی کی بھی توقی نہیں؛ تو کیوں آدمی ایسی حالت اپنے پیچھے لگائے کہ اس سے سوائے رنج کے اور کچھ ہاتھ نہ آئے۔ موقع پر آئی ہوئی بت کہنتی پڑی ہے۔ تم کو معلوم ہے کہ واقعی اور ادعائی ضرورتوں کی شناخت کیا ہے؟ قاعدہ یہ ہے کہ جو چیز جس طور زیادہ سہولت سے میسر آ سکتی ہو، بس جان لو کہ ہم کو اسی قدر زیادہ اُس کی حاجت ہے۔ مثلاً ہوا اور پانی اور غلہ سب ضرورت ہی کی چیزیں ہیں۔ غلے سے زیادہ پانی اور پانی سے زیادہ ہوا۔ مگر ہوا سب سے زیادہ سہل الحصول ہے۔ پانی اس سے کم، اور غلہ اس سے بھی کم۔ اسی طرح لوہا اور چاندی اور سونا اور موتی اور جواہرات۔ سب سے زیادہ بکار آمد لوہا ہے اور اسی کی زیادہ افراط ہے۔ پس حُسن اگر حقیقت میں ہم کو درکار ہوتا تو ضرور تھا کہ اس کی افراط بھی ہوتی۔ اور افراط ہوتی تو بھی حُسن پھر حُسن کہاں! حُسن تو اسی وقت تھ حُسن ہے کہ اُس کے دیکھنے کو آنکھیں ترستی ہوں۔" مبتلاؔ "آپ کا یہ فرمانا بالکل ٹھیک ہے کہ حُسن کمیاب ہے، اور جو ہے اُس پر دست رس کا ہونا مشکل۔ اور میں اسی سوچ میں بیٹھا تھا کہ آپ تشریف لائے۔ مگر دنیا کے چھوٹے چھوٹے کاموں میں بھی مشکلیں پیش آتی ہیں، اور یہ تو وہ لذتیں ہیں کہ دنیا کے سارے مزے اُس کے آگے ہیچ ہیں۔ بلکہ میں تو ایسا سمجھتا ہوں

فسانہ مبتلا ریختہ صفحہ 127

کہ جب تک لذتِ حسن کا شمول نہ ہو، دنیا کی کسی چیز میں کوئی مزہ ہی نہیں تو ایسے عمدہ مطلب کے حصول میں اگر جان تک کی بھی جوکھوں ہو تو کیا مضائقہ۔ اتنا خدا کا شکر ہے کہ دوسروں کو محال ہے اور مجھ کو آسان۔" عارفؔ "کیوں تم میں خصوصیت کیا ہے؟ کیا تم کہیں کے حاکم ہو یا تمہارے یہاں کچھ دولت پھٹ پڑی ہے۔" مبتلاؔ " بس آپ کے نزدیک تو دنیا میں حکومت اور دولت دو ہی چیزیں ہیں۔ اجی حضرت! میں حُسن کی دولت رکھتا ہوں۔ اب چند روز ہوئے چچا باوا کے لحاظ سے میں نے آنا جانا چھوڑ دیا ہے، ورنہ شہر میں ایسا کون نازنین ہے جو مجھ کو پیار نہیں کرتا۔ ذرا میرا رُخ دیکھیں تو گلے کی ہار ہو جائیں۔ مجھ کو حُس کی کیا کمی۔ آج چاہوں تو ایک ریوڑ پال لو۔" عارفؔ" لا حول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم (۱)۔ میں تو سمجھتا تھا تم کچھ عقل رکھتے ہو۔ اب معلوم ہوا کہ عقل اور حیا اور غیرت اور عزت اور آبرو اور مذہب، کسی چیز سے تم کو بہرہ نہیں۔ اور تمہاری حالت بڑی خطرناک حالت ہے۔ تو تو جناب میر متقیؔ صاحب کے پاس برسوں رہو تب کہیں جا کر آدمی بنو تو بنو، تمہاری عقل کا تو یہ حال ہے کہ ابھی تک خوبصورتی کا خبط تمہارے سر سے نہیں نکلا۔ تم بات بات میں اس طرح مُنہ بھر بھر کر اپنے تئیں حسین اور خوبصورت کہوتے ہو کہ گویا حُسنِ صورت بڑا جوہر ہے۔ مرد ہو کر تمہیں عورتوں کے ہُنر پر ناز کرتے ہوئے شرم نہیں آتی۔ خوبصورتی کے خیال سے کچھ تم ہی اپنے دل میں خوش ہوتے ہو گے۔ مگر غیرت مندوں کی نظر میں تو اس گورے چمڑے نے سارے خاندان کی عزت کو ڈبو دیا یا اور تم کو دنیا اور دین دونوں کے کام سے کھو دیا۔ اور خیر جوان ہوئے پیچھے وہ کم بخت خوبصورتی گئی گزری ہوئی تھی، تو بچپن کے اس خیال کو جانے دیا ہوا ہوتا۔ نہیں وہ خبط ہے کہ بدستور تازہ ہے۔ مُنہ پر ڈاڑھی نکل آئی، چہرہ پکا کیمخت ہو گیا، وہ رنگ و روغں وہ نرمی و نزاکت

(۱) گناہ سے پھرنا اور نیکی پر قادر ہونا صرف خدا ہی کی مدد سے ہو سکتا ہے۔

فسانہ مبتلا ریختہ صفحہ 128

کوئی چیز باقی نہیں رہی۔ مگر خدا جانے تمہارے خوبصورتی کس چیز سے عبارت ہے کہ اُسی میں فرق نہ آیا۔ شہر کے نازنینوں کا حال تو معلوم نہیں، مگر مدرسے میں جو تمہارے چاہنے والے تھے وہ تو تمہارے رہتے ہی ایک ایک کر کے تم سے بے رُخی کرنے لگے تھے۔ اور کیا تم کو اس کا امتیاز نہ ہوا ہو گا؟ اور جب وہ تمہاری لڑکپن کی کیفیت بدل گئی۔ کہ خیر وہ ایک طرح کی خوبصورتی تھی بھی، تب بھی مردِ خدا تم کو تنبہ نہ ہوا کہ کیا ایسی بے ثباط اور ناپائدار چیا کے درپے ہونا، جو آج ہے اور کل نہیں۔ یہ کیفیت، جو تم میں اب ہے اگرچہ اُس کو خوبصورتی سمجھنا تمہارا ہی ادعا ہے، مگر بُری یا بھلی جیسی ہے، اے کاش! اس کو قیام ہو۔ جس نے تم کو بچپن میں دیکھا ہے، اب سے چار برس بعد پہچاننے کا بھی تو نہیں کہ یہ وہی مبتلاؔ ہے یا دوسرا شخص ہے۔ میرے نزدیک تو خوبصورتی کا دعویٰ اب بھی تم کو زیب نہیں دیتا۔ مگر ایک وقت آنے والا ہے تو اس کو آیا ہوا سمجھو، جب کہ تم خود پُکار اُٹھو گے۔

دریغا کہ عہدِ جوانی برفت
جوانی مگو زندگانی برفت

ذرا خیالات کو اونچ کرو، نظر کو تھوڑا آگے بڑھاؤ۔ یہ خواہشیں جن کا تم اس قدر اہتمام کر رہے ہو، خدا نے گدھے، کتے، بندرے، سؤر، ذلیل سے ذلیل جانوروں کو بھی دی ہیں۔ بلکہ جانوروں میں یہ قوتیں آدمی سے بہت زیادہ ہیں۔ کیا آدمی کے لیے شرم کی بات نہیں کہ جانوروں کی ریس کرنے پر حریص ہوں! تم کو اس بات پر بڑا گھمنڈ ہے کہ نازنینانِ شہر یعنی بازاری عورتیں تم کو پیار کرتی ہیں۔ یہ جھوٹی رکابیاں، یہ چچوڑی ہوئی ہڈیاں، یہ کھائی ہوئی قلفیاں! کسی بھلے مانس کی غیرت قتاضا کر سکتی ہے کہ اُن کو منہ لگائے یا س بٹھائے؟ نری خوبصورتی کو، اگر ہو بھی، لے کر کیا آگ لگانی ہے، جب کہ اُن میں شرم و حیا نہیں، مہر و وفا نہیں، عفت و عصمت نہیں، غیرت و حمیت نہیں!" مبتلاؔ "میں نے تو اُن

فسانہ مبتلا ریختہ صفحہ 129

لوگوں کا تذکرہ آپ سے صرف اس غرض سے کیا تھا کہ میں حُسن کی خواہش کروں تو غالباً میرے لیے اس کا بہم پہنچنا کچھ دشوار نہ ہو گا، کیوں کہ میں اُن لوگوں کو اپنی طرف بھی مائل پاتا ہوں۔ مجھے دوسرے ذریعۂ تقریب درکار نہیں۔ جس دن چچا باوا تشریف لائے، میں نے اُن لوگوں سے ملنا جُلنا قطعی موقوف کر دیا اور آیندہ بھی میرا ارادہ اُن لوگوں سے ملنے جُلنے کا ہرگز نہیں۔ چچا باوا کے آنے کا تو مجھ کو ایک حیلہ ہاتھ لگ گیا ورنہ میں نے تھوڑے ہی دنوں کے اختلاط میں اُن لوگوں کو خوب آزما لیا۔ بِگیا، برباد ہو گیا۔ چچا باوا نہ آئے ہوتے تو فاقوں پر نوبت پہنچ چکی تھی۔مگر حقیقت میں عجب بے مروت قوم ہے۔ چندے کے بندے اور دام کے غلام۔ اس میں شک نہیں کہ مجھ کو پیار بھی کرتے ہیں، مگر اس کے ساتھ کچھ نہ کچھ لے بھی مرتے ہیں۔" عارفؔ "الحمد للہ میرا جی یہ سُن کر بہت خوش ہوا کہ تم کو اُس نالائق گروہ سے تو نفرت ہوئی۔ اور میں تو بھائی اُس کو جناب میر صاحب کا تصرف سمجھتا ہوں۔" مبتلاؔ "خیر جو کچھ ہو، مگر حُسن پرستی کی کسک میرے دل میں باقی ہے۔ وہ نہیں نکلتی۔" عارفؔ " اب بہت دیر باتیں ہوئیں۔ آدمی کے دل کا حال ہر وقت یکساں نہیں رہتا۔ ان شاء اللہ پھر کسی دن موقع دیکھ کر گفتگو کریں گے۔ اس اثناء میں تم بھی وقتاً فوقتاً سوچنا اور غور کرنا۔ اگر خدا کو منظور ہے، تو خود تمہارے ہی دل سے کوئی نہ کوئی بات ایسی پیدا ہوگی کہ اُس سے تمہاری تسکین ہو جائے گی۔ اتنی بات تمہارے کان میں اور ڈالے دیتا ہوں کہ دنیا کے تمام معاملات کا مدار خیالات پر ہے۔ شعر

برخیالے صلح شان و جنگ شاں
برخیالے نام شان و ننگِ شاں

ایک شخص کو دیکھتے ہیں کہ ایک غرض کے پیچھے دیوانہ بن رہا ہے، اور اُسی جیسے ہزاروں لاکھوں آدمی ہیں کہ اُس غرض سے مطلق سروکار نہیں رکھتے۔ زندگی جے دن پورے کرے کو گنتی کی چند چیزیں درکار ہیں، اور اُن کے بہم پہنچانے کے لیے کچھ زیادہ زحمت اُتھانے کی

فسانہ مبتلا ریختہ صفحہ 130

ضرورت نہیں۔ صائب نے کیا خوب کہا ہے۔ شعر :

حرص قانع نیست صائبؔ ورنہ اسباب جہاں
آنچہ من درکار دارم بیشتر درکار نیست

اور جب دوسرے لوگ ہمارے ہی ابنائے جنس، ایک چیز کے بدوں خوس و خرم رہ سکتے ہیں، تو اس سے بخوبی ثابت ہے کہ حقیقت میں وہ چیز داخلِ ضروریاتِ زندگی، بلکہ داخلِ تفریحات بھی نہیں ہے۔ اُن لوگوں نے ایک طرح پر خیال کیا اور اُس چیز پر غالب آئے۔ اور ہم نے دوسری طرح پر سوچا اور مغلوب ہو گئے۔ یوں تو سوچنے اور غور کرنے کو ہزاروں باتیں ہیں، مگر تمہاری حالت کے واسطے موت کا تصور کرنا بالخاصہ مفید ہے۔ اگر دن رات میں تھوڑی دیر کے لیے بھی آدمی اپنے تئیں مرتا ہوا فرض کر لیا کرے، اور یہ تو یقینی ہے کہ ایک نہ ایک دن سچ مُچ اس کو مرنا ہو گا، تو دنیا کی بہت سی ترغیبات سے محفوظ رہ سکتا ہے۔ اور چوں کہ دین داری کے خیالات ابھی تمہارے دل میں راسخ نہیں ہوئے، موجباتِ ترغیب کے پاس نہ پھٹکنا، ورنہ سارا کیا کرایا دم کے دم میں اکارت ہو جائے گا۔
 
آخری تدوین:

شمشاد

لائبریرین
فسانہ مبتلا ریختہ صفحہ 131

اٹھارھویں فصل

مبتلاؔ کا دامِ محبت میں مُبتلا ہونا

عارفؔ تو یہ کہہ کر اُس وقت رخصت ہو گیا۔ مبتلاؔ کے شیاطین برابر اُس کی گھات میں لگے ہوئے تھے۔ میر متقیؔ کا جانا سُنتے ہی سب نے چاروں طرف سے یورش شروع کی۔ مبتلاؔ تو ایک مدت سے اُدھار پر عیاشی کر ہی رہا تھا۔ شیکڑوں روپے اُن کے اُس پر چڑھے ہوئے تھے۔ پہلے کے ہلے ہوئے، خدا جانے میر متقیؔ کے رہتے ہوئے بھی انہوں نے کیوں کر صبر کیا ہوگا۔ میر متقیؔ کا اگر جانا نہ ہوتا تو آخر ایک نہ ایک دن اُس قرض کا جھگڑا ان کے رُوبرو پیش ہوتا پر ہوتا۔ اور اُن کے روبرو پیش ہوتا تو وہ عمدہ طور پر فیصلہ بھی کر دیتے اب ادنے پونے کیسے سوائے ڈیوڑھے کی قسط بندی پر تو قرضے کا چکوتا ہوا۔ اور ان لوگوں کے پاس آ کر بیٹھنے بات کرنے سے مبتلاؔ کی طبیعت جو میر متقیؔ اور عارفؔ کے سمجھانے سے کسی قدر سنبھل چلی تھی، پھر بگڑی۔ سامان تو ایسا بندھا تھا کہ مبتلاؔ پھر بدستور سابق آوارہ مزاج ہو جائے۔ مگر ادھر تو نصیحت کی خیالات تھے تازہ، اور اُدھر ادائے قرض کی وجہ سے مبتلاؔ کو اُن لوگوں سے ہوئی ایک طرح کی ناخوشی۔ اور تو کسی کے پاؤں نہ جمے، مگر اب سے کوئی تین چار برس پہلے کا مذکور ہے، مبتلاؔ کے والد اُن دنوں زندہ تھے۔ اسی محلے میں مبتلاؔ کے گھر سے ذرا فاصلے پر ایک عورت کرایہ کے مکان میں آ کر رہی۔ وہ تھی تو لکھنؤ کی کوئی خانگی، پر اُس نے اپنے تئیں بیگم مشہور کیا۔ باوجودیکہ

فسانہ مبتلا ریختہ صفحہ 132

تھوڑے ہی دنوں کی آئی ہوئی تھی مگر سارے محلے میں اس کی خوبصورتی اور لیاقت کا غُل مچ گیا۔ عیاش مزاجوں میں جو جس ڈھب کا تھا، اپنے شوق کی چیز میں بیگم کا مداح تھا۔ شاعر کہتے تے، فی البدیہ شعر کہتی ہے۔ ستار بجانے والوں میں چرچا تھا کہ بول خوب بجاتی ہے۔ تاش، گنجفہ، چوسر، شطرنج کھیلے والے ان تمام کھیلوں میں اس کے کمال کے قائل تھے۔ ضلع جگت پھبتی، حاضر جوابی، پہیلی، مکرنی، نسبت میں سب مانتے تھے کہ اپنا جواب نہیں رکھتی۔ اُس کی خوبصورتی میں لوگ کچھکلام کرتے تھے مگر اُس کے جامہ زیب ہونے پر سب کو اتفاق تھا۔ مبتلاؔ تو خود ایسی خبروں کی ایسی ٹوہ لگا رہتا تھا۔ اُس کو بیگم کا حال سب سے پہلے معلوم ہوا ہو گا۔ لیکن باپ کے رہتے محلے کے محلے میں بدلحاظی نہیں کر سکتا تھا، نہ جا سکا۔ باپ کے مرے پیچھے جب مبتلاؔ کُھل کھیلا، تو جہاں اُس نے اور نالائقیاں کیں، اُن میں سے ایک یہ بھی تھی کہ بیگم سے ملا۔ شاعری، اور ستار، اور شطرنج اور کیا، اور کیا، یہ سب مبالغے تھے۔ مگر اس میں شک نہین کہ عورت تھی بڑی گویا۔ اُس کی زبان کہتے دیتی تھی کہ خواصی یا مصاحبت یا کسی دوسرے طور پر اُس نے بادشاہی محلات میں ضرور تربیت پائی ہے۔ یا کیا عجب ہے، کہ جیسا وہ کہتی تھی خود بیگم ہی ہو! لسانی کے علاوہ اس کا سلیقۂ مجلس بھی بہت ہی دل کش تھا۔ وہ نہایت جلد آدمی کے دل کو ٹٹول لیتی، اور ہر ایک کے ساتھ اُس ہی کے مذاق کی باتیں کرتی۔ یہ عمل تھا جس کے ذریعے سے وہ لوگوں کے دلوں کو مسخر کرتی تھی۔ ورجہ صورت شکل کے اعتبار سے وہ کچھ چنداں قدر کی چیز نہ تھی۔ مبتلاؔ کے ساتھ آنکھیں دو چار ہوتے ہی وہ پہچان گئی کہ یہ کوئی نیا مردوا بنا ہے۔ اُس نے مبتلا
کو دور سے کھڑے ہو کر ایسے انداز کے ساتھ سلام کیا جیسے کوئی ہندو آفتاب کو ڈنڈوت کرتا ہے۔ اور گاؤ تکیہ جس سے لگی ہوئی بیٹھی تھی، چھوڑ کر اپنی جگہ مبتلاؔ کو بٹھایا اور آپ مؤدب سامنے ہو بیٹھی۔ مبتلاؔ نے چاہا کہ اُس کو اپنی برابر بٹھائے مگر وہ ایاز قدر خود بشناس، کہہ کر پہلو پر نہ آئی۔

فسانہ مبتلا ریختہ صفحہ 133

مبتلاؔ تو تمہیدِ کلام ہی سوچتا رہا کہ اتنے میں وہ آپ ہی بولی : "ایک مُدت سے دلی کی تعریفیں سُن سُن کر جی پھڑکتا تھا اور دل میں ارمان تھا کہ اگر پر ہوتے تو اُڑ کر جاتی، اور ایک نظر دلی کو دیکھ آتی۔ بارے سان نہ گمان، خود بخود ایسا اتفاق پیش آیا کہ خدا نے دلی میں لا بٹھایا۔ اور جیسا سُنا تھا اُس سے ہزار حصے بڑھ کر پایا۔ چشم بد دور لکھنؤ میں دولت کی افراط ہے اور لوگ بھی وہاں کے بڑے زندہ دل ہیں۔ حُسن کی جو قدر و منزلت ہمارے لکھنؤ میں ہے، کسی دوسرے شہر میں کم ہو گی۔ اور یہی سبب ہے کہ ملکو ملکو سے حُسن کھنچ کر سب لکھنؤ میں سمٹ آیا ہے۔ اور میرا رہنا بھی ایسی ہی جگہ ہوا ہے کہ اُس کو حُسن کا اکھاڑا کہنا چاہیے۔ مگر اپنا شہر ہے، تو ہونے دو۔ بات تو سچی ہی کہی جائے گی۔ ماشاء اللہ آپ کی صورت کا آدمی بھی میری نظر سے تو نہیں گزرا۔" مبتلاؔ "یہ تو سب تمہاری مہربانی ہے چوں کہ تم نظرِ محبت سے دیکھتی ہو، تم کو میری صورت بھی بھلی معلوم ہوتی ہے۔ ہم مردوں کی صورت اگر اچھی ہوئی بھی تو کیا، بے مصرف! صورتیں تو تم لوگوں کی ہیں کہ ایک عالم تمہاری ان صورتوں ہی کے پیچھے دیوانہ ہو رہا ہے۔ میں نے بھی تمہاری صفت و ثنا بہت کچھ سُنی تھی اور تمہارے دیکھنے کے لیے دل بے قرار تھا، مگر موقع نہیں بن پڑتا تھا۔ اب جو تم کو دیکھا تو معلوم ہوا، حقیقت میں لکھنؤ کی خراش تراش اور وضع داری کو دلی والے نہیں پا سکتے۔ مگر یہ تو کہو کہ گھر تمہارا ٹھہرا لکھنؤ، یہاں دلی میں تمہارے قیام کا کیا بھرسا۔"۔ بیگم " ہم لوگوں کا کم بخت اس طرح کا بُرا پیشہ ہے کہ قرآن کا جامہ پہن لیں تب بھی تو کوئی اعتبار نہیں کرتا۔ آپ کو یقین آئے یا نہ آئے، میں ایک عزت دار خاندان کی بیٹی ہوں۔ خدا جانے یہ بھی کرم میں کیا لکھا تھا کہ ایسے بُرے احوال سے پردیس میں پڑی ہوں۔ میرا حال اس قطعے کے مصداق ہے :

رہیے اب ایسی جگہ چل کر جہاں کوئی نہ ہو
ہم سخن کوئی نہ ہو اور ہم زُباں کوئی نہ ہو

فسانہ مبتلا ریختہ صفحہ 134

پڑیئے گا بیمار تو کوئی نہ ہو تیمار دار
اور اگر مر جائیے تو نوحہ خواں کوئی نہ ہو

میں جس وقت لکھنؤ سے نکلی،دل میں یہ ٹھان کر نکلی کہ اب اس شہر کو پیٹھ دکھائی ہے، جیتے جی منہ نہیں دکھاؤں گی۔ جس حالت میں آپ مجھ کو دیکھتے ہیں، جس قدر مجھے اس سے نفرت ہے، بس خدا ہی کو خوب معلوم ہے۔ مگر موت اپنے بس کی نہیں۔ شاد باید زیستن ناشاد باید زیستن، آج اگر کوئی بھلا آدمی خدا اُس کے دل میں رحم ڈالے، اور میری دست گیری کرے، تو مجھ کو چرغہ کاتنا منظور، چکی پیسنی قبول، میں اُس کی کفش برداری کو حاضر ہوں۔ مگر مان نہ مان میں تیرا مہمان، زبردستی کس کے سر ہو جاؤں؟ آپ سے آپ کس کے ساتھ لگ لو؟" ہر چند مبتلاؔ کی آوارگی ان دونوں بڑے زوروں پر تھی، مگر اس کے دل میں کسی عورت کے ساتھ تعلق لازمی پیدا کرنے کا خیال کبھی نہیں آیا تھا۔ یہ بیگم کی سحر بیانی تھی کہ ابھی اُس کی تقریر پوری نہیں ہونے پائی کہ مبتلاؔ نے اُس کو گھر میں ڈال لینے کا پہلے پہل کچھ یوں ہی سا ارادہ کیا۔ بیگم میں دو باتوں کی کمی تھی۔ ایک تو اُس کی صورت کچھ بہت عمہد نہ تھی۔ بنانے سنوارنے سے وہ اتنی بھی نظروں میں جنچتی تھی۔ دوسرے گانا ناچنا، جس کی ان دونوں مبتلاؔ کو چات لگی ہوئی تھی، اُس کو مطلق نہیں آتا تھا۔ تاہم اُس نے اپنی لسانی سے مبتلاؔ کو پہلی ہی ملاقات میں اتنا گرویدہ کر لیا کہ شام کا گیا گیا ڈیڑھ پہر رات کی روپ اُس کو وہیں بیٹھے بیٹھے چل گئی۔ اِس اثنا میں بیگم نے خوب مزے مزے کی گلوریاں اپنے ہاتھ سے بنا بنا کر مبتلاؔ کو کھلائیں۔ دو دور چائے اور کافی کے چلے۔ مبتلاؔ اگر ایک جلسے میں مدعو نہ ہوتا، تو اُس سے رات کا رہ پڑنا بھی کچھ تعجب نہ تھا۔ بارے مکان پر سے آدمی آیا کہ صاحب جلسہ خود آپ کو لینے آتے ہیں۔ ناچار اُٹھنا پڑا اور جلسے کی سُن کر بیگم کو بھی اصرار کرنے کا کوئی موقع نہ تھا۔ مگر چلتے چلتے بیگم نے اتنا عہد تو لے ہی لیا کہ جلسے کے سوائے اپنے یہاں ہو یا کسی

فسانہ مبتلا ریختہ صفحہ 135

دوست کے یہاں، بلا ناغہ ہر روز ملاقات ہوا کرے گی۔ اور میر متقی کے آنے تک ایسا ہی ہوتا رہا، اور اتنے دن میں بیگم نے مبتلا کے دل میں بخوبی اپنی جگہ کر لی۔ میر متقیؔ کی لاحول سے جہاں شیطان بھاگ کھڑے ہوئے تھے اُن میں ایک بیگم صاحب بھی تھیں۔ میر متقیؔ کے رہتے بھی بیگمؔ نے بہتیرے ڈھب لگائے کہ مبتلاؔ زیادہ نہیں تو کبھی کبھار، کھڑے کھڑے صورت دکھا جایا کرے۔ مگر مبتلاؔ خود ان دنوں ہتھے سے اُکھڑا ہوا تھا۔ آنا جانو تو درکنار، زبانی سلام و پیام تک کا بھی وہ روادار نہ تھا۔ مبتلاؔ بے چارے کے حال پر خیال کر کے کس قدر افسوس آتا ہے ؂

قسمت تو دیکھیے کہ کہاں ٹوٹی کمند
دو چار ہاتھ جب کہ لبِ بام رہ گیا

قریب تھا کہ بیگم اُس کو صبر کر کے بیٹھ رہے، اتنے میں تو میر متقیؔ کو سُنا کہ تشریف لے گئے۔ بیگم تو اس خبر کو سنتے ہی مارے خوشی کے اُچھل پڑی، اور اُسی وقت سے لگی مبتلاؔ کے انتظار میں بار بار مُڑ مُڑ کر دروازے کی طرف دیکھنے۔ ایک دن گزرا۔ دو دن گزرے۔ تین دن گزرے۔ مبتلاؔ کا پتا نہیں۔ سمجھی کہ چچا نے ضرور بھتیجے کو کچھ پٹی پڑھائی۔ آخر جب اپنے اہل برادرے کو سُنا کہ حساب کتاب کو آنے لگے، اُس نے بھی کسی کے ہاتھ ایک رقعہ بھیجا۔

(رقعہ) "جان من یا بآں شسرا شوری، یا بایں بے نمکی! اس قدر بے مروتی! ایسی بے وفائی! کچھ قصور کوئی خطا؟ دل کے ایسے بودے اور ارادے کے اتنے کچے تھے، تو اتنا ربط بڑھانا، اور ایسا گہرا اختلاط کرنا۔ کیا ضرور تھا۔ از برائے خدا چند لمحے کے لیے تشریف لاؤ اور اپنی حقیقت مجھ کو سُناؤ۔ میں خدا نخواسہ کوئی بلا نہیں کہ چمت جاؤں گی۔ آپ کوئی بچے نہیں کہ پُھسلا لوں گی۔ اور اگر آپ کو آنا منظور نہیں تو مجھ سے

فسانہ مبتلا ریختہ صفحہ 136

وہاں پہنچنا کچھ دور نہیں۔" شعر

تم جانو غیر سے جو تمہیں رسم و راہ ہو
ہم کو بھی پوچھتے رہو تو کیا گناہ ہو

مبتلاؔ یہ رقعہ پڑھ کر غوطہ میں تھا کہ عارفؔ اس کے سر پر آ کھڑے ہوئے تھے۔ عارفؔ کے چلے جانے کے بعد مبتلاؔ نے رقعے کو پھر کئی بار پڑھا۔ وہ اس وقت جانے میں ہچکچاتا تھا، مگر پھر اُس نے سوچا کہ اگر میں نہ گیا تو بیگم خود چلی آئے گی، اس سے تو میرا جانا بہتر ہے۔ غرض دل خوب مضبوط کر کے بیگم کے گھر گیا۔ مگر افسوس ہے کہ کچھ ایسی گھڑی کا گیا کہ بس اُسی کے گھر کا ہو رہا۔ بیگم نے جو کئی مہینے کے بعد مبتلاؔ کو دیکھا تو نہایت تپاک سے ملی۔ بس اس کا وہ تپاک ایک جادو تھا کہ مبتلا" کی تو کیا حقیقت تھی، اس کے چچا باوا امیر متقیؔ صاحب بھی ہوتے، تو پھسلتے نہیں، تو لڑکھڑا ضرور جاتے۔ دیر تک آپس میں گلے شکوے ہوتے رہے۔ آخر مبتلاؔ نے شروع سے آخر تک میر متقیؔ کا آنا، اور امور خانہ داری کی اصلاح، اور اُن کی نصیحت اور ناظرؔ کی فضیحت، اور میر صاحب کا تشریف لے جانا اور عارفؔ سے معرفت کرانا، اور عارفؔ کو سمجھانا، اور اربابِ نشاط کا حساب کتاب، ذرا ذرا بیان کیا۔ بیگم نے بہت ہی توجہ سے مبتلاؔ کے قصے کو سُنا، اور کہا کہ "اتنے دن برابر جو آپ کا آنا نہ ہوا، اُس سے مجھے بڑی آزردگی ہوئی تھی۔ اور میں مصمم ارادہ کر لیا تھا کہ آپ سے اخیر دو دو باتیں کر کے ضرور اس محلے سے اُٹھ جاؤں گی۔ مگر اب جو آپ سے ساری حقیقت معلوم ہوئی، میرا جی بہت خوش ہوا، اگر اگر میں جانتی ہوتی تو ضرور میر صاحب کے ہاتھ پر بیعت کرتی۔ سبحان اللہ اچھوں کی اچھی ہی باتیں ہوتی ہیں۔ انہوں نے باپ سے بڑھ کر آپ کے ساتھ سلوک کیا۔ اُن کے فرمانے پر چلو، تو دنیا اور دین دونوں میں سرخ رو۔ میں تو خود آپ سے کہنے والی تھی کہ ان بیسواؤں سے ملنا اور یوں پیسے کو برباد کرنا، اور یہ ہرجائی پن اچھا نہیں۔" مبتلاؔ " مشکل یہ آ کر پڑی ہے کہ بی بی کی طرف تو مجھ کو

فسانہ مبتلا ریختہ صفحہ 137

رغبت نہیں۔ پھر اب کسی طرح زندگی بسر بھی کروں یا نہ کروں؟" بیگم : "بیاہتا بی بی سے اگر مرضی نہیں ملتی تو ایک اپنی مرضی کی بی بی کر لو۔ خدا نخواستہ تم کچھ غریب نہیں ہو کہ دو بیبیوں کا خرچ نہ چلا سکو گے۔ مردوں پر تو خدا نے تنگی نہیں کی، ایک ایک کو چار چار نگاح کا حکم ہے۔" مبتلاؔ "تم مجھ سے نکاح پڑھانے پر راضی ہو۔" بیگم : "میں تو خود تم سے کہہ چکی ہوں کہ میں اس حالت میں رہنا پسند نہیں کرتی۔ میں تو کوئی دن جاتا ہے کہ کسی نہ کسی کا دامن پکڑ کر بیٹھ رہوں گی۔ اور اگر تم میری دست گیری کرو تو زہے قسمت۔ مگر تم کو بہتیری مجھ سے بہتر ملیں گی۔ نکاح کرو تو ایسی کے ساتھ کہ پھر بی بی کی تمنا باقی نہ رہے۔ بلکہ مناسب تو یہ ہے کہ نکاح مت پڑھاؤ، چندے کسی کو آزماؤ۔" مبتلاؔ " میں تو فکر کرتے کرتے تھک گیا اور سوچتے سوچتے میرا سر دُکھنے لگا۔ چچا باوا اور میاں عارفؔ کی تو مرضی یہ ہے کہ میں ساری عمر رنج و غم میں گھل گھل کر مر جاؤں۔" بیگم " نوج، دور پار، نصیبِ دشمناں رنج کرے تمہارے بلا اور غم اٹھائے تمہاری پاپوش۔ دنیا میں بار بار جنم لینا نہیں، اور جوانیکی عمر بھی چلتی چھاؤں ہے۔ جب اپنا ہی جی خوش نہ رہا تو دنیا کو لے کر کیا چولھے میں ڈالنا ہے۔" مبتلاؔ "دل پر تو قابو نہیں چلتا، اس بی بی سے ممکن نہیں کہ مجھ کو اُنس ہو، چار و ناچار دوسری بی بی تو کرنی ہی پڑے ہی گی۔ اچھا تو آج کے آٹھویں دن۔۔۔۔۔" بیگم : "بلکہ پندرھویں دن مگر ایک شرط سے کہ ہست و نیست جو کچھ کہنا ہو، تم خود آ کر مجھ سے کہا۔ ایسا نہ ہو کہ پہلے کی طرح بیٹھ رہو۔" مبتلاؔ "نہیں کچھ ہی کیوں نہ ہوں میں ضرور خود آؤں گا۔ بلکہ ہو سکا تو بیچ میں بھی ایک دو پھیرے کروں گا۔" بیگم "قسم کھاؤ۔" مبتلاؔ "تمہارے جان کی قسم۔" بیگم "میری جان تو تم ہو۔" مبتلاؔ "اپنے سر کی قسم۔" یہ عہد و پیمان ہو کر مبتلاؔ بیگم سے رخصت ہوا۔ مگر سچ پوچھو تو آج ہی کا جلسہ جلسۂ نکاح تھا۔ بیگم ایک بلا کی عورت تھی اور اُس کو بُشرے دے دلی حالات کے معلوم کر لینے کا بڑا ملکہ تھا۔ آج کی ملاقات میں اُس کو پورا یقین ہو گیا کہ مبتلاؔ پر اُس کا جادو چل چکا ہے۔

فسانہ مبتلا ریختہ صفحہ 138

اور اسی بھروسے پر اُس نے آپ مہلت دی، ورنہ وہ ایسا ڈھونگ ڈالتی، بے نکاح پڑھائے مبتلاؔ جانے کا نام نہ لیتا۔ بیگم کے پاس یہ آج کا جانا مبتلاؔ کے حق میں غضب ہو گیا۔ اُس کو میر متقیؔ نے ایک حالت پر پایا اور اُنہوں نے اور عارفؔ نے اس کو ٹھیل ٹھیل کر دور سرکایا۔ آج وہ پھر اپنی جگہ پر عود کر آیا۔

فسانہ مبتلا ریختہ صفحہ 139

انیسویں فصل

مبتلاؔ اور عارفؔ کا مباحثہ

عارفؔ نے، اس خیال سے کہ اس کو اچھی طرح بتاؤ، خود غور کر لینے دو، ایک ہفتے تک اُس کی خبر نہ لی۔ پھر جو ملاقات ہوئی تو مبتلاؔ کا تیور ہی بدلا ہوا تھا۔ پوچھا "کیوں صاحب! تم نے کچھ سوچا، غور کیا؟" مبتلاؔ" جی ہاں دوسرے نکاح کی ٹھہرائی ہے۔" عارفؔ "(چونک کر) ایں دوسرا نکاح۔ سچ کہو۔" مبتلاؔ "کیا کروں میں بھی آدمی ہوں۔ میرے سینے میں بھی دل اور دل میں خواہش ہے۔ مجھ کو بھی موافق سے راحت اور ناموافق سے ایذا پہنچتی ہے۔ میری زندگانی کا زمانہ بھی محدود ہے، اور جوانی کا تو محدود نہیں، بلکہ مختصر۔ میں بھی اتنی بات سوچتا ہوں کہ دُنیا سے ایک بار جا کر پھر آنا نہیں۔ ان تمام باتوں پر نظر کر کے میں نے یہی فیصلہ کیا ہے کہ آخر مجھ کو تو آسائش ملے۔" عارفؔ "بے شک، آشائشِ جائز کو کون منع کر سکتا ہے، اور تم پر کیا موقوف ہے، تمام آدمی کوشش کرتے ہیں۔ اور سب کی کوسسوں کا، چینی ہو یا دنیاوی، ماحصل ہے آسائش۔ مگر غور طلب یہ بات ہے کہ جس کو تم نے آسائش سمجھا ہے وہ حقیقت میں بھی آسائش ہے یا نہیں۔" مبتلاؔ" یہ تجویز کرنا میرا کام ہے۔" عارفؔ "بس یہ غلط ہے۔ ہم سب ہیں بیمار، اور شارع ہے ہمارا طبیب۔ اگر بیمار کو اختیار دے دیا جائے کہ اپنی آسائس کے لیے آپ تجویز کر لے تو بیمار یقیناً آپنے تئیں ہلاک کرے گا۔" مبتلاؔ "آپ اطمینان رکھیے، میں نے شرع ہی کے مطابق اپنی

فسانہ مبتلا ریختہ صفحہ 140

آسائش کی تجویز کی ہے۔ کیا میں نے نہیں کہا کہ دوسرے نکاح کی ٹھہرائی ہے؟ اگر بے نگاح کسی عورت کو گھر میں ڈال لینے یا پانچویں نکاح پڑھانے کا نام لیتا تب ہی آپ نے کان کھڑے کیے ہوتے۔" عارفؔ " جوازِ تعدُدِ نکاھکی نسبت تم نے جس طرح اپنا اطمینان کر لیا، ذرا مجھ کو بھی تو سُناؤ۔" مبتلاؔ" میں تو آپ کے ادنیٰ شاگردوں کی برابری بھی نہیں کر سکتا۔ میرا کیا مقدور ہے کہ آپ کو سمجھاؤں مگر تعدُدِ نکاح کی سند تو قرآن کی وہی ایک مشہور آیہ ہے۔ وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَىٰ فَانكِحُوا مَا طَابَ لَكُم مِّنَ النِّسَاءِ مَثْنَىٰ وَثُلَاثَ وَرُبَاعَ ۖ (۱) ۔" عارفؔ"۔ "لیکن اسی کےآگے فرماتے ہیں۔ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تَعْدِلُوا فَوَاحِدَةً یعنی اگر تمکو یہ خوف ہو کہ متعدد بیبیوں میں برابر نہ کر سکوے گے تو ایک ہی بی بی کرو۔ اور اسی سورۃ اور اسی پارے میں آگے چل کر وَلَن تَسْتَطِيعُوا أَن تَعْدِلُوا بَيْنَ النِّسَاءِ وَلَوْ حَرَصْتُمْ ۖ فَلَا تَمِيلُوا كُلَّ الْمَيْلِ فَتَذَرُوهَا كَالْمُعَلَّقَةِ ۚ یعنی تم بہتیرا چاہو مگر تم سے یہ ہو ہی نہ سکے گا کہ عورتوں میں برابری کر سکو۔ پس سارے کے سرے بھی ایک طرف کو مت جھک جاؤ کہ اُس بے چاری کو ادھر میں لٹکتا ہوا چھوڑ دو۔ اب ان باتوں کو ملاؤ کہ برابری نہ کر سکو تو ایک کرو، اور تمہارے کیے برابری ہو ہی نہ سکے گی۔ ایک شخص نے حال میں حُرمتِ تعدُدِ نکاح پر ایک کتاب لکھیہے۔ اُس کے نزدیک ان دونوں آیتوں کو ملانے سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ بس ایک بی بی کرو۔" مبتلاؔ "ایسی ہی ایسی تفسیریں کر کے تو لوگوں نے دین میں رخنے ڈالے ہیں۔ پیغمبر صاحب اور اُن کے صحابہ اور تابعین اور تبع تابین اور تمام بزرگانِ دین، سب متعدد بیبیاں کرتے چلے آئے ہیں، اُن کو بھی یہ دونوں آیتٰن معلوم
-----------------------------------------------------------------------------------------------------------
(۱) اگر تم کو یہ ڈر ہو کہ ہم یتیموں کے حق میں انصاف نہ کر سکیں گے تو عورتوں میں سے دو دو اور تین تین اور چار چار جتنی تمہاری خوشی ہو نکاح کر لو۔

فسانہ مبتلا ریختہ صفحہ 141

تھیں اور قرآن کو بھی سب سے بہتر سمجھتے تھے۔ اور اُن کا تدین بھی بہت زیادہ تھا۔ مگر کسی نے تعدُدِ نکاح کی ممانعت کا نتیجہ نہیں نکالا اور وَلَن تَسْتَطِيعُوا أَن تَعْدِلُوا بَيْنَ النِّسَاءِ وَلَوْ حَرَصْتُمْ ۖ فَلَا تَمِيلُوا كُلَّ الْمَيْلِ فَتَذَرُوهَا كَالْمُعَلَّقَةِ ۚ سے صاط معلوم ہوتا ہے کہ جس برابری کی نسبت ارشاد ہے کہ تم سے ہو ہی نہیں سکے گی، وہ پوری پوری برابری ہے۔ یعنی عدلِ حقیقی، کیوں کہ مطلق عدل سے قاعدے کے مطابق فردِ کامل مراد لینی ہوتی، اور وہ نہیں ہے، مگر عدلِ حقیقی۔ اور اسی لیے فرمایا ہے کہ تم سے عدلِ حقیقی تو ہو نہیں سکے گا تو ایسا بھی غضب مت کرو کہ ایک ہی طرف کے ہو رہو اور دوسری کو لٹکا رکھو، کہ وہ بے چاری بیچ میں پڑی جھولا کرے۔ اس سے معلوم ہوا کہ عدلِ حقیقی کے علاوہ کہ وہ اعلیٰ درجے کا عدل ہے اور انسان سے اس کا ہونا ممکن نہیں۔ ایک ادنیٰ درجے کا عدلِ مجازی بھی ہے کہ انسان صرف ایک ہی کا نہ ہو رہے بلکہ دوسرے کی بھی خبر گیری کرتا رہے۔ چچا باوا کے رہتے میرے دل میں اس بات کا کھٹکا تھا کہ ایک نہ ایک دن وہ ضرور مجھ کو ٹوکیں گے۔ تو میں مولوی محمد فقیہؔ سے اس مسئلے کی خوب تحقیقی کی تھی۔میری سمجھ میں تو یوں آتا ہے کہ پہلی آیہ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تَعْدِلُوا فَوَاحِدَةً میں عدل سے عدلِ مجازے مراد ہے کہ اگر تم کو اس بات کا ڈر ہے کہ تم ادنیٰ درجے کا عدل بھی نہ کر سکو گے اور بالکل ایک ہی کے ہو رہو گے، تو ایسی صورت میں تم کو ایک ہی بی بی کرنی چاہیے اور اگر تعدُدِ نکاح میں عدلِ حقیقی مشروط ہو تو فی الواقع، جیسا آپ کہتے ہیں، ممانعت ہوئی۔تعلیق بالمحال۔ اور اگرچہ اس آیت میں بھی مطلق عدل ہے، اور چاہیے کہ یہاں بھی عدلِ حقیقی مراد ہو۔ مگر دوسری آیہ مابعد وَلَن تَسْتَطِيعُو الخ قرینۂ صارف موجود ہے۔ اور اگر خدا کو تعدُدِنکاح کی ممانعت منظور ہوتی تو تعلیقِ بالمحال کا پیرایہ اختیار کرنا کیا ضرور تھا۔ صاف صاف کہہ دینا تھا کہ بس ایک بی بی کرو، نہ کہ کہ اگر عدلِ حقیقی نہ کر سکو تو ایک کرو۔ کیونکہ یہ تو ایک ہی تھا کہ عدلِ حقیقی مقدروِ بشر نہیں۔ اگر

فسانہ مبتلا ریختہ صفحہ 142

فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تَعْدِلُوا سے ممانعتِ تعدُدِ نکاح مراد ہو تو معاذ اللہ اس آیت کی ایسی مثالہو گی کہ پوچھیں ناک کہاں ہے۔ اور جواب میں بائیں کان سے شروع کر کے گدی کی طرف سے داہنی جانب ہاتھ لا کر بتایا جائے کہ یہ ہے!" عارفؔ " اس میں شک نہیں کہ مولوی محمد فقیہؔ نے اس مسئلے کی اچھی تحقیقات کی، اور تم نے جو کچھ سمجھا، میرے نزدیک نہایت درست سمجھا۔ مگر پیغمبر صاحب سے جو تم نے اشتہاد کیا اُس کو میں نہیں مانتا۔ یہ دونوں آیتیں عام مسلمانوں کے واسطے ہیں۔ پیغمبر صاحب کے نکاح ان میں داخل نہیں۔ پیغمبر صاحب کے سورۂ احزاب میں ایک پورا رکوع موجود ہے (۱)يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِنَّا أَحْلَلْنَا لَكَ أَزْوَاجَكَ اللَّاتِي آتَيْتَ أُجُورَهُنَّ الخ پیغمبر صاحب کے لیے چار بیبیوں کی قید نہ تھی۔ اور اگرچہ آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم ازواجِ طاہرات میں اپنی طرف سے عدل فرماتے تھے، مگر خدا نے اُن پر اس کو بھی لازم نہیں کیا تھا۔ چنانچہ اسی رکوع میں یہ آیۃ ہے۔ تُرْجِي مَن تَشَاءُ مِنْهُنَّ وَتُؤْوِي إِلَيْكَ مَن تَشَاءُ ۖ وَمَنِ ابْتَغَيْتَ مِمَّنْ عَزَلْتَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكَ ۚ یعنی اپنی بیبیوں میں سے جس کو چاہو اپنے سے جُدا رکھو، اور جس کو چاہو اپنے پاس جگہ دو اور جس کو چاہو ہٹا دو پھر بلا لو، تو تم پر کچھ گناہ نہیں۔ اسی طرح پیغمبر صاحب کو بلا مہر بھی نکاح کر لینا جائز تھا۔ اور یہ باتیں خصائصِ نبوی میں سے ہیں۔ اور کیا مصلحتیں پیغمبر صاحب کے ان ذاتی معاملات میں مضمر تھیں، اس کی تفصیل ہے جس کے بیان کرنے کو بڑی فرصت چاہیے۔ اسی طرح صحابہ وغیرہ سے بھی اشتہاد کرنے میں درست نہیں سمجھتا۔" مبتلاؔ "از برائے خدا کہیں جلدی سے فرما بھی چکو کہ تعدُدِ نکاح کے موئد ہو یا مغالف۔" عارفؔ " سخت مخالف۔" مذہباً یا عقلاً۔": عارفؔ "یہ تو تم نے عجیب لغو بات پوچھی۔ اس سے تو معلوم ہوتا ہے کہ مذہب اور عقل دو چیزیں ہیں۔
------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
(۱) اے پیغمبر ہم نے تجھ پر حلال کر دیں تیری وہ بیبیاں جن کے تم مہر دے چکے ہو۔

فسانہ مبتلا ریختہ صفحہ 143

اور ممکن ہے کہ دونوں کی دو راہیں ہوں۔ حالانکہ میرا عقیدہ تو یہ ہے کہ مذہب مخالفِ عقل، باطل، عقل مخالفِ مذہب، گمراہ۔" مبتلاؔ" جس چیز کے جواز کے لیے نص قرآنی موجود ہے اُس سے آپ کو مخالفت۵ کرنے کا سبب۔" عارفؔ "بات یہ ہے کہ شارع نے مردوں اور عورتوں کی معاشرت کے قاعدے ٹھہرا دیئے ہیں۔ نکاح اور مہر اور نفقہ اور طلاق اور خلع اور لعان اور اظہار اور رجعت اور رضاع وغیرہ جتنے معاملات ہیں سب کے واسطے احکام ہیں۔ اگر ان احکام کی پوری پوری تعمیل ہو تو کسی قوم اور کیس مذہب کے زن و شوہر میں اس سے بہتر معاشرت ہو نہیں سکتی۔ مگر خرابی کیا آ پڑی ہے کہ ہندوستان کے مسلمانوں نے رسم اور مذہب دو چیزوں کو ملا کر اپنے طرزِ معاشرت کو آدھا تیتر اور آدھا بٹیر بنا لیا ہے۔ مثلاً پردے سے چلو۔ بلا شبہ اسلام کا حکم ہے کہ بیبیاں پردہ کریں اور اس میں بھی شک نہیں کہ ایک پردے سے ہزارہا مفسدوں کا انسداد ہوتا ہے، مگر جس سختی کے ساتھ ہم لوگوں نے پردے کو لازم کر لیا ہے، افراط ہے۔ حدِ شرع سے متجاوز پردہ نہیں ہے۔ مگر قید، اور قید جس قدر سخت اسی قدر ایذادہ۔ نکاح ایک ایسا معاہدہ ہے کہ مرد اور عورت دونوں کی زندگانی کی کامیابی اور ناکامیابی، راحت اور تکلیف، خوشی اور ناخوشی اسی پر موقوف ہے۔ معاہدہ تو ایسا مہتم بالشان، اور معاہدہ کرنے والے، جن کو اُس کا نباہ کرنا ہے، اور جس پر اُس معاہدے کا اثر مترتب ہو گا، اس سے بے تعلق۔ کیوں کہ اکثر تو معاہدۂ نکاح ایسی چھوٹی عمروں میں ہو جاتا ہے۔ کہ فریقین میں سے کسی کو بھی اُس کے نتائج کے سمجھنے کی اہلیت نہیں ہوتی، اور اگر شاذ و نادر ہوتی بھی ہے تو اظہار رائے کر کے بے شرم اور بے حیا اور بے غیرت اور مُنہ بولا کون کہلائے۔ پس معاہدۂ نکاح تو کرتے ہیں مثلاً زید اور ہندہ، اور ایجاب و قبول کرتے ہیں، اُن کے ولی، کھلم کُھلا پوری آزادی تو نکاح کے معاملہ میں مرد عورت کسی کو بھی نہیں۔ رہ گئے دبے دبائے اشارے کنائے، وہ بھی مردوں کے لیے بدنمائی ہے اور عورتوں کے لیے

