ظروف بھی توجہ مانگتے ہیں۔۔

حاتم راجپوت

لائبریرین
166678-Crockery-1377450965-511-640x480.JPG

غیر معیاری برتنوں کا چناؤ صحت کے لیے مناسب نہیں۔

برتن ایک طرف ہماری کھانے پینے کی ضروریات پوری کرتے ہیں، تو دوسری طرف یہ ہمارے دسترخوان اور باورچی خانے کی آرایش میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

اس لیے ان کا چنائو کرتے ہوئے ان کے استعمال اور دل کشی کو ملحوظ رکھا جاتا ہے، لیکن ان کے صحت پر اثرات کو بالکل نظر انداز کر دیا جاتا ہے، جو ہمارے لیے مسائل کا باعث بنتا ہے۔ بہت سے برتن دیکھنے میں بھلے معلوم ہوتے ہیں، لیکن ان کا استعمال بعض اوقات صحت کے نقطہ نگاہ سے نقصان دہ ہوتا ہے۔ یا بعض اوقات ہماری غفلت اسے ہمارے لیے خاصا مضر صحت بنا دیتی ہے۔ لہٰذا برتنوں کے انتخاب سے استعمال تک ان تمام چیزوں کا خیال رکھنا ضروری ہے۔

انسانی تہذیب میں سب سے قدیم رواج مٹی کے برتنوں کا ہے، جو ہمارے دیہاتوں میں آج تک جاری ہے اور شہروں میں بھی کچھ عرصے پہلے تک ان کا استعمال عام تھا۔ اس کے علاوہ شہروں میں دیگر کئی دھاتیں مثلاً تانبہ، لوہا، پیتل، ایلمونیم، پلاسٹک، چینی، شیشہ، تام چینی، نان اسٹک اور اسٹیل وغیرہ کے برتنوں کا استعمال زیادہ ہونے لگا۔

تانبے کے برتن میں اگرچہ حرارت جلدی پھیلنے کے باعث کھانا دوسری دھاتوںکی نسبت جلدی پک جاتا ہے، لیکن ماہرین کے مطابق تانبے کے برتنوں کا استعمال صحت کے لیے مُضر ہے۔ اسی لیے ایسے برتن استعمال کرتے ہوئے ان پر قلعی چڑھا دی جاتی ہے، جس سے اس کے مضر اثرات کافی حد تک کم ہوجاتے ہیں۔ اسی طرح پیتل کے برتنوں کے مضر اثرات سے بچنے کے لیے بھی قلعی کا سہارا لیا جاتا ہے۔

ایلمونیم کے برتن سستے ہونے کی بنا پر زیادہ استعمال کیے جاتے ہیں۔ ایلمونیم بھی ایک ایسی دھات ہے، جو بعض اوقات انسانی صحت پر مُضر اثرات مرتب کرتی ہے، اس لیے چولہے پر اس برتن کا استعمال کم سے کم کرنا چاہیے۔ المونیم سے بنے برتنوں میں اکثر چمک دمک ماند ہو جاتی ہے۔ ایسی صورت میں دو کھانے کے چمچ کریم آف ٹارٹر ایک لیٹر پانی کے ساتھ برتن میں ڈال کر ابال لیں۔

لوہے کے برتنوں کا عمومی استعمال تو اس کے زنگ کی وجہ سے بہت کم ہے۔ تاہم توے، کڑھائی اور فرائنگ پین کی صورت میں یہ ہمارے باورچی خانوں کی زینت ہیں۔ ان برتنوں کے استعمال کے دوران اس بات کا خاص خیال رکھنا چاہیے کہ ان پر زنگ موجود نہ ہو۔ اس لیے اسے دھونے کے بعد اچھی طرح خشک کر لینا بہتر ہے۔ اس ہی طرح لوہے کے زنگ آلود چمچ، چھُری اور کانٹے وغیرہ بھی نہیں استعمال کرنے چاہئیں۔ تام چینی کے برتن بھی بنیادی طورپر لوہے کے ہی بنے ہوتے ہیں اور ان پر پورسلین کی تہہ چڑھائی جاتی ہے۔ یہ برتن نسبتاً بہتر ہوتے ہیں، کیوں کہ یہ حرارت کو بہت اچھی طرح سے جذب کرتے ہیں۔ اگر ان برتنوں کو ٹھیس لگتی ہے، تو ان کا اوپری روغن اتر جاتا ہے۔ جس کے باعث یہ بہت بدنما لگتے ہیں۔ اس لیے ان برتنوں کو احتیاط سے استعمال کرنا چاہیے۔ تام چینی کے برتن صاف کرنے کے لیے آدھے گھنٹے کے لیے صابن ملے گرم پانی میں بھگو دیں، پھر نمک اور بیکنگ سوڈا ملاکر مانجھ لیں، چمک جائیں گے۔

