غزل "نہ عروج دے نہ زوال دے" برائے پوسٹ مارٹم

ایک غزل جو مجھے بہت پسند ہے اور آج سے 15 سال قبل میرے نام سے شائع ہو چکی ہے، اصلاح اور مشورے کے لیے پیش کرنا چاہتا ہوں۔(در اصل اس محفل سے پہلے کبھی اصلاح لینے کا شرف حاصل نہیں ہوا)۔ اس میں کچھ اجزاء جناب بشیر بدر صاحب اور کچھ سرور بارہ بنکوی صاحب کی لمبی بحر کی غزلوں کی ہو بہو نقل ہیں مگر "عروج و زوال" کی ترتیب تو بہت عام ہے ،سو زوال کے ساتھ دوسرا لفظ عروج ہی ذہن میں آتا ہے۔ کیا ان اشعار کو خذف کر دینا چا ہیئے یا "" اس میں بند کرنا کافی ہو گا ؟؟
نہ عروج دے، نہ زوال دے
فقط اپنی راہ پہ ڈال دے
مجھے چھین لے غمِ دہر سے
فقط اپنے غم کا ملال دے
مرے خواب آنکھوں سے نوچ لے
کوئی سوچ دے نہ خیال دے
میں جو منزلوں کا حریص ہوں
مجھے راستوں کا وبال دے
مجھے مال و زر کی نہیں طلب
مرے فن کو اوجِ کمال دے
میری ظلمتوں میں کمی نہ کر
مرے جگنووں کو اجال دے
مری عاشقی ہے صبر طلب
مجھے فرصتِ مہ و سال دے
مرے سامعین ہیں کم فہم
مجھے حرف و صوتِ فعال دے
مجھے آئنے سے دہن بنا
میری حیرتوں کو سوال دے
میرے پھیلے ہاتھوں کو خوف ہے
کہ تو مسکرا کے نہ ٹال دے
ہوں ترے شعور سے ماوراء
مجھے اپنے دل سے نکال دے

بطور شاگرد افاعیل میرے خیال میں"متفاعلن متفاعلن" ؟؟ کامل مربع سالم؟؟
حوالہ:
https://www.facebook.com/DDIAST/posts/409902825755609
http://urdunotepad.com/view/6dfeb78a
http://www.urdumajlis.net/threads/ہمیں-جاہ-دے-نہ-جلال-دے.28500/
 
ایک غزل جو مجھے بہت پسند ہے اور آج سے 15 سال قبل میرے نام سے شائع ہو چکی ہے، اصلاح اور مشورے کے لیے پیش کرنا چاہتا ہوں۔(در اصل اس محفل سے پہلے کبھی اصلاح لینے کا شرف حاصل نہیں ہوا)۔ اس میں کچھ اجزاء جناب بشیر بدر صاحب اور کچھ سرور بارہ بنکوی صاحب کی لمبی بحر کی غزلوں کی ہو بہو نقل ہیں مگر "عروج و زوال" کی ترتیب تو بہت عام ہے ،سو زوال کے ساتھ دوسرا لفظ عروج ہی ذہن میں آتا ہے۔ کیا ان اشعار کو خذف کر دینا چا ہیئے یا "" اس میں بند کرنا کافی ہو گا ؟؟
نہ عروج دے، نہ زوال دے
فقط اپنی راہ پہ ڈال دے
مجھے چھین لے غمِ دہر سے
فقط اپنے غم کا ملال دے
مرے خواب آنکھوں سے نوچ لے
کوئی سوچ دے نہ خیال دے
میں جو منزلوں کا حریص ہوں
مجھے راستوں کا وبال دے
مجھے مال و زر کی نہیں طلب
مرے فن کو اوجِ کمال دے
میری ظلمتوں میں کمی نہ کر
مرے جگنووں کو اجال دے
مری عاشقی ہے صبر طلب
مجھے فرصتِ مہ و سال دے
مرے سامعین ہیں کم فہم
مجھے حرف و صوتِ فعال دے
مجھے آئنے سے دہن بنا
میری حیرتوں کو سوال دے
میرے پھیلے ہاتھوں کو خوف ہے
کہ تو مسکرا کے نہ ٹال دے
ہوں ترے شعور سے ماوراء
مجھے اپنے دل سے نکال دے

