غزلِ شفیق خلش "ابھی کچھ ہیں مِلنے کو باقی سزائیں"

طارق شاہ

محفلین
غزلِ
شفیق خلش

ابھی کچھ ہیں مِلنے کو باقی سزائیں
وہ گِنتے ہیں بیٹھے ہماری خطائیں

نہیں آتے پل کو جو پہروں یہاں تھے
اثر کھو چکی ہیں سبھی اِلتجائیں

زمانہ ہُوا چھوڑ آئے وطن میں
نظر ڈُھونڈتی ہے اب اُن کی ادائیں

مِرے خونِ ناحق پہ اب وہ تُلے ہیں
جو تھکتے نہ تھے لے کے میری بَلائیں

خَلِش تم زمیں کے، وہ ہیں آسمان پر
بھلا کیسے سُنتے تمہاری صدائیں

شفیق خلش
 

طارق شاہ

محفلین
جناب زحال مرزا صاحب
آپ کا اظہار خیال دلی طمانیت کا باعث ہوا
بہت خوشی ہوئی جو انتخاب غزل آپ کے ذوق بسیار خوب کے مطابق ٹھری
تشکّر
 

طارق شاہ

محفلین
جناب نایاب صاحب
اظہارِ خیال کے لئے تشکّر
مُسّرت سے دوچار ہوا جو انتخاب غزل آپ کے ذوقِ خوب کو راس آئی
بہت شکریہ​
 

طارق شاہ

محفلین
جناب کاشفی صاحب
انتخاب کی پذیرائی کے لئے صمیم دل سے سپاس گزار ہوں
اظہار خیال کے لئے تشکّر ، بہت خوشی ہوئی کہ انتخاب غزل ذوق جمیل پر پوری اتری
 
Top