غزل : مانگ بھی لیتے اگر ہم تو دعا کیا دیتی - فرحان محمد خان

فرحان محمد خان نے 'آپ کی شاعری (پابندِ بحور شاعری)' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏مارچ 16, 2019 2:44 شام

  1. فرحان محمد خان

    فرحان محمد خان محفلین

    مراسلے:
    1,969
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheeky
    غزل
    گلِ پژمردہ کو اک بادِ صبا کیا دیتی
    مانگ بھی لیتے اگر ہم تو دعا کیا دیتی

    وسوسوں اور سوالوں کے سوا کیا دیتی
    عقل کامل بھی اگر ہوتی بھلا کیا دیتی

    بے نیازی ہی مقدر ہے ہمارا شاید
    تیری مخلوق ہمیں تجھ سےجدا کیا دیتی

    بے نواؤں کی خدا تک نہیں جاتی فریاد
    بے نواؤں کو بھلا خلقِ خدا کیا دیتی

    اپنے اجداد کی قبروں سے بھی گھن آتی ہے
    اور کہیے ہمیں مغرب کی ہوا کیا دیتی

    کہہ رہی تھی سرِ بازار طوائف زادی
    پیٹ بھرنے کو مجھے میری حیا کیا دیتی

    لوٹ آئے ہیں درِ یار سے ،دستک نہیں دی
    جہاں احساس نہ کام آئے صدا کیا دیتی

    زندگی گزری سلگتی ہوئی سگرٹ کی طرح
    اس سے بڑھ کر مجھے یک طرفہ وفا کیا دیتی

    اتنا کافی ہے کہ زندہ ہوں ترے بعد بھی میں
    زندگی اور مجھے جینے کی سزا کیا دیتی

    تیرگی میرا مقدر ہے ، مجھے آس سے کیا
    عارضی شمع مرے گھر کو ضیا کیا دیتی
    فرحان محمد خان
     
    آخری تدوین: ‏مارچ 16, 2019 2:49 شام
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
    • زبردست زبردست × 3
  2. یاسر شاہ

    یاسر شاہ محفلین

    مراسلے:
    521
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheerful
    السلام علیکم بھائی فرحان -

    گلِ پژمردہ کو اک بادِ صبا کیا دیتی
    مانگ بھی لیتے اگر ہم تو دعا کیا دیتی

    واہ صاحب واہ -

    وسوسوں اور سوالوں کے سوا کیا دیتی
    عقل کامل بھی اگر ہوتی بھلا کیا دیتی

    خوب -

    بے نیازی ہی مقدر ہے ہمارا شاید
    تیری مخلوق ہمیں تجھ سےجدا کیا دیتی

    بہت خوب -

    بے نواؤں کی خدا تک نہیں جاتی فریاد
    بے نواؤں کو بھلا خلقِ خدا کیا دیتی

    پہلا مصرع مایوس لگا -بقول مجذوب علیہ الرحمہ

    دل کی بات آنکھوں سے پا لی جائے گی
    بے سوالی بھی نہ خالی جائے گی

    کسی پر امید سینے سے قریب رہیے -

    اپنے اجداد کی قبروں سے بھی گھن آتی ہے
    اور کہیے ہمیں مغرب کی ہوا کیا دیتی

    آہ -

    کہہ رہی تھی سرِ بازار طوائف زادی
    پیٹ بھرنے کو مجھے میری حیا کیا دیتی

    آہ -

    لوٹ آئے ہیں درِ یار سے ،دستک نہیں دی
    جہاں احساس نہ کام آئے صدا کیا دیتی

    اپنا ہی ایک شعر یاد آیا -

    بھیگو برسات میں کہ رات گئے
    کس کا دروازہ کھٹکھٹاؤ گے

    زندگی گزری سلگتی ہوئی سگرٹ کی طرح
    اس سے بڑھ کر مجھے یک طرفہ وفا کیا دیتی

    واہ -

    اتنا کافی ہے کہ زندہ ہوں ترے بعد بھی میں
    زندگی اور مجھے جینے کی سزا کیا دیتی

    اچھا ہے -بعضوں کے نزدیک "اور" اس مطلب میں "فاع " کے وزن پر مناسب ہے -

    تیرگی میرا مقدر ہے ، مجھے آس سے کیا
    عارضی شمع مرے گھر کو ضیا کیا دیتی

    بھائی اس قدر غم -

    اللہ ﷻآپ کو خوش رکھے -آمین
     
  3. عاطف ملک

    عاطف ملک محفلین

    مراسلے:
    988
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Innocent
    بہت خوب فرحان بھائی
    ایک ایک شعر لاجواب
    ڈھیر ساری داد قبول کیجیے
    اللہ کرے زورِ قلم اور زیادہ:)
     
  4. سفیر آفریدی

    سفیر آفریدی محفلین

    مراسلے:
    398
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Brooding
    جہاں احساس نہ کام آئے صدا کیا دیتی
     
  5. فاخر رضا

    فاخر رضا محفلین

    مراسلے:
    2,501
    کیا یہاں اور کو دبانا جائز ہے
     
  6. فاخر رضا

    فاخر رضا محفلین

    مراسلے:
    2,501
    بہت اچھی غزل ہے
     

اس صفحے کی تشہیر