بطور شاگرد افاعیل میرے خیال میں"متفاعلن متفاعلن" ؟؟ کامل مربع سالم؟؟
حوالہ:
https://www.facebook.com/DDIAST/posts/409902825755609
http://urdunotepad.com/view/6dfeb78a
http://www.urdumajlis.net/threads/ہمیں-جاہ-دے-نہ-جلال-دے.28500/

بھائی پوسٹ مارٹم تو مردوں کا ہوتا ہے ۔
براہِ کرم مردوں میں میم کو مضموم پڑھیں
یہ تو جیتی جاگتی مسلسل غزل ہے ۔ وزن کے اعتبار سے تو آپ کا کلام بے نقص ہوتا ہے ۔ بس نفسِ مضمون پر ایک دو اشارے میری طرف سے اجمالًا۔

۔مطلع ٹھیک نہیں ۔ عروج و زوال راہِ عشقکے مخالف و متضاد نہیں ہیں ۔ یوں بہتر ہوسکتا ہے کہ:
تو عروج دے کہ زوال دے
فقط اپنی راہ پہ ڈال دے

۔ مری عاشقی ہے صبر طلب : اس مصرع میں آپ نے صبر کو غلط تلفظ سے باندھا ہے ۔ چنانچہ خارج از وزن ہوگیا ۔

۔ مرے سامعین ہیں کم فہم : اسے نکال دیں ۔ ایسا مصرع کہنا کسی بھی شاعر کو زیب نہیں دیتا ۔ یہ تو میرو غالب نے بھی نہیں کہا ۔ لطیف اشارے اور کنائے میں بات کرنا اور ہوتا ہے لیکن ایسی لٹھ مار بات کہنا تو بے ادبی ہے ۔ پیرایہء سخن ہمیشہ شاعرانہ ہونا چاہیئے ۔

۔ مجھے آئنے سے دہن بنا : مصرع مجھےٹھیک نہیں لگا ۔ میری رائے میں مرے آئنے کو دہن عطاکر یا گویائی عطا کر وغیرہ ہونا چاہئے ۔

۔ آخری شعریکایک انداز بدل گیا۔ یہ شعر بقیہ نظم سے متضاد ہے ۔ پہلے تو آپ محبوب کو مختارِ کل بنا کر اس سے اپنے لئے پورا جہان طلب کررہے تھے اور اب کہ رہے ہیں کہ میں ترے شعور سے ماوراء ہوں ؟؟!! :):):)
اسے درست کریں یا بقیہ نظم کی خاطر اسے عاق کردیں ۔
 
بہت بہت شکریہ ظہیر بھائی !! آپ نے اس قدر تفصیل سے تجزیہ کیا۔ میں اس توجہ کے لیے ممنون ہوں اور آپ کی راہ نمائی کے مطا بق غزل کو بہتر انداز میں جلد دوبارہ پیش کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔
پوسٹ مارٹم کا لفظ اس لیے استعمال کیا کہ غزل بہت پہلےہی شائع ہو چکی ہے مگر اسا تذہ تک رسائی اب ممکن ہوئی۔
 

الف عین

لائبریرین
ماشاء اللہ، اچھی غزل ہے۔ بحر و اوزان کے بارے میں ظہیر احمد ظہیر سے متفق ہوں۔ ایک بات اور ۔۔ اسے الا کی غلطی کہا جائے یا ّروضی غلطی۔
متفاعلن کے افاعیل میں مجھے، مرا،مری،، ترا، ترے تو درست ہے لیکن مکمل ’تیرا‘ ’میرا‘ غلط ہے۔ اسی طرح لکھنا بھی چاہئے۔ی محض مُ تَ کے وزن پر ہوتا ہے۔
 