فسانہ مبتلا ریختہ صفحہ 144

فضیحت اور رسوائی۔ سب سے بڑا ظلم جو ہم نے اپنی عورتوں پر کر رکھا ہے، یہ ہے کہ بیوہ کو دوسرا نکاح نہین کرتے دیتے۔ ہزارہا اللہ کی بندیاںہیں کہ انہوں نے شوہر کا مُنہ تک نہیں ریکھا اور نصیبوں ایسے پتھر پڑے کہ رانڈ ہو گئیں۔ ہندوؤں کی طرح ستی ہو کر ایک بار کا جل مرنا ساری عمر کے جلاپے سے ہزر درجے بہتر تھا۔ مگر حرام موت، ستی کیوں کر ہوں۔ دنیا میں ناک کٹتی ہے، دوسرا نکاح کس طرح کریں۔ غرض جیتی ہیں تو لطفِ حیات نہیں اور مرتی ہیں تو اپنے اختیار کی بات نہیں۔ تو اس کا مطلب کیا نکلا کہ شارع نے جو حقوق عورتوں کو دیے تھے وہ تو پورے پورے ہم نے اُن کو لینے نہ دیئے، اور اپنے حقوق میں سے رتی بھر چھوڑنا نہیں چاہتے تو جو نسبت مرد اور عورت میں شارع نے رکھنی منظور تھی، کیوںکر باقی رہ سکتی ہے! اور وہ نسبت کیا تھی اس کے لیے میں تمہارے آگے قرآن کی دو آیتیں پڑھتا ہوں۔ سورۃ بقرہ میں ہے۔ عَلَيْهِنَّ بِالْمَعْرُوفِ ۚ وَلِلرِّجَالِ عَلَيْهِنَّ دَرَجَةٌ ۗ ‏ یعنے جیسے عورتوں کی ذمہ داریاں ہیں، ویسی ہی راست معاملگی کے ساتھ اُن کے حقوق بھی ہیں، اور مردوں کو عورتوں پر برتری ہے۔ پھر سورۃ نساء میں ہے ۔ عَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ ۚ فَإِن كَرِهْتُمُوهُنَّ فَعَسَىٰ أَن تَكْرَهُوا شَيْئًا وَيَجْعَلَ اللَّهُ فِيهِ خَيْرًا كَثِيرًا۔عورتوں سے راست معاملگی کے ساتھ برتاؤ کرو پس اگر وہ تم کو بھلی نہ لگیں تو عجب نہیں تم کو ایک چیز بھلی نہ لگے اور خدا اس میں بہت سی بہتری کر دے۔ اب فرمائیے تعدُدِ نکاح جائز ہے یا ناجائز۔" مبتلاؔ "میں تو مذہب کا کوئی بڑا محقق نہیں مگر اسی طرح جورویں اگر زبردستی ہمارے گلے مڑھی جائیں گی، تو جو حالت آپ نے بیوہ عورتوں کی بیان کی اُس سے بدتر ہماری ہو گی۔ بیوہ عورت کو تو خیر صبر کرنے کے لیے ایک بات بھی ہے کہ شوہر نہیں ہے نہ سہی، یہ کیا مصیبت ہے کہ ایک عورت کو آنکھ بھر کر دیکھنے کو جی نہ چاہتا، بات کرنے کی طرف طبیعت رغبت نہیں کرتی، اور آپ

فسانہ مبتلا ریختہ صفحہ 145

کہتے ہیں کہ زبردستی اُس کے ساتھ عاشقی کرو۔ اگر خدا کے یہاں ایسی ہی ہیکڑی ہے تو اُس کو اختیار ہے، دوزخ میں ڈالے جہنم میں جھونکے۔ بندگی و بے چارگی! مگر میں تو آپ سے صاف صاف کہتا ہوں کہ ایسی مجبوراً نہ عاشقی مجھے سے ہوئی ہے، نہ ہو گی۔" عارفؔ "بلا شبہ تم مغلوبِ طبیعت ہو رہے ہو اور جب تک تمہارے یہ حالت رہے گی۔ حقیقت میں تم سے خلافِ طبیعت کوئی بات ہو ہی نہیں سکتی۔" مبتلاؔ " اسی میں تو میں آپ سے مدد چاہتا تھا کہ طبیعت پر غالب آنے کو کئی تدبیر بتائیے۔" عارفؔ "جو تدبیر مجھ کو معلوم تھی، اور معلوم کیا تھی، وہی ایک تدبہر ہے، میں نے تو اُس کے بتانے میں دریغ نہیں کیا۔ پہر بھر تک تمہارے ساتھ اپنا مغز خالی کیا۔ تم لاجواب ہو لیے۔ اور چلتے چلتے تم سے کہتا گیا کہ تم ان باتوں کو فرصت سے سوچنا، اور موجباتِ ترغیب کے پاس نہ جانا۔ تم یوں سمجھو کہ حُسن پرستی مرض ہے۔ سوچنا دوا، اور موجباتِ ترغیب سے دور رہنا پرہیز۔ بھائی مرض، جسمانی بھی اگر مزمن ہوتا ہے تو اس سے جلد صحت نہٰں ہوتی، اور بعض صورتوں میں تو برسوں علاج اور ساری عمر کے لیے پرہیز کرنا پڑتا ہے۔ یہی حال ہے اور امراضِ روحانی کا، جن کا دوسرا نام ہے بُری لت، بد عادت، تمہارا علاج تمہارے ہی ہاتھ میں ہے۔ کرو تو تم، اور نہ کرو تو تم۔" مبتلاؔ "آپ توتعدُدِ نکاح میں چند در چند طرح کے خدشات پیدا کرتے ہیں، اور بزرگانِ دین میں کوئی بھی اس سے خالی نہ تھا۔" عارفؔ : "جب ایک بات کی صراحت ہم کتاب اللہ میں پاتے ہیں تو ہم کو کسی بزرگ کے قول و فعل پر نظر کرنے کی ضرورت نہیں، ایک، اور دوسرے یہ معاملات ہیں شخصی۔ جب تک کسی کی طبیعت، کیفیت، حالت، ضرورت کا کچا حال معلوم نہ ہو، ہم بھلی یا بُری کوئی رائے ظاہر ہی نہیں کر سکتے۔ اور سب سے بڑی بات تو یہ ہے کہ جو لوگ اپنے لیے اس آزادی کو عمل میں لاتے تھے وہ عورتوں کی آزادی میں بھی مضائقہ نہیں کرتے تھے۔ہمارے طرح اُن کا معاہدۂ نکاح مرنے بھرنے کا معاہدہ نہ تھا۔ ذرا سی

فسانہ مبتلا ریختہ صفحہ 146

نا موافقت ہوئی، مرد نے طلاق دے دی یا عورت نے خُلع کر لیا۔ تھوڑے تھوڑے مہر ہوتے تھے اُن کو معاہدۂ نکاح کا فسخ کر دینا ایک بات تھی۔ نہ طلاق کا عیب، نہ دوسرے نکاح کی عار۔ تو اُن کی آزادی حق بجانب۔ ہم کیا ان کی ریس کر سکتے ہیں کہ ہمارے بیبیاں لونڈیوں سے بڑھ کر بے اختیار ، دائم الحبس، ناک چوٹی گرفتار، اور پھر تعدُدِ نکاح سے جو بے لطفیاں اور بدمزگیاں خانہ داری میں پیدا ہوتی ہیں، ہم دیکھتے ہیں، تو بزرگان دین کو بھی اُس سے نجات نہ تھی۔ اُمہات المومنین یعنی پیغمبر صاحب کی ازواجِ طاہرات میں باوجودے کہ دنیا کے دعیش و آرام کسی کو میسر نہ تھے، تاہم فقر و فاقے میں بھی باہم ویسے ہی محاسدات تھے، جیسے سوکنوں میں ہوتے ہیں، اور ہونے چاہییں۔ سُنی شیعہ کا تفرقہ جو تم دیکھتے ہو، کہ دونوں گروہوں کا خدا ایک، رسول ای، قرآن ایک، اور پھر آپس میں اس درجے کی عداوت، اگر سچ پوچھو تو متفرع ہے اُن ہی محاسدات پر۔ حضرت پیغمبر صاحب کی سب سے پہلی بیوی حضرت خدیجۃ الکبراٰ کے پاس اُن کے پہلے شوہر کا بڑا سرمایہ تھا جس کو انہوں نے تجارتے میں لگا رکھا تھا۔ اُن کو ضرورت تھی ایک دیانت دار اور ہوشیار کارندے کی۔ اُنہوں نے (بعثت سے بہت پہلے کا مذکور ہے) حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دیانت، امانت، راست بازی کا حال سُن کر اُن کو اپنی تجاری کے کام میں لگایا۔ اللہ نے حضرت کی نیک نیتی سے تجارے میں بڑی برکت دی۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے حُسنِ کارگزاری سے خوش ہو کر اُن کے ساتھ نکاح پڑھا لیا۔ اس نکاح کی وجہ سے جو لوگ نرے دنیا دار تھے البتہ حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زیادہ وقت کرنے لگے۔ پھر جب حضرت کا زمانۂ بُعثت قریب آیا، تو خوارقِ عادات پیش آنے لگے۔ کبھی آسمان پر فرشتوں کو دیکھتے، کبھی درخت اُن کو سلام کرتے۔ کبھی غیب سے آواز آتی۔ ان واقعات کو دیکھ کر ڈرے اور حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا پر اس

فسانہ مبتلا ریختہ صفحہ 147

تمام حقیقت کو ظاہر کیا۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا تھیں بڑی باخدا بی بی۔ اور اُن کے گھر میں صحبِ انبیاء اور تورات کی تلاوت کا بڑا چرچا تھا۔ اُنہوں نے سُن کر حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بڑی تسلی کی کہ تم خدا ترس آدمی ہو۔ بیوہ عورتوں اور یتیم بچوں پر رحم اور رشتہ داروں کے ساتھ سلوک کرتے ہو۔ ایسا تو نہیں ہو سکتا کہ خدا تم جیسے آدمی کو ضائع کرے۔ اور حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے بھائی کے پاس لے گئیں جو تورات کے بڑی عالم تھے۔ پیغمبر آخر الزماں کی پیش گوئیاں تو آسمانی کتابوں میں موجود ہی تھیں اور لوگ دن گن رہے تھے۔ انہوں نے جو حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا اور اُن کی حقیقت سُنی تو پہچان گئے۔ اور صاف کہہ دیا کہ آپ پیغمبر ہونے والے ہیں۔ جب تک حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا زندہ رہیں، پیغمبر صاحب نے دوسرے نکاح کا قصد تک بھی تو نہیں کیا۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی وفات کے بعد پیغمبر صاحب نے متعدد بیبیاں کیں، جن میں سب سے زیادہ عزیز اور سربرآورد حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بیٹی اُم المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا تھیں۔ رشے میں ماں اور عمر میں حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے بھی چھوٹی۔ اس سے انکار کرنا بداہت سے انکار کرنا اور واقعات کو جھٹلانہ ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا تعزز تمام ازواجِ طاہرات پر شاق تھا اور اسی طرح حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا پر بھی جو اپنے تئیں اپنی والدہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی جگہ سمجھتی تھیں اور جن کو پیغمبر صاحب کا معاملہ، اپنی والدہ کے ساتھ، اپنے کانوں کا سُنا اور آنکھوں کا دیکھا سب یاد تھا۔ یہ ہے فی الاصل سُنی اور شیعہ کی بنیاد جنہوں نے یہ سمجھا کہ پیغمبر صاحب صلی اللہ علیہ وسلم کو دنیا میں حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے سوائے کسی کے ساتھ اُنس نہ تھا، وہ سیعہ ہو گئے، باقسام فہم یعنی تفضیلی اور نُصیری اور کیا اور کیا۔ خوارج ٹوٹ کر بیبیوں کی طرف داری کرنے لگے۔ اہل سنت کہتے ہیں کہ بی بی، بی بی کی جگہ اور بیٹی، بیٹی کی جگہ۔ یہاں تک درست ہے۔ مگر آغے چل کر انکار کرنے لگتے ہیں کہ خاندان نبوت میں کسی کو کسی سے کسی طرح کا ملال نہ تھا۔ بس سُنیوں کی یہ بات دل نہیں لگتی۔ میں بھی سُنی ہوں مگر میرے نزدیک پھوٹ اور نا اتفاقی بے شک تھی۔ تاہم اس سے ان بزرگوں کی مذہبی شان میں کچھ بھی فرق نہیں آتا۔ یہ تقاضائے بشریت ہے، اور کیوں

فسانہ مبتلا ریختہ صفحہ 148

کسی کی دین داری میں بشریت سے بٹا لگنے لگا جب کہ پیغمبر صاحب نے اپنی شان میں فرمایا ہو قُلْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ يُوحَىٰ إِلَيَّ ۔ میں بھی تو تم جیسا بشر ہوں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ مجھ پر وحی نازل ہوتی ہے۔ غرض اس طولِ مقال سے یہ ہے کہ جو بےلطفیاں تعدُدِ نکاح کو لازم ہیں، خاندان نبوت بھی ان سے محفوظ نہیں رہا۔ دوسرا کسی گنتی میں ہے!" مبتلاؔ " اب بھی مجھ کو کون لطف حاصل ہے؟" عارفؔ " تم آگ کے جلے ہوئے کو سینکتے ہو۔ یعنی ایک بے لطفی کو دوسری بے لطفی سے دبانا چاہتے ہو۔ مگر ممکن ہے کہ یہ دوسری بے لطفی آخر میں اس پہلے لطفی سے زیادہ شاق ہو۔" مبتلاؔ "اُس وقت جیسا موقع ہو گا، دیکھا جائے گامیں ابھی سے فکرِ مستقبل کے کرے اپنی زندگی کو کیوں تلخ کر لوں؟" عارفؔ "تو اب حقیقیت میں میری تمہارے ملاقات لاحاصل ہے۔ مگر میں اتنا کہتے دیتا ہوں کہ تم اپنے حق میں اچھا نہیں کرتے۔ افسوس ہے کہ تم نے مجھ جو جناب میر متقیؔ صاحب سے شرمندہ کیا۔ یہ کہہ کر عارفؔ بہ کمالِ نارضامندی اُٹھ کر چلا گیا۔
 
آخری تدوین:

اوشو

لائبریرین
صفحہ ۔۔۔ 91

تیرھویں فصل

میر متقیؔ کا مبتلاؔ کو سمجھانا اور اس کی اصلاحِ حال میں کوشش کرنا

پچھلے بیانات سے بخوبی ظاہر ہو گیا ہو گا کہ غیرتؔ بیگم کے جتنے معاملات تھے، سب ہی تو خدا نے میر متقیؔ کے ہاتھ سے درست کرائے۔ اور کیسی عمدگی اور خوش اسلوبی کے ساتھ کہ نہ لڑائی نہ جھگڑا، نہ قصہ نہ فساد، نہ غل، نہ شور، تنخواہیں بھی جاری ہو گئیں، مکانات اور دوکانات کا بھی انتظام ہو گیا۔ ناظرؔ کجیسے موذی کے پنچے سے حصۂِ زمین داری بھی چھٹا، جس کے چھوٹنے کا کسی کو سان گمان بھی نہ تھا! مگر ابھی غیرت بیگم کا سب سے بڑا معاملہ باقی تھا۔ یعنی اس کے شوہر مبتلاؔ کی اصلاح، اس کی آوارگی کا علاج، اس کی بدوضعی کی روک تھا۔ عورت جب بیاہی گئی تو میاں ہی سے اس کا عیش ہے، میاں ہی اس کا آرام، میاں ہی سے توقیر ہے اور میاں ہی سے اس کا اعزاز و احترام۔ آپس میں پیار اخلاص ہو تو دنیا کی ساری مصیبتیں جھیلی جا سکتی ہیں۔ اور جہاں دلوں میں محبت نہیں، پہننے میں مزہ اور کھانے میں لذت نہیں، دل میں امنگ نہیں، سنگھار میں بہار نہیں، پھولوں میں باس نہیں، مہندی میں رنگ نہیں، میر متقی کچھ اس سے غافل نہ تھے۔ مگر مبتلاؔ کے بارے میں ان کو بڑی مشکل یہ پیش آ رہی تھی کہ ان میں اور مبتلا میں کئی سبب سے اختلاط تھا اور واشدگی کا ہونا ممکن نہ تھا۔ اول تو رشتہ، کہ میر متقی، مبتلا کے چچا، باپ کی جگہ! دوسرے عمروں کی بڑائی چھٹائی۔ کہاں میر متقی، پچاس پچپن برس کے بڈھے، اور کہاں مبتلاؔ بیس برس کا پٹھا! تیسرے مبتلاؔ کے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ ۔۔۔ 92

ہوش میں، میر متقی کو دہلی آتے ہوئے یہ تیسرا پھیرا تھا۔ ایسی صورت میں اجنبیت تو ہونی ہی چاہیے۔ چوتھے وضع میں، عادات میں، خیالات میں، ایک کو دوسرے سے مطلق مناسبت نہیں۔ پس حال یہ تھا کہ میری متقی مردانے میں ہیں، مبتلا زنان خانے میں۔ ادھر میر متقی نے زنان خانے میں قدم رکھا، ادھر مبتلا آہٹ پاتے ہی جھٹ سے باہر نکل آیا۔ رات دن میں صرف دو بار چچا بھتیجے بضرورت کھانے کے لیے دسترخوان پر جمع ہوتے تھے، وہ بھی کس طرح کہ مبتلا نے چچا کے سامنے جانے کے لیے ٹوپی اور کپڑے اور جوتی سب چیزیں سادہ اور بھلے مانسوں کے استعمال کی الگ کر رکھی تھیں۔ کھانے کے لیے طلبی آئی اور اس نے جلدی جلدی، رگڑ رگڑ کر منہ دھویا، موچھوں کو جن پر سارا سارا دن مالش رہتھی تھی، بل نکال کر سیدھا کیا، پٹیوں کو ابھارا، بالوں کی سج دھج کو بگاڑا، کھانے کے لیے نہیں، چچا کے سامنے جانے کے کپڑے پہنے، اور گربۂ مسکین بن کر جھکے ہوئے، نیچی نظر، مودب، دسترخوان پر جا بیٹھے۔ پھر میر متقی کا کھانا کوئی انگریزی ڈنر تو ہوتا ہی نہ تھا، کہ کھانا میز پر آیا اور جتنے کھانے والے تھے، اپنی کرسیوں پر چرغنے لگے۔ دنیا بھر کی بکواس شروع ہوئی اور یہ بھی نہیں کہ کھانے کے ضمن میں باتیں کرتے جاتے ہوں، بلکہ یوں کہو کہ باتوں کے ضمن میں کھانا بھی کھاتے جاتے ہیں۔ میر متقی مولوی آدمی، دور سے کھانا آتا ہوا دیکھ، کسی شغل میں ہوں چھوڑ چھاڑ، پہنچوں تک ہاتھ دھو، بسم اللہ الرحمن الرحیم کہہ کر اکڑوں ہو بیٹھے۔ کھانا کھایا، مگر اس کو بھی عبادت سمجھ کر۔ خیال یہ کہ آداب الطعام میں سے کوئی ادب متروک نہ ہو۔ پس ان کے دستر خوان پر بات چیت کا کیا موقع؟ میر متقی مستعجل کہ کم کھاؤں، مبتلا منتظر کہ اٹھ جاؤں۔ الغرض ایسا کوئی موقع ہی نہیں پڑتا تھا کہ چچا بھتیجے میں جی کھول کر باتیں ہوں۔ مگر میر متقی بلا کے تاڑنے والے تھے۔ انہوں نے اتنی ہی دیر کی صحبت میں مبتلا کی حرکات و سکنات سے ، اس کی نشست و برخاست سے، اس کی طرزِ عادات سے، اتنا جان لیا اور ایسا پہچان لیا کہ مبتلا کے لنگوٹیے یار اور اس کے بھیدی اور رازدار

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ ۔۔۔ 93

بھی اتنا ہی جانتے ہوں گے۔ متبلا اگرچہ چچا کے سامنے اپنے آپ کو بہت ضبط کیے رہتا تھا مگر اسی دن کے لیے کہتے ہیں، کہ آدمی بری لت نہ ڈالے اور عادت کو بگڑنے نہ دے۔ مبتلا کو خبر تک نہ ہوتی تھی اور بے خیالی میں ادبدا کر چچا کے سامنے اس سے کوئی نہ کوئی حرکت ایسی سرزد ہو جاتی تھی کہ ہر روز ان کی نظروں میں اس کی قلعی کھلتی رہتی تھی۔ مثلاً بیٹھے بٹھائے خود بالوں پر ہاتھ جا پڑا، اور عادت کے مطابق لگا وہیں پٹیاں جمانے۔ پھر جو کچھ ہوش آیا، چچا کو کن انکھیوں سے دیکھ، کھجانے کے حیلے، بالوں کو بگاڑ، سیدھا ہو بیٹھا۔ یا کھاتے کھاتے ایک مرتبہ انگرکھے کی چولی کے شکن نکال، لگاتن تن کر سینے کو دیکھنے، اتنے میں چچا پر نظر جا پڑی، اور جلدی سے پھر جھک کر ہو بیٹھا۔ ایک مرتبہ تو اس نے غضب کیا کہ کدا جانے کس خیال میں مستغرق تھا، کہ آپ ہی آپ لگا گنگنانے! مگر میر متقی نے اس کو ایسے طور پر ٹال دیا کہ گویا سنا ہی نہیں۔ مبتلا اپنے دل کو یوں سمجھا لیا کرتا تھا کہ چچا نے دھیان نہیں کیا، یا اگر کیا، تو آدمی سے ایسی لغو حرکتیں ہوا ہی کرتی ہیں۔ اتنی ہی بات سے ان کا ذہن اس طرف کیوں منتقل ہونے لگا کہ پٹیاں جمانے، یا اکڑنا، یا گانا، میری عادت ہے۔ لیکن یہ اس کی غلطی تھی۔ میری متقی کی آنکھ کبھی کسی چیز پر اچٹتی ہوئی پڑتی ہی نہ تھی۔ وہ جس چیز کو ایک نظر دیکھ لیتے اس کی تہہ تک پہنچ جاتے، اور اس کے لِم 1 کو دریافت کرتے۔ میر متقی نے مبتلا کی حرکات سے آخر یہ استنباط کیا کہ اس میں دو عیب بہت بڑے ہیں۔ اول یہ کہ مذہب سے اس کو مطلق سروکار نہیں۔ یہ جانتا ہی نہیں کہ خدا بھی کوئی چیز ہے، اور آدمی اس کے بندے ہیں۔ اس کو خبر ہی نہیں کہ آدمی کو کھانے اور سو رہنے کے سوا دنیا میں کچھ اور بھی کرنا ہے۔ دوسرے حسن پرستی اس کے نزدیک دولت، شرافت، حسب، نسب، علم، ہنر، سلیقہ، اخلاق، دین داری، غرض دنیا کے سارے کمالات ہیچ ہیں۔ صرف
۔۔۔۔۔۔۔
1 ۔ علت اور سبب

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ ۔۔۔ 94

ایک حسنِ صورت قابلِ قدر ہے اور بس۔ میر متقی کا ایک قاعدہ اور بھی تھا کہ بڑے دھیمے آدمی تھے۔ جب کسی خاص شخص کو نصیحت کرنا منظور ہوتا، مدتوں اس کے حالات کی تفتیش میں لگے رہتے۔ اور جب معلوم کر چکتے جس قدر معلوم کرنے کی ضرورت تھی، تو ہفتوں غور کرتے کہ کس پیرایے سے اور کیسے وقت اس کو نصیحت کروں کہ موثر ہو۔ اور یہی سبب تھا کہ ان کی نصیحت کبھی خالی گئی ہی نہیں۔ مثلاً اگر ایک شخص تارک الصلوٰۃ ہے، اور انہوں نے اس کو نماز کے لیے نصیحت کی تو پھر سفر یا مرض یا دنیا کی کوئی کیسی ہی ضرورت کیوں نہ ہو، اس نے مدت العمر نماز کو قضا نہیں ہونے دیا۔ یا اگر کوئی شخص منہیاتِ شرعی میں سے کسی کا مرتکب ہے اور انہوں نے وعظ کہا، تو پھر توبہ ہی کرا کے چھوڑا۔ غرض میر متقی نے ایک دن موقع پا کر، جوں مبتلا کھانا کھا کر جانا چاہتا تھا، اس کو روکا، اور کہا "ذرا ٹھہرو مجھ کو تم سے کچھ کہنا ہے۔" مبتلا سمجھا کہ آج نماز گلے پڑی۔ بیٹھ گیا، تو میر متقی نے فرمایا: (وعظ) اگرچہ مجھ کو تمہارے حالات بالتفصیل معلوم نہیں، مگر جس قدر معلوم ہیں، ان سے میرا خیال یہ ہے کہ تمہاری تعلیم جیسی درستی کے ساتھ ہونی چاہیے تھی، نہیں ہوئی۔ تمہاری تعلیم کا عمدہ حصہ وہ ہے جو مدرسہ میں ہوا۔ مدرسے کی تعلیم اس اعتباد سے، کہ جو چیزیں پڑھائی جاتی ہیں دنیا میں بکار آمد ہیں، بلاشبہ مفید ہے۔ مگر افسوس، بڑے افسوس، بڑے سخت افسوس کی بات ہے کہ مذہب کی طرف بھول کر بھی کوئی توجہ نہیں کرتا۔ مذہب کو سلسۂ درس سے اس طرح نکال کر پھینک دیا ہے جیسے دودھ میں سے مکھی، جس سے لوگوں پر یہ ثابت ہوتا ہے کہ مذہب ایک فضول اور لایعنی چیز ہے اور دنیا میں اس کی مطلق ضرورت نہیں۔ پس مدرسوں کی تعلیم کا نتیجہ کیا ہے، کہ نوجوان لڑکے فارغ التحصیل، فضیلت کے خطاب، اور لیاقت کی سندیں لے کر مدرسوں سے نکلتے ہیں۔ ان کو تمام ملکوں کی نئی پرانی تاریخیں خوب مستحضر ہوتی ہیں۔ جغرافیے میں شاید ان کی معلومات اس درجہ کی ہو کہ سمندر کی مچھلی ہیں، یا پہاڑی کوے، یا افریقہ کے ریچھ، یا آسٹریلیا کے لنگور، یا امریکہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ ۔۔۔ 95

کے بن مانس، یا تبت کے دنبے، یا تاتار کے مینڈھے، یا عرب کے بدو، یا یورپ کے فرنگی، یا ہندوستان کے بھیل۔ وہ انگریزی شاید ایسی عمدہ لکھ سکتے ہوں گے کہ گویا ان کی مادری زبان ہے۔ ریاضی میں شاید وہ وقت کے بطلیموس ہوں۔ علمِ ہئیات میں وہ اپنے زمانہ کے فیثا غورس۔ فلسفے میں افلاطون۔ غرض ان میں علومِ دنیا کی ایسی جامعیت ہو گی کہ شاید ان کا نظیر نہ ہو۔ مگر وہ نہ مذہب کے معتقد، نہ خدا کے بندے، نہ رسول کی امت، نہ بادشاہ کی رعیت، نہ باپ کے بیٹے، نہ بھائی کے بھائی، نہ دوست کے دوست، نہ قوم کے ساتھی، نہ برادری کے شریک، نہ وضع کے پابند، نہ رسم کے مقلد۔ ذرا نظرِ انصاف سے اس بات کو دیکھو کہ فی الحقیقت مدرسے کی تعلیم میں ایسے خیالات پیدا کرنے کا رجحان ہے یا نہیں؟ ہے اور ضرور ہے۔ اور اس کا سبب ظاہر ہے کہ مختلف مذاہب کے نوجوان لڑکے ایک جگہ جمع رہتے ہیں۔ اپنے اپنے عقائد سے سب کے سب بےخبر، عمروں کے تقاضے یہ کہ جہاں اور ہنسی کی باتیں کرتے ہیں، ان میں ایک مذہب کا استخفاف بھی سہی۔ اگرچہ اپنا ہی مذہب کیوں نہ ہو۔ مدرسے کے حاکم یا مدرس کچھ مذہب کی پروا کرتے ہی نہیں۔ طالب علموں کے لیے تو سب کیوں کہ ان کا فرض خدمت نہیں۔ اپنے لیے بھی، بعض یا اکثر، اس لیے کہ خود کسی مذہب کے قائل نہیں۔ وظیفہ یا انعام یا دوسرے موجباتِ ترغیب مذہب پر کسی کا انحصار نہیں۔ علوم جو پ ڑھائے جاتے ہیں، اکثر جدید زمانۂ حال کے ایجاد۔ کوئی مسئلہ نہیں، جس میں متقدمین کی غلطی، جس میں سابقین کی خطا، ظاہر نہ کی جائے۔ اور ایک بڑی خرابی آ کر یہ پڑی ہے کہ بہت سی باتیں ہیں تو علومِ دنیا سے متعلق، مگر لوگوں کی غفلت یا بےمبالاتی سے داخلِ مذہب ہو گئی ہیں۔ اب جو ان کی غلطی ثابت ہوتی ہے، تو طالب علموں کو، جو مذہب سے کورے ہیں، معلوم ہوتا ہے کہ ان کے باپ دادا جو مذہباً ایسی لغو اور بےہودہ باتوں کو تسلیم کرتے چلے آئے، نرے احمق تھے اور ان کا مذہب ہی سراسر ہیچ اور پوچ ہے۔ ایک خرابی اور ہے کہ علومِ جدیدہ جن کا مدارس میں بڑا زور و شور ہے، سب

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ ۔۔۔ 96

ہیں از قسم بدیہات مشاہدات پر مبنی اور تجربات پر متفرع۔ ایسے علوم پڑھتے پڑھتے طالب علموں کو اس بات کی عادت پڑ جاتی ہے کہ وہ ہر چیز کا ثبوت ایسا ہی ڈھونڈنے لگتے ہیں جیسے اقلیدس کی دعوؤں کا، اور مذہبی باتوں کے لیے ایسا ثبوت نہ ہوا ہے، اور نہ ہونا ممکن ہے۔ حضرت موسیٰؑ سے بیہ یہود ایسی ہی بے جا فرمائشیں کیا کرتے تھے، لَن نؤمِنَ لَکَ حتیٰ نَرَی اللہ جھرۃً (ہم تو جب تک خدا کو کھلے خزانے نہ دیکھ لیں، تجھ پر ایمان لانے والے ہیں نہیں۔) لیکن مذہب کے لیے ایسے ثبوت کا نہ بہم پہنچ سکنا، ضعفِ مذہب کی وجہ سے نہیں ہے، بلکہ انسان کی ضعفِ خلقت کے سبب۔ کیا اگر موسیٰ خدا کا دیدار یہود کو نہ دکھا سکے، تو اس سے لازم آ گیا کہ خدا نہیں ہے؟ خدا تو ہے، مگر وہ آدمی کی آنکھ میں آنے کی چیز نہیں ہے۔ مدارس کی تعلیم، بلکہ سچ پوچھو تو عمل داری کا خلاصہ ہے، آزادی۔ بلاشبہ آزادی ہر ایک فردِ بشر کا ایک ضروری حق ہے۔ مگر آزادی کی بھی کوئی حد ہونی ضرور ہے۔ آدمی کی بناوٹ اس طرح کی واقع ہوئی ہے، اور آدمی، فی حدِ ذات، اس طرح کا مخلوق ہے کہ آزادیِ مطلق تو اس کو حاصل ہونی ممکن نہیں، اور مناسب بھی نہیں۔ کیا آزاد ہو سکتا ہے وہ بندۂ ناچیز، جس کا ہونا اور نہ ہونا اس کے اختیار میں نہیں؟ غیروں کا محتاج ، دوسروں کا دست نگر، پہننے میں، کھانے میں ، پینے میں، مرنے میں، جینے میں، چند منٹ کے لیے ہوا نہ ملے تو ہلاک، ایک وقتِ خاص تک غذا نہ پہنچے تو فنا، تڑاقے کی دھوپ کا تحمل نہیں، کڑاکے کی سردی کی برداشت نہیں۔ حالت تو اس قدر خستہ و خراب، اور اس پر آزادی کا پرِ سرخاب۔ وہی مثل ہے۔ جھونپڑے کا رہنا اور محلول کے خواب ۔ شعر
باندھتے ہیں سرد کو آزاد اور وہ پابہ گل
کیسی آزادی کہ یاں یہ حال ہے آزاد کا
میں اس میں لڑکوں کا زیادہ قصور نہیں پاتا۔ سارا قصور ان کی تعلیم و تربیت کا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ ۔۔۔ 97

گھڑی جو تمہاری جیب میں ہے، اس میں فولاد کی ایک کمانی گنڈلی کے طور پر تہہ کی ہوئی موجود ہے۔ کنجی کے زور سے کمانی کی تہوں کو خوب کس دیتے ہیں۔ اسی کو کوکنا کہتے ہیں۔ کوکنے سے کمانی میں ایک قوت پیدا ہوتی ہے۔ کمانی چاہتی ہے کہ کھلے اور اپنی اصلی حالت پر عود کر آئے۔ اگر کوئی چیز مانع نہ 9ہو تو کمانی سڑ سے دم کے دم میں ڈھیلی پڑ جائے اور وہ قوت جو اس میں پیدا کی گئی تھی، اکارت ہو۔ اس کے روکنے کے لیے گھڑی میں ایک پرزہ لگایا جاتا ہے، جس کا نام ہے "ریگولیٹر" اور جس کی وجہ سے کمانی بتدریج انضباط کے ساتھ کھلتی چلی جاتی ہے، اور اس وقت سے وقت کی شناخت کا عمدہ کام لیا جاتا ہے۔ یہی حال انسان کا کہ اس میں بھی ایک حالت کے مناسب خدا کی دی ہوئی چند قوتیں ہیں۔ اگر ان قوتوں کا کوئی روکنے والا ریگولیٹر نہ ہو تو یہ تمام قوتیں بےکار ہیں۔ بلکہ بجائے مفید ہونے کے الٹی مضر۔ انسان کا ریگولیٹر ہے مذہب، جو اس کو اندازۂ مناسب اور حد اعتدال سے گھٹنے، بڑھنے، گرنے، ابھرنے نہیں دیتا۔ مدرسوں کی تعلیم کوک ہے، اور ریگولیٹر نہ دارد! پس اس کا ضروری نتیجہ ہے کہ آزادی کا خیال دماغ میں سماتے ہی لوگ ہر طرح کے قیود سے نکلنے کی خواہش کرنے لگتے ہیں۔ یہاں تک کہ قیدِ عبودیت سے بھی۔ سرے سے مدرسے کی تعلیم کے اصول ہی غلط ہیں، کہ صرف دنیاوی علوم کے پڑھا دینے سے آدمی دنیا کے کام کا ہو جاتا ہے۔ اس سے تو یہ بات نکلتی ہے کہ دنیا اور دین دو چیزیں ہیں، جداگانہ، ایک کو دوسرے سے کچھ تعلق نہیں۔ ہم نہیں جانتے کہ جو لوگ ایسا خیال کرتے ہیں، دین سے کیا مراد رکھتے ہیں؟ مگر ہمارے نزدیک ، بلکہ تمام اہلِ ادیان کے نزدیک، دین کے معنی ہیں انسان کی اصلاح۔ اور اس کے دو حصے ہیں: اصلاحِ معاش اور اصلاحِ معاد۔ پس دین اور دنیا میں اگر ایک طرح کی منطبقی مغائرت ہے، جیسے عموماً کل و جز میں ہوا کرتی ہے اس کو تبائن یا تناقص یا تنافر

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ ۔۔۔ 98

سے بے تعلقی سے تعبیر کرنا مغالطہ دہی ہے۔کتنا ہی پڑھاؤ جب انسان میں دین نہیں تو اس میں راستی نہیں، دیانت نہیں، غیرت نہیں، حمیت نہیں، مروت نہیں، محبت نہیں، خلاصہ یہ کہ انسانیت نہیں۔ اس پر بھی اگر وہ آدمی دنیا کے کام کا ہے، تو اس دنیا کو خیرباد ہے اور اس کام کو سلام۔ ایک بات تعلیم کے متعلق اور بھی سوچنے کی ہے کہ انسان کو دوسرے حیوانات سے ایک وجۂ امتیاز یہ بھی ہے کہ حیوانات کو جتنی عقل دی گئی ہے، فطری ہے۔ تجربے یا امتداد عمر سے اس م یں ترقی نہیں ہوتی۔ مثلاً بیا گھونسلا بناتا ہے کیسا عمدہ کہ انسان اس کی پوری پوری پوری نقل کرنا چاہے، تو نہیں بن پڑتی مگر جیسا گھونسلا ایک بڈھا بیا بناتا ہے، جو اپنی عمر میں شاید بیس پچیس گھونسلے بنا چکا ہو گا، بجنسہ ویسا ہی گھونسلا پہلی بار ایک جوان بیا بنائے گا۔ بر خلاف انسان کے کہ اس کی عقل، تجربے اور عمر کے ساتھ کمال حاصل کرتی جاتی ہے۔ اس مضمون کو سعدیؔ نے کیا قل و دل کے طور پر ادا کیا ہے
مرغک از بیضہ بروں آید و روزی طلبد
آدمی زادہ نہ دارد خرد و عقل تمیز
آں بناگاہ کسے گشت و بچیزے نہ رسید
دیں بہ بمکین و فضیلت بگزشت از ہمہ چیز
اس لیے انسان کی تعلیم و تربیت کا قاعدہ یہ ہے کہ ہر چیز اس کی عمر کا ایک مناسب وقت دیکھ کر سکھاتے ہیں۔ مثلاً غیر ملک کی بولی ضرور ہے کہ بچپن میں سکھائی جائے، ورنہ بڑے ہو کر زبان مشکل سے ٹوٹتی ہے۔ چھوٹے بچے کو اگر منطق کے پیچیدہ مباحث سمجھانا چاہو تو سعیِ لاحاصل ہے۔ اسی طرح دین کی تعلیم کے لیے بھی ایک وقت مناسب ہونا چاہیے۔ اور وہ نہیں ہے مگر سنِ طفولیت۔ کیونکہ آدمی کی عمر جس قدر بڑی ہوتی جاتی ہے اسی قدر فطرت سے دور، اور اسی قدر اس کا دل لوثِ دنیا سے آلودہ،

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ ۔۔۔ 99

اور زنگِ اغراض سے تیرہ ہوتا چلا جاتا ہے۔ پھر شاید ایک وقت ایسا آئے کہ اس کے دل میں صبغت اللہ یعنی دین کا رنگ اٹھانے کی قابلیت باقی نہ رہے۔ نَعُوذُ بِاللہِ مِن شُرُورِ اَنفُسِنَاَ وَ مِن سَیِاتِ اَعمَالِنا 1 ۔ اسی حالت کی نسبت قرآن مجید میں فرمایا ہے۔ کلا بل ران علی قلوبھم ما کانو یکسبون ۔ (اور کچھ بات نہیں، ان کے دلوں پر ان کی بدکرداریاں جم گئی ہیں۔) دنیا میں اور بھی ہزاروں لاکھوں اللہ کے بندے ایسے ہیں کہ جن کو دین کی طرف سے مطلق توجہ نہیں۔ مگر بےتوجہی دو طور کی ہے۔ ایک وہ جس کا سبب کاہلی اور غفلت اور مساہلت ہو۔ دوسری وہ جو دین کے استخفاف سے پیدا ہو۔ یہی بےتوجہی ہے جس کو مدارس کی تعلیم پھیلاتی چلی جا رہی ہے۔ لیکن دین و مذہب لوگوں کی قدردانی اور تسلیم کا محتاج نہیں ہے۔ ہمالیا پہاڑ اپنی جگہ سے سرک جائے، گنگا پورب کو بہتے بہتے پچھم کو بہنے لگے، مگر خدا کی باتیں نہ کبھی ٹلی ہیں اور نہ کبھی کسے کے ٹالے ٹلیں گے۔ دین تم سے چاہتا کیا ؟ صرف اتنی بات کہ، کہ خدا نے تم کو آدمی بن ایا ہے، آدمی بن کر رہو۔ تم کو آنکھیں دی ہیں۔ اور دیکھتے ہو، کان دیے ہیں اور سنتے ہو، زبان دی ہے اور بولتے ہو۔ غرض ہر وقت سے وہ کام لیتے ہو جو اس کے کرنے کا ہے۔ قوتوں میں سب سے قوی اور سب سے عمدہ عقل ہے۔ اس نے تمہارا ایسا کیا قصور کیا ہے کہ اس کے کرنے کا کام اس سے نہیں لیتے۔ روئے زمین پر خدا کی جتنی مخلوق ہے سب میں اعلیٰ اور افضل اور اشرف انسان ہے، اور اس کی برتری اس سے ظاہر ہے کہ دوسری مخلوقات پر حکمرانی اور اس پر مالکانہ تصرف کرتا ہے۔ دیکھو انسان کی بنائی ہوئی عمارتیں، اس کے بسائے ہوئے شہر، اس کے لگائے ہوئے باغ ، نہریں، سڑکیں، پل، ریل، تار،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1 ۔ ہم اللہ سے پناہ مانگتے ہیں اپنے نفسوں کی شرارتوں اور اپنے اعمال کی بدیوں سے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ ۔۔۔ 100

دخانی بادبادنی جہاز، انواع و اقسام کی کلیں، زندگی کے ساز و سامان، مگر یہ برتری جو انسان کو استحقاقاً حاصل ہے، کیوں ہے؟ اس کی جسمانی قوتویں تو حیوانات کی قوتوں سے بہت ضعیف ہیں! مثلاً اس کی نظر سے گدھ کی نظر بہت تیز ہے۔ اس کے شامے سے شکاری کتوں کا شامہ کہیں زیادہ قوی۔ وہ اگر ذائقے سے چیزوں کا صرف مزا پہچانتا ہے، تو بعض جانور مزے کے سوا خاصیتِ طبی کی شناخت بھی کر لیتے ہیں۔ توانائی کے لحاظ سے ہاتھی اور شیر وغیرہ کے سامنے وہ ایک مورِ ضعیف سے بھی زیادہ کمزور ہے۔ پھر انسان کی بڑائی کس چیز میں ہے؟ عقل میں! اب یہ دیکھنا چاہیے کہ عقل کا کام کیا ہے؟ یہ سمجھنا کہ عقل ہم کو صرف اتنے واسطے دی گئی ہے کہ کھانا پینا، کپڑا، مکان، ساز و سامان بہم پہنچانے میں مدد کرتے، عقل کو ذلیل اور بےقدر کرنا ہے۔ یہ تو عقل کے نہایت متبذل کام ہیں۔ جانور جن کے جثے ہمارے جثوں سے بہت بڑے، ان کی بھوک پیاس ہماری بھوک پیاس سے کہیں زیادہ ہے۔ ہماری جتنی عقل نہیں رکھتے، اور ہم سے زیادہ آسودگی کے ساتھ زندگانی کرتے یہں۔ ساٹھ ستر برس کی زندگی اور معدودے چند ضرورتوں کے لیے ایسی عقل جو ماضی اور مستقبل کے قلابے ملائے اور زمین سے آسمان تک پاؤں پھیلائے، کسی بڑے اور عمدہ کام کے لیے دی گئی ہے۔ اور وہ نہیں ہے کہ مگر یہ کہ مخلوق سے خالق، اور فانی سے باقی، اور دنیا سے آخرت کو پچان کر، اس گھر کے لیے تیاری کریں جہاں ہماری روح کو ہمیشہ ہمیشہ رہنا ہے، لیکن فرض کرو کہ ہم ان خیالات کو اپنے ذہن میں نہ آنے دیں، اور آنکھیں بند کر لیں، دنیا و مافیہا سے جس کا ایک ایک ذرہ ہستیِ صانع اور ایک ایک واقعہ وجودِ سبب پر دلالت کرتا ہے، تو اس سے واقعات کا بطلان تو نہیں ہو سکتا۔ خدا ہے، اور ہمیشہ کو رہے گا۔ ہم اس کے بندے ہیں، اور کسی طرح ان کے فرمان سے باہر نہیں ہو سکتے۔ ہم کو مرنا ہے، اور جو کچھ دنیا میں کیا ہے اس کی جواب دہی کرنی ہے۔ عمل اچھے ہیں تو تسلی ہے، اور امن ہے، اور عافیت

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ ۔۔۔ 101

ہے، اور سکون ہے، اور اقرار ہے، یعنی یہ کہ بیڑا پار ہے۔ برے ہیں تو حسرت ہے اور افسوس ہے، اور ندامت ہے، اور پھٹکار ہے، اور دھتکار ہے، یعنی یہ کہ دکھ کی مار ہے۔ کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ اصل میں تو ہوتی ہے غفلت اور اونگھتے کو ٹھیلتے کا بہانہ، اختلافِ مذاہب بےتوجہی کا باعث ہو جاتا ہے۔ آدمی دیکھتا ہے کہ دنیا میں سیکڑوں ہزاروں، مذہب ہیں، ہر ایک صرف اپنے آپ کو برسرِ حق سمجھتا ہے، اور باقی سب کو گمراہ اور کافر اور مردود اور ملعون اور جہنمی۔ تو یہ دیکھ کر خواہ نخواہ اس کے دل میں یہ خیال آتا ہے کہ پہلے ان ہزاراوں مذاہب کے معتقدات سے وافیت حاسل کروں، پھر ان کے سوال و جواب سنوں، پھر ان میں محاکمہ کروں۔ اس کے لیے میں کیا، میری تو دس نسلوں کی عمریں بھی کفایت نہیں کر سکتیں۔ اس سے بہتر ہے کہ مذہب کی پہیلی کو، جس کا اتا پتا کچھ نہیں، سوچو ہی مت۔ لیکن یہ بھی ایک وسوسۂ شیطانی ہے، اور انسان کے لامذہب ہونے کے لیے حجت نہیں ہو سکتا۔ دنیا میں جتنے مذہب ہیں، جہاں تک مذہب کو دنیا سے تعلق ہے، سب کا مقصود اصلی ہے، آدمی کی اصلاح۔ اور اختلاف اگر ہے تو ملکوں کی آب و ہوا، لوگوں کی طبائع اور عادات اور ضرورتوں کے اختلاف کی وجہ سے۔ اور فروع میں ہے، نہ اصول میں، جزئیات میں ہے، نہ کلیات میں۔ پس تم جیسے نوجوان آدمیوں کے لیے اس سے بہتر صلاح کی بات نہیں کہ جو جس شان میں ہے، اسی شان میں رہ کر پابندیٔ مذہب کو نہ چھوڑے۔ اس سے بڑا فائدہ یہ ہو گا کہ نیکی کا خیال دل میں راسخ ہو جائے گا۔ خدا کسے لگاؤ پیدا ہو گا، اور حق کی تلاش میں اس کو مزا ملے گا۔ آدمی اگر اتنا کرے، اور اس سے زیادہ کر ہی کیا سکتا ہے! تو ضرور خدا کی رحمت اس کی دست گیری کرے گی۔ والذین جاھدو فینا لنھدینھم سبلنا 1 ۔ لوگ مذہب کی طرف سے جو
۔۔۔۔۔۔۔۔
1 ۔ جن لوگوں نے ہامرے لیے کوشش کی، ہم ان کو اپنی راہ دکھائیں گے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ ۔۔۔ 102

اس قدر غافل اور مکرے بن رہے ہیں، اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے ، کہ خدا نے اپنے بندوں کی آزمائش کے لیے ، دنیا کا انتظام ایسے طور پر رکھا ہے کہ دنیاوی حالات کے اعتبار سے، نیک و بد، اور پابندِ مذہب اور لامذہب، اور مومن و کافر، اور موحد و مشرک، کسی کا کچھ امتیاز نہیں۔ خداوند تعالیٰ کی عام رحمتوں سے سب کے سب ، بلا تخصیص، یکساں طور پر متمتع ہوتے ہیں۔ وقت پر پانی سب کے واسطے برستا ہے، ہوا کا ذخیرہ سب کے لیے موجود ہے، رزق ہر ایک کی خاطر مہیا ہے۔ صحت و مرض، تمول و افلاس، توالد و تناسل، حیات و ممات، غرض زندگانی کی بھلی بری تمام کیفیتیں، جیسی مسلمانوں میں، ویسی عیسائیوں میں، ویسی یہودیوں میں۔ کوئی قوم، بلکہ کوئی فرقہ، بلکہ کوئی متنفس، اس بات کا دعویٰ نہیں کر سکتا کہ مذہب کی وجہ سے مجھ کو دنیا میں یہ خصوصیت حاصل ہے۔ اور کہیں ایسی ایک ادنیٰ سی خصوصیت بھی پائی جائے، تو تمام روزے زمین سے اختلافِ مذاہب کے معدوم کر دینے کو کافی ہے۔ یہ بے خصوصیتی ان لوگوں کے حق میں سمِ قاتل ہے جن کی طبیعتیں لامذہبی کی طرف مائل ہے۔ غور کرنے کی تو ان میں عادت ہوتی نہیں۔ دنیا میں ہیں، اور دنیا ہی کو دیکھتے ہیں، اور سمجھتے ہیں۔ بس جو کچھ ہے یہی دنیا ہے۔ ذالک مبلغھم من العلم 1 لیکن ذار عقل کو کام میں لائیں، تو معلوم ہو اور اندر سے دل آپ ہی گواہی دینے لگے، کہ نہیں، ایک جہاں اور بھی ہے۔ یہ دنیا خاوب ہے اور وہ جہاں اس کی تعبیر۔ یہ مجاز ہے اور وہ حقیقت، یہ نمونہ ہے اور وہ اصل۔ جس طرح عقلِ دنیا سب کی یکساں نہیں، اسی طرح عقل دین کے مدارج بھی متفاوت ہیں۔ بعض لوگ وہ ہیں جو صرف موجوداتِ دنیا سے خدا کو، اور خدا سے اس کی عظمت کو، اس کی عظمت سے اس کی معبودیت کو مانتے پہچانتے ہیں اور بعض موجودات سے نہیں، بلکہ تغیرات سے،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1 ۔ ان کے علم کی رسائی یہیں تک ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ ۔۔۔ 103

