عشق

کیفیت
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں

عیشل

محفلین
ابھی تو فصل تازہ ہے،ہمارے حرف و معنی کی
ابھی ڈرتے نہیں ہم موسموں کے آنے جانے سے
ابھی تو عشق میں آنکھیں بجھی ہیں دل سلامت ہے
زمینیں بانجھ ہوتی ہیں کبھی فصلیں جلانیں سے!!
 

نوید ملک

محفلین
اس عشق پہ ہم بھی ہنستے تھے ، بے حاصل سا بے حاصل تھا
اک زور بپھرتے ساگر میں ، نہ کشتی تھی نہ ساحل تھا

ابن انشا
 

عیشل

محفلین
کھلتے رہیں ذہن میں میرے پھول تیری یادوں کے
میں اپنے جسم و جاں کو تیرے عشق میں نکھرتا دیکھ لوں
 

عیشل

محفلین
یہ عشق بھی کیا ہے اسے اپنائے کوئی اور
چاہتوں میں کسی اور کو،یاد آئے کوئی اور
اس شخص کی محفل کبھی برپا ہو تو دیکھو
ہو ذکر کسی اور کا،شرمائے کوئی اور
 

حجاب

محفلین
وہ بے خبر ہیں جن کو ہے پندارِ تخت و تاج
دیکھا ہے ہم فقیروں کا جاہ و حشم کہاں
پلکوں پہ جُڑ گئے ہیں ستارے سے عشق میں
ہر ایک کے نصیب میں یہ اشکِ غم کہاں ۔
 

عمر سیف

محفلین
جنونِ عشق کی رسمِ عجیب کیا کہنا
میں اُن سے دور وہ میرے قریب کیا کہنا
یہ تیرگیء مسلسل میں اک وقفہء نور
یہ زندگی کا طلسمِ عجیب کیا کہنا
 

عیشل

محفلین
اے عشق ہمیں برباد نہ کر
اے عشق ہمیں برباد نہ کر،ہم بھولوں ہوؤں کو یاد نہ کر
پہلے ہی بہت ناشاد ہیں ہم،تُو اور ہمیں ناشاد نہ کر
قسمت کا ستم ہی کم تو نہیں یہ تازہ ستم ایجاد نہ کر
یوں ظلم نہ کر بیداد نہ کر
اے عشق ہمیں برباد نہ کر

جس دن سے ملے ہیں دونوں کا سب چین گیا آرام گیا
چہروں سے بہار ِ صبح گئی آنکھوں سے فروغِ شام گیا
ہاتھوں سے خوشی کا جام چھٹا ہونٹوں سے ہنسی کا نام گیا
غمگین نہ بناناشاد نہ کر
اے عشق ہمیں برباد نہ کر

وہ راز ہے یہ غم آہ جسے پا جائے کوئی تو خیر نہیں
آنکھوں سے جب آنسو بہتے ہیں آجائے کوئی تو خیر نہیں
ظالم ہے یہ دنیا دل کو بھا جائے کوئی تو خیر نہیں
ہے ظالم مگر فریاد نہ کر
اے عشق ہمیں برباد نہ کر

دنیاکا تماشہ دیکھ لیا غمگین سی بیتاب سی ہے
امید یہاں اک وہم سی ہے تسکین یہاں اک خواب سی ہے
دنیا میں خوشی کا نام نہیں دنیا میں خوشی نایاب سی ہے
دنیا میں خوشی کو یاد نہ کر
اے عشق ہمیں برباد نہ کر
 

عیشل

محفلین
ملنا ترا اگر نہیں آساں،تو سہل ہے
دشوار تو یہی ہے کہ،دشوار بھی نہیں
بے عشق عمر کٹ نہیں سکتی ہے اور یاں
طاقت بہ قدر لذّت ِآزار بھی نہیں
 
کیفیت
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں
Top