مکمل غبار ایّام ۔ فیض احمد فیض

فرخ منظور نے 'اردو شاعری' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اپریل 7, 2015

  1. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,857
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    رفیقِ راہ تھی منزل ہر اِک تلاش کے بعد
    چھُٹا یہ ساتھ تو رہ کی تلاش بھی نہ رہی
    ملُول تھا دلِ آئنہ ہر خراش کے بعد
    جو پاش پاش ہُوا اِک خراش بھی نہ رہی​
     
  2. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,857
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    پھر آئنہِ عالم شاید کہ نکھر جائے
    پھر اپنی نظر شاید تا حدِّ نظر جائے

    صحرا پہ لگے پہرے اور قفل پڑے بن پر
    اب شہر بدر ہو کر دیوانہ کدھر جائے

    خاکِ رہِ جاناں پر کچھ خوں تھا گِرو اپنا
    اس فصل میں ممکن ہے یہ قرض اتر جائے

    دیکھ آئیں چلو ہم بھی جس بزم میں سنتے ہیں
    جو خندہ بلب آئے وہ خاک بسر جائے

    یا خوف سے در گزریں یا جاں سے گزر جائیں
    مرنا ہے کہ جینا ہے اِک بات ٹھہر جائے

    21، نومبر 1983ء​
     
  3. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,857
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    پھول مسلے گئے فرشِ گلزار پر
    رنگ چھڑکا گیا تختۂ دار پر

    بزم برپا کرے جس کو منظور ہو
    دعوتِ رقص، تلوار کی دھار پر

    دعوتِ بیعتِ شہ پہ ملزم بنا
    کوئی اقرار پر، کوئی انکار پر

    (ناتمام)
    23، فروری 1984ء​
     
  4. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,857
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    بے بسی کا کوئی درماں نہیں کرنے دیتے
    اب تو ویرانہ بھی ویراں نہیں کرنے دیتے

    دل کو صد لخت کیا سینے کو صد پارہ کیا
    اور ہمیں چاک گریباں نہیں کرنے دیتے

    ان کو اسلام کے لٹ جانے کا ڈر اتنا ہے
    اب وہ کافر کو مسلماں نہیں کرنے دیتے

    دل میں وہ آگ فروزاں ہے عدو جس کا بیاں
    کوئی مضموں کسی عنواں نہیں‌کرنے دیتے

    جان باقی ہے تو کرنے کو بہت باقی ہے
    اب وہ جو کچھ کہ مری جاں نہیں کرنے دیتے

    30 اکتوبر، 1984ء​
     
  5. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,857
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    بہت مِلا نہ مِلا، زندگی سے غم کیا ہے
    متاعِ درد بہم ہے تو بیش و کم کیا ہے

    ہم ایک عمر سے واقف ہیں، اب نہ سمجھاؤ
    کہ لطف کیا ہے مرے مہرباں، ستم کیا ہے

    کرے نہ جگ میں الاؤ تو شعر کس مصرف
    کرے نہ شہر میں جل تھل تو چشمِ نم کیا ہے

    لحاظ میں کوئی کچھ دور ساتھ چلتا ہے
    وگرنہ دہر میں اب خضر کا بھرم کیا ہے

    اجل کے ہاتھ کوئی آ رہا ہے پروانہ
    نہ جانے آج کی فہرست میں رقم کیا ہے

    سجاؤ بزم، غزل گاؤ، جام تازہ کرو
    "بہت سہی غمِ گیتی، شراب کم کیا ہے"

    نومبر، 1984ء​
     
  6. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,857
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    شامِ غربت

    دشت میں سوختہ سامانوں پہ رات آئی ہے
    غم کے سنسان بیابانوں پہ رات آئی ہے
    نورِ عرفان کے دیوانوں پہ رات آئی ہے
    شمعِ ایمان کے پروانوں پہ رات آئی ہے
    بیت شببر پہ ظلمت کی گھٹا چھائی ہے
    درد سا درد ہے تنہائی سی تنہائی ہے
    ایسی تنہائی کہ پیارے نہیں دیکھے جاتے
    آنکھ سے آنکھ کے تارے نہیں دیکھے جاتے
    درد سے درد کے مارے نہیں دیکھے جاتے
    ضعف سے چاند ستارے نہیں دیکھے جاتے
    ایسا سنّاٹا کہ شمشانوں کی یاد آتی ہے
    دل دھڑکنے کی بہت دور صدا جاتی ہے​
     
  7. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,857
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    نعت

    اے تُو کہ ہست ہر دلِ محزوں سرائے تُو
    آوردہ ام سرائے دِگر از برائے تُو
    خواجہ بہ تخت بندۂ تشویشِ مُلک و مال
    بر خاک رشکِ خسروِ دوراں گدائے تُو
    آنجا قصیدہ خوانیِ لذّاتِ سیم و زر
    اینجا فقط حدیثِ نشاطِ لقائے تُو
    آتش فشاں ز قہر و ملامت زبانِ شیخ
    از اشک تر ز دردِ غریباں ردائے تُو
    باید کہ ظالمانِ جہاں را صدا کُند
    روزے بسُوئے عدل و عنایت صَدائے تُو​
     
  8. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,857
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    ----------- اختتام ۔۔۔۔۔۔۔۔
     

اس صفحے کی تشہیر