عشق نے ہم کو بلایا .....

بسم اللہ الرحمن الرحیم


نہیں معلوم اس تحریر کو پڑھنے والے کس مذہب، مسلک، یا دین کے پابند ہیں۔ لیکن اتنا ضرور ہے سب قارئین کا میری فکر و نظر سے متفق ہونا لازمی نہیں۔ آزادی فکر کا مطلب ہی یہی ہے۔ فبشر عبادی الذین یستمعون القول و یتبعون احسنہ۔ خیر میں اس تحریر میں کوئی ایسی بات نہیں کرنے والاہوں جس میں اختلاف نظر ہو، یا بحث مباحثہ ہو، لیکن یہ بات اس لیے کہہ رہا ہوں، کہ اس تحریر میں جو باتیں آئیں گی شاید بعض لوگوں کو اس سے اختلاف ہو۔ ان حضرات سے پیشگی معذرت چاہتا ہوں۔ ہمارے سامنے جب کبھی کربلا اور نجف کا ذکر ہوتا ہے، دل کی دھڑکن تیز ہوجاتی ہے، روح جانب معشوق سفر کرجاتی ہے، آنکھوں کو اگر روکا نہ جائے تو آنسووں سے بھیگ جاتی ہیں۔ نہیں معلوم آپ نے کبھی عشق کیا ہے کہ نہیں، ہمارا عشق تو ایسا ہے، کسی حسینہ کی جگہ ہم شاہ کربلا کے عشق میں گرفتار ہیں۔جب معشوق کا ذکر ہو تو ہمارا حال کیا ہوتا ہے، یہ تحریر کرنے سے قاصر ہوں۔بس اتنا سن لیں،

تمنائے نجف قاتل ہے میری

مجھے عشق و جنون کربلا ہے


ہمارا یہ سفر کہاں سے شروع ہوا؟ ہوا یہ کہ ایک دن ہاسٹل میں بیٹھے چائے پی رہے تھے، ایک ایسی بات ہوئی جو ہمارے دلوں کے زخموں پر نمک چھڑک گئی۔ کربلا جانا ہے۔ اس وقت تو یہ بات گذر گئی اور بھلا دی گئی۔ لیکن دل کا کیا حال تھا، عاشق لوگ ہی جان سکتے ہیں۔ دو ہفتے بعد طے پایا ۲۵۰ سٹوڈنٹس کو کربلا لے جانا ہے۔ اس درمیان کیا ہوا، کافی لمبی کہانی ہے، آگے بڑھتا ہوں۔

۱۰ جنوری۲۰۱۰، یونیورسٹی کے مرکزی ہال میں، ایک میز پر چند لسٹیں رکھی ہیں، دو افراد بیٹھے ہیں، آنے والوں کے نام لکھ رہے ہیں۔ میز کی دوسری طرف ہجوم ہے۔ ۷۰۰ افراد نام لکھواچکے ہیں۔ میں بظاہر پرسکون کھڑا یہ منظر دیکھ رہا ہوں۔ لیکن دل میں محشر بپا ہے۔ بڑی مشکل سے بات کی جارہی ہے۔ جب یہ خیال ستاتا ہے کہ یہ سب لوگ چودہ دن بعد کربلا میں ہوں گے، اور میں نہیں جاسکتا، رونے کو دل کرتا ہے۔ آپ بھی جارہے ہیں؟ ایک صاحب نے پوچھا۔ میرے دل کا کیا حال ہوا، میں ہی جانتا ہوں۔ کیا جواب دیتا، نہیں کہنے کو دل نہیں مانتا، ہاں کہنے کو حالات روکتے ہیں۔ دل ہی دل میں، معشوق سے کہا، بتاو تمھے کیا منظور ہے؟ کیا کہہ دوں کہ دل تو چاہتا ہے مگر، حضرت دل کے مالک بلا نہیں رہے۔ فورا جواب مل گیا، آجاو۔ بس پھر کیا، جو کام ناممکن تھا، ایک ہفتے میں ممکن ہوگیا۔ جس کو بھی بتایا کہ جا رہا ہوں، مان نہیں رہا۔ ایک دوست نے تو کہہ دیا کہ یار مزاق چھوڑو سچ بتاو۔ سچ کیا بتاتا، خود بھی یقین نہیں آرہا تھا کہ چند دنوں میں، بارگاہ عشق میں ہوں گا۔ تفصیل لکھنے سے قاصر ہوں کہ اس میں چند پردہ نشینوں کے نام ہیں، اور کسی کو رسوا کرنے، مسلک عشق نہیں۔

