طاہر القادری سپریم کورٹ میں

ن

نامعلوم اول

مہمان
الیکشن کمیشن کا خون خرابے سے کیا تعلق ہے؟
جہاں کہیں بھی خون بہہ رہا ہے بہت برا ہو رہا ہے۔ اگر قادری صاحب کا بد نیت ثابت ہونا خون خرابہ رکوا سکے تو سودا برا نہیں۔مگر یاد رہے کہ الیکشن کمیشن کے ایک غلط فیصلے سے ملک کی جڑیں ہل سکتی ہیں اور حالات بجائے سدھرنے کے بگڑ سکتے ہیں۔ جو ادراہ وقت سے پہلے ہی اتنا متنازعہ ہو چکا ہو کیا وہ تمام فریقوں کو مطمئن کر سکے گا؟ قادری صاحب غیر ملکی سہی، مگر کیا ان کے لاکھوں پاکستانی ہمدرد بھی غیر ملکی ہیں؟ ہم انھیں سادہ لوح اور بے وقوف سمجھ کر خود کو تو مطمئن کر سکتے ہیں مگر انھیں نہیں۔ ایک ایسا معاشرہ جہاں اکثریتی رائے رکھنے والا طبقہ اقلیتی رائے والے طبقے کو محض غلط کہہ کر مرکزی دائرے سے خارج کر دے، کیا وہ پر سکون رہ سکتا ہے؟ اگر ایک بڑی اقلیت نے الیکشن کے نتائج کو ماننے سے انکار کر دیا تو کیا ہو گا؟

میری ناقص رائے میں بعد کے پچھتاوے کی نسبت آج کی پیش بندی اصل حل ہے۔ تمام چھوٹے بڑے فریقوں کی رضا مندی از حد ضروری ہے۔ یہ بھی یاد رہے کہ الیکشن کمیشن میں نیچے کے عملے کے حالات نہایت پتلے ہیں۔ نا جائز بھرتیوں اور ترقیوں نے تمام سیٹ اپ کا ستیا ناس مارا ہوا ہے۔ میری آپ سب سے گزارش ہے کہ اپنے اپنے حلقہءِ احباب میں شامل کسی الیکشن کمیشن کے ملازم سے بات کر کے دیکھیں ۔ چودہ طبق روشن ہو جائیں گے۔ ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ۔

اور آخر میں: ہر چہ دانا کند ، کند ناداں۔لیک بعد از خرابیِ بسیار۔ (آخر میں بیوقوف بھی وہی کرتا ہےجو عقلملند نے شروع ہی میں کیا ہو، مگر اس دوران وہ بہت نقصان اٹھا چکا ہوتا ہے)
 
آپ کی بات میں کافی وزن ہے لیکن ججز کے ریمارکس سے بہت کچھ اندازہ ہو جاتا ہے ۔۔۔ قادری صاحب کو عدالت میں سیاسی حوالے سے "سزائے موت" سنا دی گئی ہے ۔۔۔
اصل مسلئہ میڈیا کی کوریج ہے اگر واقعی عدالت کی کاروائی کے دوران استعمال کی گئی زبان میڈیا من و عن عوام تک پہنچا رہا ہے تو میری زاتی رائے ہے عدالت نے کچھ سخت ریمارکس دئیے ہیں اور کچھ سخت سوالات بھی کئے ہیں۔۔۔
 
ن

نامعلوم اول

مہمان
میرے بھائی آپ نے پھر وہ الفاظ کیوں استعمال کیئے کہ دنیا کہ کس قانون میں تو یہ ممالک بھی تو اسی دنیا کا حصہ ہیں ۔
خدا کے بندے میرے دماغ کا دہی بنا دیا۔ کسی وکیل سے رابطہ کرو۔یا آئین کی کسی کتاب کا مطالعہ! خوش رہو! میں باز آیا!
 
ش

شہزاد احمد

مہمان
الیکشن کمیشن کے ایک غلط فیصلے سے ملک کی جڑیں ہل سکتی ہیں اور حالات بجائے سدھرنے کے بگڑ سکتے ہیں۔ جو ادراہ وقت سے پہلے ہی اتنا متنازعہ ہو چکا ہو کیا وہ تمام فریقوں کو مطمئن کر سکے گا؟
جس طرح کا الیکشن کمیشن بن چکا ہے، اس کو بھی غنیمت جانیے حضورِ والا! پاکستان میں ابھی کسی بہت بڑی تبدیلی کے کوئی آثار نہیں نظر آ رہے ۔۔۔ اب بھی روایتی سیاست دانوں کو ہی ووٹ پڑیں گے اور وہی جیت کر سامنے آئیں گے ۔۔۔ بہتر یہی ہو گا کہ سماج سدھار کے کاموں پر توجہ زیادہ دی جائے ۔۔۔ یک دم کچھ نہیں ہو سکتا ۔۔۔ دس پندرہ سال لگ جائیں گے ۔۔۔
 
