1. اردو محفل سالگرہ شانزدہم

    اردو محفل کی سولہویں سالگرہ کے موقع پر تمام اردو طبقہ و محفلین کو دلی مبارکباد!

    اعلان ختم کریں

علم قافیہ!

مہدی نقوی حجاز نے 'محفل چائے خانہ' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اگست 5, 2012

  1. مہدی نقوی حجاز

    مہدی نقوی حجاز محفلین

    مراسلے:
    4,894
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Hungover
    از جائے کہ ہمیں کسی علم میں مہارت حاصل نہیں اس مرتبہ بھی ہم ایک نئی وحشت میں گرفتار ہوئے جاتے ہیں۔۔ علم قافیہ۔۔ براہ کرم ہمارے علم میں اضافہ فرماتے یہاں ہمیں اس علم سے بھی آگاہ کریں۔۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  2. یوسف-2

    یوسف-2 محفلین

    مراسلے:
    4,043
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Shh
    قافیہ پیمائی کا محض شوق ہے یا پھر محفلین کا قافیہ تنگ کرنے کا ارادہ ہے :D
    ابن مریم ہوا کرے کوئی​
    میرے دکھ کی دوا کرے کوئی​
    اس شعر میں ہوا اور دوا ہم قافیہ الفاظ ہیں۔ قافیہ کا ”ہم وزن“ ہونا ضروری ہے۔ قافیہ کے بعد آنے والے مکرر الفاظ )( کرے کوئی ) کو ردیف کہتے ہیں۔ اب یہ قافیہ و ردیف کیوں اور کیسے بنتے ہیں۔ ان کے وزن کو کیسے ”تولا“ جاتا ہے ؟؟ وغیرہ وغیرہ یہ سب جاننے کے لئے ماہرین کا انتطار کیجئے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
  3. فاتح

    فاتح لائبریرین

    مراسلے:
    15,751
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Hungover
  4. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    27,147
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    قافیہ کا ہم وزن ہونا ضروری نہیں ہے، اسی غزل کے قوافی کیا، جا، رہنما، مطلع کے قوافی سے ہم وزن نہیں ہیں

    ابنِ مریم ہُوا کرے کوئی
    میرے دکھ کی دوا کرے کوئی

    شرع و آئین پر مدار سہی
    ایسے قاتل کا کیا کرے کوئی

    چال جیسے کڑی کمان کا تیر
    دل میں ایسے کے جا کرے کوئی

    بات پر واں زبان کٹتی ہے
    وہ کہیں اور سنا کرے کوئی

    بک رہا ہوں جنوں میں کیا کیا کچھ
    کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی

    نہ سنو گر برا کہے کوئی
    نہ کہو گر برا کرے کوئی

    روک لو گر غلط چلے کوئی
    بخش دو گر خطا کرے کوئی

    کون ہے جو نہیں ہے حاجت مند
    کس کی حاجت روا کرے کوئی

    کیا کیا خضر نے سکندر سے
    اب کسے رہنما کرے کوئی

    جب توقع ہی اٹھ گئی غالبؔ
    کیوں کسی کا گلہ کرے کوئی
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 4
    • زبردست زبردست × 2
    • متفق متفق × 2
  5. مزمل شیخ بسمل

    مزمل شیخ بسمل محفلین

    مراسلے:
    3,530
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  6. مہدی نقوی حجاز

    مہدی نقوی حجاز محفلین

    مراسلے:
    4,894
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Hungover
    تو ساتھ ہی کچھ وضاحت بھی فرمادیجے محترم محمد وارث۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  7. مزمل شیخ بسمل

    مزمل شیخ بسمل محفلین

    مراسلے:
    3,530
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    اگر یہ کتاب کاپی رائیٹ سے آزاد ہے تو کیوں نہ اسکا عروض والا حصہ بھی لانے کی کوشش کی جائے یہاں۔ ؟ میں ایک بار دیکھ چکا ہوں اس کتاب کو۔ اور پروفیسر صاحب نے بہت محنت سے ایک بہت اہم حصہِ عروض کو کور کیا ہے اس میں۔
    اگر کوئی اس کتاب کو صحیح معنوں میں پڑھ لے تو شاید کہیں اور بھٹکنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  8. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    27,147
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    نقوی صاحب آپ کسی کتاب کا مطالعہ ضرور کیجیے، ایک ربط تو اوپر آ ہی گیا۔

    مختصراً یوں سمجھیے کہ قافیہ کلام میں آنے والے وہ الفاظ ہیں جن میں کچھ حروف یا آواز اور انکی حرکت مشترک ہوتی ہے اور یہ الفاظ تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔ غالب کی اوپر والی غزل کو دیکھیے جو الفاظ بدل بدل کر آ رہے ہیں لیکن ایک جیسے ہیں ان میں ایک آواز مشترک ہے اور وہ ہے آ کی آواز۔ یعنی الف اور اس سے پہلے زبر کی آواز، مثلاً ہوا، دوا، جا، کیا، رہنما میں کلمہ آ مشترک ہے اور یہی قافیہ ہے۔

    اسی طرح غالب کی ایک اور غزل

    عرضِ نیاز عشق کے قابل نہیں رہا
    جس دل پہ ناز تھا مجھے وہ دل نہیں رہا

    اس غزل میں قافیہ اِل ہے یعنی لام اور اس سے پہلے زیر کی آواز، قابِل کا بِل اور دل یعنی اِل، اس کے دیگر قوافی میں محفِل، قاتِل، بسمِل وغیرہ ہیں۔ غور فرمائیے کہ ان الفاظ کے ساتھ بادَل، آنچل، جنگل قافیہ نہیں آ سکتے کیونکہ آخری تینوں الفاظ میں قافیہ اَل ہے یعنی لام اور اس سے پہلے زبر کی آواز۔ سو حرکت بدل گئی تو قافیہ بھی بدل گیا، بادل آنچل جنگل آپس میں قوافی ہیں لیکن قابل دل محفل کے ساتھ نہیں۔

