عام استعمال کے الفاظ کے درست ہجے

دوست

محفلین
معذرت کے ساتھ اس وقت یہ لفظ‌ اردو میں ہے۔ اردو کی گرامر کے لحاظ سے اس کے ساتھ لا کا سابقہ لگ سکتا ہے۔
 

ابوشامل

محفلین
معذرت کے ساتھ اس وقت یہ لفظ‌ اردو میں ہے۔ اردو کی گرامر کے لحاظ سے اس کے ساتھ لا کا سابقہ لگ سکتا ہے۔
اس میں معذرت کی کیا بات ہے۔ میں نے یہ قاعدہ اپنی طرف سے نہیں بنایا بلکہ مطالعے کے دوران اس کا علم ہوا جہاں انتہائی وضاحت کے ساتھ اس لفظ "لاپرواہ" کا ہی ذکر تھا۔ میں نے جو پڑھا اسے دوسروں تک پہنچانا مناسب سمجھا اگر یہ غلط ہے تو رہنمائی کر دیجیے۔
 

شمشاد

لائبریرین
اکثر لوگ اسکول کو سکول اور اسٹیشن کو سٹیشن لکھتے اور بولتے ہیں۔ یعنی کہ ان حروف کا پہلا حرف الف استعمال ہی نہیں کرتے۔ بلکہ بہت سارے اسکولوں کے باہر بڑے بڑے واضح الفاظ میں بھی " سکول " ہی لکھا ہوتا ہے۔
 

arifkarim

معطل
اکثر لوگ اسکول کو سکول اور اسٹیشن کو سٹیشن لکھتے اور بولتے ہیں۔ یعنی کہ ان حروف کا پہلا حرف الف استعمال ہی نہیں کرتے۔ بلکہ بہت سارے اسکولوں کے باہر بڑے بڑے واضح الفاظ میں بھی " سکول " ہی لکھا ہوتا ہے۔


اصل میں‌ لکھے جانے والی اردو اب بولے جانے والی اردو سے متاثر ہو رہی ہے۔ عام حالات میں ہم سکول = school ہی بولتے ہیں اور کوئی اسکول کو aschool نہ سمجھ لے اسی لئے ذہنی طور پر سکول لکھ دیتے ہیں! ;)
 

شمشاد

لائبریرین
لیکن یہ بھی تو دیکھیں کہ اردو اور انگریزی دو الگ الگ زبانیں ہیں، ہم انہیں اکٹھا ہی کیوں کریں۔

بولنے کا کیا ہے، لوگ تو اسٹیشن سے سٹیشن تو کیا اب تو صرف ٹیشن بھی بولتے ہیں۔
 

فہیم

لائبریرین
شمشاد بھائی یہ پنچاب سائٹ پر زیادہ ہوتا ہے کہ
اسکول کو سکول اور اسٹیشن کو سٹیشن
 

شمشاد

لائبریرین
کراچی میں بھی بہت ہوتا ہے جیسے طرف کو سائیڈ کی بجائے سائیٹ لکھنا۔ :)

تو بھائی میں تو اپنی طرف کے حالات و واقعات ہی لکھوں گا ناں۔ آپ اپنی طرف کے بتائیں۔
 

فہیم

لائبریرین
صحیح

میں آپ کو اپنی طرف کے بتاؤں:rolleyes:

یہاں پیسے کو سریا
کھانے کو کھاپا کہا جاتا ہے

اور بھی کافی الفاظ ہیں
اگر لکھ دوں تو شاید کچھ کراچی والے بھی ان کے معنی نہ بتاسکیں:grin:
 

شمشاد

لائبریرین
آپ نے تو وہ الفاظ بتائے ہیں جو لوگوں نے اپنی طرف سے ایجاد کر لیے ہیں۔ ہماری بحث ان الفاظ کے متعلق ہے جن کی املا غلط ہے۔ جیسے کچھ لوگ "گھومنے" پھرنے کو "گومنے" لکھ دیتے ہیں۔
 

