غزل

Sabra Amin نے 'اِصلاحِ سخن' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏مئی 13, 2020

  1. Sabra Amin

    Sabra Amin محفلین

    مراسلے:
    104
    عمر گذ ری ہے بے نوائ میں

    عشق کے دشت کی سیاحی میں


    عشق چھوڑے نہ جان عاشق کی

    یہ خرابہ ہے اس خرابی میں


    خود پیئے دل، پلائے ساقی کو

    یہ سخاوت ہے اس شرابی میں


    بن پئے بھی بہکتا ہے مے کش

    یہ قیامت ہے اس تباہی میں


    خاک چھانی اور خاک ہو بیٹھے

    ٹوٹا گھاٹا ہے اس کمائ میں


    گور میں جسم، دل اسی کے پاس

    یہ اسیری ہے اس رہائ میں
     
  2. Sabra Amin

    Sabra Amin محفلین

    مراسلے:
    104
  3. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    34,535
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    عمر گذ ری ہے بے نوائ میں

    عشق کے دشت کی سیاحی میں
    ... سیاحی لفظ میں ی پر تشدید ہوتی ہے، یہاں جس طرح یہ وزن میں آتی ہے، وہ 'سیاہی' کے بطور آ رہی ہے۔ اس کے علاوہ مجھے دونوں مصرعوں میں آپسی ربط بھی نہیں لگ رہا جسے اصطلاحاً دو لخت ہونے کی کیفیت کہا جاتا یے

    عشق چھوڑے نہ جان عاشق کی

    یہ خرابہ ہے اس خرابی میں
    .... خرابہ کس معنی میں؟ سمجھ نہیں سکا


    خود پیئے دل، پلائے ساقی کو

    یہ سخاوت ہے اس شرابی میں
    .....یہ بھی سوال تشنہ چھوڑ دے رہا ہے، کس شرابی میں؟ فاعل دل ہی ہے نا اور اسے ہی شرابی کہا جا رہا ہے؟ لیکن ساقی کو پلانے کی توجیہہ بھی تو دی جائے!

    بن پئے بھی بہکتا ہے مے کش

    یہ قیامت ہے اس تباہی میں
    ... بہکتا تقطیع میں محض بہکتَ آ رہا ہے، الف کا اسقاط ہو رہا ہے جو درست نہیں
    ... بہک گیا مے کش سے درست ہو سکتا یے۔ لیکن قیامت اور تباہی کی توجیہ نہیں کی گئی تو شعر واضح نہیں رہا


    خاک چھانی اور خاک ہو بیٹھے

    ٹوٹا گھاٹا ہے اس کمائ میں
    .. یہ بھی بے ربط لگتا ہے، تکنیکی طور پر درست شکل یوں ہو سکتی ہے
    خاک جب چھانی، خاک ہو بیٹھے
    کتنا گھاٹا ہے....
    لیکن خاک چھان کر کون کماتا ہے؟ مزدور ہی؟


    گور میں جسم، دل اسی کے پاس

    یہ اسیری ہے اس رہائ میں
    یہ شعر سمجھ میں آتا ہے کہ تعلق بن رہا ہے، بس وضاحت اور روانی کی خاطر
    قبر میں تن ہے.... بہتر ہو گا
    مجموعی طور پر یہ بہت خوش آئند ہے کہ طبع موزوں لے کر آئی ہو ماشاء اللہ، یہ اللہ کا کرم ہے اس کا شکر ادا کرو۔ تخیل بھی ماشاء اللہ بہت اچھا ہے، بس ذرا مطلب پوری طرح واضح نہیں ہوتا، شعر کی خوبی اگرچہ یہ بھی کہی گئی ہے کہ کچھ مبہم ہو، لیکن اتنا ابہام بھی نہ ہو کہ کچھ مطلب نکل ہی نہ سکے!
    اس کے علاوہ الفاظ کے درست تلفظ اور ان کے برتنے میں کچھ حروف کا اسقاط درست اور جایز ہے اور کچھ کا نہیں، یہ رفتہ رفتہ آسانی سے سیکھ لو گی ان شاء اللہ
     
  4. Sabra Amin

    Sabra Amin محفلین

    مراسلے:
    104
    محترم الف عین صاحب
    آداب
    ہر شعر کے الگ الگ تبصرے کو دیکھ کر لگا کہ ھنوز د لی (کہ جہاں میرے آباء کی نال گڑی ہے) دور است ۔ تاآنکہ آخری پیراگراف نہ پڑھ ڈالا ۔ بچت ہو گئ۔ اونٹ پہاڑ کے نیچے آنے کا مطلب پہلی مرتبہ صحیح سے سمجھ آیا ہے ۔ خرابہ کہیں پڑھا تھا تو استعمال کر ڈالا ۔ یہ لوگ بھی نہ ۔ ۔ ۔ پہلے "پورا گھاٹا " لکھا تھا بعد میں نظیر اکبر آبادی یاد آ گئے۔ ۔ ۔ "یا سود بڑھا کر لاوے گا یا ٹوٹا گھاٹا پاوے گا "۔ ۔ :) سوچا لوگ بڑے متاثر ہوں گے ۔ ۔ نہیں ہوئے ۔ ۔:arrogant: باقی ایک کتاب شاعری کی عروض سے مطلق ملی ہے ۔ ۔ امید بر آتی دکھائ دے رہی ہے ۔ ۔ وقت دینے کا بہت شکریہ ۔ ۔ اللہ بہترین جزا دے۔ ۔ آمین
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  5. Sabra Amin

    Sabra Amin محفلین

    مراسلے:
    104
    ٭متعلق
     
  6. GULLFAM SOHAIB ASLAM

    GULLFAM SOHAIB ASLAM محفلین

    مراسلے:
    37
    خرابہ میرے خیال سے اردو کا لفظ ہے جس کا مطلب ہے
    ویرانہ,کھنڈر,اجاڑ,وغیرہ
    باقی آپ احباب بہتر جانتے ہیں
     
  7. Sabra Amin

    Sabra Amin محفلین

    مراسلے:
    104
    جی آپ ٹھیک کہ رہے ہیں ۔ ۔ ‌خون ‌خرابہ بھی ہوتا ہے ۔ ۔ مگر الف عین صاحب غالبا یہ پوچھ رہے ہیں کہ میں نے کیوں استعمال کیا ہے۔ پہلے میں ان کا مطلب صحیح سے نہ سمجھ سکی، اب سمجھ آیا ہے ۔ ۔ جہالت بھی جاتے جاتے ہی جا تی ہے آخر ۔ ۔ بستی بسنا کھیل نہیں ہے بستے بستے بستی ہے۔ ۔ کوشش جاری ہے ۔ ۔ آپ کا شکریہ:)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  8. GULLFAM SOHAIB ASLAM

    GULLFAM SOHAIB ASLAM محفلین

    مراسلے:
    37
    جی آپا کوئ بات نہیں اللہ آپ کوثابت قدمی عطا فرماے
     
  9. Sabra Amin

    Sabra Amin محفلین

    مراسلے:
    104
    :):)
     

اس صفحے کی تشہیر