غزل: اس رخ پہ پھر گلاب سے کھلنے لگے تو ہیں ٭ نعیم صدیقیؒ

محمد تابش صدیقی نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏جنوری 16, 2020

  1. محمد تابش صدیقی

    محمد تابش صدیقی منتظم

    مراسلے:
    25,262
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    اس رخ پہ پھر گلاب سے کھلنے لگے تو ہیں
    اے چشمِ اشتیاق ترے دن پھرے تو ہیں

    کچھ اہتمامِ رونقِ میخانہ ہے ضرور
    ٹھنڈی ہوا چلی تو ہے بادل گھرے تو ہیں

    لو اب تو آئی منزل جاناں سے بوئے خوش
    کچھ ٹھوکریں لگی تو ہیں کانٹے چبھے تو ہیں

    گلشن کی خیر ہو تو گوارا قفس ہمیں
    اڑتی سی ہے خبر کہ نئے گل کھلے تو ہیں

    تکفیر سے نہ جس کی بچا ایک رند بھی
    اس زہد سے بھی مکر کے پردے اٹھے تو ہیں

    اپنے نیاز مند کے صدق و صفا کو وہ
    یوں مانتے نہیں ہیں مگر جانتے تو ہیں

    پھر مسندِ قضا پہ ہوا ظلم جلوہ گر
    تعزیرِ جرمِ عشق کے ساماں ہوئے تو ہیں

    اس دور کے ظلام میں سورج بھی گم سہی
    ساتھ اپنے داغ ہائے کہن کے دیے تو ہیں

    ٭٭٭
    نعیم صدیقیؒ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • زبردست زبردست × 1
  2. ظہیراحمدظہیر

    ظہیراحمدظہیر محفلین

    مراسلے:
    3,098
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy
    کیا اچھے اشعار ہیں ! بہت اعلیٰ!

    گلشن کی خیر ہو تو گوارا قفس ہمیں
    اڑتی سی ہے خبر کہ نئے گل کھلے تو ہیں

    بہت خوب! بہت اچھا انتخاب ہے تابش بھائی !
    ساتویں شعر میں ٹائپو درست کردیجئے گا ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1

اس صفحے کی تشہیر