فالٹ لائینز کو پہچانیے

فالٹ لائینز کو پہچانیے

مشہور امریکی مصنف تھارنٹن وائیلڈر اپنے مشہور ترین ناول "دی برج آف سان لوئی رے" ( جس نے اسے بیسویں صدی کے اعلیٰ ترین مصنفین کی صف میں لا کھڑا کیا) کا آغاز " شاید ایک حادثہ" کے نام سے کرتے ہوئے رقمطراز ہے۔


’’جمعہ کی سہ پہر، بیس جولائی 1714ء کو پیرو کا خوبصورت ترین پل ٹوٹ گیا، اس وقت کل پانچ مسافرجو اس پل پر موجود تھے جو پل ٹوٹنے کی وجہ سے دریا کی اتھاہ گہرائیوں میں ڈوب کر مر گئے۔ یه پل لیما اور کزکو کے درمیان ایک پہاڑی سڑک پر واقع تھا اور روزآنہ کم و بیش سینکڑوں افراد اس پُل پر سے گزر تے تھے۔ قدیم انکا قوم نے اس پل کو ایک صدی پہلے مضبوط ریشوں سے بُنے رسّوں سے بنایا تھا۔ شہر کی سیر کو آئے سیاح روز اس عجوبہٗ روزگار پُل کو دیکھنے آتے۔‘‘


اس کہانی میں ایک پادری نے جب بذاتِ خود اس واقعے کو دیکھا اور بال بال اس حادثے سے بچنے پر اس واقعے کو ایک نشانی سمجھا اور اس کے پیچھے حقائق کی تلاش میں نکل کھڑا ہوا۔ ادھر ہمارا حال یہ ہے کہ ہمارے ارد گرد بھی نشانیاں بکھری ہوئی ہیں لیکن ہم اندھوں، گونگوں، بہروں کی مانند ان سے صرفِ نظر کیے چلتے ہی چلے جارہے ہیں۔


کل رات گڈو بجلی گھر میں ایک خرابی ہوئی جو آناً فاناً پورے ملک میں پھیل گئی۔ اس خرابی نے پورے ملک کی لائینوں کا بھٹا بٹھا دیا۔ ذرا کی ذرا میں فریکوئنسی پچاس سے صفر پر آگئی نتیجاً لائینیں ٹرپ کرگئیں اور ملک اندھیروں میں ڈوب گیا۔


ہم بھی ایک انجینئر ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ ہمارا واسطہ ہسپتال کی مشینوں سے پڑتا ہے۔ ہم بحیثیت انجینئر جب مشین کی درستی کے لیے جائے وقوعہ پر پہنچتے ہیں، متعلقہ افسر ہم سے اس فردِ واحد کی نشاندھی کا تقاضا کرتا ہے جس کہ وجہ سے یه حادثہ رونما ہوا جبکہ ہمارا پروفیشنلزم ہم سے تقاضا کرتا ہے کہ خرابی کی نشاندھی کریں اور اسے دور کرکے تکنیکی نظام کو انہی لائنوں پر چلا سکیں جن پر چلنے کے طفیل نظام ڈلیور کرسکے۔


رات جونہی اندھیرا چھایا، ہم نے حسبِ معمول آواز دیکر بیٹی سے پوچھا، "کیا بجلی چلی گئی؟"

جواب آیا، " ہاں پاپا! بجلی چلی گئی۔"


معاً

اس زلف پہ بھپتی شبِ دیجور کی سوجھی​

کے مصداق ایک خیال کا جھماکا ہماری ذہن میں ہوا۔ اٹھ کر قلم اُٹھا لیا کہ اس نشانی کو کھوجا جائے اور روشنی میں لایا جائے تاکہ ہم اور ہمارے ہم وطن اس سے سبق حاصل کرسکیں۔


علشبہ نامی کسی خاتون نے ٹویٹ کیا

The Fault in our TAARS​

خرابی ہمارے تاروں یعنی ہماری لائینوں میں ہے۔


آج تک ہم The Fault in our Stars یعنی اپنے حال کو اپنے ستاروں کی چال یا مقدر کی خرابی سے تعبیر کرتے رہے۔ آج نئی نسل نے یه راز فاش کردیا۔ وہ کہتی ہے، جی نہیں انکل، خرابی ہمارے ستاروں میں نہیں بلکہ ہماری لائینوں میں ہے۔



سرا مل گیا، ہم نے سوچا۔ فالٹ لائینز کا پتہ چلتے ہی ان سے بچنے کا طریقہ ایجاد کیا جاسکتا ہے۔ فالٹ لائینز کو کھوجا جائے۔


بعض خرابیاں ایسی ہوتی ہیں جن کی نشانیاں بھٹکادینے والی بھی ہوسکتی ہیں۔ ان نشانیوں کے پیچھے چلیں تو انجینئر صاحبان خرابی کو نہیں پکڑ سکتے۔ کل رات کے اس واقعے ہی کو لیجیے۔ خرابی کے نتیجے میں فریکوئنسی ہی پچاس سے صفر پر آگئی۔ اہلِ دانش جانتے ہیں کہ فریکوئنسی کا معکوس تعلق ویو لینگتھ سے ہوتا ہے۔ جب تک فریکوئنسی مستقل تھی، ویو لینگتھ بھی مستقل تھی اور ہم سب اہلِ وطن ایک دوسرے کی بات کو سمجھ سکتے تھے۔ فریکوئنسی بدلی تو ویو لینگتھ بھی تبدیل ہوگئی۔ اب ہم ایک دوسرے کی بات کو سمجھنے سے قاصر ہو گئے۔


بک رہا ہوں جنوں میں کیا کیا کچھ
کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی​

سب سے پہلے تو فریکوئینسی کے مستقل ہونے کا انتظار کیا جائے تاکہ ہم سب اہلِ وطن ایک ویو لینگتھ پر ایک دوسرے سے بات کرسکیں۔ اس کے لیے یه ضروری نہیں کہ سب ہم خیال ہوجائیں بلکہ ایک دوسرے کے نکتہٗ نظر کو اپنے نکتہٗ نظر سے مختلف تو ضرور لیکن غلط تصور نہ کریں۔


آج سے بہتر (۷۲) سال پہلے ہم نے قائد کی سربراہی میں درست سَمت میں قدم بڑھائے تھے۔ راستے میں یه کیا ہوا کہ نظام میں خرابی پیدا ہوگئی اور اس خرابی کے ساتھ ترقیٗ معکوس ہمارا وطیرہ ہوگیا۔ اس خرابی کو جاننے کے لیے سب سے پہلے ہمیں ان فالٹ لائینز کو پہچاننا ہوگا جو زیر زمین موجود ہیں اور ہمارے وجود کو خطرے سے دوچار کیے ہوئے ہیں۔ اس سب کو جاننے کے لیے ملک کی بہتر سالہ تاریخ کا بغور مطالعہ مفید ثابت ہوسکتا ہے۔ ہمیں تاریخ سے سبق حاصل کرنا چاہیے۔


نظر کمزور ہوتے ہی ہمارا سہارا ہماری عینک بن گئی جو مطالعے کے وقت ہمیں درست دیکھنے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔ہم جب بھی بصیرت کی یه عینک لگاکر تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہر صفحہ ہمیں کچھ سبق دیتا نظر آتا ہے۔ ہم نے میکیاولی کی پرنس نکالی اور مطالعہ شروع کیا۔ اس کتاب کے صفحات و رشحات نے جو کچھ ہم پر منکشف کیا اسے ہم نے اردو محفل پر محفوظ کرلیا تھا تاکہ سند رہے اور وقتِ ضرورت کام آوے۔


پرنس۔ نکولو میکیاولی۔(ترمیم و اضافے کے ساتھ) | اردو محفل فورم (urduweb.org)


دوسری کتاب ہم نے جارج آویل کا ناول Animal farm نکالی اور پڑھتے پڑھتے


گاندھی گارڈن ایک طنزیہ:از: محمد خلیل الرحمٰن | اردو محفل فورم (urduweb.org)


وجود میں آگیا۔ ہمارا مطالعہ جاری ہے۔ آج نئی نسل کی ایک بٹیا نے گُر کی بات بتادی۔ ٖFault is in our TAARS خرابی ہماری لائینوں میں ہے۔ فالٹ لائینز کو پہچان کر اپنی لائینیں پچھائیں گے تو خرابی دور ہوسکتی ہے۔ اب اصل کام ان فالٹ لائینز کو پہچاننا رہ گیا ہے۔ جوں ہی ہم ان کی نشاندھی کرپائیں گے ، ان سے بچ کر اپنی لائینیں پچھائیں گے، ہم نہ صرف ان خرابیوں کو دور کرپائیں گے جو گزشتہ بہتر سال سے ہمارے نظام کو گھن کی طرح کھارہی ہیں، بلکہ نظام بھی آئیندہ کسی خرابی سے بچ سکے گا۔ فالٹ لائینز کو پہچانیے۔
 
آخری تدوین:
پرنس( ترمیم و اضافہ شدہ)
رات ہم سوئے تو ایک عجیب ماجرا دیکھا۔ نکولو میکیا ولی ہمارے برابر بیٹھے ہوئے تھے اور اکیسویں صدی کی مملکتِ خداداد کے لحاظ سے اپنی تصنیف ‘‘پرنس’’ میں کتر بیونت اور ترمیم و اضافے میں مصروف تھے۔ ہم نے ان کی اس ساری کارروائی کو بغور دیکھ کر محفلین کے لیے محفوظ کرلیا۔ پڑھئیے اور محظوظ ہوئیے۔
باب پہلا
حکومت کی اقسام اور وہ طریقے جن سے حکومتیں ہتھیا لی جاسکتی ہیں
چاہے تاریخ پر نظر دوڑائیے ، اور چاہے آج کی دنیا پر، جب کبھی آپ انسان پر انسان کو حکومت کرتے ہوئے دیکھیں گے تو یہ حکومت لازمی طور پر جمہوری حکومت ہوگی۔ جمہوری حکومتیں موروثی ہوتی ہیں جو باپ دادا سے ورثے میں چلی آتی ہیں۔ جیسے خاندانِ سپاہ کی جمہوریت ، جو ایوب خان سے یحییٰ خان کو ملی اور اسی استحقاق کی رو سے پیر و مرشد حضرت ضیاء الحق مدظلہ العالی اور خان بہادر سر پرویز مشرف کو ودیعت کی گئی۔ موروثی جمہوریت کی ایک اور روشن مثال بھٹو خاندان کی مشہور و مقبول حکومت ہے جو ذوالفقار علی بھٹو سے بے نظیر بھٹو، ان سے پھر آصف علی زرداری اور انجامِ کار بلاول بھٹو زرداری کو منتقل ہوئی۔ یا پھر جمہوری حکومتیں نئی ہوتی ہیں۔ پھر نئی جمہوریت کی بھی دو قسمیں ہیں۔ ایک وہ جو نئے سرے سے قائم ہو جیسے میاں صاحب کے مشورے سے بھولے کا اسلامی نظام کے تحت پرورش پانا اور اپنی جمہوریت کی داغ بیل رکھنا۔ دوسری صورت یہ ہے کہ کوئی جمہوریت مغلوب ہوکر کسی پرانی جمہوریت کا جزو بن جائے۔۔۔۔​