ن

نامعلوم اول

مہمان
اس لفظ کا مطلب بتا دیجئے کاشف صاحب
ناچیز کی معلومات میں مزید اضافہ ہو جائے۔۔
کیونکہ یہ عربی فارسی کے علاوہ ہی کچھ ہے
شیزان صاحب، اس لفظ کو "سیلیکٹ"کر کے رائٹ کلک کریں۔ محفل فورم خود ہی مطلب بتا دے گا! ویسے اس کا مطلب ہے "پیدائش کا مقام"۔
 
ن

نامعلوم اول

مہمان
جس طرح کا الیکشن کمیشن بن چکا ہے، اس کو بھی غنیمت جانیے حضورِ والا! پاکستان میں ابھی کسی بہت بڑی تبدیلی کے کوئی آثار نہیں نظر آ رہے ۔۔۔ اب بھی روایتی سیاست دانوں کو ہی ووٹ پڑیں گے اور وہی جیت کر سامنے آئیں گے ۔۔۔ بہتر یہی ہو گا کہ سماج سدھار کے کاموں پر توجہ زیادہ دی جائے ۔۔۔ یک دم کچھ نہیں ہو سکتا ۔۔۔ دس پندرہ سال لگ جائیں گے ۔۔۔
کاش ایسا ہو سکتا۔ مگر دائرے میں سفر کرنے سے بھی کبھی منزل ملتی ہے؟
 
قادری صاحب کے ساتھ کیا زیادتی ہوئی ہے؟ انکا استحقاق کسطرح مجروح ہوا ہے؟ وہ آخر الیکشن کمیشن کی تحلیل کیوں چاہتے ہیں؟ اور کس حیثیت سے چاہتے ہیں؟ اور انکا اس تحلیل میں کیا مفاد ہے؟ یہیں تو پوچھنا چاہا ہے عدالت نے یعنی حقِ دعویٰ ہے قادری صاحب کے پاس۔۔۔ ان بنیادی سوالوں کا جواب دینے کے بجائے قادری صاحب نے زیر تصفیہ مسلئہ یعنی دہری شہریت میں عدالت کو الجھانے کی کوشش کی جس میں آخر وہ خود الجھ گئے۔۔۔
جہاں کہیں میرٹ کی خلاف ورزی ہوتی ہے، تو پاکستان کے ہر شہری کا استحقاق مجروح ہوتا ہے ۔ حضرت عمر کی مثال سب کے سامنے ہے کہ ایک شخص کو محض اس بات پر اپنا استحقاق مجروح ہوتا نظر آیا کہ خلیفہ وقت کوخلافِ قاعدہ ایک کی بجائے دو چادریں کیوں دی گئیں، چنانچہ حضرت عمر نے اسکی اس پٹیشن کو یہ کہہ کر خارج نہیں کیا کہ تمہیں کیا تکلیف ہے۔۔۔جب آئین سب کیلئے ہے تو جب بھی آئین کی خلاف ورزی ہوگی، تو ہر اس شخص کا استحقاق مجروح ہوگا جس پر اس آئین کا اطلاق اور نفاذ کیا جاتا ہے۔۔۔
 

قیصرانی

لائبریرین
اٹارنی جنرل نے درست کہا کہ کسی کی نیت کا نیک ہونا یا بد ہونا اس سے ثابت نہیں ہوتا۔اسکو کہتے ہیں objective aproachاور critical thinking۔۔۔ ۔
جی بالکل۔ جب قادری حکومت کی بی ٹیم بنے گا تو جوتے تو پڑیں گے ہی (جوتوں کے پاس رکھے بیگ سے قرآن پاک نکالنے والے کے لئے میرے دل میں ہرگز کوئی اچھا جذبہ نہیں)

پسِ نوشت: تمام سیاست دانوں بشمول شریف برادران اور زرداری قبیلہ اور قادری، میرے لئے فرد واحد ہیں اور ان میں سے کسی کے لئے بھی میں صاحب کا لفظ استعمال نہیں کرنا چاہتا۔ یہی اصول پرویز مشرف کے لئے بھی ہے۔ اگر کسی کو تکلیف ہو تو بے شک کسی بھی سیاست دان کے بارے اپنے خیالاتِ عالیہ کا اظہار کر سکتے ہیں
 