crockery.jpg

اسی طرح نان اسٹک کے برتنوں کے حوالے سے تحفظ ماحول کے امریکی ادارے ENVIRONMENTAL PROTECTION AGENCY (انوائرنمنٹل پروٹیکشن ایجنسی) کا کہنا ہے کہ حرارت ملنے پر ان برتنوں سے خطرناک کیمیائی مادہ خارج ہوتا ہے۔ یہ مادہ اگرچہ نان اسٹک برتنوں کی تیاری کے وقت اس لیے شامل کیا جاتا ہے، تاکہ کھانا اس میں چپکے نہیں۔ اس لیے اگر گھر میں ایسے برتن ہوں تو ان میں گرم چیزیں استعمال کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔

لوہے، نکل اور دیگر دھاتوں کی مدد سے اسٹین لیس اسٹیل تیار کیا جاتا ہے۔ ان کی خاصیت یہ ہوتی ہے کہ یہ برتن بہت جلد گرم ہو جاتے ہیں، لیکن جب حرارت یکساں نہیں پھیلتی تو ہنڈیا لگنے اور جلنے کا اندیشہ ہوتا ہے۔ اس مسئلے کو دور کرنے کے لیے ان برتنوں میں ایلومونیم یا تانبے کی تہہ لگائی جاتی ہے۔ جس سے کافی حد تک کھانا محفوظ رہتا ہے۔ جلی ہوئی پتیلی یا دیگچی میں مٹھی بھر نمک اور پانی ڈال کر تین چار گھنٹے کے لیے چھوڑ دیں، پھر نمک اور پاؤڈر ملا کر صاف کر لیں۔ اگر برتن زیادہ جلا ہوا ہو تو نمک ڈال کر آٹھ سے دس گھنٹے کے لیے بھی چھوڑا جا سکتا ہے۔ اس سے جلی ہوئی تہہ اتارنے میں آسانی ہوگی۔

پلاسٹک کے برتن سستے، ہلکے پھلکے اور دیدہ زیب بھی ہوتے ہیں۔ آج کل ان کا استعمال فریج اور اوون وغیرہ میں زیادہ کیا جاتا ہے۔ اوون میں استعمال کرنا یہ ان برتنوں میں گرم چیز رکھنے سے گریز کرنا چاہیے کیوں کہ اس طرح اس میں موجود ایک اہم مادہ (DIOXIN) ڈائی اوکسن سرطان جیسے موذی مرض کا باعث بھی بن سکتا ہے۔ اس طرح پلاسٹک کی تھیلیاں بھی حرارت پاتے ہی اس میں رکھی گئی چیز کے لیے نہایت خطرناک ہو جاتی ہیں۔

پلاسٹک کے برتنوں سے اگر دھبے صاف نہ ہو رہے ہوں توان پر ذرا سا نمک اور سرکہ ملا کر رگڑنے سے صاف ہو جائیں گے۔ پلاسٹک کے برتنوں کی پیلاہٹ دور کرنے کے لیے ان پر میٹھا سوڈا لگا کر ایک گھنٹے کے لیے پلاسٹک کی تھیلی میں بند کر دیں، پھر لیموں اور سرکے سے اچھی طرح دھو لیں۔

اس کے علاوہ شیشے اور چینی کے خوب صورت برتن بھی تقریباً ہر گھر کی زینت ہوتے ہیں۔ انہیں کھانے پکانے وغیرہ میں تو استعمال نہیں کیا جاتا، البتہ رکابی یا پلیٹ کے طور پر ان کا استعمال عام ہے۔ بالخصوص چائے یا کافی اور دیگر مشروبات کی پیالیاں یا گلاس شیشے یا چینی کے ہی ہوتی ہیں۔ ان کے استعمال میں اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ یہ چٹخے ہوئے نہ ہوں۔ کثرت استعمال کے دوران شیشے یا چینی کے جن برتنوں میں بال پڑ جائے تو ان کا استعمال ترک کر دینا چاہیے، کیوں کہ پھر برتن صحیح طرح دھل نہیں پاتے اور چٹخی ہوئی جگہ جراثیموں کی آماجگاہ بن جاتی ہے۔

