طبیعت آج پھر گھبرا رہی ہے

الف عین

لائبریرین
نہیں بات نہیں بنی۔۔
عجب قانونی زنجیروں میں جکڑی
یہ کیا آزادی لائی جا رہی ہے
میں کیا وہی مطلب ادا ہو جاتا ہے؟
 

سید ذیشان

محفلین
اسی پر ایک اور کوشش:

یہ حریت روایت کے رسن میں
خِراماں میری جانب آ رہی ہے

یا

ہے حریت روایت کے رسن میں
سنہرے خواب کیوں دکھلا رہی ہے
 
ن

نامعلوم اول

مہمان
واقعی؟
اسکا وزن ہے:
مفاعیلن مفاعیلن فعولن
ی حر ری یت ر وا یت کے ر سن می
میں کہیں غلطی کر رہا ہوں اس میں؟

یہ تو فلسفیانہ بحث چھڑ گئی۔ میرے نزدیک دوسری تشدید نہایت ثقیل اور اردو شاعری (اور زبان)کے لحاظ سے ہرگز قابلِ قبول نہیں۔ میں نے آج تک کسی اہلِ زبان کو ایسے "جھٹکے" لے کر یہ لفظ ادا کرتے نہیں سنا۔ ڈکشنری کی اور بات ہے۔ ڈکشنری ہمیشہ اپنے عصر سے ایک قدم پیچھے رہتی ہے۔ یاد رہے کہ عربی زبان اور شاعری ،نغمگی اور روانگی میں اردو سے کہیں پیچھے ہیں۔ اور اس کا ایک بڑا سبب عربی زبان کی ثقالت ہے۔ اردو شاعری خالص عربی لہجے کی اندھی تقلید کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ اگر "ح ر ر یت" منظور نہیں تو پھر شعر میں اس لفظ سے اجتناب ہی بہتر ہو گا۔ خصوصًایہاں تو معنی بھی واضح نہیں ہو پا رہا۔ مزید یہ کہ دوسرا مصرعہ بہت رواں اور "اُردوانہ" ہے۔ دوسرے مصرعے کا حق بنتا ہے کہ اسے اپنی ٹکر کا پہلا مصرعہ ملے۔ تو میری طرف ایک بار پھر: نہیں میں قائل نہیں ہوا۔ شعر میں اگر شعریت ہی نہ بچی تو پھر کاہے کا شعر!
 

حسان خان

لائبریرین
میرے نزدیک دوسری تشدید نہایت ثقیل اور اردو شاعری (اور زبان)کے لحاظ سے ہرگز قابلِ قبول نہیں۔ میں نے آج تک کسی اہلِ زبان کو ایسے "جھٹکے" لے کر یہ لفظ ادا کرتے نہیں سنا۔

محترم کاشف صاحب، یہ آپ کس لفظ کی بابت فرما رہے ہیں؟ اور ذرا اس اصول کو تھوڑا اور واضح کیجئے، کیونکہ میں ٹھیک سے سمجھ نہیں پایا ہوں۔
 
ن

نامعلوم اول

مہمان
محترم کاشف صاحب، یہ آپ کس لفظ کی بابت فرما رہے ہیں؟ اور ذرا اس اصول کو تھوڑا اور واضح کیجئے، کیونکہ میں ٹھیک سے سمجھ نہیں پایا ہوں۔
میں نے بیچ میں لکھا ہے:
اگر "ح ر ر یت" منظور نہیں تو پھر شعر میں اس لفظ سے اجتناب ہی بہتر ہو گا
تو موضوع اس شعر میں لفظ "حریت" کا استعمال ہے۔ بات دلچسپ ہو گئی ہے۔ اساتذہ سے گذارش کروں گا کہ وہ بھی اپنی رائے سے نوازیں۔
 

