عمیرہ احمد سے ملاقات ۔۔۔ !

عمیرہ احمد سے ملاقات ۔۔۔ !

مجھے معلوم نہیں تھا میں آج جس ہستی سے ملنے جارہی ہوں اس سے کبھی مل پاؤں گی ۔ بچپن میں ایک کہانی پڑی تھی۔ ان کی تب سے شوق چرایا کہ جب کسی اعلیٰ تعلیمی ادارے میں پڑھنے جاؤں گی تب میں ان سے ضرور ملاقات کروں گی ۔میں نے اچھی خاصی تیاری کی ۔ کچھ سوال ذہن نشین کر لئے کہ جاؤن گی کہ تو ان سے ہو چھوں گی ۔ امید تھا وہ مجھے جواب دیں گی کیوں کہ میں جرنلسٹ تھوڑی تھی ۔ ان کو کھوجتی رہی کہ کب انہوں نے اپنا کیرئیر سٹارٹ کیا ۔ انہوں نے شاید اک دفعہ ہی انٹرویو دیا تھا وہ تھا خواتین ڈائجسٹ میں ۔۔ مجھے ان کا یہ ''رو برو'' والا حصہ ازبر کر لیا کہ عمیرہ باجی سے ملوں گی تو پوچھوں گی ۔اک دن مجھے قدرت نے موقع فراہم کر دیا ۔۔ مجھے پتا چلا کچھ بڑی ہوئی کہ وہ تو بہت بڑی مصنفہ ہیں نامور ہوگئی ہیں بہت ۔۔۔ ان سے ملنے کی میری دعا قبول ہوگئی۔۔!



آج میں ان کے گھر کے بالکل سامنے کھڑی تھی مجھے یقین نہیں آرہا تھا خواب اس طرح حقیقت کا روپ دھار سکتے۔ خواب جو یاد کی دہلیز پر تمکنت سے براجمان ہوتے ہیں ہر وقت ہمیں ستاتے رہتے ہیں۔۔ یہ جھنجھلاتے جھولے کبھی کبھی آئینہ حقیقت میں دو گھڑی کا سرور دے دیتے ہیں ۔۔!خیر اپنے خواب کا ذکر کرتے ہوئے میں کہاں سے کہاں تک اگئی میں نے عالیشان عمارت کا ناقدانہ سا جائزہ لیا اس جائزے کو انتظار کی دھوپ میں طویل ہونا پڑا ۔ سامنے کھڑے گاڑڈ سے میں نے کہا مجھے عمیرہ احمد سے ملنا ہے ۔ اس نے مجھے اوپر سے نیچے دیکھا جیسے میں کوئی خلائی مخلوق ہوں ۔ "کیا اپائنمنٹ لی تھی ؟ ""

میں پریشاں ۔۔!!! عمیرہ جی کے گھر کے سامنے مجھے یوں کھڑے ہونا پڑے گا ۔۔۔ ! میں نے کہا :

''جی ! میں نے ان سے باقاعدہ ٹائم لیا ہے ۔ ان کو بتائیں میری ان سے فوں پہ بات ہوئی ۔ اور انہوں نے مجھ سے ملنے کی حامی بھری ۔ اور میں بالکل ٹائم پر پہنچی ہوں ۔ ۔!!!

اور کچھ سوال و جوابات کے بعد مری ان سے ملا قات ہوگئی یا یوں کہیں مجھے ان سے ملاقات کا شرف حاصل ہو گیا ۔

وہ بہت سادہ سے لباس میں تھین ۔ ان کو دیکھ کر مجھ پر سرر سا طاری ہو گیا ۔ اپنی سادگی میں بھی بلا کی تمکنت تھی یا یہ رُعب حسن تھا ۔ وہ بظا ہر تو اچھی صورت کی ہیں مگر بہت سے لوگوں کے بقول قابلِ صورت ہیں ۔۔۔ بات تو دیکھنے والی کی نظر کی ہوتی ہے ۔یا جن کے دل پاک ہوتے ہیں ان کے دلوں کا نور ان کے چہروں کو منور کرتا رہتا ہے ۔میری نظر میں وہ باکمال اور حسیں ٹھہریں ۔ آج مرا دل چاہ رہا تھا ان کے ہاتھ چوم لوں کیونکہ وہ تھیں جن کے اک ناول کا آغاز غالبا یوں ہوتا ہے ۔۔۔

