عقیدت اور عقیدہ - تبرکات نبوی صلی اللہ علیہ وسلم

مہوش علی نے 'اسلام اور عصر حاضر' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏نومبر 11, 2008

لڑی کی کیفیت:
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں
  1. مہوش علی

    مہوش علی لائبریرین

    مراسلے:
    3,003
    فاروقی برادر،
    آپ اپنا جو بھی نظریہ رکھتے ہیں آپکو مبارک ہو اور آپ اس میں آزاد ہیں، مگر دوسروں کو بھی اپنے نظریات سے اختلاف رائے کا حق دیجئیے۔

    اللہ اللھم صلی علی محمد و آل محمد

    ام المومنین جناب عائشہ اور ان کی بہن اسماء بنت ابی بکر رسول اللہ ﷺ کے کرتے سے بیماری میں شفا حاصل کرتی تھیں

    اس موضوع پر کئی سو احادیث میرے سامنے ہیں۔ آپ اپنے عقیدے میں آزاد ہیں، مگر کیا میں اپنے عقیدے میں آزاد نہیں کہ جو کچھ مجھے قران و سنت سے صحیح نظر آتا ہے [چاہے دوسروں کو وہ جہالت نظر آتی ہو] کا اتباع کروں؟

    یاد رکھئیے، ہر ہر پہاڑ ، ہر ہر ذرہ، ہر ہر پرندہ اپنے طریقے سے اللہ تعالی کی حمد و تقدیس کر رہا ہے اور اپنی عبادت میں مصروف ہے۔ اور جب ہم کہتے ہیں کہ آب زمزم میں برکت ہے یا تبرکات نبوی کو چومنے میں برکت ہے، تو اس کا اسکے سوال کوئی اور مطلب نہیں کہ یہ تبرکات اللہ کے حضور ہماری شفاعت کر رہے ہیں۔
    [شفاعت کا لغوی مطلب سفارش ہے، اور شرعی اصطلاح میں اگر کوئی ہمارے حق میں اللہ تعالی سے دعا کرے تو اس "دعا" کو شفاعت کہا جاتا ہے۔ رسول ص کی شفاعت کا مطلب یہ ہے کہ وہ ہمارے حق میں اللہ سے دعا کریں، اور تبرکات نبوی کی تعظیم کرنے کا مطلب ہے کہ وہ تبرکات اللہ کے حضور ہماری شفاعت کر رہے ہیں [یعنی اللہ سے ہمارے حق میں دعا کر رہے ہیں]
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 5
  2. مہوش علی

    مہوش علی لائبریرین

    مراسلے:
    3,003
    لیجئے چلتے چلتے یہ دو احادیث کفن دفن کے متعلق اور نظر آ گئیں اور آپ کے لیے ہدیہ کیے دیتی ہوں۔

     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 7
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  3. طالوت

    طالوت محفلین

    مراسلے:
    8,353
    جھنڈا:
    SaudiArabia
    موڈ:
    Bashful
    برکت کے لیے اور بھی بڑے آسان نسخے ہیں ، مثلا ایک صاحب قران کو بیت اللہ کی دیوراوں سے مس کر رہے تھے برکت کے لیے:laugh: اور روایتوں کا کیا ہے ایسی ایسی بھی ہیں کہ لوگ مرتد ہو گئے ۔۔
    وسلام
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  4. فاروقی

    فاروقی معطل

    مراسلے:
    1,748

    جی میں نے کس سے حق چھینا کہ وہ اپنے خیالات کا اظہار نہ کرے..............؟
    مجھے جو معلوم تھا میں نے بتایا .............آپ نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا........تو اس میں میں نے کب اعتراض کیا...؟

    ایک دفعہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ حجر اسود کو چومنے لگے تو فرمایا............اے کالے پتھر ......میں تجھے اس لیئے نہیں چومتا کہ تو کوئی نفع یا نقصان دے سکتا ہے بلکہ میں تو تجھے اس لیئے چومتا ہوں کہ تجھے میرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چوما ہے.........


    والسلام
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 7
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  5. مہوش علی

    مہوش علی لائبریرین

    مراسلے:
    3,003
    السلام علیکم
    بہت شکریہ فاروقی برادر کہ آپ اس بات کے حق میں ہیں کہ دوسروں کو اختلاف رائے کا حق دیا جائے۔

    جہاں تک اس حجر اسود والی روایت کا حوالہ دینے کا تعلق ہے، تو اسکے متعلق میری تحقیق یہ ہے کہ:

    1۔ ہمارے لیے ہدایت کے براہ راست ذریعے صرف 2 عدد ہیں۔ ایک قران اور دوسرا سنت رسول۔ صرف ان دونوں ذرائع میں غلطی کی کوئی گنجائش نہیں۔
    آپ یقینا مجھ سے اتفاق کریں گے کہ باقی ماخذ چاہے جتنے بھی بلند ہوں، وہ کچھ معاملات میں اپنے اجتہاد اور اپنی رائے میں غلطی کر سکتے ہیں۔
    یقینی طور پر آپ مجھے سے مزید اتفاق کریں گے کہ ہمیں شخصیت پرستی میں مبتلا ہوئے بغیر اولین ترجیح قران و سنت نبوی کو دینی ہو گی اور اگر کوئی تیسری چیز انکے میزان پر پوری نہ اترے، اسے اجتہادی غلطی کا نام دینا ہو گا۔