اور تغیرات سے بھی نہیں، بلکہ حادثات عامہ سے اور بعض حادثاتِ عامہ سے بھی متنبہ نہیں ہوتے تاوقتیکہ خود ان پر کوئی آفت نازل نہ ہو۔ اور بعض حلولِ مصیبت پر بھی کہنے کے محتاج، گویا بیل ہیں، کہ آر بھی گھپوؤ اور ساتھ منہ سے بھی ٹٹکاری دو، تب ان کو خبر ہو کہ چلنا چاہیے۔ اے میرے پیارے بھتیجے! اے مرحوم کے یادگار! اے مغفور کی نشانی! مجھ کو بھائی کے مرنے کا اتنا رنج نہیں ہوا جتنا تمہاری دین کی تباہی کا۔ بھائی اگر مرے تو عمر طبعی کو پہنچ کر مرے، اور ایک دن مرنا ضرور تھا۔ میں نے اپنی موت کے لیے دعا تو نہیں مانگی، اس واسطے کہ موت کے لیے دعا مانگنا منع ہے۔ مگر سات برس عرب میں رہا، کوئی دن ایسا نہیں گزرا کہ میں نے اس سرزمین میں اپنے دفن ہونے کی تمنا نہ کی ہو۔ مگر کدا کی مبارک مرضی یوں تھی کہ میں یہاں پھر آؤں اور بھائی کا مرنا سنوں۔ جب سے میں نے بھائی کا مرنا سنا، ہر روز بلکہ دن میں کئی کئی بار (دعا نہیں) دل میں تمنا کرتا ہوں، کہ الٰہی اگر عرب کی مٹی سے میرا خمیر نہیں ہے، تو مجھ کو باایمان دنیا سے اٹھا کر اس شخص کے پہلو میں جگہ دے جو مجھ کو دنیا میں سب سے زیادہ عزیز تھا، یعنی میرے بڑے بھائی اور تمہارے والدِ مرحوم۔ میں نہیں جانتا کہ یہ تمنا بھی پوری ہو یا نہ ہو، مگر بھائی کے مرنے کے بعد اب زندگی بےمزہ ہے، اور اس ملک میں رہنا اس سے زیادہ بےمزہ۔ یہ مت سمجھو کہ آدمیوں کے باہمی تعلقات اس زندگی تک کے تعلقات ہیں۔ نہیں، نہیں، یہ تعلقات روحی تعلقات ہیں۔ اور چونکہ روحوں کو فنا نہیں، ان کے تعلقات کو بھی انقطاع نہیں۔ یقین جاانو کہ تمہاری اس طرزِ زندگی سے بھائی کی روح کو ایذا ہوتی ہے۔ کیونکہ ان کو اس زندگی میں بھی تمہاری تکلیف برداشت نہ تھی۔ اور اس طرزِ زندگی کے ہاتھوں تم پر جو سخت بلا نازل ہونے والی ہے، میں اس کو عقل سے جانتا ہوں، اور تمہارے باپ اس کو آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔ باپ سے ہو سکتا ہے کہ بیٹے کو کنویں میں گرتا ہوا دیکھے اور پروا نہ کرے۔ باپ سے ممکن ہے کہ بیٹا جلتی ہوئی آگ میں کودے اور وہ کھڑا تماشا دیکھے۔ مرحوم نے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ ۔۔۔ 104

لوگوں کی نظروں میں سلامت روی اور نیک وضعی اور بھلمنساہٹ سے جو ایک وقار پیدا کیا تھا، تم ہی اپنے دل میں انصاف کرو، کہ تم نے اس کو برھایا یا گھٹایا۔ روشن کیا یا مٹایا؟ ایسے چاہنے والے، ایسے شفیق، ایسے مہربان، ایسے دل سوز باپ کے احسانات کا یہی معاوضہ تھا؟ ان کے سلوک اسی پاداش کے قابل تھے؟ جو باتیں میں تم سے کہہ رہا ہوں، تم کو شاید پہلی بار ان کے سننے کا اتفاق ہوا ہو گا، مگر میری ساری عمر ان ہی غوروں اور فکرون میں گزری ہے۔ اس کو میں اپنی خوش نصیبی سمجھتا ہوں کہ شروع سے مجھے اچھے لوگوں کی صحبت رہی۔ ہندوستان سے لے کر عرب تک، ہزار ہا علماء اور شیوخ سے ڈھونڈ ڈھونڈ کر ملا، اور جس سے جتنا فیضان قسمت کا تھا، حاصل ہوا۔ الحمد للہ علٰی ذلک۔ تم دیکھتے ہو کہ میں دین کے کاموں میں بھی، جہاں تک مجھ سے ہو سکتا ہے، اور افسوس ہے کہ قدرِ واجب کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں ہو سکتا، لگا لپٹا رہتا ہوں۔ اس پر بھی خدا کی عظمت اور اس کے جلال پر نظر کرتا ہوں، تو مجھ کو اپنی نجات کی طرف سے بالکل مایوسی ہوتی ہے۔ اور تنہائی میں، خصوصاً رات کے وقت، جب دنیا کی بےثباتی، قیامت کے حساب، اور اپنی بےبضاعتی کے افکار ہجوم کرتے ہیں، تو مجھ کو اس قدر وحشت ہوتی ہے کہ تم کو اس کا اندازہ سمجھانا مشکل ہے۔ صرف اس کی رحمتِ بےانتہا کی توقع اس وقت دست گیری کرتی ہے، جس سے دل کو تسلی ہوتی ہے۔ یہ زحمت جو مجھ کو دین کے کاموں میں اٹھاتے ہوئے دیکھتے ہو، اگر اس کو زحمت سے تعبیر کرنا درست ہو، تو اتنی مدد کرتی ہے کہ امیدواریٔ رحمت کی ڈھارس بندھاتی ہے۔ اگر خدا عقل میں راستی دے تو دنیا کی سب باتوں سے دین کی تعلیم نکلتی ہے۔ دنیا میں جس کو جس پر کسی طرح کی حکومت ہے جیسے شوہر کو بیوی پر، یا باپ کو اولاد پر، یا بادشاہ کو رعایا پر، اگرچہ دنیا کی ساری حکومتیں عارضی اور ضعیف ہیں، اس پر بھی کوئی حاکم کسی محکوم کی کسی نافرمانی سے درگزر نہیں کرتا۔ کیا غفلتیں ہیں، کیا بےفکریاں ہیں، کیا مغالطے ہیں، کیا مناسبتی ہے، کہ بندۂ بے حقیقت و ناچیز

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ ۔۔۔ 105

نافرمانی کیسی اس قادرِ ذوالجلال کے اوامر کا استخفاف کرے، گویا اس کا مدِ مقابل ہے اور پھر درگزر کی توقع، کیا ہیکڑی ہے! مغفرت کی امید، کیا بےحیائی ہے! تم کو اکثر باتوں میں مغالطہ واقع ہوا ہے۔ دوستوں کے بارے میں بھی تمہاری رائے غلطی سے محفوظ نہیں رہی۔ یہ لوگ جو تمہارے آگے پیچھے پھرتے ہیں، اور ہر وقت تم کو گھیرے رہتے ہیں، جہاں تک میں نے خیال کیا ہے، ایک کو بھی تمہارا خیر خواہ نہیں پاتا۔ ان کے کچھ مطلب ہیں، بیہودہ، اغراض ہیں، فاسد۔ تم کو دیکھ پایا، عقل کے کوتاہ، کانٹھ کے پورے، آپ بنے شکاری اور تم کو گردانا ٹٹی، اور لگے تمہاری آڑ میں تکے چلانے۔ غرض مندانہ رابطے عموماً، اور خاص کر جب کہ اغراض خسیس ہوں، نہایت بےثبات ہوتے ہیں، اور سریع الانقطاع۔ مجھ کو توقع ہے کہ تم نے خود اس کا تجربہ کر لیا ہو گا۔ ورنہ میرا اس وقت کا کہنا چاہو لکھ رکھو، کہ تمہارے اتنے دوست ہیں ان میں سے کسی ایک کے ساتھ دو برس تک بھی صحبت یوں ہی چلی جائے تو جاننا بہت چلی، خیال کو اور وسعت دو تو یہی حال ہے دنیا کے تمام جسمانی تعلقات کا۔ غیروں کی کیا شکایت؟ دوسروں سے کیا گلہ؟ اپنے ہی اعضاء و جوارح، اور اپنی ہی قوتیں کب تک کی ساتھی ہیں؟ دیکھو مجھ جیسے بوڑھوں کو، کہ ایک بصارت سے معذور ہے تو دوسرا ثقلِ سمع سے مجبور۔ کسی کی بھوک تھکی ہوئی ہے اور کسی کے ہاضمے میں فتور۔ پیری و صدعیب، زندہ درگور۔ دنیا کی یہی بےثباتی دیکھ کر، جن کی عقلیں سلیم ہیں، فانی لذتوں کے گرویدہ اور عارضی منفعتوں کے فریفتہ نہیں ہوتے۔ جس قدر میں نے تم سے کہا، اگرچہ ضرورت سے بہت کم کہا، مگر مجھ کو طمہاری طینت کی پاکیزگی سے امید ہے، کہ انشاءاللہ رائگاں نہ جائے گا، اور خدا نے چاہا تو میں بھی دعا کروں گا کہ تمہارے دل میں سوچنے اور غور کرنے کا شوق پیدا ہو۔ مگر قاعدہ ہے کہ دنیا میں کوئی مبتذل سے مبتذل فائدہ بھی بے طلب نہیں ملتا۔ سچ ہے کہ جب تک بچہ روتا نہیں، ماں بھی دودھ نہیں دیتی۔ پس دین کے عمدہ اور دائمی فائدے بدرجۂ اولٰی طلب پر موقوف اور پیروی پر منحصر ہونے چاہیئں،

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ ۔۔۔ 106

اور وہ تمہارے کرنے کا کام ہے۔ دین کے کام ہیں تو دل سے متعلق، اور کوئی شخص دوسرے کے خیالات یعنی دلی حالت پر مطلع نہیں ہو سکتا۔ مگر خیالات کی اصلاح سے ارادے کی، اور ارادے سے افعال کی، طرزِ تمدن کی، اور وضع کی، گفتگو کی، نشست و برخاست کی، حرکات و سکنات کی، سبھی چیزوں کی اصلاح ہوتی ہے۔ یعنی انسان کا ظاہر حال اس کے دل کا ترجمان ہوتا ہے۔ پس تم کہو یا نہ کہو خود بخود منکشف ہوتا رہے گا۔ کہ جس راستے پر میں نے تم کو لگا دیا ہے تم نے اس میں چلنا شروع کیا یا نہیں؟

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 

شمشاد

لائبریرین
فسانہ مبتلا ریختہ صفحہ 149

بیسویں فصل

مبتلاؔ کا دوسرا نکاح

اور اُس کی دوسری بی بی ہریالیؔ کا ماما بن کر گھر میں داخل ہونا

مبتلاؔ کے سر پر اُن دنوں ایسا جن سوار تھا کہ اُس کی عقل ہی ٹھکانے نہ تھی۔ عارؔف سے پیچھا چُھڑا وہ پھر بیگم کے گھٹنے سے جا لگا۔ وہ تو پہلے ہی سے اُس کے لیے جال پھیلائے بیٹھی تھی۔ جانا تھا کہ اُس پر چھا گئی۔ بیگم بالطبع زیادہ تر اس بات کی طرف راغب تھی کہ مبتلاؔ آشنائی کے طور پر اُس کو گھر میں ڈال لے مگر میر متقیؔ اور عارف کی تعلیم کا مبتلاؔ پر اتنا تو اثر ہوا کہ اُس نے بے نکاح بیگم کے ساتھ تعلق رکھنے کر پسند نہ کیا۔ پاس تھی مسجد، دو طالب العلموں کو بلا بھیجا، نکاح پڑھا جانے لگا، مہر میں اختلاف، مبتلاؔ نے چاہا مہر شرع محمدی، بیگم نے کہا "جو غیرت بیگم کا مہر وہ میرا مہر، جیسی نکاحی بی بی وہ ویسی نکاحی بی بی میں۔" دیر تک اس میں تکرار ہوتی رہی۔ آخر مولوی صاحب جو نکاح پڑھاتے تھے بولے "جانے دو مۃر مثل رکھو۔" مبتلاؔ تو نئم راضی ہو چلا تھا، مگر بیگم

فسانہ مبتلا ریختہ صفحہ 150

مہر مثل کے نام سے جھیپتی تھی، کیوں کہ سارے خاندان میں کبھی کسی کا نگاح ہوا ہو تو مہر مثل ہو، دادی اور پھوپھیاں ساری عمر خرچیاں کماتی رہیں۔ مہر مثل آئے تو کہاں سے آئے۔ ناچار مہر شرع محمد ماننا پڑا اور بات یہ بنائی کہ وہ بھی کیا بی بی ہے جو میاں پر مہر کا دباؤ ڈال کر گھر کرے۔ ہم تو بڑا مہر مرد کے دل کو سمجھتے ہیں، دل مُٹھی میں آیا تو جانوں سب کچھ بھر پایا۔ وہ کیا غضب کے دو انچھر تھے کہ اِدھر پڑھے گئے اور اُدھر فکروں نے آ گھیرا۔بیگم نے نکاح کے بعد پہلی بات جو کی، وہ یہ تھی کہ "یہ مکان جس میں میں رہتی ہوں، تم کو معلوم ہے کہ کرائے کا ہے، اور جتنا ساز و سامان جو تم یہاں دیکھتے ہو، یہاں تک کہ میرے ہاتھ کا گہنا اور گلے کے کپڑے کوئی چیز میری نہیں۔میری سگی خالہ میرے ساتھ ہیں، یہ سب اُ ن کا مال ہے۔ ان کی ہرگز مرضی نہ تھی کہ میں نکاح کروں۔ اب جو میں نے ان کو ناراض کر کے کیا ہے، تو اِدھر کی دنیا اگر اُدھر ہو جائے، خالہ بندی میرے پاس ٹھہرنے والی نہیں۔ اور مجھ کو اس وقت کہیں لے چلتے ہو تو میں تیار ہوں۔ اپنی آبرو کا پاس کر کے گہنا کپڑا تم بہتیرا پہناؤ گے اور میں پہنوں گی، مگر لے چلنا ہے تو مجھ کو اپنے یہاں کے کپڑے پہنا کر لے چلو اور دو چار دن کے یہاں ٹھہرانے کی صلاح تو جا کر خالہ سے اجازت لو۔ میں ان کے سامنے نہیں جا سکتی۔" مبتلاؔ نکاح کے لیے تو بڑا مستعجل تھا، مگر احمق نے پہلے سے اتنا بھی تو نہ سوچا کہ کہاں دوسری بی بی کولے جا کر رکھوں گا اور کیوں کر اس نئے گھر کا انتظام ہو گا۔ اب جو دفعتاً اس کو معلوم ہوا کہ بتیک بے سر و سامان محض بیک بینی و دوگوش اُس کے سر پڑی، تو بہت سٹ پٹایا اور جتنا اختلاط وہ معمولی ملاقاتوں میں کر لیا کرتا تھا، طبعیت کو اُ کے لیے بھی حاضر نہ پایا۔ یہ حقیقت تھی اس خواہس کی جس کے پیچھے مبتلاؔ اس قدر دیوانہ بن رہا تھا کہ دنیا اور دین اس کو کچھ نہیں سوجھتا تھ۔ اب ایک ذرا سا تردُد پیش آ گیا تو کہیں اُس خواہس کا پتہ نہ تھا۔ میر متقیؔ اور عارفؔ اس کو یہی تو سمجھاتے تھے کہ کس فکرِ خسیس میں پڑے

فسانہ مبتلا ریختہ صفحہ 151

ہو! فکر کرنے کی باتیں دوسری ہیں، عمدہ، اونچی اور ضروری۔ اگر اُن میں دل لگاؤ تو اس فکر بے ہودہ سے نجات پاؤ۔ بیگم پر اپنی درماندگی ظاہر کرتے ہوئے تو اُس کو شرم آئی، آخر وہ یہ کہہ کر اٹھ آیا کہ ابھی تھوڑی دیر میں بند و بست کر کے تم کو لے چلتا ہوں، تیار رہو۔ ایک بات یہ بھی اکثر دیکھنے میں آئی کہ آوارہ اور عشاش لوگ دھوکہ دینے میں بڑے چالاک ہوتے ہیں۔ اور اس کس سبب یہ سمجھ میں آتا ہے کہ خود ہمیشہ تختۂ مشقِ مغالطات رہتے ہیں۔ مبتلاؔ کو بھی عین وقت پر غضب کی سوجھتی تھی۔ جس وقت تک وہ بیگم کے پاس بیٹھا رہا، کوئی بات اُس کے ذہن میں نہ تھی، اُٹھ کر باہر آنا تھا کہ اُس نے اپنے دل میں کہا بیگم کو اپنے ہی مکان میں بلکہ زنان خانے میں بلکہ غیرت بیگم کے ساتھ رکھنا ٹھیک معلوم ہوتا ہے۔ کیوں کہ یہ بات چھپنے والی تو ہے نہیں۔ آخر کبھی نہ کبھی کُھلے گی ضرور۔ پس جو کچھ ہونا ہے وہ پرسوں کا ہوتا کل اور کل کا آج ہو چکے۔ یہ دل میں ٹھان، وہ گھر کی طرف چلا آ رہا تھا کہ راہ میں اُس کو گھر کی دو عورتیں ملیں، ماما، ماما کے ساتھ انا۔ انا کی گود میں مبتلاؔ کی دودھ پیتی ہوئی دس گیارہ مہینے کی ننھی بچی چور کی داڑھی میں تنکا، مبتلاؔ تو سمجھا کہ غیرت بیگم کو نکاح کی خبر ہو گئی، اور سنتے کے ساتھ ہی شاید ناظر کے گھر چلی گئیں اور یہ عورتیں پیچھے سے جا رہی ہیں۔ گھبرا کر پوچھا۔ ماما بولی ننھی بچی کا جی دس بارہ دن سے ایسا ماندہ ہو رہا ہے کہ بخار کسی وقت نہیں اُترتا، کل شام سے مطلق آنکھ نہیں کھولی، اب کے ایسی بھاری نظر ہوئی ہے کہ دوپہر سے دودھ بھی منہ میں نہیں لیتیں۔ متوکل شاہ صاحب کے پاس دم کرانے لیے جاتے ہیں۔ مبتلاؔ سے اور ایک ڈاکٹر سے بہت ملاقات تھی۔ مبتلاؔ لڑکی کو ڈاکٹر کے پاس لے گیا۔ اس نے دیکھ کر کہا کہ بخار بڑے زور کا ہے مگر کچھ گھبرانے کی جگہ نہیں۔ کچلیاں پھول رہی ہیں، میں مسوڑھا کھولے دیتا ہوں، اور شیشی ایک بھیجدینا، عرق دوں گا، گھنٹے گھنٹے بعد ایک ایک چمچہ پلانا۔ پسینہ آ کر تپ اُتر

فسانہ مبتلا ریختہ صفحہ 152

جائے گی اور دودھ تو خدا نے چاہا لڑکی ابھی پینے لگے گی۔ مسوڑھے کی تکلیف کےمارے منہ نہیں چلا سکتی۔ یہ کہہ کر نشتر نکال مسوڑھا کھول دیا۔ انا نے پیٹھ مر موڑ کر دودھ لگایا تو غٹ غٹ پینے کی آواز آنے لگی، سب لوگ خوشی خوشی گھر واپس آئے، جب مرادنے میں پہنچے تو مبتلاؔ نے لڑکی کو آپ لے لیا۔ یہ تو خیر لڑکی تھی، اس سے بڑا لڑکا معصوم ساڑے تین برس کا ہوا۔ اس بلا کی باتیں جیسے بنگالے کی مینا، اور ایسی پیاری صورت کہ کوئی راہ چلتا بھی دیکھتا تو گود میں اٹھا لیتا، مبتلاؔ نے کبھی بھول کر بھی آنکھ اٹھا کر اس کی طرف کو نہ دیکھا، بلکہ وہ بچہ جب اس کو دیکھتا، ابا ابا کہہ کر دوڑتا اور یہ ظالم دور سے اُس کو جھڑک دیتا۔ خلاف عادت بیٹی کو گود میں لیے ہوئے جو گھر میں گُھسا، غیرت بیگم تو دیکھتے ہی ریجھ گئی، اور بیٹی کو لینے کے لیے دوڑی، اور لگی پوچھنے کہ "میں نے تو اس کو دم کروانے کے لیے بھیجا تھا، کیا تم اس کو اُلٹا پھروا لائے؟" مبتلاؔ : تم کر خبر بھی ہے اس کی کچلیاں نکل رہی ۃٰن، اور کچلیوں کا تو تو معمول ہے کہ بچے کو کچلا کر کے بڑی مشکل سے نکتہ ہیں۔ میں اس کو ڈاکٹر کے پاس لے گیا تھا، اس نے نشتر سے اس کا مسوڑھا کھول دیا ہے اور بخار کے لیے عرض دینے کو کہا، شیشی بھیج دو ماما جا کر عرق لے آئے، خدا نے چاہا آج ہی رات کو بخار بھی اُتر جائے گا اور کچلی کو تو سمجھو نکل آئی۔" غیرت بیگمؔ : "اے ہے کیا مسوڑھے کو چیرا لگایا ہے۔" مبتلاؔ : "کچھ خوف کی بات نہیں، انا سے پوچھو کہ لڑکی کو خبر تک بھی نہیں ہوئی، اُسی وقت تو اس نے خاصی طرح دودھ پیا۔ ڈاکٹر کہتا تھا کہ جب دانت نکلنے کو ہوتا ہے تو مسوڑھا پہلے مُردار پڑ جاتا ہے۔ اس وجہ سے تکلیف نہیں ہوتی، کچھ خدا کو بہتری کرنی تھی کہ عین وقت پر تدبیر ہو گئی، ورجہ آج رات بھر میں معلوم نہیں کیا ہو جاتا۔"غیرتؔ بیگم نے لڑکی کا منہ کھول کر دیکھا تو اتنی ہی دیر میں بخار بھی کسی قدر ہلکا ہو گیا تھا، اور صورت بھی ہوشیار تھی۔ پُکارا، بتول، بتول! تو ماں کی آواز پہچان کر آنکھیں کھول دیں، اور دیکھ کر مسکرائی بھی۔ ماں نے پیار کر کے انا

فسانہ مبتلا ریختہ صفحہ 153

کی گود میں دیا تو پھر دودھ پیا۔ یہ دیکھ غیرتؔ بیگم بولی کہ ننھے بچوں کی یہی تو بڑی مصیبت ہے کہ آپ تو منہ سے کچھ نہیں کہہ سکتے، اوپر والوں کو کیوں کر معلوم ہو کہ ان کو کس بات کی ایذا ہے۔ آنکھوں کا نہ کھولنا اور ڈر ڈر کر اُچھل پڑنا اور ہتھیلیوں میں بساندی بساندی بُو کا آنا، ان باتوں کو دیکھ کر یہاں تو سب یہی کہتے تھے کہ نظر ہو گئی ہے۔ مبتلاؔ : "ڈاکٹر نے دیکھنے سے پہلے زبانی حال سن کر کہہ دیا تھا کہ کوئی دانت نکل رہا ہو گا، پھر جو منہ کھول کر دیکھا تو حقیقت میں دور سے کچلی صاف جھلک رہی تھی۔" غیرتؔ بیگم : "گھر میں کوئی بڑا بوڑھا ہو تو ان باتون کا دھیان رکھے، بچے ذرا مانے پڑتے ہیں تو میرے ہوش و حواس ٹھکانے نہیں رہتے۔ لو اب مغرب کی اذان ہو چکی ہو گی، یا ہورہی ہو گی۔ لڑکی کے جھکڑ میں کھانے کا بھی تو کچھ بندوبست نہیں ہوا۔ گوشت کا تو اب وقت نہین رہا۔ کہو تو خاگینہ پکوا لوں۔" مبتلاؔ "جو تمہارے جی میں آئے پکواؤ، مگر خدا کےلیے کوئی سلیقہ مند عورت ضرور رکھو۔"غیرت بیگم : "ماماؤں کا تو ہمارے شہر میں ایسا توڑا ہے کہ دوا کے لیے بھی میسر نہیں۔ جو عورتیں اس کام کی ہیں، مزے میں گھر بیتھے گوٹے کناریاں بنتی یا سلائی کا سیتی ہیں۔ نوکری پرائی، تابعداری کرے اُن کی بلا۔ اور جن سے یہ کام ہو نہیں سکتا، اُنہوں نے سر پر ڈالا برقع، اور جدھر کو منہ اُٹھا چل کھڑی ہوئیں، پہر چے گھڑی بھیک مانگی، لدی پھندی گھر لوٹ آئیں۔" مبتلاؔ : "لیکن میرے نزدیک تم کو ماما کی نہیں بلکہ ایسی عورت کی ضرورت ہے جو بال بچوں کی خبر گیری کرے، وقت پر ان کے ہاتھ منہ دھلائے، کھانا کھلائے، کپڑے پہنائے، گھر کی چیز بست دھرے اُٹھائے، غرض داروغہ کی طرح گھر کے سارے انتظام کی نگرانی کرکے تم کو آسایش پہنچائے۔"

غیرت بیگم : "تم ہی کوئی اس طرح کی عورت ڈھونڈ کر نہٰں لا دیتے! مبتلاؔ : "لا دوں تو رکھو گی؟ اور کیا تنخواہ دو گی؟" غیرت بیگم : "ضرور رکھوں گی، اور تنخواہ پانچ روپے اور کھانا کپڑا۔" مبتلاؔ : " خیر، اتنی ہی تنخواہ دینا، مگر خاطر داری سے رکھنا۔ لکھنؤ کی ایک

فسانہ مبتلا ریختہ صفحہ 154

عورت ہے، خدا جانے کس تباہی میں آ کر یہاں چلی آئی ہے۔ اگر پھٹا پرانا ایک جوڑا کپڑا دو تو میں پہنا کر ابھی اُس کو لے آؤں۔" غیرت بیگم نے جلدی سے گٹھڑی کھول کر ایک جوڑا کپڑا نکال میاں کے حوالے کیا۔ مبتلاؔ کپڑے لے بیگم کے پاس پہنچا اور اُس کو سمجھا دیا کہ اس طور میں نے تمہارے گھرلے چلنے کی راہ نکالی ہے۔ مجھے اپنی بی بی کا حال معلوم ہے۔ وہ یہی نہیں کہ صورت کی اچھی، بلکہ اُس میں عقل کی بھی کوتاہی ہے۔ صورت تو خیر تم خود چل کر دیکھ لو گی، مگر عقل کی کوتاہی اس سے ظاہر ہے کہ اس نے عورت کے لانے کی فرمایش کی بھی تو مجھ سے، پس تم کو چند روزالبتہ بے عزتی کا تحمل کرنا پڑے گا، اس کے بعد مجھے کامل یقین ہے کہ تم گھر والی ہو گی، اور وہ رہے گی تمہاری خدمت کرے گی یا اپنے میکے چلی جائے گی۔" غرض غیرتؔ بیگم کا اُتارن پہن، معزز ماما یا داروغہ کا بھیس بنا بیگم مبتلاؔ کے گھر جا داخل ہوئی۔ بھلے مانسوں کی بہو بیٹیوں کی طرح دبی جھکی، سُکڑی سمٹی۔ مبتلاؔ کو تو اتنی جرأت نہ ہو سی کہ خود لے جا کر غیرتؔ بیگم سے ملا دیتا۔ دروازے کے اندر کر اتنا پکار دیا "لو صاحب! یہ داروغہ جی آتی ہیں۔" اور آپ مردانے میں جا بیٹھا۔ بیگم نے اپنے تئیں سنبھالا بہت، مگر وہ جس قدر اپنے تئیں چھپاتی تھی اسی قدر اس کا پردہ فاش ہوتا جاتا تھا۔ آئی تو نوکوروں کے نام سے اور عورتوں میں بیٹھی دُلہنوں کی طرح گھونگھٹ نکال کر۔ رات کا تھا وقت غیرتؔ بیگم نے کہا ذرا روشنی قریب لاؤ تو ان کی صورت اچھی طرح نظر آئے۔ جوں غیرت بیگم نے زبردستی اس کا منہ کھولا، دیکھتی کی اہے کہ ایک دورت ہے، جوان، ماتھے پر افساں چُنی ہوئی، پٹیاں جمی ہوئی، اُلتے بل کی چوٹی اور اُس میں چنپا کا موباف، کانوں میں چنبیلی کی کلیاں، آنکھوں میں دھواں دھار سرمہ، مسی کی دھڑی اور دھڑی پر لاکھا، ہاتھ پاؤں میں مہندی، دور سے خوشبو پڑی مہک رہی ہے۔ غیرتؔ بیگم دیکھتے کے ساتھ اس طرح ڈر کر پیچھے کو ہٹی کہ جیسے کوئی بچہ بیچا سے بھاگتا ہے، اور لگی کہنے "اوئی بیوی! یہ ماما کس قسم کی؟ یہ تو کوئی نامراد کنچنی ہے۔ پھر تو ہمسائے تک کی عورتیں گھر میں آ بھریں اور

فسانہ مبتلا ریختہ صفحہ 155

سب نے مل کر بیگم کا ایسا بڑا ہدڑا کیا کہ کوئی دوپٹا اتارے لیے جاتا ہے، کوئی پیچھے سے چوٹی گھسیٹ رہا ہے۔ اگر ذرا بھی بیگم وہاں اور رہے، تو لڑکیا اُس کی بوٹیاں نوچ کر کھا جائیں۔ مگر کسی رحم دل بی بی نے اس کا ہاتھ پکڑ باہر ڈیوڑھی میں لے جا کر چھوڑ دیا اور کہا "بیوی بنو جدھر سے آئی ہے اُدھر ہی کو چلی جا۔ وہ تو گھر والی دل کی بڑی نیک ہے، کوئی اور سِری کی ہوتی تو بے ناک چوٹی کاٹے نہ رہتی۔" مبتلاؔ ڈیوڑھی کے بازو سے لگا یہ سب تماشا دیکھ رہا تھا۔ کچھ ہنسی کچھ غصہ، بیگم کو دیکھتے ہی بولا۔ "واہ اچھی اپنی گت کرائی، باوجودیکہ میں نے تم سے کہہ دیا تھا کہ میں تم کو نوکری کے حیلے سے لیے چلتا ہوں، پھر تم کو ایسا بن سنور کر آنا اور اتنا لمبا چوڑا پردہ لگانا کیا ضرور تھا۔ سیدھے سبھاؤ چلی آئی ہوتیں، نہ کسی کو شبہ ہوتا اور نہ چراغ لے لے کر کوئی تمہارا منہ دیکھتا۔ خیر، اب ذرا کی ذرا یہاں ٹھہرو، پھر میں تمہاری ٹپس جماتا ہوں۔ مگر دیکھو خبردار! کوئی ایسی بات نہ کرنا جس سے لوگوں کو میرے تمہارے لگاؤ کا شبہ ہو۔" مبتلاؔ نے گھر کے اندر پاؤں رکھتے ہی پوچھا۔ "لڑکی کا کیا حال ہے۔" انا بولی "اب تو اللہ کا فضل ہے، دوبار عرق پلایا، اس قدر پسینہ آیا کہ شام سے تین کُرتے بدل چکی ہوں۔" مبتلاؔ "بس ان شاء اللہ اب بخار گیا، بارے اب الحمد للہ بچ گئیں (بیوی کی طرف مخاطب ہو کر) لاؤ صاحب کھانا تیار ہو تو منگواؤ، دسترخوان بچھا، عادت کے مطابق میاں بی بی کھانا کھانے بیٹھے، تو مبتلاؔ نے پوچھا، کیوں صاحب وہ عورت آئی تھی؟" غیرت بیگم : "واہ، چوری اور سرزوری، آج کو بڑے (۱) ماموں جان زندہ ہوتے تو الٹے اُسترے سے مُردار کا سر منڈوا کر بھی بس نہ کرتے، اور تم کو تو اپنی لاج کا لحاظ پاس آج کیا برسوں سے نہیں۔ بڑی ماموں جان کی زندگی تک چوری چُھپے کرتے تھے، وہ مرے تم کُھل کھیلے۔مرادنہ مکان تو مدتوں سے کنچنیوں کا چکلہ ہو رہا ہے، ایک زنانہ مکان بچا تھا، سو میں خوب جانتی ہوں کہ تم اُس کی تاک میں لگے ہو، مگر جب تک
--------------------------------------------------------------------------------------------------------
(۱) مبتلا کے والا میر مہذب۔

فسانہ مبتلا ریختہ صفحہ 156

میں جیتی بیٹھی ہوں، دیکھوں تو کون رستم کی جنی میری ڈیوڑھی کے اندر پاؤں رکھتی ہے۔ اپنا اُس کا خون ایک کر دوں تو سہی۔" مبتلاؔ "بے وجہ بے سبب تم اس قدر کیوں گرم ہوتی ہو؟ بھلا اتنا تو سمجھو اگر وہ کنچنی ہوتی، اور فرض کرو کہ مجھے اُس کو بلانا منظور ہوتا تو مردانہ ہوتے ساتے مجھ کو اُس کے گھر میں لانے کی کیا ضرورت تھی؟ ایک، اور دوسرے خدا عقل دے، تو سمجھنے کے لیے ایک موٹی بت یہ ہے کہ تمہارے مانگے کے کپڑے پہن کر کیوں آتی؟ غیرت بتگم : "کپڑا اور گہنا تو بے شک اس کے پاس نہ تھا مگر سر سے پاؤں تک چوتھی کی دولہن معلوم ہوتی تھی۔" مبتلاؔ : "تم کو چاہیے تھا کہ مجھ کو بلا کر پوچھتیں، اگر میں تمہاری تشفی نہ کر سکتا تب بھی اس بے چاری کا کیا قصو تھا۔ مجھ پر جتنا چاہتیں خفا ہو لیتیں۔ بات یہ ہے کہ حقیقت میں وہ آج شاموں شام تک کنچنی تھی، مگر میں اس کو ایک مدت سے جانتا ہوں، ہمیشہ یہ مجھ سے کہا کرتی تھی کہ مجھ کو اس پیشہ سے سخت نفرت ہے، اگر کہیں میری روٹی کا ٹھکانا لگ جائےتو میں تائب ہو جاؤں۔ جب تم نے نوکر رکھنے کا وعدہ کیا تو میں نے اس کو زبان دی، اور وہ ارادے کی ایسی پکی اور سچی تھی کہ فوراً میرے ساتھ ہو لی۔ اور پھر کس طرح پر کہ گہنا اور پاتا اور کپڑا اور لٹا اور ساز و سامان یعنی بھرا بھرایا گھر سب کو لات مر کر جس طرح بیٹھی تھی، اٹھ کھڑیہوئی۔ میں نے بے شک جھکمارا، اور میرا بال بال خدا کا اور تمہارا گنہگار ہے، مگر جس دن سے چچا باوا تشریف لائے، تم میری کوئی ایک بات بتراؤ۔ اور یوں اگر تمہارے مذہب میں توبہ کوئی چیز نہیں، اور ناحق بدگمان رہو تو تمہاری خوشی۔ بھلا تم نے چند روز تو اس بے چاری غریب کو رکھ کر دیکھا ہوتا۔ جو شخص آٹھوں پہر آنکھوں کے سامنے رہے، اُس کا حال آج نہیں، تو کل، اور کل نہیں تو پرسوں ضرور کھلے گا، پر کھلے گا۔نوکر سریش نہیں ہے کہ چمٹ جائے، مرضی ہوئی رکھا مرضی نہ ہوئی نہ رکھا۔ مگر چونکہ میرا قدرم درمیان میں ہے، میں تم سے بات کہوں صاف، یوں بے خطا بے قصوت تو میں اُس کو ادھر میں نہیں چھوڑ

فسانہ مبتلا ریختہ صفحہ 157

سکتا۔ تم ہی بتاؤ کہ اب وہ جائے تو کہاں جائے؟" غیرتؔ بیگم ابھی کچھ ہاں نا کرنے نہیں پائی تھی کہ مبتلاؔ نے کہا، ماما جا باہر ہریالی ایک عورت کھڑی ہے، اُس کو بلا لا، اور کام کاج میں اس سے مدد لیا کر۔ غرض ہریالی نکالی جا کر پھر آ موجود ہوئی۔ رات گئی تھی زیادہ، لوگ کھانا کھا پی کر اپنی اپنی جگہ سو سلا رہے، ہریالی بھی تخت پر بے تکئیے بے بچھونے ماماؤں میں سوئی۔ صبح کو جو اٹھے تو پھر لوگوں نے ہریالی کو گھورنا شروع کیا۔ مگر اب اس کا سنگار ہو گیا تھا باسی، اور تمام شب کی بد خوابی اور زحمت کی تکان سے اُس کا جوبن بھی نڈھال ہو رہا تھا۔ لوگوں نے کچھ بہت اُس کی پیچھا نہیں کیا۔ اس میں شک نہیں کہ گھر میں ایک منتظم عورت کی سخت ضرورت تھی، اور یہ ضرورت ہریالی کے پاؤں جم جانے کا سبب ہوئی۔ ہریالی نے جو صبح سویری اٹھ کر دیکھا تو تمام اسباب مولی گاجر کی طرح سارے گھر میں پھیلا پڑا ہے۔ اُس نے خود کھڑے ہو کر جہاں جہاں فرش تھا اٹھوا کر دالانوں میں، کوٹھریوں میں ، صحنچیوں میں، دروں میں، باورچی خانے میں یہاں تک کہ ڈیوڑھی میں جھاڑو دلوائی۔ ٹوکروں نہیں چھکڑوں کوڑا نکلا، اور بہت سے گری پڑی چیزیں ملیں، جن کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر صبر کر کے بیٹھ رہے تھے اور سمجھ لیا تھا کہ کھوئی گئیں۔ مٹی کی تہیں جمتے جمتے دریوں کا یہ حال ہو گیا تھا کہ اصلی رنگت پہچان نہ پڑتی تھی۔ جھڑوایا تو منوں گرد، دروازوں میں جو چلمنیں اور پردے بندھے تھے، الٹے سیدھے کا تو کس کو امتیاز تھا، کوئی دُھر تک بندھا ہے تو کوئی آدھے در میں پڑا لٹک رہا ہے، اور کسی کا لپیٹ ایک طرف کو جھک کر نکل پڑا ہے تو اتنی توفیق نہیں ہوئی کہ اس کو برابر کر دیں۔ بلکہ کئی پردوں میں سے تو فاختاؤں، اور جنگلی کبوتروں اور گلہریوں کے گھونسلے نکلے۔ گھر میں تخت تو بہتیرے ہیں مگر بیٹھنے کے دالانوں میں زمین پر بوریے بچھے ہیں، بوریوں پر دریاں، دریوں پر چاندنیاں۔ لونڈیاں اور مامائیں ہیں کہ بے تکلف مٹی اور کیچڑ کے ننگے ننگے پاؤں چاندنیوں پر لیے پھرتی ہیں اور چاندنیوں کا مارے دھبوں اور چکتوں کے یہ حال ہو رہا ہے کہ آنکھ اُٹھا کر دیکھنے کو جی نہیں چاہتا۔ صبح

فسانہ مبتلا ریختہ صفحہ 158

سے کھڑے کھڑے ہریالی کو دوپہر ہو گئی، تب کہیں جا کر اتنا کام ہوا کہ گھر میں جھاڑو دی گئی۔ دالانوں میں اس حساب سے تخت بچھوائے کہ بیچ میں فرش اور اِدھر اُدھر ماماؤں اور لونڈیوں کے چلنے پھرنے کی جگہ، اب چاندنیوں اور تکیوں کے غلاف اور پلنگوں کی چادروں کی ڈھنڈیا پڑی۔ قاعدہ ہے کہ جب چیزوں کا انتظام نہیں ہوتا تو یہی شناخت ہے کہ چیزوں کی حفاظت بھی نہیں۔ اتنا بڑا گھر اور اسو وقت دھوئی ہوئی تین چاندنیاں درکار تھیں، وہ بھی نہیں ملتی تھیں۔ غیرت بیگم نے بہتیرے پتے بتائے، "ارے کمبختو ابھی ہفتے عشرے کا ذکر ہے دھوبن چاندنیوں کا گٹھر لائی، وہ سب ڈھیر کا ڈھیر کیا ہو گیا؟ لٹھے کی وہ کوری چاندنی جو بیچ کے دالان میں بچھی تھی اور پرسوں اترسوں اس پر سالن کی دیگچی مبارکؔ قدم کے ہاتھ سے اُلٹ پڑی تھی اور میں نے صاف کرنے کے لیے اٹھوا دی تھی، کہاں ہے؟" جتنی کھڑی تھیں ایک ایک کا منہ دیکھتی تھیں، اور ایک ایک پر ٹالتی تھی۔ آخر بڑی مشکل سے دو (۲) چاندنیاں اناج کی کوٹھڑی میں مچان پر پڑی ملیں، جن میں چوہوں نے کاٹ کاٹ کر بغارے ڈال دیئے تھے، اور ایک میں ماما نے سوکھے ٹکڑے باندھ کر کھونٹی پر لٹکا رکھے تھے۔ اسی جستجو میں معلوم ہوا کہ کئی چاندنیاں باہر سئیس کے پاس ہیں وہ اوڑھ کر سوتا ہے۔ دو یا تین چاندنیاں کسی کو مانگے دی تھیں، وہ واپس نہیں آئیں۔ میلی چاندنیوں کا ایک ڈھیر غسل خانے میں پڑا ملا۔ غرض اُس وقت تو ہریالی نے کسی طرح گونتھ گانتھ کر فرش کو پورا کیا۔ پلنگ سب سے سب جھولا ہو رہے تھے۔ ان کو کسوا کر اُجلی چادریں بچھوا دیں۔ تکیوں کے غلاف بدلے، اُجلا دسترخوان نکلوا دیا۔ اتنے میں معلوم ہوا کہ میاں (مبتلاؔ) کھانے کے لیے آ رہے ہیں۔ ہریالیؔ یہ سن کر سامنے سے ٹل باورچی خانے کے آڑ میں ہو گئی۔ مبتلاؔ نے آ کر دیکھا تو اتنی ہی دیر میں گھر کی صورت بدلی ہوئی تھی، سمجھا کہ یہ سب ہریالیؔ کے تصرفات ہیں۔ دالان میں بیٹھ کر کھانا مانگا، تو باورچی خانے سے دو لونڈیاں سالن کی دو (۲) دو (۲) رکابیاں لے کر چلیں، پیچھے سے ایک ماما ہاتھ میں روٹیوں کی

فسانہ مبتلا ریختہ صفحہ 159

تھئی اٹھا کر دوڑی۔ ہریالی سے نہ رہا گیا، عین وقت پر کیا ہو سکتا تھا مگر خیر اِن جائیوں کو روک کر جلدی جلدی تھالی جوڑ، پانی پینے کی صراحی، سینی، سلفچی، خاصدان، اُگالدان، سب منجوائیں۔ سینی کے بیچ میں روٹی، گردا گرد سالن کی رکابیاں جما، اوپر سے خون پوس ڈھک ایک لونڈی کے سر پر رکھو، سمجھا دیا کہ "دیکھ خبردار آگے دیکھ کر آہستہ آہستہ چلیو، کہیں ٹھوکر نہ لگے۔" اور دوسری لونڈی کو سلفچی، آفتابہ، اُجلا دسترخواں دے کر اُس کے ساتھ کیا کہ "پہلے تخت کے نیچے کھڑی رہ کر میاں بی بی دونوں کے ہاتھ دھلائیوِ جب ہاتھ دھو چکیں سلفچی آفتابہ الگ رکھ کر دونوں کے بیچ میں اُجلا دسترخوان بچھائیو، اور سینی احتیاط کے ساتھ اتروا کر روٹیاں بیچ میں رکھیو۔ دو قسم کا سالن ہے، دونوں کے سامنے دونوں قسم کا رکھ دیجیو۔ تھالی جوڑا اور پانی پینے کی صراحی پیچھے بھجواتی ہوں۔ جب مانگے تو خبردار! آدھے کٹورے سے زیادہ بھر کر نہ دینا، اور پانی جو پلانا تو جھک کر کٹورا آگے کر دیان، کہ خود اپنی آنکھ سے دیکھ لیں اور تھالی منہ کے نیچے رکھنا کہ پانی کپڑوں پر گرنے نہ پائے۔" گھر میں چٹنی، اچار، مربا سبھی کچھ تھا مگر دسترخوان پر رکھنے کا دستور نہ تھا۔ جس کسی کو بھی کسی چیز کا خیال آ گیا اور منہ پھوڑ کر مانگی، تو مرتبان یا اچاری اُس کے پاس لے جا کر روٹی پر ایک پھانک رکھ دی۔ ہریالی نے چار قسم کی چار پیالیاں ایک رکابی میں لگا، ابھی کھانا شروع نہیں کرنے پائے تھے، کہ پہنچا دیں۔ کھانے کے بعد ہاتھ دھونے کو گرم پانی کا آفتابہ اور ایک طشتری میں بیشن، کھانے کو خاصدان میں بھیگی ہوئی صافی سے لپٹی ہوئی گلوریاں پہلے سے تخت پر رکھوا دیں۔ یہ تو ہریالی کے پہلے دن کے بلکہ پورا دن بھی نہیں، دوپہر کے اور جلدی کے کام تھے۔ مہینے بھر کہ محنت میں اس نے کپڑے کا، کھانے کا، سامان خانہ داری کا، اندر باہر دونوں جگہ کے نوکروں کا، بازار کے سودے سلف کا سب انتظام کر دیا۔ سلیقہ بھی عجب چیز ہے، اندر باہر عورت مرد جتنے نوکر تھے آپ سے آپ سب ہریالی کا ادب کرنے لگے۔ معصومؔ ایسا ہلا کہ دن رات میں ایک دم کے

فسانہ مبتلا ریختہ صفحہ 160

لیے گود سے نہیں اترتا تھا۔ بتول کی کیا بساط تھی! کیسی ہی پھڑکتی ہو، آواز سنی اور چپکی ہوئی۔ غیرتؔ بیگم کے دل میں اس کی طرف سے شک تو تھا مگر ہر چند ٹوہ لگائی، کوئی بات نہ پکڑ پائی۔ مبتلاؔ کے گھر میں آنے کے وقت مقرر تھے۔ ہریالی ان وقتوں میں ادبدا کر کسی نہ کسی بہانے سے ٹل جاتی تھی، اور اگر احیاناً بضرورت سامنے چلی پھری بھی تو ایک دوسرے سے ایسے بے رخ بن جاتے تھے کہ تعلق کیسا گویا جان پہچان تک بھی نہیں۔ مگر خدا جانے دونوں کو کیا ڈھب یاد تھا کہ اتفاقی اچٹتی ہوئی ایک نگاہ ان کے حق میں خلوت کا حکم رکھتی تھی۔ نہیں معلوم مبتلاؔ آنکھوں ہی آنکھوں میں کیا کہہ دیا کرتا تھا کہ ہریالیؔ برابر سرگرمی اور دل سوزی کے ساتھ گھر کے انتظام میں مصروف رہتی تھی۔ سچ ہے غیرتؔ بیگم کے ساتھ مبتلاؔ کے دل کے نہ ملنے کا بڑا سبب تھا۔ مبتلاؔ کی حسن پرستی اور آوارگی۔ مگر اتنا قصور تو غیرت بیگم کا بھی ضرور تھا کہ اس نے مبتلاؔ کو اپنی طرف مائل کرنے کے لیے ذرا بھی کوشش نہیں کی۔ وہ سمجھی جیسا کہ گھر کی بیبیاں اکثر سمجھا کرتی ہیں کہ جب ماں باپ نے میاں کے ہاتھ ہاتھ پکڑا دیا تو بس مجھے اپنی طرف سے کچھ کرنا نہیں۔ اب میاں کا کام ہے کہ کما کر لائے اور مجھے کھلائے پہنائے، میری خاطر داری و مدارات کرے، لیکن اس کو اتنی بات اور سمجھنی چاہیے تھی کھلانا پہنانا، خاطر داری و مدارات کرنا، سب چیزیں متفرع ہیں رغبت پر۔ رغبت کرنا میاں کا کام ہے اور دلانا بی بی کا۔ رہی یہ بات کہ بی بی کینونکر میاں کو رغبت دلائے؟ اس کے لیے کوئی ایسا قاعدہ نہیں کہ ہر جگہ چل سکے، کیوں کہ ہر ایک مزاج مختلف، اور ہر شخص کی رغبت جدا۔ لیکن بی بی اگر چاہے تو اس کو اپنے میاں کی رغبت کا معلوم کر لینا کیا مشکل ہے۔ مثلاً غیرت بیگم اتنا تو دیکھتی تھی کہ مبتلا کیسی صفائی کس شان کے ساتھ رہتا ہے۔ وہ ہر چیز میں ھسن چاہتا تھا۔ خیر حُسنِ صورت مبتلاؔ کی پسند کے لائق تو اختیاری بات نہ تھی، مگر جس قدر اختیار تھی غیرت بیگم نے اتنی ہی کر کے دکھائی ہوتی، گھر کی صفائی ستھرائی، ساز و سامان کی درستی، انتظام کی خوبی، یہ چیزیں بھی داخلِ حُسن ہیں۔ اور طبیعت میں سلقہ ہو، تو ہاتھ پاؤں

