غزل برائے اصلاح : اک دن یوں حسرتوں کا تماشہ دکھائی دے گا

انس معین نے 'اِصلاحِ سخن' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏جنوری 16, 2020

  1. انس معین

    انس معین محفلین

    مراسلے:
    323
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Hungover
    سر غزل برائے اصلاح : الف عین
    محمد خلیل الرحمٰن ظہیراحمدظہیر محمّد احسن سمیع :راحل:

    اک دن یوں حسرتوں کا تماشہ دکھائی دے گا
    وہ غیر ہو گا لیکن اپنا دکھائی دے گا
    -------------------------------
    زخموں سے چور ہو گا بے حال ہو گا لیکن
    تجھ کو ترا دِوانہ ہنستا دکھائی دے گا
    -------------------------------
    اُس بے وفا سے میرا کبھی ذکر کر کے دیکھو
    نظروں سے اپنی ہی وہ چھُپتا دکھائی دے گا
    -------------------------------
    دریا سی آنکھ کا رخ وہ اس طرف جو موڑے
    اس کو ہمارے اندر صحرا دکھائی دے گا
    -------------------------------
    اس پل یقیں کریں گے فصلِ بہار کا ہم
    پھولوں میں جب تمہارا مکھڑا دکھائی دے گا
    -------------------------------
    کس کو خبر تھی احمد کبھی اس طرح سے تو بھی
    بے بس ، تھکا ہوا اور تنہا دکھائی دے گا
     
    مدیر کی آخری تدوین: ‏جنوری 17, 2020
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  2. ظہیراحمدظہیر

    ظہیراحمدظہیر محفلین

    مراسلے:
    3,098
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy
    واہ ! خوب اشعار ہیں ۔
    مطلع کا وزن پھر سے دیکھئے ۔ تماشہ یہاں نہیں آئے گا ۔
    تیسرے شعر میں ٹائپو درست کیجئے
    آنکھ کو سمندر سے تشبیہ تو دی جاتی ہے لیکن دریا سے نہیں ۔ آنکھ کو ڈی گریڈ مت کریں بھائی ورنہ کل کوئی نہرکہنا شروع کردے گا۔ :)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
  3. محمّد احسن سمیع :راحل:

    محمّد احسن سمیع :راحل: محفلین

    مراسلے:
    824
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Confused
    برادرم احمد، آداب۔
    ماشاءاللہ خوب!
    مکرمی ظہیر صاحب نے مطلع کے پہلے مصرعے کے وزن کی نشاندہی کی ہے، مجھے تیسرے شعر اور مقطعے کے پہلے مصرعوں میں بھی وزن کا بعینہ وہی مسئلہ محسوس ہورہا ہے۔ تماشا اور کبھی، دونوں ہی مفعول کے وزن میں کیسے آسکتے ہیں؟ تسلی کے لئے عروض کی ویب گاہ پر پرکھا تو حیران کن طور پر اس کا انجن مفعول فاعلاتن×2 کے وزن پر تقطیع کررہا تھا!!! جو کہ ظاہر ہے درست نہیں۔ ایک دو بار پہلے بھی وہاں کی تقطیع سے دھوکا ہوا ہے اس لئے میں آج کل manual تقطیع پر واپس آگیا ہوں:)

    مکھڑے کے بجائے چہرہ زیادہ بہتر نہیں رہے گا؟

    دعاگو،
    راحل۔
     
    • متفق متفق × 2
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  4. محمد خلیل الرحمٰن

    محمد خلیل الرحمٰن مدیر

    مراسلے:
    9,425
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Festive
    تدوین کردی ہے جناب!
     
