کوئی بچوں کی شرارت کی شکایت نہ کرے
کیسے ممکن ہے کوئی بچہ شرارت نہ کرے

تتلیاں کھیلنے آتیں نہیں اب گلشن میں
مالی خائن ہے اسے کہہ دو خیانت نہ کرے

دیکھ کر حال یمن مصر و عراق و تونس
ایسا لگتا ہے کہ اب کوئی بغاوت نہ کرے

شام پوری طرح اب ہونے لگا ہے برباد
کاش اب روس اسد کی یوں حمایت نہ کرے

باغ الفت کو میں سینچا ہوں جگر کے خوں سے
کوئی بھی مجھ کو بھکانے کی جسارت نہ کرے

خود ہی شیشے کے وہ گھر میں ہے اسے یہ کہہ دو
مجھ پہ پتھر وہ چلانے کی حماقت نہ کرے

تیری خاطر ہی سجی آج کی محفل ثاقب
ہے یہ ناکام اگر تو ہی خطابت نہ کرے۔
 

عباد اللہ

محفلین
اصلاح تو اساتذہ ہی فرمائیں گے فقیر ہے داد و تحسین حسبِ ضرورت و منشا وصول کیجئے
دیکھ کر حال یمن مصر و عراق و تونس
ایسا لگتا ہے کہ اب کوئی بغاوت نہ کرے
مجھے تونس کا لفظ اچھا نہیں لگا
خیر یہ ایک عام قاری کی رائے ہے ہو سکتا ہے شاعری میں اس کی گنجائش ہو کیا عجب کہ یہی زیادہ فصیح ہو
دوسرا مصرع
ایسا لگتا ہے کہ اب کوئی بغاوت نہیں کرے گا
نہ کرے میں جو حکمیہ انداز ہے وہ ایسا لگتا ہے کے ساتھ نہیں جچتا
یہ بھی ذاتی رائے ہے
غزل پر بہت داد
 
بہ
اصلاح تو اساتذہ ہی فرمائیں گے فقیر ہے داد و تحسین حسبِ ضرورت و منشا وصول کیجئے

مجھے تونس کا لفظ اچھا نہیں لگا
خیر یہ ایک عام قاری کی رائے ہے ہو سکتا ہے شاعری میں اس کی گنجائش ہو کیا عجب کہ یہی زیادہ فصیح ہو
دوسرا مصرع
ایسا لگتا ہے کہ اب کوئی بغاوت نہیں کرے گا
نہ کرے میں جو حکمیہ انداز ہے وہ ایسا لگتا ہے کے ساتھ نہیں جچتا
یہ بھی ذاتی رائے ہے
غزل پر بہت داد
بہت بہت شکریہ بھائی
اللہ آپ کو جزاء خیر سے نوازے
آپ نے اپنی رائے کا اظہار مخلصانہ انداز میں کیا۔

اساتذہ کی آراء کا انتظار ہے، پھر ان شاء اللہ العزیز آپ اور استاذ شعراء حضرات کی اصلاح کی روشنی میں ضرور تعدیل کروں گا۔
اور
" بغاوت نہ کرے" سے امید کا اظہار مقصود ہے۔
 

عباد اللہ

محفلین
آخری تدوین:

الف عین

لائبریرین
دو اشعار مکمل سیاسی ہیں۔ جو کسی اخبار میں بھلے لگ سکتے ہیں لیکن شاعری نہیں۔
باغ الفت کو میں سینچا ہوں جگر کے خوں سے
کوئی بھی مجھ کو بھکانے کی جسارت نہ کرے
’میں سینچا ہوں‘ غلط ہے۔ ’میں نے سینچا ہے‘ ہونا چاہئے۔
بھکانے؟ اگر یہ بھگانے ہے تو ناگوار لفظ ہے۔ الفاظ بدل کر کوشش کریں
 

شاہد شاہنواز

لائبریرین
سر . . . حالات حاضرہ پر بھی تو غزل لکھی جاتی ہے تو اس حوالے سے فٹ نہیں ہوسکتے کیا . .قطع نظر کسی اتفاق یا اختلاف ؟
حالاتِ حاضرہ پر نظم تو ہوسکتی ہے، غزل میں محض اشارہ کیا جاتا ہے۔ واضح طور پر ممالک کے نام نہیں لیے جاتے کیونکہ ایسا کرنا اسے متنازعہ اور غیر فصیح بنا دیتا ہے جو ایک ناگوار بات ہے۔ حالانکہ بہت سے شعراء نے یہ روایت بدلنے کی کوشش کی لیکن وقت نے ثابت کیا کہ یہ اٹل ہے۔ ان کی غزل محض ان ہی کی غزل کہلائی۔ غزل کی تعریف کے اعتبار سے ہر حال میں اسے مسترد ہی کیا گیا اور خوب نکتہ چینی ہوئی۔
 
Top