طیبہ پہ شاعری فدا​
نُطق فدا ، قلم فدا ، ذہن فدا ، زباں فدا​
طیبہ پہ شاعری فدا ، سارے سخن وَراں فدا​
آپ گئے ہیں عرش پر ، آپ پہ شش جہاں فدا​
آپ کا دیکھ کے قرب ِرب، ہوتی ہیں دُوریاں فدا​
نور کی بھیک لیتے ہیں ، انجم و مہر و ماہ سب​
حُسن پہ آقا آپ کے ، کیوں نہ ہو آسماں فدا​
رنگ کا رنگ اُن سے ہے ، اُن سے ہی نکہتِ شمیم​
گل نہیں غنچہ ہی نہیں اُن پر ہے گلستاں فدا​
کلمۂ طیّبہ پڑھا ، بوجہل نے بھی سُن لیا​
آقا کے نطق پر نہ کیوں ہوں سنگِ بے زباں فدا​
انگشت سے ہوا رواں ، چشمۂ آب بے گماں​
آقا کی انگلیوں پہ ہیں ، دنیا کی ندّیاں فدا​
میری مراد ہے وہی ، میرا سکونِ دل وہیں​
جاوں گا طیبہ ہی کو میں ، طیبہ پہ ہے جناں فدا​
لاے مُشاہدؔ اور کیا ، آپ کی نذر کرنے کو​
اِس کا کلام ہو فدا اِس کی خموشیاں فدا​
٭​
 

مہ جبین

محفلین
نور کی بھیک لیتے ہیں ، انجم و مہر و ماہ سب
حُسن پہ آقا آپ کے ، کیوں نہ ہو آسماں فدا
رنگ کا رنگ اُن سے ہے ، اُن سے ہی نکہتِ شمیم
گل نہیں غنچہ ہی نہیں اُن پر ہے گلستاں فدا
سبحان اللہ
عمدہ کلام
جزاک اللہ
 

سید زبیر

محفلین
سبحان اللہ
لاے مُشاہدؔ اور کیا ، آپ کی نذر کرنے کو
اِس کا کلام ہو فدا اِس کی خموشیاں فدا
جزاک اللہ
 

آبی ٹوکول

محفلین
آپ گئے ہیں عرش پر ، آپ پہ شش جہاں فدا
آپ کا دیکھ کے قرب ِرب، ہوتی ہیں دُوریاں فدا
رنگ کا رنگ اُن سے ہے ، اُن سے ہی نکہتِ شمیم
گل نہیں غنچہ ہی نہیں اُن پر ہے گلستاں فدا
کلمۂ طیّبہ پڑھا ، بوجہل نے بھی سُن لیا
آقا کے نطق پر نہ کیوں ہوں سنگِ بے زباں فدا
انگشت سے ہوا رواں ، چشمۂ آب بے گماں
آقا کی انگلیوں پہ ہیں ، دنیا کی ندّیاں فدا
کیا کہنے ہیں بھئی واہ واہ سبحان اللہ
 
Top