فسانہ مبتلا ریختہ صفحہ 161

کے، اور غیرت بیگم کی تو زبان کے ہلانے سے سب کچھ ہو سکتا تھا۔ مگر اُس نے ان چیزوں کی طرف کبھی بھول کر بھی توجہ نہ کی۔ مرادانے مکان میں میاں کی بیٹھک تھی، اسی کو دیکھ متنبہ ہوئی ہوئی۔ اُس کا اپنا کیا حال تھا، کہ میاں کو جو شروع شروع میں اپنی طرف سے بے رُخ پایا تو تین تین چار چار دن سر میں کنگھی ندارد، لوڈیوں کے تقاضے سے دسویں پندرھویں سر دھویا ہے تو بالوں میں تیل کی خبر نہیں، پھولے پھولے، روکھے بال، دور سے ایسا معلوم ہوتا تھا کہ کڑک ناتھ کُڑک مرغی بیٹھی ہے، آنکھوں میں سرمہ نہیں، ہاتھ پاؤں میں مہندی نہیں، پھول نہیں، عظر نہیں، گوٹا نہیں، کناری نہیں، غرض عورتوں کے سنگھا کی کوئی چیز نہیں۔ مبتلاؔ کو پہلے استکراہ تھا، غیرت بیگم کی بے تدبیریوں نے استکراہ کو نفرت، اور نفرت کو ضد، اور ضد کو چڑ بنا دیا۔ صورت شکل میں ہریالیؔ کچھ غیرت بیگم سے زیادہ اچھی نہ تھی، مگر چھٹانک بھر حُسن ہوتا ہے تو غور و پرداخت سے دیکھنے والوں کی نظر میں سیر بھر جنچنے لگتا ہے۔ سو غور و پرداخت کے عوض غیرت بیگم تو یہ چاہتی تھی کہ اُبٹنے کی جگہ تھوڑی سی کیچڑ ملے تو اٹھا کر منہ کو مل لوں۔ میاں بی بی میں جب اختلافِ مزاج اس درجے کا ہو تو اُن میں صحبت برآر ہونے کی کیا اُمید۔ نتیجہ یہ ہوا کہ چھاتی پر مونگ دلنے کے لیے آخر ایک سوکن آ موجود ہوئئ۔ ہریالیؔ کا انتظام دیکھ دیکھ کر غیرتؔ بیگم کا پھوہڑ پن مبتلاؔ کے دل میں اور بھی بیٹھتا چلا جاتا تھا۔
 
صفحہ 75

دسویں فصل

سید حاضر کا میر متّقی کے خط سے متاثر اور متنبہ ہو کر بہن کو اس کا حق دینے پر آمادہ ہونا اور دونوں بھائیوں کی اسی بات پر باہمی رنجش

میر متّقی کے چلے جانے کے بعد بھی سیّد حاضر دیر تک سکتے کی حالت میں تھا۔ اپنے یہاں کے معاملات میں سے جس معاملے میں نظر کرتا تھا، کسی کو دخلِ فساد سے اتلاف حقوق العباد سے خالی نہیں پاتا تھا۔ جن باتوں پر اس کو بڑا ناز تھا اب اُس کی نظر میں نہایت ذلیل اور پاجی پن کی دلیل معلوم ہوتی تھیں۔ وہ گھبرایا ہوا دالان میں ٹہل رہا تھا اور اس قدر بے قرار تھا کہ جاڑے کے دن اور شام کے وقت اس کو پسنے پر پسینے چلے آ رہے تھے۔ اور دیکھتا تھا کہ کھانا اور پینا اور اوڑھنا اور بچھونا اور ساز و سامان اور مال و متاع اور نقد و جنس حتّیٰ کہ اپنا گوشت پوست کوئی چیز بھی لوثِ حرمت سے پاک نہیں پاتا تھا کہ بدکرداری اور بدمعاملگی ہماری برادری اور ہمارے خاندان

صفحہ 76

خاندان میں اباً عن (1) جدٍّ چلی آتی ہے۔ اگرچہ حاضر ناظر دونوں باپ کے مرنے سے معاملات کرنے لگے تھے مگر حاضر نے احتساب کیا، تو اتنے ہی دنوں میں صد ہا مظلمے اُن کے نامۂ اعمال پر چڑھ چکے تھے ۔ اور ان میں اکثر ایسے تھے جن کا تدارک محال تھا اور تلافی ناممکن۔ ہم کو اس کی اتنی ہی بات سے تعلق ہے کہ جہاں اس کو اپنے وقت کے اور بہت سے معاملے یاد آئے ان میں سے ایک معاملہ غیرت بیگم کا بھی تھا۔ اگر غیرت بیگم کے معاملے میں ابتدا تحریک ناظر کی طرف سے ہوئی اور اُسی کو اُس میں زیادہ اصرار بھی تھا، مگر پھر بھی حاضر کا اتنا قصور تو تھا کہ بڑا بھائی ہو کر اس نے ناظر کو سمجھایا نہیں۔ غیرت بیگم کا خیال آنا تھا کہ فوراً گھوڑا کسوا، سوار ہو راتوں رات شہر میں ناظر کے مکان پر جا دستک دی، اگلے دن کسی مقدمے کی پیشی تھی اور ناظر آدھی رات تک گواہوں کی تعلیم اور کاغذات کی درستی میں مصروف تھا۔ ابھی اچھی طرح نیند بھری نہ تھی کہ بھائی کی آواز سُن کر چونک پڑا اور لگا خیریت پوچھنے۔ ”خیر تو ہے! آپ ایسے سویرے کیونکر آئے۔“ حاضر۔ ”خیر ہے تم باطمینان وقتی ضرورتوں سے فارغ ہو لو تو میں اپنے آنے کی وجہ بیان کروں، گھبرانے کی کوئی بات نہیں۔“ تھوڑی دیر بعد جب دونوں بھائی ایک جا ہوئے تو حاضر نے پوچھا۔ ”چھوٹے ماموں آئے ہیں، تم ان سے ملے۔“ ناظر ”ماموں کا آنا تو مجھ کو معلوم ہوا مگر میں ملا نہیں، اور ملنے کا ارادہ بھی نہیں۔“ حاضر۔ ”کیوں؟“ حاظر۔ ”میں جانتا ہوں وہ آپا کا جھگڑا ضرور نکالیں گے اور مجھ کو کسی طرح آپ کا حق دینا منظور نہیں۔ بے فائدہ باتوں ہی باتوں میں تکرار ہو پڑے گی۔“ حاضر۔ ”کیوں بے چاری غیرت نے ایسا قصور کیا کیا ہے؟ کیا وہ ہماری حقیقی بہن اور متروکۂ پدری میں عند اللہ اور عند الرّسول حقدار نہیں ہے؟“ حاضر کے مُنہ سے یہ سوال سُن کر ناظر کے کان

1) یعنی یہ بطور میراث باپ دادا سے متوارث چلی آتی ہے۔

صفحہ 77

کھڑے ہوئے۔ آدمی تھا معاملہ فہم، معاملہ شناس، فوراً تاڑ گیا کہ بھائی ماموں سے ملے اور ماموں نے پتّی پڑھائی۔ تو کہتا کیا ہے کہ اگر ماموں کوئی فتویٰ مکّے سے لکھوا کر لائے ہوں تو اس کو اپنی قدوری(1) میں چپکا دیں۔ ان کو شاید یہ معلوم نہ ہو گا کہ یہاں شریفِ مکّہ کا حکم نہیں چلتا، انگریز بہادر کی عمل داری ہے۔ میں نے برسوں کی جستجو میں پریوی کونسل اور عدالت ہائے عالیہ، ہائی کورٹ اور چیف کورٹ اور جوڈیشل کمشنر کے فیصلوں اور میکناٹن اور سر ہنری لا کی شرعِ محمدی سے وہ وہ نظائر اور احکام چھانٹ کر رکھے ہیں کہ اگر آپا سے جہیز واپس کرا لوں تو سیّد نہیں چمار۔“ حاضر کو بھی بھائی کی اس قدر خشونت(2) دیکھ کر نہایت استعجاب (3) ہوا، کیوں کہ اس نے آج تک حاضر کے رو در رو ایسی شوخ چشمی کے ساتھ کبھی بات نہیں کی تھی اور بولا کہ ”ماموں سے ناحق بدگمان ہوتے ہو۔ میں ان سے ملا، بے شک! اور وہ تعزیت کے لیے سیّد نگر تشریف لے گئے۔ بلاشبہ! مگر غیرت بیگم کا نام تک ان بے چارے نے نہیں لیا۔ اور افسوس کہ تم نے ان کی شان میں خورد ہو کر اس قدر گستاخی کی اور وہ بھی غائبانہ! پس تم نے ایک بزرگ کا حق تلف کیا۔“ ناظر۔ ”انہوں نے آپا کا نام نہ لیا ہو گا اَلکِنَایَۃُ اَبلَغُ مِنَ الصَّرَاحَۃ (4) اور فرض کیا کہ میں نے گستاخی کی، تو قانون نے صرف ایک ہی گستاخی کو جُرم قرار دیا ہے۔ یعنی حاکمِ عدالت کے ساتھ گُستاخی کرنا، جب کہ وہ عدالت کا اجلاس کر رہا ہو۔ اور ظاہر ہے کہ ماموں اس کے مصداق نہیں ہو سکتے۔“ ناظر کے اس جواب سے حا ضر کو سیّد متّقی کی اس بات کی تصدیق ہو گئی کہ حکّام ظاہر کے انتظام سے پورے طور پر حقوق العباد کی حفاظت نہیں ہو سکتی۔ سیّد متّقی کے وعظ سے

1) علم فقہ کی ایک کتاب کا نام ہے۔

2) سختی

3) تعجّب

4) یعنی بعض اوقات صراحت سے اشارہ زیادہ مؤثر ہوتا ہے۔


صفحہ 78

سید حاضر کے خیالات دفعتاً اس قدر متبدّل ہو گئے تھے کہ دونوں بھائیوں میں التیام کا ہونا محال تھا۔ ناظر اپنے اسی پرانے موروثی ڈھرّے پر چلتا تھا کہ قانونی گرفت بچا کر جہاں تک، اور جس طرح ممکن ہو، اپنا فائدہ کرنا چاہیے۔ کسی کا اختلاف ہو تو مضائقہ نہیں۔ کسی کا دل دُکھے تو پروا نہیں۔ عاقبت تباہ ہو کچھ حرج نہیں۔ اور سید حاضر کو اب اس بلا کا اہتمام تھا کہ ایک غیبت کو بھی وہ اِتلافِ حق سمجھا۔ غرض یہ جو سُنا کرتے تھے کہ الدنّيا والدّين و ضرتان۔ (1) یا

ہم خدا خود ہی وہم دنیائکے دوں

ایں خیال است و محال است و جنوں

اب وہ معمّہ حل ہوا کہ حقیقت میں وہ دنیا جو دین کی دشمن ہے اور اس کے ساتھ جمع نہیں ہو سکتی، وہ یہ دنیا ہے جیسی ناظر کی تھی، جس میں حلال و حرام کا امتیاز نہیں، جائز و ناجائز کا تفرقہ نہیں، خدا و رسول کا اطلاق نہیں، روزِ قیامت کا اندیشہ نہیں۔ ناظر کی اتنی ہی باتوں سے حاضر کو پورا یقین ہو گیا کہ اس کو سمجھانا یا اس کے ساتھ بحث کرنا محض بے سود اور لا حاصل ہے۔ اس پر قانون کی پھٹکار ہے اور اس کے سر پر چڑھا ہوا جن سوار۔ اس لیے زیادہ ردّ و کد مناسب نہ سمجھ کر اس نے دو ٹوک بات ناظر کو سُنا دی کہ ”تم اس کو ماموں کا اغوا سمجھو یا میرا حُمق، میں تو غیرت بیگم کا حق اب ایک لمحے کے لیے بھی نہیں رکھ سکتا۔“ ناظر۔ ”دیکھے ایسا کیجیے گا تو مجھ سے آپ سے بگاڑ ہو جائے گا۔“ حاضر ”اگر اتنی ہی بات پر کہ میں ایک حق دار کا حق مارنا نہیں چاہتا، تم مجھ سے بگڑو تو تمہاری خوشی! اگرچہ تمہارے بگڑنے کا مجھ کو سخت افسوس ہو گا، مگر اس سے ہزار درجے زیادہ افسوس ہو گا اگر یتیم کا حق غصباً میرے

1) یہ دنیا اور دین دو سوکنیں ہیں۔

صفحہ 79

پاس رہے۔“ ناظر ”یہ آپ کی خصوصیت کیا ہے۔“ حاضر ”خصوصیت پوچھو تو وہ ہماری حقیقی بہن ہے۔ مگر ایصالِ حق کے لیے اس کی مطلق خصوصیت نہیں۔ انشاء اللہ سب حق داروں کے ساتھ میں ایسا ہی معاملہ کر دوں گا۔“ ناظر ”تو آپ سیدھی بات ہی کیوں نہیں کہتے کہ آپ ترکِ دنیا پر آمادہ ہیں۔“ حاضر ”اگر مغصوبات کا واپس کر دینا تمہارے نزدیک ترکِ دُنیا ہے تو اس سے مجھ کو انکار نہیں۔“ ناظر ”بیٹھے بٹھائے یہ آپ کو ہوا کیا ہے؟ پہلے تو میں ماموں کو مولوی اور حاجی اور جیسا ان کا نام ہے متّقی سمجھتا تھا۔ اب معلوم ہوا کہ تسخیر اور سحر کے بھی حامل ہیں۔“ حاضر ”ماموں کی شان میں تمہاری طرف سے یہ دوسری گُستاخی اور دوسری غیبت اور دوسرا اتلافِ حق ہے۔ ناظر ”میں آپ کو آگاہ کیے دیتا ہوں کہ یہ گھر کی تباہی کے سامان ہیں۔“ حاضر۔ ”جس گھر کی آبادی دوسروں کے غصب کرنے پر موقوف ہو، اُس کا تباہ ہونا بہتر ہے۔“ ناظر ”آپ نے انجام کار بھی نظر کر لی ہے۔ حاضر ”انجام کار پر نظر کرنا ہی مجھ کو اس ارادے کا باعث ہوا ہے۔ اگر تو آپ مجھ کو بھی اپنے ساتھ برباد کرتے ہیں! کیسی کیسی محنتوں اور کیسی کیسی تدبیروں سے میں نے ملکیت کو درست کیا۔ اب ایک ڈھنگ پر آ چلی تھی تو آپ ساری عمارت کو جڑ بنیاد سے ڈھائے دیتے ہیں۔“ حاضر ”کیا تم نے مجھ کو مجنوں قرار دیا ہے یا مخبوط الحواس سمجھا ہے؟ دنیا میں کوئی شخص بھی ایسا ہے جو دیدہ دانستہ اپنے پاؤں میں آپ کلہاڑی مارے، یا سمجھ بُوجھ کر اپنے رہنے کے مکان میں آپ آگ لگائے؟ فرق صرف اتنا ہے کہ اس بات کا میں نے فیصلہ کر لیا ہے کہ دنیا کو دین پر ترجیح نہ دوں۔ اور دنیاوی فائدے میں دین کا ضرر ہے اُس کی طمع نہ کروں۔ اگر ایسا کرنے سے میری دنیا برباد ہوتی ہو تو ہو۔ اور اگر مجھ پر دنیاوی تباہی آتی ہے تو آئے۔ جب میں نے دین کے خلاف دنیاوی فائدے کا لالچ نہ کیا تو دُنیاوی نقصان کی میں کیا پروا کر سکتا ہوں!“ ناظر! ”میں تم سے یہ کہتا ہوں کہ میں تمہارے فائدوں کو بہت عزیز رکھتا ہوں۔ مگر وہیں تک کہ وہ فائدے جائز طور پر حاصل کیے جائیں۔

صفحہ 80

غصب اور ظلم اور دغا اور فساد اور اتلاف حقوق العباد کو نہ میں اپنے لیے جائز رکھتا ہوں اور نہ تمہارے لیے۔“ ناظر ”یہی تو میں کہتا ہوں کہ آپ پر ماموں نے جادو کر دیا ہے۔“ حاضر ”اگر تمہارے نزدیک یہ جادُو ہے تو جادو تمام پیغمبر صلوٰت اللہ و سلامہ علیہم اجمعین، تمام اولیاء، تمام انبیاء تمام اتصیا کرتے آئے ہیں۔ مگر جادو ایک مکروہ لفظ ہے۔ اس کا استعمال بزرگانِ دین کے حق میں میرے نزدیک تو درست نہیں۔“ ناظر ”اچھا تو ایک کام کیجیے، آپ اپنے حصّے کا بٹوارہ کر لیجیے اور علیٰحدہ ہو جائیے۔“ حاضر ”میرا ذہن اس طرف منتقل ہوا تھا، مگر اس صورت یہ مشکل یہ ہے کہ جب تک ملکیت تمام مظالم سے پاک نہ ہو، میں اُس میں سے حصّہ نہیں لے سکتا۔“ ناظر ”آپ نے ساری ملکیت کا ٹھیکہ نہیں لیا۔ اپنے مذہب کے رُو سے حصّۂ پدری میں سے جتنا حصّہ آپ اپنا سمجھتے ہوں، الگ کر لیجیے۔“ حاضر ”والد مرحوم کی جگہ میرا اور تمہارا اور غیرت بیگم تینوں کا نام لکھا جانا چاہیے ۔ لِلّذَ اکِرِ مِنُلُ حَظِّ الاُنثَيَین (1) ہم دونوں نے ناحق اور نا روا بہن کر محروم کر کے اپنے ہی نام چڑھوائے تو نصٖف نصف ہم دونوں کا ہوا۔ پس سرکاری کاغذات میں میرا نصف حصّہ لکھا ہے، اس میں بھی تو غیرت بیگم کا ایک عُشر شامل ہے جس کو میں اپنے پاس رکھنا نہیں چاہتا۔“ ناظر ”آپ بٹوارے کی درخواست میں لکھ دیجیے کہ اگرچہ میرے نام نصف حصّہ لکھا ہے مگر حقیقت میں میرا دو خُمس ہوتا ہے۔ اسی قدر کا میں بٹوارہ چاہتا ہوں۔ حاکم آپ کی درخواست تصدیق کر کے آپ کے دو خُمس کا بٹوارہ کر دے گا۔“ حاضر ”تو غیرت بیگم کا یہ ایک عُشر بھی تمہاری طرف منتقل ہو جائے گا۔“ ناظر ”آپ کا اس میں حرج کیا ہے؟ غیرت بیگم کا مطالبہ میرے سر رہے گا۔“ حاضر ”تو اس کے یہ معنی ہیں کہ میں غیرت بیگم کا ایک عُشر جو میرے نام ہے، تمہارے نام مُنتقل کر دوں؟“ ناظر ”خیر معنی مطلب تو میں سمجھتا نہیں، ایک

ا) مرد کا حصّہ دو عورتوں کے برابر ہے۔

صفحہ 81

راہ کی بات جو میں نے آپ کو بتائی، اگر آپ کو مجھ سے پُرخاش نہیں ہے۔ تو جس طرح میں نے بیان کیا، درخواست لکھیے اور پیشِ حاکم اس کو چل کر تصدیق کرائیے۔ باقی مراتب میں دیکھ بھال لوں گا۔ آپ کو وہی دو خمس ملے گا جو آپ چاہتے ہیں۔“ حاضر ”غیرت بیگم کا ایک وُشر تمہارے نام تو منتقل نہیں کرا سکتا۔ وہ بھی تو ناجائز ہے۔ حق دار کو تو اس کا حق نہ ملا۔ ہاں! اگر کہو تو درخواست میں یہ بات بے شک لکھ دوں کہ میرے نام جو نصف حصّہ لکھا ہے، اس میں دو خمس میرا ہے اور ایک عُشر غیرت بیگم کا۔“ ناظر ” اس سے میری تو نصفی میں فتور پڑے گا۔“ حاضر ”پڑے گا تو تم جانو، میرے اختیار کی بات نہیں“ ناظر ”آپ کے اس اصرار سے ثابت ہوتا ہے کہ صرف تقاضائے دین داری نہیں ہے، بلکہ ماموں کے سب فساد ہیں۔“ حاضر ”تم بار بار ہر پھر کر ماموں کو ان کی پیٹھ پیچھے بُرا کہتے جاتے ہو۔ مجھ کو اس بات سے سخت تکلیف ہوتی ہے۔ میں نے تم سے کہا کہ ماموں نے غیرت بیگم کا نام تک نہ لیا، اور تم نے میرے کہنے کو سبچ نہ جانا۔ فرض کرو ماموں ہی نے ہم کو غیرت بیگم کاحق مغصوب واپس کرنے پر آمادہ کیا تو کیا احقاقِ حق میں کوشش کرنا فساد ہے؟“ ناظر یہ کہہ کر اُٹھ کھڑا ہوا۔ ”بہت خوب معلوم ہوا۔ آپ آپا کو اُن کا حصّہ دیجیے اگر آپ سے دیا جائے، اور وہ لیں اگر ان سے لیا جائے۔ اور ماموں جس غرض سے بھانجی کی خوشامد میں لگے ہیں، مجھ کو معلوم ہے۔ مبتلا بھائی کو انہوں نے دیکھ پایا ہے، بھولا بے وقوف۔ چاہتے ہیں کہ بھانجی کے نام سے بڑے ماموں کی تمام املاک پر خُود قابض ہو جائیں۔ لیکن (مونچھوں پر تاؤ دے کر ) اگر ناظر کے دم میں دم ہے، تو ماموں کو ایسا مزا چکھاؤں کہ سات برس بعد تو حج سے پھر کر آنا نصیب ہوا، اب ان کو ہجرت ہی کرنی پڑے تو سہی۔ آپا کا حصّہ لینا ایسا کیا ہنسی کھیل ہے۔“ حاضر بے چارہ اپنا سا منہ لے کر سیّد نگر واپس گیا۔ غمگین، اُداس، کیا خدا کی شان ہے کہ کل شاموں شام سیّد متّقی کے وعظ سے حاضر متنبہ ہوا، تونہ کی، تلافئ مافات پر آمادہ ہوا، راتوں رات بھاگا ہوا بھائی پاس آیا،

صفحہ 82

ابھی جی کھول کر بھائی سے باتیں نہیں کرنے پایا تھا کہ سخت امتحان میں پڑ گیا۔ وہ خُوب واقف تھا کہ ناظر ایک سانپ ہے، اس بلا کا زہریلا کہ اس کا کاٹا پانی نہ مانگے، اس کا ڈسا ہوا پھٹکا نہ کھائے۔ وہ اچھّی طرح جانتا تھا کہ ناظر اگر بگڑا اور اب اس کے بگڑنے میں کسر ہی کیا باقی تھی؟ تو کیسی زمین داری، اور کس کی حصّہ داری گاؤں کا رہنا دشوار کر دے گا، اور اس کے ہاتھوں سے زندگی و بالِ دوش ہو جائے گی۔ یہ خیال کر کے وہ جی ہی جی میں اپنے آپ کو سمجھاتا تھا، کہ ’تجھ کو بھائی کے ساتھ بگاڑنا کیا ضرور ہے؟ اگر وہ غیرت بیگم کا حصّہ نہیں دیتا نہ دے، وہ جانے اس کا کام جانے، اپنا اپنا کرنا، اپنا اپنا بھرنا۔ غیرت بیگم کو حصّہ لینا ہو گا تو آپ سے آپ نالش کریں گی۔ ہر کسے مصلحتِ خویش نکومی داند۔ میری طرف سے اتنا کافی ہے کہ ابھی سے غیرت بیگم کے حصّے سے دست بردار ہو جاؤں۔ اور اگر نالش ہو تو دعوے کی تردی نہ کروں۔ پھر سوچتا تھا کہ اب تک جو غیرت بیگم حصّے سے ہے دخل رہیں، اس کا وبال جیسا ناظر پر، ویسا مجھ پر۔ کیونکہ ہم دونوں نے مل کر غیرت بیگم کو محروم کیا ۔بلکہ ایک اعتبار سے مجھ پر زیادہ اور ناظر پر کم، کیونکہ میں پٹّی کا نمبردار ہوں، اور پٹّی کی تحصیل وصول میرے ہاتھوں سے ہوتی ہے۔ علاوہ اس نے کیا یہ انصاف کی بات ہے کہ ہم دونوں بھائی تو بے زحمت اپنے حقوق پر قابض ہوں اور غیرت بیگم کو نالش کرنے پر مجبور کریں، صرف اس وجہ سے کہ وہ عورت ہے، پردہ نشین، اور کوئی اس کے حق کی حفاظت کرنے والا نہیں؟ دنیا میں آنکھوں پر ٹھیکری رکھ لی تو خدا کو کیا جواب دیں گے؟ اور مانا کہ میں غیرت بیگم کے حصّے سے دست بردار ہو بیٹھا، تو وہی بات پھر آئی کہ میں نے نہ لیا، ناظر کو لینے دیا۔ غیرت بیگم کو تو اس کا حق نہ پہنچا۔ علاوہ بریں آج تک تو ایک غیرت بیگم کا معاملہ ہے، اس میں یہ حجت ہے۔ ابھی تو ایسے ایسے صد ہا معاملے نکلیں گے۔ غرباء کے ضعفاء کے اور ایسے لوگوں کے جن کو سوا خدا

صفحہ 83

کے کہیں پناہ نہیں۔ اور ناظر کا منشاء تو معلوم ہوچکا کہ وہ تو سوائے قانون کے، خدا اور رسول کسی سے ڈرنے دبنے والا نہیں، تو بکری کی ماں کب تک خیر منائے گی؟ بھائی سے تو ایک نہ ایک دن بگڑے ہی گئی۔ اور آج اگر غیرت بیگم کے معاملے میں میں نے ذرا بھی اپنا ضعف ظاہر کیا، پھر تو ناظر کی جیت ہے۔ غرض یہ تزلزل ٹھیک نہیں بلکہ وسوسۂ شیطانی ہے۔

صفحہ 84

گیارہویں فصل

سیّد حاضر نے بتقاضائے دین داری علی زعم انف (1) سیّد ناظر اپنی بہن کو اس کا حق دلایا

ایسے اِبتلاء کے وقت میں خدا نے حاضر کی مدد کی۔ اس کو معلوم تھا کہ ناظر کے پاس سادہ اسٹامپ کا ایک بستہ تھا۔ آخر ڈھونڈنے سے ملا۔ کھول کر دیکھتا ہے تو اس میں پُرانے پچھلے سنوں کے متعدد قطعات ہیں۔ سمجھا کہ ناظر نے کسی ارادۂ فاسد سے ان کو بہم پہنچایا ہے۔ اس نے اٹھنّی کا ایک قطعہ نیا سا دیکھ کر تو لے لیا اور باقی اس فساد کی پوٹ کو چولھے میں جھونک دیا۔ جو قطعہ اس نے نکال لیا تھا اس پر ایک درخواست لکھی، جس کی عبارت یہ تھی (نقل درخواست) کہ میں اور سیّد ناظر اور غیرت بیگم تینوں حقیقی بھائی بہن ہیں۔ غیرت بیگم کا نام پٹّی داری میں داخل ہونے سے رہ گیا ہے۔ میں پٹّی داری کا نمبردار ہوں۔ اور میرے ہاتھوں پٹّی کی تحصیل وصول ہوتی ہے۔ غیرت بیگم کے حق اور قبضہ کو میں تصدیق کرتا ہوں۔ اس لیے غیرت بیگم کا نام ایک خُمس حصّے پر چڑھا دیا جائے۔ اور اسی وقت درخواست کو رجسٹری کرا، حاکمِ پرگنہ کے نام روانہ کر دیا۔ وہاں سے معمول کے مطابق اشتہات

1) بر خلاف

صفحہ 85

جاری ہوا۔ اشتہار کا آنا تھا کہ سیّد ناظر نے عذر داری کی۔ مقدمہ لڑنے لگا۔ کلکٹری میں تو سرسری کارروائی ہوتی ہے اور صرف قبضہ دیکھا جاتا ہے۔ چونکہ نمبردار پٹّی نے، جس کے ہاتھ سے پٹّی کی تحصیل وصول تھی غیرت بیگم کے قبضے کی تصدیق کی، اس سبب سے ناظر کی عزرداری نامنظور اور غیرت بیگم کا نام ایک خُمس پر داخل ہونے کا حکم ہو گیا۔ مگر سیّد ناظر محکمۂ کلکٹری کو کیا مال سمجھتا تھا۔ جس وقت داخل خارج کا تک پہنچا تو اس کے مختار نے تسلّی کے طور پر اس سے کہا کہ نمبردار کے بیانِ مجرد پر حُکم ہو گیا ہے۔ حاکم کی رائے ہے۔ اپیل کی بڑی گنجائش ہے۔“ ناظر نے کہا ”اے میاں! کہاں کیا اپہل؟ اور کب کا مرافعہ؟ کل تو نہیں، پرسوں تم کو والد کا تحریری وصیّت نامہ لا کر دیتا ہوں۔ اس کی بنیاد پر اثباتِ حقّیت کا دعویٰ (خاک از تودۂ کلاں بردار) دیوانی میں دائر کرو۔ تو نمبر دار صاحب کی ساری شیخی کرکری ہو جائے گی“ناظر وصیّت نامہ لینے گھر دوڑا ہوا آیا اور اشٹامپ کے بستے کی تلاش میں سیدھا کوٹھڑی میں گھُسا۔ بستہ ندارد۔ اس کا ماتھا ٹھنکا۔ معلوم ہوا کہ ایک بستہ تو بڑے میاں کوئی ڈیڑھ مہینہ ہوا جلا چکے ہیں۔ یہ سُنتے ہی پیٹ پکڑ کر بیٹھ گیا۔ حاضر ناظر کا جھگڑا ہمارے قصّے سے متعلق نہیں ہے۔ خلاصہ یہ کہ دونوں بھائیوں میں ایسی چلی کہ سیّد نگر والوں میں بھی جو سُنتا، دانتوں میں انگلی رکھ لیتا تھا۔ قاعدہ ہے کہ آٹے کے ساتھ گھن بھی پس جاتا ہے۔ سیّد حاضر کے ساتھ غیرت بیگم اور غیرت بیگم کی لپیٹ میں متّقی کی بھی شامت آئی۔

صفحہ 86

بارھویں فصل

سیّد ناظر کے میر متّقی کی نسبت عرضی گمنام، میر متّقی کے سمجھانے سے صلح ذات البین کا ہونا

ناظر کو شروع میں صرف اسی پر اصرار تھا کہ غیرت بیگم کو حصّہ نہ دوں۔ اسٹامپ کے بستہ کا جلانا سن کر بھائی پر نہایت برافروختہ ہوا، اور اُس نے دیوانی میں سالم حقیقت کا دعویٰ دائر کیا۔ اس بیان سے کہ نہ حاضر میر باقر کا بیٹا ہے اور نہ غیرت بیگم میر باقر کی بیٹی، اس نے بات کی بنائی کہ میر باقر کا اکلوتا بیٹا میں ہوں، میرے پیدا ہونے میں دیر ہوئی تو میر باقر لَے پالک کے طور پر حاضر کی پرورش اور پرداخت کرنے لگے۔ اور اس بیان کی تائید میں اسٹامپ کے کاغذ پر ایک وصیت نامہ پیش کیا، جس پر میر باقر کی مہر تھی اور اس کا سوا دخط بھی میر صاحب کے خط سے اشبہ۔ میر متّقی کی نسبت ایک گمنام عرضی لفٹنٹی مین پہنچی کہ سلطان روم کی طرف سے جاسوسی بن کر آئے ہیں، اور لوگوں کو چُپکے چُپکے جہاد کی ترغیب دیتے ہیں، اور عن قریب ہندو مسلمانوں میں ان کے اغوا سے فسادِ عظیم ہونے والا ہے۔

سیّد حاضر کو جب دیوانی کے دعوے کیا معلوم ہوا، تو عرضی دعوی کی نقل لے کر سیّد متّقی کے پاس دوڑا ہوا آیا۔ سیّد متّقی کو اس وقت تک داخل خارج کے سوا کچھ حال معلوم نہ تھا۔ دور سے حاضر کو دیکھتے ہی خوش ہو کر لگے تحسین و رضا کی

صفحہ 87

باتیں کرنے۔ حاضر نے پاس آ کر ناظر کے عرضی دعویٰ کی نقل دکھائی تو إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعونَ کہہ کر ایسے سنّاٹے میں گئے کہ بہت دیر ہو گئی، اور بھلا یا بُرا کوئی لفظ مُنہ سے نہ نکالا تو حاضر نے خود ابتدا کی اور کہا کہ میں اس غرض سے حاضر ہوا تھا کہ میں تو اپنے میں ناظر کے مقابلے کی طاقت نہیں پاتا۔ عزّت کو، آبرو کو، سچّائی کو، دین کو، ایمان کو، خوفِ خدا کو سب کو بالائے طاق رکھ دوں، تو ناظر کے ساتھ لڑنے کا نام لوں۔ اور یہ مجھ سے اب نہیں ہو سکتا۔ ہر چند رہ رہ کر غصّہ آتا ہے اور بے اختیار جی چاہتا ہے کہ اس مردک کو اُسی قانون سے جس پر اس کو بڑا گھمنڈ ہے، اس کے کیے کی ایسی سزا دلواؤں کہ ساری عُمر اس کو قید سے نجات نہ ہو۔ اور اس کی تدبیریں سمجھ میں آتی ہیں اور میرے اختیار میں بھی ہیں۔ ناظر کتنا ہی قاعدہ داں اور ضابطہ شناس کیوں نہ ہو مگر آخر ہے تو مجھ سے چھوٹا۔ لیکن آپ کے ارشاد کے مطابق میں خدا سے عہد کر چکا ہوں کہ دنیا کے لیے دین کو نہیں بگاڑوں گا۔ اب دنیا میں ایک نہیں ہزار فضیحت اور ایک نقصان نہیں ہزار نقصان کیوں نہ ہو جائیں، اس عہد کو توڑ نہیں سکتا۔ مگر ناظر کے حملے سے بچنے کے لیے میں نے ایک تدبیر سوچی ہے کہ میر غالب کو تو آپ جانتے ہوں گے، وہ بھی ان دنوں سیّد نگر کے بڑے چلتے ہوئے پرزوں میں ہیں۔ سیّد نگر خاص میں ان کا بھی تھوڑا سا حصّہ ہے۔ ان کی وکالت آج کل بڑے زوروں پر ہے ۔ چند روز ہوئے مجھ سے کہتے تھے کہ اگر کوئی حصّہ بکتا ہو تو مجھ کو خبر کرنا۔ میں نے یہ تجویز سوچی ہے کہ اپنا حصّہ ان کے ہاتھ فروخت کر دوں۔ جو اب تُرکی بترکی، وہ ناظر سے سمجھ لیں گے۔ اتنا ہی خیال ہے کہ گاؤں میں حصّہ ہے، تو رعایا پر سو طرح کی حکومت ہے۔ مگر جس طرز پر مجھ کو آیندہ زندگی کرنی منظور ہے اس کے لیے مجھ کو حکومت درکار نہیں۔ آپ سے اتنی بات پوچھنی تھی کہ اگر آپ کی اصلاح ہو، تو غیرت بیگم کے حصّے کی بھی بات چیت میر غالب سے کی جائے۔ میں نہیں سمجھتا کہ غیرت ہیگم کو ناظر چین لینے دے گا۔ یہ سن کر میر متّقی نے کہا کہ ”ان معاملات

صفحہ 88

کو تم مجھ سے بہتر سمجھتے ہو، قرابت کے اعتبار سے بھی تم نزدیک تر ہے اور تمہارے معاملے کی سچّائی کا یہی بڑا ثبوت ہے کہ تم نے بے فریاد، بے نالش غیرت بیگم کو اس کا حق دیا اور دلایا، اور بلکہ حق کے واسطے تم نے بھائی سے بگاڑی اور اِس بگاڑ کے نتیجے کی پہلی قسط یہ عرضی ہے جو تم نے مجھ کو دکھائی۔ خدا حق ہے اور وہ حق سے راضی ہوتا ہے۔ اور وہی حق داروں کی حمایت کرنے والا ہے۔ اور انشاء اللہ آخر حق کو غلبہ ہے۔ اَلحَق یَعلُو (1)۔ اس بات میں تم اپنی بہن سے مشورہ کرو۔ لیکن اگر میری رائے پوچھتے ہو تو شروع سے تم نے وہ کیا، اور آئندک بھی کرنا چاہتے ہو جو دنیا میں سبھی راست معاملہ کیا کرتے ہیں۔ اور بلاشبہ شرع کی رو سے تم پر کوئی الزام نہیں مگر الزام کے عائد نہ ہونے سے تم کسی تحسین کے بھی مستحق نہیں ہو سکتے۔ مجھ سے اگر تم نے پہلے پوچھا ہوتا تو میں یہ صلاح دیتا، اور اب بھی تم کو اور غیرت بیگم دونوں کی صلاح دیتا ہوں کہ اگر کر سکو تو اپنے حق سے دست بردار ہو جاؤ۔ ایسی کون سی بڑی مالیت ہے؟ خدا نے تم کو بہت کچھ دے رکھا ہے۔ ناظر کو موروثی کچوانسیاں مبارک، لے کر دہی بڑے آدمی بنیں۔ آخر وہ بھی تو کوئی غیر نہیں، گھی کہاں گیا کھچڑی میں! تین بہن بھائیوں کے پاس نہ رہا، ایک کے پاس رہا۔ بلاشبہ حصّہ گو کتنا ہی جزوی کیوں ہو، چھوڑنا مشکل ہے۔ خصوصاً جب کہ موروثی ہو، اور اسی گاؤں کا ہو، جس میں رہنا سہنا ہے۔ اور چھوڑنا بھی اس حالت میں کہ گالی گلوچ تک نوبت پہنچ چکی ہو۔ لیکن تم خود کہتے ہو کہ اب بدوں فضیحت کے اس کا سنبھالنا ممکن نہیں. حصّہ منتقل کر دینے کی تجویز جو تم نے سوچ ہے، صرف من سمجھوتی ہے۔ آخر اس کی تحقیقات تو ہو ہی گی، تمہارے مقابلہ میں ہو یا خریدار کے کہ تم دونوں میر باقر کی اولاد ہو، جیسا کہ واقعی ہے، یا نہیں ہو جیسا کہ ناظر نے عرضی دعوے میں لکھا ہے۔

1) حق غالب ہوتا ہے۔

صفحہ 89

اگرچہ کامل یقین ہے کہ آخر کار تم کو ناظر کے مقابلہ میں ظفر ہو گی لیکن پھر ہمیشہ کے لیے وہ تم سے چھوٹ جائے گا اور تم اس سے، اور مدّت العمر تم کو باہمی خرخشوں سے نجات ملنے کی امید نہیں۔ مگر جو تدبیر میں بتاتا ہوں اس کا انجام، جہاں تک میری سمجھ میں آتا ہے، انشاء اللہ یہی ہونا ہے کہ حصّے کا حصّہ تمہارے پاس رہے گا اور تم بھائی بہن پھر ایک کے ایک ہو جاؤ گے۔ تھوڑی دیر کے لیے فرض کرو کہ ناظر نے کُل حصّہ لیا، مگر اس طرح پر کہ وہ لینا چاہتا ہے، یعنی جھوٹ بول کر، جعل بنا کر، بھائی کو، بہن کو ماں کو، باپ کو یعنی اپنے آپ کو رسوا اور فضیحت کرنا کیسا، صاف صاف کا بیان دے کر، تو ناظر یہ حصّہ لے کر تم کو تو خیر چھوڑ ہی دے گا۔ مگر کیا بیوی، بچّے، رشتہ دار، کُنبہ دار، قبیلہ، برادری، خاندان، دوست، آشنا، جان پہچان، ایک دم ساری دنیا کو چھوڑ دے گا؟ ایسا تو نہیں ہو سکتا۔ مگر سمجھتے ہو کہ دنیا اس کو کیا کہے گی؟ لعنت کرے گی۔ یگانے اور بیگانے سب اس کے منہ پر تھوکیں گے۔ لڑکے اس کے پیچھے تالیاں پیٹیں گے۔ سب کی نظروں میں وہ خوار اور بے اعتبار اور نکّو اور انگشت نما ہو گا۔ در و دیوار در کوچہ و بازار سے اس پر پھٹکار برسے گی۔ یہ حصّہ ڈھاک کے کوئلے کا ایک دہکتا ہوا آنگارا ہو گا کہ وہ ہرگز اس کو مٹھّی میں سنبھال نہ سکے گا۔ مشكل سے مشکل مقدمات اور پیچیدہ سے پیچیدہ معاملات میں تم ایک مختار یا وکیل کے کہنے پر عمل کرتے ہو۔ اس ایک بات میں خدا کی صلاح پر بھی چل کر دیکھو کہ کیا نتیجہ ہوتا ہے۔ خدا کی صلاح کیا ہے؟ ادْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ فَإِذَا الَّذِي بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ عَدَاوَةٌ كَأَنَّهُ وَلِيٌّ حَمِيمٌ (یعنی اگر تجھ سے کوئی برائی کرے تو بھلائی کے ساتھ اس کا توڑ کر اور پھر دیکھ کہ یا تو تجھ میں اور اس میں دشمنی تھی یا بات کی بات میں، وہ تیرے ساتھ گرم جوشی کرنے لگا) حقیقت میں جیسی میر متّقی نے پشین گوئی کی تھی، ویسا ہی ہوا۔ حاضر اور غیرت بیگم کی طرف سے ناظر کے دعوے کی کچھ تردید نہ ہوئی۔ قاعدے کے مطابق دعوی یک طرفہ

صفحہ 90

ڈگری ہو گیا۔ مگر کیسی ڈگری، کہ حاکم اور عملے اور اہلِ معاملہ اور چپڑاسی اور مذکوری سبھی نے تو ناظر کو ملامت کی۔ جہاں گیا اس نے لتاڑا اور جس سے ملا اس نے لتھیڑا۔ اور آخر کار، بار کر، جھک مار کر، کلنک کا ٹیکہ ماتھے پر لگا کر، جس قدر گالیاں تقدیر میں تھیں سُن کر, جتنی بدنامی قسمت میں تھی، بھگت کر، بصد منّت و بہزار خوشامد، ہاتھ جوڑ کر، پاؤں پڑ کر، وہی دو خُمس حصّہ کو، اور وہی ایک خمس غیرت بیگم کو دیا اور ساری عمر کے لیے ناحق بیٹھے بٹھائے بھائی بہن کا کنونڈا بننا پڑا، سو الگ ۔
 

اوشو

لائبریرین
ریختہ صفحہ ۔۔۔ 162

اکیسویں فصل

غیرتؔ بیگم پر اپنی سوکن ہریالیؔ کے راز کا فاش ہونا اور اس کا سوکن کو مارنا، اور آخر کار سید حاضرؔ
کا بیچ بچاؤ اور فیصلہ کرنا

معلوم نہیں مبتلاؔ کو کب تک ہریالیؔ کا اس نمط پر رکھنا منظور تھا، کہ ایک دن گھر میں باہر سے اطلاع پہنچی کہ ایک بوڑھی عورت نوکری کی جستجو میں آئی ہے، اگر حکم ہو اندر بھیج دیں۔ انتظامِ خانہ داری تو سب ہریالی کے ہاتھ میں تھا، غیرت بیگم نے ہریالی سے پچھوا لیا، ہریالی کسی کوٹھری میں کدا جانے کس کام مصروف تھی، اس نے وہیں سے کہا، کیا مضائقہ۔ غرض وہ عورت اندر آ کر سیدھی غیرت بیگم کے پاس جا بیٹھی۔ اور لگی کہنے کہ "میں تو ہریالی بیگم کے پاس آئی ہوں جن کو تمہارے میاں نکاح پڑھوا کر لائے ہیں۔ مدت سے میں ان کے یہاں اوپر کے کام پر نوکر تھی۔ بیگم کو تو نکلے ہوئے تین مہینے ہونے آئے ہیں۔ میں ان کی خالہ کے پاس رہی آج آٹھواں دن ہے کہ وہ بھی لکھنؤ سدھاریں۔ میں نے کہا چلوں، اگر بیگم پھر رکھ لیں تو میں ان کے مزاج سے واقف ہوں، وہ مجھ کو جانتی پہچانتی ہیں، ان جان جگہ تابعداری کرنی کیا ضرور! کیا وہ اس
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ ۔۔۔ 163

گھر نہیں رہتیں؟ غیرت بیگم نے ہاتھ سے اشارہ کر کے بتایا کہ تم جن کے پاس آئی ہو وہ سامنے والی کوٹھری میں ہیں۔ وہ عورت اٹھ کر کوٹھڑی کی طرف چلی۔ دروازے تک پہنچی تھی کہ اتنے میں غیرت بیگم بےخود ہو کر بگولے کی طرح اٹھیی اور وہ عورت ابھی ہریالی سے بات بھی نہیں کرنے پائی تھی کہ اس نے پہنچ کر بےچاری بڑھیا کو اوندھے منہ ہریالی پر ڈھکیل دیا، اور کہا کہ "تم نے دیکھا یہ ہریالی نہیں گھر والی ہے، یہ بی بی ہے، یہ میری سوکن ہے، میں رانڈ ہوں یہ سہاگن ہے، میں لونڈی ہوں یہ بیگم ہے، میں چڑیل ہوں یہ حور ہے، یہ میاں کی لاڈو ہے، یہ میاں کی چہیتی ہے، یہ میں کے کلیجے کی ٹھنڈک ہے۔" یہ کہتی جاتی تھی اور اس کے ساتھ ہزار ہار گالیاں اور سیکڑوں کوسنے، اور دوہتڑ تھا کہ بارے بارے سے اس شامت کی ماری بڑھیا اور ہریالی پر اور اپنے آپ پر بھی اس زور سے پڑ رہا تھا کہ گویا مزدور سڑک کوٹ رہے ہیں۔ گھر میں بہتیری لونڈیاں اور مامائیں تھیں، مگر سیدانی کا جلال دیکھ کر کسی کی ہمت نہ پڑ سکی کہ کوٹھری کی طرف رخ کرے۔ سب کی سب بدحواس ہو کر بھاگ کھڑی ہوئیں۔ ہمسائے کی عورتویں کوئی کھڑکیوں میں سے کوئی دیوار پر سے کھڑی جھانکتی تھیں، پر کسی سے اتنا نہیں ہو سکتا تھا کہ گھر کے اندر قدم رکھے۔ مبتلا کو دکھلوایا تو وہ بھی اس وقت کہیں باہر گئے ہوئے تھے۔ مردانے میں ٹُٹرُوں ٹوں اکیلا وفادار۔ اس کو اور تو کچھ نہ سوجھی، گھوڑا تو دروازے پر بندھا ہوا تھا ہی، منہ میں لگام دے، ننگی پیٹھ پر سوار ہو، بگ ٹُٹ سیدھا پہونچا کچہری میں سید ناظر کے پاس، ناظر اسی گھوڑے پر چڑھ دھم سے آ موجود ہوئے، اور اتفاق سے سید حاضر بھی کسی ضرورت سے دو تین دن کے آئے ہوئے تھے، کچہری سے ان کے پاس بھی آدمی دوڑا دیا کہ آپ بھی جلد آئیے۔ غرض سید حاضر اور مبتلا بھی آگے پیچھے پہونچ گئے۔ غیرت بیگم سید ناظر کے آنے سے پہلے کھڑی اور پڑی اتنا پیٹی، اتنا پیٹی کہ آخر اس کو غش آ گیا۔ ناظر جس وقت پہونچا ہے تو وہ بالکل بےہوش پڑی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1 ۔ یعنی ایسے زور سے گھوڑے کو دوڑایا کہ باگ ٹوٹ جائے تو عجب نہیں 12

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ ۔۔۔ 164

تھی۔ ناظر نے آتے کے ساتھ اس کو ہوش میں لانے کی تدبیریں شروع کیں۔ سید حاظر اور مبتلا دونوں آ لیے ہیں، اس کے بہت دیر بعد غیرت بیگم کو ہوش آیا۔ سب سے زیادہ چوٹ غیرت بیگم ہی کو لگی تھی کہ اس نے پیٹ پیت کر اپنا سارا بدن چوڑی کی طرح نیلا کر لیا تھا۔ ہریالی کی بھی کندی خوب ہوئی۔ مگر اس کو گُجی 1 مار لگی تھی، بڑھیا ہریالی اور کوٹھری کی دیوار کے بیچ میں آ کر بچ گئی، مگر وہی مثل ہے کہ مرغی کو تکلے ہی کا گھاؤ بہت ہوتا ہے۔ دو تین دو ہتڑ جو اس پر جمتے ہوئے بیٹھ گئے وہ اتنے ہی میں سبکیاں لینے لگی۔ اگر ناظر نہ ہو تو کوتوالی والے کیا اس مقدمے کو بےچالان کیے رہیں۔ توبہ، اور اگر حاضر نہ ہوتا تو ناظر اور مبتلا آپس میں ہی کٹ مریں۔ پانچ چھے دن تو بیماروں کی دوا دارو ہوتی رہی، باندھنے کے موقع پر آنبہ ہلدی کا حلوا پکا پکا کر باندھا۔ سیکنے کی جگہ پرانے روڑ اور ریہہ سے سینکا۔ پھٹکری کو دودھ میں جوش کر کے پلایا۔ اب کیا باقی رہ گیا تھا جس کے لیے مبتلا کو ہریالی سے ملنے میں تامل ہوتا۔ حاضر، ناظر بہن کی خدمت گزاری میں لگے تھے۔ اور مبتلا کھلم کھلا ہریالی اور اس بڑھیا کی، بارے جب سب کے ہوش و حواس درست ہوئے تو لگے اپنی اپنی جگہ صلاحیں کرنے۔ مبتلا اور ہریالی کی تو یہ مصلحت گٹھی کہ اب اسی گھر میں برابری کے داعیے سے رہنا اور جلتوں کو خوب جلانا۔ ادھر ھاضر، ناظر، غیرت بیگم کے آپس ہی میں پھوٹ تھی۔ ناظر کہتا تھا کہ "لگے ہاتھ پہلے تھانے میں اطلاع لکھوا کر ایک دم سے تین نالشیں تو فوج داری میں داغو۔ مداخلت بےجا کی ہریالی پر، اور ضرر رسانی اور اپنے بچوں کے نفقے کی مبتلا پر اور ایک دعویٰ مہر کا کاغذ کامل القیمت پر دیوانی میں دائر کرو۔ "غیرت بیگم معاملے مقدمے کو تو کچھ سمجھتی بوجھتی نہ تھی، وہ اپنی اسی ایک بات پر اڑی ہوئی تھی کہ مجھ کو سید نگر پہونچاؤ نہیں تو افیون کھاتی ہوں۔ سید حاضر تھا میر متقی صاحب کے خوشہ چینوں میں، اور بات کے انجام کو سوچتا تھا۔ اس کی رائے یہ تھی کہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1 ۔ اندرونی 12