    2۔ میں نے سعودیہ سے چھپنے والے 50 سے زائد کتب اور کتابچوں کا مطالعہ کیا ہے جو کہ سعودیہ کے بلند پایہ مفتی کرام نے لکھی ہیں۔ انہیں پڑھنے کے بعد مجھے یہ محسوس ہوا کہ انکا مقصد کسی طرح تبرکات کا قطعی یا جزوی انکار کرنا ہے اور اسکے لیے صرف اور صرف وہ حضرت عمر والی اس روایت کا حوالہ دے پاتے ہیں۔
    [سعودیہ کی ان کتب کے متعلق میرا کثیر مطالعہ اس لیے تھا کیونکہ علم کے معاملے میں میں نے اپنے آپ سے وعدہ کیا تھا کہ کسی تعصب میں مبتلا نہ ہوں گی، اس لیے شروع شروع میں سعودیہ کی ان کتب نے اتنا متاثر کیا کہ میں ان معاملات میں اہلحدیث بن چکی تھی اور توسل کی مطلقا منکر ہو گئی تِھی۔ مگر جوں جوں علم میں اضافہ ہوتا گیا اور فریق مخالف کے دلائل بھی پڑھے، تو پھر مجھے اپنے موقف پر نظر ثانی کرنا پڑی]

    مختصر یہ کہ ان تمام تر کتب [اور انٹرنیٹ پر موجود دسیوں آرٹیکلز، یا ڈسکشن فورمز میں سینکڑوں مرتبہ گفتگو کے دوران ایک مرتبہ بھی اپنے موقف کے حق میں یہ حضرات ایک بھی روایت رسول اللہ سے نہیں پیش کر سکے۔ ۔ بلکہ تمام کی تمام احادیث نبوی انکے موقف کی سراسر مخالف ہیں، اور انکی تعداد ڈیڑھ دو سو کے قریب ہے۔

    تو جب ایک طرف سیر صحابہ کا صرف ایک یہ واقعہ ہو، اور دوسری طرف سنت رسول سے میرے پاس ڈیڑھ دو سو احادیث نبوی ہوں جو کہ سب کی سب اس بات کی گواہی دے رہی ہوں کہ تبرکات نبوی بے شک اللہ کے حضور ہماری لیے دعا [شفاعت] کر کے ہمیں نفع پہنچا سکتے ہیں اور ہماری مدد کر سکتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔ تو پھر بتلائیے کہ میں کس کا اتباع کروں گی۔

    //////////////////////////////////////

    حجر الاسود کے متعلق مکمل روایت

    اور پھر آپ کو علم ہونا چاہیے کہ حجر الاسود والی یہ روایت [جو آپ نے پیش کی ہے ] مکمل روایت نہیں ہے۔ دیگر کتب میں یہ مکمل روایت ان الفاظ میں نقل ہوئی ہے۔

    اور غنیۃ الطالبین میں شیخ عبد القادر جیلانی نے ان الفاظ میں یہ روایت نقل کی ہے:

    امید ہے کہ چیزیں اب آپ پر بہت حد تک واضح ہو چکی ہوں گی۔

    اور جو علی ابن ابی طالب نے فرمایا تھا:
    اور جو مولا علی ؑ نے فرمایا:

    تو باخدا بس یہی میرا عقیدہ ہے کہ بیشک اولیاء اللہ مسلمانوں کو اللہ کے حکم و اجازت سے نفع پہنچا سکتے ہیں اور بیشک نفع و نقصان اللہ کے حکم سے ہی ہے۔

    اگر آپ کے دل میں ابھی تک شک و وسوسے موجود ہوں تو رسول صلی اللہ علی و آلہ وسلم کی یہ حدیث اور آپکے لیے ھدیہ کرتی ہوں:

    ///////////////////////////////////

    اصول: جو چیز بھی رسول/ شعائر اللہ کو چھو جائے، وہ متبرک ہے

    اس وقت میرے سامنے احادیث کیا ایک کثیر ذخیرہ ہے۔ مگر ان میں سے چند ایک احادیث کو اوپر بیان کر چکی ہوں۔ باقی مانندہ کچھ احادیث نبوی اگلے مراسلے میں پیش کر دوں گی [بمع قرآنی آیات کے]۔ یہاں شعائر اللہ اور تبرک کے حوالے سے صرف ایک روایت:

    اس وقت مختصرا عرض یہ کرنا ہے کہ اصول یہ ہے کہ جو چیز بھی رسول ص یا شعائر اللہ سے چھو جائے، وہ متبرک ہو جاتی ہے۔ مثلا:
    1۔ رسول ص کا کمبل متبرک
    2۔ رسول ص جس جگہ کھڑا ہو جائے وہ متبرک
    3۔ رسول ص کا جبہ متبرک
    4۔ رسول جس گھر میں رہے وہ متبرک
    5۔ رسول جس پانی کو چھو لے وہ متبرک
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اور صحابہ ان تمام تر تبرکات سے رسول ص کے سامنے برکت حاصل کرتے تھے اور رسول ص اس پر خاموش رہتے تھے [بلکہ حوصلہ افزائی فرماتے تھے اور خود اپنے کٹے ہوئے بال صحابہ میں تقسیم فرمائے]

    تو حجر اسود تو وہ ہے جسے صرف حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہی نہیں، بلکہ پتا نہیں کتنے انبیاء علیھم السلام چومتے اور چھوتے چلے آئے ہیں۔ اب پتا نہیں کہ انہیں حجر اسود کو چومنے اور چھونے سے برکت ملی یا پھر حجر اسود کو خود انبیاء کے چھونے سے مزید برکت ملی۔۔۔۔۔۔۔ بہرحال ایک بات طے ہے کہ حجر اسود تبرکات میں شاید سب سے بڑا تبرک ہے۔