خیر بڑی مشکلات جھیلیں، لیکن آخر وہ دن آہی گیا۔ جب ۶۰۰ طالب علم، کربلا کے لیے روانہ ہونے لگے۔ ہم بھی ایک خادم کی حیثیت سے ساتھ تھے۔ حقیقت تو یہ ہے ابھی تک یقین نہیں آرہا تھا کہ اتنی بڑی سعادت، اتنی آسانی سے نصیب ہوگئی۔ ۸ فروری کو رات نو بجے ہم سرحد کی جانب چل پڑے۔ خوشی ہماری، نہ پوچھیے، کہ ابھی بھی اس کی یاد سے ہم پھولوں نہیں سماتے۔

لیکن انتظار کرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ ایسا لگتا ہے گھڑی آگے بڑھنے کی جگہ پیچھے جارہی ہے۔ کیا ہوتا اگر ہمیں بھی خدا نے پر دیے ہوتے۔ لیکن اس انتظار میں جو لذت ہے، اسے کسی چیز سے نہیں بدلا جاسکتا، اور اس کے بعد جب انتظار کی گھڑیاں ختم ہوتی ہیں، تو آدمی تمنا کرتا ہے، کہ کاش یہ گھڑیاں اور طویل ہوتیں۔ ہاں تو ہم اس انتظار میں تھے کہ کب یہ سرحدیں، سڑکیں، دیواریں ختم ہوں گی اور ہم اپنے معشوق کے در پہ پہنچے گے۔ صبح پانچ بجے سرحد پہنچے، اور آٹھ بجے تک ہمارے ساتھی بھی آگئے، اب سرحد پر ہمیں روک دیا گیا۔ کیوں؟ اس لیے کہ ۔۔۔۔۔ خیر رہنے دیں۔ یہاں بھی چند پردہ نشین ہیں، پردہ نشین کیا، وہ تو ۔۔۔۔۔ چلیں یہ بھی رہنے دیں، سفر کی مٹھاس کو کڑواہٹ سے خراب نہیں کرنا چاہیے۔

ویسے تو فاصلہ شاید بمشکل پانچ یا دس کلو میٹر کا تھا۔ لیکن ہمیں یہ فاصلہ طے کرنے میں۱۲ گھنٹے لگ گئے، یعنی تقریبا شام پانچ بجے، امیگریشن کے مراحل سے گذر کر مملک عراق میں قدم رکھے اور سکون کی سانس لی۔

رستے میں امریکا سے بھی ہو لیے۔ وہ ایسے کہ جب عراقی حدود میں داخل ہوئے تو پہلے امریکی فوجیوں نے ہم سب کے پاسپورٹ دیکھے، انگلیوں کے نشان لیے۔ پھر عراقی سرحدی پولیس نے ہمارے پاسپورٹوں پر داخلے کی مہر لگائی۔ ایک مرحلہ طے ہو گیا۔ نماز شکر، میں خدا کا شکر ادا کیا، اور باقی سفر خیریت سے گذرنے کی دعا کی۔ دعا تو ہم نے صرف وہاں تک پہنچنے کی کی تھی، کیونکہ وہاں پہنچ کر واپسی کی تمنا کم از کم مجھے نہیں تھی۔ ہمارا حال کچھ ایسا ہے،

اے ابرِ کرم ذرا تھم کے برس، اتنا نہ برس کہ وہ آ نہ سکیں

جب آجائیں تو جم کے برس، پھر اتنا برس کہ وہ جا نہ سکیں

بس فرق اتنا ہے کہ اس طرح کی دعا، کسی کے آنے کے لیے نہیں، ہم جانے کے لیے کر رہے تھے۔ سرحدی شہر، کوت، سے ہم کوئی آٹھ بجے روانہ ہوئے جانب نجف اشرف۔ نجف میں ہمارے دادا، بلکہ بابا، مولا، مقتدا، امیرالمومنین امام علی علیہ السلام کا مرقد منور ہے۔ جس کے لیے ہم آئے تھے۔ یہاں سے بھی گیارہ یا بارہ گھنٹوں کا سفر طے کرکے، اذان فجر سے کچھ دیر پہلے نجف میں داخل ہوئے۔ گرچہ گذشتہ دو تین دنوں سے سونا تو کیا، ڈھنگ سے آرام بھی نہیں کر پائے تھے۔ تھکن کا یہ حال کہ چلا نہیں جا رہا۔ لیکن جب اپنے مولا کے مزار کا گنبد دیکھا، ساری تھکن اتر گئی۔ سامان اپنے کمرے میں رکھا۔ نماز تو اب حرم میں ہی پڑھیں گے۔ باہر نکلنے لگے تو ہمیں روک دیا گیا۔ آرام کرلیں پھر حرم جائیے گا۔ کیا بتاوں، بس ایسا سمجھیں کہ پیاس سے ہلکان ہورہے ہوں، اور کوئی سامنے بہتی میٹھے پانی کی نہر سے روک دے، کہ تھوڑی دیر میں ہم خود آپ کو اسی نہر کا پانی پلا دیں گے۔ بڑی مشکل سے، بلکہ لڑ کے باہر نکلے اور مولا کی ضریح کے سامنے فجر کی نماز ادا کی۔ ارے جناب ہمارا حال نہ پوچھیے کہ نہ قلم میں لکھنے کی سکت ہے، اور نہ ہم لکھ سکتے ہیں۔