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ ۔۔۔ 165

نہ تھانے میں اطلاع لکھواؤ، نہ سرکار دربار میں کسی طرح کی نالش فریاد کرو، نہ سید نگر جاؤ، نہ افیون کھاؤ، صبر کر کے چپ چاپ گھر میں بیٹھی رہو، سوکنا کا آنا تمہاری تقدیر میں تھا، سو ہوا۔ اب تمہارے شو و فساد سے بہت ہو گا تو شاید اس گھر سے نکل جائے۔ مگر تم اپنے میاں کو اس کے چھوڑے دینے پر مجبور نہیں کر سکتیں۔ تم جو سید نگر جانے یا افیون کھانے کو کہتی ہو یہ تمہاری نامراد سوکن کی عین مراد ہے، ناظر بھائی نے جو تدبیر بتائی اس کا خلاصہ یہ ہے لڑائی اور لڑائی کا ضروری نتیجہ ہے نقصان اور تردد اور فضیحت اور رسوائی۔ اب تو سوکن کے آنے سے تم کو صرف ایک خیالی تکلیف پہونچی ہے، اور تم افیون کھانے کو موجود ہو۔ لڑائی کی صورت میں بہت سی واقعی تکلیفیں ایسی پیش آئیں گی کہ شاید تمہارے ساتھ مجھ کو اور ناظر بھائی کو بھی افیون کھانی پ ڑے۔ میری سمجھ میں نہیں آتا کہ سوکن کے آنے پر تم اس قدر آپے سے باہر کیوں ہو؟ کیا سوکن تم پر آج آئی ہے؟ تمہارا تو بیاہ ہوا ہے پیچھے، اور سوکنیں تمہارے بیاہ سے بہت پہلے کیآئی ہوئی موجود تھیں۔ کیا تم کو معلوم نہیں، تم ہی بتاؤ کہ مبتلا بھائی کس دن بےسوکن کے رہے؟ سارا سید نگر جانتا ہے کہ میں نے تمہاری منگنی کے وقت بہتیرا غل مچایا مگر میری سنتا کون تھا! میں تمہارے نصیوبوں کو اسی دن رو چکا جس دن تمہاری بات ٹھیری۔ تمہاری سمجھ کا پھیر ہے ورنہ میں تو حقیقت میں اس بات کو سن کر بہت خوش ہوا کہ مبتلا بھائی نے نکاح پڑھا لیا۔ اس سے تو یہ پایا جاتا ہے کہ انہوں نے آوارگی سے توبہ کی، وہ کوٹھوں کوٹھوں سرِ بازار خدائی خوار پڑا پھرنا بہتر، یا ایک کا ہو رہنا اور اس کو اپنا کر لینا بہتر! تم کیسی مسلمان ہو کہ ایک شخص جب تک خلافِ شرع چلتا رہا، تم نے ہوں تک نہ کی۔ اس کا طریقۂ شریعت پر آنا تھا کہ تمہارے تن بدن میں آگ ہی تو لگ گئی۔ ہم تو بھائی ایسے دین ایمان کے قائل نہیں۔ بلکہ انصاف کی بات تو یہ ہے کہ مبتلا بھائی نے تمہارا بڑا لحاظ کیا کہ نکاح کو تم سے چھپایا اور تمہاری خاطر سے بی بی کو ماما بنایا۔ اور میں سمجھتا ہوں کہ اگر تم پردہ فاش نہ کرتیں تو مبتلا بھائی اس عورت کے ساتھ اپنے معاملے کو اسی طرح دبا دبایا رہنے دیتے، مگر تم نے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ ۔۔۔ 166

بیٹھے بٹھائے سوتی ہوئی بھڑوں کو جگایا، ان کو حیلہٰ ہاتھ آیا۔ اب اگر وہ اس عورت کی اور بڑھیا کی دل جوئی اور خبر گیری نہ کرتے تو سارا گھر کھچا کھچا پھرتا۔ میں نے تو جس وقت آ کر بڑھیا کو دیکھا، میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ میرے تو ہوش اڑ گئے تھے، ہاتھ پاؤں ٹھنڈے برف، چہرے کی رنگت متغیر، میں تو سمجھا خدا جانے کہاں بےموقع صدمہ پہونچا کہ اس کا سانس پیٹ میں نہیں سماتا۔ پوچھو میاں ناظر سے اخباروں میں کئی بار دیکھنے میں آیا ہے کہ کسی گورے نے ایک قلی کو تھپڑ کھینچ مارا یا ٹھکرا دیا اور قلی فوراً مر گیا۔ غیرت بیگم تم نے یہ بڑی سخت بیجا حرکت کی اور اگر تم اس طرح دست درازی کرو گی، تو یقین جانو تم اپنی تو اپنی، ایک نہ ایک سارے خاندان کی ناک کٹوا دو گی۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ خا کے چند بدنصیب بندے یعنی لونڈیاں جو تمہارے اختیار میں ہیں، تم حق ناحق اپنا غصہ ان پر نکالتی رہتی ہو۔ یہ بیچاریاں تمہارا کچھ کر نہیں سکتیں، ہاتھ چوٹا ہوا، طبیعت بڑھی ہوئی، تم سمجھیں کہ سب جانور ایک ہی لاٹھی سے ہانکے جاتے ہیں۔ سوکن اور برھیا دونوں کو اٹھا کر پیٹ ڈالا۔ گویا وہ تمہاری لونڈی ہے اور یہ تمہاری باندی۔ وہ تو خدا نے اتنی خیر کی کہ بڑھیا مری نہیں، اور ادھر عین وقت پر آ پہونچے میاں ناظر کہ ان کے ملاحظے سے کوتوالی والوں نے تھوپ تھاپ کر دی۔ ورنہ ساری شیخی کرکری ہو جاتی کہ سادات سید نگر کی بیٹی، میر مہذب کی بہو کی ڈولی کوتوالی چبوترے پر دھری ہوتی۔ صد آفریں ہے تمہاری سوکن پر، ہے تو ذات کی کنچنی مگر بڑی ضبط کی آدمی ہے کہ تم سے کہیں زبردست معلوم ہوتی ہے مگر چپکی مار کھایا کی، اور الٹ کر اف تک نہ کی۔ کیوں غیرت! بھلا جیسا تم نے اس کو مارا تھا اگر وہ برابر سے مارتی تو تمہاری عزت تو دو کوڑی کی ہو جاتی۔ مگر اتنا فائدہ تو ضرور تھا کہ پھر تمہارا ہاتھ کسی پر نہ اٹھتا۔ سید حاضر نے ناظر اور غیرت بیگم کو ایسا آڑے ہاتھوں لیا کہ دونوں کو کچھ جواب نہ بن پڑا، اور دونوں اپنا اپنا سا منہ لے کر رہ گئے۔ آخر ناظر بولا کہ آپ ہم دونوں سے بڑے ہیں۔ جو کچھ آپ کے نزدیک مناسب ہو اس کی تعمیل میں نہ مجھ کو عذر ہے اور

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ ۔۔۔ 167

نہ آپا کو۔ یہ معاملہ ناموس کا ہے اور بھائی بہنوں کی ناموس کچھ جدا جدا نہیں ہوتی۔ اس میں رتی برابر فرق نہیں کہ آپ جو کچھ کریں گے آپا کے حق میں بہتر ہی کریں گے۔ سید حاضر نے کہا، "بس تو مجھ کو مبتلا بھائی سے دو دو باتیں کر لینے دو، ان شاء اللہ میں کوئی ایسی راہ نکالوں گا کہ دونوں میاں بی بی میں صفائی ہو جائے۔ ایسا موقع تاک کر کہ مبتلا مردانے میں اکیلا تھا، سید حاضر خود اس کے پاس گئے۔ جس وقت سے گھر میں یہ واردات ہوئی تھی حاضر اور ناظر دونوں کی طرف سے برے ہی برے خیالات مبتلا کے دل میں گزرتے تھے۔ اس کو ساری عمر کبھی کچہری جانے کا اتفاق نہیں ہوا، بس کچہری کے نام سے اس کا دم فنا ہوتا تھا اور حاضر ناظر دونوں کو خصوصاً ناظر کو کچہری ایسی تھی جیسے مچھلی کو تالاب، مویشی کو تھان، پرند کو گھونسلا، عورت کو میکا۔ باوجودیکہ سر تا سر قصور غیرت بیگم کا تھا، مگر مبتلا الٹا چور کی طرح سہما جاتا تھا کہ دیکھیے یہ بھائی بہن کئی کئی دن سے کمیٹیاں کر رہے ہیں، کیا فساد کھڑا کرتے ہیں۔ اس کے دوست آشناؤں میں بھی کسی کسی نے اس کو کوتوالی اور فوجداری میں استغاثہ کرنے کی صلاح دی تھی، مگر ہر چند اس کو مردوا بناتے تھے، کچہری کا نام آیا اور اس رنگ فق ہوا۔ وہ بگڑ بگڑ ایک ایک کی منت کرتا تھا کہ یارو مجھ سے مدعی بننے کی توقع مت کرو، کوئی ایسی تدبیر بتاؤ کہ اگر یہ لوگ مجھ پر نالش کریں، اور کریں ہی گے، تو مجھ کو حاکم کے روبرو نہ جانا پڑے۔ بہتیرا لوگ سمجھاتے تھے کہ ان کی طرف سے نالش کے ہونے کی کوئی روداد نہیں۔ اور فرض کیا کہ نالش ہو بھی تو تم اپنی طرف سے جواب دہی کے لیے مختار یا وکیل کھڑا کر دینا۔ بلکہ بعضے تو شرط باندھتے تھے کہ اگر نالش ہو، اور خدانخواستہ تم پر کسی طرح کی آنچ آ جائے، تو حاکم جو سزا تمہاری تجویز کرے اس کی چوگنی ہم بھگتنے کو موجود ہیں۔ چاہو ہم سے لکھوا لو۔ مبتلا کہتا تھا۔ "تم ناظر بھائی کے ہتھکنڈوں سے واقف نہیں ہو۔ ارے میاں وہ اس بلا کا آدمی ہے کہ چچا باوا بےچارے کسی کے لینے میں نہیں کسی کے دینے میں نہیں، اس نے دل پر رکھا تو شہر سے نکلوا کر چھوڑا۔ " مبتلا کا حال یہ ہو گیا تھا کہ ہریالی اور اس کی بڑھیا کی مرہم پتی کی ضرورت سے کھڑے کھڑے گھر میں جاتا تو الٹے پاؤں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ ۔۔۔ 168

باہر بھاگا ہوا آتا کہ دیکھوں کہیں سرکار سے طلبی تو نہیں آئی۔ اتنے دن نہ تو اس نے پیٹ بھر کے کھانا کھایا اور نہ پوری نیند سویا۔ اگر تھوڑے دن اور سید حاضر کی طرف سے سبقت نہ ہوتو مبتلا اس قدر پریشان تھا کہ وہ خود ابتدا کرتا۔ اور اتنے دن بھی وہ اپنے آپ کو لیے رہا تو ان لوگوں کی نارضامندی کے خیال سے اس کو جرأت نہیں ہوئی۔ سید حاضر کو دور سے آتا ہوا دیکھ کر کھڑا تو ہو گیا مگر اس وقت تک اس کے دل میں کھٹکا تھا کہ ان کا آنا خالی از علت نہیں، جب سید حاضر نے قریب پہونچ کر معانقے کے لیے ہاتھ پھیلائے تو اس کو اطمینان ہوا، اور بھائی کے گلے لگ کر غیرت بیگم کی زیادتی اور اپنی مجبوری اور اتنے دن کی پریشانی کو یاد کر کے خوب رویا۔ سید حاضر کا بھی جی بھر آیا کہ دیکھو خدا فضل سے گھر میں سب طرح کی فراغت ہے، ایک چھوڑ دو دو بیبیاں ہیں، بچے ہیں، کسی بات کی کمی نہیں، مگر ایک بری لت جو اپنے پیچھے لگا لی ہے۔ تو زندگی کیا تلخلی سے گزرتی ہے۔ معانقے کے بعد دونوں بھائی ایک جگہ بیٹھے تو سید حاضر نے کہا۔ "مبتلا بھائی یہ نیا رشتہ تمہارے ساتھ کیا ہوا کہ وہ پرانا رشتہ بھی اس کے پیچھے گیا گزرا ہوا! دیہات کا کم بخت کیا برا دستور ہے کہ ہم تو بہن کے گھر پر بلاضرورت آ نہیں سکتے، اب تمہاری ہی طرف سے ملاقات ہو تو ہو، سید نگر تو بھلا تم کیوں آنے لگے! شہر میں بھی تم کہیں نظر نہیں آتے۔ آج آٹھواں دن ہے کہ میں بلاناغہ دونوں وقت یہاں آتا ہوں، تم کو دوچار بار دیکھا بھی مگر تمہارا رخ نہ پایا۔ آخر آج مجھ سے نہ رہا گیا تو میں نے کہا لاؤ میں ہی پیش قدمی کر کے تم سے ملوں۔" مبتلا: "کیا کہوں میں تو ندامت کی وجہ سے نہیں مل سکا۔" حاضر: "ندامت کی کیا بات ہے، عورتیں ناقصات العقل آپس میں لڑا جھگڑا ہی کرتی ہیں۔ اگر مرد ایسی ایسی باتوں کا خیال کیا کریں تو دنیا میں کیسے گزر ہو۔" مبتلا: "آپ پر ثابت تو ہو گیا ہو گا کہ زیادتی کس کی تھی۔" حاضر: "اس معاملے میں میرا منہ نہ کھلواؤ، میں تم سے کیسی ہی سچی بات کیوں نہ کہوں پر تم یہی سمجھو گے کہ بہن کی طرف داری کرتا ہے۔" مبتلا: "میں نے آپ کے تدین کی تعریف اور کسی سے بھی نہیں، چچا باوا سے سنی ہے۔ میں آپ کی نسبت بےانصافی کا خیال کبھی کر ہی نہیں سکتا۔" حاضر: "دوسرا نکاح

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ ۔۔۔ 169

تو تم کر چکے، اب اس کی نسبت یہ کہنا کہ تم نے جلدی کی یا بےجا کیا فضول ہے، بلکہ ایک اعتبار سے تو میں کہتا ہوں کہ تم نے بجا کیا، مناسب کیا، خوب کیا، اور ضرور کرنا چاہیے تھا، تمہارا طرزِ زندگی دین کے، شرافت کے، بھلمنساہت کے، عقل کے، سب کے خلاف تھا۔ بڑی خوشی کی بات ہے کہ تم نے اس سے توبہ کی، خدا کرے کہ تمہاری یہ توبہ پہاڑ کی طرح مستحکم ہو، بھاری بھرکم ہو، مضبوط ہو، اٹل ہو، مگر مجھ کو اس بات کا اندیشہ ہے کہ ایک مگدر کو تو تم اٹھا نہ سکے، جوڑی تم سے کیونکہ ہلائی جائے گی! تمہاری وہی مثل ہے کہ تنور سے بچنے کے لیے بھاڑ میں گرے۔ دو بیبیوں کا رکھنا، جمع بین النقیضین کچھ آسان کام نہیں۔ تم نے ایسی ہنڈیا پکائی ہے کہ یہ واقعہ جو پیش آیا اس کا پہلا ابال ہے۔ جب کھرچن کی نوبت آئے گی تو اصلی مزہ معلوم ہو گا۔ یقین جانو کہ میں کچھ بہن کی پاس داری سے نہیں کہتا، بلکہ حقیقت نفس الامری بیان کرتا ہوں کہ تم نے غیرت کی قدر و وقعت کو مطلق نہیں پہچانا۔ غیرت بیگم خدانخواستہ (برا مت ماننا) تمہاری اس بی بی کی طرح گری پڑی بازاری عورت نہیں۔ وہ ایسے جتھے اور ایسے گروہ اور ایسی برادری اور ایسے خاندان کی بیٹی ہے کہ جہاں اس کا پسینا گرے آج سید نگر میں کم سے کم دو سو آدمی ایسے نکلیں گے جو اپنا خون بہانے کو موجود ہو جائیں گے۔ عورتوں کے معاملے عزت اور آبرو اور ناموس کے معاملے ہیں۔ مال کی تو کیا حقیقت ہے؟ عزت کے آگے شرفا خاص کر دیہات کے، خاص کر سادات، خاص کر ساداتِ سید نگر جان کی ذرا بھی پرواہ نہیں کرتے۔ یاد کرو کتنی منت، کس قدر خوشامد، کیسی آرزو سے ماموں اور مومانی (خدا ان دونوں کو جنت نصیب کرے) غیرت بیگم کو بیاہ کر لائے، آج کو وہ دونوں یا ان میں سے ایک بھی زندہ ہوتے تو کیا تمہاری مجال تھی کہ تم غیرت بیگم پر سوکن لاؤ اور اسی کی گود میں بٹھاؤ؟ پھر بندۂ خدا تم کو اتنا بھی خیال نہ آیا کہ ماں باپ اس کے نہیں، ساس سسرے اس کے نہیں، دنیا میں وارث کہو، سرپرست کہو، شوہر کہو، ایک تم۔ سو تم نے جلا جلا کر اس کا یہ حال تو کر دیا کہ سید نگر کی نسبت اب تہائی بھی باقی نہیں رہی۔ اور اس پر بھی تم کو صبر نہ آیا، سوکن کو لا بٹھایا،

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ ۔۔۔ 170

عورت ہو تو جانو، یا عقل ہو تو پہچانو کہ سوکن کا کیسا داغ ہوتا ہے؟ بیوگی سے بڑھ کر! میاں نکھٹو اپاہج یا بدمزاج ہو، روٹی کھانے کو، اولاد جی بہلانے کو نہ ہو، سب مصیبتیں جھیلی جا سکتی ہیں، اور نہیں جھیلی جا سکتی تو سوکن کی۔ دنیا کے اور جلاپے جلاپے ہیں اور سوکن کا جلاپا سلگاپا۔ جس شخص پر مصیبت کا پہاڑ ٹوٹ پڑا ہو وہ اگر افیون کھا لیتی، یا کوئیں میں گر پڑتی، یا پیٹ میں چھری بھونک لیتی، اس سے کسی بات کا تعجب نہ تھا۔ بلکہ تعجب یہ ہے کہ رونے پیٹنے پر قناعت کی۔ اگر خدانخواستہ اس نے اپنے آپ کو ہلاک کر لیا ہوتا تو تمہارا کیا جاتا؟ تم تو نئی بی بی کے ساتھ چین کرتے، گل چھرے اڑاتے، ہم کو بہن کہاں پیدا تھی۔" مبتلا۔ "اگر آپ کہیں تو میں اس عورت کو چھوڑ دوں؟" حاضر: "میں تو چھوڑنے کو نہیں کہہ سکتا۔ اور تم ایسے چھوڑے والے ہوتے تو کرتے ہی کیوں؟ فرض کیا تم نے اس کو میرے ک ہنے سے چھوڑ دیا اور پھر وہی سابق وتیرہ اختیار کیا تو اپنے ساتھ دنیا اور دین دونوں جگہ میرا منہ بھی کالا کراؤ۔" مبتلا: "پھر آپ ہی کوئی راہ نکالیے، مجھ سے ایک نادانی تو ہوئی اور اپنی طبیعت کو بارہا آزما چکا ہوں، میرے قابو کی نہیں۔ آج آپ سے ایک وعدہ کروں اور کل کو جھوٹا ٹھیروں تو پھر آپ کے نزدیک میرا کیا اعتبار رہا؟ اس سے بات کا صاف صاف کہہ دینا اچھا۔ اور اگرچہ آپ سے اس معاملے میں صلاح پوچھنا داخلِ بےحیائی ہے، مگر چچا باوا چلتے چلتے فرما گئے ہیں کہ اگر کوئی مشکل آ پڑے تو آپ کی رائے پر عمل کرنا۔ اور یوں بھی آپ بڑے بھائی ہیں، باپ کی جگہ آپ ہی اگر اڑی پر آڑے نہ آئیں گے تو میں کس کے پاس التجا لے جاؤں؟ بندے کے سو قصور خدا معاف کرتا ہے۔ آپ از برائے خدا میرا ایک قصور معاف کیجیے۔" حاضر: "بات یہ ہے کہ میں تمہاری اس نئی بی بی کے حالات سے بخوبی واقف نہیں۔ میں کچھ کہہ نہیں سکتا کہ کس طرح اس کے ساتھ مدارات کرنی مناسب ہے؟" مبتلا: "اس کم بخت کے اور حالات ہی کیا ہیں؟ بازاری عورت ہے، تنِ تنہا مدت سے توبہ توبہ پکار رہی تھی۔ میری جو شامت آئی اس کے ساتھ عقدِ شرعی کر لیا کیونکہ چچا باوا کے سامنے آوارگی سے میں توبہ کر چکا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ ۔۔۔ 171

حماقت پر حماقت یہ ہوئی کہ، اور اب میں اس گھڑی کو پچھتاتا ہوں، کہ گھر میں لا کر اوپر کا کام کاج سپرد کیا۔ دوسری ماماؤں کی طرح رہنے سہنے لگی۔ اگر میں نے اس کے ساتھ کسی طرح کا سروکار رکھا ہو تو مجھ پر خدا ہی کی مار پڑے۔ یہ تو اس کی پچھلی کیفیت ہے۔ آئندہ کے لیے بھی اگر آپ کی مرضی ہو تو وہی ماماؤں کی طرح رہے گی، اور بدستور گھر کی خدمت کرے گی۔" حاضر: "اس کا غیرت بیگم کے پیش نظر رہنا تو میں پسند نہیں کرتا، کیونکہ اس صورت میں فساد عاجل کا بڑا اندیشہ ہے۔ دو سوکنوں کی مثال تمہیں کس طرح بتاؤں؟ یوں سمجھو کہ دو گلاس ہیں۔ ایک میں سوڈا ہے پانی میں حل کیا ہوا اور دوسرے میں ایسڈ۔ ممکن ہے کہ سوڈا اور ایسڈ ملیں اور ان میں جوش و خروش پیدا نہ ہو؟ پس دونوں کو ایک جگہ رکھنے کا تو تم کبھی بھول کر بھی ارادہ نہ کرنا ورنہ آج دوہتڑ تھے تو کل جوتیاں ہوں گی اور پرسوں چھریاں۔ اس کو تو کسی دوسرے شہر میں، یا خیر دوسرے محلے میں، یا خیر دوسرے گھر میں تو رکھنا ضرور ہے۔ مگر مشکل یہ ہے کہ تم کہتے ہو کہ وہ اکیلی ہے، تنِ تنہا۔ آدمی زیادہ رکھے جائیں تو تمہاری چادر 1 میں اتنے پاؤں پھیلانے کی گنجائش نہیں۔ پس صرف یہی ایک تدبیر ہے کہ زنانے مکان میں پورب کی طرف جو ایک کھانچا سا نکل گیا ہے پردے کی دیوار کھچوا لو اور ڈیوڑھی میں سے دروازہ چھوڑ کر اتنا گھر الگ کراؤ۔ اور حقیقت میں یہ تھا بھی دوسرا گھر۔ ماموں باوا نے مول لے کر باہر گلی کا دروزہ تیغہ کرا کے زنانے مکان میں ملا لیا تھا۔ تیغے کا نشان اب تک موجود ہے، اتنا مکان ایک مختصر خانہ داری کے لیے بخوبی کافی ہے۔ ضرورت کی سب چیزیں موجود ہیں۔ دالان در دالان آگے سائبان، دونوں طرف بڑی بڑی دو کوٹھریاں، باورچی خانہ، اس کے بغل میں چیز بست رکھنے کو لمبی کولکی، سامنے کے ضلع میں سہ درہ، بس اور چاہیے کیا؟ بڑے گھر کی طرف خدا کے فضل سے آدمی زیادہ ہیں اور خرچ بھی بہت ہے۔ برابری اگر چاہو تو دونوں گھروں میں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1 ۔ یعنی تم کو اتنا مقدور نہیں 12

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ ۔۔۔ 172

ممکن نہیں، اور ضرور بھی نہیں، اور مناسب بھی نہیں۔ چھوتے ماموں باوا پینسٹھ روپے کی تنخواہیں اور کرایہ تمہارے نام کرا گئے ہیں، اور ساٹھ کی غیرت بیگم کے نام۔ سو اپنے پینسٹھ میں تیس چھوٹی بی بی کو دیا کرو اکیلا دم ہے فراغت سے بسر کر سکتی ہے۔ پینتیس تم کو بچیں گے اس میں تمہارا کپڑا ہے اور باہر مردانے کا خرچ۔ غیرت بیگم کے ساٹھ کو ہاتھ مت لگاؤ۔ ایک دن بڑے گھر میں رہو ایک دن چھوٹے گھر میں، نہ ہڑہڑ نہ کھڑکھڑ اللہ اللہ خیر صلاح۔" مبتلا تو اپنی جگہ یہ ڈر رہا تھا کہ نہیں معلوم شہر سے نکلوائیں گے، یا قید ڈلوائیں گے، یا گھر بار ضبط کرائیں گے! سید حاضر کا فیصلہ سننے کے ساتھ اس کے پیروں میں گر پڑا، کہ "بس اس میں اگر میری طرف سے کبھی سرِ مو فرق ہو تو جانیے گا کہ میری اصالت میں فرق ہے۔" ہریالی بھی اپنی جگہ بہت خوش ہوئی اور سمجھی کہ اب میرا بی بی ہونا سب بنچوں نے جانا گھر بنٹوا پایا۔ میاں کے پینتیس بھی میرے اپنے ہی ہیں وہ ملا کر تنخواہوں میں، کرائے میں بڑا آدھا میری طرف رہا۔ کہاں غیرت بیگم سیدانی اشراف، میاں کی پھوپھی ذاد بہن، صاحبِ اولاد، آٹھ نو برس کی بیاہی ہوئی، اور کہاں میں! انصاف کی رو سے تو میں ان کی جوتی کی بھی برابری نہیں کر سکتی۔ قربان جاؤں خدا کے کہ اس نے مجھ کنہہ گار ناچیز کی توبہ کو ایسا نوازا کہ ان ہی کے سگے بھائی کے ہاتھ سے مجھ کو جتوایا۔ غیرت بیگم کو تو سوکن کے نام کی جلن تھی۔ اس کو مکان سے، تنخواہ سے کچھ بحث ہی نہ تھی۔ ہریالی کو کیسے ہی برے احوال سے رکھتے مگر جب تک غیرت بیگم یہ جانتی تھی کہ یہ میری سوکن ہے، کسی طرح وہ راضی ہو ہی نہیں سکتی تھی۔ لیکن بڑے بھائی نے جب ایک فیصلہ کر دیا تو کیا کرتی؟ دل میں پیچ و تاب کھا کر چپکی ہو رہی۔ مبتلا کے ساتھ بولنا بات کرنا پہلے ہی سے کم تھا، اب بالکل چھوڑ دیا۔ غرض صحن میں پردے کی دیوار اٹھائی گئی، ڈیوڑھی میں دروازہ لگا، ہریالی نے الگ گھر کر کے رہنا شروع کیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 
چوبیسویں فصل

مبتلا اور ہریالی کا بگاڑ

جب تک باتوں کا زبانی جمع خرچ رہا کہ غیرت بیگم نے اپنے گھر میں کوس کاٹ لیا اور ہریالی نے اپنی جگہ پکار پکار کر نہیں تو چپکے سے جو کچھ مُنہ میں آیا کہہ دیا۔ تب تک اگر سچ پوچھو تو ہریالی کی جیت تھی کیونکہ مبتلا اس کے پلّے پر تھا، اور آمدنی کے حساب سے دونوں گھر برابر سرابر۔ اب جو پینسٹھ کے رہ گئے ستائیس، تو اس کا ایمان ڈگمگا چلا، اور مبتلا سے کہا ”اُدھر اکیلے گھر میں ساٹھ، اور اِدھر مردانہ زنانہ دو گھروں میں پینسٹھ! نگوڑا پانی روپے کابَل! خُدا جانے میں کیا کتر بیونت کرتی تھی کہ خیر گذر ہوئی چلی گئی۔ تم اپنے ہاتھ میں خرچ رکھتے ہوتے تو حقیقت کھلتی۔ اور میں تمہارے بڑے گھر میں جاتی نہیں تو آخر سنتی تو ہوں کہ آدمیوں کو اُبالی دال ملتی ہے، اور وہ بھی ایک وقت۔ بچّوں کو سودا سلف تو درکنار، کبھی اَدّھی کے چنے لے کر دینے نصیب نہیں ہوئے۔ اب تم نے پینسٹھ کے ستائیس کرائے ہیں تو تم ہی خرچ کا انتظام بھی کرو۔ میں کوئی اپنی بوٹیاں کاٹ کاٹ کر تو کھلانے سے رہی!“ مبتلا ”پینسٹھ کے ستائیس میں نے کرائے ہیں۔“ ہریالی ”جانے بلا تم نے کرائے ہی یا انہوں نے جو ہمارے کچھ لگتے ہیں!“ مبتلا ”تم ہی نے فیرینی پکا کر بیٹھے بٹھائے سارا فساد برپا کیا اور اُلٹا مجھ کو اُلاہنا دیتی ہو۔“ ہریالی ”مجھے خبر تھی کہ دُشمنوں نے دودھ میں سنکھیا گھول کر میری جان کے لینے کا سامان کیا ہے۔؛ مبتلا ”اسی کا تو پتہ نہ چل سکا کس نے دودھ میں سنکگھیا گھولی۔“ ہریالی ”تو کیا میں نے گھولی؟“ مبتلا ”تم نے گھولی تو نہیں مگر تم تھُپ

صفحہ 207

تو گئیں۔“ ہریالی ”تم نے تھپوائی تو تھپی۔“ مبتلا ”ایک نشُد دو شد! مہینہ میں نے کم کرایا۔ سنکھیا کا الزام میں نے تم پر لگایا، میں ہی بُرا ہوں تو خدا بُرے کو موت دے۔“ ہریالی” خدا نہ کرے، تم کیوں برے ہونے لگے! بُری میں کہ تمہارے کارن گھر چھوڑا، عیش چھوڑا، آرام چھوڑا، اس کا یہ انعام ملا کہ ہمارے یہاں آ کر کوسنے سُنے، گالیاں کھائیں، بے عزّتی کا کوئی درجہ باقی نہ رہا۔ دو دفعہ جان کا خطرہ اُٹھایا۔“ مبتلا ”تم کو معلوم تھا کہ میرے بی بی بچّے ہیں، پھر نہ آئی ہوتیں! کسی نے زبردستی کی تھی! اور اب تمہارا جی چاہے تو اب چلی جاؤ۔ تم سے کسی نے کچھ چھین تو نہیں لیا۔“ ہریالی ”ہاں ہاں میں کیا مُکرتی ہوں؟ میں تمہاری بی بی کو جانتی تھی اور بچوں کا ہونا بھی معلوم تھا۔ مگر مجھے خبر نہ تھی کہ تم اس طرح کے حیز (1) ہو کہ ناظر کی صورت دیکھنے سے تمہارے ہوش باختہ ہوتے ہیں۔ اور میں اگر جاؤں گی، اور جاؤں گی نہیں تو کیا مفت میں اپنی جان گنواؤں گی، تو ناظر کو جو وکالت کے گھمنڈ میں بہت اکڑا ہوا پڑا پھرتا ہے، اور اس مکّار حاضر کو، جو ہر مرتبہ بڑا مولوی بن کر وعظ کہنے کو آ بیٹھتا ہے، اور تیری بھینا کوتوال کی جورو کو اور اس موئے کوتوال کو جس نے رشوتیں لے لے کر خُون کے مقدموں کو ملیامیٹ کیا ہے، اور سب کے ساتھ تُجھ کو دنیا جہان میں الم نشرح (2) کر کے جاؤں گی۔ میرا جانا کیا ایسا ہنسی ٹھٹھّا ہے؟ میں نے تیرے پیچھے اپنے تئیں خاک میں ملا دیا، اور آج تو نے اس کا یہ پھل دیا۔ لے اب دیکھ میرا تماشہ! تیرا تو کیا مُنہ ہے مگر بُلا اپنے حمایتیوں کو کہ مجھے جاتی کو روکیں۔“ یہ کہہ کر ہریالی کھڑی ہو سیدھی دروازے کی طرف چلی بارے۔ مبتلا نے ساری عمر میں ایک یہ بہادری تو کی کہ اس کو کوٹھری میں دھکیل جھٹ اوپر سے کنڈی لگا دی۔ این کار از تو آید و مرداں چنیں کنند۔ مُبتلا تو ہریالی کو کوٹھری میں بند کر باہر چلا گیا۔ ہریالی کے پاس جو پُرانی ماما تھی وہ تھی ایک

1) بزدل، نامرد

2) مشہور

صفحہ209

طرح کی اس کی کٹنی، اس نے ہریالی کو سمجھایا۔ ”بی بی مرد کا مزاج دیکھ کر بات کی جاتی ہے۔ اس کم بخت پر تو آپ ہی مصیبتیں پڑی ٹوٹ رہی ہیں، تم اور چلیں گھاؤ میں اوپر سے مرچیں لگانے۔ تھوڑے دن صبر کیا ہوتا، وہ اپنے تئیں بیچتا، چوری کرتا، کہیں نہ کہیں سے تمہارا بھرنا بھرتا۔ اور اگر تمہاری مرضی جانے کی ہو گی تو اس کی سَو راہیں ہیں۔ ڈھنڈورا پیٹنا اور ڈھول بجانا کیا ضرور ہے؟“ اُدھر پان کے بہانے مُبتلا کے پاس گئی اور اس سے کہا: ”میاں بُرا کہو فضیحتی کرو سب تم کو پہنچتا ہے، پر مُنہ بھر کر یہ کہہ بیٹھنا کہ چلی جا، تم ہی انصاف کرو بڑی سخت بات ہے۔ خیر، غصّہ حرام ہوتا ہے۔ میاں بی بی کی لڑائی کیا، اور میاں بی بی بھی تم جیسے کہ وہ ہماری عاشِق زار اور تم اس پر دل و جان سے نثار۔ اُٹھو گھر چلو۔ بیوی کی بھی روتے روتے ہچکی بندھ گئی تھی۔ اب میں نے اُٹھ کر زبردستی پانی پلایا ہے۔“

صفحہ 210

پچیسویں فصل

مبتلا کی خانہ داری دونوں بیبیوں کے ساتھ کِس طرح پر تھی؟

مبتلا اور ہریالی کی یہ لڑائی تو خیر ایک اتفاقی بات تھی۔ مگر دیکھنا چاہئے کہ ان میں باہمی ارتباط کس درجے کا تھا؟ دونوں نے ایک دوسرے کے سمجھنے میں غلطی کی۔ ہریالی نے سمجھا تھا کہ یہ آدمی ہے حسن پرست، بیوی اس کو بھائی نہیں اور مجھ پر ہو رہا ہے لٹّو۔ میں گئی نہیں اور اس کی بیوی سے تُڑا چھڑا اپنے کھونٹے سے باندھا نہیں۔ یہاں آ کر دیکھا تو بیوی کو میاں کا خصم پایا کہ وہ اس کو اس طرح لپٹی ہے جیسے مکھی کو شہد۔ یہ بہتیری کوشش کرتا ہے کہ اس سے چھوٹ جائیں مگر اور لتھڑتا چلا جاتا ہے، چاہئے تھا کہ مجبور سمجھ کر معذور رکھے۔ خود غرضی جبر و اختیار میں فرق کرنے نہیں دیتی تھی۔ وہ کچھ کر نہیں سکتا تھا اور یہ جانتی تھی کہ اپنے ہیٹے پن سے خُود نہیں کرتا۔ وہ واری اور قربان تھی جب تک توقع میں جان تھی۔ نا امیدی کا پیدا ہونا تھا کہ صاف ہتھے سے اُکھڑ گئی۔ مبتلا تو اوّل دن سے حسن صورت کے پیچھے ایسا فریفتہ تھا کہ خوبصورتی کے آگے حسب نسب، سلیقہ، ہنر، عقل، نیکی، دین داری کسی چیز کو دیکھتا ہی نہ تھا۔ بیوی سے تھی اس کو نفرت، چوٹّوں کی طرح دو چار بار رات کو ہریالی کے

صفحہ 211

کے یہاں گیا آنکھوں میں کھب گئی۔ نہ انجام سوچا، نہ عاقبت کار پر نظر کی، گھر میں لا بٹھایا۔ مبتلا کے دل کو جو اچھی طرح ٹٹول کر دیکھا تو گھر میں آئے پیچھے ہریالی کی طرف اس کا اگلا سا رُخ نہ تھا۔ اوّل تو اس نے ہریالی کے جانچنے اور آنکنے ہی میں غلطی کی تھی، اس میں شک نہیں کہ ہریالی خوب صورت تھی مگر نہ اس درجہ کی کہ مبتلا جیسا حسین آدمی اس پر مفتون ہو۔ یونیورسٹی کی ڈگریاں اگر خوب صورتوں کو ملتی ہوتیں تو ہریالی ہماری نظر میں اس سرے بس ایف اے کے قابل تھی، مگر مبتلا تو اس کو نکاح سے پہلے ایم ۔ اے کے درجے میں سمجھتا تھا۔ دوسری ایک وجہ یہ بھی ہوئی کہ ہریالی کو ویسا بناؤ سنگار نہ تو اب میسر تھا اور نہ اس کا موقع تھا اور سب سے بڑا سبب تو ہمارے سمجھنے میں یہ تھا کہ کیسی ہی کوئی نعمت کیوں نہ ہو، اس کی قدر طلب تک رہتی ہے۔ حاصل ہوئی اور اس کی منزلت گھٹی، یہاں تک کہ رفتہ رفتہ انسان کو اس کا احساس بھی باقی نہیں رہتا کہ یہ نعمت کو نعمت بھی ہے یا نہیں؟ اگر غیرت بیگم کو ذرا بھی عقل ہو کہ خدمت اور اطاعت سے میاں کو اپنا کرنا چاہیے تو ہریالی کی اتنی بھی قدر نہ ہو۔ یہ اپنی صورت کو آئینہ لیے بیٹھی چاٹا ہی کرے، اور اندر باہر غیرت بیگم ہی غیرت بیگم رہے۔ مگر وہ چال بُری چلی۔ اس نے چاہا نکتوڑوں سے، دباؤ سے، بھائیوں کی حمایت سے، مبتلا کو زیر کرنا۔ دل پھٹتے گئے، اور طبیعتیں ہٹری گئیں۔ ہریالی نے پایا میدان خالی۔ مبتلا کے دل میں جگہ کر لی، نہ خوب صورتی کے بِرتے پر بلکہ سلیقے اور رضا جوئی کے بل پر۔ غیرت بیگم کے جھگڑے مبتلا کو چین تو لینے دیتے ہی دیتے تھے ۔ وہ ہریالی کی خوشی کیا مناتا۔ دونوں میں میل جول اگر عاشق معشوقی کا سا نہیں بلکہ جیسا کہ عام طور پر میاں بیبیوں میں ہوا کرتا ہے۔

صفحہ 212

چھبیسویں فصل

مبتلا نے تنگ ہو کر دونوں گھروں میں رہنا چھوڑا اور اور اس کی حالت یوماً فیوماً ماردّی ہوتی گئی۔ یہاں تک کہ ایک دن مر کر رہ گیا۔

جس شخص کی پینسٹھ کی آمدنی جا کر ستائیس کی رہ جائے، اور وہ بھی غیر مقرر، اسی کے دل سے پوچھنا چاہیے کہ اس پر کیا گزرتی ہو گی؟ تواتر مصائب اور ہجومِ افکار نے مبتلا کو اس قدر تنک مزاج کر دیا تھا کہ دنیا کی کوئی چیز اس کو بھلی نہیں لگتی تھی۔ اس کو ہریالی کی لڑائی کا ایک بہانہ مل گیا اور اس نے دونوں گھروں کا جانا قاطبۃً موقوف کر دیا ۔سارے دن رات اٹوانٹی کھٹوانٹی لیے اکیلا مردانے میں پڑا رہتا تھا۔ نہ خود کسی کے پاس جاتا اور نہ اپنے پاس کسی کے آنے کا روادار ہوتا۔ اگر اتفاق سے کوئی آ نکلتا تو اس کی طرف مطلق مُلتفت نہ ہوتا۔ اس رج نے اس کو رہا سہا اور بھی امچور کر دیا کہ دشمن اس کے اور تیار ہوئے، ناظر سے بڑھ کر معصوم اور غیرت بیگم سے زیادہ بتول۔ مبتلا اپنی طرف سے بہترا دونوں کو لپیٹتا تھا، مگر یہ دونوں اتنا بھی نہیں جانتے تھے کہ ہمارا باپ ہے۔ جب سے ہوش سنبھالا باپ کو سُنا بُرا بُرا۔ پس دونوں کے ذہن میں اس کی برائی ایسی راسخ

صفحہ 213

ہو گئی تھی کہ ابّا یا باوا یا باپ کہنا کیسا دُونوں خاصی طرح نام لیتے تھے۔ معصوم گالی کے ساتھ اور بتول کوسنے کے ساتھ۔ مبتلا نے جب دونوں گھروں سے ملول ہو کر مردانے میں رہنا اختیار کیا تو اس نے یہ خاصی تدبیر سوچی تھی۔ اگر ہو سکے تو معصوم اور بتول دونوں کو ورنہ اکیلے معصوم کو خالی بیٹھا ہوا پڑھاؤں، اور اسی طرح اپنا جی بہلاؤں۔ مگر معصوم پٹھّے پر ہاتھ تو دھرنے ہی نہیں دیتا تھا۔ مردانے میں بے رونقی تو ہریالی کے ساتھ آ چکی تھی، اب تھوڑے ہی دن میں خاک اُڑنے لگی۔ جس مکان میں عمدہ اسباب کے اٹم کے اٹم لگے پڑے تھے، اب اس میں کیا رہ گیا! بانوں کے چند جھلنگے، ایک کی چول ٹوٹی ہوئی ہے تو دوسرے میں ادوان نہیں، کسی کی پٹّی لچکی ہوئی ہے تو کسی کے سیروے میں جان نہیں، شاید چھوٹی بڑی ملا کر چار یا پانچ چوکیاں، وہ بھی بے جوڑ، بوسیدہ، بے مصرف۔ نوکروں میں صرف ایک وفادار، سو وہ بھی اس طرح کہ یہاں سے تو اس کو کھانا تک نہیں ملتا تھا، اور ملے کہاں سے؟ دیں نہ دیں، میاں، سو میاں، بے چارے کے پلّے ٹکا نہیں، دن کو مزدوری کرتا اور رات کو میاں کی پائنتی آ کر پڑ رہتا۔ دنیا کا کوئی کام یا دین کا روزہ نماز ہو تو صبح و شام کا تفرقہ اور دن رات کا امتیاز ہو۔ مبتلا کو سب وقت یکساں تھے۔ اس کو سونے جاگنے، کھانے پینے کسی بات کا کوئی وقت ہی مقرر نہ تھا۔ جب دیکھو مُنہ اوندھائے چارپائی پر پڑا ہے، معلوم نہیں سوتا ہے یا جاگتا ہے۔ اپنی تباہی کا خیال ہے کہ کسی وقت دل سے نہیں جاتا۔ جاگتا ہے تو اس کا سوچ ہے اور سوتا ہے تو اسی کا خواب دیکھ رہا ہے۔ وہ کبھی اپنے پچھلے وقتوں کو یاد کرتا اور اس کے چہرے پر ایک طرح کی بشاشت آ جاتی۔ تھوڑی دیر بعد خودبخود یکایک چونک کر اِدھر اُدھر دیکھنے لگتا اور پھر اس کے مُنہ پر مُردنی سی چھا جاتی۔ غیرت بیگم اور اس کے

1) یہ مثل گھوڑے کے حق میں کہی جاتی ہے کہ پٹھے پر ہاتھ تو دھرنے ہی نہیں دیتا، نعل کیونکر لگائے جائیں؟

صفحہ 214

علاقہ داروں سے یہاں تک کہ اپنے بچوں سے تو اس کو مطلق نا امیدی تھی۔ وہ خُوب سمجھ چُکا تھا کہ اب کسی حالت میں جیتے جی ان لوگوں سے صفائی کا ہونا ممکن نہیں۔ رہ گیا قطع تعلق، اس کے لیے چاہے ہمّت جرأت، اور یہی باتیں اگر مبتلا میں ہوتیں تو یہاں تک نوبت ہی کیوں پہنچتی؟ قاعدہ ہے کہ جس پر پڑتی ہے اسی کی طبیعت خوب لڑتی ہے۔ رنجوں سے بچنے کا کون سا پہلو تھا جو مبتلا نے نہیں سوچا؟ مگر جدھر جاتا تھا راہِ نجات کو مسدود پاتا تھا۔ مارے غم کے وہ اس قدر نحیف و ناتواں ہو گیا تھا جیسے کوئی برسوں کا بیمار۔ شاید چھینکنے سے اس کو غش آتا اور کھانسی کے ساتھ اس کا سانس اکھڑ جاتا۔ اللہ رے غیرت بیگم، عورت ذات ہو کر اس قدر سخت دلی اور اس بلا کا غصّہ کہ مبتلا گھلتے گھلتے چارپائی سے لگ گیا اور اس نے بھول کر بھی خبر نہیں لی! ہریالی تھی تورذالی، پر خیر دکھاوا ظاہرداری جو چاہو سمجھو، بیسیوں بار تو اپنی ماما کو بھیجا اور آخر خُود گئی۔ ہر چند منّت خوشامد کی مگر مبتلا تو اپنی زندگی سے ہاتھ دھوئے بیٹھا تھا ذرا نہ پتیایا۔ مبتلا خوب سمجھتا تھا کہ میں اس رنج سے جاں بر نہیں ہو سکتا۔ اختلاجِ قلب تو اس کو مہینوں سے تھا اب کسی کسی وقت دل میں ایک طرح کا ہلکا ہلکا درد بھی اُٹھنے لگا۔ تدبیر کچھ ہوئی نہیں۔ دورے متواتر اور شدید ہونے لگے۔ آخر ایک دن اُدھر آفتاب ڈوبتا تھا، اِدھر یہ بے کس و بے نصیب دل کے درد سے کھُرّی چارپائی پر نہ تکیہ نہ بچھونا تڑپ کر سرد ہو گیا۔

صفحہ 215

ستائیسویں فصل

خاتمہ

ایک حسن پرستی کے پیچھے دنیا میں کیا کیا سختیاں اُٹھائیں کہ خدا دُشمن کو بھی نصیب نہ کرے! اپنا یا بیگانہ، مرنا تو سبھی کا قابلِ افسوس ہے مگر نہیں تو مبتلا کا۔ اس کا جینا قابلِ افسوس تھا اور مرنا قابلِ خُوشی۔ کیوں کہ مر کر وہ دنیا کی مصیبتوں سے چھوٹ تو گیا۔ مُصیبتیں تو اس کے دم کے دم ساتھ تھیں۔ نہ مرتا اور مصیبت بھرتا۔ پھر بھی ہم اس کے حق میں دعا کرتے ہیں دنیاوی ایذائیں اس کے گناہوں کا کفارہ ہوں۔ اور بے چارہ مصیبت کا مارا حُسن صورت کا بہت فریفتہ تھا، خُدا اس کو جنت میں بہت سی حوریں دے، بشرطے کہ غیرت بیگم اور ہریالی کی طرح آپس میں نہ لڑیں! عبرت کا مقام ہے ایک چھوڑ دو دو بیبیاں موجود، بیٹا موجود، بیٹی موجود۔ بیبیوں کے نوکر چاکر موجود، اور مرتے وقت منہ میں پانی ٹپکانے کو مبتلا کے پاس کوئی نہیں۔ کہیں پہر رات کے وفادار، محنت مزدوری سے فارغ ہو کر آیا اور اس نے پُکارا تو میاں کو مرا ہوا پایا۔ چیخ اُٹھا، سارے محلّے کو خبر ہوئی اور محلّے والوں کے ساتھ محل کے لوگوں کو۔ ہریالی کو دیکھا تو وہ اور اس کی ماما اور اسباب سب ندارد۔ گھر میں جھاڑو دی ہوئی پڑی ہے۔ انہیں معلوم ایسا کون کالا چور اس کو بھگا کر لے گیا کہ پھر اس کا پتہ نہ لگا۔ غیرت بیگم یا تو اس قدر میاں سے اکڑی رہتی تھی یا میاں کا مرنا سنتے ہی ایسا روئی اتنا پیٹی کہ بس خود بیوی میاں کی عاشق زار ہو گی وہ بھی اس سے زیادہ کیا روئے پیٹے گی! اب اس کو معلوم ہوا کہ میاں اس کا ظلم سہنے کے لیے سدا کو بیٹھا رہنے والا نہ تھا۔ وہ میاں
 

اوشو

لائبریرین
ریختہ صفحہ ۔۔۔ 216

کے مرنے پر اتنا نہیں روتی تھی جتنا اپنے ظلموں پر، جن کی تلافی اب کچھ اس کے اختیار میں نہ تھی۔ روتے روتے دونوں آنکھوں میں ناسور پڑ گئے تھے اور ہتنی جیسا ڈول ایسا سوکھا تھا کہ جیسے کانٹا۔ مبتلاؔ کی چھے ماہی بھی نہیں ہونے پائی تھی کہ غیرت بیگم اسی رنجم میں تمام ہوئی۔ مرتے مرتے وصیت کی کہ "مجھ کو بتولؔ کے باپ کی پائینتی دفن کرنا کہ اگر جیتے جی میں ان کے پاؤں نہ پڑی سکی تو خیر، قبر میں ان کے پاؤں ہوں، اور میرا سر۔ مبتلاؔ کے مرنے پر تاریخیں اور مرثیے تو بہت لوگوں نے کہے، مگر عاعرف کے مرثیے کے چند بند یاد رہ گئے ہیں وہ یہ ہیں:۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ ۔۔۔ 217

مرثیہ

دنیا عجیب مرحلۂ بےثبات ہے
ہر ایک ذی حیات کو آخر ممات ہے
یاں امن ایک لحظہ دن ہے نہ رات ہے
جس کو فنا نہیں ہے وہی ایک ذات ہے
بیتی ہے موت تاک لگائے کمین میں
لے جائے گی یہ کھینچ کے آخر زمین میں

ایسا مکاں بتاؤ کہ بن کر گرا نہ ہو!
پیدا ہوا ہے کوئی بشر جو مرا نہ ہو!
ہے کوئی حال جس میں تغیر ذرا نہ ہو!
حادث نہ ہو تو مدخلِ چون و چرا نہ ہو!
فانی ہر ایک چیز ہے فانی جہان میں
مقصور اس فنا سے مگر امتحان ہے

