عشق خود سے ہی بس کیا جائے- برائے اصلاح

صابرہ امین

لائبریرین
معزز اساتذہ کرام

الف عین ، محمد خلیل الرحمٰن ، سید عاطف علی

@محمّد احسن سمیع :راحل:


آپ سے رہنمائ و اصلاح کی درخواست ہے ۔ ۔

شکریہ

عشق خود سے ہی بس کیا جائے
اور خود پر ہی مر مٹا جائے

شعر خود پر ہی بس لکھے جائیں
اسطرح خود کو ہی پڑھا جائے

بے وقوفی کا جام پی پی کر
ایروں غیروں پہ کیوں مرا جائے

زندگانی تو خوب گزرے گی
اپنا اچھا بھلا کیا جائے

بس کہ اندر کہیں خلا ہو گا
اس سے صرفِ نظر کیا جائے

زندگی ایک ہی تو ملتی ہے
اس کو بھرپور سا جیا جائے

نام زندہ رکھے جو نسلوں تک
کام ایسا ہی بس کیا جائے

گر ہے بخشش کی آرزو رب سے
معاف سب کو ہی کر دیا جائے

جیسے گرتوں کو تھامنے کے لیئے
ہاتھ آگے بڑھا دیا جائے
 
میرا مشورہ ہے کہ پہلے آپ ایک مرتبہ نظر ثانی کر لیجئے اور بھرتی کے الفاظ مثلا جیسے اس مصرعے میں

کو بھرپور سا جیا جائے
"سا" ہے ... یہ زائد ہے، محض وزن پورا کرنے کے لئے. ویسے بھی "بھرپور سا جینا" بھی کوئی جینا ہوا؟ :)
اسی نہج پر دوسرے اشعار میں بھی چھانٹی کر لیجئے.

معاف سب کو ہی کر دیا جائے
مصرعہ بحر سے خارج ہے ہو رہا ہے، کیونکہ "معاف" کی تقطیع درست نہیں کی گئی، گویا وزن میں محض "ماف"آتا ہے. اس کی عین گرائی نہیں جاسکتی اور اسکو م+عا+ف تقطیع کریں گے.

دعاگو،
راحل.
 

صابرہ امین

لائبریرین
میرا مشورہ ہے کہ پہلے آپ ایک مرتبہ نظر ثانی کر لیجئے اور بھرتی کے الفاظ مثلا جیسے اس مصرعے میں

"سا" ہے ... یہ زائد ہے، محض وزن پورا کرنے کے لئے. ویسے بھی "بھرپور سا جینا" بھی کوئی جینا ہوا؟ :)
اسی نہج پر دوسرے اشعار میں بھی چھانٹی کر لیجئے.

مصرعہ بحر سے خارج ہے ہو رہا ہے، کیونکہ "معاف" کی تقطیع درست نہیں کی گئی، گویا وزن میں محض "ماف"آتا ہے. اس کی عین گرائی نہیں جاسکتی اور اسکو م+عا+ف تقطیع کریں گے.

آداب
اب دیکھیئے راحل بھائ کچھ بہتری آئ ۔


عشق خود سے ہی بس کیا جائے
ٹوٹ کےخود پہ مر مٹا جائے

شاعری اپنے آپ پر کر کے
پھر مزے سے اسے پڑھا جائے

بے وقوفی کا جام پی پی کر
ایروں غیروں پہ کیوں مرا جائے

زندگانی غضب کی گزرے گی
اپنا اچھا بھلا کیا جائے

بس کہ اندر کہیں خلا ہو گا
اس سے صرفِ نظر کیا جائے

زندگی ایک بار ملتی ہے
اس کو بھرپور جی لیا جائے
یا

زندگی ایک بار ملتی ہے
اس کا ہر لمحہ جی لیا جائے
یا

زندگی ایک بار ملتی ہے
اپنی مرضی سے جی لیا جائے


نام زندہ رکھے جو نسلوں تک
بیج نیکی کا بو دیا جائے
یا

نام زندہ رکھے جو نسلوں تک
ایسا روشن دیا کیا جائے
یا

نام زندہ رکھے جو نسلوں تک
صدقہءِ جاریہ کیا جائے
یا

نام زندہ رکھے جو نسلوں تک
کارِخیر ایسا کر دیا جائے


گر ہے بخشش کی آرزو رب سے
سب کو راضی خوشی رکھا جائے

یا
گر ہے بخشش کی آرزو رب سے
سب سے دل صاف کر لیا جائے


گر ہے بخشش کی آرزو رب سے
اس کے احکام پر چلا جائے


جیسے گرتوں کو تھامنے کے لیئے
ہاتھ آگے بڑھا دیا جائے


شکریہ
 
صابرہ بہن، آداب!