باب تیسرا
خاندانی جمہوریتیں
سوال یہ ہے کہ میں نے ابھی جمہوری حکومتوں کی جو تقسیم کی ہے ، اس کے مطابق عوام پر کیونکر حکومت کی جائے۔ اور کو کیسے برقرار رکھا جائے۔ میرا دعویٰ ہے کہ نئی جمہوریتوں کی بہ نسبت موروثی جمہوریتوں کو چلا نسبتاً زیادہ آسان ہوتا ہے۔وجہ یہ ہے کہ لوگ ایک خاص خاندان کی جمہوریت کے عادی ہوجاتے ہیں۔ موروثی جمہوریت کے وزیرِ اعظم کے لیے بس اتنا ضروری ہے کہ وہ اپنے آباء و اجداد کے نقشِ قدم پر چلے۔ البتہ جب کوئی نئے واقعات پیش آئیں تو ان کا لحاظ کرے۔ جمہوری وزیرِ اعظم لائق ہوگا تو ضرور اپنا تخت سنبھال سکے گا۔ یہ اور بات ہے کہ کوئی دوسرا غیر معمولی قابلیت کا انسان آئی ایس آئی یا آزاد پریس کے ذریعے سے اس کے سر پر ہل چلا کر اس کے تخت پر قابض ہوجائے۔ لیکن اس صورت میں بھی جب کبھی غاصب کے سی ون تھرٹی پر وقت پڑے گا تو اسے پھر سے اپنی کھوئی ہوئی جمہوری طاقت حاصل کرنے کا موقع مل جائے گا۔
باب چوتھا
قائد کی مملکت جسے خاندانِ سپاہ نے فتح کیا ، وہاں خاندانِ سپاہ کے خلاف علمِ بغاوت کیوں نہ بلند کیا گیا؟
اگر ان مشکلات کا خیال کیا جائے جو نئے فتح کیے ہوئے علاقوں کو قابو میں رکھنے میں پیش آتی ہیں۔ تو اس بات پر اچنبھا سا ہوتا ہے کہ جنرل محمد ایوب خان نے جس قائد کی حکومت کو جمہوری انداز میں فتح کیا اور عرصہ دس سال تک ایک مقبول جمہوری اور آئینی راہنماء کی حیثیت سے اس مملکت پر قابض رہا، اسکی جمہوریہ میں کہیں بھی غیر جمہوری عناصر نے شورش برپا نہیں کی۔
ان مصیبتوں کو تو جانے دیجیے جو خود انکی سادہ طبیعت اور جاہ و حشمت سے ان کی دوری کا نتیجہ تھیں ، ورنہ انھیں نہ تو کسی قسم کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور نہ ہی ان کا کسی سے تصادم ہوا۔ بات یہ ہے کہ وہ عوامی جمہوریتیں جن کا تھوڑا بہت حال جو آزاد میڈیا اور ٹی وی چلنلز سےہمیں معلوم ہوا ہے، ان کے حکومت کرنے کے دو علیحدہ علیحدہ طریقے تھے۔ایک یہ کہ جمہوری صدر اپنے ذاتی ملازمین کی مدد سے حکومت کرتا تھا۔ ملازمین میں سے وہ جسے چاہتا، وزیر بناتا اور ریاست کے نظم و نسق میں ان سے مدد لیتا۔ دوسرا طریقہ یہ تھا کہ حکومت جمہوری صدر اور عوامی جاگیرداروں کی ہوتی تھی۔ ان عوامی جاگیرداروں کی اپنی عمل داری بھی ہوتی تھی اور اپنی رعایا بھی، جہاں پر وہ انتہائی جمہوری انداز میں عوامی حکومت کرتے تھے۔ اور رعایا ان کے حکم پر چلتی اور ان کی دل سے عزت کرتی تھی۔ خاندانِ سپاہ نے ان دونوں ہی طریقوں کو اپنایا اور عرصہ تیس سال تک (وقفے وقفے سے) کامیابی کے ساتھ غیر جمہوری بورژوا طبقے کے سینے پر مونگ دلی۔
باب پانچواں
جمہوریت ایسے شہروں اور مملکتوں پر جو فتح ہونے سے پہلے ۵۶ء ؁ کے آئین کے ماتحت رہے ہوں​

نئی فتح کی ہوئی مملکت اگر آزادی کی خوگر ہو اور قائد کی عطا کی ہوئی آزادی اور عرصہ نو سال تک ایک خود ساختہ قانون کے ماتحت رہ چکی ہوں، تو انھیں قابو میں رکھنے کی تین صورتیں ہیں۔ ایک یہ کہ انھیں بالکل تباہ و برباد کردیا جائے۔، دوسری یہ کہ خاندانِ سپاہ کا مایہء ناز سپوت جمہوری صدر کی حیثیت اختیار کرلے اور تیسری یہ کہ اگر تھوڑے سے روپیوں سے فاتح کی تسلی ہوجائے تو وہ یہ کرسکتا ہے کہ وہاں پرانے قوانین نہ رہنے دے بلکہ ایک نیاانقلابی آئین تشکیل دے۔ اور اپنی محکوم رعایا پر جمہوری انداز میں حکومت کرنے کے لیے بنیادی جمہوریت کے تحت ایک مجلس بنادے جس میں ایسے افراد شامل کیے جائیں جو نہ صرف فاتح کے مفادات کا خیال رکھیں بلکہ رعایا کو بھی راضی برضا اور تابعدار رکھیں۔ یہ فاتح کی قائم کردہ جمہوریہ ہوگی اور اس کے اراکین یہ بات اچھی طرح جانتے ہوں گے کہ خود انکی حیثیت فاتح کی رہینِ منت ہے اور فاتح کی عنایت اور دلچسپی کے بغیر نہ خود ان کی بقا ممکن ہے اور نہ ہی جمہوریت کی۔ اس سبب سے وہ وہ فاتح کی عملداری برقرار رکھنے کے لیے ہر طرح کی کوشش کریں گے۔ فیلڈ مارشل صدر ایوب خان نے ان تینوں صورتوں سے بدرجہ اتم فائدہ اٹھایا اور اپنی قوم کو دس سال کا سنہری دور دیا۔
باب چھٹا
اس بادشاہت کے بارے میں ، جو اپنے حسنِ تعلقات اور زورِ بازو سے حاصل کی گئی ہو​

یہ کوئی تعجب کی بات نہیں کہ نئی جمہوری حکومتوں کے حصول کے بیان میں، خواہ وہ وزارتِ عظمیٰ ہو یا وزارتِ اعلیٰ، میں بڑی بڑی اور عظیم الشان مثالیں پیش کرتا ہوں۔ اصل بات یہ ہے کہ انسان اکثر انھی راستوں پر گامزن ہوتا ہے جنھیں دوسرے طالع آزما پہلے سے اختیار کرچکے ہوتے ہیں۔ اور جب وہ کوئی بڑا کام کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو اس کے پیشِ نظر کوئی نہ کوئی نمونہ ہوتا ہے۔ چنانچہ ایسی جمہوریتوں کو قابو میں رکھنا جو حال میں کسی نئے بادشاہ نے حاصل کی ہوتی ہیں، اس بادشاہ کی دانش مندی کے اعتبار سے کم یا زیادہ دقت طلب ہوگا۔ معمولی حیثیت کے سرمایہ دار کے بھولے بیٹے کی حیثیت سے آگے بڑھ کر بادشاہ کے عہدے پر فائز ہونے کے لیے امیر المومنین سے غیر معمولی تعلقات یا شومئی قسمت یا دونوں ہوں تو سونے پر سہاگہ ہے۔ اب مفتوحہ علاقوں کو قابو میں رکھنا نہایت آسان ہوجاتا ہے۔ مگر یاد رہے کہ کامیاب رہنما وہی ہے جس نے اپنی قسمت پر بہت زیادہ اعتماد نہیں کیا اور اپنی قوم کو بہت جلد یہ احساس دلادیا کہ وہ انہی میں سے ہے۔ یہاں پر میں ان قوم پرست رہنماؤں کی بات نہیں کررہا جو برملا اور علیٰ الاعلان اس بات کا ڈھنڈورا پیٹتے ہیں کہ وہ قوم پرست رہنما ہیں، یہاں تو کچھ بھی نہ کہا اور کہہ بھی گئے کا سا معاملہ ہے۔
رہنما کی دقتوں میں ایسے واقعات سے کمی واقع ہوجاتی ہے جب وہ دوسرے دفاتر مقبوضہ نہ ہونے کی وجہ سے نت نئی حکمتِ عملیاں اپنانے پر مجبور ہوجائے اور انجامِ کار تمام دفاتر پر اس کا مکمل قبضہ ہوجائے۔ چنانچہ امیرِ وقت سے روز روز کے جھگڑے کھڑے کرکے اسے چلتا کرنااور اسکی جگہ اپنے ذاتی ملازم کو متمکن کرنا، سپہ سالار کی عدم موجودگی میں اسے اسکے دفتر سے دیس نکالا دینا اور قاضی القضاۃ پر لشکر کشی کرکے اسے راہِ فرار اختیار کرنے پر مجبور کرنا ایسے خوش قسمت رہنماؤں کے نمایاں ترین کارنامے کہلائے جاسکتے ہیں۔
باب ساتواں
نئی بادشاہتیں۔ امریکہ کی مدد اور اپنی خوش نصیبی( این آر او) سے حاصل کی ہوئی​

جو افراد معمولی حیثیت سے بڑھکر محض اپنی خوش نصیبی( این آر او) امریکہ کی مدد اور بیوی کے اتفاقاً راستے سے ہٹ جانے کی بناء پر بادشاہ بن جاتے ہیں، انھیں حکومت کے حاصل کرنے میں تو کوئی دشواری پیش نہیں آتی ، لیکن اسے قائم رکھنے میں لانگ مارچ، دھرنوں اور دیگر مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ راستے میں سفر جاری رکھتے ہوئے قدم بڑھاتے وقت کوئی بھی رکاوٹ محسوس نہیں ہوتی اور وہ اپنی منزلِ مقصود یعنی قصرِ شاہی کی جانب دوڑتے ہوئے چلے جاتے ہیں۔
باب آٹھواں
ان اشخاص کے بارے میں جو جرم کا ارتکاب کرکے بادشاہ بنے ہوں​

خانگی حیثیت سے ترقی کرکے بادشاہ بننے کی دو صورتیں ایسی ہیں جن میں سے ایک بھی پورے طور پر شجاعت یا تقدیر کی طرف منسوب نہیں کی جاسکتی۔ وہ دو صورتیں یہ ہیں۔
ایک وہ جب بادشاہت شرارت اور ارتکابِ جرم سے برقرار رکھنے کا ہتمام کیا جائے۔ مثال کے طور پر سپہ سالار کو ہوا میں ہی معلق رکھنے کی شرارت کرنا اور اس کے قتل کا بندوبست کرناتاکہ اس طرح نہ صرف وہ سپہ سالار ہی راستے سے ہٹے اور اپنی بادشاہت مضبوط ہو بلکہ اس سپہ سالار کی جگہ اپنی پسند کا کاٹھ کا الو لاکر بٹھا دیا جاسکے۔
دوسری صورت یہ ہے جب کوئی شخص ہوا میں معلق ہو اور دوسرے شہریوں اور سپاہیوں کی عنایت سے بادشاہ بنے۔ میں زیادہ تفصیل میں نہیں جاؤں گا۔ جو کوئی ان مثالوں کو دیکھنا چاہے گا اس کے لیے مختصر سا ذکر بھی کافی ہے۔​
۔۔۔۔​
ابھی اتنا ہی پڑھ پائے تھے کہ ہماری آنکھ کھل گئی اور ہم نے شیلف سے فورا ً نکولو میکیا ولی کی ‘‘پرنس’’ نکالی اور باب اٹھارہ کا مطالعہ شروع کردیا۔​

باب اٹھارہ
بادشاہ اور ایفائے عہد​
ہر شخص کو اس بات سے اتفاق ہوگا کہ بادشاہ کے لیے عہد و پیمان پر قائم رہنا اور راست بازی اختیار کرنا اور دغا اور فریب سے احتراز کرنانہایت ہی قابلِ تعریف امر ہے۔ مگر ہمارے زمانے میں جو واقعات پیش آئے ہیں ان میں خود ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ ایسے بادشاہ جنھوں نے عہد و پیمان کی کبھی پروا نہ کی اور دوسروں کو دھوکے فریب سے نیچا دکھایا انھی نے بڑے بڑے کارہائے نمایاں سرانجام دیئے۔ اور وہ ان بادشاہوں سے کہیں بہتر رہے جنھوں نے راستبازی کو اپنا شعار بنایا۔معلوم ہونا چاہیے کہ مقابلہ دو طرح سے ممکن ہے۔ بزورِ قانون یا بزورِ بازو۔ ان میں سے پہلا طریقہ انسانوں کے لیے ہے اور دوسرا طریقہ حیوانوں کے لیے موزوں ہے۔ مگر دقت یہ ہےکہ پہلا طریقہ اکثر ناکام ثابت ہوتا ہے۔ اور دوسرے طریقے کو استعمال کرنے پر بادشاہ مجبور ہوتا ہے۔ چنانچہ بادشاہ کے لیے نہ تو یہ ممکن ہے اور نہ اسے اس بات کی ضرورت ہے کہ وہ اپنے عہد و پیمان پر اس صورت میں بھی قائم رہے جب کہ ایسا کرنے سے اسے نقصان پہنچتا ہو۔ اور عہد و پیمان کرنے کے جو اسباب تھے وہ باقی نہ رہے ہوں۔
البتہ یہ ضروری ہے کہ اس صفت کو اچھے رنگ میں پیش کیا جائے اور بناوٹ اور حیلہ سازی میں خاص مہارت پیدا کی جائے۔ لوگ اس قدر بھولے ہوتے ہیں کہ اور فوری ضرورت سے اتنے متاثر کہ اگر انھیں کوئی دھوکہ دینے کی ٹھان لے تو اسے دھوکہ کھانے والوں کی کبھی شکایت نہ ہونے پائے گی۔