اعمال نیک ہیں تو زمرد کے ہیں قصور
خدمت کو لونڈیوں کی جگہ دست بستہ حور
ہر طور کا ہے عیش تو ہر طرح کا سرور
یعنی خلاصہ یہ ہے کہ راضی ہوئے حضور
خوشنودیِ خدا ہی عبادت کا دام ہے
جنت بھی اک رضائے الٰہی کا نام ہے

اور ہیں عمل برے تو ہوئی عاقبت خراب
ایذائیں طرح طرح کی اقسام کے عذاب
اور سب سے بڑھ کے خالقِ کونین کا عتاب
گر پوچھنے پر آئے تو کیا بن پڑے جواب
حق کو جو ناپسند ہو تُف ایسے کام پر
مالک ہی خوش نہیں ہے تو لعنت غلام پر

توفیقِ کارِ نیک ہمیں اے کریم دے
دل میں صلاح دے ہمیں طبعِ سلیم دے
شوقِ سلوکِ جادۂ مستقیم دے
ایمان درمیانۂ امید و بیم دے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ ۔۔۔ 218

ہم کو نہیں ہے بحث عذاب و ثواب سے
تیری رضا ملے ہمیں تیری جناب سے

اٹھ جائے دل کی آنکھ سے اسباب کا حجاب
دنیا دکھائی دینے لگے نقشِ سطحِ آب
ذرے میں رونما ہو حقیقت کا آفتاب
لاریب 1 فیہ ہو خبرِ ذلاک الکتاب
کھل جائے اصل راز حیات و ممات کا
ہو ایک حال ماضی و مستقبلات کا

دل لوثِ حبِ دولتِ دنیا سے پاک ہو
وے وہ غنا کہ آنکھ میں اکسیر خاک ہو
لالچ ہو فائدے کا نہ نقصان کا باک ہو
دیں سے شغف ہو دین میں ہی انہماک ہو
فرقِ نیاز فرشِ زمیں پر پڑا ہوا
ہمت کا پاؤں عرشِ بریں پر گڑا ہوا

ہر دم خیال موت کا پیشِ نظر رہے
جب تک جیے جیے جب اجل آئی مر رہے
رہ رو ہمیشہ چاہیے باندھے کمر رہے
دنیا وطن نہیں ہے کہ آئے پسر رہے
آئے ہیں ہم جہاں میں تو جانا ضرور ہے
سارا ہی قافلہ سرِ راہ مرور ہے

پھر بعدِ مرگ کیسی بنے کچھ خبر نہیں
یہ وہ خطر ہے جس سے کسی کو مفر نہیں
پر کیا ہی ڈھیٹ ہم ہیں کہ اس کا بھی ڈر نہیں
عقلِ معاد سے ہمیں بہرہ مگر نہیں
رب العباد نعمتِ فکرِ معاد دے
فکرِ معاد دے ہمیں ذکرِ معاد دے

کیا جانبِ خدا سے ہدایت ہمیں نہیں
یا سوچنے کو عقل و درایت ہمیں نہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔
1 ۔ مراد یہ ہے کہ کلام اللہ کے مضامین کا پورا پورا یقین ہو۔ 12

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ ۔۔۔ 219

فی الاصل کچھ ضرورت و حاجت ہمیں نہیں
پر ہائے غور کرنے کی عادت ہمیں نہیں
ہم دیکھتے نہیں کبھی غائر نگاہ سے
سنتے نہیں ہیں بات کوئی انتباہ سے

غفلت کرا رہی ہے یہ ساری شرارتیں
بنوا رہی ہے رہنےکو پکی عمارتیں
اللہ رے دلیریاں بل بے جسارتیں
دنیا کمائیں دین کی کر کے خسارتیں
غفلت کا کر علاج کہ اصلِ مرض ہے یہ
تیرا ہی کچھ بھلا ہو ہماری غرض ہے یہ

غفلت نہ ہو تو کینہ و بغض و حسد نہ ہو
جھگڑا نہ ہو، لڑائی نہ ہو، رد و کد نہ ہو
بھائی کے بیٹھ پیچھے کبھی ذکرِ بد نہ ہو
انساں مشارکِ صفتِ دام و دد نہ ہو
غفلت سے اس جہان میں سارا فساد ہے
غفلت کو آؤ مار ہٹائیں جہاد ہے

مخلوق ذی شعور ہے تو ہوشیار رہ
مت مستمندِ زندگیِ مستعار رہ
دنیا کا کاروبار کر اور دین دار رہ
امیدوارِ رحمتِ پروردگار رہ
کس نے کہا ہے تجھ سے کہ دنیا کو چھوڑ بیٹھ
بس ایسی باتیں اپنی طرف سے نہ جوڑ بیٹھ

کیا حال تھا رسولِ علیہ السلام کا
اصحاب رض کا ائمۂ عالی مقام کا
سرکردہ ہائے امتِ خیر الانام کا
سکہ بٹھا گئے جو محمد ص کے نام کا
ان میں سے ایک بھی کبھی راہب 1 ہوا کوئی
دنیا کو کھو کے دین کا طالب ہوا کوئی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1 ۔ نصاریٰ میں جو لوگ ہندو جوگیوں سنیاسیوں کی طرح ترک دنیا (باقی اگلے صفحہ پر)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ ۔۔۔ 220

دنیا بھی کچھ ہماری طرح کی نہیں ذلیل
گر سو گھروں میں دیکھو تو ننانوے رزیل
روٹی کی باہزار مشقت ہوئی سبیل
کپڑے کے واسطے وہی ستار ہے کفیل
گرمی کے دن تو خیر کسی ڈھب گزر گئے
جارا جو آیا رات کو سکڑے ٹھٹر گئے

افلاس سے زیادہ جہاں میں نہیں وبال
افلاس ہے مقدمۂ قہرِ ذی الجلال
افلاس کر ہی دیتا ہے انساں کو پائمال
ڈرپوک پست ہمت و سست دونی خیال
مفلس کہ اس غریب کی دنیا نہیں درست
مشکل کہ اس کے ہاتھ سے ہو کارِ دیں درست

اور شاذ اگر ہوا کوئی محتاج دل غنی
سمجھا کہ یہ جہاں ہے جہانِ گزشتنی
کۓ دن کی زندگی کے لیے اتنی سرزنی
اس کو نہ دوستی ہے کسی سے نہ دشمنی
ایسا بزرگ شک نہیں اس میں کہ نیک ہے
پر قوم کو ہوا نہ ہوا دونوں ایک ہے

سوچو تو کچھ بھی نیست کو نسبت ہے ہست سے
تم چاہتے ہو کام بلندی کا پست سے
کیا خیر ہو سکے گی بھلا تنگ دست سے
کوڑی تو لے ادھار کوئی فاقہ مست سے
کیا اس سے فیض ہو کہ نہیں آپ جس کے پاس
دنیا میں چیل سے بھی ملا ہے کسی کو ماس

گر مجھ سے پوچھتا ہے حقیقت میں ہم نشیں
ایصالِ نفع ہے مرے نزدیک اصلِ دیں
پر چاہیے ہے اس کے لیے نقد آستیں
خرمن بیار خواجہ کہ بسیار خوشہ چیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(حاشیہ سابقہ) کرتے تھے ان کو راہب کہتے تھے۔ اس طرح کے ترکِ دنیا کی اسلام میں سخت ممانعت ہے۔ لا رھبانیۃ فی الاسلام ۔ 12

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ ۔۔۔ 221

دیں کو درست کرنے کو دنیا ضرور ہے
دنیا نہیں تو دعوٰیِٔ دیں مکر و زُور ہے

اس 1 واسطے جو معشرِ خیرالقرون تھے
اور کلّہم عمارتِ دیں کے ستون تھے
امت کو کالنجوم 2 سبھی رہ نمون تھے
اور مرجعِ ضمیر ھُمُ المُھتَدُون تھے
دنیا میں رہ کے دیں کا برتنا سکھا گئے
دونوں کو جمع کرنے کا رستا دکھا گئے

راوی نے یوں لکھا ہے جنابِ عمر رض کا حال
جن روزوں آپ امیر تھے باہیبت و جلال
اپنے ہی دست خاص سے پا تھا کیے سفال
تاریخ میں دکھائیے ایسی کوئی مثال
شاگرد تھے نبی کے پیمبر کے تھے جلیس
دنیا کو جانتے تھے پرِ پشۂِ خسیس

یُسر ان کا تھا فراغِ عبادت کے واسطے
کی سلطنت فلاحِ رعیت کے واسطے
عزت طلب تھے دین کی عزت کے واسطے
القصہ جو وہ کرتے تھے امت کے واسطے
ان کو کسی طرح طمعِ سیم و زر نہ تھی
ہر گز انہیں مفاد پر اپنے نظر نہ تھی

فیضانِ صحبتِ نبوی سے تھے مستفید
دیکھا انہوں نے نورِ رسالت کو چشمِ دید
پیدا ہوئے سعید جیے اور مرے سعید
تھی ان سے خواستگاریِ دنیا بہت بعید
لیکن یہ انتظامِ الٰہی ہے مہرباں
چڑتا ہے بام پہ کوئی بے وضعِ نردباں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1 ۔ اس میں حدیث خیرالقرون قرنی کی طرف اشارہ ہے۔ معشر بمعنی گروہ۔ پس معشر خیر القرون سے پیغمبر ص کے اصحابِ کرام رض مراد ہیں۔ 12
2 ۔ یہ مضمون اس مشہور حدیث کا ہے۔ اصحابی کالنجوم بایہم اقتدیتم اھتدیتم۔ 12

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ ۔۔۔ 222

زاہد تھے اور ملک ستانی کا اہتمام
دیکھو، اگر یقین نہ آئے، فتوحِ شام
دنیا میں ان کی دین تھا کالملح فی الطعام
دونوں کا پاس کرتے تھے قصہ ہوا تمام
بدلا اسی سبب سے زمانے کا طور ہے
اسلام جب کا اور تھا اور اب کا اور ہے

دنیا سے ان کو ہوتی ذرا بھی اگر گُریز
اسلام کی تو ہو ہی چکی ہوتی رست خیز
کھا جاتے لوگ گھور کے آنکھوں سے تیز تیز
تب دیکھتے زمانے کی کج دار اور مریز 1
پھر کون پوجتا تھا خدائے یگانہ کو
پاتا نہ کوئی زندگیِ جاودانہ کو

اب بھی جو دیکھتے ہو ان ہی کا طفیل ہے
کم بیش سب کو جانبِ توحید میل ہے
اعمال و شرک جوں خس و خاشاک و سیل ہے
اتنا بھی گر نہ سمجھے تو انسان بیل ہے
مشرک کی کوئی شے نہیں کرتا خدا قبول
اس کی دعا قبول نہ کچھ التجا قبول

القصہ اک وہ دین تھا دنیا کا دوست دار
واعظ، ادیب، ناصح، مشفق، صلاح کار
مونس، رفیق، موجبِ تسکین، غم گسار
ہم درد، بے ریا و ہوا خواہِ جاں نثار
وہ کھینچتا تھا بار امیر و فقیر کا
دنیا میں اس میں ربط تھا شاہ و وزیر کا

اب ہم نے اپنے دیں کو بنایا چھوئی موئی
دنیاں میں اور دیں میں لگانے لگے دوئی
پھر قاصر اس قدر نظرِ نارسا ہوئی
شہتیر بن گیا جو حقیقت میں تھی سوئی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1 ۔ کج دار مریز سے مراد ہے تکلیف مالایطاق۔ کیونکہ ٹیڑھا رکھ اور گرنے نہ دے طلبِ محال ہے۔ 12
2 ۔ اس میں لف و نشر مرتب ہے۔ یعنی اعمالِ خس و خاشاک ہیں اور شرک سیل۔ 12

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ ۔۔۔ 223

معمور ہیں خرائنِ انعامِ کردگار
بے انتہا و بے حد و بے حصر و بے شمار
وہ چھینتا 1 نہیں ہے کبھی دے کے ایک بار
شایاں اسے نہیں ہے کہ بندوں کو دے ادھار
دنیا بدل گئی ہمہ نعمت بدل گئی
اس واسطے کہ قوم کی ہمت بدل گئی

افسوس قوم میں عصبیت نہیں رہی
ہم میں کسی طرح کی مزیّت نہیں رہی
مضبوطیِ ارادہ و نیّت نہیں رہی
جرأت کہاں سے ہو کہ حمیّت نہیں رہی
ہم میں ہر اک بشر کے خیالات پست ہیں
پس لاجرم ذیل ہیں اور تنگ دست ہیں

اے قوم یہ تباہی و افلاس جائے شرم
اے قوم یہ تعصّب و وسواس جائے شرم
اس درجہ ضعفِ قوتِ احساس جائے شرم
تقصیر 2 فی مقابلۃ النّاس جائے شرم
تم اور تمہاری نسل ہو مشغول کھیل میں
اور لوگ چل رہے ہیں ترقی کی ریل میں

کیا خوب کہہ گیا ہے کوئی شخص خوش خیال
لفطِ عرب میں نہن 3 رجال و ہم رجال
اب اے عزیز تم سے ہمارا ہے یہ سوال
کیوں آ گیا ہے قوم کی حالت میں اختلال
اقوامِ روزگار میں ہیٹے ہو کس لیے
بےوقعتی کی خاک پہ لیٹے ہو کس لیے

کثرت سے تم میں صاحبِ مقدور کیوں نہیں
لوہا تمہارا مانتے جمہور کیوں نہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1 ۔ اشارہ ہے طرفِ آیت۔ ما کان اللہ مغیرا نعمۃ انعمھا علی قوم حتی یغیروا ما بانفسہم۔ کے۔ 12
2 ۔ یعنی لوگوں کے مقابلے میں ہیٹا ہونا شرم کی بات ہے۔ 12
3 ۔ ہم بھی آدمی ہیں اور وہ بھی آدمی ہیں۔ 12

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ ۔۔۔ 225

منہ پر تمہارے حسن نہ ہو نور کیوں نیہں
دل قوم کے شگفتہ و مسرور کیوں نہیں
آخر تمہاری قوم پہ یہ کیا وبال ہے
جس شخص پر خیال کرو خستہ حال ہے

جب تک ہماری قوم میں تاج و نگیں رہا
ہم میں کسی کو فکرِ معیشت نہیں رہا
کس کس کا نام لیں کہ چناں اور چنیں رہا
ہر فرد عافیت سے غنا کے قریں رہا
ہم مالکِ خزائن روئے زمین تھے
اہلِ زمانہ قاطبۃً خوشہ چین تھے

یسر و فراغِ دولتِ حشمت ہزار حیف
وہ شوکت اور لوازمِ شوکت ہزار حیف
عزت ہزار حیف، حکومت ہزار حیف
صد حیف قابلیتِ نعمت ہزار حیف
گو حور بعد کور 1 اشد العذاب ہے
یاد از قبیل 2 لیت یعود الشباب ہے

کیا فائدہ جو تذکرۂ ما 3 مضٰے کریں
کیوں یادِ رفتگاں میں ماتم بپا کریں
بےسود اگرچہ تا بہ قیامت بُکا کریں
اک امر اختیار سے خارج ہے کیا کریں
فرہاد 4 وار درصدوِ جوئے شیر کیا
اب جا چکا ہے سانپ تو پیٹیں لکیر کیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1 ۔ یہ ایک حدیث کی طرف اشارہ ہے۔ نعوذ باللہ من الحور بعد الکور )یعنی اہم اللہ سے پناہ مانگتے ہیں اس کمی سے جو زیادتی کے بعد ہو)۔ 12
2 ۔ حور بعد کور برا عذاب ہے مگر اس کا یاد کرنا ایسا ہی ہے جیسے کوئی گئی ہوئی جوانی کی پھر تمنا کرے۔ 12
3 ۔ گزشتہ۔ 12 (4 ۔ اگلے صفحہ پر)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ ۔۔۔ 226

پھر بھی ہے ایک وجہ تسلی بہت بڑی
قسمت ہمارے ملک کی اچھوں سے جا لڑی
جن کو فلاحِ خلق ہے منظور ہر گھڑی
لیکن یہ مشکل ایک بڑی سخت آ پڑی
نا واجب اڑ کے بیٹھے ہیں ہم اپنی بات پر
پیاسے تڑپ رہے ہیں کنارِ فرات پر

دروازہ کون سا ہے جو ہم پر کھلا نہیں
ناممکن الحصول کوئی مدّعا نہیں
مذہب کا قوم و ملک کا یاں تفرقہ نہیں
آزادی اس قدر ہے کہ کچھ انتہا نہیں
بے جوتے بوئے آپ اگے گا اناج کیا
ہم ہی اگر نہ چاہیں تو اس کا علاج کیا

اس ضّدِ احمقانہ کو للہ کم کرو
جانوں پر اپنی بہرِ خدا مت ستم کرو
چاہو ہمیں برا کہو یا متّہم کرو
پر روٹیوں کا فکر تو بہرِ شکم کرو
ہم دیکھتے ہیں قوم کی حالت تباہ ہے
بیمار کو دوا نہ بتائیں گناہ ہے

پھر بھی تمہیں تمہیں ہو اگر دل پہ ٹھان لو
وہ وقت اب نہیں ہے کہ سیف و سنان لو
ہے علم پر مدار اسے خوب جان لو
اتنی سی ایک بات ہماری بھی مان لو
رکھتی ہے اپنا وقتِ مناسب ہر ایک شے
تسویف تا کجا و پس پیش تا بہ کے

جاگو کہ شرط باندھ کے مردوں کے سو چکے
خارِ قنوط 1 راہِ تمنا میں بو چکے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
4 ۔ (پچھلا صفحہ) یہ ایک مشہور قصہ ہے کہ فرہاد اپنی معشوقہ شیریں کی فرمائش سے پہاڑ کاٹ کر دودھ کی نہر لانے کی فکر میں تھا۔ 12
1 ۔ قنوط بالضم نا امیدی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ ۔۔۔ 227

جو کچھ تمہیں خدا نے دیا تھا سو کھو چکے
سن لینا ایک دن کہ مسلمان ہو چکے
قسمت میں قوم کی ہے لکھی صبح و شام موت
بے حرمتی کے جینے سے بہتر حرام موت

دنیا میں جس قدر ہیں ذریعے معاش کے
ان میں ہمارا حصۂ واجب ہو کاشکے
بودے ہیں جستجو کے طلب کے تلاش کے
ہاں مبتلاؔ کی وضع کے اس کی قماش کے
گر چاہیے تو لاکھ ہیں نوے ہزار ہیں
طوطی چمن میں ایک ہے کوے ہزار ہیں

عبرت کی داستان ہے احوالِ مبتلاؔ
آنکھوں کے آگے پھرتی ہے تمثالِ مبتلاؔ
اللہ رے جمالِ خد و خالِ مبتلاؔ
اور عنفوانِ عمرِ سِن و سالِ مبتلاؔ
جس وقت وہ شرابِ جوانی سے چور تھا
بےشک و شبہہ روکشِ غلمان و حور تھا

لیکن وہ حالت ایسی سریع الزوال تھی
بس دیکھتے ہی دیکھتے خواب و خیال تھی
وہ زلف جو کبھی دلِ عاشق کا جال تھی
خود دوشِ مبتلاؔ پہ بلا تھی، وبال تھی
دیکھا تو آخرش خورشِ کرمِ گور تھا
جس کے جمال و حسن کا عالم میں شور تھا

وہ مبتلاؔ جو ناز و نعم میں پلے کبھی
سانچے میں ہاتھ پاؤں تھے جس کے ڈھلے کبھی
خنجر چلیں گر ایک قدم بھی چلے کبھی
تیغِ ادا سے کٹتے تھے جس کی گلے کبھی
بس جنتری میں قبر کی سب بل نکل گئے
رکھتے کے ساتھ لحد کے سانچے میں ڈھل گئے
۔۔۔۔۔۔۔۔
1 ۔ خد عربی میں رخسارہ کو کہتے ہیں۔ شاید خط و خال غلط العام ہے۔ 12

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ ۔۔۔ 228

آفت ہے موت خاصۃ مبتلاؔ کی موت
تکلیف و درد و مختہ و رنج و عنا کی موت
قہرِ الٰہی و غضبِ کبریا کی موت
دشمن کو بھی نصیب نہ ہو اس بلا کی موت
انجام کار جو تری مرضی ہو کیجیو
پر ایسی موت بارِ خدایا نہ دیجیو

تھی اس پہ ابتدا سے مسلط بلائے حسن
طفلی میں تھا وہ آئینہِ رونمائے حسن
مضمر ہر ایک وضع میں اس کی ادائے حسن
اک عالم اس کا شیفتہ و مبتلائے حسن
اول سے شوقِ حسن جو نشاں ہوا
خواہانِ روئے خوب ہوا جب جواں ہوا

شامت جو اس کی آئی، کیا دوسرا نکاح
سمجھا کہ چار شرعِ پیمبر میں ہیں مباح
آئی مگر نظر نہ کبھی صورتِ فلاح
کیا ہی بری وہ رائے تھی اور کیسی بد صلاح
فرصت نہ دی پھر اس کو نزاع و جدال نے
سب کچھ حرام کر دیا اس اک حلال نے

امن و فراغ و عافیت و راح و قرار
نام و نمود و عزت و توقیر و اعتبار
حسنِ معاشرت کہ تمدن کا ہے مدار
اور جس سے بےنیاز نہیں کوئی خانہ دار
سب چیز جا کے فقر ہوا گھر مٰں جاگزیں
جس چیز کو مکان میں پوچھو نہیں نہیں

جب مبتلاؔ پر آ ہی گیا وقتِ اختصار
منہ میں چُوانے پانی لگی چشمِ اشک بار
یٰس پڑھی رہی تھی کھڑی یاس غم گسار
اور دونوں آنکھیں ضعف نے دیں ڈھانک ایک بار
یوں بے کسا نہ ہائے جوانی میں جان دے
جنت میں اس کو بارِ الٰہا مکان دے

جو لوگ ہیں سعادتِ عظمیٰ سے بہرہ مند
کرتے ہیں بات بات سے وہ اکتسابِ پند

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ ۔۔۔ 229

پرواز کو خیال کے رکھو ذرا بلند
مت ہو لذائذِ حیوانی کے پائے بند
میری سنو اگر نہیں سمعِ قبول کر
دو بیبیاں نہ کیجیو زِنہار بھول کر

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 
صفحہ 201

کی کارروائی میں فی الواقع ہمیشہ ایک بڑا نقص یہ ہوتا ہے کہ تحقیقات سے پہلے مقدمہ کسی ایک پہلو پر ڈھال لے جاتے ہیں اور پھر اخیر تک اُسی پہلو کی تائید میں لگے رہتے ہیں۔ جو باتیں میں نے تم سے سرسری طور پر بیان کی ہیں ان میں سے ایک کی طرف بھی کوتوال صاحب کا ذہن منتقل نہ ہوا ہو گا۔ اور ہم لوگوں کو تو باتیں حاکم کی میز پر سوجھتی ہیں، عین وقت پر کچھ اس طرح کا بہرہ کھل جاتا ہے کہ خودبخود بات میں سے بات نکلتی چلی آتی ہے۔ مبتلا کی ساری ہمّت تمام عمر رہی مصروف حسن و عشق میں مدّعی اور مدّعا علیہ بننا درکنار ، اس کو کبھی گواہی دینے کا بھی اتفاق نہیں پڑا۔ بچپن کا لاڈلا، جوانی کا چھیلا، وہ وکیلوں کے چھل فریب کیا سمجھتے؟ ناظر نے جو الٹی سیدھی باتیں سمجھائیں، چھکّے ہی تو چھوٹ گئے اور سمجھا کہ بس اب نہیں بچتا۔ سنکھیا کا غصّہ، ہریالی کا رنج، اپنی چوٹ، اگلے پچھلے گلے شکوے، سب کچھ بھُلا بسرا، ناظر کے گلے سے لپٹ گیا کہ بس اب اوپر خُدا ہے اور نیچے تم۔ چاہو مارو، چاہو جلاؤ، چاہو اُجاڑو، چاہو بساؤ۔“ ناظر ”مقدمہ تو میری طرف آیا گیا ہوا اور سمجھو کہ مقدمہ کا میں بیمہ لے چکا۔ خرچ کا بندوبست مت کرو۔“ مبتلا ”خرچ کا بندوبست بھی تم ہی کو کرنا پڑے گا۔ تم کو تو گھر کا ذرا ذرا حال معلوم ہے۔“ ناظر ”کیا مضائقہ! خرچ کا بھی انتظام ہو جائے گا۔ مگر آخر دینا تم ہی کو پڑے گا۔“ مبتلا ”کوڑی کوڑی۔“ ناظر ”خیر تو آپ دو رقعے میرے نام لکھیے، ایک تو کل کی تاریخ میں کہ چوہوں کی جیسی کثرت ہے، تم کو معلوم ہے، اب تو یہ نوبت پہنچی ہے کہ کھونٹیوں پر لٹکے ہوئے کپڑے کاٹ کاٹ کر ٹکڑے کیے ڈالتے ہیں، نا چار تھوڑی سنکھیا منگوائی، پڑیا چھوٹے گھر کے بیچ والے دالان میں اس خیال سے کہ کسی کا ہاتھ نہ پڑے، اونچے پر رکوائی تھی۔ یہ ذکر کوئی سات یا آٹھ دن پہلے کا ہے۔ کل کیا اتفاق ہوا کہ شام کے وقت ایک روپے کی کھانڈ کا پُڑا آیا اور جیسا دستور ہے پُڑے کے ساتھ نمونے کی پڑیا۔ سنکھیا کا تو خیال نہ تھا، کھانڈ کا پُڑا اور پُڑیا دونوں کو اسی طاق میں رکھوا دیا جس میں سنکھیا کی پُڑیا تھی۔ آج خود گھر والی نے اپنے ہاتھ سے فیرینی میں کھانڈ

صفحہ 202

ڈالی تو انہوں نے کہا پُڑیا کی کھانڈ بھی کیوں ضائع ہو، پُڑا اور پُڑیا دونوں اُتارتی لائیں مگر پُڑیا سنکھیا کی تھی، باورچی خانے میں بھی دھوئیں کی وجہ سے کچھ دکھائی نہ دیا، اور چوں کہ دل میں کسی طرح کا کھٹکا نہ تھا، انہوں نے دیکھا بھی نہیں، فیرینی پک کر تیار ہوئی، تو تھوڑی جانوروں کو دی جو گھر والی نے اپنے شوق کے لیے پال رکھے تھے، اور جو دیگچی میں رہ گئی تھی ماما نے پونچھ کھائی۔ جانور تو مر گئے ماما کو کچھ دست آئے مگر بچ گئی۔ کوتوالی کے لوگ مقدمہ کو طول دینا چاہتے ہیں، تم مختارکارانہ اس کی خبر گیری کرو. اور دوسرا رقعہ اب سے مہینے سوا مہینے جتنے دن پہلے کا چاہو لکھ دو کہ مجھ کو اتنے روپے کی ضرورت ہے جہاں سے بن پڑے بندوبست کر دو۔ بس اللہ اللہ خیر صلّاح! اور چین سے پیر پھیلا کر سو رہو۔ سنکھیا کے رقعے کا مضمون سن کر تو مبتلا کی عقل دنگ رہ گئی اور سمجھا کہ ناظر بھی بڑا زہر کا بجھا ہوا ہے۔ دیکھو تو کیا مغز سے بات اتاری ہے! میں ایسے شخص سے کیا پار لے جا سکتا ہوں؟ میرا بچاؤ تو اسی میں ہے کہ جو یہ کہے اس میں ذرا کان نہ ہلاؤں، غرض اسی وقت دونوں رقعے لکھ ناظر کے ہاتھ دیے، اور پوچھا کہ بھلا صاحب اب صبح کوتوال صاحب آئیں تو کیا کرنا ہو گا؟ ناظر نے کہا اب بندۂ درگاہ کے رہنے کوتوال صاحب کیا آتے ہی؟ آب آمد تیمّم برخاست۔ اور اگر آئے بھی تو کوتوال بن کر نہیں بلکہ نڈھال، بد حال، سراپا اضمحلال۔“ مبتلا ”اور کیوں صاحب! جیسا اس کی باتوں سے معلوم ہوتا تھا، اگر اس نے انگریز کو جو کوتوالی کا افسر ہے لا کھڑا کیا؟“ ناظر ”او ہم سگ، زرد برادر شغال۔“ باوجودے کہ ابھ جهُٹ پُٹا تھا، ناظر فوراً سوار ہو سیدھا کوتوال پاس پہنچا۔ کوتوال سمجھا کہ ایسے وقت آئے ہیں تو معلوم ہوتا ہے ضرور کچھ نہ کچھ بوہنی کرائیں گے۔ دور سے ہنس کر بولا ”آئیے! آج تو سویرے ہی سویرے اچھے سخی کے درشن ہوئے۔ میں تو آپ کے یہاں آنے کو وردی پہن کر تیار لیس بیٹھا ہوں۔ صاحب سوپرنڈٹنٹ سے سات بجے کا وعدہ ہے۔“ ناظر ”کیا تیار بیٹھے ہو، وہاں تو رات بڑا غضب ہو گیا!‘‘ کوتوال ”کیا کوئی اور صاحب

صفحہ 203

سنکھیا کھا کر شہید ہوئے؟“ ناظر ”نہیں! سنکھیا تو نہیں، مگر آپ تو جانتے ہیں، مبتلا بھائی کے گھر میں جو وہ دوسری عورت ہے، پورے دنوں سے تھی۔ کل نہیں معلوم آپ کے سپاہیوں نے اس کو کیا کیا ڈرایا دھمکایا، طبیعت تو اس کی آپ کے رہتے ہی بگڑ چلی تھی، آپ ادھر آئے، شاید کوتوالی بھی نہ پہنچے ہوں گے کہ اس کا حمل ساقط ہو گیا۔ ساری رات اسی کے تردّد میں پلک نہیں جھپکی۔ خیر، حمل تو حمل اب اسی کی جان کے لالے پڑے ہیں۔ دیکھیے وہ بھی بچتی ہے یا نہیں۔ مبتلا بھائی کو اس عورت کے ساتھ اس درجہ کا عشق ہے کہ جس وقت سے یہ واردات ہوئی ہے سارے سارے گھر میں بولائے بولائے پڑے پھر رہے ہیں۔ وہ تو ڈاکٹر چنبیلی کو بلاتے تھے، میں نے بہ ہزار مشکل روکا کہ انگریزوں کے کان پڑی ہوئی بات پھر اپنے قابو کی نہیں رہتی۔ ایک چھوڑ دو دو دائیاں بلوا دی ہیں۔ بارے اب کہیں جا کر کسی قدر طبیعت سنبھلی تو میں بھاگتا ہوا آپ کے پاس آیا۔ میں تو رقعہ لکھنے کو تھا پھر خیال آیا کہ خدا جانے کس کے ہاتھ پڑے، آپ چل کر کہنا چاہیے۔ یہ کہنا تھا کہ کوتوال کو کاٹو تو بدن میں لہو کی بوند نہیں۔ گڑگڑا کر بولا ”آپ کے یہاں ہم تابعداروں کی مجال ہے کہ ڈرائیں دھمکائیں یا کوئی خلافِ قاعدہ کارروائی کریں! آپ جس وقت تشریف لائے ہیں، آپ نے بھی دیکھا ہو گا کہ مردانے میں صرف دو ہی کانسٹیبل میرے ساتھ تھے اور وہ دونوں بھی بے چارے الگ اصطبل کے پاس کھڑے تھے۔ میں نے آپ کے آدمی وفادار کے ہاتھ ماماؤں اور لونڈیوں کو بُلا بُلا کر ہولے سے دو دو باتیں پوچھ لیں۔ اصل حقیقت تو یہ ہے۔ اور ہم نے تو جس دن پولیس میں نام لکھوایا اسی دن سمجھ لیا تھا کہ ایک نہ ایک دن ضرور قید ہوں گے۔ یہ ایسی تیسی نوکری ہی اس قسم کی ہے، کوئلوں کی دکان داری کہ بے کالا مُنہ ہوئے نہیں رہتا۔ بڑوں کا کہا اور آلولے کا کھایا پیچھے مزہ دیتا ہے۔ لالہ جی (1) بہتیرا

1) مراد ہے کوتوال کے باپ۔

صفحہ 204

سر پٹکتے رہے کہ لوگ ٹھہرے لکھنی چند، ہم کو سپاہیوں کا بھیس سزاوار نہیں۔ ہرکارے دہر مردے۔ اس وقت ان کی بات کچھ دھیان میں نہ آئی، سو اپنے کیے کی سزا پائی۔“ ناظر ”یہ میں خوب جانتا ہوں کہ آپ نے کوئی بے جا کارروائی نہیں کی ہو گی۔ دنیا کا حال چھپا نہیں رہتا۔ سارا شہر آپ کا مداح ہے۔ اور اگر آپ احتیاط کرتے تو اتنے دن کوتوالی کا چلنا بھی محال تھا، خصوصاً صاحب مجسٹریٹ حال کے وقت میں۔ مگر عورتیں تو جیسی ڈرپوک اور کچّے دل کی ہوتی ہیں آپ خوب جانتے ہیں، آپ کا ہی آنا سن کر ان کے تو ہاتھ پاؤں پھول گئے ہوں گے اور کسی سپاہی نے کوئی ایک آدھ بات بھی کہہ دی ہو گی، حالت تو نازک تھی ہی اونگھتے کو ٹھیلے کا بہانہ ہو گیا۔ چھوٹے گھر میں تو خیر ایک واردت بھی ہوئی تھی کہ جانور مرے، ماما کو دست آئے، فیرینی میں سنکھیا نکلی۔ بڑا گھر جس کو واردات سے کچھ بھی تعلق نہیں، وہاں کیا حال تھا! جا کر دیکھتا ہوں تو چولہا تک نہیں سُلگا۔ وہ تو جب میں نے سمجھایا کہ یہ کیا، اس سے بڑی بڑی اتفاقی اور ناگہانی وارداتیں ہو جاتی ہیں اور آخر کار مقدمہ داخل دفتر، تب سب کو تسلّی ہوئی۔“ کوتوال ”اتفاقی کیسی۔“ تب ناظر نے مبتلا کا رقعہ دیا کہ وہ خونی دروازے میں جو ایک شخص نے اپنی آشنا کو دھتورا کھلا کر مار ڈالا تھا، اور شاید آپ ہی نے اس مقدمہ کی بھی تحقیقات کی تھی، کل اس کی پیشی تھی اور میں مدعا علیہ کا وکیل تھا۔ آپ کے اسسٹنٹ سوپرنڈنٹ بھی سرکار کی طرف سے پیروی کے لیے موجود تھے۔ بڑے بڑے مباحثے رہے۔ آخر ساڑھے چار بجتے بجتے مدعا علیہ کی رہائی ہوئی۔ ہاں تو یہ رقعہ مجھ کو عین اجلاس پر ملا تھا اور اسی کو دیکھ کر میں کچہری سے سیدھا وہیں چلا گیا۔ کوتوال نے رقعہ پڑھا تو مقدمہ کی طرف سے بھی اس کی آس ٹوٹ گئی۔ کمر سے کرچ کھول ناظر کے پروں پر رکھ دی کہ نوکری تو یہ حاضر ہے، خدا واسطے کو ایک اتنا سلوک کیجیے کہ عزت پر ہاتھ نہ ڈالیے، ناظر نے بہت تسلی کی کہ بھلا اتنا تو سمجھیے کہ اگر میرے دل میں کچھ فساد ہوتا تو میں اس قدر سویرے اندھے

صفحہ 205

منہ آپ کے پاس دوڑا ہو کیوں آتا؟ خیر، جو کچھ ہونا تھا سو ہوا، میں جس طرح سے بن پڑے گا مبتلا بھائی کو سمجھا لوں گا۔ جب سے انہوں نے دوسری عورت کر لی ہے، ذرا تنگ دست رہتے ہیں۔ یہی نہ کہ دوا درمن کا خرچ اور اوپر سے سو دو سو روپیہ اور ان کو دے دیا جائے گا۔ اور ہاں! سنکھیا کے مقدمے میں آپ کچھ زیادہ چھیڑ چھاڑ نہ کیجیے گا۔ اس میں کچھ ہونا ہوانا بھی نہیں۔“ ناظر چلنے لگا تو کوتوال نے کہا ”پھر اس کرچ کو تو آپ اپنے ہاتھ سے باندھ دیں گے تو میں کمر سے لگا لوں گا، ورنہ جہاں پڑی ہے، پڑی رہے گی؟“ ناظر نے جلدی سے کرچ اُٹھا بسم اللہ کر کے کوتوال کی کمر سے باندھی، گویا اپنی طرف سے کوتوالی دی۔ کوتوال نے کہا ”بس اب ہاتھ پکڑے کی لاج آپ کو کرنی ہو گی۔ صاحب سوپرنڈنٹ کو وہاں ایک اور ضرورت پیش آ گئی کہ کسی انگریز نے یہاں سوڈا واٹر کی ایک دو بھی نہیں اکٹھی آدھی درجن بوتلیں چوری ہو گئیں۔ صاحب نے چھٹی لکھی اور سوپرنڈنٹ صاحب اس کی تحقیقات کو بھاگے گئے۔ کوتوال سے کہلا بھیجا ’ہمارا نام نہیں ہو سکتا، پھر کوئی پندرہ بیس دن بعد تو سوپرنڈنٹ صاحب ہی کو خیال آیا تو پوچھا ”کیوں کوتوال صاحب، وہ کس وکیل صاحب کے یہاں کی زہر خورانی کا آپ نے تذکرہ کیا تھا، اس کا کیا ہوا؟“ کوتوال نے کہا ”حضور فدوی نے تو اگلے ہی دن ۳۰۲۲ نمبر کا روزنامچہ خاص بھیج دیا تھا کہ واردات اتفاقی ہے۔ بات رفت و گزشت ہو گئی۔ دو چار دن تو مبتلا کو کھٹکا رہا پھر اس نے دیکھا کہ کوتوالی والوں میں سے کسی نے آ کر بھی نہ جھانکا تو اس کو یقین ہوا کہ ناظر کو حکّام کے مزاج میں کچھ اس طرح کا در خود(1) ہے کہ آج جو چاہے سو کر گزرے۔ ناظر نے اس مقدمے میں اچھی برد ماری۔ ہزار روپے تو چپکے سے اُس نے وہ اُگلوائے جو خاتون کٹنی غیرت بیگم کو بہلا پھسلا کر لے اُڑی تھی، اور رقعے کے

1) دخل

صفحہ 206

بدلے مبتلا سے اس کے حصّے کی دکانوں کا قطعی بیع نامہ اپنے نام لکھوا لیا۔ اور پھر سب میں سُرخ رو کا سُرخ رُو۔ اب بے چارے مبتلا کے پاس پینسٹھ روپے ماہوار کی جگہ صرف ستائیس روپے مہینے کی نری تنخواہیں رہ گئیں۔ وہ بھی اس طرح کی کہ کوئی چھٹے مہینے آدھی پاؤ وصول ہوئی تو کوئی برس بھر بعد، اور کوئی مار میں بھی آ گئی۔ اور غیرت بیگم کی یہ تاکید کہ بھلا کوئی ایک لوٹا پانی تو اس کے گھر میں سے مبتلا کو دے دیکھے۔ غیرت بیگم کے یہاں پہلے ہی مبتلا کی کون سی قدر کی جاتی تھی؟ اب جس دن سے یہ معاملے مقدمے کھڑے ہوئے، رہا سہا اور بھی نظروں سے گر گیا۔ پہلے بے رخی تھی، رفتہ رفتہ بد مزاجی ہوئی، بد مزاجی سے بد دماغی کی نوبت پہنچ گئی۔ بلکہ طرز مدارات سے ایسا مستنبط ہونے لگا کہ سیّد حاضر نے جو ایک دن پبیچ کے آنے کا معمول باندھ دیا تھا اب مبتلا کا اتنا آنا بھی گوارا نہیں۔ غیرت بیگم کو مبتلا سے بات چیت کیے ہوئے برسوں گزر گئے تھے۔ لونڈیاں ماما میں میاں کا اتنا لحاظ کرتی تھیں کہ باری کے دن بچھونا صاف کر دیا۔ جب تک گھر میں بیٹھے، حقّے کی خبر رکھی، کھانے کو پوچھ لیا۔ اور اب مقدموں کے بعد سے تو ان باتوں میں بھی مضائقہ ہونے لگا۔ مبتلا لاکھ گیا گزرا تھا مگر آخر تھا تو صاحب خانہ۔ یہ ہے وقری دیکھ کر وہ بڑے گھر کی باری کو تپ و لرزہ کی باری سے کم نہیں سمجھتا تھا۔ مگر حاضر ناظر سے اس قدر ڈرتا تھا جیسا مردہ نکیرین سے۔ ناخواستہ دل آتا اور برخاستہ خاطر رہتا۔ ایسی ایسی سنگین وارداتیں گھر میں ہو جائیں اور کسی کی نکسیر تک نہ پھوٹے۔ غیرت بیگم اور بھی بے محابا ہو کر لگی بادل کی طرح گرجنے اور بجلی کی طرح کڑکنے۔ سقّہ اور دھوبی اور حلال خور وغیرہ جتنے اہلِ خدمت تھے اُن تک کی بندی ہو گئی کہ چھوٹے گھر کا کام نہ کرنے پائیں۔ ناچار گلی کی طرف کا قدیم دروازہ جو مدّتوں سے بند تھا تیغا توڑ کر کھولا تب کام چلا۔
 

اوشو

لائبریرین
ریختہ صفحہ ۔۔۔ 230

فرہنگ

اپاہج۔ معذور
آپے سے باہر ہونا۔ بےقابو ہو جانا
اتا پتا۔ نشان
اُتُّو کرنا۔ اُدھیڑ دینا، اصل میں اُتُّو اس نقش و نگار کو کہتے ہیں جو کپڑے پر بنایا جاتا ہے۔
اٹل۔ نہ ٹلنے والا
اٹم۔ ڈھیر
چاپت۔ ادھار، قرض
اداس۔ غمگین
اَدبدا کر۔ بے اختیارانہ
اَدھر۔ معلّق، لٹکا ہوا
اَدوان۔ وہ رسی جو چارپائی کی پائیتی چارپائی کھنچی رہنے کو لگائی جاتی ہے۔
اُدھیڑ بُن۔ فکر
اڑنگا۔ جھگڑا، اٹکاؤ
اڑی پر آڑے آنا۔ مصیبت کے وقت کام آنا۔
اضعافاً مضاعفۃً۔ چند در چند
اکارت۔ ضائع
اکتانا۔ گھبرانا، بےزار ہونا
اُلاہنا۔ طعنہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ ۔۔۔ 231

آلکسی۔ سستی
اکلوتا۔ صرف ایک ہی۔
امچور کر دینا۔ سُکھلا دینا۔
اَمرَد۔ بے ڈاڑھی مونچھ کا لڑکا۔
اُمڈا ہوا۔ بھرا ہوا، گھِرا ہوا۔
اُمنگ۔ ولولہ، شوق
انابت۔ اللہ کی طرف رجوع کرنا۔
اناپ شناپ۔ فضول اور مہمل، بےتمیزی سے۔
آنٹوانٹی کھنٹوانٹی۔ جب کوئی شخص رنجیدہ ہو کر الگ جا کر پڑ رہتا ہے تو اسے کہتے ہیں کہ انٹوانٹی کھنٹوانٹی لے کر پڑا ہے۔
انوکھا اور نرالا۔ عجیب و غریب
اَن ہونی۔ ناممکن
اُودھم۔ دنگا، غل غپاڑا
اَوراد۔ وظائف
اہلیت۔ قابلیت
ایک بر۔ ایک عرض
ایف اے اور ایم اے۔ یہ دو درجے انگریزی امتحان کے ہیں۔

ب

بانٹیہ دار۔ حصہ دار
بانجھ۔ جس عورت کے بچہ نہ ہوتا ہو۔
بُتّے دینا۔ مغالطہ دینا
بٹّا لگنا۔ عیب لگنا
بَدّھیاں۔ لکری یا چھڑی کی مار کے جو نشان پڑ جاتے ہیں۔
بِرتا۔ بھروسا
برتن بھانڈا۔ برتن وغیرہ
بسانہدی۔ باسی گوشت یا انڈے میں جو بو ہوتی ہے۔
بطلیموس۔ ایک مشہور حکیم کا نام ہے۔
بغارے۔ بڑے بڑے سوراخ
بکھرنا۔ ضد کرنا
بَل۔ زرد
بلکنا۔ بےتاب ہو کر رونا
بگٹُٹ۔ بے تحاشا بھاگنا
بوچھاڑ۔ اصل میں پانی کے چھینٹوں کو کہتے ہیں۔ یہاں گالیوں کی بوچھاڑ سے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ ۔۔۔ 232

مراد مسلسل گالیاں ہے۔
بھاری بھرکم۔ باوقار
بھاگھ۔ خوش قسمتی
بھرم بنا رکھنا۔ لوگوں کی نظر میں معزز بنا رہنا۔
بھڑاس۔ غصہ جو دل میں بھرا ہوا ہو۔
بھلمنساہٹ۔ شرافت
بھنّانا۔ چکرانا
بھونرے میں پلنا۔ اگلے زمانے میں بادشاہوں کے بچے بڑے ناز و نعم سے پلا کرتے تھے اور تمازتِ آفتاب اور تغیراتِ موسم سے بچانے کے واسطے تہ خانوں وغیرہ میں رکھے جاتے تھے۔ پس جو شخص لاڈ پیار سے پالا جاتا ہے اس کو کہتے ہیں کہ بھونرے میں پلا ہے۔
بیچا۔ بچوں کو ڈرانے کے لیے ایک ہیبت ناک صورت بنا دیتے ہیں، اسے بیچا یا اللہ کا فضل یا ہوّا کہتے ہیں۔
بے رُت۔ بے موسم، بے فصل
بیرسٹر۔ اعلٰی درجے کا وکیل
بیڑا پار ہونا۔ مطلب حاصل ہونا، خاطر خواہ کام ہو جانا

پ

پتیانا۔ اعتبار کرنا
پُٹکی ڈالنا۔ اندھا کر دینا، آنکھیں بند کر دینا
پِٹنا۔ جھکڑ، تم کو اسی کا پِٹنا پڑا رہتا ہے یعنی ہر وقت اسی کے پیچھے پڑے ہوئے ہو۔
پٹّی پڑھانا۔ سکھانا
پچّی ہونا۔ جم جانا، مضبوط بیٹھ جانا
پَرتا۔ اوسط
پرتل۔ لدو ٹٹّو
پرچونیے۔ چھوٹے، کم حیثیت بنئیے جو متفرق سامان فروخت کرتے ہیں۔
پرنسپل۔ مدرسے میں سب سے بڑا استاد
پروان چڑھانا۔ پھولنا پھلنا، جوان ہونا
پلّے باندھنا۔ حوالے کرنا، سپرد کرنا
پلّے پر ہونا۔ حمایت لینا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ ۔۔۔ 233

پنڈ۔ پیچھا
پَون بٹھانا۔ جادو کرنا، پون ایک خاص قسم کا جادو ہوتا ہے۔
پھِٹے منہ۔ زجر و توبیخ کا لفظ ہے۔
پھٹکار نہ کھائے۔ یعنی فوراً مر جائے۔
پھٹکار۔ لعنت
پھُٹیل۔ متفرق
پھپولا۔ آبلہ
پھڑکنا۔ بے قرار ہونا
پھوہڑ پن۔ بے سلیقگی
پیڑھی۔ چھوٹی چارپائی مِثل چوکی کے

ت

تابڑ توڑ۔ لگاتار، متواتر
تاڑنا۔ سمجھ جانا، پہچاننا
تخلّص۔ شاعر جو اپنا نام آپ رکھ لیتے ہیں۔
تُخمہ۔ بد ہضمی، ہیضہ
تُکّا چلانا۔ اٹکل پچّو تیر چلانا
تَکلا۔ چرخے میں کاتنے کا سُوا
توڑا۔ کمی
تھُپنا۔ ذمے لگ جانا، ثابت ہونا
تھُڑی تھُڑی۔ فضیحتہ، بدنامی
تھکّا فضیحۃ۔ لعن طعن
تھوپ تھاپ دینا۔ رفع دفع کر دینا، دبا دینا، مٹا دینا
تھونی۔ لکڑی کا کھم جو کہ چھت کے سنبھالنے کو لگایا جاتا ہے۔
تھئی۔ روٹیوں کا ڈھیر

ٹ

ٹپّس جمانا۔ تقریب کر دینا، کسی کو کسی جگہ لگا دینا
ٹکٹکی۔ کسی چیز کو جمی ہوئی نظر سے دیکھنا
ٹنٹا۔ جھگڑا
ٹوہ۔ سُراغ، تلاش
ٹھاٹھ۔ شان، بناؤ
ٹھلّا۔ مضبوط
ٹھوس۔ ضدِ خول، پُر
ٹَیں ہو جانا۔ مر جانے سے مراد ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ ۔۔۔ 234

ج

جِبّو۔ زبان، تصغیر ہے۔ یعنی چھوٹی زبان
جتھّا۔ گروہ
جنرل۔ سردار
جوکھوں۔ اندیشہ، نقصان
جھولا۔ (بواؤ مجہول) ڈھیلا
جھٹ پٹ۔ فوراً، جلدی
جھڑا۔ یکساں، مسلسل
جھکڑ۔ ایک بات کے پیچھے پڑ جانا
جھلنگا۔ ڈھیلی، ٹوٹی ہوئی چارپائی
جھیلنا۔ برداشت کرنا

چ

چپّا۔ ذرا سی جائے
چچوڑنا۔ چوسنا
چکتّہ۔ منہ سے کاٹنے کا داغ یا نشان
چکّٹ۔ بہت میلا
چکوتا۔ تصفیہ
چُگی داڑھی۔ وہ داڑھی جو صرف تھوڑی پر ہو۔
چُلّو۔ چُلّو بھر پانی سے مراد تھوڑا سا پانی ہے۔
چَمچِچّڑ۔ لیچڑ، جم جانے والا
چُمکار پچکار۔ لاڈ پیار
چوتھی۔ شادی کے دوسرے دن مستورات آپس میں ترکاری سے کھیلتی ہیں، اس رسم کو چوتھی کہتے ہیں۔
چھِپٹیاں۔ لکڑیوں کا چورا، چھوٹی چھوٹی لکڑیاں
چھُٹکارا۔ نجات
چھچوری۔ خفیف الحرکات
چَہکا۔ جل کر جو داغ پڑ جاتا ہے۔
چیں چپڑ۔ فضول بکواس