عشق خود سے ہی بس کیا جائے
ٹوٹ کےخود پہ مر مٹا جائے

شاعری اپنے آپ پر کر کے
پھر مزے سے اسے پڑھا جائے

بے وقوفی کا جام پی پی کر
ایروں غیروں پہ کیوں مرا جائے

مطلع اور اس کی متابعت میں اگلے دو اشعار طنز سے زیادہ مزاحیہ اسلوب کے حامل محسوس ہوئے مجھے، ہوسکتا ہے یہ تاثر صرف مجھ تک گیا ہو، اساتذہ اور دیگر قارئین اسے محسوس نہ کریں۔
بندشیں تھوڑی اور چست ہو سکتی ہیں۔ مثلا مطلع کو یوں کہا جا سکتا ہے
عشق اب خود سے بس کیا جائے
کیوں نہ خود پر ہی مر مٹا جائے۔
(ٹوٹ کر مرنا مجھے کچھ نامانوس سا لگ رہا ہے، ٹوٹ کر چاہنا تو پڑھا سنا ہے، ٹوٹ کر مرنا شاید میری نظر سے نہیں گزرا ۔۔۔ ہرچند کہ یہ کوئی سند یا دلیل نہیں، میری قلت مطالعہ کا اثر بھی ہو سکتا ہے)۔

دوسرے شعر کے لئے مصرعہ اولی میرے خیال میں اصل مسودے والا ہی بہتر رہے گا۔ یعنی
شعر خود پر ہی اب کہے جائیں
پھر مزے سے انہیں پڑھا جائے

تیسرے شعر میں بے وقوفی بہت غیر شاعرانہ لگ رہا ہے، الفاظ بدلے جاسکتے ہیں۔ علاوہ ازیں، صرف بے وقوفی کا جام کہنا بھی شاید ٹھیک نہ ہو (مطلق شراب کے جام کے بارے میں تو یوں کہا جاتا ہے، مگر کسی اور شے کے بارے علامتاً کہنے کے بارے میں میں خود گنجلک ہوں، خیر! اساتذہ جانیں اور ان کا کام :) )
کیوں غباوت کے جام پی پی کر
ایروں غیروں پر اب مرا جائے

زندگانی غضب کی گزرے گی
اپنا اچھا بھلا کیا جائے
اچھا بھلا ’’کرنا‘‘ میرے خیال میں خلافِ محاورہ ہے۔ ’’اچھا بھلا‘‘ کسی بھی شے یا شخصیت کی کیفیت کو بیان کرنے کے لئے کہا جاتا ہے، مثلا کل تک تو وہ اچھا بھلا تھا، اچھا بھلا کام چل رہا تھا۔ گویا اچھا بھلا ’’ہوا‘‘ جاتا ہے، کیا نہیں۔ اس لئے اس شعر پر دوبارہ فکر کر کے دیکھئے۔

بس کہ اندر کہیں خلا ہو گا
اس سے صرفِ نظر کیا جائے
مفہوم واضح نہیں کیونکہ یہ واضح نہیں کہ کس کے درون خلا ہے؟

زندگی ایک بار ملتی ہے
اس کو بھرپور جی لیا جائے
یا

زندگی ایک بار ملتی ہے
اس کا ہر لمحہ جی لیا جائے
یا

زندگی ایک بار ملتی ہے
اپنی مرضی سے جی لیا جائے
میرے خیال میں پہلا مصرعہ اصل مسودے والا ہی بہتر ہے۔
زندگی ایک ہی تو ملتی ہے
اس کو بھرپور جی لیا جائے

نام زندہ رکھے جو نسلوں تک
بیج نیکی کا بو دیا جائے
یا

نام زندہ رکھے جو نسلوں تک
ایسا روشن دیا کیا جائے
یا

نام زندہ رکھے جو نسلوں تک
صدقہءِ جاریہ کیا جائے
یا

نام زندہ رکھے جو نسلوں تک
کارِخیر ایسا کر دیا جائے
اگر یوں کہیں تو؟
نام زندہ رہے زمانوں تک
کام کچھ ایسا کر دیا جائے!