میرے ہونٹوں سے اور ہاتھوں سے خوشبو جاتی نہیں
میں نے اسم محمد ﷺ پڑھا بہت اور لکھا بہتا۔


مگر خدا کو منظو ر پرستش کیا ۔۔۔ ! پھر بھی ہوگئی ۔۔۔ ظاہریت سے نہیں باطنیت سے ۔۔۔ پیر کامل ﷺ انکا نام اور انکی زندگی کی پہچان ہے ۔ اور وہ اس عکس میں ڈھلی اک سراپا تصویر ۔۔۔ میں نے دنیا میں ان سا خوبصورت کوئی نہیں دیکھا۔ ابھی مری حیرت کا شیشہ ٹوٹنا ہی تھا کہ انکی آواز نے مجھے اور دیوانہ بنا لیا ۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔!!!

"جی ۔۔۔ ! آپ نے مجھ سے ملنے پر اصرار کیا۔''

''آپ کے پرزور اصرار کی وجہ سے میں نے بھی سوچا آپ سے مل لوں ۔۔۔ !'

'' آپ نے یہ ہی بتایا تھا کہ آپ سیالکوٹ میں مقیم ہوں تو آپ سے تو بڑی آسانی سے ملاقات ہو سکتی تھی ۔۔۔ ! ''


'' جی ۔۔! بالکل آپ نے بجا فرمایا۔۔ اسوقت میں نے آپکی تحریروں کو پڑ ھا نہیں تھا۔۔ ! شاید میری بد قسمتی تھی وہ یا یوں کہ لیں یہ خوش نصیبی کہ میں آج یہاں پر ہوں ۔۔۔ ۔!

میں آپ کو آپ کے نام سے نہیں جانتی ۔۔۔ نہ اس کو جس کو دنیا جانتی ہے ۔۔۔ مجھے پر کشف ہوتا گیا ۔۔ آپ کو پڑھتی گئی ۔۔۔ میرا پڑھنا مری صر ف سانس نہ روک سکا۔۔ باقی سب کچھ آپ کے اسرار میں گم ہو گیا۔۔۔ ۔!

'' میرا دل تڑپ اٹھا کہ آپ سے ملنا روح کے سرور کے لئے ضروری ہے ۔۔ ! بہت کچھ میں آپ سے ڈس کس کرنا چاہتی ہوں ،۔۔آپ کو پڑھنے میں دیر ہوئی ورنہ نام تو دنیا جانتی آپ کا۔۔ تاخیر کے لئے معذرت ۔۔۔ ۔ ''


بہت شکریہ ۔۔! آپ کے پیار کا۔۔۔ میں نے جو لکھا اس کی لئے حوصلہ اور اثر اسی ذات نے دیا۔۔ دراصل یہ ذات کا عکس ہیں ۔۔۔ وہ ذات جس میں سب کی شبیہ ہے ۔۔''


واہ ! کیا خوب کہا آپ نے ۔۔۔ ! آپ کی اس بات میں دم ہے ۔۔ صاحب کشف بھی لوگ ہوتے ہیں ۔ شاید وہ بھی صاحب کشف تھیں ۔۔ اس بات کا اندازہ اسوقت ہوا جب اک بار پھر کانوں میں مترنمی آواز چھنچھنائی ۔۔!


'' آپ نے مجھ سے کیا پو چھنا ہے ، مجھے جو مناسب لگے گا اسکا جواب میں ضرور دوں گی ۔۔ بعض اوقات لوگ سوال کم ذاتیات پر زیادہ اتر آتے ہیں ۔۔۔ ! ''