سید ذیشان

محفلین
یہ تو فلسفیانہ بحث چھڑ گئی۔ میرے نزدیک دوسری تشدید نہایت ثقیل اور اردو شاعری (اور زبان)کے لحاظ سے ہرگز قابلِ قبول نہیں۔ میں نے آج تک کسی اہلِ زبان کو ایسے "جھٹکے" لے کر یہ لفظ ادا کرتے نہیں سنا۔ ڈکشنری کی اور بات ہے۔ ڈکشنری ہمیشہ اپنے عصر سے ایک قدم پیچھے رہتی ہے۔ یاد رہے کہ عربی زبان اور شاعری ،نغمگی اور روانگی میں اردو سے کہیں پیچھے ہیں۔ اور اس کا ایک بڑا سبب عربی زبان کی ثقالت ہے۔ اردو شاعری خالص عربی لہجے کی اندھی تقلید کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ اگر "ح ر ر یت" منظور نہیں تو پھر شعر میں اس لفظ سے اجتناب ہی بہتر ہو گا۔ خصوصًایہاں تو معنی بھی واضح نہیں ہو پا رہا۔ مزید یہ کہ دوسرا مصرعہ بہت رواں اور "اُردوانہ" ہے۔ دوسرے مصرعے کا حق بنتا ہے کہ اسے اپنی ٹکر کا پہلا مصرعہ ملے۔ تو میری طرف ایک بار پھر: نہیں میں قائل نہیں ہوا۔ شعر میں اگر شعریت ہی نہ بچی تو پھر کاہے کا شعر!

آپ کی رائے کے لئے نہایت مشکور ہوں :) ویسے اگر اس کی کوئی مثال پیش کردیں تو ممنون ہونگا۔ اور ویسے بھی "حریت" کو "آزادی" سے تبدیل کیا جا سکتا ہے تو یہ کوئی اتنا بڑا مسئلہ نہیں ہے۔ :)

معنویت کے بارے میں تو استادِ محترم اعجاز عبید صاحب ہی مزید فرما سکیں گے۔ میرے خیال میں تو مضمون ادا ہو رہا ہے۔ اگر پہلے مصرعے کے الفاظ کو آگے پیچھے کر کے دیکھیں تو :"حریت، روایت کے رسن میں ہے" بنے گا۔ مقید کا لفظ استعمال نہیں کیا گیا لیکن رسن میں ہونا مقید ہونے پر دلیل ہے۔
 
قسم سے میری خود کی بھی طبعیت آج گھبرا رہی ہے کل جو بھاگ دوڑ کی تھی شاید اس کی وجہ سے گردن کی پچھلے طرف درد بھی ہے :rolleyes:
اتفاق سے میرے گردن کے پچھلے حصے میں بھی درد ہے آج درد ہے ۔اور کلاس میں دونوں ٹائم آج مووی ہی دکھایا گیا مستقل گردن اٹھا کر دیکھتے دیکھتے اور درد ہوگئی کل جائوں گا فیزیوتھرپسٹ کے پاس۔
 
ن

نامعلوم اول

مہمان
ایک اور کوشش (معنی واضح کرنے کے لئے :))

خود آزادی روایت میں ہے جکڑی
سنہرے خواب کیوں دکھلا رہی ہے
مطلب تو واضح ہو گیا۔ شعریت کا فیصلہ میں آپ اور اساتذہ گرامی پر چھوڑتا ہوں۔

آپ کی رائے کے لئے نہایت مشکور ہوں :) ویسے اگر اس کی کوئی مثال پیش کردیں تو ممنون ہونگا