قسیم حیدر

محفلین
یہ بات بار بار دہرائے جانے کے قابل ہے کہ کوئی بھی زندہ زبان جامد اور متعیّن شکل میں قائم نہیں رہ سکتی۔ عالمی سیاست کی ہلچل، مقامی سیاست کی اکھاڑ بچھاڑ، عالمی سطح پر آنے والے تہذیبی انقلاب اور مقامی سطح پر ہونے والی چھوٹی موٹی ثقافتی سرگرمیاں یہ سب عوامل ہماری زبان پر اثر انداز ہوتے ہیں یعنی ہمارا واسطہ نئے نئے الفاظ سے پڑتا ہے یا پُرانے لفظوں کا ایک نیا مفہوم ابھر کر سامنے آتا ہے۔
ہر زندہ زبان اِن تبدیلیوں کو قبول کرتی ہے اور اپنا دامن نئے الفاظ و محاورات سے بھرتی رہتی ہے۔انہی تبدیلیوں کے دوران بعض زیرِ استعمال الفاظ و محاورات متروک بھی ہو جاتے ہیں۔ گویا جس طرح ایک زندہ جسم پُرانے خلیات کو ختم کر کے نئے بننے والے خلیات کو قبول کرتا ہے اسی طرح ایک زندہ زبان میں بھی ردّوقبول کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔

اُردو کی بُنیاد اگرچہ ہندوستان کی مقامی بھاشاؤں پر استوار ہوئی تھی لیکن اس کے ذخیرۂ الفاظ نے عربی اور فارسی کے لسانی خزانوں سے بھی بہت استفادہ کیا ہے چنانچہ آج بھی اُردو جُملے کی ساخت تو مقامی ہے اور جُملے کا فعل بھی بالعموم مقامی ہوتا ہے لیکن جُملے کے دیگر عناصر میں عربی اور فارسی کے اثرات صاف دیکھے جا سکتے ہیں۔

اُردو میں مستعمل بہت سے الفاظ ایسے ہیں جن کی اصل صورت اور تلفظ عربی فارسی یا سنسکرت میں بالکل مختلف تھا لیکن عوامی استعمال میں آنے کے بعد اُن لفظوں کا حُلیہ تبدیل ہو گیا۔ بعض مصلحینِ زبان اس بات پر اصرار کرتے ہیں کہ لفظ جِس زبان سے آیا ہو اُردو میں بھی اسکا تلفظ اور استعمال اسی زبان کے مطابق ہونا چاہیے۔ ظاہر ہے یہ ایک سراسر ناجائز مطالبہ ہے۔

ذیل میں چند ایسے الفاظ دیے جا رہے ہیں جن کا تلفظ اُردو میں آ کر تبدیل ہو گیا ہے اور اب یہ تبدیل شدہ تلفظ ہی درست سمجھاجائے گا۔

سنسکرت کا لفظ ویاکُل جب اُردو میں آیا تو بیکل ہو گیا یعنی بے چین، بے قرار۔ سنسکرت کا پشچِم اُردو میں پچھَم ہو گیا اسی طرح سنسکرت پُوْر^و اُردو تک آتے آتے پُوَرب ہو گیا۔

فارسی میں لفظ پِیراہن ہے یعنی پ کے نیچے زیر ہے لیکن اُردو میں یہ پَیراہن بن چُکا ہے یعنی پ کے اُوپر زبر کے ساتھ۔ اسی طرح فارسی کا پِیرایہ اُردو میں آ کر پَیرایہ بن جاتا ہے۔

عربی لفظ حِجامۃ میں ج کے نیچے زیر ہے لیکن اُردو میں حَجامت بنا تو ح کے اوپر زبر لگ گئی۔ اسی طرح عربی کے حَجَلہ میں ح اور ج دونوں کے اوپر زبر ہوتی ہے لیکن اُردو میں آ کر یہ حُجْلہ بن گیا یعنی ح کے اوپر پیش لگ گئی (مثلاً حُجلہء عروسی)۔ عربی کے لفظ حِشمۃ کا مطلب حیاداری ہے۔ اُردو میں آ کر اسکا مطلب شان و شوکت اور رعب داب بن گیا۔ ساتھ ہی اسکا تلفظ بھی بدل گیا اور ح پر زبر لگ گئی یعنی یہ حَشمت بن گیا۔