مجھے ان کی کھوج تھی کہ ان کے دل میں کیا ہے ۔ ماضی کیا تھا کہتے لکھاری جتنا بھی اپنا آپ چھپا لے ۔۔جتنا معاشرے پہ لکھے اس سے زیادہ وہ اپنے بارے میں عیاں کرتا جاتا ہے ۔ معاشرے کی اوٹ میں وہ موضوع وہ چنتا ہے یا چنتی ہے جو اس کو اپنی ذات کے قریب لگیں ۔۔ کچھ لکھاری ایک ہی تصنیف میں خود کو عیاں کر دیتے ہیں کچھ قطرہ قطرہ اپنا عکس نچوڑ کر اپنی شبیہ پھونک ڈالتے ہیں ۔ ان کے لفظ ان کی روح کی آبیاری کرتے رہتے ہیں مگر ان کا بدن گھلتا رہتا ہے ۔ عکس در عکس تصنیف میں ہونا آسان بات نہیں ہوتی ۔لکھاری پڑھنے والے کو بتا رہا ہوتا ہے کہ لکھا ہوا اسکی زندگی سے قریب ہے در حقیقت وہ اسکی زندگی سے زیادہ قریب ہوتا ہے ۔ اس بات کی آگاہی مجھے ان کی چودہ سے زائد تصانیف پڑھ کر ہوئی ۔

''آپ کے ناولز میں کردار نگاری اتنی پرفیکٹ اور مکمل ہوتی ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے انسان ولن نہیں ہوتے ۔ ان کو بنایا جاتا ہے ۔ انسان بُرا نہیں ہوتا مگر منظر پر بُرا ہی ہوتا ہے ۔ محبت کرنے والا مجرم بن جاتا ہے ۔۔۔ میرے ذہن میں آپ کے ناولز کے تخیلات کا گہرا اثر ہے اس لئے کنفیوژن ہے ۔ ایسا کیوں ہے ۔۔۔ '' میں نے پوچھا۔۔۔


" ہیم ۔۔۔ اچھا۔۔۔ '' ۔۔۔ گہرا سانس لیا ۔۔۔ ۔زندگی میں پورا آسماں کسے ملتا ہے۔۔کبھی سنا زندگی پھولوں کی سیج ہے۔ ہمیں خوشیاں قطروں میں ملتی ہیں ۔ اور انسان کا ادھورا پن مکمل نہیں ہوتا۔ میں ان نامکمل انسانوں کی پوری تصویر قارئین کے سامنے رکھ دیتی ہوں ۔ پڑھنے والا مانگتا مکمل بات ہے۔ میں بات مکمل کر دیتی ہوں اور بسا اوقات کہانی کا انجام حادثوں میں ہوجاتا ہے ۔۔''


'' یعنی آپ کو اردو کی ''ہارڈی '' کہا جا سکتا ہے ۔ ان کا کرداروں کو بُننا اور کسی غیر مرئی قوت کو انجام کا ذمہ دار ٹھہرانا انہی کا خاصہ ہے ۔۔۔ '' میں بہت زیادہ امپریس ہوئی ہوں ۔۔۔ میں نے آپ کا ایک انٹر ویو پڑھا تھا۔۔'' روبرو'' جس میں آپ نے بتایا انسان برا نہیں ہوتا ، بنا دیا جاتا ہے۔۔۔ کوئی خودکشی کیوں کرتا ہے ۔۔؟ لوگ سوال کرتے ہیں خود کش پہ۔۔ آپ کا کہنا تھا لوگ کبھی یہ نہیں جانتے کہ برائی کی وجہ کیا ہے ۔۔۔ مگر بُرے ہونے کو پچھاڑتے رہتے ہیں ۔۔ آپ کا یہ تھیم اکثر ناولز میں ملتا ہے ۔۔۔ جیسے من و سلوٰی کی مثال ہی لے لیں ۔۔۔ ادھوری محبت۔۔ ہیروئن کا روایات کے برعکس بغاوت پر اتر جانا۔۔ انجام خود کشی۔۔۔ "


