جاوید اختر غزل ۔ سچ ہے یہ بے کار ہمیں غم ہوتا ہے ۔ جاوید اختر

محمداحمد

لائبریرین
غزل ​
​
سچ ہے یہ بے کار ہمیں غم ہوتا ہے​
جو چاہا تھا، دنیا میں کم ہوتا ہے​
​
ڈھلتا سورج، پھیلا جنگل، رستہ گم​
ہم سے پوچھو کیسا عالم ہوتا ہے​
​
غیروں کو کب فرصت ہے دکھ دینے کی​
جب ہوتا ہے کوئی ہمدم ہوتا ہے​
​
زخم تو ہم نے ان آنکھوں سے دیکھے ہیں​
لوگوں سے سُنتے ہیں مرہم ہوتا ہے​
​
ذہن کی شاخوں پر اشعار آ جاتے ہیں​
جب تیری یادوں کا موسم ہوتا ہے​
​
جاوید اختر​
 

نیرنگ خیال

لائبریرین
پہلا مصرعہ تو مجھے اس مصرعہ کی یاد دلا گیا کہ شائد مجھے کسی سے محبت نہیں ہوئی۔۔۔
واہ احمد بھائی۔ لاجواب انتخاب :)
آپ نے آخر فرمائش پوری کر ہی ڈالی جاوید صاحب کی شاعری پیش کرنے والی۔ جزاک اللہ :)
 
محفل فورم صرف مطالعے کے لیے دستیاب ہے۔
Top