ظاہری شکل و صورت کے مفہوم میں ہم حُلیہ کا لفظ عام استعمال کرتے ہیں لیکن اسکا اصل عربی تلفظ حِلیہ ہے یعنی ح کے نیچے زیر ہے۔ پرندے کے پوٹے اور پِتّے کو عربی میں حوَصَََلہ کہتے ہیں یعنی ص پر زبر کے ساتھ، لیکن اُردو میں ص پر جزم ہے اور اسکا تلفظ حوص+ لہ ہو گیا ہے۔ اُردو میں اسکا لُغوی مفہوم مستعمل نہیں ہے بلکہ یہ صرف ہمت اور جرات کے معانی میں استعمال ہوتا ہے۔

عربی میں خََصْم(ص پر جزم) کا مطلب ہے دُشمن، جس سے نکلا ہوا لفظ خُصُومت (دشمنی) اُردو میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ البتہ خود لفظ خصم ہمارے یہاں شوہر کے لئے استعمال ہوتا ہے اور وہ بھی اِس تبدیلی کے ساتھ کہ ص پر جزم کی بجائے زبر لگا دی جاتی ہے (خَصَم)۔

عربی میں لفظ دَرَجہ ہے یعنی دال پر زبر اور ر پر بھی زبر، لیکن اُردو میں ہم دْرجہ کہتے ہیں (در + جہ)۔ عربی میں ُدکّان کی ک پر تشدید ہے لیکن اُردو میں نہیں ہے۔ عربی میں لفظ رحِم ہے یعنی ح کے نیچے زیر لیکن اُردو میں یہ رحْم بن گیا (ح پر جزم)۔ عربی میں صِحّت کی ح کے اوپر تشدید ہوتی ہے لیکن اُردو میں نہیں ۔

عربی میں ُقطْب کی ط پر جزم ہے لیکن اُردو میں ق اور ط دونوں پر پیش ہے۔ ( ُُقُطب)۔ عربی میں لفظ مَحَبہّ تھا یعنی م اور ح دونوں پر زبر، لیکن اُردو میں مُحبّت بن گیا اور م کے اوپر پیش لگ گئی۔

فارسی میں لفظ مُزد+ور تھا جو کہ بعد میں مُزدُرو بن گیا لیکن اُردو میں پہنچا تو م کے اوپر پیش کی جگہ زبر لگ گئی اور مَزدور ہوگیا۔ عربی میں لفظ مُشَاعَرہ ہے یعنی ع کے اوپر زبر ہے لیکن اُردو میں اسکی شکل مشاعِرہ ہو چکی ہے اور یہی درست ہے، جسطرح عربی کا موسِم اُردو میں پہنچ کر موسَم ہو چکا ہے (س پر زبر) اور اب اسی کو درست تسلیم کرنا چاہیئے۔

عربی کے نَشاط میں ن پر زبر ہے لیکن اُردو میں ہم ن کے نیچے زیر لگا کر نِشاط لکھتے ہیں اور اُردو میں یہی درست ہے۔

عربی میں لفظ نُوّاب تھا، نون پر پیش اور واؤ پر تشدید۔ یہ اصل میں لفظ نائب کی جمع تھی، اُردو میں آ کر اسکا مطلب بھی بدلا اور تلفظ بھی نواب ہو گیا۔

جدائی کے معنیٰ میں استعمال ہونے والا عربی لفظ وَداع ہے (واؤ پر زبر) لیکن اُردو میں اسکی شکل تبدیل ہو کر وِداع ہو چکی ہے (واؤ کے نیچے زیر)۔

جِن لوگوں کا بچپن پنجاب میں گزرا ہے انھوں نے لفظ ’بکرا عید‘ ہزاروں مرتبہ سُنا اور بولا ہو گا۔ بچپن میں اسکی یہی توضیح ذہن میں آتی تھی کہ اس روز بکرا ذبح کیا جاتا ہے اس لئے یہ بکرا عید ہے۔ کچھ بڑے ہوئے تو اسطرح کے جُملے پڑھنے سننے کو ملے۔ ’میاں کبھی عید بکرید پر ہی مِل لیا کرو‘ اِس ’بکرید‘ کی کھوج میں نکلے تو پتہ چلا کہ یہ تو دراصل بقرعید ہے اور اسکا بکرے سے نہیں بقر (گائے) سے تعلق ہے۔

