جون ایلیا غزل ۔ ایک سایہ مرا مسیحا تھا ۔ جون ایلیا

محمداحمد

لائبریرین
غزل​

ایک سایہ مرا مسیحا تھا
کون جانے، وہ کون تھا، کیا تھا​

وہ فقط صحن تک ہی آتی تھی
میں بھی حُجرے سے کم نکلتا تھا​

تجھ کو بھولا نہیں وہ شخص کے جو
تیری بانہوں میں بھی اکیلا تھا​

جان لیوا تھیں خواہشیں ورنہ
وصل سے انتظار اچھا تھا​

بات تو دل شکن ہے پر، یارو!
عقل سچی تھی، عشق جھوٹا تھا​

اپنے معیار تک نہ پہنچا میں
مجھ کو خود پر بڑا بھروسہ تھا​

جسم کی صاف گوئی کے با وصف
روح نے کتنا جھوٹ بولا تھا​

جون ایلیا​



بشکریہ: شاعری.کوم​
 
محفل فورم صرف مطالعے کے لیے دستیاب ہے۔
Top