ماشاء اللہ، اچھی غزل ہے۔ بحر و اوزان کے بارے میں ظہیر احمد ظہیر سے متفق ہوں۔ ایک بات اور ۔۔ اسے الا کی غلطی کہا جائے یا ّروضی غلطی۔
متفاعلن کے افاعیل میں مجھے، مرا،مری،، ترا، ترے تو درست ہے لیکن مکمل ’تیرا‘ ’میرا‘ غلط ہے۔ اسی طرح لکھنا بھی چاہئے۔ی محض مُ تَ کے وزن پر ہوتا ہے۔
محترم الف عین صاحب ، حوصلہ افزائی کے لیے آپ کا شکر گزار ہوں۔ افاعیل کی نسبت ابھی آ پ سے بہت کچھ سیکھنے کا ارادہ ہے مگر آہستہ آہستہ تاکہ ذہن میں سما سکے۔
 
ماشاء اللہ، اچھی غزل ہے۔ بحر و اوزان کے بارے میں ظہیر احمد ظہیر سے متفق ہوں۔ ایک بات اور ۔۔ اسے الا کی غلطی کہا جائے یا ّروضی غلطی۔
متفاعلن کے افاعیل میں مجھے، مرا،مری،، ترا، ترے تو درست ہے لیکن مکمل ’تیرا‘ ’میرا‘ غلط ہے۔ اسی طرح لکھنا بھی چاہئے۔ی محض مُ تَ کے وزن پر ہوتا ہے۔
پذیرائی کا بہت شکریہ خلیل بھائی۔ صبر پہ شد لگانے سے وزن تو بن گیا مگر تلفظ غلط ہو گیا۔ تصحیح کے ساتھ دوبارہ حاضر ہوتا ہوں۔
بالکل درست نشاندہی کی ہے جناب اعجاز عبید صاحب نے۔ ایک دو مصرعوں مین جہاں ترے مرے کے بجائے تیرا میرا لکھا گیا ہے اسے درست کرلیجئے ۔ دوسری بات یہ کہ اگر آپ صبر پر شد لگاتے ہیں تو ٹھیک نہین کرتے ۔ اس لفظ میں آخری دو حروف ساکن ہیں اور ص پر زبر ہے ۔
 

الف عین

لائبریرین
لیکن میری املا کی غلطیوں کی کوئی نشان دہی نہیں کرتا!! میں جلدی ٹائپ کرنے کی کوشش میں یا کی بورڈ کی کنجیوں کو درست پریشر سے نہ دبانے کی وجہ سے کئی حروف چھوڑ دیتا ہوں۔ جیسے’املا‘ کو ’الا‘ لکھا گیاہے ۔ اور عروضی کو بھی غلط لکھا گیا ہے۔ افسوس یہ ہے کہ بعد میں دیکھتا بھی کم ہی ہوں۔
 
لیکن میری املا کی غلطیوں کی کوئی نشان دہی نہیں کرتا!! میں جلدی ٹائپ کرنے کی کوشش میں یا کی بورڈ کی کنجیوں کو درست پریشر سے نہ دبانے کی وجہ سے کئی حروف چھوڑ دیتا ہوں۔ جیسے’املا‘ کو ’الا‘ لکھا گیاہے ۔ اور عروضی کو بھی غلط لکھا گیا ہے۔ افسوس یہ ہے کہ بعد میں دیکھتا بھی کم ہی ہوں۔
اعجاز صاحب ۔ میں تو سمجھ گیا تھا کہ آپ کیا کہنا چاہ رہے ہیں ۔ جلدی جلدی ٹائپ کرنے میں ایسا تو ہو ہی جاتا ہے ۔ آپ مصروف آدمی ہیں ۔ دیگر احباب بھی سمجھتے ہین اس بات کو اور شاید اسی لئے نشاندہی کی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔

الف عین
 
غزل(تصحیح کے ساتھ)
تو عروج دے کہ زوال دے
فقط اپنی راہ پہ ڈال دے
مجھے چھین لے غمِ دہر سے
فقط اپنے غم کا ملال دے
مرے خواب آنکھوں سے نوچ لے
کوئی سوچ دے نہ خیال دے
میں جو منزلوں کا حریص ہوں
مجھے راستوں کا وبال دے
مجھے مال و زر کی نہیں طلب
مرے فن کو اوجِ کمال دے
میری ظلمتوں میں کمی نہ کر
مرے جگنووں کو اجال دے
ہے بہت طویل رہِ وفا
مجھے فرصتِ مہ و سال دے
جو سمجھ سکیں مرے سامعیں
وہی
حرف و صوتِ فعال دے
میرے آئنے کو زباں ملے
میری حیرتوں کو سوال دے
میرے پھیلے ہاتھوں کو خوف ہے
کہ تو مسکرا کے نہ ٹال دے
 

mohd anees charak

محفلین
ایک غزل جو مجھے بہت پسند ہے اور آج سے 15 سال قبل میرے نام سے شائع ہو چکی ہے، اصلاح اور مشورے کے لیے پیش کرنا چاہتا ہوں۔(در اصل اس محفل سے پہلے کبھی اصلاح لینے کا شرف حاصل نہیں ہوا)۔ اس میں کچھ اجزاء جناب بشیر بدر صاحب اور کچھ سرور بارہ بنکوی صاحب کی لمبی بحر کی غزلوں کی ہو بہو نقل ہیں مگر "عروج و زوال" کی ترتیب تو بہت عام ہے ،سو زوال کے ساتھ دوسرا لفظ عروج ہی ذہن میں آتا ہے۔ کیا ان اشعار کو خذف کر دینا چا ہیئے یا "" اس میں بند کرنا کافی ہو گا ؟؟
نہ عروج دے، نہ زوال دے
فقط اپنی راہ پہ ڈال دے
مجھے چھین لے غمِ دہر سے
فقط اپنے غم کا ملال دے
مرے خواب آنکھوں سے نوچ لے
کوئی سوچ دے نہ خیال دے
میں جو منزلوں کا حریص ہوں
مجھے راستوں کا وبال دے
مجھے مال و زر کی نہیں طلب
مرے فن کو اوجِ کمال دے
میری ظلمتوں میں کمی نہ کر
مرے جگنووں کو اجال دے
مری عاشقی ہے صبر طلب
مجھے فرصتِ مہ و سال دے
مرے سامعین ہیں کم فہم
مجھے حرف و صوتِ فعال دے
مجھے آئنے سے دہن بنا
میری حیرتوں کو سوال دے
میرے پھیلے ہاتھوں کو خوف ہے
کہ تو مسکرا کے نہ ٹال دے
ہوں ترے شعور سے ماوراء
مجھے اپنے دل سے نکال دے

بطور شاگرد افاعیل میرے خیال میں"متفاعلن متفاعلن" ؟؟ کامل مربع سالم؟؟
حوالہ:
http://urdunotepad.com/view/6dfeb78a
http://www.urdumajlis.net/threads/ہمیں-جاہ-دے-نہ-جلال-دے.28500/
سر وٹس اپ یونی ورسٹی کے زریعے سے یہ غزل علامہ اقبال سے منسوب کی جاتی ہے اور غزل کے آغاز سے پہلے موٹے حروف میں علامہ اقبال کا نام بھی درج ہے میں نے بہت سے ایسے فوٹو دیکھے ہیں جن میں تحریر یہی ہے اور نام علامہ اقبال کا درج ہے۔کچھ دن پہلے ایک صاحب نے اپنے وٹس اپ سٹیٹس پہ یہی غزل اپڈیٹ کی غزل کے آغاز سے پہلے علامہ اقبال کا نام درج تھا آپ کا م یہ مضمون میری نظر سے گزر چکا تھا میں نے اس غزل کی تردید کی اور آپ کا حوالہ دیا۔شکریہ
 