عربی فارسی اور سنسکرت کے علاوہ بھی اُردو نے کئی زبانوں سے خوشہ چینی کی ہے لیکن ظاہر ہے کہ اُردو میں آ کر لفظوں کی شکل خاصی بدل گئی ہے۔ جیسے انگریزی کا سٹیمپ پیپر اُردو میں اشٹام پیپر اور بعد میں صرف ’اشٹام‘ رہ گیا۔ تُرکی کا چاغ اُردو میں آ کر چاق ہو گیا اور پُرتگالی زبان کا بالڈی اُردو میں آ کر بالٹی بن گیا۔

باہر کے لفظوں نے اُردو میں داخل ہونے کے بعد جو شکل اختیار کر لی ہے اب اسی کو معیاری تسلیم کر لینا چاہیئے۔ منبع و ماخذ تک پہنچ کر اُن کے قدیم تلفظ کا کھوج لگانا ایک عِلمی مشغلہ تو ہو سکتا ہے لیکن روزمرّہ استعمال میں اصل اور پرانے تلفظ کو مُسلط کرنے کی کوشش اُردو کی کوئی خدمت نہیں ہو گی بلکہ اسکی راہِ ترقی میں روڑے اٹکانے والی بات ہوگی۔
(بی بی سی اردو، لفظوں کی لفاظی)
 

قسیم حیدر

محفلین
بعض اوقات ہمارا تلّفظ کسی لسانی نقطۂ نظر کی پیروی یا صحتِ زبان کے بارے میں ہمارے مخصوص زاویہ نظر کا نتیجہ نہیں ہوتا بلکہ محض ہماری لاعلمی کا غماز ہوتا ہے۔

اُردو میں جن الفاظ کا غلط تلفّظ اکثر دیکھنے میں آتا ہے اُن کی فہرست ذیل میں دی جا رہی ہے۔

اِبلاغ: الف کے نیچے زیر ہے

اِتِّفاق: ت کے نیچے زیر ہے

اِخراجات: الف کے نیچے زیر ہے

اَدَبِیّات: ب کے نیچے زیر اور ’ی‘ کےاوپر تشدید

اَدْوَِیہ: (دوائیں) الف پر زبر، دال پر جزم، ’و‘ کے نیچے زیر ’ی‘ کے اوپر زبر

اَرْجْمند: (اعلیٰ، قیمتی) الف پر زبر ’ر‘ اور جیم پر جزم

اِرسال: (بھیجنا) الف کے نیچے زیر

اَرْ کان: (رُکن کی جمع) الف کے اوپر زبر، ’ر‘ کے اوپر جزم

اَسْلِحَہ: الف پر زبر، س پر جزم ل کے نیچے زیر ح پر زبر ( اَس+لے+حہ)

اُسلُوب: الف پر پیش، ل پر بھی پیش

اِفاقہ: (کمی) الف کے نیچے زیر

اِفطار: الف کے نیچے زیر

اِقلیم: (ملک، سلطنت) الف کے نیچے زیر

اِقْلیدس: (جیومیٹری) الف کے نیچے زیر ق پر جزم

اِکسیر: (امرت۔ موثر دوا) الف کے نیچے زیر

آتِش: (آگ) ت کے نیچے زیر

آتِش فَشاں: (ف کے اوپر زبر)

آیَت: (نشانی) ی کے اوپر زبر

بِالمُشافَہہَ: ف کے اوپر زبر، ہ کے اوپر بھی زبر (بِل مُشا فَ ہَ)

بُحَیرہ: (چھوٹا سمندر) ب پر پیش، ح پر زبر

بَھَنَک: (آواز) بھ کے اوپر زبر اور ن کے اوپر زبر

پَچّی کاری: (کندہ کاری) پ کے اوپر زبر، چ پر تشدید

پَرَخْچے: (پُرزے) پ پر زبر، ’ر‘ پر بھی زبر اور خ پر جزم (پَرَخ+چے)