حال شب وصال بیاں کر نہ پاو گے

فاضل قلم کو روک دے دل اپنا تھام لے



نوٹ:
یہ تحریر ابھی پوری نہیں ہوئی ہے، مطلب یہ کہ ہمارا سفر ختم نہیں ہوا ہے. اگر اسے اہالی محفل کا شرف قبولیت حاصل ہو، تو باقی بھی یہاں بھیج دوں گا. ان شاء اللہ
اور کوئی خامی ہو تو اصلاح فرمائیں. شکریہ
 

یونس عارف

محفلین
سید محمد نقوی بہت بہت مبارک ہو، ماشاء اللہ بہت پیارا سلسلہ ہے۔

asrashora.jpg



800px-Kerbela_Hussein_Moschee.jpg




800px-Kerbela_Hussein_Moschee.jpg




arbaeen.jpg
 

اک انسان

محفلین
بسم اللہ الرحمن الرحیم
نہیں معلوم اس تحریر کو پڑھنے والے کس مذہب، مسلک، یا دین کے پابند ہیں۔

السلام علیکم
پڑھنے لکھنے، کہنے سننے، سوچنے سمجھنے والے ’’پابند‘‘ ہوسکتے ہیں مگر حسینّ سب کا اور سب حسینّ کا۔۔

ابھی ایک مضمون ’’اک عبادت ایسی بھی‘‘ لکھا تھا اور اُس میں عرض کیا تھا کہ جب ’’ایک‘‘ کے چاہنے والوں‌ کی تعداد ایک سے زیادہ ہوجائے تو اُن کے درمیان بھی ایک رشتہ بن جاتا ہے۔۔۔ حسد، جلن اور رقابت کا۔۔ آپ بھی ہمارے رقیب ٹھہرے۔

آپ کا بلاوا تھا وگرنہ ہم تو دیار عشق میں اپنے ’’پائوں‘‘ رکھنے کی جسارت بھی نہ کرسکیں گے۔۔۔

اجرکم من اللہ
 
السلام علیکم
پڑھنے لکھنے، کہنے سننے، سوچنے سمجھنے والے ’’پابند‘‘ ہوسکتے ہیں مگر حسینّ سب کا اور سب حسینّ کا۔۔

ابھی ایک مضمون ’’اک عبادت ایسی بھی‘‘ لکھا تھا اور اُس میں عرض کیا تھا کہ جب ’’ایک‘‘ کے چاہنے والوں‌ کی تعداد ایک سے زیادہ ہوجائے تو اُن کے درمیان بھی ایک رشتہ بن جاتا ہے۔۔۔ حسد، جلن اور رقابت کا۔۔ آپ بھی ہمارے رقیب ٹھہرے۔

آپ کا بلاوا تھا وگرنہ ہم تو دیار عشق میں اپنے ’’پائوں‘‘ رکھنے کی جسارت بھی نہ کرسکیں گے۔۔۔

اجرکم من اللہ

شکریہ جناب
خوب فرمایا
جہاں تک رقابت کا معاملہ ہے، یہ رقابت تو بہت میٹھی ہے، کیونکہ یہ بارگاہ اتنا بڑا ہے، کہ آنے والوں کی کمی ہوسکتی ہے، بارگاہ میں کمی کا سوال نہیں.
جہاں تک بلاوے کا معاملہ ہے، بات یہ ہے کہ ہمارے گھر والے گذشتہ سال بلائے گئے تھے، پر میں رہ گیا تھا، بڑا افسوس ہوا، پھر کیا،

بس ایک ہی ندا پہ بلایا ہے شان سے
مولا کا میرے دیکھ بلاوا عجیب ہے


آپ بھی ندا دے کر دیکھیں، بلاوا آجائے گا. ان شاء اللہ

اور ہاں، دیار عشق میں پائوں سے نہیں، دل سے جاتے ہیں.
 