جیسا کہ ابتدا ہی میں ذکر کیا تھا کہ یہ (سراسر) میری ذاتی رائے ہے۔ لہٰذا مثال کے باب میں معذرت خواہ ہوں۔ آج سے کم و بیش پندرہ برس قبل میرے ایک استاد نے جو ہمیں عربی علمِ صرف پڑھاتے تھے بتایا تھا کہ ایک عربی محاورے کے مطابق مولوی اور صَرفی (علمِ صرف کا ماہر) کبھی اچھا شعر نہیں کہہ سکتے۔ میں خود بھی اس بات کا مشاہدہ کر چکا تھا۔ میں نے اس کے اسباب و علل پر غور کیا اور اس نتیجہ پر پہنچا کہ دراصل وہ لوگ اکثر شعریت کو باطن نہیں بلکہ خارج میں تلاش کرتے ہیں لہٰذا نامراد رہتے ہیں۔ وہ دن اور آج کا دن میں شعریت کی تلاش تقطیع دانوں اور زبان و بیا ن کے علماء کی کتابوں کی بجائے امامانِ شعر و سخن کے کلام میں کرتا ہوں۔ جو شعر کیٹس 20 برس کی عمر میں کہہ گیا عظیم انگریزی دان ڈاکٹر جانسن ہزار برس کی عمر میں بھی نہ کہہ پاتا۔

اگر کسی کو میری یہ بحث بے جا لگی ہو تو معذرت چاہتا ہوں۔ میرا مقصد صرف اپنے اور اپنے ساتھیوں کے کلام میں "شعریت" دیکھنا مقصود ہے۔ ایک مرتبہ پھر اہلِ علم اور اساتذہ سے گذارش ہے کہ رہنما ئی فرمائیں۔ خصوصًا جنا ب الف عین اور دیگر سینیئر صاحبان۔
 

سید ذیشان

محفلین
مطلب تو واضح ہو گیا۔ شعریت کا فیصلہ میں آپ اور اساتذہ گرامی پر چھوڑتا ہوں۔



جیسا کہ ابتدا ہی میں ذکر کیا تھا کہ یہ (سراسر) میری ذاتی رائے ہے۔ لہٰذا مثال کے باب میں معذرت خواہ ہوں۔ آج سے کم و بیش پندرہ برس قبل میرے ایک استاد نے جو ہمیں عربی علمِ صرف پڑھاتے تھے بتایا تھا کہ ایک عربی محاورے کے مطابق مولوی اور صَرفی (علمِ صرف کا ماہر) کبھی اچھا شعر نہیں کہہ سکتے۔ میں خود بھی اس بات کا مشاہدہ کر چکا تھا۔ میں نے اس کے اسباب و علل پر غور کیا اور اس نتیجہ پر پہنچا کہ دراصل وہ لوگ اکثر شعریت کو باطن نہیں بلکہ خارج میں تلاش کرتے ہیں لہٰذا نامراد رہتے ہیں۔ وہ دن اور آج کا دن میں شعریت کی تلاش تقطیع دانوں اور زبان و بیا ن کے علماء کی کتابوں کی بجائے امامانِ شعر و سخن کے کلام میں کرتا ہوں۔ جو شعر کیٹس 20 برس کی عمر میں کہہ گیا عظیم انگریزی دان ڈاکٹر جانسن ہزار برس کی عمر میں بھی نہ کہہ پاتا۔

اگر کسی کو میری یہ بحث بے جا لگی ہو تو معذرت چاہتا ہوں۔ میرا مقصد صرف اپنے اور اپنے ساتھیوں کے کلام میں "شعریت" دیکھنا مقصود ہے۔ ایک مرتبہ پھر اہلِ علم اور اساتذہ سے گذارش ہے کہ رہنما ئی فرمائیں۔ خصوصًا جنا ب الف عین اور دیگر سینیئر صاحبان۔


جی بہت مفید بحث کا آغاز کیا ہے۔ مجھے تو شاعری کا کچھ زیادہ علم نہیں ہے۔ اساتذہ کو ٹیگ کر رہا ہوں۔ کہ وہ کیا رائے دیتے ہیں۔ الف عین صاحب، محمد یعقوب آسی صاحب، محمد وارث صاحب، فاتح صاحب
 
Top