عید کے عنوان پر اشعار اور نظمیں۔

گُلِ یاسمیں

لائبریرین
سنو!!!
اب چاند راتوں میں
نہ دعا کو ہاتھ اٹھتے ہیں
نہ کسی سے عید ملتے ہیں
ہتھیلی رہتی ہے حنا سے خالی
اور نہ بانہوں میں اب
کنگن کھنکتے ہیں
ہاں مگر
اے جانِ جاناں
اب بھی ہم
خونِ دل سے
کتابِ زندگی میں بس
ترا ہی نام لکھتے ہیں

(گُلِ یاسمیں)
سیما علی جی دیکھئیے ہم کتنے پاگل ہو گزرے ہیں، اتنا رونا دھونا ہم نے کیسے لکھا تھا :rollingonthefloor::rollingonthefloor::rollingonthefloor::rollingonthefloor:
 

شمشاد

لائبریرین
شہر خالی ہے کسے عید مبارک کہیے
چل دیے چھوڑ کے مکہ بھی مدینہ والے
اختر عثمان
 

سیما علی

لائبریرین
عید تو آ کے مرے جی کو جلاوے افسوس
جس کے آنے کی خوشی ہو وہ نہ آوے افسوس
مصحفی غلام ہمدانی
۔۔۔۔
 

سیما علی

لائبریرین
اے ہوا تو ہی اسے عید مبارک کہیو
اور کہیو کہ کوئی یاد کیا کرتا ہے
تری پراری
۔۔۔۔
 

سیما علی

لائبریرین
نصیب جن کو تیرے رخ کی دید ہوتی ہے
وہ خوش نصیب ہیں خوب انکی عید ہوتی ہے
امیر مینائی

۔۔۔۔۔
 

سیما علی

لائبریرین
مہک اٹھی ہے فضا پیرہن کی خوشبو سے
چمن دلوں کا کھلانے کو عید آئی ہے
محمد اسد اللہ
۔۔۔۔۔
 

سیما علی

لائبریرین
جو لوگ گزرتے ہیں مسلسل رہ دل سے
دن عید کا ان کو ہو مبارک تہ دل سے
(عبید اعظم اعظمی)​
 

سیما علی

لائبریرین
سب لوگ دیکھتے ہیں کھڑے چاند عید کا
مشتاق ہوں میں رشک قمر تیری دید کا
بہادر شاہ ظفر
 

سیما علی

لائبریرین

چاک دامن کو جو دیکھا تو ملا عید کا چاند
اپنی تقدیر کہاں بھول گیا عید کا چاند
ان کے ابروئے خمیدہ کی طرح تیکھا ہے
اپنی آنکھوں میں بڑی دیر چبھا، عید کا چاند
۔۔۔۔۔۔۔۔ساغر صدیقی۔​
 

سیما علی

لائبریرین
ہے روزِ عید' بھلاؤ تمام شکوے گلے
گلے ملو'تو کچھ ایسے'کہ دل سے دل بھی ملے
کدورتوں کو مٹانے کا وقت آیا ہے
بھلاؤ رنجشیں'موقع یہ پھر ملے نہ ملے

ڈاکٹرمقبول احمد مقبول
 

سیما علی

لائبریرین
دل کو تم کاخ نورکرلینا
عید کے دن حضور کرلینا
دشمنی کو بھلا کے اے منان
ہر گلے شکوے دور کرلین
محبت علی منان​
 

سیما علی

لائبریرین
آو مل کر مانگیں دعائیں ہم عید کے دن
باقی رہے نہ کوئی بھی غم عید کے دن
ہر آنگن میں خوشیوں بھرا سورج اُترے
اور چمکتا رہے ہر آنگن عید کے دن
 

سیما علی

لائبریرین
عید کا چاند ہے خوشیوں کا سوالی اے دوست
اور خوشی بھیک میں مانگے سے کہاں ملتی ہے
دست سائل میں اگر کاسئہ غم چیخ اٹھے
تب کہیں جا کے ستاروں سے گراں ملتی ہے

عید کے چاند ! مجھے محرم عشرت نہ بنا
میری صورت کو تماشائے الم رہنے دے
مجھ پہ حیراں یہ اہل کرم رہنے دے
دہر میں مجھ کو شناسائے الم رہنے دے

یہ مسرت کی فضائیں تو چلی جاتی ہیں !
کل وہی رنج کے، آلام کے دھارے ہوں گے
چند لمحوں کے لیے آج گلے سے لگ جا
اتنے دن تو نے بھی ظلمت میں گزارے ہوں گے

ساغر صدیقی
 

سیما علی

لائبریرین
عید تکمیلِ عنایت عید تقریبِ سعید
عید روزوں کا تتمہ عید بخشش کی نوید
جس گھڑی دوخ پکارے ہل من مزید
عید ِ مو من رو ز ِ محشر رب کی دید

جن کو مطلوب خدا ہے وہی ان کا دلبر
دن کو روزے سے رہے رات کو جاگے اکثر
کیوں منائیں نہ خوشی ،عید یہاں اور وہاں
اجر مولٰی دے جنہیں پاس سے جھولی بھر کر

دن میں محنت جوکریں ذکر میں کا ٹیں راتیں
جن کو مرغوب عمل ہیں نہیں حیلے باتیں
ان کی مبرور عبادت، ہی صلہ ہے ان کا
ہیں مقرب ِ الٰہی یہ مقدس ذاتیں
 
Top