    تو اب لوگ مجھے جتنا مرضی "جہالت" کا سرٹیفکیٹ دیتے رہیں، مگر میں حق کی نشانی دیکھ کر اس سے پیچھے نہیں ہٹ سکتی اور میرے نزدیک وہ شخص صریح غلطی پر ہے جو اب بھی کہے کہ تبرکات نبوی اور حجر الاسود کوئی نفع و نقصان نہیں پہنچا سکتے، چاہے یہ کہنے والا مدینہ یونورسٹی کا مفتی اعظم ہی کیوں نہ ہو۔
    میرے نزدیک حضرت عمر نے لمحہ بھر تامل کیے بغیر حق بات سننے کے بعد اسے قبول کر لیا۔ مگر جو حضرات آج ان کا نام لیکر حجر االاسود کی شفاعت کا انکار کر رہے ہیں، وہ بذات خود حضرت عمر کے نام کے ساتھ ناانصافی کر رہے ہیں کیونکہ وہ اس چیز سے اب پاک ہیں کہ انکا نام لیکر یہ کہا جائے کہ وہ حجر الاسود کے نفع پہنچانے کے منکر تھے۔

    باقی آپ حضرات اپنی اپنی آراء میں آزاد ہیں۔

    والسلام
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 5
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  6. مہوش علی

    مہوش علی لائبریرین

    مراسلے:
    3,003
    ///////////////////////

    /////////////////////////////////
    //////////////////////////////

    ////////////////////////

    ///////////////////////////
    /////////////////////////////
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 4
    • متفق متفق × 1
  7. مہوش علی

    مہوش علی لائبریرین

    مراسلے:
    3,003
    میرے سامنے اس وقت احادیث نبوی کی اتنی کثیر تعداد ہے کہ سمجھ میں نہیں آ رہی تھی کہ کون سے پیش کروں اور کون سے نہیں۔
    بہرحال، جتنی پیش کر دی ہیں، میں سمجھتی ہوں کہ وہ کافی ہیں۔ مزید احادیث نبوی کے لیے آپ کو مشورہ دوں گی کہ آپ محترم ڈاکٹر طاہر القادری صاحب کی وسیلے اور توسل پر موجود کتاب کا مطاالعہ کریں جو کہ انکی آنلائن لائبریری میں شامل ہے۔
    ///////////////////
    میں اپنی تحریر کا اختتام اس امیج پر کرتی ہوں:
    [​IMG]
    صرف ایک سوال:
    1۔ کیا یہ حجاج خانہ کعبہ کی دیوار کو تبرک کی نیت سے چھو کر شرک کا مرتکب ہو رہے ہیں؟
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 4
  8. فاروقی

    فاروقی معطل

    مراسلے:
    1,748
    دیکھیئے خاتون مہوش علی میں کوئی عالم تو نہیں ہوں ............اور آپ سے بھی بہت کم علم ہوں..........لیکن کسی بے جان چیز سے نفع و نقصان کی توقع رکھنا مجھ جیسے جہل کے لیئے بھی قبول نہیں ہے..........

    آپ جانتی ہیں شرک کیا ہے............؟

    خدا کے علاوہ کسی سے اچھائی برائی کی توقع رکھنا ہی شرک ہے خواہ وہ کوئی ولی ہو یا نبی..............خود حضور صلی اللہ وسلم نے بھی منع فرمایا ہے اللہ کے علاوہ کسی سے مدد مانگنے کو..........

    آپ کا مرسلہ میں مکمل نہیں پڑھ سکا کہ طویل بہت ہے...........بہر حال میں صرف اتنا کہوں گا کہ نفع نقصان کا مالک صرف اور صرف اللہ وحدہ لا شریک ہے اور کوئی نہیں ............میرا کام بتانا تھا جو سمجھ رکھتے ہیں وہ سمجھ جاتے ہیں ........

    ہم تو اللہ کے دوستوں (اولیا اللہ )کے قدموں کی خاک بھی نہین چہ جائکہ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور کسی صحابی رصی اللہ عنہ کی کسی بات یا قول سے روگردانی کی سوچ بھی اپنے اند ر لا سکیں............لیکن اللہ کے سوا کسی سے کچھ نفع نقصان کی توقع رکھنا خود سے ظلم ہے اور اللہ سے شرک...........آج ہر مزار اور قبر پر یہی کچھ ہو رہا ہے .............سجدے ....نیازیں........مشکل کشائی کی باتیں لوگ قبروں سے کرتے ہین ............میں تو اتنا کہا کرتا ہوں.......

    جو کروٹ بدلنا نہیں جانتے ہیں
    انہیں آپ مشکل کشا مانتے ہیں.​
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  9. طالوت

    طالوت محفلین

    مراسلے:
    8,353
    جھنڈا:
    SaudiArabia
    موڈ:
    Bashful
    سب گورکھ دھندہ ! بے کار کی باتیں ! اتنی برکات ہوتیں ان بے جان چیزوں میں تو آج ہم اس حال میں نہ ہوتے ۔۔۔
    خیر ہم کچھ نہیں کہتے ورنہ یہ برکات تو کشمیر سے لے کر فلسطین و ترکی تک موجود ہیں اور حال ؟؟؟؟؟
    وسلام
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  10. مہوش علی

    مہوش علی لائبریرین

    مراسلے:
    3,003
    فاروقی بھائی،
    ہر چیز کو اس کے مقام پر رکھنے کا نام عدل ہے۔
    مجھے اللہ کی ایک صفت جو بہت محبوب ہے، وہ ہے اسکا عدل۔

    جو لوگ اپنی ناعلمی اور جہالت کی وجہ سے کچھ حرام کاموں کے مرتکب ہو رہے ہیں، انکی وجہ سے تبرکات نبوی اور حجر الاسود کی برکت کا انکار کر دینا مناسب نہیں۔

    دیکھئیے، اعتراض ایک لائن کا ہوتا ہے، مگر اس کا دلائل اور ثبوتوں کے ساتھ تسلی بخش جواب دینے کے لیے کئی صفحات کی لازمی ضرورت پڑتی ہی ہے۔
    اب آپ ایک لائن میں "شرک" کہہ کر الگ ہو جاتے ہیں، اور جب جوابا دلائل بمع ثبوتوں کے پیش کیا گیا تو آپ نے طویل مراسلوں کا عذر کر کے ان کو پڑھنے سے انکار کر دیا۔

