مکمل غبار ایّام ۔ فیض احمد فیض

فرخ منظور نے 'اردو شاعری' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اپریل 7, 2015

  1. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,399
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    جس دھجی کو گلیوں میں لیے پھرتے ہیں طفلاں
    یہ میرا گریباں ہے کہ لشکر کا علم ہے​
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  2. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,399
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    تُم ہی کہو کیا کرنا ہے

    جب دُکھ کی ندیا میں ہم نے
    جیون کی ناؤ ڈالی تھی
    تھا کتنا کس بل بانہوں میں
    لوہُو میں کتنی لالی تھی
    یُوں لگتا تھا دو ہاتھ لگے
    اور ناؤ پُورم پار لگی
    ایسا نہ ہُوا ، ہر دھارے میں
    کچھ ان دیکھی منجدھاریں تھیں
    کچھ مانجھی تھے انجان بہُت
    کچھ بے پرکھی پتواریں تھیں
    اب جو بھی چاہو چھان کرو
    اب جِتنے چاہو دوش دھرو
    ندیا تو وہی ہے ، ناؤ وہی
    اب تُم ہی کہو کیا کرنا ہے
    اب کیسے پار اُترنا ہے
    جب اپنی چھاتی میں ہم نے
    اِس دیس کے گھاؤ دیکھے تھے
    تھا ویدوں پر وشواش بہت
    اور یاد بہت سےنسخے تھے
    یُوں لگتا تھا بس کچھ دِن میں
    ساری بپتا کٹ جائے گی
    اور سب گھاؤ بھر جائیں گے
    ایسا نہ ہُوا کہ روگ اپنے
    کچھ اِتنے ڈھیر پُرانے تھے
    وید اُن کی ٹوہ کو پا نہ سکے
    اور ٹوٹکے سب بیکار گئے
    اب جو بھی چاہو چھان کرو
    اب جتنے چاہو دوش دھرو
    چھاتی تو وہی ہے ، گھاؤ وہی
    اب تُم ہی کہو کیا کرنا ہے
    یہ گھاؤ کیسے بھرنا ہے

    لندن ۱۹۸۱​
     
    • زبردست زبردست × 3
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  3. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,399
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    عشق اپنے مجرموں کو پابجولاں لے چلا

    دار کی رسیوں کے گلوبند گردن میں پہنے ہوئے
    گانے والے ہر اِک روز گاتے رہے
    پایلیں بیڑیوں کی بجاتے ہوئے
    ناچنے والے دھومیں مچاتے رہے
    ہم نہ اس صف میں تھے اور نہ اُس صف میں تھے
    راستے میں کھڑے اُن کو تکتے رہے
    رشک کرتے رہے
    اور چُپ چاپ آنسو بہاتے رہے

    لوٹ کر آ کے دیکھا تو پھولوں کا رنگ
    جو کبھی سُرخ تھا زرد ہی زرد ہے
    اپنا پہلو ٹٹولا تو ایسا لگا
    دل جہاں تھا وہاں درد ہی درد ہے
    گلو میں کبھی طوق کا واہمہ
    کبھی پاؤں میں رقصِ زنجیر
    اور پھر ایک دن عشق انہیں کی طرح
    رسن در گلو، پابجولاں ہمیں
    اسی قافلے میں کشاں لے چلا

    بیروت، جولائی ۱۹۸۱​
     
    • زبردست زبردست × 1
  4. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,399
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    نہیں نگاہ میں منزل تو جستجو ہی سہی
    نہیں وصال میسر تو آرزو ہی سہی

    نہ تن میں‌ خون فراہم نہ اشک آنکھوں میں
    نمازِ شوق تو واجب ہے بے وضو ہی سہی

    کسی طرح تو جمے بزم میکدے والو
    نہیں جو بادہ و ساغر تو ہاؤ ہو ہی سہی

    گر انتظار کٹھن ہے تو جب تلک اے دل
    کسی کے وعدۂ فردا کی گفتگو ہی سہی

    دیارِ غیر میں محرم اگر نہیں کوئی
    تو فیض ذکرِ وطن اپنے روبرو ہی سہی

    لاہور، فروری 82ء​
     
  5. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,399
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    میجر اسحاق کی یاد میں

    لو تم بھی گئے ہم نے تو سمجھا تھا کہ تم نے
    باندھا تھا کوئی یاروں سے پیمانِ وفا اور