بسم اللہ الرحمن الرحیم

عشق نے ہم کو بلایا ۔۔۔۔۔ ۲

ڈیڑھ دو گھنٹے حرم میں کیسے گذرے، سورج کب نکلا، کچھ نہیں معلوم۔ زیارت کرکے حرم سے باہر نکلے۔ باب القبلہ کے سامنے، شارع الرسول ص میں پہنچے۔
اب آپ یہ بتائیں ، سب سے اچھا، مزیدار، اعلی، شاندار اور بہترین ناشتا کہاں کھایا ہے۔ شاید کسی بڑے ہوٹل مثلا برج العرب میں کھایا ہو، یا اٹلی میں، یا نہ جانے کہاں۔ ہاں میں نے بھی ایسی بہت سی جگھوں پر ناشتا کیا ہے، دنیا کے مختلف ملکوں میں، مختلف ہوٹلوں میں۔ لیکن اگر کوئی مجھ سے یہ سوال پوچھے تو میں کہوں گا کہ، تیس جنوری دوہزار دس کو، نجف اشرف میں، صبح آٹھ یا نو بجے، امام علی علیہ السلام کے حرم کے سامنے۔ ہاں شاید عجیب محسوس ہو، لیکن حقیقت ہے۔ نہ کوئی بہت عمدہ ریسٹورینٹ تھا، نہ کوئی بیٹھنے کی بہت اچھی جگہ تھی۔ ہمارے ایک ساتھی نے پانچ عدد صمون خریدیں، ایک پنیر کا ڈبہ لیا، اور چائے۔ بیٹھنے کی جگہ تو نہیں تھی، اس لیے فٹ پاتھ پر کھڑے ہو کر ہم نے ناشتہ کیا۔ ارے جناب کیا ناشتا تھا، پچھلی زیارت کی یاد تازہ ہو گئی، اتفاق سے اس سے پہلے بھی جب نجف آیا تھا، تو پہلے دن یہی ناشتا، تقریبا اسی جگہ کیا تھا۔ کیا لطف ہے بارگاہ علوی کی فضا میں۔ خدایا ترا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ یہ سعادت ہمیں نصیب ہوئی۔ خدا یہ سعادت سب کو نصیب کرے ان شاء اللہ۔
ہم مزید دو دن نجف میں رہے اور منگل کو کربلا کی طرف روانہ ہوئے۔ آپ کو شاید معلوم ہو کہ امام حسین علیہ السلام کی زیارت کے لیئے سال میں جمعراتوں کے علاوہ تین دن مخصوص ہیں، عرفہ، عاشورا اور اربعین۔ الحمد للہ پہلے دو موقعوں پر تو زیارت نصیب ہو چکی تھی۔اربعین پر یہ میری پہلی زیارت تھی۔ ان ایام میں، اکثر لوگ، پیدل کربلا کی طرف جاتے ہیں۔ امام علیہ السلام کی زیارت کرنے۔ ہمارا بھی یہی ارادہ تھا، لیکن فرصت کم تھی۔ اس لیے نجف سے بیس کلومیٹر کے فاصلے تک، بسوں پر گئے۔ وہاں سے پیدل کربلا کی طرف گئے۔ پہلے تو جب ہم نے دیکھا کہ سب پیدل ہیں اور ہم سوار، بڑی شرم محسوس کی۔ اس سے زیادہ مجھے شرم اس وقت آئی۔ جب پیدل چل رہا تھا اور دوسروں کا اشتیاق اور خلوص دیکھ رہا تھا۔ لوگ نہ جانے کہاں کہاں سے پیدل آرہے تھے۔ نہ کوئی سن کی حد تھی، نہ صحت کی۔ کوئی ننگے پیر، کوئی جوتوں کے ساتھ، بعض کے تو پیر زخمی ہوگئے تھے۔ کچھ لوگ ایسے بھی تھے، جو چھڑی لےکر چل رہے تھے۔ اس عشق میں ہمارے رقیب بہت زیادہ ہیں، اور یہ رقابت نہایت شیرین ہے۔
اس سے پہلے جب چودہ سوپچیس میں ، کربلا آیا تھا۔ اسی راستے سے گذرا تھا۔ اس وقت یہ جگہ بالکل سنسان تھی، اور یہاں کوئی عمارت نہیں تھی۔ لیکن اس دفعہ، نجف سے کربلا تک، کوئی جگہ خالی نہیں تھی۔ سڑک کے داہنی طرف، مواکب اور حسینیے بنے ہوئے تھے۔ ان مواکب میں، زائروں کے لیے ہر قسم کی سہولیات فراہم کی گئیں تھیں۔ چائے، پانی، شربت، قہوہ، کافی،دودھ، کھانا، مفت ٹیلی فون، مساژ اور۔۔۔ غرض یہ کہ تقریبا ہر ضروری سہولیت میسر تھی۔ جو لوگ آرام کرنے بیٹھتے تھے، ان کے پیر دبائے جاتے تھے، مرہم پٹی کی جاتی، معالجہ کیا جاتا۔ اب اگر وہاں کا سارا حال لکھنا ہو تو بہت کچھ لکھنا ہوگا۔
تین دن اور دوراتوں کے بعد، ہم بارگاہ معشوق میں داخل ہوئے۔ کربلا کی زمین پر قدم رکھے۔ ہمارے ساتھیوں کا کیا حال تھا، جو ابھی تک کود کو روکے ہوئے تھے، ان کی آنکھوں سے بھی عشق شوق جاری ہوگئے۔ دور سے شہنشاہ وفا کی بارگاہ نظر آئی، بارگاہ الہی میں سجدہ شکر بجا لانے لگے، کہ میرے رب ترا شکر کہ اتنی بڑی سعادت جس کی نہ جانے کتنون کو تمنا ہے، ہمیں نصیب فرمائی۔ سجدہ کناں بارگاہ عشق میں داخل ہوئے۔ کربلا میں بے انتھا رش تھا، ہر طرف زوار ، ماتمی جلوس اور کھانا پکاتے لوگ نظر آتے تھے۔ چلنا مشکل تھا۔ بڑی مشکل سے اپنی ہوٹل تک پہنچے، سامان رکھا، نھائے دھوئے، نماز پڑھی، اور امام حسین ع کے حرم کی جانب گئے۔ شب اربعین تھی، زیارت اربعین کی۔ الحمد للہ بہت اچھی طرح زیارت کی۔ جب ہم کربلا پہنچے تو تھکن کے مارے نڈھال ہونے والے تھے، لیکن شوق زیار ت نے ہماری ساری تھکن دور کردی۔ سفر کی ساری سختی بھول گئے، کاش اس سے زیادہ سختی جھیلی ہوتی، اس زیارت کی ارزش اس سے کہیں زیادہ ہے۔کربلا کا ماحول بڑا عجیب ہے،میرا تو دل چاہتا ہے کہ وہیں جا کر رہوں، نہیں معلوم کیا بات ہے کربلا کی فضا میں۔ نہیں معلوم اور لوگوں کوبھی ایسا محسوس ہوتا ہے کہ نہیں، مجھے یہاں علم، عشق، آزادگی، شرافت، انسانیت، نجابت، عظمت، وفا، اسلام، فداکاری، شہادت، مختصر یہ کہ حسین ع کی بو آتی ہے۔ اگر یہ سب لوگ جو یہاں آتے ہیں، اس کو احساس کر لیں، تو میں یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ اسلام اور مسلمانوں کے سامنے کسی کی سر اٹھانے کی ہمت نہ رہے گی۔ لیکن کیا کیا جائے کہ ہم الفاظ و ظواہر میں مگن ہیں، اصل اور حقیقت کو بھلا بیٹھے ہیں۔ لیکن یہ بات بھی ضروری ہے کہ ظواہر بھی زندہ رکھیں جائیں، ضرور ایک دن ایک ایسی نسل ہماری آئے گی جو ظواہر سے اگے بڑھ کر، اصل اور حقیقت کو زندہ کرے گی۔ اس کی ابتدا ہمیں کو کرنا ہوگی، پہلے خود اس حقیقت کو پہچانیں۔ ضرور وہ وقت آئے گا، اور وہ قریب ہے۔
انسان کو بیدار تو ہولینے دو
ہر قوم پکارے گی ہمارے ہیں حسین