    اب آپ نے ایک دوسرا موضوع مزاروں کا شروع کر دیا ہے، جس کے دسیوں ضمنی موضوعات ہیں، اور ہمیں ان میں سے ہر ایک کے ساتھ مکمل اور پورا پورا انصاف دلائل کی روشنی میں کرنا ہو گا، اور صحیح/غلط کا فیصلہ قران و سنت کی روشنی میں کرنا ہو گا۔ مگر جب میں یہ کروں گی تو پھر آپ طویل مراسلوں کا عذر پیش کریں گے۔
    ////////////////////////////////////////////////

    بہرحال مختصرا صرف ایک روایت اور اس پر تبصرہ:
    کہنے کو میرے پاس بہت کچھ ہے، مگر فائدہ نہیں کہ آپ سننے کو تیار نہیں۔ ۔۔۔۔۔

    اللہ ہم سب کو صراط مستقیم کی ہدایت عطا فرمائے۔ امین۔
    والسلام۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 6
  11. مغزل

    مغزل محفلین

    مراسلے:
    17,597
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Dunce
    بہت شکریہ مہوش صاحبہ ، اللہ جزا عطافرمائے
    رہی بات فاروقی کی تو اب کیا کہوں کہ مراسلہ پڑھنے کا وقت نہیں اور لگے انکار و مباحث پر۔
    فاروقی بھیا یہ اچھا رویہ نہیں ، اس میں سراسر نقصان کے کہ بغیر پڑھے آپ کیا دلائل دو گے
    کیا صرف کہیں سے کاپی پیسٹ کرنے سے ہمیں علم مل سکتا ہے ، فلاح و نجات مل سکتی ہے،
    امید ہے آپ وہ احادیث پڑھ لیں گے ۔ پھر جو چاہیں کہیں۔۔ حدیث سے انکار کیجئے گا تو اپنے
    ہی اعمال اکارت کیجئے گا۔۔

    طالوت کی کیا کہوں ۔۔ بس ایک سوال مشورے کی مد میں : (فاروقی کیلئے بھی)

    کیا آپ جانتے ہیں کہ :
    1- تفضیل کیا ہے ؟
    2- تفضیل ِ بعض کیا ہے ؟
    3- تفضیلِ کل کیا ہے ؟

    ذاتی، صفاتی اور عطائی میں کیا تفریق ہے ؟

    پہلے جان لیجئے ، مجھے بھی ( بلکہ ہمیں بھی) بتائیے اور پھر بات کیجئے !
    وگرنہ یہ تو وہ بات ہوئی کہ : جراحت سیکھنے گئے نہیں اور لگے جراحت کرنے۔
    (معاف کیجئے گا مولوی کا علم مشکوک ہے اور شر سے مبرا نہیں ماسوائے چند ایک کے)
    اصل تک پہنچئے اور بغیر کسی تعلق کی پٹی آنکھوں پر چڑھائے ۔۔ انشا اللہ فلاح مل جائے گی۔


    والسلام
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
  12. مغزل

    مغزل محفلین

    مراسلے:
    17,597
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Dunce
    فاروقی اور طالوت بھیا م

    احترام اسلام سے عبارت ہے :
    چار مسالک برحق ہیں ان کی اقتدا پر نجات کی راہ ہے۔۔
    شافعی ، مالکی، حنبلی اور حنفی

    شافعی مسلک کے پیروکار اپنے سالک کی عطاعت میں رفع یدین کرتے ہیں
    اور حنفی مسلک کے معتقدین اپنے سالک کی اقتدا میں ایسا نہیں کرتے :اب سنئے !

    ایک بار امام ابو حنیفہ کا سفر امام شافعی کی طرف ہوا (آپ کے معتقدین بھی ہمراہ تھے) آپ (نعمان بن ثابت) نے اپنے
    ہمراہیوں سے فرمایا کہ شافعی مسلک میں رفع یدین اب تک روا ہے ۔۔ ہم وہاں‌نماز پڑھیں گے اور رفع یدین نہ کریں گے تو
    نماز میں تفریق ( جس سے لفظ فاروق ، اس کا حاصل مصد ر فاروقی اور فرق ہے) ہوگی ۔۔ لہذا ہم رفع یدین کریں گے۔
    ادھر امام شافعی نے اپنے پیروکاروں سے کہا کہ حفی مسلک میں رفع یدین نہ رہی ، وہ ہمارے ہاں‌مہمان آرہے ہیں اگر ہم نے
    رفع یدین کیا تو نماز میں‌تفریق ہوگی ۔ لہذا ان کے مسلک کے احترام میں ہم رفع یدین نہ کریں‌گے۔
    تاریخَ عالم اسلام گواہ ہے کہ نماز میں عجیب منظر تھا ۔۔ رفع یدین کرنے والے رفع یدین نہ کر رہے تھے اور رفع یدین کرنے
    والے رفع یدین کر رہے تھے ۔۔ یہ ہے احترام اور یہ اسلام ۔۔

    فاروقی میاں میں یہی مراسلہ آپ کو ارسال کرنے والا تھا۔۔
    وگرنہ اتحادِ اسلامی کا نعرہ لگانے سے کچھ نہ ہوگا ۔۔ماسوائے وقت ضائع کرنے کے ۔۔
    اللہ ہمیں سچ سننے ، سمجھے اور اس پر عمل و استقامت عطا فرمائے (اٰمین)
    واللہ اعلم باالصواب
    نیاز مند
    م۔م۔مغل
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  13. خاور بلال

