غزل: تری یادوں سے پھر محفل کو گرما لوں تو آتا ہوں * ادریس آزاد

تری یادوں سے پھر محفل کو گرما لوں تو آتا ہوں
یہی دوچار انگارے ہیں دہکا لوں تو آتا ہوں

میں اپنے رزق سے، حصّے کا غم کھا لوں تو آتا ہوں
تری دہلیز تک دامن کو پھیلا لوں تو آتا ہوں

یہ حسنِ خلق کا پرچہ بہت کمزور ہے میرا
سبق پھر سے ذرا اِک بار دہرا لوں تو آتا ہوں

کنویں کھاری، سفر دشوار، رستے نا تراشیدہ
میں پیچھے آنے والوں کو یہ سمجھا لوں تو آتا ہوں

کتابِ زندگی دلچسپ ہے، رُکنا نہیں ممکن
بس اِک دو صفحہ باقی ہے یہ نمٹا لوں تو آتا ہوں

ترے دربار میں سج دھج کے آنا چاہتا ہوں میں
ذرا سا سَر اضافی ہے یہ کٹوا لوں تو آتا ہوں

خرد! تُو بوریا بستر لپیٹ! اور میرے پہلو میں
جو بچہ رو رہا ہے اِس کو بہلا لوں تو آتا ہوں

قیامت میں بلایا جاؤں گا، اس سے نہیں ڈرتا
رسائی مسندِ انصاف تک پا لوں تو آتا ہوں

مسیحا! دو گھڑی ضبطِ غضب! صدقے محبت کے
ابھی جو چوٹ کھائی ہے یہ سہلا لوں تو آتا ہوں

تمہاری لَے پکڑنا ہاتفا! مشکل نہیں لیکن
ذرا اَشکوں کے ٹھیکے پر غزل گا لوں تو آتا ہوں

میں آتا ہوں کہ میں بھی تھک گیا یہ پاٹ کر کر کے
کوئی اپنی جگہ کردار بُلوا لوں تو آتا ہوں

سنا ہے حشر میں بھی کارروائی کاغذی ہو گی
کسی سے نامۂ اعمال لکھوا لوں تو آتا ہوں


ادریس آزاد
 
آخری تدوین:
Top