تَرْجَمَہ: ت پر زبر ج پر بھی زبر ’ر‘ پر جزم

(لیکن خیال رہے کہ ترجمہ کرنے والا مُتَرجِم ہے۔ یعنی م پر پیش ت پر زبر ج کے نیچے زیر)

اسی طرح توجہ اور متوجہ کے بارے میں نوٹ فرمائیے۔

تَوَجّہُ: ت پر زبر، و پر بھی زبر، ج پر تشدید اور پیش جو آخری ہ کے ساتھ مِل کر ’جو‘ کی مختصر شکل پیدا کرے گی۔

مُتَوَجِہّ: م پر پیش، ت پر زبر، و پر زبر، ج کے نیچےزیر اور اُو پر تشدید جو کہ آخری ہ کے ساتھ مِل کر ’جے‘ کی مختصر شکل پیدا کرے گی۔

تَوَقّعُ: ت کے اوپر زبر، و کے اوپر بھی زبر، ق پر تشدید اور پیش جو کہ آخری ع کے ساتھ مِل کر ’قو‘ کی مختصر شکل پیدا کرے گی۔

مُتَوَ قِّع: م پر پیش، ت پر زبر، و پر زبر، ق کے اوپر تشدید اور نیچے زیر جو کہ آخری ع کے ساتھ مل کر ’قے‘ کی مختصرشکل پیدا کرے گی۔

تَولِیَت: (سرپرستی) ت پر زبر، ل کے نیچے زیر’ ی‘ کے اوپر زبر (اِس لفظ میں کہیں بھی تشدید نہیں ہے)

تہلْکہ: اسکا اصل عربی تلفّظ مختلف ہے لیکن اُردو میں ل پر جزم لگاتے ہیں اور اسکا پہلا حصّہ (تہل) بر وزنِ ’محل‘ پڑھا جاتا ہے۔

ثُبُوت: ث کے اوپر پیش ہے

جِبِلّت: ج کے نیچے زیر ہے

جُرثُومہ: ج پر پیش ث پر بھی پیش، لیکن نوٹ کیجئے کہ اسکی جمع کیسے بنتی ہے۔

جَرَاثِیم: ج پر زبر، ث کے نیچے زیر

جَلا وَطَنی: (دیس نکالا) ج کے اوپر زبر، و کے اوپر بھی زبر اور ط کے اوپر بھی زبر

جَہالت: ج کے اوپر زبر

حَجْم: (جسامت) ح کے اوپر زبر ج پر جزم

جَہَنّم: ج، ہ، ن ۔ تینوں کے اوپر زبر اور ن کے اوپر تشدید بھی ہے

حَقَارت: ح کے اوپر زبر

خَسارہ: خ کے اوپر زبر

خَضْرا: (سبز ۔ مثلاً گنبدِ خضرا) خ کے اوپر زبر

دُروُد: دال کے اوپر پیش، و کے اوپر بھی پیش

دُوُم: (دوسری چیز) دال پر پیش واؤ پر بھی پیش

دِیَت: (خوں بہا) د کے نیچے زیر ’ی‘ کے اوپر زبر

ذُوالفَقار: ف کے اوپر زبر

رِضا: (اجازت) ر کے نیچے زیر

رُطُوبت: ر کے اوپر پیش

رَقَم: ر کے اوپر زبر، ق کے اوپر بھی زبر
ُ
رقُوم: ر کے اوپر پیش، ق کے اوپر بھی پیش

زِراعت: (کھیتی باڑی) ز کے نیچے زیر

زَعْم: (گھمنڈ) ز کے اوپر زبر، عین کے اوپر جزم

َزکریا: (ایک نبی کا نام) ز کے اوپر زبر
ِسیاحت: (سیر و تفریح) س کے نیچے زیر
َ
شَرف: (بڑائی، بزرگ، عزت) ش کے اوپر زبر ’ر‘ کے اوپر بھی زبر

