غزل برائے اصلاح

الف عین، عظیم
فلسفی، یاسر شاہ ،خلیل الرحمن
------------------
افاعیل --- فاعلن فاعلن فاعلن فاعلن
----------------
وصل چاہا تمہارا خفا ہو گئے
راستے اب ہمارے جدا ہو گئے
-----------
ساتھ چلنے کا وعدہ کیا تھا کبھی
سب وہ وعدے تمہارے ہوا ہو گئے
--------------
یہ ہماری خطا تھی جو چاہا تجھے
نا سمجھ تھے جو تجھ پر فدا ہو گئے
--------------
ہم بُھلا کر جہاں کو بنے تھے ترے
ہم تری آرزو میں گدا ہو گئے
-----------------
یاد آتے ہیں دن جب ہمارے تھے تم
پھر ہوا کیا کہ تم بے وفا ہو گئے
----------------
کاٹتے ہیں تمہاری جدائی میں دن
دن ہمارے لئے تو سزا ہو گئے
--------------
آج ارشد کو بُھولے ہو ایسے کہ تم
قید تھے جس طرح اور رہا ہو گئے
----------------
 

الف عین

لائبریرین
عین کے آگے کوما لگا دیا تو ٹیگ محض الف صاحب کو پہنچا ہو گا، مجھے نہیں ملا۔ کوما کی جگہ محک سپیس استعمال کیا کریں دو ٹیگز کے درمیان۔
یہ نسبتاً اچھی غزل کہی ہے ماشاء اللہ

وصل چاہا تمہارا خفا ہو گئے
راستے اب ہمارے جدا ہو گئے
----------- دوسرے مصرعے میں 'اب' کچھ بھرتی کا بھی لگتا ہے اور دونوں مصرعوں میں ربط بھی مضبوط نہیں
راستے لو ہمارے جدا
شاید بہتر ہو

ساتھ چلنے کا وعدہ کیا تھا کبھی
سب وہ وعدے تمہارے ہوا ہو گئے
-------------- درست

یہ ہماری خطا تھی جو چاہا تجھے
نا سمجھ تھے جو تجھ پر فدا ہو گئے
-------------- دوسرے مصرعے میں 'جو' کی جگہ 'کہ' شاید بہتر ہو

ہم بُھلا کر جہاں کو بنے تھے ترے
ہم تری آرزو میں گدا ہو گئے
----------------- یہ دو لخت ہو گیا

یاد آتے ہیں دن جب ہمارے تھے تم
پھر ہوا کیا کہ تم بے وفا ہو گئے
---------------- ٹھیک

کاٹتے ہیں تمہاری جدائی میں دن
دن ہمارے لئے تو سزا ہو گئے
-------------- دن لفظ دہرایا گیا ہے۔ ویسے محاورہ تو یہ ہے کہ دن کٹتے نہیں
روز و شب اب تو کٹتے نہیں ہجر میں
کیسا رہے گا

آج ارشد کو بُھولے ہو ایسے کہ تم
قید تھے جس طرح اور رہا ہو گئے
--------------- اس طرح بھولے ہو تم
بہتر ہو گا
 
الف عین
تصحیح کے بعد دوبارا
------------------
وصل چاہا تمہارا خفا ہو گئے
راستے لو ہمارے جدا ہو گئے
-------
ساتھ چلنے کا وعدہ کیا تھا کبھی
سب وہ وعدے تمہارے ہوا ہو گئے
----------
یہ ہماری خطا تھی جو چاہا تجھے
نا سمجھ تھے کہ تجھ پر فدا ہو گئے
------------------
چاہتے تھے تجھے اس طرح سے کبھی
ہم تری آرزو میں گدا ہو گئے
-----------------
یاد آتے ہیں دن جب ہمارے تھے تم
پھر ہوا کیا کہ تم بے وفا ہو گئے
--------------
روز و شب اب تو کٹتے نہیں ہجر میں
دن ہمارے لئے تو سزا ہو گئے
--------------
کھو گئے اس طرح سے تری یاد میں
پھر ہزاروں ہی سجدے قضا ہو گئے
---------------
گُم ہوئے اس طرح سے تری چاہ میں
ہم تو خود سے بھی جیسے جدا ہو گئے
----------------
آج ارشد کو اس طرح بھولے ہو تم
قید تھے جس طرح اور رہا ہو گئے
 

عظیم

محفلین
چاہتے تھے تجھے اس طرح سے کبھی
ہم تری آرزو میں گدا ہو گئے
۔۔۔اس شعر کا مفہوم واضح نہیں ہے، دونوں مصرعوں میں مجھے ایک ہی بات دہرائی گئی معلوم ہو رہی ہے

روز و شب اب تو کٹتے نہیں ہجر میں
دن ہمارے لئے تو سزا ہو گئے
۔۔۔۔'تو' طویل کھنچ رہا ہے شاید اس لیے اچھا بھی نہیں لگ رہا اور اضافی بھی محسوس ہو رہا ہے۔ اس کی جگہ 'اک' استعمال کیا جا سکتا ہے

کھو گئے اس طرح سے تری یاد میں
پھر ہزاروں ہی سجدے قضا ہو گئے
۔۔۔۔'ہزاروں ہی' میں 'ہی' غیر ضروری لگ رہا ہے۔

گُم ہوئے اس طرح سے تری چاہ میں
ہم تو خود سے بھی جیسے جدا ہو گئے
۔۔۔۔میرے خیال میں پچھلے شعر اور اس شعر میں سے اسی شعر کو رکھ لیں اور دوسرا نکال دیں کہ تقریباً ایک ہی جیسا مضمون ہو گیا ہے ان دونوں کا
 
عظیم
(پھر ہزاروں ہی سجدے قضا ہو گئے) عظیم بھائی اگر اس میں ہی نکالوں تو مصرع وزن میں نہیں رہتا،ہاں البتہ اس طرح ہو سکا ہے ( پھر تو سجدے ہمارے قضا ہو گئے)
آپ کا مشورہ بالکل ٹھیک ہے ایک شعر نکال دیتا ہوں
 

الف عین

لائبریرین
عظیم
(پھر ہزاروں ہی سجدے قضا ہو گئے) عظیم بھائی اگر اس میں ہی نکالوں تو مصرع وزن میں نہیں رہتا،ہاں البتہ اس طرح ہو سکا ہے ( پھر تو سجدے ہمارے قضا ہو گئے)
آپ کا مشورہ بالکل ٹھیک ہے ایک شعر نکال دیتا ہوں
سینکڑوں اپنے سجدے قضا ہو گئے
کیا جا سکتا ہے
 
Top