گر ہے بخشش کی آرزو رب سے
سب کو راضی خوشی رکھا جائے

یا
گر ہے بخشش کی آرزو رب سے
سب سے دل صاف کر لیا جائے


گر ہے بخشش کی آرزو رب سے
اس کے احکام پر چلا جائے
تھوڑا سا خیال اور الفاظ بدل کر دیکھیں کیا شکل بنتی ہے، مثلاً
کینہ پرور رہے گا واں مغضوب
صاف دل سب سے کر لیا جائے

جیسے گرتوں کو تھامنے کے لیئے
ہاتھ آگے بڑھا دیا جائے
جیسے کیسے؟؟؟؟ مطلب یہ شعر تو کوئی ادھورا مصرعہ معلوم ہوتا ہے، بات پوری ہوتی نظر نہیں آتی اس میں۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ ’’جیسے‘‘ یہاں بھرتی کا ہے، جو پہلے مصرعے کو الجھا رہا ہے۔
خیال تھوڑا سا بدلنے کی ضرورت ہے، ورنہ شعر معمولی رہ جائے گا۔

دعاگو،
راحلؔ
 

صابرہ امین

لائبریرین
صابرہ بہن، آداب!



مطلع اور اس کی متابعت میں اگلے دو اشعار طنز سے زیادہ مزاحیہ اسلوب کے حامل محسوس ہوئے مجھے، ہوسکتا ہے یہ تاثر صرف مجھ تک گیا ہو، اساتذہ اور دیگر قارئین اسے محسوس نہ کریں۔
بندشیں تھوڑی اور چست ہو سکتی ہیں۔ مثلا مطلع کو یوں کہا جا سکتا ہے
عشق اب خود سے بس کیا جائے
کیوں نہ خود پر ہی مر مٹا جائے۔
(ٹوٹ کر مرنا مجھے کچھ نامانوس سا لگ رہا ہے، ٹوٹ کر چاہنا تو پڑھا سنا ہے، ٹوٹ کر مرنا شاید میری نظر سے نہیں گزرا ۔۔۔ ہرچند کہ یہ کوئی سند یا دلیل نہیں، میری قلت مطالعہ کا اثر بھی ہو سکتا ہے)۔

دوسرے شعر کے لئے مصرعہ اولی میرے خیال میں اصل مسودے والا ہی بہتر رہے گا۔ یعنی
شعر خود پر ہی اب کہے جائیں
پھر مزے سے انہیں پڑھا جائے
راحل بھائ
آداب
آپ نے صحیح بھانپ لیا ۔ ۔ ۔ یہ کچھ فنی سے موڈ میں لکھے تھے ۔ ۔ لکھتے لکھتے پھر کچھ سے کچھ ہو گئے ۔ ۔
یہ ٹھیک ہو گئے ۔ ۔

عشق اب خود سے بس کیا جائے
کیوں نہ خود پر ہی مر مٹا جائے۔


شعر خود پر ہی اب کہے جائیں
پھر مزے سے انہیں پڑھا جائے

تیسرے شعر میں بے وقوفی بہت غیر شاعرانہ لگ رہا ہے، الفاظ بدلے جاسکتے ہیں۔ علاوہ ازیں، صرف بے وقوفی کا جام کہنا بھی شاید ٹھیک نہ ہو (مطلق شراب کے جام کے بارے میں تو یوں کہا جاتا ہے، مگر کسی اور شے کے بارے علامتاً کہنے کے بارے میں میں خود گنجلک ہوں، خیر! اساتذہ جانیں اور ان کا کام :) )

کیوں غباوت کے جام پی پی کر
ایروں غیروں پر اب مرا جائے


( پتہ نہیں کیوں آپ کا بتایا لفظ ٹاٹ میں مخمل کا پیوند لگا ہمیں ۔ ۔ !! ایسا کیسے رہے گا)

کیوں حماقت کا جام پی پی کر
ایروں غیروں پر اب مرا جائے

ورنہ جو آپ کہیں ۔ ۔

اچھا بھلا ’’کرنا‘‘ میرے خیال میں خلافِ محاورہ ہے۔ ’’اچھا بھلا‘‘ کسی بھی شے یا شخصیت کی کیفیت کو بیان کرنے کے لئے کہا جاتا ہے، مثلا کل تک تو وہ اچھا بھلا تھا، اچھا بھلا کام چل رہا تھا۔ گویا اچھا بھلا ’’ہوا‘‘ جاتا ہے، کیا نہیں۔ اس لئے اس شعر پر دوبارہ فکر کر کے دیکھئے۔
زندگانی غضب کی گزرے گی
اپنی قربت میں گم رہا جائے
یا