    بس یہ فرق ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔
     
    • زبردست زبردست × 5
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • معلوماتی معلوماتی × 2
    • متفق متفق × 1
  9. نایاب

    نایاب لائبریرین

    مراسلے:
    13,421
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Goofy
    ماشاءاللہ سبحان اللہ
    بلاشبہ اس بہتر اور آسان تعریف " قافیہ " ممکن نہیں
    جزاک اللہ خیراء محترم وارث بھائی
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
  10. مہدی نقوی حجاز

    مہدی نقوی حجاز محفلین

    مراسلے:
    4,894
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Hungover
    ایک بات ابھی تک ہمارے سمجھ میں نہیں آتی اعجاز صاحب نے نشاندہی کی تھی پر سمجھ نہ آسکی وضاحت فرمادیں تو متشکر رہوں گا۔
     
  11. یوسف-2

    یوسف-2 محفلین

    مراسلے:
    4,043
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Shh
    تصحیح کا بہت بہت شکریہ برادر۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  12. مزمل شیخ بسمل

    مزمل شیخ بسمل محفلین

    مراسلے:
    3,530
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed


    مہدی بھائی یہ دھاگہ اگر آپ اصلاحِ سخن میں کھولتے تو زیادہ بہتر تھا۔ میری درخواست ہے مدیران اور منتظمین صاحبان سے کے اسے اصلاحِ سخن میں منتقل کردیا جائے۔

    جہاں تک غزل کا مسئلہ ہے تو قافیہ ہم آواز الفاظ کا نام ہے جو ردیف سے پہلے آتے ہیں۔ اوپر سرخ رنگ میں قافیہ اور نیلے میں غزل کی ردیف ہیں۔
    ردیف وہ لفظ یا الفاظ جو ہر شعر کے دوسرے مصرعے جبکہ مطلع کے دونوں مصرعوں کے آخر میں بنا کسی بھی تبدیلی کے آئے۔
    مذکورہ بالا غزل میں جو قافیہ ہے وہ مجرد قافیہ کہلاتا۔ یہ ایسا قافیہ ہوتا ہے جس کا دار و مدار صرف حرف روی یعنی قافیے کے الفاظ کے آخری حرف پر ہوتا ہے ورنہ الفاظ کی اصلی حالت میں کچھ بھی ہم آواز نہیں ہوتا۔ جیسے: لوٹ، اجاڑ، دیکھ، بکھیر، اکھیڑ وغیرہ۔
    قافیہ کا دار و مدار صرف ”نے“ پر ہے جو کے خود کوئی لفظ نہیں ہے۔ اور ایسا قافیہ غیر فصیح مانا جاتا ہے۔
    یہاں ایک بات یہ بھی ہے کے کچھ شعرا نے اسے استعمال کیا بھی ہے جیسے بشیر بدر کی مثال استاد جی الف عین نے دی ”بچ گئے آج ہم ڈوبتے ڈوبتے“
    اس میں بھی آپ کی غزل کی طرح قافیے ہیں یعنی،
    بھولتے، ڈھونڈتے، جھومتے، ڈوبتے، گھومتے اور پوجتے وغیرہ۔
    اگر مجرد قافیے کو فصیح مانا جائے تو آاپ یہ قافیہ بھی استعمال کرلیں لیکن قافیہ بھر حال اصلی لفظ کا نام ہے۔
    یہاں گھومتے کا قافیہ جھومتے ٹھیک ہے۔ کیونکہ ”جھومنا“ اور ”گھومنا“ ہم آواز ہے۔ لیکن ”بھولنا“ یا ”ڈھونڈنا“ ہرگز نہیں۔
    امید ہے میں اپنی بات ایک عام طریقے سے سمجھانے میں کامیاب رہا ہوں۔ بے شک میرا طریقہ اصطلاحی نہ تھا۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
    • زبردست زبردست × 2
    • متفق متفق × 1
  13. ساحر مرزا

    ساحر مرزا محفلین

    مراسلے:
    4
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Goofy
    احباب کی محفل میں آداب۔۔۔۔
    ھمیں "دُکھ" کے ھم قافیہ الفاظ کی تلاش جو قریب قریب ھم وزن بھی ہوں
    اب دُکھ اور سُکھ مگر ان کے علاوہ کچھ سوجھ نہیں رہا
    نوازش
     
  14. محمّد احسن سمیع :راحل:

    محمّد احسن سمیع :راحل: محفلین

    مراسلے:
    2,613
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Confused
    ان دونوں کے علاوہ شاید ’’مُکھ‘‘ ہی ممکن ہو
    مگر قافیہ ڈھونڈ کر اس پہ شعر کیوں فٹ کرنا چاہ رہے ہیں؟
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  15. محمد تابش صدیقی

    محمد تابش صدیقی منتظم

    مراسلے:
    26,773
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    شاید دکھ اور سکھ کے ساتھ ایک شعر ہو گیا ہو، اور اب غزل مکمل کرنا چاہ رہے ہوں۔ :)
     
    • دوستانہ دوستانہ × 2
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  16. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    27,147
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    ہمیں تو دکھ سکھ سے ہمیشہ محمد رفیع مرحوم کا شہرہ آفاق بھجن ہی یاد آتا ہے، "سکھ کے سب ساتھی، دکھ میں نہ کوئی"۔ :)

    باقی ایک پنجابی قافیہ بھی ہے "رُکھ" بمعنی درخت۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • زبردست زبردست × 1

اس صفحے کی تشہیر