ضروری نوٹ:اس مضمون کی تیاری میں ہم نے نکولو میکیاولی کی شہرہ آفاق تصنیف کے اردو ترجمے بادشاہ سے خاطر خواہ استفادہ کیا ۔ یہ ترجمہ محترم محمود حسین صاحب ( پروفیسر و صدر شعبہ تاریخِ عام و رئیس کلیہ فنون، کراچی یونیورسٹی) نے کیا تھا جسے کراچی یونیورسٹی پریس نے ۲۰۰۰ء؁ میں چھاپا۔ اسی ایڈیشن میں دی گئی معلومات کے مطابق اس کتاب کا پہلا ایڈیشن ۱۹۴۷ء؁ میں مکتبہ جامعہ دہلی نے شایع کیا۔

اٹھارواںباب ہو بہو کتاب سے نقل کیا گیا ہے۔


تمت بالخیر​
 
گاندھی گارڈن
از محمد خلیل الر حمٰن
جارج آرول کی روح سے معذرت کے ساتھ
(اردو محفل پر اپنے دو سال مکمل ہونے پر محفلین کے لیے ایک تحفہ)


کلاچی کے ساحل پر لنگر انداز جہاز کی سیڑھیاں چڑھتے چڑھتے یکبارگی وہ رُکا، پلٹ کر مفتوح شہر کی جانب دیکھا اور پھر ایک بار بوجھل قدموں سے اوپر کی جانب چڑھنے لگا۔ عرشے پر پہنچ کر اس سے رہا نہ گیا اور وہ ایک بار پھر شہر کی طرف منہ کیے کھڑا ہوگیا ۔ اپنے دونوں ہاتھ آسمان کی جانب اُٹھادیئے اور چیح کر بولا۔

الوداع اے شہرِ بے مثال!
کاش۔ اے کاش کہ میں تجھے تیری عظمت کے دنوں میں دیکھ سکتا۔

آج وہ اس شہرِ بے مثال سے رخصت ہورہاتھا لیکن چشمِ تصور سے اس کی عظمت کے دنوں کو دیکھ رہا تھا۔​

۱۔خواب​

عروس البلاد کراچی کے عین قلب میں واقع چڑیا گھر جو کبھی گاندھی گارڈن کہلاتا تھا، آج بھی شہر کی سستی ترین اور خوبصورت ترین تفریح گاہ کے طور پرموجود ہے اور روزآنہ لاکھوں بچوں ، بوڑھوں اور جوانوں کی تفریح ِ طبع کا باعث بنتا ہے، شہر کے قدیم اور خوبصورت باغوں میں سے ایک ہے ۔ یہ باغ ۔۔۔ ایکڑ رقبے پر پھیلا ہوا ہے جس میں دسیوں اقسام کے جانور، پرندے نیز درندے وغیرہ موجود ہیں۔ اس باغ کی داغ بیل اب سے کوئی ڈیڑھ دو سو برس قبل انگریزوں نے ڈالی جب وہ اِس شہرِ بے مثال کو خوبصورت عمارتوں، چمکتی ہوئی سڑکوں اور ہرے بھرے باغات سے سجانے لگے۔

ہندوستان بھر سے مسلمان اور ہندو رہنماؤں نے تحریکِ آزادی شروع کی اور آخرِ کار انگریزوں کو ملک چھوڑکر جانے پر مجبور کردیا۔ انگریز سرکار نے ہندوستانیوں کے بے انتہاء دباؤ کے تحت بالآخر انھیں آزادی کی نوید سنادی اور خود بوریا بستر سمیٹ کر جہاںسارے ہندوستان کو خالی کرگئے وہیں اِس شہرِ بے مثال سے بھی اپنے انمٹ نقوش چھوڑ کر چلتے بنے۔ گاندھی گارڈن انھی انمٹ نقوش میں سے ایک نقش ہےجس کا نام بعد میں پاکستان سرکار نے بدل کر چڑیا گھر رکھ دیا۔ جانوروں کے لوہے کے بنے پنجروں کو از سرِ نو مضبوط تاروں اور لوہے کے جال کے ساتھ مضبوط تر کردیا گیا۔ اِن کے لوہے کے دروازوں پر نئے اور نسبتاً بڑے تالے نصب کردئیے گئے تاکہ چڑیا گھر میں محصور جانوروں اور پرندوں کو اِس نودریافت شدہ قدر یعنی آزادی کی بھنک بھی نہ پڑنے پائے اور وہ اپنے چھوٹے چھوٹے پنجروں میں ہی قید رہ کر اپنی بقیہ زندگی بھی گزاردیں۔ یہی نہیں بلکہ اُن کی آنے والی نسلیں بھی اِس غلامی میں سسک سسک کر جینے پر مجبور ہوں۔

پھر یوں ہوا کہ ایک دِن شام کو جب سیر کے لیے آنے والے تمام افراد بشمول بچے بڑے اور بوڑھے اپنے اپنے گھروں کو واپس لوٹ گئےتو چڑیا گھر کے رکھوالے مسٹر جونز نے چڑیا گھر کے بڑے گیٹ کو تو مقفّل کردیا ، لیکن جانوروں کے پنجروں کے تالوں کا معائنہ کرنے سے قاصر رہے، اور لڑکھڑاتے ہوئے اپنے گھر کی جانب بڑھے ، جو اِس چار دیواری کے اندر ہی واقع تھا۔ اِس غلطی کا باعِث اِن کی بلا کی مئے نوشی تھی۔ اُن کے ہاتھ میں پکڑی ہوئی لالٹین بری طرح ڈول رہی تھی۔ اور اسکی مدھم روشنی چاروں جانب ماحول میں عجیب سحر انگیز سائے بکھیر رہی تھی۔ مسٹر جونز نے گھر میں گھس کر دونوں جوتے اُتار کر اِدھر اُدھر پھینکے ، باورچی خانے سے متصل کال کوٹھری سے کچی شراب کی بوتل اُٹھائی باقی ماندہ شراب کو تلچھٹ تک چاٹ گئے۔پھراِس بوتل کو یونہی فرش پر لڑھکاتے ہوئےدبے دبے قدموں کے ساتھ اپنے کمرے کی جانب بڑھے، اور کِواڑ کھول کر اندر اپنے بستر پر ڈھیر ہوگئے اور فوراًہی خرّاٹے لینے لگے۔

کِواڑ بند ہونے کے ساتھ ہی خرّاٹوں کی گونج فضاء میں بلند ہوئی تو چڑیا گھر میں ایک سِرے سے دوسرے سِرے تک ہلچل مچ گئی۔ اِس سے قبل دن میں ہر چہار جانب اِس بات کا خوب چرچا ہوچکا تھا کہ بوڑھے علامہ یعنی ببر شیر نے گزشتہ شب ایک خواب دیکھا ہے جسے وہ چڑیا گھر کے دیگر جانوروں کو سنانے کا خواہش مند ہے۔
کِواڑ کھڑکنے کی آواز آئی توتمام جانور فوراً اپنے اپنے پنجروں کی بیرونی سلاخوں کے قریب پہنچ گئے ، تمام پرندے اپنے اپنے پنجروں کی چھت سے لٹک گئےاور فضاء میں موجود تمام چیل کوّے اور کبوتر وغیرہ موسِس کوّے کی سربراہی میں شیروں کے پنجرے کے قریب منڈلانے لگے۔ یہ سب کچھ تو ہوا لیکن سبھی چرند پرند درند کو اِس بات کا علم تھا کہ اِس بڈھے شیر کی دھاڑیں شیطان کو بھی پاتال کی تہہ سے نکال لائیں گی، لہٰذا انھیں یقین تھا کہ صبح سے پہلے پہلے یہ خواب اِس چڑیا گھر کے ہر جانور اور پرندے کی زبان پر ہوگا۔
شیروں کا پنجرہ دو حصوں پر مشتمل تھا ایک اندرونی کمرہ اور دوسرا حصہ بیرونی برآمدہ تھا جس میں اس وقت تمام شیر لیٹے ہوئے قیلولہ فرمارہے تھے۔ ببر شیر نے منہ پھیر کر اپنے ساتھیوں کی جانب دیکھا جو اس کی بے چینی سے بے خبر سوئے پڑے تھے۔ ایک جانب جونا شیر جو آج کل گویا سارے زمانے سے خفا تھا، منہ موڑے لیٹا تھا، اسکے قریب ہی اس کی بہن پھاتاں شیرنی لیٹی تھی۔ایک طرف کرنالی شیر خوابِ خرگوش کے مزے لے رہا تھا۔جونہی موسس نے اپنی کرخت آواز میں چیخ کر علامہ کو بتایا کہ اس وقت میدان بالکل صاف ہے تو وہ ایک شاہانہ شان کے ساتھ اُٹھّا ، بوجھل قدموں کےساتھ چلتا ہوا صحن میں ایستادہ درخت کے تنے پر چڑھ گیا اور دھاڑا۔

’’ میرے عزیز ہم قفسو!
کل رات میں نے ایک نہایت عجیب و غریب خواب دیکھا ہے جسے شریکِ محفل کرنا اور آپ جانوروں کے گوش گزار کرنا اپنے تئیں اپنا فرضِ منصبی جانتا ہوں۔ اس سے پہلے کہ میں آپ کو اپنا خواب سناؤں، آپ سے کچھ باتیں کرنا چاہتا ہوں۔ شاید اس کے بعد مجھے آپ سے اس طرح بات کرنے کاموقع پھر نہ ملے۔

میرے ہم قفسو! اس بات سے آپ سب بخوبی واقف ہیں کہ کس طرح اہلِ ہندوستان نے جد و جہد کرکے انگریز بہادر سے چھٹکارہ حاصل کیا ہے اور آزاد ہوچکے ہیں۔دوستو! کتنے تعجب کی بات ہے کہ جوہندوستانی کل ہماری طرح پنجروں میں قید تھے، آج آزاد ہوکر بھی ہمیں اسی طرح پنجروں میں قید رکھنے پر مصر ہیں جس طرح کل ان کے انگریز آقا نے انھیں قید کیا ہوا تھا۔

اب میں تمہیں سناتا ہوں کہ رات میں نے خواب میں کیسی انہونی بات دیکھی۔ میں نے دیکھا کہ ہم سب جانور آزاد ہیں اور ایک خوبصورت جنگل میں آزادی کے ساتھ ادھر ادھر گھوم رہے ہیں۔ اس خواب کے ساتھ مجھے بچپن میں گایا ہوا ایک خوبصورت گیت بھی یاد آگیا جو میں ابھی تک بھولا ہوا تھا۔اس پیارے سے گیت کو میں بچپن میں ایک دل لبھانے والی دھن میں گایا کرتا تھا جو کچھ یوں تھی۔ اگر چہ آج میرا گلہ کچھ خراب ہے پھر بھی آج آپ کی خاطر میں کوشش کرتا ہوں۔
ببر شیر نے اپنا گلہ صاف کیا تو سارا چڑیا گھر لرز اُٹھا۔ پھر ا س نے اپنی پاٹ دار آواز میں گانا شروع کیا۔
سارے جہاں سے اچھا، جنگل نشاں ہمارا
ہم جانور ہیں اس کے، یہ گلستاں ہمارا

پنجرے میں ہیں اگر ہم، آزاد کل جوہوں گے
سمجھو ہمیں وہیں پر ، دل ہو جہاں ہمارا

دامن میں کھیلتے ہیں جسکے یہ سب درندے
گلشن یہی ہے گویا نام و نشاں ہمارا

جنگل کے سب ہیں باسی، آپس میں بیر کیسا
جب پیار سے رہیں گے ، ہوگا مکاں ہمارا

چرتے ہیں ہم جہاں پر وہ ہے زمین اپنی
اُڑتے ہیں جس فضاء میں وہ آسماں ہمارا​


جانوروں کو ببر شیر کا یہ گانا اس قدر بھایا کہ انھوں نے اس کی آواز میں آواز ملا کر خود بھی گانا شروع کردیا اورکچھ ہی دیر میں چڑیا گھر کے تمام جانور بیک آواز گارہے تھے۔ یہ گانا جو ایک غنائیہ تھا، بیک وقت خوش آواز، بارعب ، وحشت ناک، گرج دار ، چیخم دھاڑ سے بھر پور ،سب کچھ تھا۔ تمام جانوروں کے مل کر گانے کی وجہ سے اس قدر شور برپا ہوا کہ کان پڑی آواز تک سنائی نہ دیتی تھی۔ اس غل غپاڑے نے مسٹر جونز کی نشے بھری نیند کو بھی بھگا دیا۔ وہ اٹھے ، اپنی بھرمار بندوق نکالی اور اس میں بارود بھر کر ایک ہوائی فائر داغ دیا۔ فائر کی آواز سنتے ہی تمام جانور اپنے اپنے پنجروں میں دبک گئے اور یوں یہ ہنگامہ فرو ہوا۔