حسین ع کا پیغام ہر رنگ و نسل کے لیے ہے، یہ ایک ایسا پیغام ہے جس کی حدود انسانیت سے بھی بالا تر ہیں۔ کاش ہم اس پیغام کی عظمت کو جان سکیں اور اس پر گامزن ہونے کی کوشش کریں۔ ان شاء اللہ
ہم مزید دو دن کربلا میں رہے، روز کا معمول تھا کہ کئی بار زیارت کرنے جاتے تھے۔ حرم امام حسین ع کافی تبدیل ہوگیا ہے، دیواروں کے پتھر بدلے جارہے ہیں، صحن کو مسقف کر دیا ہے۔ حضرت عباس کے حرم میں بھی کام جاری ہے۔ بین الحرمین کو بھی چاروں طرف سے بند کردیا ہے، چند دروازے ہیں جن پر ہر آنے والے کی تلاشی لی جاتی ہے۔ حرم میں موبائل، کیمرہ، بیگ لے جانا منع ہے۔ امنیت برقرار رکھنے کے لیے یہ سب ضروری ہے۔ کربلا میں تو شدید سکیورٹی تھی، ہمارا ہوٹل حرم سے تقریبا آدھے کلومیٹر کے فاصلے پر تھا۔ ہمارے ہوٹل سے حرم تک پانچ چیک پوسٹیں تھیں، جن پر فوجی کھڑے تھے اور سب کی تلاشی لیتے تھے، نجف میں بھی کچھ ایسا ہی انتظام تھا۔
یہ تین دن کربلا میں بہت جلدی گذر گئے۔ آخری دن حرم امام حسین ع میں ہمیں ناشتا دیا گیا۔ اربعین کے دو دن بعد کربلاسے نکلنا تھا، نجف اور پھر واپس۔ بہت کوشش کی کہ کسی صورت زیادہ رک جائیں، لیکن نہ ہوسکا۔ آخری زیارت بہت مشکل تھی، کربلا سے جانے کا تصور بھی پریشان کن تھا۔ حرم امام حسین ع گیا، عرض کیا، کہ جا تو رہا ہوں لیکن دل نہیں مان رہا، جسم کو جانا پڑے گا، مگر دل یہاں مہمان ہے۔
اتوار کو کربلا سے نکلنے لگے، ہمارے ساتھ آسمان بھی رو رہا تھا۔ کسی کا جانے کو دل نہیں چاہ رہا تھا، مگر کیا کرتے۔ ہمارا حال کیا تھا، یہ سوچیں، کیا حال ہوگا اس مچھلی کا جس کو آپ پانی سے الگ کر رہے ہوں ۔۔۔۔۔ ارے ایسا نہیں کیجیے گا ۔۔۔۔۔ مر جائے گی ۔۔۔۔۔

