غزل ۔ مفقود جہاں تھے سبھی آثارِ فضیلت ۔ از ۔ محمد احمد

جی استاد جی کا ویٹ کرتے ہیں۔
آج کل وارث بھائی بھی بہت مصروف چل رہے ہیں۔
اور بڑے استاد جی بھی کچھ زیادہ ہی مصروف محسوس ہو رہے ہیں۔
 

الف عین

لائبریرین
کردار ہی جب اُس کے موافق نہیں تو پھر
کس کام کی ہے آپ کی گفتارِ فضیلت
درست بحر میں ہو جاتا ہے اگر اسے نَہِتو تقطیع کریں جو بہر حال کرخت ہے۔ متبادل شعر درست تو ہے، لیکن بسمل کا خیال بھی درست ہے۔
کردار ہی جب اس کے موافق نہ اگر ہو
کے بارے میں کیا خیال ہے؟
 

محمداحمد

لائبریرین
کردار ہی جب اُس کے موافق نہیں تو پھر
کس کام کی ہے آپ کی گفتارِ فضیلت
درست بحر میں ہو جاتا ہے اگر اسے نَہِتو تقطیع کریں جو بہر حال کرخت ہے۔ متبادل شعر درست تو ہے، لیکن بسمل کا خیال بھی درست ہے۔
کردار ہی جب اس کے موافق نہ اگر ہو
کے بارے میں کیا خیال ہے؟

شکریہ آپ کا تجویز کردہ مصرعہ اچھا لگ رہا ہے کہ اصل مصرعے کے قریب قریب ہی ہے۔
-----​
اس شعر کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟​
میں سادہ روش بات نہ سمجھاسکا اُن کو
حائل تھی کہیں بیچ میں دیوارِ فضیلت

کیا یہ ٹھیک ہے؟
 

محمداحمد

لائبریرین
کسی دوست کے پاس پہلی پوسٹ میں تدوین کے حقوق ہیں تو وہ براہِ کرم یہ دو اشعار تبدیل کردیں۔
میں سادہ روش بات نہ سمجھاسکا اُن کو​
حائل تھی کہیں بیچ میں دیوارِ فضیلت​
کردار ہی جب اس کے موافق نہ اگر ہو​
کس کام کی ہے آپ کی گفتارِ فضیلت​
 

محمداحمد

لائبریرین
کردار ہی جب اُس کے موافق نہیں تو پھر
کس کام کی ہے آپ کی گفتارِ فضیلت
اب صوفی و مُلا بھی ہیں بازار کی رونق
اب سجنے لگے جا بجا بازارِ فضیلت

واہ۔بہت خوب
اللہ کرے زورِ بیاں اور زیادہ ۔:)

بہت شکریہ فرحت صاحبہ۔

خوش رہیے۔
 

محمد وارث

لائبریرین
"غیر ضروری" مصروفیات کی وجہ سے تاخیر سے حاضری کیلیے معذرت خواہ ہوں احمد صاحب۔

آپ کا کلام ہر بار ہی پڑھ کر خوشی ہوتی ہے کہ اس میں انفرادیت ہوتی ہے اور یہی کچھ اس غزل میں ہے۔ کیا خوبصورت غزل ہے، کیا لاجواب اشعار ہیں۔ بہت داد قبول کیجیے۔

والسلام
 

محمد وارث

لائبریرین
کسی دوست کے پاس پہلی پوسٹ میں تدوین کے حقوق ہیں تو وہ براہِ کرم یہ دو اشعار تبدیل کردیں۔
میں سادہ روش بات نہ سمجھاسکا اُن کو​
حائل تھی کہیں بیچ میں دیوارِ فضیلت​
کردار ہی جب اس کے موافق نہ اگر ہو​
کس کام کی ہے آپ کی گفتارِ فضیلت​

جی مدون کر دیے ہیں۔
 
غزل
مفقود جہاں تھے سبھی آثارِ فضیلت
واں ناز سے باندھی گئی دستارِ فضیلت
میں سادہ روش بات نہ سمجھا سکا اُن کو
حائل تھی کہیں بیچ میں دیوارِ فضیلت
کردار ہی جب اُس کے موافق نہ اگر ہو
کس کام کی ہے آپ کی گفتارِ فضیلت
آؤ کہ گلی کوچوں میں بیٹھیں، کریں باتیں
دربارِ فضیلت میں ہے آزارِ فضیلت
اب صوفی و مُلا بھی ہیں بازار کی رونق
اب سجنے لگے جا بجا بازارِ فضیلت
آیا ہے عجب زہد فروشی کا زمانہ
رائج ہوئے ہیں درہم و دینارِ فضیلت
آنکھوں میں ریا، ہونٹوں پہ مسکان سجائے
ملتے ہیں کئی ایک اداکارِ فضیلت
بس علم و حلم، عجز و محبت ہو جس کے پاس
گر ہے کوئی تو وہ ہے سزاوارِ فضیلت
احمدؔ وہ اگر رمزِ سخن پا نہیں سکتے
ہوتے ہیں عبث آپ گناہگارِ فضیلت
محمد احمدؔ
محمد احمد بھائی خوبصورت غزل پر داد قبول فرمائیے۔

جہاں ہم بلال بھائی کی نظر کے معترف ہوئے کہ آپ کی اس عمدہ غزل میں سے بھی نکتہء اعتراض نکال ہی لیا، وہیں یہ بات خود بھول گئے کہ اصل غزل پر ابھی رائے نہیں دی ہے۔ امید ہے درگزر فرمائیں گے ۔
 

محمداحمد

لائبریرین
"غیر ضروری" مصروفیات کی وجہ سے تاخیر سے حاضری کیلیے معذرت خواہ ہوں احمد صاحب۔

آپ کا کلام ہر بار ہی پڑھ کر خوشی ہوتی ہے کہ اس میں انفرادیت ہوتی ہے اور یہی کچھ اس غزل میں ہے۔ کیا خوبصورت غزل ہے، کیا لاجواب اشعار ہیں۔ بہت داد قبول کیجیے۔

والسلام

محترم وارث بھائی۔۔۔۔! آپ دیر سے آئے لیکن درست آئے ۔ سو معذرت کا کہہ کر شرمندہ مت کیجے۔

غزل کے لئے آپ کی سندِ پسندیدگی ہمارے لئے باعثِ اعزاز و مسرت ہے۔:) یہ حوصلہ افزائی بہت کچھ کرنے کا عزم جگاتی ہے۔

بہت شکریہ۔
 

محمداحمد

لائبریرین
محمد احمد بھائی خوبصورت غزل پر داد قبول فرمائیے۔

جہاں ہم بلال بھائی کی نظر کے معترف ہوئے کہ آپ کی اس عمدہ غزل میں سے بھی نکتہء اعتراض نکال ہی لیا، وہیں یہ بات خود بھول گئے کہ اصل غزل پر ابھی رائے نہیں دی ہے۔ امید ہے درگزر فرمائیں گے ۔

ارے خلیل صاحب ، کیوں شرمندہ کرتے ہیں آپ۔ آپ کا اس لڑی تک آ جانا ہی ہمارے لئے بہت تھا۔ :)

بہت شکریہ داد و تحسین کا۔
 
Top