۲۔ آزادی​

اِس واقعے کے کچھ ہی دن بعد ببر شیر مرگیا ۔ اس طرح اس کی ایک پیشن گوئی پوری ہوئی تو جانوروں کو اس کے خواب پر یقینِ کامل ہوگیا۔ وہ اب دِن رات ببر شیر کا گایا ہوا گیت دہراتے رہتے۔ اسی طرزمیں جس میں اس رات ببر شیر نے انھیں سنایا تھا۔ اس گیت کو گاتے ہوئے ان پر ایک کیف و سرور کا عالم طاری ہوجاتا ۔ خاص طور پر جب وہ اس آخری شعر پر پہنچتے تو نہایت جوش و خروش کے عالم میں جھومنے لگتے۔​

چرتے ہیں ہم جہاں پر وہ ہے زمین اپنی
اُڑتے ہیں جس فضاء میں وہ آسماں ہمارا​

جونا شیر جو سارے عالم سے خفا رہتا تھا، ببر شیر کی موت کے بعد اس کی خفگی گویا دور ہوگئی۔ اس گیت نے اسے بھی ایک نئی زندگی دے دی تھی۔ اب وہ نہایت جوش و خروش کے ساتھ اس گیت کو گایا کرتا اور سب جانور اس کی قیادت میں گیت کے بول دہراتے تو ایک سماں بندھ جاتا۔
کچھ ہی دنوں بعد جونا شیر کو کچھ کر گزرنے کا موقعہ مل گیا۔ ہوا یوں کہ اس دن صبح سویرے جب چڑیا گھر کے رکھوالے نے کھانا دینے کے لیے جونا شیر کے پنجرے کا قفل کھولا اور تازہ گوشت کا لوتھڑا اندر رکھا ہی چاہتا تھا کہ جونا شیر نے جو ایک جانب آنکھیں موندے لیٹا ہوا تھا، یکبارگی لپک کر مسڑ جونز کو ایک ہاتھ رسید کیا ہے تو وہ چاروں خانے چت، پنجرے سے دور سڑک پر جاگرے۔ وہ ابھی اس کاری ضرب اور دہشت کے زیر ِ اثر بے ہوش ہوا ہی چاہتے تھے کہ اچانک انھیں حالات کی سنگنی کا احساس ہوا اور وہ اپنے بے ہوشی کے پروگرام کو موخر کرتے ہوئے زمین سے اٹھے اور بکٹٹ ایک جانب کو بھاگ لیے۔ جونا شیر کوئی عام جانور نہیں تھا کہ وہ مسٹر جونز کی طرف لپکتا، اس نے اطمینان کے ساتھ اپنے پنجرے سے نکل کر ادھر اُدھر دیکھا اور ایک دلخراش دھاڑ سے تمام جانوروں کو نیند سے اُٹھا دیا۔ سب سے پہلے اُس نے بندروں کے پنجرے کو کھولا تاکہ ان کا گروہ جلدی جلدی تمام جانوروں کے پنجروں کو کھول دے۔ ادھر جانور آزاد ہورہے تھے، اُدھر مسٹر جونز نے چڑیا گھر سے باہر بھاگنے ہی میں عافیت سمجھی اور یوں چڑیا گھر کے تمام جانوروں نے آزاد ہوکر جونا شیر کی قیادت میں چڑیا گھر کی باگ ڈور سنبھالی۔ابتک تو جونا شیر ایک قیدی تھا اور مجبوراً ایک چھوٹے سے پنجرے میں وقت گزارنے پر مجبور تھا، اب جو وہ آزاد ہوا ہے تو اس نے چڑیا گھر کے جانوروں کی حفاظت کی ذمہ داری سنبھال لی اور دن رات ایک کردیئے۔اب وہ دن رات چڑیا گھر کی بیرونی حدود کے چکر لگایا کرتا تاکہ کسی انسان کو چڑیا گھر کی طرف دوبارہ متوجہ ہونے کی ہمت نہ ہو اور جانور سکون کے ساتھ اس نئی حاصل کی ہوئی آزادی کے مزے لوٹ سکیں۔اب چونکہ چڑیا گھر کے باہر سے گوشت کی فراہمی منقطع ہوچکی تھی اور جونا شیر اپنے ساتھی جانوروں کو مار کر کھانا اپنی شان کے خلاف جانتا تھا، لہٰذا گوشت نہ کھانے کی بنا پر وہ رفتہ رفتہ کمزور پڑتا گیا اور اسی حالت میں ایک دن تمام جانوروں کو داغِ مفارقت دے گیا۔

گاندھی گارڈن کے سارے جانور اسکی موت پر خوب روئے۔ دھاڑیں مار مار کر روئے۔ پھر انھوں نے اپنے ان دونوں چہیتے رہنماؤں یعنی ببر شیر اور جونا شیر کی یاد میں ایک ایک قدِ جانور پیتل کا مجسمہ بنوایا اور ان مجسموں کو چڑیا گھر کے بڑے گیٹ کے سامنے نصب کردیا۔ اب جب بھی انھیں اپنے ان محبوب جانوروں کی یاد ستاتی، وہ گیٹ کے پاس پہنچ کر ان کے پیتل کے بنے ہوئے ان خوبصورت مجسموں کے گرد خاموش کھڑے ہوجاتے اور انھیں یاد کرکے ایک مرتبہ پھر روتے۔ دھاڑیں مار مار کر روتے۔

۳۔ قراردادِ مقاصد​

جانوروں کی اس مصیبت میں جب ان کے دو پیارے ان سے بچھڑگئے تھے، کرنالی شیر نے ان کی ڈھارس بندھائی اور انھیں دلاسا دیا۔ وہ ان کا برے دنوں کا ساتھی تھا۔ اب انھوں نے اسے ہی سارے رہنمائی کے حقوق تفویظ کردیئے۔ اب وہ ان کا والی و وارث تھا۔ اسکی پنجہ لہرانے کی عادت نہ صرف چڑیا گھر میں بلکہ اس باہر بھی مشہور ہوگئی۔ سارے جہاں میں اس کی دھاک بیٹھ گئی۔ وہ بھی چڑیا گھر اور سارے جانوروں کی حفاظت کے لیے نت نئے منصوبے بنایا کرتا۔ایک دن کرنالی شیر نے سب جانوروں کو ایک جگہ جمع کیا اور ان کے سامنے ایک تجویز رکھی۔

’’آزاد جنگل کے آزاد جانورو! کیا آج وہ وقت نہیں آگیا کہ ہم اپنے آپ کو کچھ قوانین کے تابع کرلیں؟ کیوں نہ ہم ایک قرارداد کے ذریعے سے ان قوانین کا تعین کرلیں، کیونکہ یہ قانونِ فطرت ہے کہ آزادی بھی کچھ قوانین کے تحت ہی جچتی ہے؟‘‘
دوسرے جانوروں کی تائید سے شہ پاکر اس نے کہنا شروع کیا۔

’’ہر گاہ کہ چڑیا گھر کے تمام چھوٹے بڑے جانوروں اور پرندوں کا یہ اجتماع اس چڑیا گھر میں رہنے والے تمام جانداروں کے لیے ایک قانون بنانے کا عہد کرتا ہے۔‘‘

’’ہر گاہ کہ یہ قانون اس بات کی ضمانت دے گا کہ آئیندہ اس چڑیا گھر میں جمہوریت، آزادی، مساوات، رواداری اور معاشرتی انصاف کے اصولوں کی مکمل تعمیل ہوگی۔‘‘

’’جس میں قانون اور اخلاقِ عامہ کی حدود کے اندر بنیادی حقوق بشمول مساوی حیثیت و مساوی مواقع، قانون کی نظر میں مساوات اور سماجی اقتصادی اور سیاسی انصاف، آزادی ء فکر و اظہار اور تنظیم سازی کی آزادی حاصل ہوگی۔‘‘

’’تاکہ اہلِ چڑیا گھر کو خوشحالی نصیب ہواور وہ باہر کے تمام جنگلوں میں رہنے والے جانوروں میں اپنا جائز اور باوقار مقام حاصل کرسکیں۔ اور عالمی امن و ترقی اور تمام جانوروں کی خوشحالی کے لیےاپنا بھرپور کردار اد ا کرسکیں۔‘‘


جانوروں نےا تنی مشکل باتیں آج تک نہیں سنی تھیں لہذا وہ اپنی اپنی بولی بولنے لگے یہاں تک کہ کان پڑی آواز بھی سنائی نہ دیتی تھی۔ کرنالی شیر نے یکبارگی دھاڑ کر سب کو خاموش کرایا اور پھر یوں گویا ہوا۔

’’مجھے علم ہے کہ یہ باتیں آپ سب جانوروں کے لیے سمجھنا بہت مشکل ہیں لہٰذا میں نے آسان زبان میں جانوروں کے لیے سات سنہری اصول ترتیب دئیے ہیں جو کچھ اس طرح ہیں۔‘‘


۱۔ جو کوئی دو ٹانگوں پر چلتا ہے وہ ہمارا دشمن ہے۔

۲۔ جو کوئی چار ٹانگوں پر چلتا ہے یا پروں والا ہے وہ ہمارا دوست ہے۔

۳۔ کوئی جانور کپڑے نہیں پہنے گا۔

۴۔ کوئی جانور بستر پر نہیں سوئے گا۔

۵۔ کوئی جانور شراب نہیں پیئے گا۔

۶۔ کوئی جانور کسی دوسرے جانور کونہیں مارے گا۔

۷۔ تمام جانور آپس میں برابر ہیں۔


سب جانوروں نے ان سنہری اُصولوں کو غور سے سنا اور ان کو سمجھنے کی کوشش کرنے لگے۔ بھیڑوں کی ننھی سی عقل میں صرف ایک بات ہی آئی اور فوراً زور زور سے ممیانے لگیں۔​

چار ٹانگیں اچھی تو دو ہیں خراب
چار ٹانگوں کا تو نہیں ہے جواب​


اسی اثناء میں ایرانی بلی نے پانی کی ٹنکی پر چڑھ کر یہ سب سنہری اصول ٹنکی کی چمکدار سطح پر لکھ دیئے جو اب دور سے بھی نظر آتے تھے۔ آتے جاتے جانوروں کی نظر ان سنہری اصولوں پر پڑتی تو وہ خوشی سے پھولے نہ سماتے اور زور زور سے دھاڑتے ، ڈکراتے ممیاتے اور اپنی خوشی کا اظہار کرتے۔
۴۔ کرنالی شیر کا قتل​

ایک دن ایک ایسا عجیب و غریب واقعہ پیش آیا جس نے تمام جانوروں کو دہشت زدہ کردیا۔ ہوا یوں کہ صبح سویرے کرنالی شیر کی دہاڑ سن کر سب جانور اُس کے گرد جمع ہوگئے۔کرنالی شیر نے اپنا پنجہ اٹھایا اور اسے ہوا میں لہراتے ہوئے دھاڑا۔
’’ آزاد جنگل کے آزاد جانورو! یاد رکھو۔ شیر کی ایک دن کی زندگی گیدڑ کی ہزار سال کی زندگی سے بہتر ہے۔

ابھی کرنالی شیر کی خوش الحانی کی گو نج ارد گرد کی عمارتوں سے ٹکرا کر لوٹی بھی نہ تھی کہ اچانک ایک جانب سے کچھ بھیڑیے نمودار ہوئے اور اس کی طرف لپکے۔ کرنالی شیر نے جان توڑ کر مقابلہ کیا لیکن بھیڑیوں نے چاروں طرف سے اس کو گھیر لیا اور نوچنے کھسوٹنے لگے۔ کرنالی شیر مرتے دم تک جی داری کے ساتھ مقا بلہ کرتا رہا اور لڑتے لڑتے جان دے دی۔

تمام جانور اس واقعے سے اس قدر دہشت زدہ ہوے کہ ان کے لیے اس وقت کچھ اور سوچنا بھی مشکل ہورہا تھا ۔ وہ اپنی اپنی جانوں کو بچانے کے لیے بھاگے اور اپنے اپنے پنجروں میں اپنے آپ کو چھپالیا۔ کچھ جانوروں کو یاد آیا کہ سنہری اصولوں میں سے ایک اصول یہ بھی تھا کہ کوئی جانور کسی دوسرے جانور کو نہیں مارے گا۔ اگلی صبح جب دہشت کچھ کم ہوئی تو وہ ڈرتے ڈرتے اپنے پنجروں سے باہر نکلے ۔ باکسر گھوڑاجس کی یادداشت دوسرے جانوروں کی بہ نسبت قدرے بہتر تھی اس نے پانی کی ٹنکی کی جانب نظر کی تو دیکھا کہ وہاں پر چھٹے سنہری اصول کی جگہ چونا پھرا ہوا تھا۔اسے اچھی طرح یاد تھا کہ چھٹا اصول یہ تھا کہ کوئی جانور دوسرے جانور کو نہیں مارے گا۔ اس نے حیرت سے چاروں طرف دیکھا۔ کوئی بھی جانور اس کی بات پر کان دھرنے کے لیے تیار نہ تھا۔ وہ سب اپنی حفاظت کے لیے ادھر ادھر دبکے دبکے پھر رہے تھے۔

