افتخار عارف غزل ۔ منصب نہ کُلاہ چاہتا ہوں ۔ افتخار عارف

محمداحمد

لائبریرین
غزل​
​
منصب نہ کُلاہ چاہتا ہوں​
تنہا ہوں گواہ چاہتا ہوں​
​
اے اجرِ عظیم دینے والے! ​
توفیقِ گناہ چاہتا ہوں​
​
میں شعلگیء وجود کی بیچ​
اک خطِّ سیاہ چاہتا ہوں​
​
ڈرتا ہُوں بہت بلندیوں سے​
پستی سے نباہ چاہتا ہوں​
​
وہ دن کے تجھے بھی بھول جاؤں​
اُس دِن سے پناہ چاہتا ہوں​
​
افتخار عارف​
 
محفل فورم صرف مطالعے کے لیے دستیاب ہے۔
Top