غیر ملکی دہشتگردوں‌ کے خلاف شور کیوں‌ نہیں؟

مہوش علی

لائبریرین
اس لڑکی پر طالبانی مظآلم پر ہمیں لبرل فاشسٹ‌ کے طعنہ دینے والے حضرات ذرا یہ بتلائیں کہ:

1۔ جب ہم ان طالبانی مظالم کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں‌ تو آپ بلبلا رہے ہیں‌ اور الزامات لگا رہے ہیں کہ ہم ملک کے دیگر علاقوں میں‌ عورتوں پر ہونے والے مظآلم پر کیوں‌ احتجاج نہیں کرتے اور ریلیاں کیوں نہیں نکالتے۔

2۔ مزید آپ نے کہا کہ ہم اپنی زمین پر کسی غیر ملکی قوت کو ڈرون حملے نہیں کرنے دیں گے اور اسکے خلاف خوب ریلیاں نکالیں۔

لیکن کیسے دو رخے ہیں‌آپ کہ غیر ملکی ڈرونز حملے کے خلاف تو ریلیاں نکالتے ہیں مگر جو غیر ملکی عرب ازبک تاجک جنگجو دہشتگرد کاروایئاں کرنے کے لیے بیٹھے ہیں ان کے لیے ریلی تو ایک طرف منہ سے ایک لفظ نہیں پھوٹتا سوائے جھوٹ کے ۔۔۔۔۔۔۔ اور جھوٹ وہ جب مشرف حکومت کہتی تھی کہ فاٹا میں کاروائی ضروری ہے کیونکہ ہزاروں کی تعداد میں یہ غیر ملکی دہشتگرد موجود ہیں تو اس پر یہی مذہبی جنونی اور انکے ہمدرد میڈیا پر جھوٹ بولتے تھے کہ کوئی غیر ملکی دہشتگرد نہیں ہیں بلکہ حکومت پاکستان صرف امریکہ کے کہنے پر غیر ملکیوں کی موجودگی کا بہانہ بنا رہی ہے۔

مگر پھر ہم سب نے دیکھا کہ جب انہیں طالبان دہشتگردوں‌کا پھڈا ان غیر ملکی دہشتگردوں سے ہوا اور ان دونوں مذہبی جنونی گروپوں نے ایک دوسرے کے سینکڑوں مسلمان بھائیوں کو اسی اسلام کے نام پر خاک و خون میں‌ملایا اور صرف اس وقت میڈیا میں موجود ان مذہبی جنونیوں کے ہمدردوں نے فاٹا میں ان غیر ملکی دہشتگردون کی موجودگی قبول کی۔

تو اگر آپ لوگ دورخے نہیں تو یہ دکھائیں کہ آپ لوگوں نے ہمیں لبرل فاشسٹ کا الزام دینے کے علاوہ ان غیر ملکی دہشتگردوں کز خلاف کتنی ریلیاں نکالیں

اگر آپ کو خود اس کا جواب نہیں دینا تو جا کر منور حسن صاھب جیسے اپنے لیڈڑان سے ہی جواب لے آئیں کہ جو لڑکی کے موجودہ ویڈیو دکھانے پر اتنا احتجاج کر رہے ہیں

''''''''''''''''''''''''''''''

اب ملاحطہ کیجئے نیچے شفقت صاحب کا کالم



دہشت گردی کی بابت کنفیوژن غیرضروری ہے!!!,,,,شفقت محمود,,,, (گزشتہ سے پیوستہ)