''نور۔۔'' مجھے نہیں لگ رہا آپ نے مجھے اب پڑھنا شروع کیا ہے۔ مجھے لگتا ہے آپ تو پورا سازو سامان کے ساتھ آئیں ہیں ۔۔ مجھے خوشی ہوئی کوئی اتنی گہرائی میں جاتا ہے ۔۔ زندگی کو لکھنا آسان کام نہیں ہوتا اور بالخصوص جب وہ درد میں لکھی جائیں جو یہ صراط پار کر جاتے ہیں وہ لکھنا تب ہی شروع ہوتے ہیں۔۔ میں نے لکھا ہے درد میں لکھا ہے ۔۔ معاشرے کے درد کو۔۔۔ اس میں ہونے والی نا انصافی کے خلاف احتجاج کیا ہے ۔۔۔ نور آپ ہوں یا کوئی بھی ہو یا میں خود ہوں ۔۔ ہم مادیت کی محبت میں جاتے ہیں روح کے دھاگے سے منسلک جذبات کو ریشہ ریشہ کر دیتے ہیں ۔۔ اور جسکو ہم اذیت دے کر جاتے ہیں وہ جذبات کو ریشے کو باندھ بھی سکتا ہے ، زخم بھر بھی سکتا ہے بجائے اسکے بڑھاپا طاری کرکے عمر گزار دیں ۔ میں نے ان خیالوں سے کرداروں کا کینوس وسیع کیا ہے ۔۔ مرے کردار زخم کھا کر بھی جیتے ہیں شان سے ۔۔ زمانے کو بتاتے ہیں جیو ایسے کہ تم تمثیل بن جاؤ۔۔''


'' بہت ہی اعلیٰ۔۔۔ عمدہ۔۔! آپ کے ان خیالات کو جان کر مجھے آپ کو ہارڈی کے بجائے شیکسپئر کہنا چاہیے۔۔شیکسپر کے بارے میں کہا جاتا رہا وہ اپنی ذات کی نفی کر کے لکھتا ہے ۔ مگر اسکے ناولز اور شاعری کو بغور مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے ۔ وہ تو اسکی کہانیاں تھیں ۔۔ زمانہ سمجھا یہ عام آدمی کی کہانی ہے ۔ مرا خیال ہی شیکسپر بھی عام ادمی ہی رہا اس لئے وہ کرداروں میں چھپ گیا۔۔۔ "


'' باتیں تو آپ کو بھی خوب کرنا آتی ہیں ۔۔ ارے ۔۔ چائے تو ٹھنڈی ہوگئی ہے آپ کی ۔۔ نہ ہی کچھ لیا آپ نے ۔۔۔ کل آپ کہیں گے عمیرہ مہمان نواز نہیں۔۔۔ ''

''آپ سے مل کر اور جان کر مری روح سیر ہوگئی ہے مجھے اب کسی چیز کی حاجت نہیں ہے ۔۔ اور میں بھلا کیوں کہوں گی ایسا ۔۔ آپ تو اتنی اچھی مہمان نواز ہیں ۔۔

'' آخری بات پوچھنا چاہتی ہوں ۔۔ میں نے '' امید ایمان محبت ، میری ذات ذرہ بے نشاں اور وہ جو صبح کا اک ستارا ہے '' کا جائزہ لیا۔۔ یہ آپ کی ابتدائیہ تصانیف ہیں ۔۔ ان میں محبت خدا پر ایمان لاتی ہے اور حوث پرست ساتھی کسی اور کا ہو جاتا ہے ۔۔سچا دل اسکی بے لوث محبت کا وصالِ الہی ہو جاتا ہے۔۔۔ امربیل ، من و سلوٰی ، محبت صبح کا اک ستارہ اور زندگی گلزار ہے ۔۔ سب ہیرو سول سروس میں ہوتے ہیں ۔۔۔ ؟ محبت کرنے والا اگلے لکھے جانے والے ناولوں میں برا نہیں مجبور ہوجاتا ہے ۔۔ پیر کامل اور زندگی گلزار ہے'' میں ہیرو اور ہیروئن حالات کی کٹھنائیاں سہ کر مل جاتے ہیں ۔۔ میں اس وصال کی وجہ جاننا چاہ رہی ورنہ بیشتر ناولز میں محبت ظالم سہنے والے مظلوم ۔۔۔ یعنی ہیرو اور ہیروئین دونوں۔۔۔


