1. احباب کو اردو ویب کے سالانہ اخراجات کی مد میں تعاون کی دعوت دی جاتی ہے۔ مزید تفصیلات ملاحظہ فرمائیں!

    ہدف: $500
    $420.00
    اعلان ختم کریں
  2. اردو محفل سالگرہ چہاردہم

    اردو محفل کی یوم تاسیس کی چودہویں سالگرہ کے موقع پر تمام اردو طبقہ و محفلین کو دلی مبارکباد!

    اعلان ختم کریں

غزل ۔ راہ میں مرے آگے جب وہ خوبرو آئے۔ از کاشف اختر

کاشف اختر نے 'آپ کی شاعری (پابندِ بحور شاعری)' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ستمبر 13, 2017

ٹیگ:
  1. کاشف اختر

    کاشف اختر لائبریرین

    مراسلے:
    713
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Goofy
    راہ میں مرے آگے جب وہ خوبرو آئے
    دست میں لئے خنجر گویا کہ عدو آئے

    قیس یا کہ لیلی ہو ہیر ہو کہ رانجھا ہو
    حال پر مرے سب کی چشم سے لہو آئے

    جان لے اگر واعظ ، رمز جرات رندی
    لے کے کاسہ میخانے بہر جستجو آئے

    تاحیات ہم اس کی راہ یوں رہے تکتے
    کاش وہ دم رخصت بہر گفتگو آئے

    شیخ ِکعبہ رندوں سے بڑھ کے بے ادب نکلے
    میکدے میں جو تنہا آپ بے وضو آئے

    اتنی بات کی خاطرمیرے غم کی شہرت ہے
    بہر پرسش احوال کاش وہ عدو آئے

    توڑ کر خم و ساغر، منتظر ہوں اب تیرا
    ساقیا! مری توبہ توڑنے کو تو آئے

    مانگئے ہی اب کیوں کر تاب ضبط غم کاشف
    اشک ہی وہ آخر کیا جوکہ بے لہو آئے
     

اس صفحے کی تشہیر