ش

شہزاد احمد

مہمان
کاش ایسا ہو سکتا۔ مگر دائرے میں سفر کرنے سے بھی کبھی منزل ملتی ہے؟
منزل نہیں ملتی ۔۔۔ لیکن منزل کی تلاش ہے کس کو؟ جو قوم اپنی منزل کا تعین کر لے، اسے کون روک سکتا ہے بھائی ۔۔۔ ہاں، آپ کی یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ دائروں کا سفر ہمیں کہیں لے کر نہیں جائے گا ۔۔۔
ایک شعر آپ کی نذر
کٹتے رہے سب فاصلے کچھ دائروں کے درمیاں
درپیش تھا پرکار کو ۔۔۔۔بس اک نقطے کا سفر

نوٹ: شعر وزن میں ہے یا نہیں، اس کی کوئی گارنٹی نہیں ۔۔۔
 
ن

نامعلوم اول

مہمان
اب ججز نے انکو کہہ دیا ہے کہ ۔۔" ہُن آرام ایہہ؟؟"۔۔۔ :p :D
میں نے کہا کہ بزمِ ناز، غیر سے چاہئیے تہی
سن کے ستم ظریف نے مجھ کو اٹھا دیا کہ یوں
:)
ججز کا کام طعنہ زنی نہیں۔ انصاف دینا ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ اگر "" ہُن آرام ایہہ؟؟" کا جواب پاکستان کی ایک بڑی اقلیت نے "نہ" کی شکل میں دیا تو کیا غالب اکثریت بھی آرام سے رہ سکے گی؟ کیا ہم فقط "ایک غیر ملکی کی توہین" سے ان لاکھوں پاکستانیوں کو ملکی دھارے میں شامل کر سکیں گے جو اس فیصلے سے مطمئن نہیں؟ کیا اکثریت کے دل میں اس "اقلیت" کا کوئی درد نہیں جو اکثریت کے بقول "مذہب کے نام پر بے وقوف بنائے جا رہے ہیں"۔ ہم چند سو دہشت گردوں کو تو آج تک سنبھال نہیں سکے ۔ اگر اتنا بڑا ہجوم شدت پسندی کی طرف مائل ہو گیا تو پھر کیا ہو گا؟ خدارا ان کا مذاق نہ اڑائیں ۔ انھیں کسی طرح مطمئن کریں۔ معاشرے میں پہلے ہی بہت تقسیم ہے۔ مخالف اپنی شکست پر تو خاموش رہ سکتا ہے ۔ مگر بات تو تذلیل تک جا رہی ہے۔
 
جہاں کہیں میرٹ کی خلاف ورزی ہوتی ہے، تو پاکستان کے ہر شہری کا استحقاق مجروح ہوتا ہے ۔ حضرت عمر کی مثال سب کے سامنے ہے کہ ایک شخص کو محض اس بات پر اپنا استحقاق مجروح ہوتا نظر آیا کہ خلیفہ وقت کوخلافِ قاعدہ ایک کی بجائے دو چادریں کیوں دی گئیں، چنانچہ حضرت عمر نے اسکی اس پٹیشن کو یہ کہہ کر خارج نہیں کیا کہ تمہیں کیا تکلیف ہے۔۔۔ جب آئین سب کیلئے ہے تو جب بھی آئین کی خلاف ورزی ہوگی، تو ہر اس شخص کا استحقاق مجروح ہوگا جس پر اس آئین کا اطلاق اور نفاذ کیا جاتا ہے۔۔۔
آپ کے سوال میں ہی جواب موجود ہے۔۔ زر ا تصیح کرلیں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے سوال انہی لوگوں میں سے کسی شخص نے پوچھا تھا جن کے درمیان مال غنیمت کی چادریں تقسیم کی گئی تھیں یعنی جنہیں پتا تھا کہ ایک ایک چادر حصہ میں آئی ہے۔۔ یہی سوال اگر کوئی غیر متعلقہ آدمی پوچھتا تو شائد جواب مختلف ہوتا۔۔۔
 

