طبع زاد اشعار کی بیت بازی

ناروا ظلم سے چلتی ہے خکومت پھر بھی
لاتا ہے تباہی مگر انصاف کا فقدان

اصلاح کیجیے۔۔۔اور مزید تشریح درکارہے اس کی۔۔۔
آپ کا پہلا مصرع اس بحر میں ہے
فاعلاتن فعلاتن فعلاتن فعلن
اور دوسرا مصرع اس بحر میں ہے
مفعول مفاعیل مفاعیل فعولن

کسی ایک مصرع کو تبدیل کر لیجیے
 
ناروا ظلم سے چلتی ہے حکومت پھر بھی
وہ پھل نہیں سکتی جو ہو انصاف کا فقدان

؟
مصرع کو بحر کے ارکان کے مطابق توڑ کر تولا کیجیے
جیسے
فاعلاتن = ناروا ظل
فعلاتن = م سِ چلتی
فعلاتن = ہِ حکومت
فعلن = پھر بھی

اب دوسرا مصرع اس کے مطابق ہی ہونا چاہیے۔ جو موجودہ صورت میں بھی نہیں ہے۔
 
اچھا اتنا اور بتا دیں کچھ لائن یعنی ڈگر سیٹ ہوئی کچھ بہتری کی جانب ہوں پہلے کی نسبت۔۔؟
نیا مصرع بھی پرانے مصرع والی بحر پر ہی ہے۔
دوسری بات یہ کہ شعر کا مفہوم مبہم نہ ہو، واضح ہو اور بات مکمل ہو رہی ہو۔

اسے جانچنے کا طریقہ یہ ہے کہ شعر کو نثر کی صورت میں پڑھ کر دیکھیں کہ کیا بات درست طریقہ سے مکمل ہو رہی ہے؟
 

اکمل زیدی

محفلین
نیا مصرع بھی پرانے مصرع والی بحر پر ہی ہے۔
دوسری بات یہ کہ شعر کا مفہوم مبہم نہ ہو، واضح ہو اور بات مکمل ہو رہی ہو۔

اسے جانچنے کا طریقہ یہ ہے کہ شعر کو نثر کی صورت میں پڑھ کر دیکھیں کہ کیا بات درست طریقہ سے مکمل ہو رہی ہے؟
بہتر یہ تو سمجھ آگئی ۔۔۔مگر ابھی میں نے۔۔مجموعی طور پر پوچھا تھا اب تک کی طبع کاریوں پر۔۔۔:)
 
بہتر یہ تو سمجھ آگئی ۔۔۔مگر ابھی میں نے۔۔مجموعی طور پر پوچھا تھا اب تک کی طبع کاریوں پر۔۔۔:)
سطح مرتفع پوٹھوہار کی طرح ہے۔ :)
کہیں لگتا ہے کہ کافی بہتری آ گئی ہے، مگر اگلے ہی شعر میں بات کہیں اور پہنچ جاتی ہے۔ مزید رولر پھیرنے کی ضرورت ہے۔ :)
 
Top