غزل برائے تبصرہ "چڑھا ہے یہ کیسا نشہ لکھ رہا ہوں"

غزل

چڑھا ہے یہ کیسا نشہ، لکھ رہا ہوں
کہ کافر صفت کو خدا لکھ رہا ہوں

ہوئی ہے خطا مجھ سے کیا، لکھ رہا ہوں
میں انجان کو آشنا لکھ رہا ہوں

بصارت پہ پہرا لگا جب سے دل کا
حقارت کو اسکی، حیا لکھ رہا ہوں

محبت میں بربادیوں کے سفر تک
میں خود کو وفا کا خدا لکھ رہا ہوں

میں سورج بجھانے کی خواہش میں اب تک
چراغوں کو سورج نما لکھ رہا ہو

"محبت کرو پر، وفا بھول جانا"
میں دنیا کو ایک مشورہ لکھ رہا ہوں

سلگتے سلگتے یہاں آگیا ہوں
کہ شعلہ کو شبنم نما لکھ رہا ہوں

میں زخموں کو تعبیرِ الفاظ دے کر
لہو سے بیاضِ عزا لکھ رہا ہوں

ستم پہ ستم سہہ رہا ہوں میں آسی
مگر عشق کو معجزہ لکھ رہا ہوں

ارتضیٰ الآسی
 

الف عین

لائبریرین
ماشاء اللہ اچھی غزل ہے

چڑھا ہے یہ کیسا نشہ، لکھ رہا ہوں​
نشہ کا درست تلفظ شین پر تشدید ہے، ویسے یہ غلط العام ہو گیا ہے۔​

"محبت کرو پر، وفا بھول جانا"​
میں دنیا کو ایک مشورہ لکھ رہا ہوں​
پہلے مصرع میں ’پر‘ بمعنی مگر کو بدل دیں، اچھا نہیں لگتا۔ اور دوسرے میں ’اک‘ تقطیع ہوتا ہے، مکمل ’ایک‘ نہیں۔

سلگتے سلگتے یہاں آگیا ہوں​
کہ شعلہ کو شبنم نما لکھ رہا ہوں​
پہلا مصرع کا ’ہوں‘ کو ’میں‘ سے بدل دیں

ستم پہ ستم سہہ رہا ہوں میں آسی​
یہاں مکمل ’پر‘ استعمال کیا جا سکتا ہے، جو کیا جانا بہتر ہے​
 
جناب الف عین صاحب ۔۔۔ ایک نظر اس طرح پر کر لیجے!

"محبت کرو تو وفا بھول جانا"
میں دنیا کو اک مشورہ لکھ رہا ہوں

سلگتے سلگتے یہاں آگیا میں
کہ شعلہ کو شبنم نما لکھ رہا ہوں

ستم پر ستم سہہ رہا ہوں میں آسی
مگر عشق کو معجزہ لکھ رہا ہوں

بارے پہلے مصرع کے تو ہمارے کچھ سمجھ نہیں آتا۔۔۔ حضور ہی کچھ تجویز کر دیکھیے!
 

الف عین

لائبریرین
اگرچہ بہت اچھا تو نہیں، لیکن اس کو
چڑھا ہے یہ کیسا نشہ، لکھ رہا ہوں​
یوں کیا جا سکتا ہے​
یہ کیسا​
ہے​
نشہ​
چڑھا​
، لکھ رہا ہوں​
 
اگرچہ بہت اچھا تو نہیں، لیکن اس کو
چڑھا ہے یہ کیسا نشہ، لکھ رہا ہوں​
یوں کیا جا سکتا ہے​
یہ کیسا​
ہے​
نشہ​
چڑھا​
، لکھ رہا ہوں​

ایک یہ مصرع باندھا ہے۔ دیکھیے گا:
جنونِ ہوس کا مزہ لکھ رہا ہوں
کہ کافر صفت کو خدا لکھ رہا ہوں
 
Top