1. احباب کو اردو ویب کے سالانہ اخراجات کی مد میں تعاون کی دعوت دی جاتی ہے۔ مزید تفصیلات ملاحظہ فرمائیں!

    ہدف: $500
    $418.00
    اعلان ختم کریں

لیاقت علی عاصم غزل ۔ راستے میں نہ آ شجر کی طرح ۔ لیاقت علی عاصم

محمداحمد نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏جولائی 21, 2009

  1. محمداحمد

    محمداحمد لائبریرین

    مراسلے:
    21,625
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    غزل

    راستے میں نہ آ شجر کی طرح
    مل کہیں دوپہر میں گھر کی طرح

    ہم اُسے دیکھنے کہاں جائیں
    ساتھ رہتا ہو جو نظر کی طرح

    لوگ دوڑے گھروں کی سمت آخر
    شام آئی بُری خبر کی طرح

    دور اُفق پر ہے آندھیوں کا ہجوم
    اور ہم بے خبر شجر کی طرح

    وہ ہوا ہے کہ اب تو بازو بھی
    ٹُوٹتے جا رہے ہیں پر کی طرح

    آنکھ تھی بند سیپ کی مانند
    اشک پلکوں پہ تھے گہر کی طرح

    لیاقت علی عاصم
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 4
  2. مغزل

    مغزل محفلین

    مراسلے:
    17,597
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Dunce
    رسیدی طغرہ حاضر است
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  3. محمداحمد

    محمداحمد لائبریرین

    مراسلے:
    21,625
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    شکریہ جناب اس رسید کا۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  4. مغزل

    مغزل محفلین

    مراسلے:
    17,597
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Dunce
    راستے میں نہ آ شجر کی طرح
    مل کہیں دوپہر میں گھر کی طرح

    ہم اُسے دیکھنے کہاں جائیں
    ساتھ رہتا ہو جو نظر کی طرح


    کیا کہنے سبحان اللہ ، واہ ، بہت عمدہ ، دوست پیش کرنے کو شکریہ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  5. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    25,070
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    بہت خوبصورت غزل ہے، شکریہ احمد صاحب شیئر کرنے کیلیے!
     

اس صفحے کی تشہیر