خ

خالصے لگنا۔ برباد کر دینا، لُٹا دینا

د

دو ٹوک۔ قطعی
دو جان یا جی سے ہونا۔ یعنی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ ۔۔۔ 235

حاملہ ہونا
دو ہتّڑ۔ دونوں ہاتھوں سے مارنا
دھت۔ عادت، لت
دھتکار۔ ڈانٹ
دھڑکن۔ اختلاج
دھسک۔ کسک، کسر
دھما چوکڑی۔ غل، شور، اودھم
دھیان۔ خیال

ڈ

ڈاڑھیں مار کر رونا۔ بآوازِ بلند رونا
ڈَگڈَگا کر پینا۔ بے تاب ہو کر پینا، کھینچ کر پینا
ڈِگری۔ درجی، مراد سند سے ہے۔
ڈگمگانا۔ لغزش
ڈنر۔ انگریزی کھانا
ڈھارس۔ امید، توقع
ڈھانا۔ گرانا
ڈھرّا۔ راستہ
ڈھئی دینا۔ بوجھ ڈالنا
ڈیل۔ جسم

ر

ربڑ۔ زد
رٹنا۔ ایک دم پڑھے جانا
رجسٹر۔ کتاب
رضاعی۔ دودھ کی
رکھانت۔ محفوظ، رکھی ہوئی
رِگیولیٹر۔ اصلی معنی انتظام کرنے والا، گھڑی میں وہ پرزہ جو گھڑی کی رفتار کو درست کرتا ہے۔
رُوئڑ۔ مستعملہ روئی کے ٹکڑے
رونکھّی۔ روتی ہوئی
ریجھنا۔ فریفتہ ہونا
ریس۔ حِرص
ریں ریں کرنا۔ مریل آواز سے پڑھنا
ریزگی۔ پرانے گوٹے کے ٹکڑے

س

سالم۔ پوری
سُبکیاں۔ رونے کے بعد جو دیر تک

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ ۔۔۔ 236

ایک قسم کی ہچکی لگی رہتی ہے۔
سُتھری۔ پاک، صاف
سِٹّی بھولنا۔ ہوش گم ہو جانا
سج دھج۔ طرز و انداز
سحاب۔ ابر
ادھارنا۔ بنانا، سنوارنا
سراب۔ چمکتا ہوا ریت جو دور سے بہتا ہوا دریا دکھائی دے۔
سرٹیفکٹ۔ سند
سرشار۔ لبریز
سفیہ۔ احمق
اسکالرشپ۔ وظیفہ
سَلوَٹ۔ شکن
سَمِّ قاتل۔ زیر، مار ڈالنے والا
سموچا۔ ثابت
سنّاٹا۔ چپ چاپ، سکوت
سِوانا۔ سرحد
سوبھا۔ رونق
سوپرنڈنٹ۔ پولیس کا افسر
سوڈا و ایسڈ۔ یہ دو دوائیں انگریزی ہیں جن کے ملانے سے ابال آتا ہے۔
سڈول۔ خوش وضع
سہم جانا۔ خوف زدہ ہو جانا
سیروا۔ سرہانے کی پٹی چارپائی کی

ش (معجمہ)

شغف۔ عشق

ع

عبودیت۔ بندگی

ف

فطری۔ خلقی
فیشا غورس۔ ایک مشہور حکیم کا نام ہے۔
فیل کرنا۔ مکر کرنا، حیلہ کرنا

ک

کارن۔ سبب، باعث
کاڑھا۔ زچگی کے ایام میں ایک قسم کی مرکت دوا پلائی جاتی ہے اسے کاڑھا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ ۔۔۔ 237

کہتے ہیں۔
کِرکِری۔ خفیف ہونا
کریدنا۔ پرچول کرنا
کڑاکے کی سردی۔ شدت کی سردی
کُڑھنا۔ رنج کرنا
کسک۔ کسر
کفران۔ ناشکری
کلنک کا سا ٹیکہ۔ کلنک بمعنی سیاہی یعنی بدنامی کا ٹیکہ
کن انکھیوں سے دیکھنا۔ چور نگاہوں سے دیکھنا
کنونڈا۔ دبیل، دبی ہوئی
کَنّی دبنا۔ مرعوب ہونا
کنّی کاٹنا۔ راستہ بچانا
کوتک۔ خراب عادت
کوڑیوں۔ بیسیوں
کھانچا۔ کونا
کہاوت۔ مَثل
کھُرچن۔ کھانے کا وہ جزو جو پتیلی کی تہہ میں لگ جاتا ہے۔
کھِسیانی۔ رونکھی
کھُل جانا۔ آزاد ہو جانا

گ

گت۔ حالت
گُجّی مارنا۔ اندرونی مارنا
گُل چھرّے ارانا۔ مزے اڑانا
گنڈے دار۔ غیر مسلسل
گونتھنا۔ خراب سِینا
گھات۔ تاک
گھٹنا۔ اونچا پائجامہ جو گھٹنوں سے اوپر ہو۔
گھُرکنا۔ خفا ہونا، ڈانٹنا
گھگی بیٹھنا۔ خوف سے آواز کا بیٹھ جانا
گیڑیاں۔ عوام کے بچے لکڑیوں سے ایک قسم کا کھیل کھیلتے ہیں، اسے گیڑیاں کھیلنا کہتے ہیں۔

ل

لاج۔ شرم

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ ۔۔۔ 238

لایعقل۔ بےعقل
لت۔ خراب عادت
لتاڑنا۔ ڈانٹنا
لتھیڑنا۔ لپیٹ دینا
لٹّو ہونا۔ فریفتہ ہونا
لچھّن۔ آثار، علامت
لشٹم پشٹم۔ جس طرح ہو سکے برا یا بھلا
لَلّو پتّو۔ خوشامد
لیترے۔ پرانی جوتیاں

م

ماتھا ٹھنکنا۔ اندیشہ ہونا
متداول۔ مشہور
ٹک چتک۔ مٹکنا، بننا
مجسٹریٹ۔ حاکم عدالت
مدّھم۔ ماند
مزامیر۔ باجے
مچان۔ کوٹھری میں تختے لگا کر کوئی چیز رکھنے کے واسطے بنا لیتے ہیں اسے مچان کہتے ہیں۔
مَساکر۔ مشکل سے
مساہلہ۔ سہج، سبھاؤ
مساعدۃ۔ مدد
مشق و تمرین۔ دونوں ہم معنی ہیں۔
مضغہ۔ لوتھڑا
مُکا۔ گھونسا
مگرا۔ غانٹا، ٹرّا
مَلاگیری۔ ایک قسم کا خوشبودار رنگ ہ ے۔
ملتبس۔ مشابہ، یکساں
ملونی۔ آمیزش
ملیامیٹ۔ نیست و نابود
منافست۔ سَید
منہمک۔ ڈوبا ہوا
مُوکھا۔ سوراخ
موسنا۔ مروڑنا
میّا۔ تصغیر سے اماں کو کہتے ہیں۔

ن

نبھنا۔ گزرنا
نڈھال۔ بدحال، مضمحل
نسوت پانی۔ بالکل پانی
نقش فی الحجر۔ پتھر کی لکیر

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ ۔۔۔ 239

نکتوڑا۔ نخرہ
نکّڑ۔ گلی کا کونا
نُکّو بننا۔ بدنام ہونا
نکھٹّو۔ بےکار، مےمصرف
نگوڑا۔ بےچارہ
نگھری۔ ندری

ہ

ہتھکھنڈے۔ چالاکیاں
ہتیلا۔ ضدی
ہدڑا۔ برا حال
ہِردا۔ ہیاؤ، دل کھل جانا مراد ہے۔
ہکّا بکّا۔ متحیر
ہوّا۔ ڈر کی چیز
ہول۔ گھبراہٹ
ہولے سے۔ آہستہ سے
ہیٹاپن۔ کم

ی

یونیورسٹی۔ دارالعلوم
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کتبہ: افضال احمد شیر کوٹی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 
صفحہ 196

میں ہوں۔ دیکھو تو کتنے آدمی ہم لوگوں کے ملاقاتی ہیں۔ مگر ہمدردی اور مدد تو درکنار، مرد عورت کوئی آ کر بھی جھانکا! سچ کہا ہے۔“ گاڑی بھر آشنائی کام کی نہیں اور رتی بھر ناتا کام آتا ہے۔“ بڑے افسوس کی بات ہے کہ جب ناتے سے کام لینے کا وقت آیا تو تم لوگ آپس میں لڑنے لگے! جس طرح پر تم دونوں میں لڑائی شروع ہوئی، میں سب سُن چکا ہوں تم میں سے کسی کو مجھ سے یہ توقع نہیں رکھنی چاہیے کہ میں ایک کو ملزم ٹھیراؤں اور دوسرے کو بَری۔ جس طرح تالی ایک ہاتھ سے نہیں بجتی اسی طرح لڑائی کبھی ایک ہاتھ کے لڑنے سے نہیں لڑی جاتی۔ میں تم دونوں کو برابر الزام دیتا ہوں۔ لیکن رشتہ داروں میں اگر کسی بات پر چخ بھی ہو جاتی ہے تا ہم ان کے خون ملے ہوئے ہیں۔ وہ ظاہر میں جدا ہیں اور باطن میں ایک۔ غیرت بیگم کا افیون کھا لینا سن کر مبتلا بھائی کو منہ سے الحمد للہ کہہ دینا بہت آسان تھا لیکن جب غیرت بیگم کی مدِّت حیات پوری ہو اور خُرا کرے کہ مبتلا بھائی اس کو اپنے ہاتھ سے مٹّی دیں، تو دنیا میں سب سے بڑھ کر رنج کرنے والے بھی یہیہ ہوں گے۔ گھر کس کا برباد ہو گا؟ ان کا! اولاد کس کی بے ماں کی ماری ماری پھرے گی؟ اِن کی۔ کنبے والوں کا میل ملاپ کس سے چھوٹ جائے گا؟ اِن سے۔ بھلے مانسوں میں جو خانہ داری کی ساکھ ہوتی ہے ئعنی تمدّتی عزّت وہ کس کی جاتی رہے گی؟ ان کی! اس میں شک نہیں چھوٹی بھاوج کی وجہ سے دلوں میں بڑے فرق پڑ گئے ہیں اور پڑنے ضرور تھے۔ مگر پر بھی غیرت بیگم کی ناموس کا پاس ہم کو چھٹانک بھر تو مبتلا بھائی کو سیر بھر ہو گا۔ میں جانتا ہوں کہ مبتلا بھائی بڑے ضبط کے آدمی ہیں۔ منہ سے نہیں کہتے مگر ان کے تلووں سے لگی ہے۔ ناظر کیا کوئی تم سے خیر کی توقع کرے گا، جب تم ایسی مصیبت میں مبتلا بھائی کی مدد نہ کرو؟ ہزاروں مقدموں میں تم بہ طمعِ صلہ پیروی کرتے ہو۔ اس ایک مقدمے میں صلۂ رحم کو صلہ سمجھو، اور میری خاطر سے، اپنی بہن کی خاطر سے، بھانجے بھانجی کی خاطر سے، غصے کو تھوک کر بچاؤ کی کوئی صورت نکالو۔ اور تم مبتلا بھائی! از برائے خدا رحم کرو اپنے چھوٹے چھوٹے بچوں پر، بزرگوں کے نام پر، خاندان کی عزّت پر! بات کو معاملات مقدمات کا کبھی اتّفاق نہیں پڑا۔ کوتوالی والے بہت سے تم پر دانت لگائے بیٹھے ہیں، خدا جانے کس بلا میں تم

صفحہ 197

پھنسا دیں گے۔ ناظر تمہارا خورد ہے اگر اس نے بے تمیزی کی تو بہت برا کیا۔ جھک مارا۔ میں اس کی طرف سے معذرت کرتا اور تمہاری ٹھوڑی میں ہاتھ ڈالتا ہوں، جانے دو، معاف کرو!“ اس کے بعد ناظر کو پکڑ کر مبتلا کے پیروں پر گرایا، اور ناظر اور مبتلا دونوں کو گلے لگوایا۔ وہ دونوں بھی ایک دوسرے سے مل کر روئے۔ حاضر بہن کی تباہی کا تصور کر کے مفہوم تو پہلے سے تھا، اب ان کو روتا ہوا دیکھ کر آپ بھی رونے لگا۔ جب سب کے دلوں کی بھڑاس نکل چکی تو حاضر نے ناظر سے پوچھا ”کیوں بھائی اب کیا کرنا چاہیے؟“ ناظر ”خیر اب آپ فرماتے ہیں اور آپ کا قدم درمیان میں ہے تو میں اس مقدمہ میں ہاتھ ڈالتا ہوں۔ مگر مبتلا بھائی نے آج اس رنڈی کے سامنے (آپ برا مانیں یا بھلا مانیں میں تو اس کو ساری عمر بھاوج کہنے والا نہیں) ایسا ذلیل کیا ہے کہ میں اس رنج کو کبھی بھول نہیں سکتا۔ جب آپا نے میرے بیٹھے پر افیون کھائی تو میں گھبرا کر اس غرض سے ان کے پاس دوڑا ہوا گیا تھا کہ ہم دونوں ہم صلح ہو کر تدبیر کریں۔ انہوں نے مجھ کو دروازے میں سے دیکھ کر اس طرح دھتکارا کہ کوئی کتے کو بھی نہیں دتکارتا۔ مجھ کو رہ رہ کر غصہ آتا ہے کہ انہوں نے تو شرم اور حیا سب کو بالائے طاق رکھ دیا۔ یا آپ کے سامنے میرا منہ کھلواتے ہیں۔ کل کی بات ہے کہ یہی نالائق جو آج بڑا لمبا چوڑا پردہ لگا کر بیٹھی ہے (بے اختیار جی چاہتا ہے کہ مارے جوتیوں کے بد ذات کے سر پر ایک بال باقی نہ رکھوں) ٹکے ٹکے پر ماری ماری پڑی پھرتی تھی اور کوئی اس پر تھوکتا بھی نہ تھا۔ ان ہی سے پوچھیے کہ کئی بار میرے یہاں اس کا مجرا ہوا؟ جب آتی تھی ڈیوڑھی میں سے فراشی سلام، یا اب اس کو یہ بھاگ لگے ہیں کہ ہمارے سامنے ہونے سے اس کی بے پردگی ہوتی ہے! عزّت بنانے سے نہیں بنتی بلکہ خداداد چیز ہے۔ آج یہ پردہ نشین بنی، کل کو سیدانی بن کر چاہے گی کہ ہماری ماں بہنوں کے ساتھ بیوی کی صحنک کھائے۔ پرسوں اس کے بال بچّے ہوں گے اور کہے گی کہ سیّدوں میں رشتہ ناتا کرتی ہوں، تو کوئی بھلا مانس اس کو جائز رکھے گا۔ یہ جو کچھ آپ دیکھ رہے ہیں سب ہماری

صفحہ 198

آپ کا صبر پڑ رہا ہے۔ اور ابھی کیا ہے، یہ مظلمہ تو مبتلا جانی کو ایسے ناچ نچائے گا کہ ہریالی کو ساری عمر ایسا ناچ ناچنے کا اتفاق ہوا ہو گا۔“ ناظر تو باتوں باتوں میں گرم ہوتا جاتا تھا اور مبتلا کے چہرے پر ہوائیاں اڑ رہی تھیں کہ اگر اب کے پھر کہیں یہ جِن لپٹ پڑا، تو ہڈی پسلی ایک کر کے رکھ دے گا۔ حاضر کے بیٹے کی اگر ڈھارس نہ ہو تو قریب تھا کہ مبتلا کی گھگھی بندھ جائے۔ بارے حاضر نے کہا ”بھائی ناظر! یہ تو تم پھر بگاڑ کی سی باتیں کرتے ہو۔ یہ سچ ہے کہ مبتلا بھائی کی نادانی نے سارے گھر کو تہہ و بالا کر دیا، مگر بھی تو نہیں ہو سکتا کہ ہم غیروں کی طرح دور کھڑے ہوئے تماشہ دیکھیں!“ ناظر ”یہ تو میں نے وہ حقیقت بیان کی جو میرے دل میں تھی۔ رہ گیا مقدمہ اس سے آپ اطمینان رکھیے مبتلا بھائی کو روپیہ تو بہت خرچ کرنا پڑے گا۔ ایسا کوئی پانچ چھ ہزار۔ مگر خُدا نے چاہا تو ان پر اور ان کے طفیل میں ہریالی پر، کوئی گزند نہیں آنے پائے گا۔“ اس وقت تک مبتلا کو مقدمہ کی واقعی روداد اور کوتوالی کی تحقیقات سے اپنی اور ہریالی دونوں کی طرف سے پورا اطمینان تھا، اور دونوں اپنی جگہ خوش تھے کہ، چاہ کن راه چاہ در پیش، سنکھیادی ، اسی غرض سے کہ ہم دونوں کھائیں اور مر کر رہ جائیں۔ خدا کی قدرت، ہم دونوں کے منہ پر رکھنے کی نوبت بھی نہیں آئی اور اوپر ہی اوپر ماما کے بیٹے نے جا سرکار میں خبر پہنچائی! اب لینے کے دینے پڑے۔ غیرت بیگم کو پھانسی ہو تو پھانسی، عمر قید میں تو شک نہیں۔ چلو سستے چھوٹے اور روز کا ٹنٹا مٹا۔ ناظر کے منہ سے یہ کلام سن کر کہ پانچ چھ ہزار روپیہ خرچ کرو تو تم پر گزند نہیں آنے پائے گا۔ مبتلا تو حیران ہو کر اس کا منہ دیکھنے لگا اور بے اختیار بول اٹھا۔ ”کیوں صاحب، اُلٹا چور کوتوال کو ڈانٹے۔ مجھی کو زہر دیا جائے اور میں ہی گزند سے بچنے کے لیے پانچ چھے ہزار روپے بھی خرچ کروں؟ کیا انگریز کی عملداری میں یہی انصاف ہے؟“ ناظر ”ہوش ہوش کی بنواؤ! تماش بینی اور شے ہے اور مقدمے کی باریکی کو پہنچنا کچھ اور چیز ہے! تم کو اتنا معلوم ہے نہیں کہ معاملہ کس کو کہتے ہیں، اور مقدمہ کس جانور کا نام ہے؟ میں

صفحہ 199

تو زبان دے چکا ہوں اور بد عہدی کسی شریف آدمی کا کام نہیں۔ اس لیے چند تہہ کی باتیں تم کو سمجھاتا ہوں۔ کوتوالی کی تحقیقات کو تو عدالت میں کوئی پوچھتا تک نہیں روداد وہی معتبر ہے جو عدالت کی مثل میں ہو۔ کیا تم نے نہیں دیکھا کہ کوتوالی کے لوگ زبانی پوچھ گچھ کے سوا کسی کا اظہار تک قلم بند کر نہیں سکتے؟ اصل بات یہ ہے کہ پہلے کوتوالی اور فوجداری ایک تھی۔ جب یہ لوگ لگے اظہار کارگزاری کے لیے ہر واردات بے سُراغ کے لیے مجرم بنانے، اور اصل مجرموں سے سازش کر کے بے گناہوں کو ناحق پھنسانے، تو سرکار نے کوتوالی اور فوجداری کو الگ کر دیا۔ اب تو کوتوالی والوں کا اتنا ہی اختیار ہے کہ سب کو اپنے نزدیک مجرم سمجھیں، حاکمِ عدالت کے پاس چالان کر دیں۔ حاکمِ عدالت مدّعی اور مدعا علیہ گواہوں کے اظہار قلم بند کرتا ہے اور اپنے یہاں کی روداد پر سزا یا رہا کرتا ہے۔ کوتوالی والے اناپ شناپ جس کو پکڑ پاتے ہیں چالان کر دیتے ہیں۔ عدالت میں گئے اور رہا ہوئے۔ اور ہمارے صاحب مجسٹریٹ کوتوالی سے اس قدر بد ظن ہیں کہ مجسٹریٹ کا اجلاس کرتے ہوئے پورا برس نہیں ہوا، اتنے ہی دنوں میں کوتوالی والوں سے جیل خانہ بھر دیا۔ غرض کوتوال اور ان کی تحقیقات کی تو کچھ بھی حقیقت نہیں۔ اب رہ گئی مقدمے کی روداد، سو اس کا حال یہ ہے کہ سنکھیا تو حقیقت میں پکڑی گئی ہریالی کے یہاں۔ پس مدّعا علیہ اوّل ہوئی ہریالی، اور پہلے اسی پر اشتباہ کیا جائے گا کہ اسی نے فیرینی میں ڈالی یا ڈلوائی۔“ مبتلا ”بھلا وہ علاوہ کم بخت بد نصیب کس کو سنکھیا دینے اٹھی تھی؟ اپنے تئیں یا مجھ کو، یا اپنی ماما کو، جو سالہا سال سے نوکر ہے اور کبھی اس کو پھٹے منہ تک نہیں کہا، یا اپنے پالے ہوئے جانوروں کو جنہیں وہ بچوں کی طرح عزیز رکھتی ہے!“ ناظر ”جانوروں کی تو بات الگ ہے لیکن دوسرے احتمالات میں تو کوئی استبعاد (1) کی بات نہیں ہے۔ ہو سکتا ہے

1) بعید از قیاس۔

صفحہ 200

کہ اس نے خود سنکھیا کھانے کا ارادہ کیا اور عورتیں اکثر خودکشی کر بیٹھتی ہیں۔ یا تم کو اس نے زہر دینا چاہا ہو تو عجب نہیں! بازاری خلقت کا بھروسہ کیا؟ خدا جانے اس نے کیا سمجھ کر تم سے نکاح پڑھایا، اور اب جو اس کی مراد بر نہ آئی تو اس نے اپنا پنڈ چھڑانے کے لیے یہ تدبیر کی۔ اگر وہ اپنی حالتِ سابقہ پر عود کرنے کی آرزو مند ہو تو اس سے کچھ دور نہیں۔ ماما تم خود کہتے ہو کہ اس کے پاس مدّت سے ہے، تو ضرور اس کے پچھلے حالات سے بخوبی واقف ہو گی، اور عداوت کے لیے اتنی بات کافی ہے۔ اور سنکھیا کے لیے تمہاری اور ہریالی کی اور ماما کی کیا تخصیص ہے؟ معصوم سارے سارے دن ہریالی کے یہاں رہتا ہے۔ وہ یقیناً اُس کی جان کی دُشمن ہے۔ ان کے علاوہ ایک احتمال اور ہے، اور وہ سب میں زیادہ قرین قیاس ہے کہ آپا کے پھنسانے کے لیے یہ سارا منصوبہ سوچا گیا ہے۔ ورنہ سبب کیا کہ جانوروں تک کو فیرینی کھلائے اور آپ منہ تک نہ لے جائے؟ اور بد ذات نے کیا چالاکی اور بے رحمی کی ہے کہ بے زبان جانوروں کو تو اتنی فیرینی ٹھسائی کہ ایک نہ بچا اور لہو لگا شہیدوں میں داخل کیا۔ گھوسن کی گواہی پر کچھ لحاظ نہ ہو گا؟“ ناظر ”کیا معلوم کہ عدالت تک پہنچتے پہنچتے گھوسن اپنے بیان پر قائم بھی رہتی ہے یا نہیں اور فرض کرو قائم رہے تو اس نے سنکھیا کا نام تک بھی نہیں لیا۔ بلکہ میری نظر سے دیکھو تو گھوسن کا بیان ہریالی کے حق میں سمِّ قاتل ہے۔ وہ کہتی ہے۔ وہ کہتی ہے کہ ”خاتون نے مجھ کو دودھ کی ہنڈیا واپس کر دی۔ بہت خوب! ہریالی نے جب یہ سن لیا تھا کہ بڑے گھر سے دودھ برا سمجھ کر واپس کیا گیا تو اس نے چپ چپاتے ضرورت سے زیادہ بھری کی بھری ہنڈیا رکھ کیوں لی؟ بس یہیں تو پانی مرتا ہے۔ اس سے صاف شبہ ہوتا ہے کہ ہریالی نے گھوسن سے مل کر اسی کے گھر دودھ میں سنکھیا گھلوائی، اور جب خاتون دھوکے میں نہ آئی تو دوسری چال چلی۔ اور پھر یہ بھی سمجھ لو کہ ہریالی اور تم، دو نہیں ہو۔ ہریالی کا کرنا عین تمہارا کرنا ہے اور ابھی خاتون کے بیان کی تو نوبت آنے دو، دیکھو تو وہ کیا زہر اُگلتی ہے! کوتوالی والوں
 

شمشاد

لائبریرین
فسانہ مبتلا ریختہ صفحہ 173

بائیسویں فصل

دو سوکنوں کی لڑائی کا سلسلہ اور اس کا اثرِ بد مبتلاؔ پر، مبتلاؔ کی اولاد پر، اُس کی بیبیوں پر، اور انتظامِ خانہ داری پر

آدمی الگ گھر کرتا ہے تو پلنگ پیڑھی، تخت چوکی، چولہا چکی، برتن بھانڈا سبھی چیزیں اُس کو درکار ہوتی ہیں۔ غیرتؔ بیگم کے یہاں اسباب کے اٹم لگے ہوئے تھے۔ پر کس کی مجا تھی کہ تنکا تو اُٹھا کر اِدھر سے اُدھر لے جائے۔ ہریالیؔ کو ابتدا میں سخت تکلیف ہوئی مگر سلیقہ بھی عجیب چیز ہے۔ دو ہی برس میں ہریانیؔ نے رفتہ رفتہ اپنا گھر ایسا درست کر لیا کہ غیرتؔ بیگم کے کئی پشتوں کے جمے ہوئے گھر میں ایک چیز وقت پر نہیں بھی ملتی تھی مگر ہریالیؔ کے یہاں آتا تو کون تھا، لیکن اگر دس مہمان بھی آ جائیں تو آسائش کا ہمہ سامان موجود پاتے۔ ایک مرتبہ پرانا سرکہ درکار تھا۔ تعجب کی بات ہے کہ سارے محلے میں کسی کے یہاں نہ نکلا۔ ہریالیؔ نے (جس کی طرف کسی کا ذہن بھی منقتل نہ ہوتا تھا) سنتے کے ساتھ ہی پیالہ بھر کر بھجوا دیا۔ جس طرح سید حاظر نے ٹھہرا دیا تھا، مبتلاؔ ایک ایک دن باری باری سے دونوں گھروں میں رہتا تھا۔ بڑے گھر میں تو

فسانہ مبتلا ریختہ صفحہ 174

اُس سے کوئی بولتا چالتا نہ تھا۔ کسی دن اگر معصوم کو پکڑ پایا تو گھڑی دو گھڑی اس کے ساتھ جی بہلایا، ورنہ مُنہ لپیٹا سو رہا۔ خاطرداری سمجھو، مدارت سمجھو، آؤ بھگت سمجھو، جو کچھ تھی سو چھوٹے گھر میں تھی۔ مگر غیرتؔ بیگم اس کو وہاں بھی چین سے نہیں رہنے دیتی تھی۔ وہ اپنے گھر میں تو مبتلاؔ سے ایسی بے رُخی کرتی کہ گویا اُس کو میاں کی ذرا بھی پروا نہیں، اور چھوٹے گھر کی باری آئی اور صبح سے اُس نے مبتلاؔ کی نگرانی شروع کی۔مردانے میں کتنی دیر بیٹھے، گھر میں کس وقت آئے؟ کہاں سوئے؟ کیا کھایا اور کتنا کھایا؟ ہریالیؔ کے ساتھ کیا باتیں کیں؟ گھر کے نوکروں پر ایک نیا کام یہ اور پڑا کہ سارے سارے دن اور پہر پہر رات گئے تک ایک ڈیوڑھی میں کھڑی جھانک رہی ہے، تو ایک دروازے میں کان لگائے سُن رہی ہے، اور ایک ہے کہ جس طرح جُلاہا تانا بانا تنتا پھرتا ہے، اوپر تلے بیشوں پھیرے زنانے سے مردانے میں، اور مردانے سے زنانے میں باوجودے کہ غیرتؔ بیگم نے ایک مبتلاؔ کے پیچھے اتنے جاسوس لگا رکھے تھے، اس پر بھی اس کا جی نہیں مانتا تھا۔ ایک موکھا تو اس نے پاخانے کی دیوار میں کیا کہ چھوٹے گھر کے سہ درے کی ذرا ذرا بات وہاں سے سنائی دیتی تھی۔ رہ گیا ایک ضلع صحن، سایہ بان، اور سایہ بان کے اندر کا دالان، سو غیرتؔ بیگم کی طرف ایک بالاخانہ تھا اور اس میں تھی ایک کھڑکی، وہ کھڑکی کھول دو تو صحن سے لے کر اندر والے دالان تک سب کچھ دکھائی دیتا۔ یا تو غیرت بیگم نے جس دن سے بیاہی آئی کبھی بالا خانہ پر پاؤں نہیں رکھا، یا اب سوکن کی ضد پر جس دن چھوٹے گھر کی باری ہوتی، صبح سویری سے کوٹھے پر چڑھی چڑھی اگلی صبح کو اترتی۔ غرض ساری گرمی غیرتؔ بیگم نے میاں کو ہریالیؔ سے بات نہیں کرنے دی۔ جاڑا آیا اور پردے چھوڑ کر دالان میں سونے لگے، تب تھک یر بیٹھی۔ شروع شروع میں تو نوکروں کو آنے جانے کی ایسی سخت ممانعت تھی کہ ایک مرتبہ ایک لونڈی نے باہر ڈیوڑھی میں سے آگ پکڑا دی تھی، غیرتؔ بیگم کو خبر ہو گئی تو اس کے ہاتھ پر جلتا ہوا انگارا رکھ دیا۔ پھر سوچی کہ نوکروں سے خبریں خوب ملتی ہیں، اُن کا روکنا ٹھیک نہیں، بندی کھول دی۔ مگر اس سے خرابی کیا پیدا ہوئی کہ ماما، لونڈی جو کوئی چھوٹے گھر سے ہو کر آتی، غیرتؔ بیگم اس سے حال

فسانہ مبتلا ریختہ صفحہ 175

پوچھتی۔ اگر وہ اس کی خواہش کے مطابق کچھ بیان نہ کرتی تو اُس پر خفا ہوتی کہ "تو جھوٹی ہے یا چھپاتی ہے یا تو اُدھر ملی ہوئی ہے۔" ناچار اس کی بدگمانیوں سے بچنے کے لیے نوکروں نے جی سے باتیں بنانی شروع کیں۔ حقیقت میں تو وہ باتیں ہوتی تھیں بے اصل، مگر اس کو ایک بات کا ہفتوں جھکڑ لگا رہتا تھا۔ آپ رنجیدہ رہتی، اور مبتلاؔ پر اپنی بدنفسی اور حماقت ثابت کرتی۔ ایک آتی اور دل سے جوڑ کر کہتی "بیوی آج تو تمہاری سوکن کے عجب ٹھاٹھ ہیں۔ ایسی بن سنور کر بیٹھی ہیں جیسے کوئی نئی دلہن، سر میں چنبیلی کا تیل پڑا ہوا ہے مگر کوئی چار روپے سیر کا، سارا گھر مہک رہا ہے۔ چوٹی گُندھی ہے، یہ بڑے بڑے موتیا کے پھولوں کا سارا گہنا البتہ، ڈیڑھ دو روپے سے کم کیا ہو گا۔ ملا گیری چُنا ہوا مہین رینگ کا دوپٹا، اچھا خاصہ چار انگل کا چوڑا سنہری ٹھپا ٹنکا ہوا، سفیدترپن بیل کا پاجامہ، پائنچوں میں بیل دار کنارہ، کنارے پر کیکری، کیکری پر بانکڑی کی پیمک۔" غیرتؔ بیگم یہ سن کر ایک ٹھنڈا سانس بھر کر کہتی۔ "ہاں صاحب! جن کے بھاگ اُن کے سہاگ۔" دوسری یہ بات بناتی کہ "وہ آپ (۱) تو صحن میں کرسی بچھائے بیٹھی ہیں، میاں سامنے کھڑے گنا چھیل رہے ہیں، گنڈیریاں بنا بنا کر آپ بھی کھاتے جاتے ہیں اور اپنے ہاتھ سے ان کے منہ میں بھی دیتے جاتے ہیں۔می تو یہ دیکھ کر اُلٹے پاؤں پلٹ آئی۔ ماما باہر بیٹھی کھانا پکا رہی ہے۔" غیرتؔ بیگم : لعنت خدا کی۔ پھٹے منہ حیا اور شرم تو مطلق چھو نہیں گئی۔" تیسری اشارے سے بیوی کو بلاتی کہ "ذرا آپ بھی تو موکھے میں سے دیکھیے۔ آج میاں کا جی کیسا ہے؟ دولائی اوڑھے پڑے ہیں اور کنچنی پاس بیٹھی پاؤں دبا رہی ہے۔"

غیرتؔ بیگم : اری کم بخت تجھ کو دھوکا ہوا ہو گا۔ کنچنی لیٹی ہو گی اور میاں پاؤں دبا رہے ہوں گے۔"

اس طرح کینکڑوں باتیں صبح سے شام تک اپنے ہی نوکر غیرت بیگم سے آ آ کر کہتے تھے۔
-----------------------------------------------------------------------------------------------------------------
(۱) یعنی ہریالی

فسانہ مبتلا ریختہ صفحہ 176

اور سب میں زیادہ منہ لگی وہ تھی جو اس طرح کی باتیں خوب تصنیف کر سکتی تھی۔ اتنی تو کسی کی مجال نہ تھی کہ غیرتؔ بیگم کے منہ پر ہریالیؔ کو ہریالیؔ کہہ دے اور اگر کسی کی زبان سے بھولے سے بھی چھوٹی بیوی نکل جاتا تو بے شک غیرت ؔ بیگم تڑ سے اس کے منہ پر جوتی کھینچ مارتی۔ نام سے تو اتنی نفرت اور پھر رات دن اسی کی تسبیح! آخر سوچ کر غیرت بیگم نے سوکن کو بے غیرت کا خطاب دیا۔ اور جتنے لوگ غیرت بیگم کے طرف دار تھے، یہاں تک کہ ادنیٰ ادنیٰ نوکر اُس کی حمایت پا کر سب بے تامل ہریالیؔ کو پکار پکار کر بے غیرت کہتے تھے، اور دیوار کے پیچھے ہریالیؔ اپنے کانوں سے سنتی تھی، بلکہ اس نے سینکڑوں بات مبتلاؔ کو سنوا سنوا دیا۔ مبتلاؔ کو نوکروں کے منہ سے یہ لفظ سن کر سخت رنج ہوتا تھا، کیوں کہ ہریالیؔ جو کچھ تھی سو تھی، مگر راجہ کے گھر آئی اور رانی کہلائی، اب تو اس کی منکوحہ تھی۔ نوکروں کو اور گھر کی لونڈیوں کو کیا زیبا تھا کہ اس کی منکوحہ کو یوں منہ بھر بھر کر گالیاں دیں! مگر وہ کیا کر سکتا تھا؟ ہریالیؔ کو سمجھا دیتا کہ "کچھ تم سے پرخاش نہیں، مجھ کو نوکروں کے ہاتھ سے ذلیل کرانا منظور ہے۔ خدا کی شان میرے نوکر، میرے لونڈی غلام اور ایسے گستاخ۔" اتنے بے ادب! کیا کروں کچھ کرتے بن نہیں پڑتا۔ میں بھی صبر کرتا ہوں تم بھی صبر کرو۔" غیرت بیگم کو سوکن کی طرف سے ہر طرح کی بدگمانی تو تھی ہی، بتولؔ کو تو اُس طرف کوئی لے جانے نہیں پاتا تھا، مگر معصوم اپنے پاؤں دوڑا دوڑا پھرتا تھا۔ اس کو کون روکے! غیرتؔ بیگم بہتیرا ڈراتی دھمگاتی گُھرکتی مگر یہ کس کس سنتا تھا؟ آنکھ بچی اور چھوٹے گھر میں۔ غیرتؔ بیگم سے اور مبتلاؔ سے تو روز بروز عداوت بڑھتی چلی جاتی تھی۔ مبتلاؔ کے جلانے اور چھیڑنے اور ایذا دینے کو جہاں غیرت بیگم اور بہتیری باتیں کرتی تھی، ان میں سے ایک یہ بھی تھی کہ بچوں کے ساتھ اُس کی اگلی سے مدارات باقی نہیں رہی تھی۔ اب تو وہ بات بات پر معصومؔ کو مار بیٹھتی، اور کوسنا تو تکیۂ کلام ہو گیا تھا۔ بچوں کا تو قاعدہ کہ کہ وحشی جانوروں کی طرح ہلانے اور پرچانے سے رام ہوتے ہیں۔معصومؔ کا یہ حال ہو گیا تھا کہ غیرت بیگم کی شکل سے دور بھاگتا اور اس کی پرچھائیں سے ڈرتا۔ چھوٹے گھر میں اس کی ایسی خاطر داری ہوتی تھی کہ اس نے اندر پاؤں رکھا اور ہریالیؔ نے دوڑ کر اس کو گود میں لیا، ہاتھ منہ دُھلایا، بالوں میں تیل ڈالا، کنگھی کی، آنکھوں

فسانہ مبتلا ریختہ صفحہ 177

میں سرمہ لگایا، میوہ مٹھائی اُس کے لیے لگا رکھتی تھی جو کچھ موجود ہوا کھلایا۔ گھنڈی تُکمہ بند اگر ٹوٹ گیا ہے ٹانک دیا، کبھی کبھار کوئی کھلونا منگوا دیا، آپ پان کھاتی ہوئی تو اس کو بھی ٹکڑا بنا دیا، آئینہ ہاتھ میں دے دیا کہ دیکھو تو کیا منہ لال لال ہوا ہے۔ پس معصومؔ سارے سارے دن چھوٹے گھر میں کھیلتا، اور اگر بڑے گھر میں بلاتے تو روتا اور مچلتا۔ ایک دن غیرتؔ بیگم معصومؔ کا انگرکھا قطع کر رہی تھیں، کہ لونڈی سے کہا کہ "جا ذرا معصومؔ کو جلدی بُلا لا۔ میں انگرکھا اس کے قد سے ناپ لو، ایسا نہ ہو اونچا ہو جائے۔" لونڈی نے چھوٹے گھر میں جا کر معصومؔ سے کہا، "چلو میاں بی بی بلاتی ہیں۔ لونڈی کی صورت دیکھ کر اور طلبی سن کر معصومؔ زمین میں لوٹ گیا۔ بہتیرا لونڈی گود میں اُٹھاتی ہے، نکل نکل پڑتا ہے۔ اس کشتم کشتا میں تھوڑی دیر لگ گئی، اور وہاں غیرتؔ بیگم ہاتھ میں کپڑا لیے انتظار کر رہی ہیں۔ آخر دوسری کو دوڑایا کہ بسنتیؔ معصوم کو بلانے گئی تھی وہیں مر کر رہ گئی۔ بس آپ بھی اس کے ساتھ کھیل میں لگ گئی ہو گی۔ جا دونوں کو پکڑ کے تو لا۔" غیرتؔ بیگم جو بگڑ کر اور خفا ہو کر زور سے بولی تو اپنے گھر میں ہریالیؔ نے بھی سُنا اور اس نے جلدی سے اٹھ کر معصوم سے کہا۔ "آہا بڑی اماں کے یہاں کیسے کیسے بہار کے کپڑے آئے ہیں! جلدی سے اٹھ کر جاؤ تمہارے بھی اچکن بیونتی جائے، وہ بڑی اماں بیٹھی کہہ رہی ہیں، آنکھیں میچیں کون آئے آنکھیں میچیں کون آئے۔ معصوم سامنے گیا تو غیرتؔ بیگم بولی۔ "موئے جان ہار یوں ہی سارے دن خدائی خوار خاک چانتا پڑا پھر دیکھ اب تجھ کو کیسے ظالم اُستاد کے پاس پڑھنے بٹھاتی ہوں کہ تو بھی یاد کرے!" معصومؔ۔ "میں اپنی چھوٹی اماں کے پاس بھاگ جاؤں گا۔" غیرت بیگم : "لانا دسپنے میں ایک بڑا سا انگارا کہ اس کم بخت ناشدنی کا منہ جلاؤں۔ نگوڑا بدوں کا بد، گندی بوٹی کا بساہندہ شوربا، آخر اپنی اصالت پر گیا۔ کنچنی کو میا بنایا۔ میرے سامنے اگر پھر اُس مردار کو اماں ہو گا تو جبو (۱) پکڑ کا کاٹ ڈالوں گی۔" معصوم یہ سُن کر آدھی دور سے پھر الٹا بھاگ گیا۔
-------------------------------------------------------------------------------------------------------------
(۱) جیب (زبان) کی تصغیر۔

فسانہ مبتلا ریختہ صفحہ 178

بسنتی پیچھے دوڑی بھی مگر اب وہ کس کے ہاتھ آتا تھا۔ ڈیوڑھی میں کھڑا ہوا غیرتؔ بیگم کے چڑانے کو پکار پکار کر چھوٹی اماں چھوٹی اماں کہتا تھا اور جہاں غیرتؔ بیگم نے دیکھا تو آڑ میں ہو گیا اور پھر ذرا سی دیرمیں سامنے آ کر چھوٹی اماں چھوٹی اماں کہنے لگا۔ غیرتؔ بیگم نے دالان میں سے بیٹھے بیٹھے جوتی کھینچ ماری مگر وہ ڈیوڑھی تک کیا پہنچتی! غرض معصومؔ کو جو دھت لگی تو غیرتؔ بیگم کو اسی طرح گھری بھر تک دق کرتا رہا اور پھر چھوٹے گھر میں جا گھسا۔ غیرتؔ بیگم ہریالیؔ کی ساری باتوں کو برائی پر ڈھال لے جاتی تھی۔ معصوم کے ساتھ جو ہریالیؔ عام ماؤں سے اور خصوصاً غیرت بیگم سے بڑھ کر محبت کرتی تھی تو میاں کی خوشامد پر معمول کرنا شاید چنداں بے جا نہ تھا، مگر ہریالیؔ کی مخالفت میں غیرت بیگم کے خیالات ایسے بڑھے ہوئے تھے کہ اس کا بھی وہ دوسرا ہی مطلب لگاتی تھی۔ اس کا مقولہ یہ تھا "دیکھا نامراد کٹنی کو! کیسی معصومؔ کی للو پتو میں لگی رہتی ہے؟ اور مجھ کو یقین ہے کہ وہ ضرور اُس کو مجھ سے تُڑا کر رہے گی۔ ابھی سے اُس کو میری صورت سے بیزار کر دیا ہے، نہیں تو اتنے بچے ماؤں سے ایک لمحے کے لیے پری نہیں ہٹتے۔ اور معصومؔ کو تو اگر میں نہ بلاؤں کبھی بھول کر بھی اِدھر کا رُخ نہ کرے۔" غیرت بیگم کو تو اُلٹے سیدھے ہر طرح ہریالی کو اُلاہنا دینا منظور تھا۔ معصومؔ اگر کبھی بیمار ہوتا، اور چھوٹے بچے اکثر بیمار ہوتے ہی رہتے ہیں، تو مصیبت یہ تھی کہ میاں کی ضد کے مارے دوا علاج کچھ نہ کرتی۔ اور جو کوئی کہتا تو بگڑ کر جواب دیتی کہ "کوئی دُکھ ہو تو علاج کروں! اُس کو تو دشمنوں نے کچھ کر دیا ہے، اور دشمن کون، یہی بغلی گھونسا! یہ کیا ہم میں سے کسی کو جیتا چھوڑے گی؟ لیکن اگر میرے بچے کا بال بیکا ہوا تو کوٹھری میں کیا مار ماری تھی، اگر جان سے نہ مار ڈالوں تو سید کی جنی نہیں، اور پھر اس کے حمایتیوں کو دیکھ لوں گی۔" ہریالیؔ عجب پس و پیش میں تھی۔ اگر معصوم کو نہیں آنے دیتی تو کہیں خود جو بے اولادی ہے، جئلتی ہے، دیکھ نہیں سکتی۔ اور آنے دیتی ہوں تو اس کی ذمہ داری کون کرے کہ بچہ بیمار نہ پڑے، یا بیمار پڑے تو ضرور اچھا ہی ہو جایا کرے۔ پس ذرا بھی معصومؔ کا جی ماندہ ہوتا تو ہریالی کا کئی چلو لہو خشک ہو جاتا کہ خدا خیر کرے۔ انتظام خانہ داری کی یہ صورت

فسانہ مبتلا ریختہ صفحہ 179

ہوئی کہ آخر اس کو بھی تو صاحبِ خانہ کی توجہ درکار ہے۔ یہاں آپس کی کہا سنہ، تاک جھانک لڑائی جھگڑے، قصے قضیے سے اتنی فرصت ہی کس کو تھی کہ انتظام کی طرف متوجہ ہوتا؟ اور فرصت تھی بھی تو دلوں میں شوق نہیں، رغبت نہیں، اطمینان نہیں، اُمنگ نہیں، کس کی بلا کو غرض پڑی تھی کہ یہ درد سر مول لے۔ خانہ داری میں سب سے بڑا انتظار کھانے کا صبح بھی ہو، اور شام بھی ہو، سو کھانے کا یہ حال کہ بڑے گھر میں تو مبتلاؔ نے کبھی پیٹ بھر کر کھانا کھایا ہینہیں۔ میاں بی بی میں ناخوشی تو سدا کی تھی تاہم کھانا دونوں ایک ہی دسترخوان پر کھایا کرتے تھے۔ جس دن سے ہریالیؔ نے الگ گھر کیا، غیرتؔ بیگم نے میاں کے ساتھ بات چیت کرنی کیا چھوڑی بات چیت کے ساتھ کھانا اور کھانے کے ساتھ دیکھا، بھالنا، نکالنا، سب کچھ چھوڑ دیا۔ دو چار بار مبتلاؔ نے منہ پھوڑ کر کہا بھی جواب ندارد۔ پس کھانا تیار ہوتا تو گھر کے نوکروں میں سے کسی نے میاں کا حصہ نکال لا آگے رکھ دیا۔ اس بے وقری کے ساتھ جو کھانا دیا جاتا تھا تو مبتلاؔ کو اس قدر طیش آتا تھا کہ اگر اس کا بس چلے تو غیرتؔ بیدم کو کچی اُٹھا کر کھا جائے۔ مگر وہ اپنا خونِ جگر پی کر چُپ ہو رہتا تھا۔ ڈر کے مارے ذرا کی ذرا منہ جھٹلایا اور کھڑا ہو گیا۔ غیرتؔ بیگم خود تو کبھی خبر نہیں لیتی تھی۔ اگر کبھی کوئی نوکر خدا کے واسطے کو کہہ بیٹھا کہ "میاں تو پوری ایک چپاتی بھی نہیں کھاتے" تو بولتی "اس مال زادی کے بدون میاں کے حلق سے نوالہ کیوں اترنے لگا اور ان کو اس گھر کا کھانا کیوں بھانے لگا؟" غیرتؔ بیگم جلی تن کا مبتلاؔ سے بدتر حال تھا۔ وہ آپ ہی اپنے دل سے باتیں پیدا کرتی، اور آپ ہی ان کی ادھیڑ بن میں دو دو وقت کھانا نہ کھاتی۔ نوکروں نے جو دیکھا گھر والے دو۔ میاں بیوی اور دونوں کو کھانے کی طرف مطلق رغبت نہیں، یہ لوگ بھی سُستی اور بے پروائی اور چوری اور طرح طرح کی خرابیاں کرنے لگے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ خرچ تو ڈیوڑھا اور دونا بڑھ گیا اور برکت آدھی اور پاؤ بھی باقی نہ رہی۔ غیرتؔ بیگم کی طرف تو بہت سویرے سے خاک اُڑنے لگی، چھوٹا گھر خیر یوں ہی لشٹم پشٹم چلا جاتا تھا۔ گھر کی عزت ہوتی ہے مردانے سے، اور مردانے کی رونق مردوں سے، مردوں کے شوق سے،

فسانہ مبتلا ریختہ صفحہ 180

مردوں کے اہتمام سے۔ مبتلاؔ جس کا کبھی یہ حال تھا کہ ایک دن بالوں میں تیل نہ پڑتا تو اُس کا سر درد کرنے لگتا، دن میں اگر چار مرتبہ گھر سے نکلتا تو چار طرح کی پوشاک پہن کر، ایک چیز اگر جگہ سے بے جگہ رکھی ہوتی تو بے چین ہو جاتا، فرش پر سِلوٹ پڑی دیکھی اور ماتھے پر بل پڑا۔ آندھی ہو، مینہ ہو، سردی ہو، گرمی ہو، چار گھڑی دن رہے گھوڑے کی سواری بلا ناغہ ہونے ہی نہیں دی۔ ہر چیز صاف ستھری، قیمتی، انوکھی۔ یا اب خانہ داری کے جھگڑوں نے اُس کو اس قدر عاجر اور ناچار کر دیا تھا کہ اس کو اپنے تن بند کا بھی ہوش نہ تھا۔ بال اُلجھ کر نمدہ ہو گئے ہیں، کس کو دماغ ہے کہ کنگھی کرے۔ معلوم ہے کہ کپڑے میلے چکٹ ہو رہے ہیں مگر بدلتے ہوئے آلکسی آتی ہے۔ چیز بے ٹھکانے پڑی ہے، زبان کون ہلائے کہ اس کو موقع سے رکھو۔ سفید چاندبی (دھبے پڑ پڑ کر جاجم بن گئی ہے، نوکروں کو توفیق نہیں کہ بدلیں، میاں کو خیال نہیں کہ بدلوائیں۔ گھوڑا نسل ولایتی جس پر مکھی پھسلتی تھی پُٹھوں پر نالی پڑی ہوئی، سواری جو موقوف ، تھان پر بندھے بندھے پانچوں عیب (۱) نکال لایا۔ بادی نے آ دبایا، مالش میں ہوئی کمی اور دانے میں ہوئی چوری۔ تھوڑے دن میں پرتل کا ٹٹو معلوم ہونے لگا۔ سینکڑوں روپے کا اسباب صرف غور اور پرداخت کے نہ ہونے سے کوڑے کی طرح بے قیمت ہو گیا۔ غرض وہ جو لوگ کہاوت کہتے ہیں کہ دو ملا میں مرغی حرام۔ دو بیبیوں کی کشمکش میں گھر کی مٹی ایسی پلید ہوئی کہ باہر سے لر کر اندر تک نکبت اور مفلسی اور بے رونقی چھا گئی۔ ایک مدت تک غیرتؔ بیگم کی طرف سے انواع و اقسام کے ظلم ہریالیؔ پر ہوتے رہے اور بدلہ لینا کیسا اس کی اتنی بھی مجال نہ تھی اُف کرے۔ نام لے لے کر، پکار پکار کر، سُنا سُنا کر گالیوں کی بوچھاڑ برسا رکھی ہے اور کوسنوں کا تار باندھ دیا ہے اور دم بخود، مگر کتنا صبر، کہاں تک برداشت۔ آخر اُس کا منہ کُھلا تو ایسا کُھلا کہ لوگوں نے اپنے اپنے کان بند کر لیے۔ برکت، رونق، فراغت،
-------------------------------------------------------------------------------------------------------------
(۱) مٹھا، موتیا، رس، بیل، برساتی