۵۔ جوتیوں میں دال بٹتی ہے​

اُس رات بھیڑیوں کے جتھے کا اجلاس ہوا ۔ بھیڑیوں کا سربراہ اکیلا نامی ایک خونخوار بھیڑیا تھا۔ اس نے صلاح دی کہ فی الحال بھیڑیوں کو چاہیے کہ وہ نمظر عام پر نہ آئیں اور اس نے تمام بھیڑیوں کی مشاورت سے بینجمن نامی ایک انتہائی گدھا قسم کے گدھے کو چڑیا گھر کا سربراہ چن لیا۔ دن گزرتے رہے اور گدھے صاحب اپنی گدھا پن کی حرکتوں سے سے جانوروں کو پریشان کرتے رہے۔ سب جانور اس گدھے سے نالاں تھے لیکن انھیں اس بات کا بخوبی علم تھا کہ اصل بادشاہت بھیڑیوں ہی کی ہے۔

اسی دوران کچھ عجیب و غریب واقعات رونما ہونے لگے۔ ہر کچھ دن بعد ایک آدھ جانور غائب ہونے لگا۔ رات کو کسی جانور کی کربناک چیخیں سنائی دیتیں اور اگلی صبح ایک جانور اپنے پنجرے سے غائب ہوتا۔ البتہ چڑیا گھر میں ایک جانب ہڈیوں کا ایک چھوٹا سا ڈھیر نمودار ہوا جو وقت کے ساتھ ساتھ اونچا ہوتا جارہا تھا۔

۶۔ رکھوالے بادشاہ بنتے ہیں​

سب کچھ ہوا لیکن گدھے نے اپنی گدھے پن کی حرکتیں نہ چھوڑیں یہاں تک کہ اس سے سبھی تنگ آگئے۔ ان سبھی میں اتفاق سے بھیڑیے بھی شامل تھے۔ گدھے کو اور کچھ نہ سوجھتا تو وہ اپنی بھونڈی آواز میں ڈھینچوں ڈھینچوں کرنا شروع کردیتا۔ یہ صورتحال تمام جانوروں کے اور بھی زیادہ تکلیف دہ ہوتی اور وہ سب مل کر گدھے پر پِل پڑتے اور مارتے مارتے اُس کا بھرکس نکال دیتے۔ بیچارہ گدھا اپنی مسکین سے صورت لے کر رہ جاتا۔ اب کیا اسے اتنی بھی آزادی حاصل نہیں تھی کہ وہ ڈھینچوں ڈھینچوں ہی کرسکے۔ کمال ہے۔ایک دن بھیڑیوں کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا اور انھوں نے دن دھاڑے ہی اس بیوقوف گدھے کو چیر پھاڑ کر رکھ دیا اور اس دن کے بعد سے جانورستان پر ان کا راج قائم ہوگیا۔ اب وہ کھلم کھلا اپنے حرکتیں کرنے کے لیے آزاد تھے۔ اب انھیں کوئی بھی ٹوک نہیں سکتا تھا۔ اب تمام جانور ان کے تابعِ فرمان تھے۔ انھیں یہ چڑیا گھر پچھلے چڑیا گھر کی بہ نسبت بہت اچھا لگا۔ اب وہ بلا شرکتِ غیرے چڑیا گھر کی ہر چیز کے مالک تھے۔ اب وہ چڑیا گھر کے بادشاہ تھے۔​
۷۔ جنگِ جون، جنگِ جنون​
جون کے مہینے میں ایک دن ابھی رات کے مختصر لمحات ختم بھی نہیں ہوئے تھے اور سپیدہٗ سحری نمودار ہوا ہی چاہتا تھا اور چڑیا گھر کے جانور صبح کی نشہ آور نیند کے مزے لوٹ رہے تھے کہ اچانک چڑیا گھر کے باہر کی جانب سے بھرمار بندوقوں کے چلنے کی آواز آئی اور چڑیا گھر کا پرانا رکھوالا مسٹر جونز اپنے چندآوارہ گرد دوستوں کے ساتھ فاتحانہ انداز میں چڑیا گھر کی مشرقی دیوار میں ایک بڑا سا سوراخ بنا کر داخل ہوا۔ سب لوگوں کے ہاتھوں میں بھرمار بندوقیں تھیں جنہیں انہوں نے اپنے سامنے تان رکھا تھا اور ان کے خطرناک تیور بتا رہے تھے کہ وہ سامنے آنے والے ہر جانور کو بھون ڈالیں گے۔
وہ صبح بھی بڑی عجیب صبح تھی۔ تمام جانور ہر بڑا کر اُٹھے اور ادھر ادھر بھاگنے لگےاس افرا تفری کے عالم میں انہیں اپنا کچھ ہوش ہی نہ رہا البتہ کچھ جانوروں نے اس صورتحال کا فوراً ادراک کرلیا اور بھاگتے ہوئے جانوروں کو جمع کرکے ایک لائحہ عمل ترتیب دینے میں مصروف ہوگئے۔ چند لمحوں کی اس ملاقات کے بعد تمام جانوروں نے ایک مرتبہ جم کر حملہ آوروں کو گھیر لیا اور چاروں طرف سے ان پر پل پڑے۔ حملہ آوروں نے کب اس طرح کی صورتحال کا مقابلہ کیا تھا۔ وہ تو جانوروں کو ایک ہی ہلے میں زیر کردینے کے ارادے سے آئے تھے۔ جواباً جانوروں کے خوں خوار دانتوں اور زہریلے پنجوں کا سامنا کرنا پڑا تو وہ بدحواس ہوکر بھاگے اور بھاگتے وقت اپنی بھرمار بندوقیں وہیں چھوڑ گئے۔جس جنونی انداز میں جانوروں نے اپنے اس چڑیا گھر کا بچاؤ کیا وہ دیدنی تھا۔ اس دن کے بعد اس جنگ کو جنگِ جون ، جنگِ جنون کے نام سے یاد کیا جانے لگا۔ یہ وہ دن تھا جب سب جانوروں نے مل کر اپنے اس خوبصورت باغ کی حفاظت میں اپنی جانوں کی بھی پروا نہ کی تھی۔ انھیں اپنے اس باغ پر فخر تھا۔ کیوں نہ ہوتا، یہ ان کا اپنا جنگل تھا جہاں پر سب جانور آزاد تھے۔انھوں نے بھگوڑے مسٹر جونز اور ان کے ساتھیوں کے قبضے سے حاصل کی ہوئی بھرمار بندوقوں کو ایک پنجرے میں جمع کردیا اور اسے قومی عجائب گھر قرار دے دیا۔​
۸۔ سلطانی ء جمہور کا آتا ہے زمانہ​
جنگِ جون ، جنگِ جنون کے نتیجے میں جہاں پڑوسیوں پر جانوروں کی دھاک بیٹھ گئی وہیں اس جنگ کا ایک نتیجہ یہ بھی نکلا کہ سب جانور وں میں جذبہ حب الوطنی ایک مرتبہ پھر جاگ اٹھا اور بھیڑئیے جو ابھی تک اس چڑیا گھر کی تقدیر کے مالک بنے بیٹھے تھے، دبک کر ایک طرف کو بیٹھ رہے اور تمام جانوروں نے ایک مرتبہ پھر اتفاقِ رائے سے چند جانوروں کو چن لیا جو ان کے اس باغ کی رکھوالی اور اس پر راج کا حق رکھتے تھے۔ جانوروں کی ایک مشترکہ کونسل ترتیب دی گئی اور ہر فیصلہ اتفاقِ رائے سے کیا جانے لگا۔ یوں ایک مرتبہ پھر اس آزاد جنگل میں جمہوریت نے ایک نیا جنم لیا۔​
۹۔پون چکی بنتی ہے​
کہتے ہیں کہ ایک ولندیزی کے گھر ایک پالتو بلی رہا کرتی تھی۔ یہ بلی دراصل چڑیا گھر سے ہی لائی گئی تھی۔ ایک مرتبہ وہاں کی خوبصورت ایرانی بلی نے کچھ بچے دیئے تو مسٹر جونز نے ان بچوں کو نہایت صفائی کے ساتھ بلی کے پنجرے سے اڑایا اور بیچ ڈالاتھا۔ اس ولندیزی نے جو گارڈن روڈ ہی پر بندر روڈ کے قریب رہتا تھا، مسٹر جونز سے بلی کا ایک بچہ خریدا اور اسے پال لیا۔ ولندیزی کو پون چکی کا ڈیزائین بنانے کا بہت شوق تھا اور وہ دن رات اپنے ڈرائینگ روم میں اپنی میز پر بیٹھا پون چکی کی تصویریں بنایا کرتا۔ ایک دن موقع پاکر بلی نے ان تصویروں میں سے کچھ بنڈل اپنے منہ میں پکڑے اور فوراً ہی وہاں سے رفو چکر ہوگئی اور دوڑتی دوڑتی گاندھی گارڈن پہنچ گئی۔
اب سنیے کہ بلی کی یہ نازیبا حرکت کالے تیندوے کے پلان کے عین مطابق تھی۔ اب جبکہ پون چکی کے ڈیزائن کی ساری ترتیب و تفصیل اس کے ہاتھ میں آگئی تھی، اس نے پہلے تو بلی کی پیٹھ تھپکنی چاہی لیکن شیر کی خالہ بہت چالاک نکلی اور فوراً لپک کر درخت پر چڑھ گئی۔ کالا تیندوا ہنسا اور بولا۔
’’ بی مانو! میں تو صرف تمہاری پیٹھ تھپکنا چاہ رہا تھا ۔ خیر‘‘
اب اس نے تمام جانوروں کو اکٹھا کیا اور ان کے سامنے پون چکی بنانے کی تجویز رکھی۔ سب جانور یہ عجیب و غریب منصوبے کی تفصیل سن کر حیران رہ گئے۔اب کالے تیندوے نے اپنی قائدانہ صلاحیتوں کو آواز دی اور نہایت جزباتی انداز میں سب جانوروں سے خطاب کیا۔
’’پون چکی بناؤگے؟‘‘
’’بنائیں گے۔‘‘
’’لڑو گے؟‘‘
’’لڑیں گے‘‘
’’مرو گے؟‘‘
’’مریں گے‘‘
’’گھاس کھاؤ گے‘‘
’’ کھائیں گے‘‘
پھر یوں ہوا کہ جانوروں نے بھوکے رہ کر، گھاس کھا کر، لڑ مر کر پون چکی کا کام شروع کیا اور اسی اسپرٹ میں دن رات کام کرتے ہوئے دو تین مہینوں کے اندر ہی پون چکی کو مکمل کرلیا۔ پون چکی ان کے ہمت و حوصلے کی داستان تھی جو انھوں نے اپنی انتھک محنت سے رقم کی تھی۔ باہر والوں نے سنا تو دنگ رہ گئے۔ اب چڑیا گھر اپنے لیے خود بجلی پیداکرتا تھا جو ایک بیمثال کارنامہ تھا۔​
۱۰۔ میوزیکل چیئر کا کھیل​
کہتے ہیں جمہوریت ایکدم نہیں آجاتی بلکہ رفتہ رفتہ آتی ہے۔ کہنے والے تو یہاں تک کہتے ہیں کہ جمہوریت ایک ایسا نظام ہے جو اپنا قالب نکالتا ہےاور یہی ہوا۔ چڑیا گھر کے جانور جمہوریت کے اس قدر عادی ہوگئے کہ اب یہ انھیں اپنی روح میں سمویا ہوا ایک خوبصورت خیا ل محسوس ہوتی۔ رفتہ رفتہ دیگر دوسرے جانور اس کھیل سے اکتا گئے اور اس پُر خطر میدان میں صرف سُور رہ گئے۔ اب یوں ہوتا کہ سور ہی آپس میں انتخاب لڑتے ۔ کبھی ایک سُور جیت جاتا کبھی دوسرا سُور جیت جاتا۔ جہاں دوسرے جانور اس نظام سے لاتعلق ہوئے وہیں سُوروں کو میوزیکل چیئر کا یہ کھیل اس قدر بھایا کہ انھوں نے اس کھیل کو مستقل کھیلنے کا فیصلہ کرلیا۔ اب وہ ہر دوسرے تیسرے ماہ انتخاب انتخاب کھیلا کرتے۔ بھیڑیوں کا جتھا اس کھیل سے بہت محظوظ ہوتا۔ انھیں علم تھا کہ کوئی بھی سور جیتے، جیت اصل میں انھیں کی ہوتی تھی۔​
۱۱۔ ایک غم ناک کہانی کا المناک انجام
بھیڑیوں اور سُوروں کے اِس گٹھ جوڑ نے نت نئے گل کھلانے شروع کردئیے۔ اب رفتہ رفتہ جانوروں کو پھر سے پنجروں میں بند کرنا شروع کردیا گیا۔ یہ سلسلہ شروع تو شر پسند بندروں سے ہوا لیکن بہت آہستہ آہستہ جانوروں کو پنجروں میں منتقل کرنے کا سلسلہ شروع کیا گیا ، پھر ان کے پنجروں پر قفل لگائے گئے۔ یہاں تک کہ ایک دن ایسا آیا کہ سُوروں اور بھیڑیوں کے علاوہ چڑیا گھر کا ہر جانور دوبارہ پنجرے میں بند ہوچکا تھا۔ جانور حیران پریشان ان سب حرکتوں کو دیکھا کیے۔ انھیں ببر شیر، جونا شیر اور کرنالی شیر کی یاد آتی لیکن وہ اسے ایک بھولا بسرا خواب سمجھ کر نظر انداز کردیتے۔ کبھی کبھی کوئی جانور نیند میں بڑبڑانے لگتا ۔
سارے جہاں سے اچھا، جنگل نشاں ہمارا
ہم جانور ہیں اس کے، یہ گلستاں ہمارا
پنجرے میں ہیں اگر ہم، آزاد کل جوہوں گے
سمجھو ہمیں وہیں پر ، دل ہو جہاں ہمارا
دوسرے جانور اسے سن کر حیران رہ جاتے۔ شاید یہ بے معنی قسم کے الفاظ انھوں نے پہلے بھی سنے تھے، یا شاید انھوں نے کوئی خواب دیکھا تھا۔ کچھ الفاظ تو اِس قدر عجیب تھے کہ جن کو سن کر اِن کی چیخیں نکل جایا کرتیں مثلاً​
چرتے ہیں ہم جہاں پر وہ ہے زمین اپنی
اُڑتے ہیں جس فضاء میں وہ آسماں ہمارا​
جن جانوروں کے پنجرے پانی کی ٹنکی کے سامنے تھے، وہ دیکھتے تھے کہ اِس ٹنکی پر جانورستان کا انوکھا نعرہ درج تھا۔’’ تمام جانور آپس میں برابر ہیں مگر کچھ جانور زیادہ برابر ہیں‘‘۔ بندروں کو یقین تھا کہ کسی زمانے میں اس ٹنکی پر اور کچھ بھی لکھا ہوا ہوتا تھا لیکن اُن کے معصوم ذہن اس سے آگے سوچنے سے معذور تھے۔ اب تو یہی ان کا حال تھا اور یہی ان کا مستقبل۔
، مہ جبین ، ساجد ، راشد اشرف ، فرحت کیانی ، ظفری ، پردیسی ، حسان خان ، محمد بلال اعظم ، جیہ
 