    خاور بلال محفلین

    مراسلے:
    517
    ان روایات سے تو یہی معلوم ہورہا ہے کہ ہر ہر وہ چیز جس کی نسبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ سے رہی ہو، لوگ اس سے عقیدت رکھتے تھے اور بعض چیزوں کو برکت و شفا کے لیے استعمال کرتے تھے۔ غارِ ثور میں ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ جب سانپ کے ڈسنے سے زخمی ہوگئے تو رسول اللہ نے اپنا لعاب ان کے زخموں پر لگایا جس سے شفا ہوگئی۔ خود مجھے زندگی میں کبھی ایسی کوئ چیز مل جائے کہ جس کے بارے میں یقین ہو کہ اسکی نسبت خدا کے رسول سے رہی ہے تو میں اس چیز سے بہت عقیدت سے پیش آؤں گا چاہے وہ ریت کے چند ذرے ہی کیوں نہ ہوں۔ لیکن یہ صرف عقیدت ہوگی۔ نجات کا دارو مدار تو اعمال ہی رہیں گے۔ مجھے یاد نہیں پڑتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی یہ تعلیم دی ہو کہ تم لوگ میرے استعمال کی چیزوں، میرے کپڑوں یا میرے بالوں کو باعثِ شفاعت سمجھنا۔

    حجرِ اسود سے متعلق تو میں صرف یہ پوچھنا چاہوں گا کہ کیا مجرد حجرِ اسود کو چوم لینا ہی اور اس سے عقیدت و احترام سے پیش آنا ہی باعثِ شفاعت ہے؟ یعنی ایک شخص جو دل سے حجرِ اسود سے عقیدت رکھتا ہو اور اسے چومنے کی سعادت بھی حاصل کرچکا ہو لیکن اس کے اعمال نیک نہ ہوں تو کیا حجرِ اسود اس کے کسی کام آئیگا؟ یا پھر اصل شرط توحید پر قائم رہنے اور اپنے فرائض انجام بجالانے کی ہے۔ اگر اصل شرط ایمان اور نیک اعمال کی ہے تو پھر حجرِ اسود کو چومنا محض سنت ہے اور سنت پر عمل کرنا بذاتِ خود باعثِ ثواب ہے اس میں حجرِ اسود کا کچھ کمال نہیں۔

    ہمارے ہاں عقیدت لمحوں کے فرق سے عقائد میں بدل جاتی ہے۔ شفا سے شفاعت کا سفر چٹکی بجاتے طے ہوجاتا ہے۔ ایک دور میں لوگ کسی چیز کو باعثِ برکت سمجھ رہے ہوتے ہیں اسی چیز کو ان کے بعد والی نسلیں باعثِ ثواب سمجھنے لگ جاتی ہیں۔ امت مسلمہ کو آج جو بڑے بڑے مرائض لاحق ہیں ان میں سے ایک یہ بھی ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 7
  14. مغزل

    مغزل محفلین

    مراسلے:
    17,597
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Dunce
    قبلہ اصل معاملہ اصل سےدوری ہے وگرنہ اس عقیدت سے آپ کے اعمال میں کیافرق پر‌جاتا ہے ۔۔ یہ آپ نہیں جانتے !

    بشر ایک شخصیت ان کا لقب حافی یعنی ننگے پاؤں دوڑنے والا،

    ایک دن بشر شراب کے نشے میں دھت کہیں جارہے تھے کہ ٹھوکر لگی اور منھ کے بل گر پڑے
    قریب ہی ایک کاغذ کے ٹکٹرے پر بسم اللہ الرحمٰن الرحیم لکھا دیکھا اٹھا ، چوما آنکھوں سے لگا یا
    اور بازار سے عطر خرید کر خوشبو میں بسا کر ایک محفوظ جگہ رکھ دیا ۔

    اسی وقت کے کسی بزرگ کر ندا ہوئی کہ بشر سے کہو کہ تمھاری بخشش ہوگئی ہے۔
    بزرگ نے خیال کیا کہ بشر اور مغفرت ؟؟ مجھے یقیناً خواب یاد نہیں ، دوسرے دن
    پھر خواب میں ندا ہوئی کہ بشر سے کہو کہ اس کی مغفرت ہوگئی ہے ۔۔ پھر نظر انداز کیا
    تیسرے دن پھر بشارت ہوئی کہ بشر سے کہو اس کی مغفرت ہوگئی ہے ۔۔ وہ بزرگ بشر
    کے مکان پر تشریف لائے ۔۔ بشر کو خبر ہوئی کی وقت کا برگزیدہ بندہ اس کے گھر کے دروازے پر ہے
    تو برہنہ پاؤں دوڑے ۔۔ اس واقعہ کی نسبت سے ا ن کا لقب ’’ حافی ‘‘پڑ گیا ۔۔

    باقی آپ نہ مانیں تو ہم کیا کر لیں گے۔۔
    واللہ اعلم باالصواب

    والسلام
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  15. مغزل

    مغزل محفلین

    مراسلے:
    17,597
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Dunce
    ارے بھئی منع بھی تو نہیں‌کیا کہ کہ اصحاب ۔ تم مجھ سے یہ عقیدت نہ روا رکھو !
    دیجئے کوئی ایک ایسی مثال ۔۔
    قرآن میں اللہ فرماتا ہے "
    ان الشکرولی ولی ولیدیک ""( تلفظ لکھا ہے ۔۔ اصل عبارت محو ہے )
    میرا شکر ادا کرو اور اپنے والدین کا
    اگر یہ شرک ہے تو کیا معاذ اللہ ، اللہ شرک کی تلقین کررہا ہے۔ ؟؟


    حجر ِ اسود کو کما ل حاصل ہے کہ اسے محمد صل اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھوں نصب کیا ۔۔
    ہمیں یہی نسبت کافی ۔ آپ کرتے پھریئے حجت تمام ۔۔ والسلام
     