والحمد للہ العلی
سترہ ربیع الثانی ۱۴۳۱ بعد از ہجرت نبوی ص

اس تحریر کو میرے بلاگ پر پڑھیں
 

سیما علی

لائبریرین
بسم اللہ الرحمن الرحیم

عشق نے ہم کو بلایا ۔۔۔۔۔ ۲

ڈیڑھ دو گھنٹے حرم میں کیسے گذرے، سورج کب نکلا، کچھ نہیں معلوم۔ زیارت کرکے حرم سے باہر نکلے۔ باب القبلہ کے سامنے، شارع الرسول ص میں پہنچے۔
اب آپ یہ بتائیں ، سب سے اچھا، مزیدار، اعلی، شاندار اور بہترین ناشتا کہاں کھایا ہے۔ شاید کسی بڑے ہوٹل مثلا برج العرب میں کھایا ہو، یا اٹلی میں، یا نہ جانے کہاں۔ ہاں میں نے بھی ایسی بہت سی جگھوں پر ناشتا کیا ہے، دنیا کے مختلف ملکوں میں، مختلف ہوٹلوں میں۔ لیکن اگر کوئی مجھ سے یہ سوال پوچھے تو میں کہوں گا کہ، تیس جنوری دوہزار دس کو، نجف اشرف میں، صبح آٹھ یا نو بجے، امام علی علیہ السلام کے حرم کے سامنے۔ ہاں شاید عجیب محسوس ہو، لیکن حقیقت ہے۔ نہ کوئی بہت عمدہ ریسٹورینٹ تھا، نہ کوئی بیٹھنے کی بہت اچھی جگہ تھی۔ ہمارے ایک ساتھی نے پانچ عدد صمون خریدیں، ایک پنیر کا ڈبہ لیا، اور چائے۔ بیٹھنے کی جگہ تو نہیں تھی، اس لیے فٹ پاتھ پر کھڑے ہو کر ہم نے ناشتہ کیا۔ ارے جناب کیا ناشتا تھا، پچھلی زیارت کی یاد تازہ ہو گئی، اتفاق سے اس سے پہلے بھی جب نجف آیا تھا، تو پہلے دن یہی ناشتا، تقریبا اسی جگہ کیا تھا۔ کیا لطف ہے بارگاہ علوی کی فضا میں۔ خدایا ترا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ یہ سعادت ہمیں نصیب ہوئی۔ خدا یہ سعادت سب کو نصیب کرے ان شاء اللہ۔
ہم مزید دو دن نجف میں رہے اور منگل کو کربلا کی طرف روانہ ہوئے۔ آپ کو شاید معلوم ہو کہ امام حسین علیہ السلام کی زیارت کے لیئے سال میں جمعراتوں کے علاوہ تین دن مخصوص ہیں، عرفہ، عاشورا اور اربعین۔ الحمد للہ پہلے دو موقعوں پر تو زیارت نصیب ہو چکی تھی۔اربعین پر یہ میری پہلی زیارت تھی۔ ان ایام میں، اکثر لوگ، پیدل کربلا کی طرف جاتے ہیں۔ امام علیہ السلام کی زیارت کرنے۔ ہمارا بھی یہی ارادہ تھا، لیکن فرصت کم تھی۔ اس لیے نجف سے بیس کلومیٹر کے فاصلے تک، بسوں پر گئے۔ وہاں سے پیدل کربلا کی طرف گئے۔ پہلے تو جب ہم نے دیکھا کہ سب پیدل ہیں اور ہم سوار، بڑی شرم محسوس کی۔ اس سے زیادہ مجھے شرم اس وقت آئی۔ جب پیدل چل رہا تھا اور دوسروں کا اشتیاق اور خلوص دیکھ رہا تھا۔ لوگ نہ جانے کہاں کہاں سے پیدل آرہے تھے۔ نہ کوئی سن کی حد تھی، نہ صحت کی۔ کوئی ننگے پیر، کوئی جوتوں کے ساتھ، بعض کے تو پیر زخمی ہوگئے تھے۔ کچھ لوگ ایسے بھی تھے، جو چھڑی لےکر چل رہے تھے۔ اس عشق میں ہمارے رقیب بہت زیادہ ہیں، اور یہ رقابت نہایت شیرین ہے۔