انتہا پسندی اور دہشت گردی کے حوالے سے پیدا ہونے والے اس کنفیوژن کو انتہا پسندوں کے ساتھ مفاہمت اور مذاکرات کے اس آئینے میں بھی بخوبی دیکھا جا سکتا ہے جس کے لئے اعتدال پسند سیاسی جماعتیں بالآخر مجبور ہو چکی ہیں حالانکہ اس حقیقت کو اب سبھی تسلیم کرتے ہیں کہ جنرل پرویز مشرف کے دور حکومت میں ان قبائلی لیڈروں سے جو مفاہمتی مذاکرات اور معاہدے کئے گئے تھے ان کے نتیجے میں بیت اللہ محسود جیسے افراد کے ہی ہاتھ مضبوط ہوئے ہیں جو اب فاٹا کے اکثر علاقوں پر بالواسطہ اور بلاواسطہ اپنا کنٹرول قائم کئے ہوئے ہے۔
سوات میں ہونے والا معاہدہ امن بھی اب ناکامی سے دوچار نظر آ رہا ہے۔ ہاں اتنا ضرور ہوا ہے کہ اس معاہدے کے نتیجے میں اس وادی کے غریب اور مفلوک الحال عوام کو تشدد سے بہرصورت نجات مل گئی ہے لیکن یہ بھی اس علاقے کے کنٹرول سے پاکستانی افواج کے دست بردار ہونے کا منطقی نتیجہ ہے۔ اخباری اطلاعات مظہر ہیں کہ اب انتہا پسندوں نے وادی سوات میں موجود ”زمرد کی کانوں“ پر بھی بالجبر قبضہ کرنا شروع کر دیا ہے۔ یہ صرف اس وجہ سے ممکن ہو سکا ہے کہ پورے علاقے پر ان کا کنٹرول قائم ہے کیا معاہدہ امن اسی غرض اور مقصد سے کیا گیا تھا؟؟؟
نومنتخب امریکی صدر بارک حسین اوباما نے افغانستان اور پاکستان کے حوالے سے اپنی جس نئی پالیسی کا حال ہی میں اعلان کیا ہے وہ بھی ہمارے لئے انتہائی سخت آزمائش کے مترادف ہے جس کے تحت پاکستان کو افغانستان جیسے ملک کے مماثل قرار دیا گیا ہے۔ جو بات زیادہ تشویش ناک ہے وہ امریکی صدر کا یہ خوف اور خدشہ ہے کہ آئندہ امریکا پر کیا جانے والا متوقع حملہ پاکستان کے قبائلی علاقوں سے کیا جائیگا۔ افغانستان میں امریکی اور نیٹو افواج کی موجودگی کا نیا اور محدود مقصد بھی یہی بتایا گیا ہے کہ اس طرح امریکی سرزمین کو غیرریاستی دہشت گردوں کے حملوں سے محفوظ رکھنا ممکن ہو سکے گا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اب امریکی حکومت تمام توجہ صرف اور صرف پاکستان اور اس کے سرحدی قبائلی علاقوں پر مرکوز کر دے گی۔
امریکی حکومت پاکستان کو خاصی بڑی مقدار میں امداد دے گی تاہم سابق صدر بش کی حکومت کے برعکس اس امریکی امداد کو انتہاپسندوں اور دہشت گردوں کے خلاف پاکستان کے کامیاب اقدامات سے مشروط کر دیا گیا ہے۔ اس امداد کو دیکھنے کے دو مختلف زاویئے ہیں جن میں سے ایک تو یہ ہے کہ ہم نے محض چند کوڑیوں کے عوض اپنی روح کو امریکی حکومت کے ہاتھوں فروخت کر دیا ہے۔ دوسرا پہلو یہ ہے بلکہ ہونا ہی چاہئے کہ انتہا پسندی اور دہشت گردی سے نمٹنا خود ہمارے مفادات کے مطابق ہے۔ ہماری بھلائی اسی میں ہے۔ ہم بجاطور پر اپنی خودمختاری اور امریکی جاسوس ڈرون طیاروں کی مداخلت کا بہرحال رونا روتے ہیں اور اس سلسلے میں ہمیں بڑی شکایات بھی ہیں لیکن ہمیں اس بات پر ذرہ برابر تشویش نہیں ہوتی کہ ہماری سرحدی قبائلی علاقوں کا ایک بڑا حصہ بھی غیرملکیوں کے قبضے میں ہے۔ امریکی جاسوس ڈرون طیاروں کے حملے بہرصورت غلط ہیں لیکن جب کبھی یہ واقعات ہوتے ہیں ان میں یہی غیرملکی باشندے ہلاک ہوتے ہیں جنہوں نے ہمارے سرحدی قبائلی علاقوں کو اپنا مسکن بنا رکھا ہے۔ ہم ایک بات پر تو پریشان ہوتے ہیں لیکن اسی کے دوسرے پہلو کو یکسر نظرانداز کر دیتے ہیں۔ اس کا بڑا واضح جواب یہی ہے کہ پوری دنیا کو ہمارے ملک کے اندر ان انتہا پسند عناصر کی موجودگی پر گہری تشویش لاحق ہے کیونکہ ان عناصر سے پوری دنیا شدید خطرہ محسوس کرتی ہے اگر ہم اس عالمی تشویش کو یکسر نظرانداز کردیں گے اور اس کا کوئی اندمال تلاش نہیں کریں گے تو دنیا ہمارا انتظار کرنے کے بجائے خود ہی ان خطرات سے نمٹنے کا اہتمام کر لے گی۔یہی وہ حقیقی چیلنج ہے جس سے ہمیں بہرصورت ہر قیمت نمٹنا ہوگا۔ ہمیں عالمی برادری کو بتانا ہوگا کہ ہم ایک ذمہ دار قوم ہیں جو اپنی سرزمین پر موجود انتہا پسندوں کو کبھی اس بات کی اجازت نہیں دے گی کہ وہ دنیا بھر کیلئے خطرہ بن سکیں چنانچہ اس تشویش اور اضطراب کو دور کرنے کے عمل میں خود ہمیں بھی انتہا پسندی اور انتہا پسندوں سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے نجات حاصل ہوجائیگی۔



