محسن نقوی غزل: خود وقت میرے ساتھ چلا وہ بھی تھک گیا

محمد تابش صدیقی نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏مئی 11, 2017

  1. محمد تابش صدیقی

    محمد تابش صدیقی منتظم

    مراسلے:
    25,090
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    خود وقت میرے ساتھ چلا وہ بھی تھک گیا
    میں تیری جستجو میں بہت دور تک گیا

    کچھ اور ابر چاند کے ماتھے پہ جھک گئے
    کچھ اور تیرگی کا مقدر چمک گیا

    کل جس کے قرب سے تھی گریزاں مری حیات
    آج اس کے نام پر بھی میر ا دل دھڑک گیا

    میں سوچتا ہوں شہر کے پتھر سمیٹ کر
    وہ کون تھا جو راہ کو پھولوں سے ڈھک گیا

    دشمن تھی اس کی آنکھ، جو میرے وجود کی
    میں حرف بن کے اس کی زباں پر اٹک گیا

    اب کوئی سنگ پھینک، کہ چمکے کوئی شرر
    میں شہرِ آرزو میں اچانک بھٹک گیا

    مت پوچھ فکرِ زیست کی غارت گری کا حال
    احساس برف برف تھا لیکن بھڑک گیا

    احباب جبرِ زیست کے زنداں میں قید تھے
    محسنؔ میں خود صلیبِ غزل پر لٹک گیا

    ٭٭٭
    محسن نقوی
     
    آخری تدوین: ‏مئی 11, 2017
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • زبردست زبردست × 1
  2. فرحان محمد خان

    فرحان محمد خان محفلین

    مراسلے:
    2,138
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheeky
    مت پوچھ فکرِ زیست کی غارت گری کا حال
    احساس برف برف تھا لیکن بھڑک گیا
    واہ واہ واہ کیا کہنے
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  3. محمد تابش صدیقی

    محمد تابش صدیقی منتظم

    مراسلے:
    25,090
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    پسند فرمانے کا شکریہ جناب
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  4. ثقیل ساقی

    ثقیل ساقی محفلین

    مراسلے:
    25
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Mad
    میں سوچتا ہوں شہر کے پتھر سمیٹ کر
    وہ کون تھا جو راہ کو پھولوں سے ڈھک گیا
    [
    حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے نام
    خود وقت میرے ساتھ چلا وہ بھی تھک گیا
    میں تیری جستجو میں بہت دور تک گیا

    کچھ اور ابر چاند کے ماتھے پہ جھک گئے
    کچھ اور تیرگی کا مقدر چمک گیا

    کل جس کے قرب سے تھی گریزاں مری حیات
    آج اس کے نام پر بھی میر ا دل دھڑک گیا

    میں سوچتا ہوں شہر کے پتھر سمیٹ کر
    وہ کون تھا جو راہ کو پھولوں سے ڈھک گیا

    دشمن تھی اس کی آنکھ، جو میرے وجود کی
    میں حرف بن کے اس کی زباں پر اٹک گیا

    اب کوئی سنگ پھینک، کہ چمکے کوئی شرر
    میں شہرِ آرزو میں اچانک بھٹک گیا

    مت پوچھ فکرِ زیست کی غارت گری کا حال
    احساس برف برف تھا لیکن بھڑک گیا

    احباب جبرِ زیست کے زنداں میں قید تھے
    محسنؔ میں خود صلیبِ غزل پر لٹک گیا

    ٭٭٭
    محسن نقوی
    [/QUOTE]
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1

اس صفحے کی تشہیر