ِشعار: (طور طریقہ) ش کے نیچے زیر

ُشمُولیت: ش اور م کے اوپر پیش

صِفْر: (زیرو) ص کے نیچے زیر، ف پر جزم

عُنصُر: (اصل جزو، ایلی مینٹ) ع کے اوپر پیش اور ص کے اوپر بھی پیش

عَنَاصِر: (عُنُصر کی جمع) ع پر زبر، ن پر زبر ص کے نیچے زیر

عُیُوب: (عیب کی جمع ۔ بُرائیاں ۔ خرابیاں) ع کے اوپر پیش ی کے اوپر بھی پیش

غَرَض: (مقصود) غ پر زبر، ر پر بھی زبر

قُماش: (طریقہ، ڈھنگ) ق کے اوپر پیش

لاحِق: (لاگو) ح کے نیچے زیر
ُ
مّتَحِد: م کے اوپر پیش، ت کے اوپر زبر اور تشدید ح کے نیچے زیر
ُ
مّتَحِدہ: (مُتْ ۔ تَ ۔ حِ دَہ ) یاد رہے کہ تشدید ت پر ہے دال پر نہیں

مُثْبَت: (منفی کی ضِد) م پر پیش، ث پر جزم، ب پر زبر

مُخَِیّر: (خیرات دینے والا، بھلائی کرنے والا) م کے اوپر پیش، خ کے اوپر زبر، ی کے نیچے زیر اور ی کے اوپر تشدید

مَرَض: م کے اوپر زبر، ر کے اوپر بھی زبر

مَسَرّت: م کے اوپر زبر، س کے اوپر زبر، ر کے اوپر زبر اور تشدید

موقِف: (اختیار کردہ راستہ) ق کے نیچے زیر ہے اور کسی حرف پر بھی تشدید نہیں ہے

مولِد: (جائے پیدائش) ل کے نیچے زیر

نُمُو: (پروان چڑھنا) ن اور م دونوں کے اوپر پیش

واپَس: پ کے اوپر زبر

وَرَم: (سوزش) و پر زبر، ر پر بھی زبر
َ
وکالت: و کے اوپر زبر

وَلَد: (بیٹا) و پر زبر، ل پر بھی زبر
َ
ہجْو: ہ پر زبر، ج پر جزم، (پروزنِ لغو / لفظ)

ہَیُولا: ہ پر زبر، ی کے اوپر پیش

اُردو میں کئ الفاظ ایسے ہیں جو تحریری شکل میں ایک جیسے دکھائی دیتے ہیں لیکن محلِ استعمال سے ان کا فرق واضح ہوتا ہے۔

مثال کے طور پر اَقدام (الف کے اوپر زبر) قدم کی جمع ہے اور اِقدام (الف کے نیچے زیر) جسکا مطلب ہے قدم اٹھانا، کام شروع کرنا وغیرہ۔ اُردو میں ایسے الفاظ کی خاصی طویل فہرست ہے۔
(بی بی سی کی ویب سائٹ سے یہاں سے لیا گیا)
 

شمشاد

لائبریرین
ایک معروف محاورہ "لکھے موسیٰ پڑھے خدا" اکثر پڑھے اور سُننے میں آتا ہے۔ جبکہ اصل محاورہ "لکھے مُو سا، پڑھے خود آ" ہے۔ مُو، جس کا مطلب بال ہے، یعنی کہ بال برابر باریک سا لکھے اور پڑھنے کے لیے بھی خود ہی آنا پڑے۔
 

شمشاد

لائبریرین

رضوان راز

محفلین
اکثر لوگ اسکول کو سکول اور اسٹیشن کو سٹیشن لکھتے اور بولتے ہیں۔ یعنی کہ ان حروف کا پہلا حرف الف استعمال ہی نہیں کرتے۔ بلکہ بہت سارے اسکولوں کے باہر بڑے بڑے واضح الفاظ میں بھی " سکول " ہی لکھا ہوتا
اسکول کو سکول لکھنے میں کیا قباحت ہے؟
کیا "الف" کا "س" سے پہلے موجود ہونا لازمی ہے؟
کیا اس کے متعلق کوئی قاعدہ موجود ہے؟
رہنمائی فرمائیے۔
 
Top