غزل برائے اصلاح

محمد فائق

محفلین
اسیرِ عشق ہوئے یعنی عاشقی کرلی
یوں اپنے آپ سے ہی ہم نے دشمنی کرلی

دیارِ قیس میں ہم رکھنے جارہے تھے قدم
سو خاک سر پہ ملی چاک دامنی کرلی

ہنر کی راہ تھی دشوار، بے ہنر ہی رہے
کچھ اسطرح سے سہل ہم نے زندگی کرلی

اے نیند تونے بہت دیر کردی آنے میں
مرے خیالوں نے خوابوں نے خودکشی کر لی

بیاں یہ کون سا اسلام کر رہا تھا شیخ!
پسند اہلِ جہاں نے تو کافری کرلی

چراغِ زیست کے بجھنے سے فرق کیا ہوگا
جلا ہوا ہی تو ہے، کون روشنی کرلی

اے عشق اب نہیں آنے کے ہم پکڑ میں تری
دل و دماغ نے آپس میں دوستی کرلی

نہ بھول یہ کہ ہم آئینہ دار ہیں تیرے
یہ تونے ہم سے نہیں خود سے بے رخی کرلی

گزارنا تھا اے فائق یہ وقتِ تنہائی
اسی بہانے کتابوں سے دوستی کرلی
 

الف عین

لائبریرین
اسیرِ عشق ہوئے یعنی عاشقی کرلی
یوں اپنے آپ سے ہی ہم نے دشمنی کرلی
۔۔ٹھیک ہے

دیارِ قیس میں ہم رکھنے جارہے تھے قدم
سو خاک سر پہ ملی چاک دامنی کرلی
÷÷درست

ہنر کی راہ تھی دشوار، بے ہنر ہی رہے
کچھ اسطرح سے سہل ہم نے زندگی کرلی
÷÷ سہل میں ’ہ‘ پر سکون ہے، زیر نہیں۔

اے نیند تونے بہت دیر کردی آنے میں
مرے خیالوں نے خوابوں نے خودکشی کر لی
’اے‘ کا محض ’اِ‘ تقطیع ہونا درست نہیں۔ یہ تین چار جگہ ہے۔
نیند کی مناسبت سے محض خواب کافی ہے، خیال اضافی ہے۔

بیاں یہ کون سا اسلام کر رہا تھا شیخ!
پسند اہلِ جہاں نے تو کافری کرلی
۔۔اسلام بیاں کرنا۔۔ یہ کیا محاورہ ہے؟

چراغِ زیست کے بجھنے سے فرق کیا ہوگا
جلا ہوا ہی تو ہے، کون روشنی کرلی
÷÷کون کا استعمال عجیب لگ رہا ہے۔ یہاں کیا طنزیہ ’خوب‘’ کہیں تو؟
اے عشق اب نہیں آنے کے ہم پکڑ میں تری
دل و دماغ نے آپس میں دوستی کرلی
۔۔’اے‘
نہ بھول یہ کہ ہم آئینہ دار ہیں تیرے
یہ تونے ہم سے نہیں خود سے بے رخی کرلی
۔۔درست

گزارنا تھا اے فائق یہ وقتِ تنہائی
اسی بہانے کتابوں سے دوستی کرلی
÷÷’اے‘
 

محمد فائق

محفلین
اسیرِ عشق ہوئے یعنی عاشقی کرلی
یوں اپنے آپ سے ہی ہم نے دشمنی کرلی
۔۔ٹھیک ہے

دیارِ قیس میں ہم رکھنے جارہے تھے قدم
سو خاک سر پہ ملی چاک دامنی کرلی
÷÷درست

ہنر کی راہ تھی دشوار، بے ہنر ہی رہے
کچھ اسطرح سے سہل ہم نے زندگی کرلی
÷÷ سہل میں ’ہ‘ پر سکون ہے، زیر نہیں۔

اے نیند تونے بہت دیر کردی آنے میں
مرے خیالوں نے خوابوں نے خودکشی کر لی
’اے‘ کا محض ’اِ‘ تقطیع ہونا درست نہیں۔ یہ تین چار جگہ ہے۔
نیند کی مناسبت سے محض خواب کافی ہے، خیال اضافی ہے۔

بیاں یہ کون سا اسلام کر رہا تھا شیخ!
پسند اہلِ جہاں نے تو کافری کرلی
۔۔اسلام بیاں کرنا۔۔ یہ کیا محاورہ ہے؟

چراغِ زیست کے بجھنے سے فرق کیا ہوگا
جلا ہوا ہی تو ہے، کون روشنی کرل
ی
÷÷کون کا استعمال عجیب لگ رہا ہے۔ یہاں کیا طنزیہ ’خوب‘’ کہیں تو؟
اے عشق اب نہیں آنے کے ہم پکڑ میں تری
دل و دماغ نے آپس میں دوستی کرلی
۔۔’اے‘
نہ بھول یہ کہ ہم آئینہ دار ہیں تیرے
یہ تونے ہم سے نہیں خود سے بے رخی کرلی
۔۔درست

گزارنا تھا اے فائق یہ وقتِ تنہائی
اسی بہانے کتابوں سے دوستی کرلی
÷÷’اے‘
بہت بہت شکریہ سر



اسیرِ عشق ہوئے یعنی عاشقی کرلی
یوں اپنے آپ سے ہی ہم نے دشمنی کرلی

دیارِ قیس میں ہم رکھنے جارہے تھے قدم
سو خاک سر پہ ملی چاک دامنی کرلی

ہنر کی راہ تھی دشوار، بے ہنر ہی رہے
کچھ اس طریقے سے آسان زندگی کرلی

یہ نیند نے تو بہت دیر کردی آنے میں
ابھی ابھی مرے خوابوں نے خودکشی کر لی

تو پیش کون سا اسلام کر رہا تھا شیخ!
پسند اہلِ جہاں نے تو کافری کرلی

چراغِ زیست کے بجھنے سے فرق کیا ہوگا جلا ہوا ہی تو ہے، خوب روشنی کرلی

پکڑ میں اب نہیں آنے کے ہم محبت کی
دل و دماغ نے آپس میں دوستی کرلی

نہ بھول یہ کہ ہم آئینہ دار ہیں تیرے
یہ تونے ہم سے نہیں خود سے بے رخی کرلی

گزارنا تھا جو فائق یہ وقتِ تنہائی
اسی بہانے کتابوں سے دوستی کرلی
سر کیا اب غزل درست ہے؟
 

الف عین

لائبریرین
یہ نیند نے تو بہت دیر کردی آنے میں
ابھی ابھی مرے خوابوں نے خودکشی کر لی
÷÷’یہ‘ بھرتی کا ہے، اچھا نہیں لگ رہا۔ یوں کہیں تو بہتر ہو
بہت ہی نیند نے جب دیر کر۔۔۔۔
باقی درست
 

محمد فائق

محفلین
شکریہ سر
بہت ہی نیند نے جب دیر کردی آنے میں
مرے خیالوں میں خوابوں نے خود کشی کر لی
یوں درست رہے گا سر؟
 
Top