سیما علی

لائبریرین
وجود میں آگیا۔ ہمارا مطالعہ جاری ہے۔ آج نئی نسل کی ایک بٹیا نے گُر کی بات بتادی۔ ٖFault is in our TAARS خرابی ہماری لائینوں میں ہے۔ فالٹ لائینز کو پہچان کر اپنی لائینیں پچھائیں گے تو خرابی دور ہوسکتی ہے۔ اب اصل کام ان فالٹ لائینز کو پہچاننا رہ گیا ہے۔ جوں ہی ہم ان کی نشاندھی کرپائیں گے ، ان سے بچ کر اپنی لائینیں پچھائیں گے، ہم نہ صرف ان خرابیوں کو دور کرپائیں گے جو گزشتہ بہتر سال سے ہمارے نظام کو گھن کی طرح کھارہی ہیں، بلکہ نظام بھی آئیندہ کسی خرابی سے بچ سکے گا۔ فالٹ لائینز کو پہچانیے۔
واہ بھیا واہ بہت بہترین بات اصل کام فالٹ لائینز پہچاننا ہے ۔ بہتر سال سے یہی فالٹ لائینز گھن کی طرح ہمارے نظام کو کھا گیں ہیں۔ جیتے رہیے ۔ڈھیروں دعائیں ۔۔۔
 

جاسم محمد

محفلین
فالٹ لائینز کو پہچانیے

مشہور امریکی مصنف تھارنٹن وائیلڈر اپنے مشہور ترین ناول "دی برج آف سان لوئی رے" ( جس نے اسے بیسویں صدی کے اعلیٰ ترین مصنفین کی صف میں لا کھڑا کیا) کا آغاز " شاید ایک حادثہ" کے نام سے کرتے ہوئے رقمطراز ہے۔


’’جمعہ کی سہ پہر، بیس جولائی 1714ء کو پیرو کا خوبصورت ترین پل ٹوٹ گیا، اس وقت کل پانچ مسافرجو اس پل پر موجود تھے جو پل ٹوٹنے کی وجہ سے دریا کی اتھاہ گہرائیوں میں ڈوب کر مر گئے۔ یه پل لیما اور کزکو کے درمیان ایک پہاڑی سڑک پر واقع تھا اور روزآنہ کم و بیش سینکڑوں افراد اس پُل پر سے گزر تے تھے۔ قدیم انکا قوم نے اس پل کو ایک صدی پہلے مضبوط ریشوں سے بُنے رسّوں سے بنایا تھا۔ شہر کی سیر کو آئے سیاح روز اس عجوبہٗ روزگار پُل کو دیکھنے آتے۔‘‘


اس کہانی میں ایک پادری نے جب بذاتِ خود اس واقعے کو دیکھا اور بال بال اس حادثے سے بچنے پر اس واقعے کو ایک نشانی سمجھا اور اس کے پیچھے حقائق کی تلاش میں نکل کھڑا ہوا۔ ادھر ہمارا حال یہ ہے کہ ہمارے ارد گرد بھی نشانیاں بکھری ہوئی ہیں لیکن ہم اندھوں، گونگوں، بہروں کی مانند ان سے صرفِ نظر کیے چلتے ہی چلے جارہے ہیں۔


کل رات گڈو بجلی گھر میں ایک خرابی ہوئی جو آناً فاناً پورے ملک میں پھیل گئی۔ اس خرابی نے پورے ملک کی لائینوں کا بھٹا بٹھا دیا۔ ذرا کی ذرا میں فریکوئنسی پچاس سے صفر پر آگئی نتیجاً لائینیں ٹرپ کرگئیں اور ملک اندھیروں میں ڈوب گیا۔


ہم بھی ایک انجینئر ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ ہمارا واسطہ ہسپتال کی مشینوں سے پڑتا ہے۔ ہم بحیثیت انجینئر جب مشین کی درستی کے لیے جائے وقوعہ پر پہنچتے ہیں، متعلقہ افسر ہم سے اس فردِ واحد کی نشاندھی کا تقاضا کرتا ہے جس کہ وجہ سے یه حادثہ رونما ہوا جبکہ ہمارا پروفیشنلزم ہم سے تقاضا کرتا ہے کہ خرابی کی نشاندھی کریں اور اسے دور کرکے تکنیکی نظام کو انہی لائنوں پر چلا سکیں جن پر چلنے کے طفیل نظام ڈلیور کرسکے۔


رات جونہی اندھیرا چھایا، ہم نے حسبِ معمول آواز دیکر بیٹی سے پوچھا، "کیا بجلی چلی گئی؟"

جواب آیا، " ہاں پاپا! بجلی چلی گئی۔"


معاً

اس زلف پہ بھپتی شبِ دیجور کی سوجھی​

کے مصداق ایک خیال کا جھماکا ہماری ذہن میں ہوا۔ اٹھ کر قلم اُٹھا لیا کہ اس نشانی کو کھوجا جائے اور روشنی میں لایا جائے تاکہ ہم اور ہمارے ہم وطن اس سے سبق حاصل کرسکیں۔


علشبہ نامی کسی خاتون نے ٹویٹ کیا

The Fault in our TAARS​

خرابی ہمارے تاروں یعنی ہماری لائینوں میں ہے۔


آج تک ہم The Fault in our Stars یعنی اپنے حال کو اپنے ستاروں کی چال یا مقدر کی خرابی سے تعبیر کرتے رہے۔ آج نئی نسل نے یه راز فاش کردیا۔ وہ کہتی ہے، جی نہیں انکل، خرابی ہمارے ستاروں میں نہیں بلکہ ہماری لائینوں میں ہے۔



سرا مل گیا، ہم نے سوچا۔ فالٹ لائینز کا پتہ چلتے ہی ان سے بچنے کا طریقہ ایجاد کیا جاسکتا ہے۔ فالٹ لائینز کو کھوجا جائے۔


بعض خرابیاں ایسی ہوتی ہیں جن کی نشانیاں بھٹکادینے والی بھی ہوسکتی ہیں۔ ان نشانیوں کے پیچھے چلیں تو انجینئر صاحبان خرابی کو نہیں پکڑ سکتے۔ کل رات کے اس واقعے ہی کو لیجیے۔ خرابی کے نتیجے میں فریکوئنسی ہی پچاس سے صفر پر آگئی۔ اہلِ دانش جانتے ہیں کہ فریکوئنسی کا معکوس تعلق ویو لینگتھ سے ہوتا ہے۔ جب تک فریکوئنسی مستقل تھی، ویو لینگتھ بھی مستقل تھی اور ہم سب اہلِ وطن ایک دوسرے کی بات کو سمجھ سکتے تھے۔ فریکوئنسی بدلی تو ویو لینگتھ بھی تبدیل ہوگئی۔ اب ہم ایک دوسرے کی بات کو سمجھنے سے قاصر ہو گئے۔


بک رہا ہوں جنوں میں کیا کیا کچھ
کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی​

سب سے پہلے تو فریکوئینسی کے مستقل ہونے کا انتظار کیا جائے تاکہ ہم سب اہلِ وطن ایک ویو لینگتھ پر ایک دوسرے سے بات کرسکیں۔ اس کے لیے یه ضروری نہیں کہ سب ہم خیال ہوجائیں بلکہ ایک دوسرے کے نکتہٗ نظر کو اپنے نکتہٗ نظر سے مختلف تو ضرور لیکن غلط تصور نہ کریں۔


آج سے بہتر (۷۲) سال پہلے ہم نے قائد کی سربراہی میں درست سَمت میں قدم بڑھائے تھے۔ راستے میں یه کیا ہوا کہ نظام میں خرابی پیدا ہوگئی اور اس خرابی کے ساتھ ترقیٗ معکوس ہمارا وطیرہ ہوگیا۔ اس خرابی کو جاننے کے لیے سب سے پہلے ہمیں ان فالٹ لائینز کو پہچاننا ہوگا جو زیر زمین موجود ہیں اور ہمارے وجود کو خطرے سے دوچار کیے ہوئے ہیں۔ اس سب کو جاننے کے لیے ملک کی بہتر سالہ تاریخ کا بغور مطالعہ مفید ثابت ہوسکتا ہے۔ ہمیں تاریخ سے سبق حاصل کرنا چاہیے۔


نظر کمزور ہوتے ہی ہمارا سہارا ہماری عینک بن گئی جو مطالعے کے وقت ہمیں درست دیکھنے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔ہم جب بھی بصیرت کی یه عینک لگاکر تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہر صفحہ ہمیں کچھ سبق دیتا نظر آتا ہے۔ ہم نے میکیاولی کی پرنس نکالی اور مطالعہ شروع کیا۔ اس کتاب کے صفحات و رشحات نے جو کچھ ہم پر منکشف کیا اسے ہم نے اردو محفل پر محفوظ کرلیا تھا تاکہ سند رہے اور وقتِ ضرورت کام آوے۔


پرنس۔ نکولو میکیاولی۔(ترمیم و اضافے کے ساتھ) | اردو محفل فورم (urduweb.org)


دوسری کتاب ہم نے جارج آویل کا ناول Animal farm نکالی اور پڑھتے پڑھتے


گاندھی گارڈن ایک طنزیہ:از: محمد خلیل الرحمٰن | اردو محفل فورم (urduweb.org)


وجود میں آگیا۔ ہمارا مطالعہ جاری ہے۔ آج نئی نسل کی ایک بٹیا نے گُر کی بات بتادی۔ ٖFault is in our TAARS خرابی ہماری لائینوں میں ہے۔ فالٹ لائینز کو پہچان کر اپنی لائینیں پچھائیں گے تو خرابی دور ہوسکتی ہے۔ اب اصل کام ان فالٹ لائینز کو پہچاننا رہ گیا ہے۔ جوں ہی ہم ان کی نشاندھی کرپائیں گے ، ان سے بچ کر اپنی لائینیں پچھائیں گے، ہم نہ صرف ان خرابیوں کو دور کرپائیں گے جو گزشتہ بہتر سال سے ہمارے نظام کو گھن کی طرح کھارہی ہیں، بلکہ نظام بھی آئیندہ کسی خرابی سے بچ سکے گا۔ فالٹ لائینز کو پہچانیے۔
یہ سینیر صحافی بھی یہی پوچھ رہے ہیں :)
 