اس سے پہلے جب چودہ سوپچیس میں ، کربلا آیا تھا۔ اسی راستے سے گذرا تھا۔ اس وقت یہ جگہ بالکل سنسان تھی، اور یہاں کوئی عمارت نہیں تھی۔ لیکن اس دفعہ، نجف سے کربلا تک، کوئی جگہ خالی نہیں تھی۔ سڑک کے داہنی طرف، مواکب اور حسینیے بنے ہوئے تھے۔ ان مواکب میں، زائروں کے لیے ہر قسم کی سہولیات فراہم کی گئیں تھیں۔ چائے، پانی، شربت، قہوہ، کافی،دودھ، کھانا، مفت ٹیلی فون، مساژ اور۔۔۔ غرض یہ کہ تقریبا ہر ضروری سہولیت میسر تھی۔ جو لوگ آرام کرنے بیٹھتے تھے، ان کے پیر دبائے جاتے تھے، مرہم پٹی کی جاتی، معالجہ کیا جاتا۔ اب اگر وہاں کا سارا حال لکھنا ہو تو بہت کچھ لکھنا ہوگا۔
تین دن اور دوراتوں کے بعد، ہم بارگاہ معشوق میں داخل ہوئے۔ کربلا کی زمین پر قدم رکھے۔ ہمارے ساتھیوں کا کیا حال تھا، جو ابھی تک کود کو روکے ہوئے تھے، ان کی آنکھوں سے بھی عشق شوق جاری ہوگئے۔ دور سے شہنشاہ وفا کی بارگاہ نظر آئی، بارگاہ الہی میں سجدہ شکر بجا لانے لگے، کہ میرے رب ترا شکر کہ اتنی بڑی سعادت جس کی نہ جانے کتنون کو تمنا ہے، ہمیں نصیب فرمائی۔ سجدہ کناں بارگاہ عشق میں داخل ہوئے۔ کربلا میں بے انتھا رش تھا، ہر طرف زوار ، ماتمی جلوس اور کھانا پکاتے لوگ نظر آتے تھے۔ چلنا مشکل تھا۔ بڑی مشکل سے اپنی ہوٹل تک پہنچے، سامان رکھا، نھائے دھوئے، نماز پڑھی، اور امام حسین ع کے حرم کی جانب گئے۔ شب اربعین تھی، زیارت اربعین کی۔ الحمد للہ بہت اچھی طرح زیارت کی۔ جب ہم کربلا پہنچے تو تھکن کے مارے نڈھال ہونے والے تھے، لیکن شوق زیار ت نے ہماری ساری تھکن دور کردی۔ سفر کی ساری سختی بھول گئے، کاش اس سے زیادہ سختی جھیلی ہوتی، اس زیارت کی ارزش اس سے کہیں زیادہ ہے۔کربلا کا ماحول بڑا عجیب ہے،میرا تو دل چاہتا ہے کہ وہیں جا کر رہوں، نہیں معلوم کیا بات ہے کربلا کی فضا میں۔ نہیں معلوم اور لوگوں کوبھی ایسا محسوس ہوتا ہے کہ نہیں، مجھے یہاں علم، عشق، آزادگی، شرافت، انسانیت، نجابت، عظمت، وفا، اسلام، فداکاری، شہادت، مختصر یہ کہ حسین ع کی بو آتی ہے۔ اگر یہ سب لوگ جو یہاں آتے ہیں، اس کو احساس کر لیں، تو میں یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ اسلام اور مسلمانوں کے سامنے کسی کی سر اٹھانے کی ہمت نہ رہے گی۔ لیکن کیا کیا جائے کہ ہم الفاظ و ظواہر میں مگن ہیں، اصل اور حقیقت کو بھلا بیٹھے ہیں۔ لیکن یہ بات بھی ضروری ہے کہ ظواہر بھی زندہ رکھیں جائیں، ضرور ایک دن ایک ایسی نسل ہماری آئے گی جو ظواہر سے اگے بڑھ کر، اصل اور حقیقت کو زندہ کرے گی۔ اس کی ابتدا ہمیں کو کرنا ہوگی، پہلے خود اس حقیقت کو پہچانیں۔ ضرور وہ وقت آئے گا، اور وہ قریب ہے۔
انسان کو بیدار تو ہولینے دو
ہر قوم پکارے گی ہمارے ہیں حسین