    یہ عہد کہ تا عمرِ رواں ساتھ رہو گے
    رستے میں بچھڑ جائیں گے جب اہلِ صفا اور

    ہم سمجھے تھے صیّاد کا ترکش ہوا خالی
    باقی تھا مگر اس میں ابھی تیرِ قضا اور

    ہر خار رہِ دشت وطن کا ہے سوالی
    کب دیکھیے آتا ہے کوئی آبلہ پا اور

    آنے میں تامّل تھا اگر روزِ جزا کو
    اچھا تھا ٹھہر جاتے اگر تم بھی ذرا اور

    بیروت۔ 3 جون 1982​
     
  6. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,399
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    ایک نغمہ کربلائے بیروت کے لیے

    بیروت نگارِ بزمِ جہاں
    بیروت بدیلِ باغِ جناں
    بچوں کی ہنستی آنکھوں کے
    جو آئنے چکنا چور ہوئے
    اب ان کے ستاروں کی لَو سے
    اس شہر کی راتیں روشن ہیں
    اور رُخشاں ہے ارضِ لبنان
    بیروت نگارِ بزمِ جہاں
    جو چہرے لہو کے غازے کی
    زینت سے سوا پُرنور ہوئی
    اب ان کے رنگیں پرتو سے
    اس شہر کی گلیاں روشن ہیں
    اور تاباں ہے ارضِ لبنان
    بیروت نگارِ بزمِ جہاں
    ہر ویراں گھر، ہر ایک کھنڈر
    ہم پایۂ قصرِ دارا ہے
    ہر غازی رشکِ اسکندر
    ہر دختر ہمسرِ لیلیٰ ہے
    یہ شہر ازل سے قائم ہے
    یہ شہر ابد تک دائم ہے
    بیروت نگارِ بزمِ جہاں
    بیروت بدیلِ باغِ جناں

    بیروت ۔ جون 82ء​
     
  7. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,399
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    ایک ترانہ مجاہدینِ فلسطین کے لیے

    ہم جیتیں گے
    حقّا ہم اِک دن جیتیں گے
    بالآخر اِک دن جیتیں گے
    کیا خوف ز یلغارِ اعداء
    ہے سینہ سپر ہر غازی کا
    کیا خوف ز یورشِ جیشِ قضا
    صف بستہ ہیں ارواح الشہدا
    ڈر کاہے کا!
    ہم جیتیں گے
    حقّا ہم اِک دن جیتیں گے
    قد جاء الحق و زَہَق الباطِل
    فرمودۂ ربِّ اکبر
    ہے جنت اپنے پاؤں تلے
    اور سایۂ رحمت سر پر ہے
    پھر کیا ڈر ہے!
    ہم جیتیں گے
    حقّا ہم اِک دن جیتیں گے
    بالآخر اِک دن جیتیں گے


    بیروت۔ 15 جون 83ء​
     
    آخری تدوین: ‏اپریل 13, 2015
  8. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,399
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    گو سب کو بہم ساغر و بادہ تو نہیں تھا
    یہ شہر اداس اتنا زیادہ تو نہیں تھا

    گلیوں میں پھرا کرتے تھے دو چار دوانے
    ہر شخص کا صد چاک لبادہ تو نہیں تھا

    منزل کو نہ پہچانے رہِ عشق کا راہی
    ناداں ہی سہی، ایسا بھی سادہ تو نہیں تھا

    تھک کر یونہی پل بھر کےلئے آنکھ لگی تھی
    سو کر ہی نہ اٹھیں یہ ارادہ تو نہیں تھا

    واعظ سے رہ و رسم رہی رند سے صحبت
    فرق ان میں کوئی اتنا زیادہ تو نہیں تھا

    لاہور۔ فروری 83ء​
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  9. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,399
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    اس وقت تو یُوں لگتا ہے

    اس وقت تو یوں لگتا ہے اب کچھ بھی نہیں ہے
    مہتاب نہ سورج، نہ اندھیرا نہ سویرا

    آنکھوں کے دریچوں پہ کسی حسن کی چلمن
    اور دل کی پناہوں میں کسی درد کا ڈیرا

    ممکن ہے کوئی وہم تھا، ممکن ہے سنا ہو
    گلیوں میں کسی چاپ کا اک آخری پھیرا

    شاخوں میں خیالوں کے گھنے پیڑ کی شاید
    اب آ کے کرے گا نہ کوئی خواب بسیرا

    اک بَیر، نہ اک مہر، نہ اک ربط نہ رشتہ
    تیرا کوئی اپنا، نہ پرایا کوئی میرا

    مانا کہ یہ سنسان گھڑی سخت کڑی ہے
    لیکن مرے دل یہ تو فقط اک ہی گھڑی ہے
    ہمت کرو جینے کو تو اک عمر پڑی ہے