زندگانی غضب کی گزرے گی
اپنی سنگت میں خوش رہا جائے

یا

زندگانی غضب کی گزرے گی
اپنی قربت کو پا لیا جائے
مفہوم واضح نہیں کیونکہ یہ واضح نہیں کہ کس کے درون خلا ہے؟


اپنے اندر کہیں خلا ہو گا
اس سے صرفِ نظر کیا جائے

یا

زندگی میں جو پھر خلا ہو گا
اس سے صرفِ نظر کیا جائے

یا


اپنے اندر جو اک خلا ہو گا
اس سے صرفِ نظر کیا جائے


یا


زندگی میں کہیں خلا ہو گا
اس سے صرفِ نظر کیا جائے
میرے خیال میں پہلا مصرعہ اصل مسودے والا ہی بہتر ہے۔
زندگی ایک ہی تو ملتی ہے
اس کو بھرپور جی لیا جائے
جی بالکل ٹھیک

زندگی ایک ہی تو ملتی ہے
اس کو بھرپور جی لیا جائے

اگر یوں کہیں تو؟
نام زندہ رہے زمانوں تک
کام کچھ ایسا کر دیا جائے!
بہترین ۔ ۔ آفاقی ہو گیا ۔ ۔

نام زندہ رہے زمانوں تک
کام کچھ ایسا کر دیا جائے!


تھوڑا سا خیال اور الفاظ بدل کر دیکھیں کیا شکل بنتی ہے، مثلاً
کینہ پرور رہے گا واں مغضوب
صاف دل سب سے کر لیا جائے

کینہ پرور رہے گا واں مغضوب
صاف دل سب سے کر لیا جائے

یا
کینہ پرورکو رب نہ بخشے گا
صاف دل سب سے کر لیا جائے

جو آپ کہیں ۔ ۔

جیسے کیسے؟؟؟؟ مطلب یہ شعر تو کوئی ادھورا مصرعہ معلوم ہوتا ہے، بات پوری ہوتی نظر نہیں آتی اس میں۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ ’’جیسے‘‘ یہاں بھرتی کا ہے، جو پہلے مصرعے کو الجھا رہا ہے۔
خیال تھوڑا سا بدلنے کی ضرورت ہے، ورنہ شعر معمولی رہ جائے گا۔

اب دیکھیئے ۔ ۔


جب نظر آئے کوئ گرتا ہوا
ہاتھ آگے بڑھا دیا جائے


جب کبھی دیکھوکوئ گرتا ہوا
ہاتھ آگے بڑھا دیا جائے

امید ہے بہتری آئ ہو گی ۔ ۔
شکریہ
 
کیوں حماقت کا جام پی پی کر
ایروں غیروں پر اب مرا جائے
ایسے بھی ٹھیک ہے، باقی محض بے وقوفی، غباوت یا حماقت کا جام کہنا کیسا ہے، یہ اساتذہ ہی بہتر بتا سکتے ہیں.

زندگانی غضب کی گزرے گی
اپنی قربت میں گم رہا جائے
یا

زندگانی غضب کی گزرے گی
اپنی سنگت میں خوش رہا جائے

یا

زندگانی غضب کی گزرے گی
اپنی قربت کو پا لیا جائے

میرے خیال میں پہلا آپشن بہتر ہے، لیکن بیان با محاورہ نہیں لگتا. دوسرے مصرعے کو یوں کر لیں.
ذات میں اپنی گم رہا جائے

زندگی میں کہیں خلا ہو گا
اس سے صرفِ نظر کیا جائے
یہ والا بہتر ہے، پہلے مصرعے میں معمولی سی تبدیلی کر لیں.
زندگی میں کہیں خلا ہو اگر

کینہ پرورکو رب نہ بخشے گا
صاف دل سب سے کر لیا جائے
یوں بھی ٹھیک لگ رہا ہے.

جب نظر آئے کوئ گرتا ہوا
ہاتھ آگے بڑھا دیا جائے


جب کبھی دیکھوکوئ گرتا ہوا
ہاتھ آگے بڑھا دیا جائے
پہلا والا ٹھیک ہے، دوسرے آپشن کا پہلا مصرعہ گرامر کے حساب سے درست نہیں لگ رہا.

دعاگو،
راحل.
 

صابرہ امین

لائبریرین
ایسے بھی ٹھیک ہے، باقی محض بے وقوفی، غباوت یا حماقت کا جام کہنا کیسا ہے، یہ اساتذہ ہی بہتر بتا سکتے ہیں.