آخری تدوین:

منہاج علی

محفلین
مرے سامعین ہیں کم فہم
’’فہم‘‘ لفظ ’’درد‘‘ کا ہم وزن ہے۔ آپ نے اسے ’’کرَم‘‘ کے وزن پر باندھا ہے۔ میرؔ کا ایک شعر منقبتِ مولا علیؑ سے ملاحظہ ہو۔
ایسے مظہر کا فہم ہے دشوار
ہے یہ وہ ایک جس کے نام ہزار
 

ضیاء ملک

محفلین
ایک غزل جو مجھے بہت پسند ہے اور آج سے 15 سال قبل میرے نام سے شائع ہو چکی ہے، اصلاح اور مشورے کے لیے پیش کرنا چاہتا ہوں۔(در اصل اس محفل سے پہلے کبھی اصلاح لینے کا شرف حاصل نہیں ہوا)۔ اس میں کچھ اجزاء جناب بشیر بدر صاحب اور کچھ سرور بارہ بنکوی صاحب کی لمبی بحر کی غزلوں کی ہو بہو نقل ہیں مگر "عروج و زوال" کی ترتیب تو بہت عام ہے ،سو زوال کے ساتھ دوسرا لفظ عروج ہی ذہن میں آتا ہے۔ کیا ان اشعار کو خذف کر دینا چا ہیئے یا "" اس میں بند کرنا کافی ہو گا ؟؟
نہ عروج دے، نہ زوال دے
فقط اپنی راہ پہ ڈال دے
مجھے چھین لے غمِ دہر سے
فقط اپنے غم کا ملال دے
مرے خواب آنکھوں سے نوچ لے
کوئی سوچ دے نہ خیال دے
میں جو منزلوں کا حریص ہوں
مجھے راستوں کا وبال دے
مجھے مال و زر کی نہیں طلب
مرے فن کو اوجِ کمال دے
میری ظلمتوں میں کمی نہ کر
مرے جگنووں کو اجال دے
مری عاشقی ہے صبر طلب
مجھے فرصتِ مہ و سال دے
مرے سامعین ہیں کم فہم
مجھے حرف و صوتِ فعال دے
مجھے آئنے سے دہن بنا
میری حیرتوں کو سوال دے
میرے پھیلے ہاتھوں کو خوف ہے
کہ تو مسکرا کے نہ ٹال دے
ہوں ترے شعور سے ماوراء
مجھے اپنے دل سے نکال دے

بطور شاگرد افاعیل میرے خیال میں"متفاعلن متفاعلن" ؟؟ کامل مربع سالم؟؟
حوالہ:
http://urdunotepad.com/view/6dfeb78a
http://www.urdumajlis.net/threads/ہمیں-جاہ-دے-نہ-جلال-دے.28500/


اب اس غزل کو خان صاحب نے کافی مشہور کرڈالا۔ پر اول اسے علامہ اقبال سے منسوب کیا اور پھر اسے نظم قرار دیا۔ علامہ اقبال سے نسبت کی تصیح تو خان صاحب نے کردی پر نظم قرار دیے جانے کی تصیح فی الوقت تک نہیں ہوسکی۔
 
پذیرائی کے لئے تمام اہل محفل کا بہت شکریہ۔ آج کئی برس بعد اصلاح سخن فورم کو دوبارہ دیکھنے کا موقع ملا۔ اور لگتا ہےجیسے اردو ٹائپنگ بھی بھول گئی۔کچھ تازہ اشعار الگ لڑی میں اصلاح کے لئے پیش کرتا ہوں، امید ہے آپ سب راہ نمائی فرمائیں گے۔:)
 
Top