فسانہ مبتلا ریختہ صفحہ 181

عاطیت، محبت، مروت سب کچھ غارت ہو ہوا کر ایک آبرو وہ بھی محلے والوں کی نظروں میں باقی رہی تھی، ہر وقت کی تُھکا فضیحت میں وہ بھی گئی گزری ہوئی۔ کم بختیں اس بیہودگی کے ساتھ آپس میں لڑی تھیں کہ کنجڑوں اورقصائیوں کو مات کر دیا تھا اور دھوبنوں، بھٹیاریوں کو شرمندہ۔ غیرتؔ بیگم تو کسی کے قابو کی تھی نہیں مگر ہاں ہریالیؔ کو اگر مبتلاؔ منع کر دیتا تو وہ بے شک باز آ جاتی۔ پر غیرتؔ بیگم کی طرف سے مبتلاؔ کو ایسے ایسے رنج پہنچے تھے کہ روکنا کیسا، وہ تو کبھی کبھی ہریالیؔ کو اور اشتعالک دے دے کر اُس کی آڑ میں اپنے دل کے جلے پھپولے پھوڑ لیتا تھا۔ ان لوگوں میں جو باہمی رنجشیں اور عداوتیں تھیں پہلے چند روز تک دلوں میں رہیں، بڑھتے بڑھتے دلوں سے منہ تک آئیں اب اور زیادہ ہوئیں تو پھوٹ کر ایسی بہیں جیسے کوہِ آتش فشاں کا ملغوبہ، آگے آگے آپ اور پیچھے پیچھے تباہی اور بربادی۔

فسانہ مبتلا ریختہ صفحہ 182

تیئیسویں (23) فصل

ہریالیؔ کا اُمید سے ہونا، غیرتؔ بیگم کا اس بات کو جاننا اور اپنی ماما خاتون سے اُس کو سنکھیا دلوانا۔ مقدمہ کا کوتوالی میں دائر ہونا اور آخرِکار ناظرؔ کی تدبیر سے دب دبا جانا مگر مبتلاؔ کا دیوالہ نکال کر۔

اتفاق سے ہریالیؔ پڑی بیما۔ شاموں شام سر دھویا، سردی کھائی، زکام ہوا، بخار آنےلگا۔ چند روز کچھ دھیان نہ کیا۔ بخار تھا کہ چمچپڑ ہو گیا، بلکہ ذرا ذرا کھانسی کی بھی دھسک شروع ہو گئی۔ معمولی طور پر حکیموں کے علاج کیے۔ منفج ہوئے، مسہل ہوئے، بخار ہے کہ جنبش نہیں کھایا۔ کھانسی کو اتنا آرام ہوا سمجھو کہ سوکھی سے تر ہو گئی۔ ایک دن بلغم میں کچھ سرخی جھلی دکھائی دی۔

فسانہ مبتلا ریختہ صفحہ 183

تو تردد ہوا، اور تردد کی بات ہی تھی۔ خیال کیا کہ پان کی سرخی ہو گی، مگر پھر ثابت ہوا کہ نہیں خون کی ہے۔ تب تو مبتلاؔ بہت گھبرایا۔ غیرتؔ بیگم کے ہاتھو سے تو اس کو ایسی ایسی ایذائیں پہنچی تھیں کہ اس کے نام سے اس کا دل بے زار تھا۔ اُس کو تھوڑی یا بہت جو کچھ دل بستگی تھی، ہریالیؔ کے ساتھ تھی۔ اب جو اُس کو خون تھوکتے دیکھا، قریب تھا کہ سودائی ہو جائے۔ شبہ تو تھا بہت دنوں سے کہ ایسا نہ ہو کہ کہیں غیرت بیگم نےکچھ کر کرا دیا ہو۔ کھانسی کے ساتھ خون کا آنا تھا کہ یقین کیسا حق الیقین ہو گیا کہ غیرتؔ بیگم نے پون بٹھائی۔ خدانخواسہ ایسا تو پرانا بخار بھی نہیں سِل ہونے کا اندیزہ ہو۔ ڈھونڈ ڈھونڈ کر سیانے اور بھگت بلائے آئے، سب نے اپنے اپنے جادو چلائے، مگر کم بخت پون کی کچھ اصل، جادو کی کچھ حقیقت ہو تو روگ میں کمی، مرض میں خفت ہو۔ خبط کے جادو، وہم کی پون، اس کو اتارے کون؟ ہریالیؔ کا حال بہت پتلا ہوتا چلا۔ آخر کسی نے صلاح دی کہ سب کچھ تو کر چکے ذرا ڈاکٹر چنبیلی کو بھی تو ایک نظر دکھاؤ۔ ڈاکٹر چنبیلی کا نام اصل میں مس بیلی تھا۔ ولایت سے نئی آئی ہوئی تھی کہ اس نے نواب اقتدار الدولہ بہادر کے محل میں ایک بڑے معرکے کا علاج کیا تب ہی شہر میں بڑی شہرت ہوئی۔ نواب صاحب کی محل سرا میں اس کو چنبیلی چنبیلی پکارتے تھے۔ وہاں کی سنی سنائی اور لوگ بھی چنبیلی کہنے لگے۔ دایہ گری کے فن میں نہایت تجربہ کار اور مشتاق تھی، اور خود مبتلاؔ کے گھر میں معصومؔ اور بتولؔ دونوں کے ہونے میں بلائی جا چکی تھی۔ ہریالیؔ اور ہریالیؔ کے بیمار دار کسی کے ذہن میں بھی یہ بات نہیں آئی تھی ہریالیؔ کی حالت ڈاکٹر چنبیلی کے علاج کی متقاضی ہے۔ ڈاکٹر چنبیلی کو جب بلاوا گیا تو غیرتؔ بیگم سمجھ کر معرفتِ سابقہ کے لحاظ سے بلا عذر بہت خوشی کے ساتھ فوراً چلی آئی، اُس کو یہاں آ کر معلوم ہوا کہ مبتلاؔ نے دوسری بی بی کی ہے۔ اس نے بیمار کو دیکھا تو سہی، مگر مبتلاؔ سے کہا کہ "مجھ سے اور غیرتؔ بیگم سے دوستی یا بہناپا تو نہیں، پر تم کو معلوم ہے کہ ان کے دو بچوں کے ہونے میں میں نے ان کی خبرگیری کی ہے تو تمہاری اس بی بی کا علاج کرنے کو میرا جی نہیں چاہتا۔ اس کو میں خلاف مروت سمجھتی ہوں، اور میرے علاج کی چنداں ضرورت بھی نہیں۔ جس حکیم کا علاج کرتے ہو اُن کو صرف اتنا اشارہ کر دینا کہ

فسانہ مبتلا ریختہ صفحہ 184

دو جانوں کی رعایت سے علاج کریں۔" اتنا کہہ کر ڈاکٹر غیرتؔ بیگم کی طرف گئی۔ معصومؔ اور بتولؔ دونوں کو گود میں لے کر پیار کیا۔ پھر غیرتؔ بیگم سے بولی کہ "اگر میں دوسرے گھر میں نہ بلائی گئی ہوتی تو تم سے پوچھتی کہ اس قدر دُبلی کیوں ہو؟ ہم لوگوں میں مرد دوسری بی بی نہیں کر سکتے۔ اور مرد اور عورت دونوں کے حقوق کو تولا جائے تو شاید عورت ہی کا پلہ جھکتا ہوا رہے گا۔ پھر بھی مرد اور عورت کا تعلق اس قسم کا ہے کہ بیاہ ہو جانے سے عورت مرد کے بس میں آ جاتی ہے۔ یہی سمجھ کر میں نے اپنا بیاہ نہیں کیا اور کرنے کا ارادہ بھی نہیں۔میں تمہاری حالت پف افسوس کرتی ہوں اور اس سے زیادہ افسوس اس مجبوری کا ہے کہ مدد کرنے کی جگہ نہیں لیکن اگر کبھی میرا کام آ پرے تو ضرور مجھ کو یاد کرنا۔" غیرتؔ بیگم نے اگرچہ دیہات میں پرورش پائی تھی، پر وہ اتنی بے تو بے تمیز نہیں تھی کہ چنبیلیؔ کے آنے کا، اُس کی محبت کا، مروت کا، ہمدردی کا شکریہ ادا نہ کرتی۔ مگر سوکن کے جھکڑ میں اس کو کسی چیز کی سُدھ نہ تھی۔ چنبیلیؔ اس سے بات کر رہی تھی اور یہ اس فکر میں تھی کہ کب چپ کرے اور میں سوکن کا حال پوچھوں۔ غرض غیرتؔ بیگم نے چھوٹتے ہی پوچھا "کہو کیا دیکھا؟" چنبیلیؔ بولی "حکیم کو دھوکا ہوا اس نے پہچانا نہیں کہ یہ عورت چار مہینے سے دوجی سے بیٹھی ہے۔میں نے تمہارے میاں کو جتا تو دیا ہے اب بھی اگر سمجھ بوجھ کر علاج ہو گا تو بچے کو تو میں نہیں کہہ سکتی کیوں کہ اُدھر تو ہوئے جلاب اور اِدھر بخار کی وجہ سے ملیں اوپر تلے ٹھنڈی ٹھنڈی دوائیں، بچے کو سردی نے پکڑ لیا۔ مگر احتیاط کی جائے تو میرے نزدیک بچے والی کو ابھی تک کچھ بڑی جوکھوں نہیں ہے۔" اس لیے کہتے ہیں کہ آدمی فربہ سود از راہِ گوش، ہریالیؔ نے جو سُنا تو اس کے دل کو اس قدر تقویت پہنچی کہ کیسی دوا، اور کس کا علاج، گھڑیوں اس کا مزاج خود بخود بحال ہوتا چلا گیا، یہاں تک کہ یا تو آپ سے کروٹ نہیں بدل سکتی تھی، یا ایک ہی ہفتے میں چلنےپھرنے لگی۔ یہ تو اُٹھ کھڑی ہوئی اور اس کی جگہ اب غیرت بیگم پڑی۔ غیرتؔ بیگم کا سارا غرور، سارا گھمنڈ، سارا نازِ بے جا، اولاد کے بِرتے پر تھا۔ اب جو اس نے دیکھا کہ سوکن نے اس میں بھی ساجھا لڑایا تو حقیقت میں اُس کی کم ٹوٹ گئی، اور سمجھی کہ

فسانہ مبتلا ریختہ صفحہ 185

بس اب ہریالیؔ کے مقابلہ میں نہیں پنپتی۔ اُس کو اس بات کی بڑی تسلی تھی کہ ہریالیؔ لاکھ میاں کی پیاری کیوں نہ ہو آخر ہے تو بے اولاد! نہ کوئی نام کا لینے والا، نہ پانی کا دینے والا، کھا لے، جتنا اس کی تقدیر میں ہے اور پہن لے، جس قدر اُس کے نصیب کا ہے ۔ پھر میں ہوں تو میں، اور نہیں تو اللہ رکھے اور پروان چڑھائے میری اولاد۔ اس خیال سےکبھی اس نے سوکن کو سوکن مانا ہی نہیں۔ اب البتہ اُس کو سوکن کی حقیقت کھلی اور آدھی اور ساری کا سوچ پیدا ہوا۔ چنبیلیؔ ایسا کوئی دو تین گھڑی دن چڑھتے چڑھتے آئی تھی، اس کے گئے پیچھے سے جو غیرتؔ بیگم گھٹنوں میں سر دے کر بیٹھی تو دوپہر ڈھلتے ڈھل گئی مگر اللہ کی بندی نے گردن اونچی نہ کی۔ دو تین بار کھانے کی اطلاع ہوئی مگر اس نے یہی کہہ دیا کہ "مجھے بھوک نہیں۔" اُس کے گھر میں ایک بہت پرانی نوکر تھی خاتونؔ وہ گھر کی داروغہ تو نہ تھی، مگر کبر سِنی اور قدیم الخدمتی اور ہسشیاری اور سلیقے کی وجہ سے گھر کے نوکروں میں سب سے سربراؤردہ تھی۔ غیرتؔ بیگم کو اُس سے مانوس ہونے کا ایک سبب خاص یہ بھی تھا کہ جس طرح مبتلاؔ نے غیرتؔ بیگم پر سوکن کی، اسی طرح خاتونؔ پر بھی اس کے میاں نے سوکن کی تھی۔ غیرتؔ بیگم کا تو ایسی باتوں میں جی لگتا تھا۔ خاتونؔ گھڑیوں اپنی سوکن کی باتیں کرتی اور غیرتؔ بیگم کرید کرید کر پوچھتی اور ایک ایک بات کو بار بار کہلواتی۔ پس خاتونؔ نوکر کی کی نوکر تھی۔ قصہ خوان کی قصہ خوان، اور بیوی کی ہمدرد۔ جب خاتونؔ نے دیکھا کہ جس گھڑی چنبیلیؔ آئی بیوی کچھ ایسی سوچ میں گئی ہیں کہ پان تک نہیں کھایا۔ کھانے کا وت بھی ٹل گیا تو اس نے قریب جا کر پوچھا کہ "بیوی آج جو تم اس قدر اداس اداس بیٹھی ہو اس کا سبب کیا ہے؟" غیرتؔ بیگم، "تم نے نہیں سُنا کہ بے غیرت کے یہاں بال بچہ ہونے والا ہے۔ ابھی اُس نے کیا اُٹھا رکھا ہے، بال بچہ ہوئے پیچھے تو مجھ کو اس گھر میں کھڑ پانی بھی نہیں پینے دے گی۔" خاتونؔ۔ "بال بچہ ہونے والا ہوتا تو حکیم کیا یسے اندھے ہیں! جلابوں پر جلاب کیوں دیتے؟" غیرتؔ بیگم۔ "حکیموں کو دھوکا ہوا۔ انہوں نے جانا ٹھنڈی ٹھنڈی دوائیں دی جا رہی ہیں، پیٹ میں بادی بھر گئی ہے۔ اب چنبیلی نے دیکھا تو بتایا۔ کیوں خاتون! بی میں تو سنتی تھی کنچنیوں کے اولاد نہیں ہوتی۔ کیا میری ہی

فسانہ مبتلا ریختہ صفحہ 186

تقدیر پر ایسے پتھر پڑے تھے کہ مجھ پر کنچنی بھی آئی تو آتے دیر نہ ہو اور ماں بن جائے۔" خاتونؔ۔ "نہیں بیوی کون کہتا ہے کہ کنچنیوں کے اولاد نہیں ہوتی۔ہوتی ہے اور نہیں بھی ہوتی۔ کیا تم بھول گئیں میری سوکن کون تھی اصل نسل کی کنچنی۔ جب میرا میاں اس کو لایا تو خدا ضانے نامرادیں مردوں کی آنکھوں میں کیا پُٹکی ڈال دیتی ہیں؟ وہ جانتا تھا کہ سترہ اٹھارہ برس کی لڑکی ہے۔ پیچھےمعلوم ہوا کہ چار کی ماں تو وہ اس وقت تھی۔ اور ہمارے یہاں تو بیوی پانچ برس وہ جی،میری اتنی روک ٹوک پر سات یا آٹھ دفعہ اس نے تیاری کی مگر واہ ری چُنیا، دائی ہو تو ایسی ہو کبھی چوتھا نہ لگنے دیا۔" غیرتؔ بیگم : "وہ چُنیا اب ہے۔" خاتون۔ "مدتیں ہوئیں مر کھپ گئی۔ ستر پچھتر برس کی تو وہ میری سوکن کے وقت میں تھی۔" غیرتؔ بیگم۔ "پھر خاتون کوئی ویسی ہی تدبیر یہاں نہٰں کرتیں!" خاتون۔ "بیوی تمہارے یہاں اُفتاد دوسرے طور کی ہے۔ ہم تو غریب آدمی اب بھی ہیں اور تب بھی تھے۔ میاں سات روپیئے مہینے پر ایک عطار کی دکان پر بیٹھتا تھا۔ سامنے تھا اس بیسوا کا کوٹھا۔ آدمی تھا وہ بھی طرح دار۔ یہ نامراد اس کے سر ہوئی۔ میں بارہ آنے مہینے کرائے پر دینا بیگ خاں کٹڑے میں رہتی تھی۔ ذرا سا مکان میرے اکیلے دم کا اس میں گزر ہوتا تھا۔ سوکن صاحب جو آئیں بس میری گود میں بیٹھیں۔ مردوا کم بخت اس طرح کا ظالم کہ گالی دے بیٹھنا اس کے آگے ایک بات اور بات بات میں مُکا اور لات۔ اگر وہ کبھی مجھ کو اور سوکن کو آپس میں لڑتے دیکھ پائے تو دونوں کے ڈنڈے لگائے۔ سو بیوی اپنی عزت اپنے ہاتھ۔ میں نے تو چوں نہیں کی۔ اور ظاہر میں سوکن سے ایسی گھلی ملی رہی جیسے سگی بہن، پر دل سے تو وہ میری جان کی دشمن تھی اور میں اس کی۔ ایک جگہ کے رہنے سہنے اور ظاہر کےمیل ملاپ سے ایک یہ فائدہ تو تھا کہ میں جو چاہتی تھی سو کر گزرتی تھی اور اس کو یا مردوے کو شبہ نہیں ہونے پاتا تھا۔ تمہارے یہاں بیوی اول دن سے بگاڑ پڑے ہوئے ہیں۔ ایسی جگہ کوئی تدبیر چلنی ذرا مشکل ہے۔ نہیں تو کیا بڑی بات تھی! چنیاؔ نہیں، چنیاؔ کہ بہنیں اور بہتیری، اور دائی کا بھی اس میں کیا کام؟ ایک سے ایک دوا مجھ کو ایسی معلوم ہے کہ چٹکی بجاتے میں کھڑا پھٹکا نہ کھائے۔" غیرتؔ بیگم۔ "اے ہے، اچھی

فسانہ مبتلا ریختہ صفحہ 187

میری خاتون! ایسی کوئی دوا ہو تو ضرور مجھ کو بتاؤ" خاتونؔ۔ "دوائیں تو بہت، پر کاڑھے ہیں پینے کے، کچھ لیپ لیں لگانے کے۔ آج کو یہاں دوا بنتی چھنتی ہوئی تو کچھ بھی مشکل نہ تھا۔ دوا تو بناتے ہیں اپنے ہاتھوں سے میاں، کوئی کرے تو کیا کرے؟" غیرتؔ بیگم۔ "پھر تم ہی کچھ تدبیر نکالو گی، تو نکلے گی۔ ورنہ میں تو اپنی جان پر کھیلے بیٹھی ہوں۔ اور یہی بات اس وقت میں سوچ بھی رہی تھی۔ خدا مجھ کو تو اُس دن کے واسطے نہ رکھے۔ ہائے کن آنکھوں سے دیکھوں گی کہ اس کے بچے کھیلے پھریں، اور کن کانوں سے سنوں گی کہ وہ اماں پکاری جائے؟ تم سے کچھ ہو سکتا ہو تو کرو۔ نہیں تو تم اکیلی کیا، دنیا دیکھ لے گی کہ جلا ہوا دل بہت برا ہوتا ہے اور کسی پر زور نہیں چلتا۔ اپنی جان تو اپنے بس کی ہے۔ جان جائے گی بلا سے۔ غیرتؔ میرا نام ہے، نام کے پیچھے جان دوں تو سہی۔" خاتون۔ "بیوی خدا کے واسطے تم ایسی ایسی باتیں میرے سامنے تو کرو مت۔ سُن سُن کرمیرے تو ہوش اُڑے جاتے ہیں۔ جان سی چیز کہاں پائیے۔ تم اپنے ننھے ننھےبچوں کا منہ کرو۔ خدا تمہاری سلامتی میں ان کو پروان چڑھائے۔ الٰہی تم کو ان کی بہاریں دیکھنی نصیب، اور قربان کی وہ نامراد سوکن، خدا چاہے گا، تو وہی نہ رہے گی۔ ہراساں ہو تمہاری بلا اور غم کرے تمہاری پاپوش۔ جب خدا نہ کرے تمہاری ہی جان پر آ بنے گی، تم ہم پندرہ بیس بندے جو تمہاری جوتیوں سے لگے ہیں کیا منہ دیکھنے کے واسطے ہیں؟ پہلے ہم سب تم پر سے تصدق ہو لیں گے، تب جو بات سو بات۔ پر بیوی جو بات تم چاہتی ہو جان جوکھوں کا کام ہے۔ پہلے اپنی جان سے ہاتھ دھو لے، تو اس کا بیڑا اٹھائے۔پھر اس کو چاہیے آدمی دل کا پکا، پیٹ کا گہرا، بھروسہ کا پورا، کہ خدا نخواستہ کل کلاں کو کچھ ایسی ویسی ہو تو اپنے اوپر جھیل لے جائے اور مالک کو بال بال بچائے۔ سو تمہارے گھر میں تو میں اس ڈھب کا کسی کو نہیں پاتی۔ چھوکریاں ہیں چھچھوری، کہ آدھی بات سُن پائیں تو ایک ایک کی چار چار دل سے بنائیں اور سارے محلے میں دھوم مچائیں۔ رہ گئیں مامائیں، نوکریں، تو ہر کسی سے کہتے جی لرزتا ہے اور مجھ اکیلی سے سارا سرانجام ہو نہیں سکتا۔ ایک میرا بھانجا ہے جو میرے میاں کی جگہ عطار کی دکان پر نوکر ہے، اگر وہ

فسانہ مبتلا ریختہ صفحہ 188

گنٹھ جائے تو بس سارے کام آسان۔ دیکھو میں اس سے ذکر کروں گی۔ پر بیوی تم اپنی جگہ بھی سمجھ لو! میری تو اگر جان بھی تمہارے کام آ جائے تو دریغ نہیں۔ میں نے تمہارا نمک کھایا ہے اور میں اب دنیا میں جی کر بھی کیا کروں گی؟ بہتیرا جی چکی۔ پر میرا بھانچا بال بچے دار آدمی ہے۔ عمر بھی کچھ اس کی ایسی بہت نہیں۔ او کو تو کچھ ایسا ہی بھاری لال دیا جائے گا تو شاید وہ اس کام میں ہاتھ ڈالے تو ڈالے۔" غیرتؔ بیگم۔ "مجھ کو تو اگر کوئی کھڑ کر کے بیچ لے تو بھی عذر نہیں، پر کسی طرح اس عذاب سے چھٹکارا ہو۔" خاتون۔ "بیوی دیکھو خبردار! میاں تمہارے آگے ہاتھ جوڑتی ہوں۔ کسی کو کانوں کان خبر نہ ہو، نہیں تو سارے گھر پر آفت آ جائے گی۔" غیرتؔ بیگم۔ "خیر! خیر مناؤ، تم نے کیا مجھ کو ایسا نادان سمجھ لیا ہے میں سمجھتی ہوں کہ بڑے اندیشے کی بات ہے۔مجھ کو اپنے دونوں بچوں کی جان کی قسم، کیا مجال کہ منہ تک بات آ جائے۔" خاتون۔ "بس تو بات کو اپنے ہی تک رہنے دو۔ جب سب ٹھیک ٹھاک ہو جائے گا تو میں تم کو خبر کر دوں گی۔ اور میں تم کو یہی صلاح دیتی ہوں کہ مل جاؤ، کیوں کہ ملاپ میں خوب کام نکلتا ہے۔ مگر ملو نہیں تو یہ ہر وقت کا جھگڑا بکھیڑا تو موقوف کر دو، ورنہ کرے گا کالا چور، اور پکڑے جائیں گے تمہارے دشمن، بُرا چاہنے والے۔" خاتون کے سمجھانے بجھانے پر غیرت بیگم نے باوجودے کہ ناوقت ہو گیا تھا، منگوا کر کھانا کھایا، اور وہ جو سارے سارے دن ہریالیؔ کا جھکڑ لگا رہتا تھا، وہ بھی بند ہوا۔ آدمی لاکھ چھپائے پر دل کی کپٹ بے ظاہر ہوئے نہیں رہتی۔ لوگ جو چوری یا دوسرے جرموں کے مرتکب ہوتے ہیں، اپنے پندار میں بڑی بڑی پیش بندیاں کرتے ہیں۔ اور آخر کو وہی پیش بندیاں ان کو سوا اور فضیحت کراتی ہیں۔ یا تو تمام تمام دن دونوں سوکنوں کی لڑائی کا ایک غل پڑا رہتا تھا، وہ بھی بند ہوا۔ آدمی لاکھ چھپائے پر دل کی کپٹ بے ظاہر ہوئے نہیں رہتی۔ لوگ جو چوری یا دوسرے جرموں کے مرتکب ہوتے ہیں، اپنے پندار میں بڑی بڑی پیش بندیاں کرتےہیں۔ اور آخر کو وہی پیش بندیاں ان کو سوا اور فضیحت کراتی ہیں۔ یا تو تمام تمام دن دونوں سوکنوں کی لڑائی کا ایک غل پڑا رہتا تھا، یا ایک دم سے ہوا سناٹا تو غیرتؔ بیگم اور خاتون کے سوئے سبھی کو حیرت تھی کہ دلوں میں ایسی کیا نیکی خدا نے ڈالی کہ آپ سے آپ لڑتے لڑتے رک گئیں، باوجودے کہ خاتونؔ نے سمجھا دیا تھا کہ جب سب ٹھیک ٹھاک ہو جائے گا تومیں تم کو خبر کر دوں گی، مگر غیرتؔ بیگم کو اتنا صبر کہاں تھا؟ اس نے تو اگلے ہی دن سے خاتون کی جان کھانے شروع کر دی۔" کیوں بی! اب کب ہو گا؟ کیا دیر

فسانہ مبتلا ریختہ صفحہ 189

ہے؟ کائے کا انتظار ہے؟ اے ہے کبھی ہو بھی چکے گا یا نہیں؟ بس اب خاک ہو گا، تم نہیں نہیں کرنا منظور تھا تو مجھ کو آس کیوں دی تھی؟ سخی سو سُم بھلا جو ترت (۱) دے جواب!" آخر جب تقاضا حد سے گزر گیا تو ایک دن خاتونؔ نےکہا لو بیوی خدا نے مجھ کو تم سے سُرخ رو کیا۔ اب کہیں اتنے دونوں میں جا کر بڑی مشکل سے معاملہ طے ہوا۔ میں تو سمجھتی تھی خدا جانے سرے سے حامی بھی بھرے یا نہ بھرے، اور بھرے تو دس ہزار مانگے، پندرہ ہزار مانگے! پر ماشاء اللہ قسمت تمہارے بڑی زبردست ہے۔ سستا چک گیا۔ ایک ہزار روپیہ پہلے، اور پھر چپ پچاتے خاطر خواہ کام ہوئے پیچھے، ایک ہزار اور جو خدا نہ کرے، کہیں کھل کھلا پڑے، تو دو ہزار!" غیرتؔ بیگم تو کہہ ہی چکی تھیں "اگر مجھ کو کوئی کھڑا کر کے بیچ ڈالے تو بھی عذر نہیں۔" سننے کے ساتھ لگی ہاتھوں سے سونے کے ٹھوس کڑوں کی جوڑی اتارنے، کہ اتنے میں خاتون بولی، "بیوی کڑے مت دو۔ میرا جی کڑھتا ہے۔ ننگے ہاتھ بُرے لگیں گے، اور لوگوں میں بھی پرچول پڑے گی۔ بلکہ جتنا گہنا تم پہنے رہتی ہو اس میں سے کچھ بھی مت دو۔" غرض جس جس طرح خاتونؔ کہتی گئی کچھ نقد و جنس ملا کر ہزار پورے کر اُس کے پلے باندھے۔ ہزار معجل (۲) اور ہزار موجل (۳) کے بدلے خاتون نے یہ کار نمایاں کیا کہ چوہوں کے بہانے سے تھوڑی سی سنکھیا بھانجے سے مانگ لائی، دونوں گھروں میں دودھ کا راتب بندھا ہوا تھا۔ گھوسن بڑے سویرے آتی اور سب سے پہلے یہیں کا راتب لاتی۔ خاتون اندھیرے منہ اُٹھ مردانے میں جا بیٹھی۔ جوں ہی گھوسن نے پاؤں اندر رکھا کہ خاتونؔ نے لڑنا شروع کیا کہ "ساری دنیا میں حلوائی ہوئے، گھوسی ہوئے، دودھ میں پانی ملاتے ہیں۔ یہ کہیں سے بے چاری انوکھی گھوسن نکلی کہ پانی میں دودھ ملا کر لاتی ہے۔ پرسوں کھیر پکی، کسی نے منہ پر نہیں رکھی، کل جوں چاہا کہ سویوں میں ڈالیں، نیلا نیلا نسوت پانی! ہر روز بیوی کو ہم لوگوں پر خفا کرواتی
----------------------------------------------------------------------------------------------------------
(۱) فوراً
(۲) نقد
(۳) اُدھار

فسانہ مبتلا ریختہ صفحہ 190

ہے۔لا تیری ہنڈیا بیوی کو لے جا کر دکھاؤں۔ تب تو انہیں یقین آئے گا۔" غرض زبردستی گھوسن کے ہاتھ سے ہنڈیا چھین ڈیوڑھی میں لے گُھسی اور سنکھیا کی پڑیا دودھ میں گھول ہنڈیا گھوسن کو پھیر دی کہ "بیوی کہتی ہیں میرے پاس حرام کا پیسہ نہیں ہے۔ جا دور ہو۔ اب میرے گھر دودھ نہ لانا۔" برسوں کی لگی ہوئی گھوسن اور روز کا راتب اس طرح ملونی کرتی تو اتنی مدت کیوں کر نبھتی! بے چاری رونکھی اور کھسیانی ہو کر خاتون کا منہ دیکھنے لگی اور چھوٹے گھر کی ماما کو آواز دے، بھری ہنڈیا اس کے حوالے کی کہ "بڑی بی نے تو آج کئی برس کے بعد جواب دیا، چھوٹی بی بی بھی اگر دوسری گھوسن لگا لیں تو میری ہر روز کی اتنی دور کی ریڑ بچے۔" ہریالیؔ نے دیکھا تو دودھ ہر روز جیسا گاڑھا اور چکنا۔ اس کے جی آ گی اکہ میاں کئی بار فیرینی کی فرمائش کر چکے ہیں، لاؤ، آج قلفیاں جما دیں۔ سارے کا سارا دودھ لے لیا۔ جب دودھ لے چکی تب اس کو خیال آیا کہ آج (۱) تو بڑی گھر کی باری ہے۔ ماما سے کہو "دیکھو تو کیا مجھ سے بھول ہئی! بڑے گھر کی باری کا خیال نہ رہا اور فیرینی کے لیے اتنا سارا دودھ لے بیٹھی۔ اب کیا کروں؟" ماما نے کہا "مضائقہ کیا ہے؟ جاڑے کے دن ہیں اس وقت کی جمی ہوئی باسی قلفیاں تو کل تک ٹھنڈی تھڈی اور بھی مزے کی ہوں گی۔" غرض فیرینی پکا، قلفیاں بھر، الماری میں رکھ، اوپر سے قفل لگا دیا۔ جن لوگوں کے بال بچے نہیں ہوتے، جی بہلانے کو اکثر جانور پال لیا کرتے ہیں۔ ہریالیؔ نے بھی طوطا اور مینا اور بلی اور کبوتر اور مرغیاں بہت سے جانور پال رکھے تھے، اچھا ایک پیالہ بھر کر فیرینی ان جانوروں کے لیے الگ نکال کر تھوڑی ماما کے لیے دیگچی میں لگی چھوڑ دی تھی۔ دو سیر دودھ مساکر (۲) پاؤ بھر چاول برابر کی کھانڈ، فیرینی کاہے کو تھی، اچھا خاصہ کھویا کہنا چاہیے۔ جس نے پائی خوب مزے سے کھائی۔ دو گھنٹے نہیں گزرنے پائے تھے کہ سب
---------------------------------------------------------------------------------------------------------------
(۱) یعنی میاں بڑے گھر میں رہیں گے۔
(۲) یعنی مشکل سے

فسانہ مبتلا ریختہ صفحہ 191

سے پہلے میاں مٹھو ٹیں ہوئے۔ پھر تو باری باری سے ادیر سویر کوئی جلدی کوئی دیر، مینا سُکڑی، بلی بولائی، کبوتر چکرائے، مرغیاں اُونگھنے لگیں۔ ماما مارے قے اور دوستوں کے بدحواس ہو گئی۔ ڈولی میں لاد اس کے گھر پہنچوایا۔ اس کا بیٹا تھانے میں نوکر تھا، سنتے کے ساتھ بھاگا ہوا آیا، ماں کو دیکھا تو آدمی کو نہیں پہچانتی تھی۔ نیم جان کو اُتھا کر ہسپتال لے گیا۔ ڈاکٹر نے پچکاری سے پیٹ صاف کیا۔ پانی جو پیٹ میں سے نکلا، تھوڑے سے میں کوئی دوا ڈال کر دیکھا تو سنکھیا تھی۔ آخر ڈاکٹر نے سوچ سوچ کر یہ کہا کہ "ہم یہ نہیں بتا سکتے کہ اس نے کتنی سنکھیا کھائی اور ٹھیک کس وقت کھائی؟ لیکن جس قدر اس کے پیٹ میں سے نکلی ہے اگر اتنی بھی ہضم ہو کر خون میں مل گئی ہو گی تو قاعدے کی رُو سے اس کو مرنا نہیں چاہیے۔ غرض سنکھیا کے توڑ کا جو تریاق انگریزوں کے یہاں ہوتا ہو گا، اوپر تلے دینا شروع کیا۔ اگلے دن صبح ہوتے ہوتے بیمار کی طبیعت کچھ سنبھلی۔ آخر لوٹ پیٹ کر کچھ اچھی تو ہوئی مگر کچھ ایسا روگ لگ گیا کہ جب تک زندہ رہی بارے دھڑکن کے بے چاری کو سار ساری رات بیٹھے گزر جاتی تھی۔ ادھر ہریالیؔ کے یہاں جس جس جانور نے ذرا سے فیرینی کھائی سبھی کی تو موت آئی۔ ہریالیؔ اپنے اس کنبے کے سوگ میں تھی، کہ کوئی چار گھڑی دن رہتے رہتے تو کوتوالی کے لوگ مردانے میں آ بھرے۔ پکڑ دھکڑ ہونے لگی۔ فیرینی کی قلفیاں اور مرے ہوئے جانوروں کی لاشیں تو کوتوالی والوں فوراً ہسپتال کو ڈاکٹر کے پاس چلتی کیں اور لگے اپنے دستور کے مطابق ایک ایک کو الگ الگ لے جا کر پوچھ گچھ کرنے۔ غرض چھے گھڑی رات کی توپ نہیں چلی تھی کہ کوتوالی والوں نے سارا مقدمہ مرتب کر لیا۔محلے والوں نے اظہار دیے کہ دونوں گھروں میں ہر وقت کو سم کاٹا رہا کرتی تھی۔ اب ہفتے عشرے سے امن ہے۔ گھوسن نے بیان دیا کہ "میں مدت سے دونوں گھروں میں دودھ کا راتب لاتی ہوں کبھی کسی نے دودھ کو برا نہیں بتایا۔ کل خاتون نےپہلےپہل مجھ سے کہا کہ تیری دودھ میں بلونی ہوتی ہے اور ہنڈیا میرے ہاتھ سےلے کر ڈیوڑھی میں گُھس گئی اور پھر اُلٹے پاؤں ہنڈیا لے کر باہر آئی کہ بیوی نہیں لیتیں۔

فسانہ مبتلا ریختہ صفحہ 192

میں نے وہی ہنڈیا جوں کی توں چھوٹے گھر میں بھیج دی۔" دونوں گھروں کی ماماؤں نے ایک زبان گواہی دی کہ گھوسن نے دودھ کبھی بڑا نہیں دیا۔ حکیم (۱) عطار نے تصدیق کی کہ "میری دکان پر خاتون کا بھانجا بیٹھتا ہے، اور جس وقت میں دکان پر نہیں ہوتا، وہی بیچتا کھوچتا ہے۔ اور میری دکان میں سنکھیا بھی رہتی ہے مگر میری سخت تاکید ہے کہ دیکھو سنکھیا، کُچلا، جمال گوٹا، سنجرف، ہڑتل، بچناگ، دھتورا اس قسم کی چیزیں انجان آدمی کے ہاتھ مت بیچنا۔ ان چیزوں کی فروخت کا حساب کتاب میں کیا، شہر میں کوئی عطار بھی نہیں رکھتا۔" خاتون کے بھانجے کو بلوایا۔ بہتیرا ڈھونڈا۔ اتفاق سے اس وقت نہیں ملا بلکہ کوتوالی والوں کو شبہ ہوا کہ کہیں خبر پا کر روپوش تو نہیں ہو گیا۔ بس اسی کے آنے کی کسر رہ گئی، ورنہ مقدمہ اسی وقت لکھا پڑھی ہو کر چالان ہو جاتا۔ گھر کے نوکروں میں خاتونؔ ذرا سب سے زیادہ معزز تھی اور ڈیوڑھی تک بھی بہت ہی کم آتی جاتی تھی۔ کوتوالی والوں کو ہوا تامل کہ اس کو دوسرے نوکروں کی طرح باہر بلوائیں یا آپ ڈیوڑھی کے پاس جا کر اُس سے پوچھ پاچھ کر لیں۔ اتنے میں تو سید ناظرؔ خبر پا کر آ موجود ہوئے۔ اگر ناظرؔ ذری دیر اور نہ آتے تو خاتون کی کیا اصل تھی، کوتوالی والے تو اس کے اچھے سے قبول کروا لیتے! بلکہ وہ تو اس فکر میں تھےاپنی طرف سے کسی عورت کو اندر بھیج کر خود بیگم صاحب کی مزاج پرسی کریں۔ ناظرؔ کا آنا تھا کہ اس مقدمے کا رنگ بدل گیا۔ کوتوال نے مناسب سمجھا کہ رات گئی ہے زیادہ اس وقت تحقیقات کو ملتوی کیا جائے۔ فیرینی کی قلفیاں اور مرے ہوئے جانوروں کی لاشیں یہی دو بڑے ثبوت تھے، سو دونوں ہمارے ہاتھ میں ہیں۔ اب ناظرؔ نہیں ناظرؔ کے باپ بھی قبر اُٹھ کر آئیں تو کیا کر لیں گے؟ ماما کے پیٹ میں سے سنکھیا نکل چکی ہے۔ اور اس میں شک نہیں کہ یہ اتنے سارے جانور سب سنکھیا سے مرے۔ اور فیرینی میں سنکھیا موجود
---------------------------------------------------------------------------------------------------------------
(۱) حکیم نام ہے۔

فسانہ مبتلا ریختہ صفحہ 193

اب رہ گئی یہ بات کہ سنکھیا دی تو کس نے دی؟ سو نہ دونوں سوکنوں سے انکار ہو سکتا ہے اور نہ دونوں کی عداوت سے۔ زہر خورانی کا مقدمہ اس سے زیادہ اور کیا ہو گا؟ صاحب مجسٹریٹ کوتوالی کے چالان کیے ہوئے مجرم اکثر چھوڑ دیا کرتے ہیں اور ان کو کوتوالی کے ساتھ خدا واسطے ایک ضد سے آ پڑی ہے لیکن اگر اس مقدمہ کو بگاڑا تو علم کی قسم صاحب سپرنڈنٹ کو سمجھا کر صدر کو ایسی رپورٹ کراؤں کہ جواب دیتے بن نہ پڑے۔ اور میاں ناظرؔ کو بھی وکالت کا بڑا گھمنڈ ہے۔ بڑی مدت میں اونٹ پہاڑ کے تلے آیا ہے۔ دیکھیں تو اب ہائی کورٹ کی کون سی نظیر پیش کر کے بہن کو بچاتے ہیں؟ غرض کوتوال خاتونؔ کو ناظرؔ کے سپرد کر، حوالہ نامہ لکھوا، گھوسن کو ساتھ لے چلتا ہوا اور سیدھا پہنچا صاحب سوپرنڈنٹ کے پاس، اور ان کے مقدمے کی روداد سمجھا کر کہا کہ "مقدمہ ہے سنگین اور مجرم عورتیں پردہ نشین، سید ناظرؔ وکیل کا نام حضور نے سُنا ہو گا، اصل میں اُن کی بہن نے سوکن کو زہر دلوایا مگر وہ اتفاق سے بچ گئی۔ کل حضور بھی موقع واردات تک چلیں، ورنہ وکیل صاحب بڑے شورہ پشت اور ثقہ بدمعاش ہیں۔ ہم لوگوں کے قابو آنے والی اسامی نہیں۔" ادھر ناظرؔ بہن کے پاس گیا تو دیکھا مارے حول کے دست پر دست چلے آ رہے ہیں۔ دیکھتے کے ساتھ ہوش ہی تو خطا ہو گئے اور سمجھا سب سے بڑا ثبوت تو خود ان کی حالت ہے۔ آخر بہن سے اتنا کہا کہ "بڑے بھائی نے تم کو اس قدر ڈرا دھمکا دیا تھا مگر تم نے نہ مانا اور دل کی بودی طبیعت کی کچی، ہمت کی ہیٹی تھیں تو ایسے کام پر تم کو جراءت کیونکر ہوئی بس اب تین پہر رات اور ہے صبح ہوئی اور تمہاری ڈولی کوتوالی چلی۔" بھائی کے منہ سے اتنی بات سن غیرتؔ بیگم کو اور توکچھ نہ سوجھا بہت دن ہوئے تولہ بھر افیون منگوا کر صندوقچے میں رکھ چھوڑی تھی۔ دوڑی دوڑی کوٹھڑی میں جا، صدوقچہ کھول، افیون کا گولا نگل، اوپر سے بھرا کٹورا پانی کا پی لی۔ بتولؔ کی انا کو یہ حال معلوم تھا کہ انہوں نے صندوقچے میں افیون رکھ چھوڑی ہے، دالان کے ایک کونے میں بیٹھی بھائی بہن کی باتیں سن رہی تھی۔ بیوی کو جو اس طرح گھبرا کر

فسانہ مبتلا ریختہ صفحہ 194

اندھیری کوٹھڑی میں جاتے ہوئے دیکھا، جلدی سے بتول کو چارپائی پر لٹا، پیٹتی ہوئی بھاگی کہ "اے ہے خاک پڑے اس جھگڑے پر۔ لو اب تو دشمنوں کی ٹھنڈک پڑی! وہ بیوی نے افیون کھا لی!!" اتنے میں تو غیرتؔ بیگم بھی کوٹھڑی سے یہ کہتی ہوئی نکلی کہ "بھائی تم کچھ تردد مت کرو۔میں بُری تھی، بُری سے خدا نے تم سب کا پیچھا چھڑایا۔ صبح تک میں ہی نہیں رہوں گی۔ کوتوال کو اختیار ہے۔ میرا مردہ لے جا کر کوتوالی میں دفن کرے۔" زہر خورانی کا ایک مقدمہ تو قائم تھا ہی، اقدام خودکشی کا دوسرا اور ہوا۔ معصومؔ اور بتولؔ دونوں بے خبر پڑے سوتے تھے۔ غیرتؔ بیگم نے سوتوں کو لے کر پیار کیا اور دونوں کو گلے لگا کر ایسی بلک بلک کر روئی کہ گھر میں قیامت برپا ہو گئی۔ ناظرؔ نے جو بہن کا بلبلانا دیکھا اور ساتھ ہی خیال آیا کہ بس یہ بھی دنیا میں تھوڑی دیر کی مہمان اور ہے، پھر کہاں ہم اور کہاں بہن، اس کے سر پر ایسا جنون سوار ہوا کہ نہ پکارا، نہ کنڈی کھڑ کھڑائی، نہ دستک دی، نہ اجازت لی، منہ اٹھا سیدھا چھوٹے گھر میں جا گھسا۔ دونوں میاں بیوی سر جوڑے بیٹھے ہوئے خدا جانے کیا صلاحیں کر رہے تھے۔ مبتلاؔ نے آہٹ پا کر دور سے ڈانتا! "ایں ایں کیا بدتمیزی ہے! اندھے ہو! تم کو معلوم نہیں کہ پردہ ہے؟ اس مرتبہ بہن کو مداخلت بے جا کی نالش پر آمادہ کرتے تھے، اب یہ مداخت بے جا نہیں ہے۔" ناظرؔ " اللہ رے تیرا پردہ، نو سو چوہے کھا کے بلی حج کو چلی۔ یہی نالائق پردے والی بنی تو پردے والی نے افیون کھائی اور دنیا جہان سے روپوش ہونے کی تیاری کی۔" مبتلاؔ "الحمد للہ، خس کم جہاں پاک۔ مگر تم خیریت سے چلتے پھرتے تو نظر آؤ۔ سامنے سے پرے ہٹتے ہو یا میں اٹھ کر تم کو رستہ دکھاؤں۔" مبتلاؔ کا اتنا کہنا تھا کہ ناظرؔ یا تو صحن میں تھا یا مبتلاؔ کی چھاتی پر۔ پھر دونوں میں خوب کشتی ہوئی۔ ناظر دیہات میں پیدا ہوا، دیہات میں پلا، ہاتھ پاؤں کا ڈھلا، گتھیلا، برسوں اکھاڑے کا لڑا ہوا، بیشیوں داؤ یاد، پچاسوں گھاتیں معلوم، سینکڑوں پیچ رواں اور اب تک بھی دو (۲ ) وقت ڈنڈ مگدر کبھی اُس نے ناغہ ہونے نہیں دیئے۔ مبتلاؔ بے چارے

فسانہ مبتلا ریختہ صفحہ 195

نازنین، میر پھویا، مرزا مہین! ناظرؔ نے وہ پٹخنیاں دین اور ایسا ایسا رگڑا کہ آنکھیں نکل نکل پڑیں اور سانس اوپر کا اوپر اور نیچے کا نیچے۔ مبتلاؔ کےپاس پھکیتی بچیتی ک: جمع تین حربے چٹکیاں لینا، نوچنا، کاٹنا، سو ناظرؔ کی پُھرتی کے مقابلے میں ایک بھی کارگر نہ ہوا۔ مبتلاؔ کو اگر معلوم ہو کہ یہ کم بخت چھوٹا کھوٹا چُھپا رستم ایسے غضب کا بجھا ہوا ہے، تو کبھی بھول کر بھی اس سے دو بدو نہ ہو۔ مگر اس کی تقدیر میں تو دہ بیبیاں کر کے ہر طرح کی مصیبت اٹھانی تھی۔ چھوٹا سمجھ کر اس کو ایک ڈانٹ بتائی، بیٹھے بٹھائے اور اپنی شامت لوائی! ہریالیؔ نے جب دیکھا کہ میاں کو ناظرؔ گیند کی طرح اچھالے پڑا پھرتا ہے، یہاں سے اٹھایا اور وہاں دے مارا اور اُدھر سے اچھالا اِدھر لا پٹکا، ایسی دہشت دل میں سمائی کہ اس کا حمل، جس کے سبب سے اتنا سارا فساد ہوا ساقط ہو گیا۔ ناظرؔ کیا مبتلاؔ کو جیتا چھوڑتا! وہ تو خدا کا کرنا عین وقت پر سیدؔ حاضر آ پہنچے۔ دیکھا تو گھر میں مجموعۂ تعزیرات ہند پھیلا پڑا ہے۔ مگر کیا قائم مزاج آدمی تھا! آتے کے ساتھ سب سے پہلے تو ناظرؔ اور مبتلاؔ کو چھڑایا۔ پھر نمک ڈال، بھر بھر لوٹے گرم پانی غیرتؔ بیگم کو پلانا شروع کیا۔ غیرتؔ بیگم اس طرح ضدی عورت تھی کہ اگر ساری دنیا ایک طرف ہوتی تو گرم پانی کا کٹورا منہ کو نہ لگانے دیتی۔ مگر کچھ تو بڑے بھائی کا لحاظ، اور ادھر چپکے سے کسی نے کان میں جھک کر کہہ دیا کہ ‘مبارک ہو ہریالیؔ کا حمل تو گر گیا۔‘ بے عذر خوب ڈگڈگا کر پانی پی لیا۔ پانی کا حلق سے اترنا تھا کہ استفرغ ہوا اور استفراغ کے ساتھ کھٹ سے افیون کا گولہ سموچے کا سموچا نکل کر الگ جا پڑا۔ ادھر ہریالیؔ کی خدمت کے لیے دوہری دوہری دانیاں بلوائیں اور پھر مبتلاؔ اور ناظرؔ دونوں کو ساتھ لے جا کر بیٹھا کہ ہر چند تو دونوں کی طبیعتیں اس وقت حاضرنہیں، اور سچ تو یہ ہے کہ مزاج میرا بھی ٹھکانے نہیں،مگر میں دیکھتا ہوں تو آدھی رات ڈھل چکی ہے۔ صرف سوا پہر کی مہلت ہے۔ سامان تو بدقسمتی سے ایسا جمع ہوا ہے کہ اب آبرو بچتی ہوئی نظر نہیں آتی اور جب آبرو پر بنی تو سب سے پہلے شخص جو جان دینے میں دریغ نہ کرے
 
Top