غزل: صرف ایک شکایت ہے، نہیں کوئی گلا اور ٭ نعیم صدیقیؒ

محمد تابش صدیقی نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اکتوبر 19, 2019

  1. محمد تابش صدیقی

    محمد تابش صدیقی منتظم

    مراسلے:
    24,074
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    صرف ایک شکایت ہے، نہیں کوئی گلا اور
    کہنے کو کہا اور تو کرنے کو کیا اور

    یہ اپنے خداوند سے بچھڑا ہوا بنده
    پوجا کے لیے روز بناتا ہے خدا اور

    اس دور میں جو عشق کرے سوچ لے پہلے
    یہ اور زمانہ ہے، زمانے کی ہوا اور

    بھیگی ہوئی پلکیں ہوں تو پھیلا ہوا دامن
    مائل بہ کرم وہ ہوں تو پھر چاہیے کیا اور

    یہ ہم ہی سمجھتے ہیں، خطا ہم سے ہوئی کیا
    ہیں دار و رسن ہیچ کہ ہے اس کی سزا اور

    اب منزلِ جاناں کے کٹھن موڑ ہیں آگے
    اب راہنما اور، حُدی اور، دِرا اور

    صیاد ترے دام کو پہچان گئے صید
    اب دام بچھا اور کوئی، دانہ گِرا اور

    اپناؤ نہ تم عام حسینوں کی ادائیں
    اسلوبِ ستم اور کوئی طرزِ جفا اور

    چارہ غمِ جاناں کا طبیبوں سے نہ ہوگا
    کہتے ہیں کہ اس درد کی ہے کوئی دوا اور

    گلشن کی فضاؤں میں بھی کر دیکھیں اڑانیں
    یاں کنجِ قفس میں ہے پھڑکنے کا مزا اور

    ہوتا ہے کبھی یوں بھی محبت کے جہاں میں
    کرتے ہیں خطا اور تو ہوتی ہے عطا اور

    ٭٭٭
    نعیم صدیقیؒ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • زبردست زبردست × 1
  2. ظہیراحمدظہیر

    ظہیراحمدظہیر محفلین

    مراسلے:
    2,451
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy
    بھیگی ہوئی پلکیں ہوں تو پھیلا ہوا دامن
    مائل بہ کرم وہ ہوں تو پھر چاہیے کیا اور

    سبحان اللہ سبحان اللہ ! کیا بات ہے! بہت خوب!!!!!

    کہتے ہیں کہ اس دور کی ہے کوئی دوا اور

    تابش بھائی ، مجھے لگ رہا ہے کہ یہاں دور کے بجائے درد ہوگا ۔ ذرا دیکھ لیجے گا ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  3. محمد تابش صدیقی

    محمد تابش صدیقی منتظم

    مراسلے:
    24,074
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    جزاک اللہ خیر
    دراصل آج کل گوگل وائس ٹائپنگ کے ذریعے لکھ رہا ہوں۔ کچھ نہ کچھ نوک پلک سنوارنی پڑتی ہے۔ اس طرح کی اکا دکا غلطیاں نظر سے گزرنے سے رہ جاتی ہیں۔ :)
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1

اس صفحے کی تشہیر