    • متفق متفق × 1
  16. مہوش علی

    مہوش علی لائبریرین

    مراسلے:
    3,003
    کیا عقیدت/تعظیم اور اچھے اعمال میں فرق ہے؟
    مجھے لگا کہ جو احادیث میں اوپر پیش کر چکی ہوں، وہ اتنی صاف ہیں کہ اسکے بعد کوئی ابہام باقی نہ رہے گا۔ مگر افسوس کہ میں غلطی پر ہوں اور لوگ شرک کے نام پر اس حد تک ذہنی طور پر پروگرامڈ ہو چکے ہیں کہ اتنی صاف و واضح احادیث کے بعد بھی شکوک و وسوسے انکے دلوں میں جگہ بنا لیں گے اور وہ باتیں بطور دلیل پیش کریں گے کہ جو کہ ہرگز چیزوں سے انصاف نہیں کر سکتیں۔

    بہرحال، اللہ کے نام سے شروع کرتے ہیں۔

    سب سے پہلا سوال: " کیا عقیدت/تعظیم اور اچھے اعمال میں کوئی فرق ہے؟"

    خاور صاحب، آپ نے عقیدت/تعظیم کو الگ کر دیا اور "اچھے اعمال" کو الگ کر دیا۔ یہ آپ کی سب سے بڑی اور بنیادی غلطی ہے۔

    عقیدتی/تعظیمی اعمال کا شمار بذات خود "اچھے اعمال" میں ہوتا ہے۔
    نجات کا دارومدار اچھے اعمال پر ہے۔ اور اگر آپ شعائر اللہ کی تعظیم کر رہے ہیں تو یہ بذات خود "اچھا عمل" ہے جسکا ثواب ہے۔

    اب آپ اپنا لکھا ہوا پیراگراف خود اس نیت سے پڑھیں کہ شعائر اللہ کی تعظیم بذات خود "نیک عمل" ہے اور اس دفعہ انشاء اللہ آپ پر واضح ہو جائے گا کہ آپ عقیدت اور نیک اعمال کو الگ الگ کر کے کتنی عجیب اور بڑی غلطی کر رہے تھے۔

    اور جو آپ نے فرمایا ہے کہ:
    "۔۔۔۔مجھے یاد نہیں پڑتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی یہ تعلیم دی ہو کہ تم لوگ میرے استعمال کی چیزوں، میرے کپڑوں یا میرے بالوں کو باعثِ شفاعت سمجھنا۔"

    بھائی جی، یہاں آپ کا یہ بیان اسقدر حقیقت سے دور ہے کہ میں بس حیران ہوں کہ آپ نے اوپر موجود ان دسیوں احادیث کو کن نظروں سے پڑھا ہے۔ کیا اتنی واضح احادیث پیش کرنے کے بعد میرے لیے ممکن ہے کہ میں کوئی اور ان سے زیادہ مزید واضح چیز پیش کر سکوں؟ نہیں میرے لیے ممکن نہیں۔ اور اگر آپ کو یہ چیزیں نظر نہیں آ سکیں تو میں آپ سے اچھے طریقے سے معذرت کر لوں کہ میں آپ سے گفتگو نہیں کر سکتی اور نہ ہی آپ کو راہ دکھا سکتی ہوں۔

    /////////////////////////

    بھائی جی، آپ نے پہلے فرمایا تھا کہ اگر ریت کے ذروں کے متعلق بھی آپ کو پتا ہو کہ رسول ص سے مس شدہ ہیں تو آپ انکی تعظیم کریں گے۔
    میرے خیال میں حجر الاسود کے متعلق تو آپ کو یقین ہونا چاہیے کہ رسول ص نے صرف اسے مس کر چکے ہیں بلکہ چوم چکے ہیں اور ان سے قبل بےتحاشہ انبیاء اور بھی گذرے ہیں جنہوں نے حجر الاسود کو چوما ہے۔
    یعنی تبرکات نبوی کے متعلق سعودی علماء کا یہ عمومی عذر ہوتا ہے کہ تبرکات نبوی اب مہیا نہیں اس لیے کسی چیز کی تعظیم واجب نہیں۔ مگر بہرحال حجر الاسود کے متعلق یہ عذر پیش نہیں کیا جا سکتا۔
    //////////////////////////////
    اپنی تھیوری کو ثابت کرنے کے لیے آپ ایک بار پھر حجر اسود کی تعظیم کو الگ اور نیک اعمال کو الگ کر رہیں ہیں جو کہ بنیادی طور پر بالکل ہی غلط بات ہے۔
    اور صرف حجر اسود کی تعظیم ہی نہیں، بلکہ کسی بھی نیک عمل کی قبولیت کی شرط اللہ اور اسکے رسول پر ایمان لانے پر ہے۔
    اور جو آپ کہہ رہے ہیں :" ۔۔۔ اس میں حجر اسود کا کچھ کمال نہیں۔"
    تو یہ فقط آپکا قیاس ہے جو مبنی برخلاف قول رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہے۔
    کیونکہ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تو اعلان کر رہے ہیں:

