غزل: سمجھتے ہیں مگر سمجھائیں یہ اسرار کیسے ٭ جلیل عالیؔ

محمد تابش صدیقی نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏فروری 12, 2020

  1. محمد تابش صدیقی

    محمد تابش صدیقی منتظم

    مراسلے:
    25,125
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    سمجھتے ہیں مگر سمجھائیں یہ اسرار کیسے
    کہ اپنے راستے ہونے لگے ہموار کیسے

    جہاں مضبوط بیڑے بھی نہ بچ پائیں بھنور سے
    شکستہ ناؤ کر جاتی ہے دریا پار کیسے

    خبر کس کو کرشمہ ہے دوا کا یا دعا کا
    دنوں میں دُور اپنے ہو گئے آزار کیسے

    کبھی سرگوشیاں اندر کی سن پائیں تو جانیں
    کہ آنکھیں دیکھ سکتی ہیں پسِ دیوار کیسے

    وہ جو کل تک خدا خود کو سمجھتا تھا زمین پر
    اسے دیکھو زمانے نے کیا لاچار کیسے

    کہانی کار خود حیرت میں ڈوبا سوچتا ہے
    کہانی میں ہوئے شامل نئے کردار کیسے

    ہمیں اپنے ہی شہ نے دان کر ڈالا عدو کو
    بتائیں کیا کہ ہاتھوں سے چِھنی تلوار کیسے

    بڑھایا فاصلہ انساں نے فطرت سے تو دیکھا
    ہوا ہے خود بھی اپنے آپ سے بیزار کیسے

    کبھی اک دوسرے کو دیکھ کر جیتے تھے عالیؔ
    ہوا دشمن وہ میری جاں کا آخر کار کیسے

    ٭٭٭
    جلیل عالیؔ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1

اس صفحے کی تشہیر