غزل: صرف ایک شکایت ہے، نہیں کوئی گلا اور ٭ نعیم صدیقیؒ

صرف ایک شکایت ہے، نہیں کوئی گلا اور
کہنے کو کہا اور تو کرنے کو کیا اور

یہ اپنے خداوند سے بچھڑا ہوا بنده
پوجا کے لیے روز بناتا ہے خدا اور

اس دور میں جو عشق کرے سوچ لے پہلے
یہ اور زمانہ ہے، زمانے کی ہوا اور

بھیگی ہوئی پلکیں ہوں تو پھیلا ہوا دامن
مائل بہ کرم وہ ہوں تو پھر چاہیے کیا اور

یہ ہم ہی سمجھتے ہیں، خطا ہم سے ہوئی کیا
ہیں دار و رسن ہیچ کہ ہے اس کی سزا اور

اب منزلِ جاناں کے کٹھن موڑ ہیں آگے
اب راہنما اور، حُدی اور، دِرا اور

صیاد ترے دام کو پہچان گئے صید
اب دام بچھا اور کوئی، دانہ گِرا اور

اپناؤ نہ تم عام حسینوں کی ادائیں
اسلوبِ ستم اور کوئی طرزِ جفا اور

چارہ غمِ جاناں کا طبیبوں سے نہ ہوگا
کہتے ہیں کہ اس درد کی ہے کوئی دوا اور

گلشن کی فضاؤں میں بھی کر دیکھیں اڑانیں
یاں کنجِ قفس میں ہے پھڑکنے کا مزا اور

ہوتا ہے کبھی یوں بھی محبت کے جہاں میں
کرتے ہیں خطا اور تو ہوتی ہے عطا اور

٭٭٭
نعیم صدیقیؒ
 
بھیگی ہوئی پلکیں ہوں تو پھیلا ہوا دامن
مائل بہ کرم وہ ہوں تو پھر چاہیے کیا اور

سبحان اللہ سبحان اللہ ! کیا بات ہے! بہت خوب!!!!!

کہتے ہیں کہ اس دور کی ہے کوئی دوا اور

تابش بھائی ، مجھے لگ رہا ہے کہ یہاں دور کے بجائے درد ہوگا ۔ ذرا دیکھ لیجے گا ۔
 
تابش بھائی ، مجھے لگ رہا ہے کہ یہاں دور کے بجائے درد ہوگا ۔ ذرا دیکھ لیجے گا ۔
جزاک اللہ خیر
دراصل آج کل گوگل وائس ٹائپنگ کے ذریعے لکھ رہا ہوں۔ کچھ نہ کچھ نوک پلک سنوارنی پڑتی ہے۔ اس طرح کی اکا دکا غلطیاں نظر سے گزرنے سے رہ جاتی ہیں۔ :)
 
Top