آبی ٹوکول

محفلین
میں نے تو پہلے دن سے کہہ دیا تھا کہ جب ڈاکٹر صاحب نے پاکستان آنے کا اعلان فرمایا تھا کہ سیاسی طور پر انکی ٹائمنگ انتہائی غلط ہے انھے کم ازکم 6 ماہ پہلے پاکستان آنا چاہیے تھا اب وہی بیڈ ٹائمنگ ہر جگہ ان کے مؤقف اور نیک نیتی کی راہ میں آڑے آرہی ہے جیسا کہ کل چیف جسٹس نے خود اپنے ریمارکس میں کہا " آپ دسمبر میں آئے اور اب فروری میں ہمیں الیکشن کمیشن تحلیل کرنے کا کہہ رہے ہیں "اور آج کہا کہ آپ اس وقت کہاں تھے کہ جب الیکشن کمیشن کی تشکیل ہورہی تھی وغیرہ البتہ جہاں تک معاملہ ہے کہ سپریم کورٹ نے اصل کیس نہیں سنا اور دہری شہریت رکھنے کی وجہ سے مسلسل انکو ہدف تنقید بنائے رکھا اس سے جس طرح سے ڈاکٹر صاحب کی توہین کی گئی وہیں لاکھوں اوور سیزپاکستانیوں کی بھی توہین ہے ۔۔
 
ش

شہزاد احمد

مہمان
ججز کا کام طعنہ زنی نہیں۔ انصاف دینا ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ اگر "" ہُن آرام ایہہ؟؟" کا جواب پاکستان کی ایک بڑی اقلیت نے "نہ" کی شکل میں دیا تو کیا غالب اکثریت بھی آرام سے رہ سکے گی؟
جی ہاں! غالب اکثریت آرام سے بھی رہے گی اور چین کی نیند بھی سوئے گی ۔۔۔ حضورِ والا! طاہر القادری صاحب کی سیاست اسی دن ختم ہو گئی تھی جب انہوں نے کنٹینر میں بیٹھ کر حکومتی نمائندوں سے معائدہ کیا تھا ۔۔۔ اب ہم یہ بات مانیں یا نہ مانیں، اس سے کچھ زیادہ فرق نہیں پڑے گا ۔۔۔
 

قیصرانی

لائبریرین
میں نے تو پہلے دن سے کہہ دیا تھا کہ جب ڈاکٹر صاحب نے پاکستان آنے کا اعلان فرمایا تھا کہ سیاسی طور پر انکی ٹائمنگ انتہائی غلط ہے انھے کم ازکم 6 ماہ پہلے پاکستان آنا چاہیے تھا اب وہی بیڈ ٹائمنگ ہر جگہ ان کے مؤقف اور نیک نیتی کی راہ میں آڑے آرہی ہے جیسا کہ کل چیف جسٹس نے خود اپنے ریمارکس میں کہا " آپ دسمبر میں آئے اور اب فروری میں ہمیں الیکشن کمیشن تحلیل کرنے کا کہہ رہے ہیں "اور آج کہا کہ آپ اس وقت کہاں تھے کہ جب الیکشن کمیشن کی تشکیل ہورہی تھی وغیرہ البتہ جہاں تک معاملہ ہے کہ سپریم کورٹ نے اصل کیس نہیں سنا اور دہری شہریت رکھنے کی وجہ سے مسلسل انکو ہدف تنقید بنائے رکھا اس سے جس طرح سے ڈاکٹر صاحب کی توہین کی گئی وہیں لاکھوں پاکستانیون کی بھی توہین ہے ۔۔
میں پاکستانی ہوں، پیدائشی پاکستانی ہوں۔ میرے پاس دوسرے ملک کی شہریت بھی ہے۔ لیکن جب تک میرے مفادات کا زیادہ تر حصہ بشمول پاسپورٹ، نوکری، تعلیم وغیرہم کا تعلق میرے موجودہ ملک، جو کہ پاکستان نہیں، سے ہے، میں کبھی بھی کسی بھی قیمت پر پاکستان جا کر بطور مہمان اداکار خود کو برا نہیں بنانا چاہوں گا۔ قادری صاحب کے بارے تو لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ موجود ہے کہ یہ بندہ نفسیاتی مریض ہے۔ بکرے کے خون کو دیوار پر لگا کر کہتا ہے کہ میرا خون ہے۔ اپنے اوپر قاتلانہ حملے کا ڈرامہ رچاتا ہے۔ ایسا بندہ جو نبی پاک ص کے بار ےیہ دعوٰی کرتا ہے کہ وہ قادری جیسے دو ٹکے کے انسان (انسان کہنا بھی توہین ہے انسانیت کی) سے مدینہ منورہ سے پاکستان آنے جانے کی ٹکٹ اور ہوٹل کا خرچہ مانگتے ہیں، کے بارے آپ بتائیے کہ کیا سوچا جانا چاہیئے؟
یو ٹیوب پر موجود وڈیوز کو کاپی رائٹ کا دعویٰ کر کے ہٹایا جا سکتا ہے لیکن آخرت میں جب اس کا منہ کالا ہوگا اور جہنم میں لترول ہوگی (اگر اس نے سچے دل سے توبہ نہ کر لی تو)، تب دیکھا جائے گا کہ وہاں کون سے کاپی رائٹ کے دعوے کرتا ہے
 