فاخر رضا

محفلین
سلام
اکثر یہ سننے میں آتا ہے کہ دوسروں سے اختلاف رائے کا یہ مطلب نہیں لینا چاہیے کہ وہ غلط ہے. اس پر غور کیا جائے تو کوئی نتیجہ سامنے نہیں آتا. اگر وہ غلط نہیں ہے تو ٹھیک ہوگا یعنی کہ میں غلط ہوں. اگر ایسا ہے تو مجھے اپنی رائے بدلنی چاہیے. اگر میں اپنی رائے نہیں بدلتا تو اسکا مطلب یہ ہے کہ وہ غلط ہے، (چاہے میں اسکا اظہار اس شخص سے کروں یا نہ کروں)
اتحاد کا مطلب ہی یہ ہوتا ہے کہ دو لوگوں میں اخلاف ہے.
ڈھونڈنے کی ضرورت اس چیز کی ہے جس پر اتفاق ہو. مثلاً اہل کتاب اور مسلمانوں میں عقیدہ الوہیت مشترک ہے. مسلمان تثلیث کے قائل نہیں اور اہل کتاب پیغمبر آخرالزمان کے قائل نہیں.
کچھ جگہوں پر دوسرے کو غلط کہنا ہی پڑتا ہے جیسا کہ عدالت میں جب اپنے دعوے کے حق میں دلائل اور گواہ لا رہے ہوتے ہیں
ایسے میں خود کو صحیح اور دوسرے کو غلط ثابت کررہے ہوتے ہیں. یہ سمجھنا اور بچوں کو سمجھانا ضروری ہے کہ حق ایک حقیقت ہے اور اس کا ہی ساتھ دینا ہے اور اس سے ہٹنے والوں سے گریز کرنا ہے. انہیں کنفیوژن میں نہ ڈالیں.
قائداعظم نے صحیح سمت دکھائی یعنی غلط سمت نہیں دکھائی. ان کے مخالفین بھی تھے. ان کی سمت کیا تھی.
کچھ لوگ اب عدل اور انصاف کی بنیادوں پر بھی سوال اٹھاتے ہیں اور اس کی تعریف کرنے (define کرنے) کو غلط سمجھتے ہیں. یہ ایک خطرناک کام ہے. عدل ایک حقیقت ہے اور اس پر کوئی چیز فوقیت نہیں رکھتی.
کچھ گنجلک سی باتیں کردیں ہیں مگر آپ نے ہمت بڑھائی ہے تو کررہا ہوں. جزاک اللہ
بہت اچھا لکھتے ہیں.
بس ہمیشہ سمت کا تعین کرتے رہیں تاکہ منزل تک پہنچ سکیں. سمت چاروں طرف نہیں ہوتی کسی ایک ہی طرف ہوتی ہے. ہر سمت میں سفر نہیں کیا جاسکتا. منزل پر صرف درست سمت میں چلنے والے ہی پہنچتے ہیں. مگر پہلے منزل اور بعد میں درست سمت. ہاں راستہ بھی صاف ستھرا ہونا چاہیے
سورہ بقرہ میں قبلے کی تبدیلی کی آیت سے پہلے ایک تفصیلی بحث ہے سمت کے بارے میں. بہت ہی اچھی باتیں ہیں. اسی طرح اسی سورہ کی 177نمبر آیت میں بھی بہت اچھی طرح بیان ہوا ہے کہ سمت سے مراد کیا ہے.
 

جاسمن

مدیر
بہت شکریہ خلیل بھائی لڑی کی طرف لانے کے لیے۔
آپ نے بہت توجہ طلب نکتہ تلاش کیا ہے۔ واقعی ہمیں اپنی انفرادی اور اجتماعی "فالٹ لائینز" پہچاننے اور ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے۔
خوبصورت مضمون ہے اور آپ نے اختصار سے کام لے کے کافی جامع لکھا ہے۔
ماشاءاللہ آپ خوب غور و فکر کرنے والے انسان ہیں اور ساتھ ہی ہمیں بھی متوجہ کرتے رہتے ہیں۔
اللہ ہم سب کو بصیرت کی عینک عطا فرمائے اور اپنی غلطیوں کو سدھارنے کی توفیق اور آسانی دے۔ آمین!
 

جاسمن

مدیر
سلام
اکثر یہ سننے میں آتا ہے کہ دوسروں سے اختلاف رائے کا یہ مطلب نہیں لینا چاہیے کہ وہ غلط ہے. اس پر غور کیا جائے تو کوئی نتیجہ سامنے نہیں آتا. اگر وہ غلط نہیں ہے تو ٹھیک ہوگا یعنی کہ میں غلط ہوں. اگر ایسا ہے تو مجھے اپنی رائے بدلنی چاہیے. اگر میں اپنی رائے نہیں بدلتا تو اسکا مطلب یہ ہے کہ وہ غلط ہے، (چاہے میں اسکا اظہار اس شخص سے کروں یا نہ کروں)
اتحاد کا مطلب ہی یہ ہوتا ہے کہ دو لوگوں میں اخلاف ہے.
ڈھونڈنے کی ضرورت اس چیز کی ہے جس پر اتفاق ہو. مثلاً اہل کتاب اور مسلمانوں میں عقیدہ الوہیت مشترک ہے. مسلمان تثلیث کے قائل نہیں اور اہل کتاب پیغمبر آخرالزمان کے قائل نہیں.
کچھ جگہوں پر دوسرے کو غلط کہنا ہی پڑتا ہے جیسا کہ عدالت میں جب اپنے دعوے کے حق میں دلائل اور گواہ لا رہے ہوتے ہیں
ایسے میں خود کو صحیح اور دوسرے کو غلط ثابت کررہے ہوتے ہیں. یہ سمجھنا اور بچوں کو سمجھانا ضروری ہے کہ حق ایک حقیقت ہے اور اس کا ہی ساتھ دینا ہے اور اس سے ہٹنے والوں سے گریز کرنا ہے. انہیں کنفیوژن میں نہ ڈالیں.
قائداعظم نے صحیح سمت دکھائی یعنی غلط سمت نہیں دکھائی. ان کے مخالفین بھی تھے. ان کی سمت کیا تھی.
کچھ لوگ اب عدل اور انصاف کی بنیادوں پر بھی سوال اٹھاتے ہیں اور اس کی تعریف کرنے (define کرنے) کو غلط سمجھتے ہیں. یہ ایک خطرناک کام ہے. عدل ایک حقیقت ہے اور اس پر کوئی چیز فوقیت نہیں رکھتی.
کچھ گنجلک سی باتیں کردیں ہیں مگر آپ نے ہمت بڑھائی ہے تو کررہا ہوں. جزاک اللہ
بہت اچھا لکھتے ہیں.
بس ہمیشہ سمت کا تعین کرتے رہیں تاکہ منزل تک پہنچ سکیں. سمت چاروں طرف نہیں ہوتی کسی ایک ہی طرف ہوتی ہے. ہر سمت میں سفر نہیں کیا جاسکتا. منزل پر صرف درست سمت میں چلنے والے ہی پہنچتے ہیں. مگر پہلے منزل اور بعد میں درست سمت. ہاں راستہ بھی صاف ستھرا ہونا چاہیے
سورہ بقرہ میں قبلے کی تبدیلی کی آیت سے پہلے ایک تفصیلی بحث ہے سمت کے بارے میں. بہت ہی اچھی باتیں ہیں. اسی طرح اسی سورہ کی 177نمبر آیت میں بھی بہت اچھی طرح بیان ہوا ہے کہ سمت سے مراد کیا ہے.

آپ نے بہت زبردست بات کی ہے فاخر! واقعی کچھ ایسی باتیں ہیں کہ جن میں ایک حق ہے اور باقی ناحق۔ لیکن کچھ ایسے معاملات بہرحال ہوتے ہیں کہ دونوں فریقین ہی اپنی اپنی جگہ پہ درست ہوتے ہیں۔
 

سیما علی

لائبریرین
سلام
اکثر یہ سننے میں آتا ہے کہ دوسروں سے اختلاف رائے کا یہ مطلب نہیں لینا چاہیے کہ وہ غلط ہے. اس پر غور کیا جائے تو کوئی نتیجہ سامنے نہیں آتا. اگر وہ غلط نہیں ہے تو ٹھیک ہوگا یعنی کہ میں غلط ہوں. اگر ایسا ہے تو مجھے اپنی رائے بدلنی چاہیے. اگر میں اپنی رائے نہیں بدلتا تو اسکا مطلب یہ ہے کہ وہ غلط ہے، (چاہے میں اسکا اظہار اس شخص سے کروں یا نہ کروں)
اتحاد کا مطلب ہی یہ ہوتا ہے کہ دو لوگوں میں اخلاف ہے.
ڈھونڈنے کی ضرورت اس چیز کی ہے جس پر اتفاق ہو. مثلاً اہل کتاب اور مسلمانوں میں عقیدہ الوہیت مشترک ہے. مسلمان تثلیث کے قائل نہیں اور اہل کتاب پیغمبر آخرالزمان کے قائل نہیں.
کچھ جگہوں پر دوسرے کو غلط کہنا ہی پڑتا ہے جیسا کہ عدالت میں جب اپنے دعوے کے حق میں دلائل اور گواہ لا رہے ہوتے ہیں
ایسے میں خود کو صحیح اور دوسرے کو غلط ثابت کررہے ہوتے ہیں. یہ سمجھنا اور بچوں کو سمجھانا ضروری ہے کہ حق ایک حقیقت ہے اور اس کا ہی ساتھ دینا ہے اور اس سے ہٹنے والوں سے گریز کرنا ہے. انہیں کنفیوژن میں نہ ڈالیں.
قائداعظم نے صحیح سمت دکھائی یعنی غلط سمت نہیں دکھائی. ان کے مخالفین بھی تھے. ان کی سمت کیا تھی.
کچھ لوگ اب عدل اور انصاف کی بنیادوں پر بھی سوال اٹھاتے ہیں اور اس کی تعریف کرنے (define کرنے) کو غلط سمجھتے ہیں. یہ ایک خطرناک کام ہے. عدل ایک حقیقت ہے اور اس پر کوئی چیز فوقیت نہیں رکھتی.
کچھ گنجلک سی باتیں کردیں ہیں مگر آپ نے ہمت بڑھائی ہے تو کررہا ہوں. جزاک اللہ
بہت اچھا لکھتے ہیں.
بس ہمیشہ سمت کا تعین کرتے رہیں تاکہ منزل تک پہنچ سکیں. سمت چاروں طرف نہیں ہوتی کسی ایک ہی طرف ہوتی ہے. ہر سمت میں سفر نہیں کیا جاسکتا. منزل پر صرف درست سمت میں چلنے والے ہی پہنچتے ہیں. مگر پہلے منزل اور بعد میں درست سمت. ہاں راستہ بھی صاف ستھرا ہونا چاہیے
سورہ بقرہ میں قبلے کی تبدیلی کی آیت سے پہلے ایک تفصیلی بحث ہے سمت کے بارے میں. بہت ہی اچھی باتیں ہیں. اسی طرح اسی سورہ کی 177نمبر آیت میں بھی بہت اچھی طرح بیان ہوا ہے کہ سمت سے مراد کیا ہے.
درست صد فی صد درست :):)
ڈھیر ساری دعائیں کل بے حد دکھُ ہوا کل ایک لڑی میں کسی نے ایک فرقے کو اس حد تک براُ کہا گیا اور ہم نے اُس پر تبصرہ کرنے سے بہتر خاموش رہنا پسند کیا کیونکہ دلائل ہمارے پاس بھی مدلل تھے لیکن بحث برائے بحث کا کوئی نتیجہ نا تھا مگر سوچ رہی ہوں منتظمین کی توجہ ضرور اُس طرف دلائی جانا چاہئے۔۔
 

محمداحمد

لائبریرین
بہت عمدہ خلیل الرحمٰن بھائی!

