غزل--- محبت نہیں رہی

شبنم

محفلین
51049688c9e97a39.gif
 

مغزل

محفلین
اوہ۔۔۔۔موڈریٹر صاحبان براہ کرم اس کا ٹائٹل ٹھیک کر دیجیئے
محبت نہیں رہی------نوازش

بہت شکریہ خاتون:
عنوان تو مدیران ہی دیکھیں گے ۔ ایک گزارش ہے کہ اپنا کلام یہاں تحریری شکل میں پیش کریں کہ آسانی رہے۔
ویسے میں نے اسے تحریری قالب میں ڈھالا تو ہے آپ دیکھ لیجے ٹھیک ہے یا نہیں۔
والسلام

غزل

فطرت بدل گئی ، کہ عادت نہیں رہی
اے دل کیوں تجھے محبت نہیں رہی

نیندوں کو ملا ہے اک بے طلب سکون
اب خواب دیکھنے کی ضرورت نہیں رہی

ہوس نے تراشے ہیں اصنام صد ہزار
عشق میں توحید ، روایت نہیں رہی

اٹھتے ہیں ہاتھ ، مگر اک بے دلی کے ساتھ
اب اپنی دعاؤں میں ریاضت نہیں رہی

یا ہم نہیں تھے کبھی اس دل کے دھڑکن
یا اب دل کو دھڑکنے سے نسبت نہیں رہی

شبنم
 

مغزل

محفلین
غزل خوب ہے ۔ اچھی کوشش ہے ۔ باقی اساتذہ کرام فرمائیں گے ۔
کوشش جاری رکھیں ۔ جلد ہی اپنے آپ کو بحیثیت شاعرہ منوالیں گی۔
اللہ کرے زورِ‌قلم ، مشقِ سخن تیز
والسلام
 

الف عین

لائبریرین
شبنم۔ غزل خیالات اور فکر کے لحاظ سے بہت خوب ہے۔ لیکن صرف دو ایک مصرع وزن میں ہیں۔ تقطیع کرنا سیکھیں تو اور وزن میں لکھیں۔ تفسیر اور وارث نے اس سلسلے میں بہت کچھ لکھا ہے اسی فورم میں۔ ان کو پڑھیں توتقطیع کرنی سیکھ جائیں گی انشاء اللہ۔
 

ارشد خان

محفلین
اچھی غزل ہے ۔ لیکن مقطع میں شاعر کا تخلص آتا ہے ۔ آپ نے ا ستعما ل نہیں کیا ۔ کیوں ؟

غزل کا حسن مقطع میں شاعر کے تخلص سے آتا ہے ۔ خوش رہو
 

مغزل

محفلین
عموما٘ شاعرات تخلص کا استعمال نہیں کرتی ہیں کہ مقطع نگاری کی مشقت سے جان بچی رہے۔ کئی ایک مرد حضرات نے بھی یہی کیا
 

شبنم

محفلین
آپ سب کا بے حد شکریہ
جی ضرور ہم پڑھیں گے تاکہ رہنمائی حاصل ھو
بہت خوش رہیئے آمین
 

مغزل

محفلین
ّع ع ( عارف عزیز )صاحب شاید آپ اسے میری غزل پر معمول کررہے ہیں ۔( جناب کے مراسلے کی طرف اشارہ ہے)
یہ کلام بزم میں تشریف لانے والی شاعرہ شبنم کا ہے ۔ انہوں نے تصویری آہنگ میں کلا م پیش کیا تھا جب کہ میں نے اسے
تحریری شکل تبدیل کر کے پیش کیا ہے ۔۔ ( اگر تو آپ کا اشارہ واقعی میری غزل کی طرف ہے تو اس لڑی میں جناب کو خوش آمدید)
والسلام
 
Top