    • دوستانہ دوستانہ × 2
  5. انس معین

    انس معین محفلین

    مراسلے:
    323
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Hungover
    بہت شکریہ ظہیر بھائی ۔ اس کی جگہ سمندر ہی کر لیتا ہوں ۔ :)
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  6. انس معین

    انس معین محفلین

    مراسلے:
    323
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Hungover
    آداب راحلؔ بھائی ۔
    وزن کا مسلہ درست کر کے دوبارہ حاضر ہوتا ہوں ۔ لگتا ہے تقطیع کے حوالے سے عروض کی ساءٹ پر مکمل اتفاق ٹھیک نہیں ہے ۔ یہ مسلہ میرے ساتھ کئی دفع ہوا ہے کہ وہاں درست دکھا رہا ہوتا ہے اور وزن میں غلطی ہوتی ہے ۔
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  7. akhtarwaseem

    akhtarwaseem محفلین

    مراسلے:
    37
    سارے اشعار ہی عمدہ ہیں، لیکن یہ اشعار زیادہ پسند آئے مجھے۔

    رہی بات "دریا سی آنکھ" کی، تو آنکھوں کو جھیلوں سے بھی
    تو مشابہت دی گئی ہے۔ سمندر کے لیئے جگہ بنانے کے لیئے
    تگ ودو کرنی پڑے گی۔
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  8. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    34,714
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    تماشا تو واضح طور پر وزن میں نہیں آتا۔ البتہ 'کبھی' کی ی کے اسقاط کے ساتھ وزن درست ہو جاتا ہے اس لیے عروض سائٹ نے قبول کر لیا ہو، اگرچہ کبھی کی ی کا گرنا قابل قبول نہیں۔ تماشا کی جگہ مطلع میں 'میلہ' استعمال کیا جا سکتا ہے
    کبھی ذکر... کو کچھ ذکر.... کرنے سے وزن کا مسئلہ حل ہو جائے گا
    دریا سی آنکھ پر مجھے اعتراض نہیں اور نہ مکھڑا پر۔ چلنے دو
    البتہ
    بے بس ، تھکا ہوا اور تنہا دکھائی دے گا
    اور کا اُر تقطیع ہونا درست نہیں، اس مصرعے کو بدل دو
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  9. انس معین

    انس معین محفلین

    مراسلے:
    323
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Hungover
    بہت شکریہ اختر بھائی ۔
    دراصل میں وہ دریا دلی والا ماحول لانا چاہ رہا تھا ۔ مگر سمند اور چشمے کے ساتھ آنکھ کی مشابہت کی بات اپنی ہی ہے
     
  10. انس معین

    انس معین محفلین

    مراسلے:
    323
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Hungover
    بہت شکریہ استاد محترم ۔۔ بہتر کرتا ہوں۔
     
  11. محمّد احسن سمیع :راحل:

    محمّد احسن سمیع :راحل: محفلین

    مراسلے:
    824
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Confused
    دراصل آنکھ کو سمندر یا جھیل وغیرہ سے تشبیہ دینے کا مقصد گہرائی کی طرف اشارہ کرنا ہوتا ہے۔ دریا عموما روانی اور طغیانی کے استعارے کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔ غالبا اسی لئے ظہیر بھائی نے اس کی نشاندہی کی۔
     
    • معلوماتی معلوماتی × 1
    • متفق متفق × 1
  12. انس معین

    انس معین محفلین

    مراسلے:
    323
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Hungover
    بلکل راحل بھائی ۔ درست فرمایا
     
  13. محمّد احسن سمیع :راحل:

    محمّد احسن سمیع :راحل: محفلین

    مراسلے:
    824
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Confused
    مکرمی و استاذی اعجاز صاحب، السلام علیکم۔
    سر اس کیس میں تو عروض کی سائٹ تماشہ پر بھی اعتراض نہیں کر رہی :)
     
    • متفق متفق × 1
  14. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    34,714
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    اس مصرعے کو مفعول فاعلات مفاعیل فاعلاتن کے طور پر تقطیع کر رہا ہو گا، لیکن یہ غزل اس اضافی رکن کے ساتھ اس بحر میں نہیں ہے
     
    • معلوماتی معلوماتی × 1

اس صفحے کی تشہیر