عشق ِحقیقی کا سفر

نور وجدان

لائبریرین

جو ہو اِس بات میں یا پھر ُاس بات میں!
'تم' نظر آتے ہُو اب تو ہر ذات میں!
شمع کی ُضو سے پروانے جو اُڑتے ہیں!
بھَر کے بہروپ دیوانے وُہ پھرتے ہیں !
حرص و لالچ کی لکڑی ُتو ہے بن چکی !
دنیا جالا جو مکڑی کا ہے بُن چکی !
اس جہاں مول دل کا ہی تو لگتا ہے !
حسن و صورت سے سب کام جو چلتا ہے!
دنیا میں کون محرم غمِ دل کا ہے!
میں کہوں کس سے جو حال بسمل کا ہے!
چرخ کو ہے ضرورت مسیحائی کی!
تیر و خنجر نے کچھ یوں پذیرائی کی!
دشت ہجراں میں 'اے ابر باراں' برس !
دید کو میری آنکھیں گئی ہیں ترس!
ذکر یاراں سے چھلکا جو پیمانہ ہے!
عاشقی میں بنا وہ ہی میخانہ ہے!
شام غم کی درودِ وُضو میں َبسر
رات جامِ ُسبو میں گئی ہے ُگزر
صبح ُگل کی جو ُخوشبو گئی ہے ِبکھر
رنگ و بو سے جہاں بھی گیا ہے نکھر
محفلِ نور ساقی کے دم سے چلے!
بادہ و مے سے سب زنگ دل کے ُدھلے!


 
آخری تدوین:

نور وجدان

لائبریرین
ماشاءاللہ عمدہ کلام کے لیے داد پیش ہے اگرچہ میں سخن شناس نہیں ہوں

شاید تخلص نور رکھا ہے؟

نور بطور تخلص استعمال نہیں کیا ہے ۔ ورنہ اس پر تخلص کی علامت ہوتی ۔۔ اچھی محفل مراد ہے ۔ بہت شکریہ کہ آپ کی طرف سے میں نے پہلی دفعہ داد پائی ہے اور اس کو میں ہمیشہ یاد رکھوں گی ۔۔:) :)
 

نور وجدان

لائبریرین
اصلاح تو اساتذہ ہی کریں گے۔
میرے تھوڑے بہت علم کے مطابق ایک غزل میں تمام اشعار کا دوسرا مصرع ہم ردیف و ہم قافیہ ہونا چاہیے۔

اس کو غزل مت سمجھیں ۔۔نظم ہے ۔۔اس کے مضمون یکجا ہیں گوکہ کہ دو مصرعہ ایک الگ خیال پیش کر رہے ہیں ۔۔میں نے اس کو نظم رکھا ہے۔۔ردیف غزل میں ضروری تو نہیں ہے
 

محمدظہیر

محفلین
تابش صدیقی بھائی آپ نے تو ناپسندیدہ قرار دے دیا؟ میں ہمیشہ ان کی پوسٹ پر کچھ اعتراض یا طنز کرتا رہا ہوں
اصلاح تو اساتذہ ہی کریں گے۔
میرے تھوڑے بہت علم کے مطابق ایک غزل میں تمام اشعار کا دوسرا مصرع ہم ردیف و ہم قافیہ ہونا چاہیے۔
 
تابش صدیقی بھائی آپ نے تو ناپسندیدہ قرار دے دیا؟ میں ہمیشہ ان کی پوسٹ پر کچھ اعتراض یا طنز کرتا رہا ہوں
وہ سمارٹ فون کے ٹچ کی مہربانی تھی، اور فوراً ختم کر دی۔ نا پسندیدہ ریٹنگ کا میں نے آج تک سوچا ہی نہیں۔
 
اس کو غزل مت سمجھیں ۔۔نظم ہے ۔۔اس کے مضمون یکجا ہیں گوکہ کہ دو مصرعہ ایک الگ خیال پیش کر رہے ہیں ۔۔میں نے اس کو نظم رکھا ہے۔۔ردیف غزل میں ضروری تو نہیں ہے
جی ردیف ضروری نہیں۔ عمومی طور پر ہوتی ہے۔

باقی مجھے مضمون الگ الگ محسوس ہوا، اس لیے غزل سمجھا۔ قصور سمجھ کا ہی ہے۔ :)
 

ابن رضا

لائبریرین

فاتح

لائبریرین
اچھی کوشش ہے۔ وزن کے اعتبار سے ذیل کے مصرعے دوبارہ توجہ چاہتے ہیں
حرص و لالچ کی لکڑی ُتو بن چکی ہے!
دنیا جالا جو مکڑی کا بُن چکی ہے!
عشق سوزی سے میخانہ بن چکا ہے!
رنگ و بُو سے جہاں ہے گیا ِنکھر
 
Top