    میو ہسپتال، لاہور
    4، مارچ 82ء​
     
  10. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,399
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    دربار میں اب سطوتِ شاہی کی علامت
    درباں کا عصا ہے کہ مصنّف کا قلم ہے

    آوارہ ہے پھر کوہِ ندا پر جو بشارت
    تمہیدِ مسرت ہے کہ طولِ شبِ غم ہے

    جس دھجی کو گلیوں میں لیے پھرتے ہیں طفلاں
    یہ میرا گریباں ہے کہ لشکر کا علَم ہے

    جس نور سے ہے شہر کی دیوار درخشاں
    یہ خونِ شہیداں ہےکہ زرخانۂ جم ہے

    حلقہ کیے بیٹھے رہو اک شمع کو یارو
    کچھ روشنی باقی تو ہے ہر چند کہ کم ہے​
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  11. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,399
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    ہجر کی راکھ اور وصال کے پھول

    آج پھر درد و غم کے دھاگے میں
    ہم پرو کر ترے خیال کے پھول

    ترکِ الفت کے دشت سے چن کر
    آشنائی کے ماہ و سال کے پھول

    تیری دہلیز پر سجا آئے
    پھر تری یاد پر چڑھا آئے

    باندھ کر آرزو کے پلے میں
    ہجر کی راکھ اور وصال کے پھول​
     
  12. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,399
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    یہ کس دیارِ عدم میں ۔ ۔ ۔

    نہیں ہے یوں تو نہیں ہے کہ اب نہیں پیدا
    کسی کے حسن میں شمشیرِ آفتاب کا حسن
    نگاہ جس سے ملاؤ تو آنکھ دکھنے لگے
    کسی ادا میں ادائے خرامِ بادِ صبا
    جسے خیال میں لاؤ تو دل سلگنے لگے
    نہیں ہے یوں تو نہیں ہے کہ اب نہیں باقی
    جہاں میں بزمِ گہِ حسن و عشق کا میلا
    بنائے لطف و محبت، رواجِ مہر و وفا
    یہ کس دیارِ عدم میں مقیم ہیں ہم تم
    جہاں پہ مژدۂ دیدارِ حسنِ یار تو کیا
    نویدِ آمدِ روزِ جزا نہیں آتی
    یہ کس خمار کدے میں ندیم ہیں ہم تم
    جہاں پہ شورشِ رندانِ میگسار تو کیا
    شکستِ شیشۂ دل کی صدا نہیں آتی

    (ناتمام)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  13. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,399
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    نذرِ مولانا حسرت موہانی

    مر جائیں گے ظالم کی حمایت نہ کریں گے
    احرار کبھی ترکِ روایت نہ کریں گے

    کیا کچھ نہ ملا ہے جو کبھی تجھ سے ملے گا
    اب تیرے نہ ملنے کی شکایت نہ کریں گے

    شب بیت گئی ہے تو گزر جائے گا دن بھی
    ہر لحظہ جو گزری وہ حکایت نہ کریں گے

    یہ فقر دلِ زار کا عوضانہ بہت ہے
    شاہی نہیں مانگیں گے ولایت نہ کریں گے

    ہم شیخ نہ لیڈر نہ مصاحب نہ صحافی
    جو خود نہیں کرتے وہ ہدایت نہ کریں گے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ہم مسافر یونہی مصروفِ سفر جائیں گے
    بے نشاں ہو گئے جب شہر تو گھر جائیں گے

    کس قدر ہو گا یہاں مہر و وفا کا ماتم
    ہم تری یاد سے جس روز اتر جائیں گے

    جوہری بند کیے جاتے ہیں بازارِ سخن
    ہم کسے بیچنے الماس و گہر جائیں گے

    نعمتِ زیست کا یہ قرض چکے گا کیسے
    لاکھ گھبرا کے یہ کہتے رہیں، مر جائیں گے

    شاید اپنا بھی کوئی بیت حُدی خواں بن کر
    ساتھ جائے گا مرے یار جدھر جائیں گے

    فیض آتے ہیں رہِ عشق میں جو سخت مقام
    آنے والوں سے کہو ہم تو گزر جائیں گے
     
    آخری تدوین: ‏مئی 4, 2015
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  14. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,399
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    جیسے ہم بزم ہیں پھر یارِ طرح دار سے ہم
    رات ملتے رہے اپنے در و دیوار سے ہم