استعاروں کی مدد سے بہت کچھ کہہ دیا آپ نے۔

فالٹ لائنز تلاش کرنا بے حد ضروری ہے ۔ اگر ہمیں دو تین لیڈر بھی ایسے مل جائیں جو ذاتی منفعت سے بالا تر ہو کر ملک و ملت کی فلاح کا سوچنے والے ہوں اور عمل پسند ہوں تو بہت سے معاملات درست ہو سکتے ہیں۔

آج نئی نسل کی ایک بٹیا نے گُر کی بات بتادی۔ ٖFault is in our TAARS خرابی ہماری لائینوں میں ہے۔ فالٹ لائینز کو پہچان کر اپنی لائینیں پچھائیں گے تو خرابی دور ہوسکتی ہے۔ اب اصل کام ان فالٹ لائینز کو پہچاننا رہ گیا ہے۔ جوں ہی ہم ان کی نشاندھی کرپائیں گے ، ان سے بچ کر اپنی لائینیں پچھائیں گے، ہم نہ صرف ان خرابیوں کو دور کرپائیں گے جو گزشتہ بہتر سال سے ہمارے نظام کو گھن کی طرح کھارہی ہیں، بلکہ نظام بھی آئیندہ کسی خرابی سے بچ سکے گا۔ فالٹ لائینز کو پہچانیے۔

اللہ تعالیٰ ہم سب کو کشادہ دلی اور کشادہ نظری عطا فرمائے۔ آمین
 

نیرنگ خیال

لائبریرین
فالٹ لائینز کی کھوج واقعتا ایک ضروری امر ہے اور آپ نے جس سیدھے سادے اور ہلکے سے انداز میں یہ بات سمجھائی وہ بہت مشکل کام ہے۔ ایسا مشکل کام ایسی آسانی سے آپ ہی کر سکتے تھے سر۔
 
بہت عمدہ خلیل بھائی۔
فالٹ لائینز کو پہچاننا ضروری مگر مشکل کام ہے
اور ہم مشکل کام سے کتراتے ہیں اس لیے پتلی گردن ڈھونڈتے ہیں۔اور فالٹ اپنی جگہ موجود رہتا ہے۔ :)
 

سیما علی

لائبریرین
بہت عمدہ خلیل بھائی۔
فالٹ لائینز کو پہچاننا ضروری مگر مشکل کام ہے
اور ہم مشکل کام سے کتراتے ہیں اس لیے پتلی گردن ڈھونڈتے ہیں۔اور فالٹ اپنی جگہ موجود رہتا ہے۔ :)
دوسروں کی فالٹ لائینز کا کھوج اسقدر ہے کہ اپنے لئے کیسے وقت نکالیں تابش میاں۔۔۔۔
 
آخری تدوین:

فرحت کیانی

لائبریرین
فالٹ لائینز کو پہچانیے

مشہور امریکی مصنف تھارنٹن وائیلڈر اپنے مشہور ترین ناول "دی برج آف سان لوئی رے" ( جس نے اسے بیسویں صدی کے اعلیٰ ترین مصنفین کی صف میں لا کھڑا کیا) کا آغاز " شاید ایک حادثہ" کے نام سے کرتے ہوئے رقمطراز ہے۔


’’جمعہ کی سہ پہر، بیس جولائی 1714ء کو پیرو کا خوبصورت ترین پل ٹوٹ گیا، اس وقت کل پانچ مسافرجو اس پل پر موجود تھے جو پل ٹوٹنے کی وجہ سے دریا کی اتھاہ گہرائیوں میں ڈوب کر مر گئے۔ یه پل لیما اور کزکو کے درمیان ایک پہاڑی سڑک پر واقع تھا اور روزآنہ کم و بیش سینکڑوں افراد اس پُل پر سے گزر تے تھے۔ قدیم انکا قوم نے اس پل کو ایک صدی پہلے مضبوط ریشوں سے بُنے رسّوں سے بنایا تھا۔ شہر کی سیر کو آئے سیاح روز اس عجوبہٗ روزگار پُل کو دیکھنے آتے۔‘‘


اس کہانی میں ایک پادری نے جب بذاتِ خود اس واقعے کو دیکھا اور بال بال اس حادثے سے بچنے پر اس واقعے کو ایک نشانی سمجھا اور اس کے پیچھے حقائق کی تلاش میں نکل کھڑا ہوا۔ ادھر ہمارا حال یہ ہے کہ ہمارے ارد گرد بھی نشانیاں بکھری ہوئی ہیں لیکن ہم اندھوں، گونگوں، بہروں کی مانند ان سے صرفِ نظر کیے چلتے ہی چلے جارہے ہیں۔


کل رات گڈو بجلی گھر میں ایک خرابی ہوئی جو آناً فاناً پورے ملک میں پھیل گئی۔ اس خرابی نے پورے ملک کی لائینوں کا بھٹا بٹھا دیا۔ ذرا کی ذرا میں فریکوئنسی پچاس سے صفر پر آگئی نتیجاً لائینیں ٹرپ کرگئیں اور ملک اندھیروں میں ڈوب گیا۔


ہم بھی ایک انجینئر ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ ہمارا واسطہ ہسپتال کی مشینوں سے پڑتا ہے۔ ہم بحیثیت انجینئر جب مشین کی درستی کے لیے جائے وقوعہ پر پہنچتے ہیں، متعلقہ افسر ہم سے اس فردِ واحد کی نشاندھی کا تقاضا کرتا ہے جس کہ وجہ سے یه حادثہ رونما ہوا جبکہ ہمارا پروفیشنلزم ہم سے تقاضا کرتا ہے کہ خرابی کی نشاندھی کریں اور اسے دور کرکے تکنیکی نظام کو انہی لائنوں پر چلا سکیں جن پر چلنے کے طفیل نظام ڈلیور کرسکے۔


رات جونہی اندھیرا چھایا، ہم نے حسبِ معمول آواز دیکر بیٹی سے پوچھا، "کیا بجلی چلی گئی؟"

جواب آیا، " ہاں پاپا! بجلی چلی گئی۔"


معاً

اس زلف پہ بھپتی شبِ دیجور کی سوجھی​

کے مصداق ایک خیال کا جھماکا ہماری ذہن میں ہوا۔ اٹھ کر قلم اُٹھا لیا کہ اس نشانی کو کھوجا جائے اور روشنی میں لایا جائے تاکہ ہم اور ہمارے ہم وطن اس سے سبق حاصل کرسکیں۔


علشبہ نامی کسی خاتون نے ٹویٹ کیا

The Fault in our TAARS​

خرابی ہمارے تاروں یعنی ہماری لائینوں میں ہے۔


آج تک ہم The Fault in our Stars یعنی اپنے حال کو اپنے ستاروں کی چال یا مقدر کی خرابی سے تعبیر کرتے رہے۔ آج نئی نسل نے یه راز فاش کردیا۔ وہ کہتی ہے، جی نہیں انکل، خرابی ہمارے ستاروں میں نہیں بلکہ ہماری لائینوں میں ہے۔



سرا مل گیا، ہم نے سوچا۔ فالٹ لائینز کا پتہ چلتے ہی ان سے بچنے کا طریقہ ایجاد کیا جاسکتا ہے۔ فالٹ لائینز کو کھوجا جائے۔


بعض خرابیاں ایسی ہوتی ہیں جن کی نشانیاں بھٹکادینے والی بھی ہوسکتی ہیں۔ ان نشانیوں کے پیچھے چلیں تو انجینئر صاحبان خرابی کو نہیں پکڑ سکتے۔ کل رات کے اس واقعے ہی کو لیجیے۔ خرابی کے نتیجے میں فریکوئنسی ہی پچاس سے صفر پر آگئی۔ اہلِ دانش جانتے ہیں کہ فریکوئنسی کا معکوس تعلق ویو لینگتھ سے ہوتا ہے۔ جب تک فریکوئنسی مستقل تھی، ویو لینگتھ بھی مستقل تھی اور ہم سب اہلِ وطن ایک دوسرے کی بات کو سمجھ سکتے تھے۔ فریکوئنسی بدلی تو ویو لینگتھ بھی تبدیل ہوگئی۔ اب ہم ایک دوسرے کی بات کو سمجھنے سے قاصر ہو گئے۔


بک رہا ہوں جنوں میں کیا کیا کچھ
کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی​

سب سے پہلے تو فریکوئینسی کے مستقل ہونے کا انتظار کیا جائے تاکہ ہم سب اہلِ وطن ایک ویو لینگتھ پر ایک دوسرے سے بات کرسکیں۔ اس کے لیے یه ضروری نہیں کہ سب ہم خیال ہوجائیں بلکہ ایک دوسرے کے نکتہٗ نظر کو اپنے نکتہٗ نظر سے مختلف تو ضرور لیکن غلط تصور نہ کریں۔


آج سے بہتر (۷۲) سال پہلے ہم نے قائد کی سربراہی میں درست سَمت میں قدم بڑھائے تھے۔ راستے میں یه کیا ہوا کہ نظام میں خرابی پیدا ہوگئی اور اس خرابی کے ساتھ ترقیٗ معکوس ہمارا وطیرہ ہوگیا۔ اس خرابی کو جاننے کے لیے سب سے پہلے ہمیں ان فالٹ لائینز کو پہچاننا ہوگا جو زیر زمین موجود ہیں اور ہمارے وجود کو خطرے سے دوچار کیے ہوئے ہیں۔ اس سب کو جاننے کے لیے ملک کی بہتر سالہ تاریخ کا بغور مطالعہ مفید ثابت ہوسکتا ہے۔ ہمیں تاریخ سے سبق حاصل کرنا چاہیے۔


نظر کمزور ہوتے ہی ہمارا سہارا ہماری عینک بن گئی جو مطالعے کے وقت ہمیں درست دیکھنے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔ہم جب بھی بصیرت کی یه عینک لگاکر تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہر صفحہ ہمیں کچھ سبق دیتا نظر آتا ہے۔ ہم نے میکیاولی کی پرنس نکالی اور مطالعہ شروع کیا۔ اس کتاب کے صفحات و رشحات نے جو کچھ ہم پر منکشف کیا اسے ہم نے اردو محفل پر محفوظ کرلیا تھا تاکہ سند رہے اور وقتِ ضرورت کام آوے۔


پرنس۔ نکولو میکیاولی۔(ترمیم و اضافے کے ساتھ) | اردو محفل فورم (urduweb.org)


دوسری کتاب ہم نے جارج آویل کا ناول Animal farm نکالی اور پڑھتے پڑھتے


گاندھی گارڈن ایک طنزیہ:از: محمد خلیل الرحمٰن | اردو محفل فورم (urduweb.org)


وجود میں آگیا۔ ہمارا مطالعہ جاری ہے۔ آج نئی نسل کی ایک بٹیا نے گُر کی بات بتادی۔ ٖFault is in our TAARS خرابی ہماری لائینوں میں ہے۔ فالٹ لائینز کو پہچان کر اپنی لائینیں پچھائیں گے تو خرابی دور ہوسکتی ہے۔ اب اصل کام ان فالٹ لائینز کو پہچاننا رہ گیا ہے۔ جوں ہی ہم ان کی نشاندھی کرپائیں گے ، ان سے بچ کر اپنی لائینیں پچھائیں گے، ہم نہ صرف ان خرابیوں کو دور کرپائیں گے جو گزشتہ بہتر سال سے ہمارے نظام کو گھن کی طرح کھارہی ہیں، بلکہ نظام بھی آئیندہ کسی خرابی سے بچ سکے گا۔ فالٹ لائینز کو پہچانیے۔
حرف حرف حقیقت۔ حسبِ روایت خوب صورت ، دل کو چُھو جانے والی اور سوچنے پر مجبور کر دینے والی تحریر۔ بہت خوب اور بہت شکریہ خلیل بھائی ۔
مسئلہ یہی ہے کہ ہم سب فالٹ لائنز کو پہچاننے سے قاصر ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ستر برس سے زیادہ ہونے کو آئے، ہم یہ تو جانتے ہیں کہ کچھ غلط ہے لیکن کیا اور کیوں غلط ہے اس کا اندازہ نہیں ہو پا رہا۔ نتیجہ اس اندھیرے میں ٹامک ٹوئیاں تو مار ہی رہے ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ اس کا گھونسا اس کے سر والا حساب ہے۔ جس دن ہمیں یہ معلوم ہو گیا کہ مسائل کی جڑ کیا ہے اور اسے کیسے اکھاڑا جائے تو سب کچھ درست نہج پر چل پڑے گا۔
 
اس فکر انگیز مضمون پر اتنے سارے جامع تبصروں کے بعد کچھ اور کہنے کی گنجائش نہیں رہی ۔
خلیل بھائی ، براہِ کرم یہ مضمون یا کالم اخبارت کو بھیجئے ۔ اس طرح کے مضمون کی بڑے پیمانے پر اشاعت بہت ضروری ہے ۔ ہماری قوم کو اس فکر کی اشد ضرورت ہے ۔
 
خلیل بھائی ، براہِ کرم یہ مضمون یا کالم اخبارت کو بھیجئے ۔ اس طرح کے مضمون کی بڑے پیمانے پر اشاعت بہت ضروری ہے ۔ ہماری قوم کو اس فکر کی اشد ضرورت ہے ۔
ظہیر بھائی، اس بات کو بھی ایک فالٹ لائن ہی سمجھیے کہ اخباری کالم پڑھنا اب ایک متروک روایت بن چکا ... اب صرف اوسط سے بھی کم درجہ کے لکھاریوں کے وہی کالم پڑھے جاتے ہیں جو مخالفین کے بارے میں استعمال کی گئی بازاری زبان کے سبب فیس بک، ٹوئیٹر یا وہاٹس اپ گروپس میں وائرل ہو چکے ہوں.
فی زمانہ ابلاغ عامہ کا سب سے موثر ذریعہ حقیقت ٹی وی جیسے واہیات یوٹیوب چینلز ہیں.
 
آخری تدوین:
Top