حسین ع کا پیغام ہر رنگ و نسل کے لیے ہے، یہ ایک ایسا پیغام ہے جس کی حدود انسانیت سے بھی بالا تر ہیں۔ کاش ہم اس پیغام کی عظمت کو جان سکیں اور اس پر گامزن ہونے کی کوشش کریں۔ ان شاء اللہ
ہم مزید دو دن کربلا میں رہے، روز کا معمول تھا کہ کئی بار زیارت کرنے جاتے تھے۔ حرم امام حسین ع کافی تبدیل ہوگیا ہے، دیواروں کے پتھر بدلے جارہے ہیں، صحن کو مسقف کر دیا ہے۔ حضرت عباس کے حرم میں بھی کام جاری ہے۔ بین الحرمین کو بھی چاروں طرف سے بند کردیا ہے، چند دروازے ہیں جن پر ہر آنے والے کی تلاشی لی جاتی ہے۔ حرم میں موبائل، کیمرہ، بیگ لے جانا منع ہے۔ امنیت برقرار رکھنے کے لیے یہ سب ضروری ہے۔ کربلا میں تو شدید سکیورٹی تھی، ہمارا ہوٹل حرم سے تقریبا آدھے کلومیٹر کے فاصلے پر تھا۔ ہمارے ہوٹل سے حرم تک پانچ چیک پوسٹیں تھیں، جن پر فوجی کھڑے تھے اور سب کی تلاشی لیتے تھے، نجف میں بھی کچھ ایسا ہی انتظام تھا۔
یہ تین دن کربلا میں بہت جلدی گذر گئے۔ آخری دن حرم امام حسین ع میں ہمیں ناشتا دیا گیا۔ اربعین کے دو دن بعد کربلاسے نکلنا تھا، نجف اور پھر واپس۔ بہت کوشش کی کہ کسی صورت زیادہ رک جائیں، لیکن نہ ہوسکا۔ آخری زیارت بہت مشکل تھی، کربلا سے جانے کا تصور بھی پریشان کن تھا۔ حرم امام حسین ع گیا، عرض کیا، کہ جا تو رہا ہوں لیکن دل نہیں مان رہا، جسم کو جانا پڑے گا، مگر دل یہاں مہمان ہے۔
اتوار کو کربلا سے نکلنے لگے، ہمارے ساتھ آسمان بھی رو رہا تھا۔ کسی کا جانے کو دل نہیں چاہ رہا تھا، مگر کیا کرتے۔ ہمارا حال کیا تھا، یہ سوچیں، کیا حال ہوگا اس مچھلی کا جس کو آپ پانی سے الگ کر رہے ہوں ۔۔۔۔۔ ارے ایسا نہیں کیجیے گا ۔۔۔۔۔ مر جائے گی ۔۔۔۔۔

والحمد للہ العلی
سترہ ربیع الثانی ۱۴۳۱ بعد از ہجرت نبوی ص

اس تحریر کو میرے بلاگ پر پڑھیں
جزاک اللّہ خیر
 
Top