غزل "اس عاجزی پہ ہو کے پشیمان ایک دن" برائے اصلاح

غصے کے عالم میں لکھی گئی 2015 کی آخری
غزل
اس عاجزی پہ ہو کے پشیمان ایک دن
برپا کروں گا حشر کا سامان ایک دن
کردے گا آکے سامنے حیران ایک دن
مجھ میں چھپا ہوا کوئی شیطان ایک دن
اک اور ضرب تک ہے مری ذات کا سکوت
کردوں گا صور پھونک کے حیران ایک دن
اے کاش ان لبوں پہ جمی سرد خامشی
بن جائے پیش خیمہءِ طوفان ایک دن
اندر سے کاٹ کھائے گا میرے وجود کو
ناکام خواہشات کا سرطان ایک دن
تنہائیوں کی بھیڑ میں لے جائے گا ہمیں
آگے نکلتے رہنے کا رجحان ایک دن
حد سے بڑھا جو درد تو اکسیر ہو گیا
ہنسنے لگا میں ہو کے پریشان ایک دن
منسوب ہیں اسی سے مری سب کہانیاں
بدلوں گا ہر فسانے کا عنوان ایک دن
محفل میں سارے لوگ بہت باشعور ہیں
پہنچے گا مجھ تلک بھی یہ فیضان ایک دن

+++++++++++++
کردے گا سارے شہر کو ویران ایک دن
ایثار اور خلوص کا فقدان ایک دن
الجھیں گے بے سبب جو حکم ران ایک دن
مسند پہ بیٹھ جائے گا دربان ایک دن
مخمور ہے وہ جوشِ عقیدت سے اس قدر
حد سے گزر نہ جائے ثنا خوان ایک دن
 

الف عین

لائبریرین
ماشاء اللہ درست ہے غزل مجموعی طور پر۔
مطلع میں ایطا کا تقص ہے، دونوں قوافی ’مان‘ پر ختم ہوتے ہیں۔ اس مطلع کو بدل کر عام شعر بنا دیں الفاظ بدل کر۔
کیا دو غزلے کی کوشش کی ہے، اثبات کے نشان کے بعد۔ اس غزل میں حکم ران کا تلفظ غلط استعمال ہوا ہے۔ اسکا وزن فاعلات ہونا چاہئے۔ یہاں مفاعیل استعمال ہوا ہے۔ ۔حُ کُ م ران، اصل میں کاف پر سکون ہوتا ہے۔
 
Top