    سر خوشی میں یونہی دل شاد و غزل خواں گزرے
    کوئے قاتل سے کبھی کوچۂ دلدار سے ہم

    کبھی منزل، کبھی رستے نے ہمیں ساتھ دیا
    ہر قدم الجھے رہے قافلہ سالار سے ہم

    ہم سے بے بہرہ ہوئی اب جرسِ گُل کی صدا
    ورنہ واقف تھے ہر اِک رنگ کی جھنکار سے ہم

    فیض جب چاہا جو کچھ چاہا سدا مانگ لیا
    ہاتھ پھیلا کے دلِ بے زر و دینار سے ہم​
     
  15. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,399
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    جو میرا تمہارا رشتہ ہے

    میں کیا لکھوں کہ جو میرا تمہارا رشتہ ہے
    وہ عاشقی کی زباں میں کہیں بھی درج نہیں
    لکھا گیا ہے بہت لطفِ وصل و دردِ فراق
    مگر یہ کیفیت اپنی رقم نہیں ہے کہیں
    یہ اپنا عشق ہم آغوش جس میں ہجر و وصال
    یہ اپنا درد کہ ہے کب سے ہمدمِ مہ و سال
    اس عشقِ خاص کو ہر ایک سے چھپائے ہوئے
    "گزر گیا ہے زمانہ گلے لگائے ہوئے"​
     
  16. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,399
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    آج شب کوئی نہیں ہے

    آج شب دل کے قریں کوئی نہیں ہے
    آنکھ سے دور طلسمات کے در وا ہیں کئی
    خواب در خواب محلّات کے در وا ہیں کئی
    اور مکیں کوئی نہیں ہے،
    آج شب دل کے قریں کوئی نہیں ہے
    "کوئی نغمہ، کوئی خوشبو، کوئی کافر صورت"
    کوئی امّید، کوئی آس مسافر صورت
    کوئی غم، کوئی کسک، کوئی شک، کوئی یقیں
    کوئی نہیں ہے
    آج شب دل کے قریں کوئی نہیں ہے
    تم اگر ہو، تو مرے پاس ہو یا دُور ہو تم
    ہر گھڑی سایہ گرِ خاطرِ رنجور ہو تم
    اور نہیں ہو تو کہیں۔۔ کوئی نہیں، کوئی نہیں ہے
    آج شب دل کے قریں کوئی نہیں ہے​
     
  17. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,399
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    شام دھندلانے لگی اور مری تنہائی
    دل میں پتھر کی طرح بیٹھ گئی
    چاند ابھرنے لگا یک بار تری یاد کے ساتھ
    زندگی مونس و غم خوار نظر آنے لگی​
     
  18. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,399
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    باقی ہے کوئی ساتھ تو بس ایک اُسی کا
    پہلو میں لیے پھرتے ہیں جو درد کسی کا
    اِک عمر سے اِس دھُن میں کہ ابھرے کوئی خورشید
    بیٹھے ہیں سہارا لیے شمعِ سحری کا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  19. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,399
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    ترک شاعر ناظمِ حکمت کے افکار

    جینے کے لیے مرنا
    یہ کیسی سعادت ہے
    مرنے کے لیے جینا
    یہ کیسی حماقت ہے

    ۔۔۔۔۔۔
    اکیلے جیو ایک شمشاد تن کی طرح
    اور مل کر جیو
    ایک بَن کی طرح
    ۔۔۔۔۔۔
    ہم نے امّید کے سہارے پر
    ٹوٹ کر یوں ہی زندگی کی ہے
    جس طرح تم سے عاشقی کی ہے
    ۔۔۔۔۔۔​
     
    • زبردست زبردست × 1
  20. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,399
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    اِدھر نہ دیکھو

    اِدھر نہ دیکھوکہ جو بہادر
    قلم کے یا تیغ کے دھنی تھے
    جو عزم و ہمت کے مدعی تھے
    اب ان کے ہاتھوں میں صدقِ ایماں کی
    آزمودہ پرانی تلوار مڑ گئی ہے
    جو کج کلہ صاحبِ حشم تھے
    جو اہلِ دستار محترم تھے
    ہوس کے پرپیچ راستوں میں
    کلہ کسی نے گرو رکھ دی
    کسی نے دستار بیچ دی ہے

    اُدھر بھی دیکھو
    جو اپنے رخشاں لہو کےدینار
    مفت بازار میں لٹا کر
    نظر سے اوجھل ہوئے
    اور اپنی لحد میں اس وقت تک غنی ہیں،


    اُدھر بھی دیکھو
    جو حرفِ حق کی صلیب پر اپنا تن سجا کر
    جہاں سے رخصت ہوئے
    اور اہلِ جہاں میں اس وقت تک نبی ہیں​
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • زبردست زبردست × 1

اس صفحے کی تشہیر