امجد اسلام امجد غزل "دستک کسی کی ہے کہ گماں دیکھنے تو دے" : امجد اسلام امجد ؔ

غزل

دستک کسی کی ہے کہ گماں دیکھنے تو دے
دروازہ ہم کو تیز ہوا کھولنے تو دے

اپنے لہو کی تال پہ خواہش کے مور کو
اے دشتِ احتیاط !کبھی ناچنے تو دے

سودا ہے عمر بھر کا کوئی کھیل تو نہیں
اے چشمِ یار مجھ کو ذرا سوچنے تو دے

اُس حرفِ کُن کی ایک امانت ہے میرے پاس
لیکن یہ کائنات مجھے بولنے تو دے

شاید کسی لکیر میں لکھا ہو میرا نام
اے دوست اپنا ہاتھ مجھے دیکھنے تو دے

یہ سات آسمان کبھی مختصر تو ہوں
یہ گھومتی زمین کہیں ٹھیرنے تو دے

کیسے کسی کی یاد کا چہرہ بناؤں میں
امجدوہ کوئی نقش کبھی بھولنے تو دے

امجد اسلام امجد ؔ​
 

مغزل

محفلین
اُس حرفِ کُن کی ایک امانت ہے میرے پاس
لیکن یہ کائنات مجھے بولنے تو دے

شاید کسی لکیر میں لکھا ہو میرا نام
اے دوست اپنا ہاتھ مجھے دیکھنے تو دے

امجد اسلام امجد ؔ

کیا کہنے ہیں واہ واہ سبحان اللہ بہت عمدہ بہنا بہت عمدہ انتخاب ہے ۔۔
مجھے امجد ؔ بھائی سے ایک مشاعرے میں یہ غزل سننے کا شرف حاصل ہے ۔۔
یہاں پڑھ کر روح ویسی ہی تازہ ہوگئی ہے ، سلامت رہیں ۔۔ لطف آگیا ۔۔۔
 
اُس حرفِ کُن کی ایک امانت ہے میرے پاس
لیکن یہ کائنات مجھے بولنے تو دے

شاید کسی لکیر میں لکھا ہو میرا نام
اے دوست اپنا ہاتھ مجھے دیکھنے تو دے

امجد اسلام امجد ؔ

کیا کہنے ہیں واہ واہ سبحان اللہ بہت عمدہ بہنا بہت عمدہ انتخاب ہے ۔۔
مجھے امجد ؔ بھائی سے ایک مشاعرے میں یہ غزل سننے کا شرف حاصل ہے ۔۔
یہاں پڑھ کر روح ویسی ہی تازہ ہوگئی ہے ، سلامت رہیں ۔۔ لطف آگیا ۔۔۔
بہت شکریہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جی امجد اسلام امجد کی ان غزلوں میں سے ہے جو میری پسندیدہ ہیں ۔۔۔۔۔ اور بازبانی شاعر سننا تو کتنا پر لطف ہوگا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ امجد اسلام امجد کے مشاعرے میں جانے کی خوائش آپ نے پھر جگادی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 

کاشفی

محفلین
کیسے کسی کی یاد کا چہرہ بناؤں میں
امجدوہ کوئی نقش کبھی بھولنے تو دے
بہت ہی عمدہ بہت خوب!
 
Top