عشق

Sabra Amin نے 'اِصلاحِ سخن' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏مئی 17, 2020

  1. Sabra Amin

    Sabra Amin محفلین

    مراسلے:
    104
    جب گھن گھن گھور گھٹائیں ہوں

    بہکی سی مست ہوائیں ہوں

    یا چاند ہو پورے جوبن پر

    تاروں کا دمکنا جاری ہو


    یا کوئل کوک سناتی ہو

    برکھا رت پھر بھر آتی ہو

    یا آنکھین پیار لٹاتی ہوں

    جب یاد تیری آجاتی ہو



    یہ خاموشی پھر بول پڑے

    الفاظ کی حاجت تک نہ رہے

    جب سانس لہو گرماتی ہو

    جب لمس شرارت کرتا ہو


    تب کونپل دل سے پھونٹتی ہے

    جو دل کو دل سے جوڑتی ہے

    تو جان لو پھر میرے پیارے

    کہ عشق کے آگے اب ہارے


    محبوب بنا تو کچھ بھی نہیں

    یہ چاند، ستارے کچھ بھی نہیں

    بھنورا، تتلی، بارش کیا ہے

    تم ہی نہیں تو کچھ بھی نہیں


    عاشق کے بس میں ہے اتنا

    بس عشق میں بے بس ہی رہنا

    یہ عشق یے ایسی بیماری

    ہر آفت پر ہے جو بھاری
     
  2. Sabra Amin

    Sabra Amin محفلین

    مراسلے:
    104

اس صفحے کی تشہیر