    اور علی ابن ابی طالب بیان کرتے رہیں کہ حجر اسود روز قیامت شفاعت کرے گا، مگر آپ اسے حجر اسود کا کمال نہ مانیں تو میں کوئی زور زبردستی تو کرنے سے رہی۔ آپ سب حضرات اپنے افعال و اعمال میں آزاد ہیں۔
    //////////////////////
    لیجئے، پہلے آپ نے نیک اعمال اور عقیدے کے لغو بحث شروع کر دی تھی، اور اب عقیدے اور عقیدت کو ایک دوسرا سے الگ اور متضاد چیزیں بیان کرنے کی بحث شروع کر دی ہے۔
    عقیدہ اور شعائر اللہ کی تعظیم/عقیدت کوئی دو مختلف اور ایک دوسرے کے مخالف کھڑی متضاد چیزیں نہیں ہیں، بلکہ قران و احادیث نبوی کی روشنی میں ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ شعائر اللہ کی تعظیم واجب و لازمی ہے، اور یہ کہ شعائر اللہ کی تعظیم نیک عمل ہے، اور یہ کہ شعائر اللہ کی تعظیم کرنے سے شعائر اللہ اللہ کے حکم سے ہمیں نفع و نقصان پہنچا سکتے ہیں، اور یہ کہ ہر ہر ذرے کو اللہ تعالی نے شعور عطا کیا ہے اور وہ اللہ کی عبادت میں مصروف ہے، اور یہ کہ حجر اسود روز قیامت ہماری شفاعت کرے گا۔
    اور خاور صاحب، آپ نے "شفا" اور "شفاعت" کی بھی لغو بحث یہاں چھیڑی ہے۔ "شفا" کا مطلب ہے بیماری سے شفا حاصل ہونا، جبکہ "شفاعت" کا مطلب ہے شعائر اللہ اور تبرکات نبوی کا اللہ کے حضور ہمارے لیے دعا کرنا [سفارش کرنا]۔ مجھے نہیں علم آپ نے یہ بحث کیوں چھیڑی، جبکہ شعائر اللہ اور تبرکات نبوی کے متعلق ہمارا عقیدہ "شفاعت" کا ہے اور اس شفاعت کے آگے "بیماری سے شفا" چھوٹی چیز ہے۔ شفاعت گناہوں کے معافی کا بھی ذریعہ ہے، شفاعت مشکلات کا حل کا بھی ذریعہ ہے، شفاعت دلوں میں سکینہ پیدا کرنے کا بھی ذریعہ ہے۔
    امت مسلمہ کو جو آج سب سے بڑا مسئلہ درپیش ہے، وہ ہے "شاہ سے بڑھ کر شاہ پرست ہونا"۔
    اللہ نے اپنی توحید قائم کرنے کے لیے جو چیزیں نہیں بھی بیان کیں، آج انہیں اپنی بنائی ہوئی شریعت کے تحت داخل اسلام کر دینا، اور جو چیزیں اللہ نے شریعت اسلامیہ میں حلال ٹہرائِ ہیں، انہیں اپنی اس قیاس کی بنیاد پر حرام قرار دے دینا کہ یہ منافی توحید ہیں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
  17. فاروقی

    فاروقی معطل

    مراسلے:
    1,748
    محترم مغل صاحب میں نے کسی کو خیالات سے منع نہیں کیا کہ آپنے خیالات یہاں پیش نہ کریں،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میری جو سوچ یا نقطہ نظر تھا میں نے واضع کر دیا ۔۔۔۔۔۔۔آپ نے ،خاتون مہوش علی نے،طالوت صاحب نے، خاور بلال صاحب نے بھی اپنے خیالات بیان کیئے،،،،،،،،،،

    میرا عقیدہ یہی ہے کہ خدا کے علاوہ کوئی نفع و نقصان کا مالک نہین ہے ۔۔۔۔۔۔۔وہی جیسے چاہے عزت دیتا ہے اور جسے چاہے ذلت۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہ ازل سے ہے وہی ابد تک ہے۔۔۔۔۔۔۔۔نہ وہ سوتا ہے نہ اسے اونگھ آتی ہے۔۔۔۔۔۔۔ کہ کسی کو خیال آئے کہ اب وہ سویا ہوگا اس لیئے اتنی دیر تک کسی اور سے حاجت روائی کر لیتے ہیں۔۔۔۔۔

    خاور بلال نے سہی کہا کہ لوگ آج عقیدت کو عقیدہ خیال کر لیتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    مجھے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ اکرام کے پاوں کی مٹی اتنی عزیز ہے کہ میں اسے اپنی آنکھ کا سرمہ بھی نہیں بناوں گا کہ کہیں اس میں بھی اس مٹی کی توہین نہ ہو جائے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ہم پانچ وقت نماز میں کیا پڑھتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔سب تعریفیں اللہ ہی کے لئے ہیں، جو رب ہے سب جہانوں کا،بڑا مہربان، نہایت رحم والا،مالکِ روزِ جزا کا،تیری ہی ہم عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں،دکھا ہم کو راستہ سیدھا،راستہ ان لوگوں کا کہ انعام فرمایا تو نے ان پر ، نہ وہ جن پر غضب ہوا (تیرا) اور نہ بھٹکنے والے۔۔۔

    یہ دن میں ہم پانچ نمازوں میں کسے پکارتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور کس سے مدد مانگتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟
    اگر کوئی مدد مانگنے کے لائق ہوتا تو اللہ تعالی ضرور اپنی کتاب میں بتا دیتے۔۔۔۔۔۔۔کہ میرے اس نبی سے بھی مدد مانگ لینا ۔۔۔۔۔۔یا اس ولی سے بھی ۔۔۔۔۔۔۔

    حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ بدر کے موقع پر فرمایا تھا۔۔۔۔۔۔۔خلاصہ
    “ اے اللہ ان لوگوں کو یہاں تک لانا میرا کام تھا میں لے آیا اب ان کو فتح و شکست سے دو چار کر نا تیرا کام ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔اے اللہ ان کو فتح دے کہ یہ تیرا نام بلند کر سکیں ۔۔۔۔۔ورنہ تیرا دنیا میں کوئی نام لینے والا کوئی نہ ہو گا۔۔۔۔۔۔۔“

    اللہ کا نبی خود اللہ سے مدد مانگ رہا ہے اور ہم اللہ کے نبی کے تبر کات سے مدد ما نگ رہے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔اب اسے کیا کہٰں ہم۔۔۔۔۔۔۔۔؟


