1. احباب کو اردو ویب کے سالانہ اخراجات کی مد میں تعاون کی دعوت دی جاتی ہے۔ مزید تفصیلات ملاحظہ فرمائیں!

    ہدف: $500
    $420.00
    اعلان ختم کریں
  2. اردو محفل سالگرہ چہاردہم

    اردو محفل کی یوم تاسیس کی چودہویں سالگرہ کے موقع پر تمام اردو طبقہ و محفلین کو دلی مبارکباد!

    اعلان ختم کریں

غزل برائے اصلاح

ارشد چوہدری نے 'اِصلاحِ سخن' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏مارچ 30, 2019

ٹیگ:
  1. ارشد چوہدری

    ارشد چوہدری محفلین

    مراسلے:
    991
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    Brooding
    الف عین، عظیم
    فلسفی، یاسر شاہ ،خلیل الرحمن
    ------------------
    افاعیل --- فاعلن فاعلن فاعلن فاعلن
    ----------------
    وصل چاہا تمہارا خفا ہو گئے
    راستے اب ہمارے جدا ہو گئے
    -----------
    ساتھ چلنے کا وعدہ کیا تھا کبھی
    سب وہ وعدے تمہارے ہوا ہو گئے
    --------------
    یہ ہماری خطا تھی جو چاہا تجھے
    نا سمجھ تھے جو تجھ پر فدا ہو گئے
    --------------
    ہم بُھلا کر جہاں کو بنے تھے ترے
    ہم تری آرزو میں گدا ہو گئے
    -----------------
    یاد آتے ہیں دن جب ہمارے تھے تم
    پھر ہوا کیا کہ تم بے وفا ہو گئے
    ----------------
    کاٹتے ہیں تمہاری جدائی میں دن
    دن ہمارے لئے تو سزا ہو گئے
    --------------
    آج ارشد کو بُھولے ہو ایسے کہ تم
    قید تھے جس طرح اور رہا ہو گئے
    ----------------
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  2. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    33,296
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    عین کے آگے کوما لگا دیا تو ٹیگ محض الف صاحب کو پہنچا ہو گا، مجھے نہیں ملا۔ کوما کی جگہ محک سپیس استعمال کیا کریں دو ٹیگز کے درمیان۔
    یہ نسبتاً اچھی غزل کہی ہے ماشاء اللہ

    وصل چاہا تمہارا خفا ہو گئے
    راستے اب ہمارے جدا ہو گئے
    ----------- دوسرے مصرعے میں 'اب' کچھ بھرتی کا بھی لگتا ہے اور دونوں مصرعوں میں ربط بھی مضبوط نہیں
    راستے لو ہمارے جدا
    شاید بہتر ہو

    ساتھ چلنے کا وعدہ کیا تھا کبھی
    سب وہ وعدے تمہارے ہوا ہو گئے
    -------------- درست

    یہ ہماری خطا تھی جو چاہا تجھے
    نا سمجھ تھے جو تجھ پر فدا ہو گئے
    -------------- دوسرے مصرعے میں 'جو' کی جگہ 'کہ' شاید بہتر ہو

    ہم بُھلا کر جہاں کو بنے تھے ترے
    ہم تری آرزو میں گدا ہو گئے
    ----------------- یہ دو لخت ہو گیا

    یاد آتے ہیں دن جب ہمارے تھے تم
    پھر ہوا کیا کہ تم بے وفا ہو گئے
    ---------------- ٹھیک

    کاٹتے ہیں تمہاری جدائی میں دن
    دن ہمارے لئے تو سزا ہو گئے
    -------------- دن لفظ دہرایا گیا ہے۔ ویسے محاورہ تو یہ ہے کہ دن کٹتے نہیں
    روز و شب اب تو کٹتے نہیں ہجر میں
    کیسا رہے گا

    آج ارشد کو بُھولے ہو ایسے کہ تم
    قید تھے جس طرح اور رہا ہو گئے
    --------------- اس طرح بھولے ہو تم
    بہتر ہو گا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  3. ارشد چوہدری

    ارشد چوہدری محفلین

    مراسلے:
    991
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    Brooding
    الف عین
    تصحیح کے بعد دوبارا
    ------------------
    وصل چاہا تمہارا خفا ہو گئے
    راستے لو ہمارے جدا ہو گئے
    -------
    ساتھ چلنے کا وعدہ کیا تھا کبھی
    سب وہ وعدے تمہارے ہوا ہو گئے
    ----------
    یہ ہماری خطا تھی جو چاہا تجھے
    نا سمجھ تھے کہ تجھ پر فدا ہو گئے
    ------------------
    چاہتے تھے تجھے اس طرح سے کبھی
    ہم تری آرزو میں گدا ہو گئے
    -----------------
    یاد آتے ہیں دن جب ہمارے تھے تم
    پھر ہوا کیا کہ تم بے وفا ہو گئے
    --------------
    روز و شب اب تو کٹتے نہیں ہجر میں
    دن ہمارے لئے تو سزا ہو گئے
    --------------
    کھو گئے اس طرح سے تری یاد میں
    پھر ہزاروں ہی سجدے قضا ہو گئے
    ---------------
    گُم ہوئے اس طرح سے تری چاہ میں
    ہم تو خود سے بھی جیسے جدا ہو گئے
    ----------------
    آج ارشد کو اس طرح بھولے ہو تم
    قید تھے جس طرح اور رہا ہو گئے
     
  4. عظیم

    عظیم محفلین

    مراسلے:
    6,359
    چاہتے تھے تجھے اس طرح سے کبھی
    ہم تری آرزو میں گدا ہو گئے
    ۔۔۔اس شعر کا مفہوم واضح نہیں ہے، دونوں مصرعوں میں مجھے ایک ہی بات دہرائی گئی معلوم ہو رہی ہے

    روز و شب اب تو کٹتے نہیں ہجر میں
    دن ہمارے لئے تو سزا ہو گئے
    ۔۔۔۔'تو' طویل کھنچ رہا ہے شاید اس لیے اچھا بھی نہیں لگ رہا اور اضافی بھی محسوس ہو رہا ہے۔ اس کی جگہ 'اک' استعمال کیا جا سکتا ہے

    کھو گئے اس طرح سے تری یاد میں
    پھر ہزاروں ہی سجدے قضا ہو گئے
    ۔۔۔۔'ہزاروں ہی' میں 'ہی' غیر ضروری لگ رہا ہے۔

    گُم ہوئے اس طرح سے تری چاہ میں
    ہم تو خود سے بھی جیسے جدا ہو گئے
    ۔۔۔۔میرے خیال میں پچھلے شعر اور اس شعر میں سے اسی شعر کو رکھ لیں اور دوسرا نکال دیں کہ تقریباً ایک ہی جیسا مضمون ہو گیا ہے ان دونوں کا
     
  5. ارشد چوہدری

    ارشد چوہدری محفلین

    مراسلے:
    991
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    Brooding
    عظیم
    (پھر ہزاروں ہی سجدے قضا ہو گئے) عظیم بھائی اگر اس میں ہی نکالوں تو مصرع وزن میں نہیں رہتا،ہاں البتہ اس طرح ہو سکا ہے ( پھر تو سجدے ہمارے قضا ہو گئے)
    آپ کا مشورہ بالکل ٹھیک ہے ایک شعر نکال دیتا ہوں
     
  6. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    33,296
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    سینکڑوں اپنے سجدے قضا ہو گئے
    کیا جا سکتا ہے
     

اس صفحے کی تشہیر