شیشے کے برتن اگر چمک نہ رہے ہوں تو خاصے بدنما سے لگتے ہیں۔ ان کو چمکانے کے لیے سرکہ اور واشنگ پاؤڈر ملے پانی میں بھگونے کے بعد کسی نرم برش سے صاف کر لیں۔ چینی کی پیالیوں سے کافی کے دھبے دور کرنے کے لیے ہلکے سے نم کپڑے میں میٹھا سوڈا لگاکر صاف کریں۔

ربط۔
 

فرحت کیانی

لائبریرین
شکریہ عمر سیف۔ بہت معلوماتی تحریر ہے۔ برتنوں کے استعمال میں خیال رکھنا بہت ضروری ہے کہ بعض اقسام واقعی مضر صحت ہوتی ہیں۔ جیسے نان سٹک برتن عموماً خواتین کی پہلی ترجیح ہوتے ہوں کیونکہ ان میں کھانا پکانا آسان اس لحاظ سے بھی ہوتا ہے کہ جلنے کے امکانات کم ہوتے ہیں اور ان کی صفائی بھی آسان ہوتی ہے لیکن اب اس بارے میں بھی کافی ایسی چیزیں سامنے آئی ہیں جو صحت کے لئے نقصان دہ ہوتی ہیں۔
ٹوٹے یا چٹخے ہوئے برتنوں کا استعمال ترک کر دینا شاید سنت نبوی (ص) بھی ہے۔
 

شمشاد

لائبریرین
شکریہ عمر سیف۔ بہت معلوماتی تحریر ہے۔ برتنوں کے استعمال میں خیال رکھنا بہت ضروری ہے کہ بعض اقسام واقعی مضر صحت ہوتی ہیں۔ جیسے نان سٹک برتن عموماً خواتین کی پہلی ترجیح ہوتے ہوں کیونکہ ان میں کھانا پکانا آسان اس لحاظ سے بھی ہوتا ہے کہ جلنے کے امکانات کم ہوتے ہیں اور ان کی صفائی بھی آسان ہوتی ہے لیکن اب اس بارے میں بھی کافی ایسی چیزیں سامنے آئی ہیں جو صحت کے لئے نقصان دہ ہوتی ہیں۔
ٹوٹے یا چٹخے ہوئے برتنوں کا استعمال ترک کر دینا شاید سنت نبوی (ص) بھی ہے۔
لیکن مندرجہ بالا مراسلہ تو حاتم راجپوت کا ہے۔ اور لگتا ہے یہ ان کے ذاتی تجربات بھی ہیں۔
ماشاء اللہ کافی سگھڑ لگتے ہیں۔
 

حاتم راجپوت

لائبریرین
لیکن مندرجہ بالا مراسلہ تو حاتم راجپوت کا ہے۔ اور لگتا ہے یہ ان کے ذاتی تجربات بھی ہیں۔
ماشاء اللہ کافی سگھڑ لگتے ہیں۔
جی جی بالکل۔۔۔ :) آج سے چھ سات سال پہلے امی میرے سگھڑاپے کی مثالیں دیا کرتی تھی،،، لیکن پھر کچھ یوں ہوا کہ ۔۔۔۔















میں جوان ہو گیا۔۔۔;)
اور اب مجھے گھر میں سب سے بڑا پھوہڑ کہا جاتا ہے۔۔ :p
 

شمشاد

لائبریرین
جی جی بالکل۔۔۔ :) آج سے چھ سات سال پہلے امی میرے سگھڑاپے کی مثالیں دیا کرتی تھی،،، لیکن پھر کچھ یوں ہوا کہ ۔۔۔ ۔















میں جوان ہو گیا۔۔۔ ;)
اور اب مجھے گھر میں سب سے بڑا پھوہڑ کہا جاتا ہے۔۔ :p
دل چھوٹا نہ کریں۔ "آنے والی" آپ کو سگھڑ ہی پائے گی۔
 
Top