غزل برائے اصلاح

آئی کے عمران نے 'اِصلاحِ سخن' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اگست 3, 2019

  1. آئی کے عمران

    آئی کے عمران محفلین

    مراسلے:
    107
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Shh
    عشق سے پہلے ہوئے دوچار ہم
    اور پھر کہنے لگے اشعار ہم

    تجھ کو بھی ہونے نہیں دیتے خبر
    ایسے کرتے ہیں ترا دیدار ہم

    قدر کرتے ہیں ہماری،غیر بھی
    پیٹھ پر کرتے نہیں ہیں وار ہم

    اُس طرف سے تو اگر آواز دے
    آگ کا دریا بھی کر لیں پار ہم

    پاس ہوتا ہے ہمارے بس قلم
    تیر رکھتے ہیں نہ ہی تلوار ہم

    عشق نے ہم کو بنایا کام کا
    ورنہ ہوتے آدمی بے کار ہم

    شاعری کا سکھ کہاں ملتا ہمیں
    ہجر کے سہتے نہ جو آزار ہم

    ہم کو مشکل لگتی ہیں آسانیاں
    راستہ چنتے نہیں ہموار ہم

    شعبدہ بازوں کا یہ احسان ہے
    کھا کے دھوکے ہو گئے ہشیار ہم

    ساری دنیا ہی نظر آئے حسیں
    حسن کے جب سے ہوئے بیمار ہم

    کاش دہرائے کہانی وقت پھر
    اور نبھائیں قیس کا کردار ہم
     
  2. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    33,631
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    اچھی غزل ہے کوئی بڑی خامی نظر نہیں آتی
    تیر رکھتے ہیں نہ ہی تلوار ہم
    'نہ ہی' رواں نہیں لگتا، اسے یوں کہو
    تیر ہی رکھتے ہیں. نے تلوار ہم

    ساری دنیا ہی نظر آئے حسیں
    حسن کے جب سے ہوئے بیمار ہم
    نظر آئے' درست صیغہ نہیں لگتا، نظر آنے لگی' بہتر تھا اسے لانے کی کوشش کرو
     
  3. آئی کے عمران

    آئی کے عمران محفلین

    مراسلے:
    107
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Shh
    السلام علیکم ! سر
    بہت بہت شکریہ بہت نوازش
    جزاک اللہ
    جن اشعار کے بارے میں آپ نے نشاندہی کی ہے آپ کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے ۔اس طرح کہنے کوشش کرتا ہوں۔
    ایک بار پھر سے شکریہ۔
     

اس صفحے کی تشہیر