۔۔
 

مغزل

محفلین
شکریہ مہوش صاحبہ ، مگر میرا آپ کی سطور کا جواب دینا اس وقت تک معطل ہے جب تک آپ میرے مراسلے کا جواب نہیں دیتیں۔۔
 

مہوش علی

لائبریرین
شکریہ مہوش صاحبہ ، مگر میرا آپ کی سطور کا جواب دینا اس وقت تک معطل ہے جب تک آپ میرے مراسلے کا جواب نہیں دیتیں۔۔
مغل بھائی، معذرت مگر میرا خٰیال تھا کہ میں نے آپ کے مراسلے کا جواب دے دیا تھا۔ کیا آپ پھر اس مراسلے کا لنک دے سکتے ہیں‌جہاں آپ نے اپنا سوال کیا ہے ؟‌ شکریہ۔
 

مہوش علی

لائبریرین
میرا سوال ہے کہ آپ اشرافیہ میں سے ہیں یا عوام میں سے ؟؟
ذرا عام سوالوں سے ہٹ کر سوال ہے اور میرے خیال میں اسکا جواب تو سیاق و سباق کے حوالے سے ہی بہتر دیا جا سکتا ہے اور یقینا یہ سیاق و سباق کے حوالے سے تبدیل بھی ہو سکتا ہے۔

چونکہ سوال کا سیاق و سباق تو میرے سامنے موجود نہیں اس لیے جو میں عام نظریہ رکھتی ہوں وہی پیش کر دیتی ہوں۔

انسان وہی کچھ ہے جو وہ اپنے آپ کو محسوس کرتا ہے۔

میں نے خود کو کبھی اشرافیہ میں محسوس کیا نہ عوام میں، بلکہ انسانیت پر محسوس کیا اور ہر ہر معاملے میں انسانیت کی خاطر انصآف کے تقاضوں کے قریب ہونے کی کوشش کی۔ یقینی طور پر میں انسان ہوں اور ہر کسی کی پسند و ناپسند ہوتی ہے اور ہر کوئی شاید چاہنے کے باوجود بھی ہر دفعہ سو فیصدی انصآف نہ کر پاتا ہو۔ بہرحال کم از کم انسان کو اپنے بشری تقاضوں کے باوجود کوشش تو پوری کرنی چاہیے۔

اشرافیہ کو میں عوام سے کچھ مختلف نہیں سمجھتی۔ جیسی عوام ویسے ہی اس کے لیڈر۔

عوام کبھی میرے لیے حق کا معیار نہیں رہے ہیں۔ اقلیت اور اکثریت بھی حق و باطل کا معیار نہیں‌ہے۔ بلکہ اللہ نے انسان کو اتنی عقل اور شعور عطا کیا ہے کہ وہ ا کو استعمال کرتے ہوئے حق کو پہچان سکتا ہے۔
علی ابن ابی طالب کا قول بھی یہ ہے کہ پہلے حق کو پہچانو اور اس کے بعد اہل حق کو بھی پہچان لو گے-
 
Top