جاوید اختر غزل ۔ یہ تسلّی ہے کہ ہیں ناشاد سب ۔ جاوید اختر

محمداحمد

لائبریرین
غزل​
​
یہ تسلّی ہے کہ ہیں ناشاد سب​
میں اکیلا ہی نہیں، برباد سب​
​
سب کی خاطر ہیں یہاں سب اجنبی​
اور کہنے کو ہیں گھر آباد سب​
​
بھول کے سب رنجشیں سب ایک ہیں​
میں بتاؤں سب کو ہوگا یاد سب​
​
سب کو دعوائے وفا، سب کو یقیں​
اس اداکاری میں ہیں اُستاد سب​
​
شہر کے حاکم کا یہ فرمان ہے​
قید میں کہلائیں گے آزاد سب​
​
چار لفظوں میں کہو، جو بھی کہو​
اُس کو کب فرصت سُنے فریاد سب​
​
تلخیاں کیسے نہ ہوں اشعار میں​
ہم پہ جو گزری، ہمیں ہے یاد سب​
​
جاوید اختر​
 
محفل فورم صرف مطالعے کے لیے دستیاب ہے۔
Top