''وجہ تو کوئی خاص نہیں ہے ۔۔ زندگی کے تھیمز مختلف ہیں ۔۔ اس میں معجزے بھی ہوتے ہیں۔۔ طوفاں بھی دائمی بن جاتے ہیں ۔۔ کبھی اچھی بن کر زندگی آپ کی ہوجاتی ہے تب جب آپ بھی زندگی کو چاہنے لگیں ۔۔ زندگی کے دکھوں کو سراہنے لگیں ۔۔۔ زندگی کو سمجھنا آسان نہیں ہے ۔۔۔ جو زندگی سمجھ جاتے ہیں ۔۔ وہ دلیر ہوتے ہیں ۔۔ جو اسکو سمجھ کر سراہنے والے ہوتے ہیں ان کا زندگی کچھ نہ کچھ جھولی میں ڈال دیتی ہے ۔۔ وہ لوگ جنگجو ہوتے ہیں ۔۔ ایسا بہت کم ہوتا ہے ۔۔ اس لئے کم ناولز میں نظر آیا ہے۔۔''


بہت شکریہ۔۔۔ میں نے آپ کا ٹائم چرا کر یاد کی پنجرے میں سنبھال دیا ہے ۔۔۔ ارے میں تو آپ کو مبارک باد دینا ہی بھول گئی۔۔۔ آپ کو شادی مبارک ہو۔۔ اب تو مسز ارسم آفتاب بن گئی ہیں۔۔ بہت کامیاب انسان ہیں ۔۔ سول سروس میں ہیں وہ بھی ۔۔


بہت شکریہ۔۔ مل کر بہت خوشی ہوئی۔۔۔ وہ اٹھیں اور مجھے ساتھ لگایا۔ کہا۔۔ ابھی نئی ہو پہچان رہی ہو زندگی کو پرکھ رہی ہو ۔۔ کسی دن جنگجو بھی بن جاؤ گی۔۔۔ "


میں نے ان کے گھر سے باہر نکل کر سوچ رہی تھیں ۔۔ انسان لکھتا مشاہدے سے چاہے وہ ذات کا مشاہدہ ہو ، یا مظاہر کا۔۔ درد روح میں محبت کا ہجر بن کر اسکو لیر لیر کر دیتا ہے ۔۔۔ جو بکھری ہوئی روح کی پرچھائیوں کے ساتھ چلنا سیکھ جاتے ہیں وہ عمیرہ احمد جیسے لکھاری بن جاتے ہیں۔ جو درد کو خوشی کی طرح وصول کرتے ہیں ۔۔

از نور شیخ
ایک عجیب سی روانی ہے کہ نظر ٹھہر نہیں رہی ، اور پھر خالی پن کا تاثر ، بہت کچھ ہے بھی اور بہت تشنگی بھی
 
نورآپ نے خوب لکھا ۔۔۔۔
منشورات والوں نے یہاں دہلی میں اسٹال لگایا تھا تو میں نے وہاں سے پیر کامل خریدی ہے ابھی پڑھنے کا اتفاق نہیں ہوا ہے ۔
ذرا فرصت ملے تو دیکھوں ۔ لیکن آپ کا اسٹائل اور انداز اچھا لگا ۔ لکھتی رہیں کیا معلوم عمیرہ احمد پیچھےچلی جائیں اور آپ ان سے بہت آگے نکل جائیں ۔
اللہ آپ کے قلم میں مزید توانائی دے ۔
 

نور وجدان

لائبریرین
بہت شکریہ جناب عمر سیف :)
عثمان جہاں تک میرا خیال ہے انہوں نے زندگی میں کچھ اصول وضع کیے ان کو آج تک نہیں توڑا۔۔وہ پچھلے سال کی بیسٹ لکھاری منتخب ہوئی مگر ایوارڈ لینے والا کوئی نہیں تھا تب مزاح کی خاطر یہ کہ دیا گیا تھا ''فیس بک سے رجوع کریں '' )ایوارڈ پہنچانے کے لیے)

  1. محمد علیم اللہ اصلاحی بہت اچھا لگتا ہے جب کوئی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔۔دعا کی طالب اور آپ کی دی ہوئی دعا بہت خوب ہے آپ نے تو جی سرشار کردیا۔۔عمیرہ کا پیرَ کامل پارٹ 2 شروع ہے خواتین میں میں نے پڑھا نہیں میں اس کو کتابی شکل میں پڑھوں گی ۔۔۔تشکرہ
 
Top