    دوسری بات : اتحاد اسلامی میرا ہی نہیں اپ کا بھی مسئلہ ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔میرا ہی نہین اپ کا بھی فرض ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔آواز میں نے ہی پہلے لگائی لیکن اس سے یہ نہین سمجھ لیجیئے کہ میں ہی امیر ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔واللہ میں تو کہہ کہہ کے تھک گیا ہوں کہ امیر نہ بناو کسی کو بلکہ مشترکہ لائحہ عمل اختیار کرو۔۔۔۔۔۔۔۔۔تا کہ کسی کو کسی پر انگلی اٹھانے کی جرات نہ ہو اور نہ ہی کوئی یہ خیال کرے کہ امیر ہمارے فرقے کا نہیں کسی دوسرے فرقے کا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اسی وجہ سے میں کہتا ہوں امیر نہ بنایا جائے بلکہ مجلس شوری بنائی جائے تو متفقہ طور پر فیصلے کر نہ کہ کسی فرد واحد کے احکامات کی پیروی کرنی پڑھے۔۔۔۔۔۔۔اس لیئے ان دونوں باتوں کا آپس میں کوئی تعلق نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔۔یہاں میں اپنے خیالات بیان کروں گا لیکن اتحاد اسلامی میں جب ہر فیصلہ متفقہ طور پر ہو گا تو مجھ پر بھی وہی اصول و ضوابط لاگو ہوں گے جو کسی ادنی سے ادنی ممبر پر ہوں گے ۔۔۔۔۔۔امید ہے اپ سمجھ چکے ہوں گے،،،،
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  18. مہوش علی

    مہوش علی لائبریرین

    مراسلے:
    3,003
    فاروقی بھائی،
    مسئلہ یہ ہے کہ آپ قران کو ظاہری معنوں میں لیجاتے ہیں اور اسکے مجازی معنی سمجھنے سے قاصر ہیں۔ اور قران کو ظاہری معنوں میں لے جانے کی بیماری ایسی مضر ہے کہ اس سے قران میں تضاد پیدا ہو جاتا ہے [جسے آپ حضرات چھپانے کی کوشش کرتے ہیں یا کسی بہانوں نظر انداز کرنے کی کوشش کرتے ہیں] اور اسلام کے وہ عقائد جو احادیث رسول سے مکمل طور پر ثابت ہیں، آپ لوگ ان تمام تر احادیث نبوی کا اپنے قیاس کی بنیاد پر انکار کر دیتے ہیں۔ [مثال کے طور پر اسی حجر اسود اور تبرکات نبوی کے متعلق ان حضرات کو ان ڈیڑھ دو سو احادیث نبوی کا مسلسل نظر انداز کرنا پڑ رہا ہے]

    تو آئیے ذرا اس ظاہر پرستی کی بیماری کو سمجھ لیں کیونکہ جبتک اس اصل اور بنیادی بیماری کا علاج نہیں ہو گا اُس وقت تک یہ حضرات مسلسل اس بات کا انکار کرتے رہیں گے کہ شعائر اللہ اور تبرکات نبوی نفع اور نقصان نہیں پہنچا سکتے۔
    ///////////////////
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 4
  19. مغزل

    مغزل محفلین

    مراسلے:
    17,597
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Dunce
    شکریہ مہوش ،

    فاروقی اور دیگر احباب
    آج لے ان کی پناہ آج مدد مانگ ان سے
    پھر نہ مانیں گے قیامت میں اگر مان گیا۔

    اگر حقیقی اور مجازی کے معنی معلوم ہوں تو گزارش ہےکہ:
    ہاتھ کٹ‌جائے تو ڈاکٹر کے پاس مت جائیں۔۔ وہیں بیٹھ جائیں اللہ مدد فرمائے گا۔
    روزی کمانے کیلئے حیلہ بھی مت کیجئے کہ وہ رزاق ہے اس نے دینا ہی ہے۔
    اللہ کو براہِ راست مخاطب کیجئے ۔۔ وہ سنتا ہے۔۔
    تو نبی کا نہ نام لیجئے اور نہ ان کا کلمہ پڑھیں۔۔
    ڈائریکٹ لو لگا لیں۔۔

    اب اور کیا کہوں ۔ کہ جب جناب غور ہی نہیں کرنا چاہتے۔۔ محض مولوی کے بتائے پر چلتے ہیں۔
     
  20. فاروقی

    فاروقی معطل

    مراسلے:
    1,748
    میں نے کہا بھی تھا کہ اللہ جسے چاہے عزت دیتا ہے اور جسے چاہے ذلیل کرتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آپ نے بھی شاید اس بات کا ظاہری معنی لیا کہ آج کل عزت دولت سے مشروط ہونے لگی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اس کا مطلب یہ تھا کہ دیتا سب کچھ اللہ ہی ہے لیکن وہ کچھ بندوں کو زیادہ عزت دیتا ہے یعنی انہیں اختیار دیتا ہے وہ کسی کی مدد کر سکیں یاکسی کا کام کر سکیں ۔۔۔۔۔۔۔جیسا کہ اللہ نے عیسی علیہ السلام کو طاقت دی تھی کہ مردوں کو زندہ کر دیتے تھے یا کوڑیوں کو تند رست کر دیتے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔اور بھی نبیوں اور ولیوں کو اللہ نے اختیار دیا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔لیکن اس سے یہ مراد نہیں لی جا سکتی کہ وہ اپنی مرضی سے جو چاہے کر سکتے تھے یا ہیں ۔۔۔۔۔۔وہ تو اللہ کی مرضی اور حکم سے یہ سب کر تے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس لیئے حققی مالک تو اللہ تعالی ہی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اسی لیئے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا
    “کہ اگر تمہارے جو تے کا تسمہ بھی ٹوٹ جائے تو اللہ سے مانگو“


    امید ہے آپ کے شکوک دور ہو گئے ہوں گے
    والسلام
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
لڑی کی کیفیت:
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں

اس صفحے کی تشہیر