میرے خیال میں پہلا آپشن بہتر ہے، لیکن بیان با محاورہ نہیں لگتا. دوسرے مصرعے کو یوں کر لیں.
ذات میں اپنی گم رہا جائے


یہ والا بہتر ہے، پہلے مصرعے میں معمولی سی تبدیلی کر لیں.
زندگی میں کہیں خلا ہو اگر


یوں بھی ٹھیک لگ رہا ہے.


پہلا والا ٹھیک ہے، دوسرے آپشن کا پہلا مصرعہ گرامر کے حساب سے درست نہیں لگ رہا.

دعاگو،
راحل.
شکریہ
تو اب یہ صورت بنتی دکھائ دیتی ہے ۔ ۔

عشق اب خود سے بس کیا جائے
کیوں نہ خود پر ہی مر مٹا جائے

زندگانی غضب کی گزرے گی
ذات میں اپنی گم رہا جائے

شعر خود پر ہی اب کہے جائیں
پھر مزے سے انہیں پڑھا جائے

کیوں حماقت کا جام پی پی کر
ایروں غیروں پر اب مرا جائے

زندگی میں کہیں خلا ہو اگر
اس سے صرفِ نظر کیا جائے

نام زندہ رہے زمانوں تک
کام کچھ ایسا کر دیا جائے
!
کینہ پرورکو رب نہ بخشے گا
صاف دل سب سے کر لیا جائے

جب نظر آئے کوئ گرتا ہوا
ہاتھ آگے بڑھا دیا جائے

ایک ہی زندگی تو ملتی ہے
اس کو بھرپور جی لیا جائے

راحل بھائ آخری شعرمیں الفاظ کی ترتیب بھی بدلی ہے ۔ ۔ ملاحظہ کیجیئے
 
آخری تدوین:

صابرہ امین

لائبریرین
محترم استاد الف عین ،
محمد خلیل الرحمٰن بھائ،
سید عاطف علی بھائ


نظرِ ثانی کی درخواست ہے ۔ ۔ شکریہ

عشق اب خود سے بس کیا جائے
کیوں نہ خود پر ہی مر مٹا جائے

زندگانی غضب کی گزرے گی
ذات میں اپنی گم رہا جائے

شعر خود پر ہی اب کہے جائیں
پھر مزے سے انہیں پڑھا جائے

کیوں حماقت کا جام پی پی کر
ایروں غیروں پر اب مرا جائے

زندگی میں کہیں خلا ہو اگر
اس سے صرفِ نظر کیا جائے

نام زندہ رہے زمانوں تک
کام کچھ ایسا کر دیا جائے!

کینہ پرورکو رب نہ بخشے گا
صاف دل سب سے کر لیا جائے

جب نظر آئے کوئ گرتا ہوا
ہاتھ آگے بڑھا دیا جائے

ایک ہی زندگی تو ملتی ہے
کیوں نہ بھرپور جی لیا جائے
 
آخری تدوین:
اس کو بھرپور جی لیا جائے
زندگی جینا یا زندگی کو جینا ۔یہ عوامی درجے کا محاوراتی اسلوب لگتا ہے اور شعری اسلوب کو پست کرتا ہے ۔ جیسے ٹپال چائے پیو اور زندگی جیو :) وغیرہ
جینا مجرد ہی مجھے مقبول لگتا ہے اس لحاظ سے ۔عین ممکن ہے یہ میرا ذاتی تاثر ہو لیکن طبیعت نہیں مانتی ۔
کیوں نہ بھرپور جی لیا جائے ۔ ہو سکتا ہے ۔وغیرہ ۔
باقی اور کوئی خاص بات تو نہیں ، ٹھیک ہیں اشعار ۔
 

صابرہ امین

لائبریرین
زندگی جینا یا زندگی کو جینا ۔یہ عوامی درجے کا محاوراتی اسلوب لگتا ہے اور شعری اسلوب کو پست کرتا ہے ۔ جیسے ٹپال چائے پیو اور زندگی جیو :) وغیرہ
جینا مجرد ہی مجھے مقبول لگتا ہے اس لحاظ سے ۔عین ممکن ہے یہ میرا ذاتی تاثر ہو لیکن طبیعت نہیں مانتی ۔
کیوں نہ بھرپور جی لیا جائے ۔ ہو سکتا ہے ۔وغیرہ ۔
باقی اور کوئی خاص بات تو نہیں ، ٹھیک ہیں اشعار ۔

آداب

کیوں نہ بھرپور جی لیا جائے

بلاشبہ زیادہ بہتر ہے ۔ ۔ شکریہ
 
Top