ن

نامعلوم اول

مہمان
جی ہاں! غالب اکثریت آرام سے بھی رہے گی اور چین کی نیند بھی سوئے گی ۔۔۔ حضورِ والا! طاہر القادری صاحب کی سیاست اسی دن ختم ہو گئی تھی جب انہوں نے کنٹینر میں بیٹھ کر حکومتی نمائندوں سے معائدہ کیا تھا ۔۔۔ اب ہم یہ بات مانیں یا نہ مانیں، اس سے کچھ زیادہ فرق نہیں پڑے گا ۔۔۔
میری دعا ہے کہ آپ کی بات درست ثابت ہو۔
 
(جوتوں کے پاس رکھے بیگ سے قرآن پاک نکالنے والے کے لئے میرے دل میں ہرگز کوئی اچھا جذبہ نہیں)
یہ محض ایک بے پر کی اڑائی گئی ہے (جس طرح ملالہ واقعے کے حوالے سے روز ایک نئی درفطنی چھوڑدی جاتی تھی فیس بک پر)۔۔ اسکی مناسب تحقیق کرلیجئے گا
 

آبی ٹوکول

محفلین
میں پاکستانی ہوں، پیدائشی پاکستانی ہوں۔ میرے پاس دوسرے ملک کی شہریت بھی ہے۔ لیکن جب تک میرے مفادات کا زیادہ تر حصہ بشمول پاسپورٹ، نوکری، تعلیم وغیرہم کا تعلق میرے موجودہ ملک، جو کہ پاکستان نہیں، سے ہے، میں کبھی بھی کسی بھی قیمت پر پاکستان جا کر بطور مہمان اداکار خود کو برا نہیں بنانا چاہوں گا۔
یعنی آپ اور آپکے مفادات اور پھر ان آپکے مفادات کا زیادہ تر حصہ اور پھر آپ ہی کا موجودہ ملک یعنی کہ آپ آپ اور پھر آپ یعنی آپ کے لیے فقط ایک آپ ہی اہم ہیں لیکن ان سب میں دوسرے آپ جیسے محب وطن پاکستانی کہاں ہیں اور انکا کیا قصور ہے کہ انکی دہری شہریت کو مشکوک قرار دیا جائے انکی حب الوطنی پر قدغن لگائی جائے یعنی اب اپنے انفرادی اور دوسروں کو اجتماعی حقوق کے لیے آواز اٹھانا محض اس وجہ سے جرم ٹھرا کہ آپ دہری شہریت کے حامل ہیں لہذا یہ خود کو برا کہلوانا ہوا وہ بھی فقط اس بنیاد پر کہ کسی کے پاس دہری شہریت ہے یعنی کوئی بھی دہری شہریت والا پاکستانی اب پاکستان کا درد اپنے سینے میں نہیں رکھ سکتا اور نہ ہی اپنے ملک کی عوام کے حقوق کے لیے آواز بلند کرسکتا ہے فیا للعجب ؟؟ باقی آپکی جن باتوں کو کوٹ نہیں کیا وہ ایک تو بلا تحقیق دوسرے یک طرفہ مؤقف اور تیسرے اصل نفس مسئلہ سے غیر متعلق تھیں والسلام
 
یہ ججز اس وقت کہاں تھے جب ایک نہیں بلکہ دو غیرملکیوں کو امریکہ سے امپورٹ کرکے پاکستان کا وزیر اعظم بنایا گیا تھا (شوکت عزیز اور معین قریشی)۔۔۔یہ ججز کوئی مقدس گائے نہیں ہیں۔۔جلد ہی یہ چیف جسٹس اللہ کی پکڑ میں آجائے گا انشاء اللہ
 
ش

شہزاد احمد

مہمان
دہری شہریت غیر آئینی نہیں ہے لیکن دہری شہریت سے فرق ضرور پڑ جاتا ہے ۔۔۔ وفاداری بھی منقسم ہو جاتی ہے ۔۔۔ اور ریاست پاکستان سے وفاداری کے حوالے سے سوال بھی اٹھائے جا سکتے ہیں ۔۔۔ اسی لیے بعض قانون دانوں نے علامہ صاحب کو مشورہ دیا تھا کہ وہ کسی ایسے فرد کے ذریعے یہ پٹیشن دائر کریں جس کے پاس دہری شہریت نہ ہو ۔۔۔
 
Top