طاہر القادری سپریم کورٹ میں

تانیہ

محفلین
130114215327_tahir_qadri304.jpg

تحریک منہاج القرآن کے سربراہ ڈاکٹر طاہرالقادری پاکستان کے الیکشن کمیشن کی تحلیل کے لیے اپنی درخواست کی پیروی کے لیے ان چند افراد میں شامل تھے جو عدالت کا وقت شروع ہوتے ہی سپریم کورٹ پہنچ گئے تھے۔

کمرۂ عدالت نمبر ایک میں طاہرالقادری اپنے حماتیوں کے ہمراہ داخل ہوئے اور زیادہ تر نشتوں پر اُن کے حامیوں کا ہی قبضہ تھا جبکہ وکلاء اور اپنے مقدمات کی پیروی کے لیے آنے والے افراد کے پاس کھڑے رہنے کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں تھا۔
مقامی وقت کے مطابق ساڑھے نو بجے عدالت میں پہنچنے والے ڈاکٹر طاہرالقادری کو پانچ گھنٹے کے بعد یعنی دوپہر ڈھائی بجے کے قریب روسٹم پر آنے کو کہا گیا۔

کمرۂ عدالت میں موجود افراد یہ چہ مگوئیاں بھی کر رہے تھے کہ احتجاجی دھرنے کے دوران حکومت کو پانچ منٹ میں اسمبلیاں تحلیل کرنے کا حکم دینے والے طاہرالقادری کمرۂ عدالت میں بےبس دکھائی دے رہے ہیں۔

سپریم کورٹ نے پیر کو ’ریگولر مقدمات‘ کی سماعت کرنے کے بعد سپلیمنٹری کاز لسٹ میں شامل طاہرالقادری کو دلائل دینے کو کہا۔

سپریم کورٹ نے جب طاہرالقادری کو روسٹم پر آنے کو کہا تو ان کے ہمراہ آئے ہوئے اُن کے حمایتی بھی روسٹم پر ان کے پیچھے کھڑے ہو گئے جس پر عدالت نے برہمی کا اظہار کیا اور باقی افراد کو اپنی سیٹوں پر بیٹھنے کا حکم دیا۔

طاہرالقادری نے اپنی درخواست کے حق میں دلائل شروع ہی کیے تھے کہ تین رکنی بینچ نے ان کی شہریت سے متعلق سوالات کی بوچھاڑ کردی۔

درخواست گزار بجائے اس کہ وہ اپنی درخواست کے متعلق کچھ دلائل دیتے انہوں نے کینیڈا کی شہریت حاصل کرنے سے متعلق صفائی دینی شروع کردی اور انہوں نے سماعت کرنے والے ججوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ’مائی لارڈز میرا سوال ہے‘ جس پر بینچ میں شامل جسٹس عظمت سعید کا کہنا تھا کہ سوال آپ نہیں بلکہ عدالت آپ سے کرے گی اور عدالت کو مطمئین کرنا آپ کی ذمہ داری ہے۔

منہاج القرآن کے سربراہ نے عدالت سے دو منٹ میں اپنی بات مکمل کرنے کی استدعا کی جسے عدالت نے مسترد کردیا اور کہا کہ وہ تحریری شکل میں جواب دیں۔

بی بی سی اردو

’کینیڈا کا شہری کس طرح الیکشن کمیشن کو چیلنج کرسکتا ہے‘

130117182131_qadri.jpg

سپریم کورٹ نے تحریک منہاج القران کے سربراہ طاہر القادری سے کہا ہے کہ وہ اس بات پر عدالت کو مطمئین کریں کہ اُنہوں نے جب کینیڈا کی شہریت کا حلف اُٹھا لیا ہے تو وہ کس طرح پاکستان کی آئینی ادارے یعنی الیکشن کمیشن کی تشکیل کو چیلنج کرسکتے ہیں۔

عدالت نے اُن سے ایسا نوٹیفکیشن بھی پیش کرنے کا حکم دیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ کوئی بھی پاکستانی جس نے دوسرے ملک کی شہریت حاصل کی ہو کس طرح پاکستان کے سب سے بڑے ادارے سپریم کورٹ میں آئینی پٹیشن دائر کرسکتا ہے۔
چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے الیکشن کمیشن کی تشکیل کے خلاف دائر درخواست کی ابتدائی سماعت کی۔

اٹارنی جنرل عرفان قادر کا کہنا تھا کہ پاکستان کا قانون دوہری شہریت کے حامل پاکستانی کو آئینی درخواست دائر کرنے سے نہیں روکتا۔ اُنہوں نے کہا کہ اگر عدالت چاہے تو اس ضمن میں بنائے گئے قوانین کا عدالتی جائزہ لے سکتی ہے۔

طاہرالقادری کا کہنا تھا کہ اُنہوں نے ایک ووٹر کی حثیت سے الیکشن کمیشن کی تشکیل کو چیلنج کیا ہے جبکہ دوہری شہریت کا معاملہ عام انتخابات میں حصہ لینے پر پابندی عائد کرتا ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ سنہ دوہزار پانچ میں قومی اسمبلی کی رکنیت سے مستفی ہونے کے بعد اُنہوں نے اپنے اہلخانہ کے ہمراہ کینیڈا کی شہریت حاصل کی تھی۔ اُنہوں نے کہا کہ کینیڈا کی شہریت بطور مذہبی سکالر حاصل کی ہے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ جب اُنہوں نے کینیڈا کی شہریت حاصل کی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ ’وہ ملکہ اور اُن کے جانیشنوں کا وفادار رہوں گا اور اگر کوئی دوسرا ملک اُن کے ملک پر حملہ کرے تو اس کے لیے وہ ہتھیار بھی اُٹھاسکتے ہیں‘، تو پھر ایسے شخص کو پاکستان کے الیکشن کمیشن پر کیا اعتراض ہوسکتا ہے۔

عدالت نے طاہرالقادری کو اس ضمن میں منگل کے روز تک تفصیلی جواب جمع کروانے کا بھی حکم دیا۔ اس کے علاوہ عدالت نے اُنہیں کینیڈا کی شہریت حاصل کرنے کا سرٹیفکیٹ بھی پیش کرنے کا حکم دیا۔

بی بی سی اردو

آپ یہاں پاکستانی سیاست میں حصہ لینے آئے ہیں جسکی اجازت نہیں دی جا سکتی۔۔چیف جسٹس

news110-580x469.jpg

سچ ٹی وی

’جمہوریت کی مضبوطی چاہتے ہیں، انتخابات کا التوا نہیں‘

121031154621_s_cort_304x171_.jpg

پاکستان کی سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کی تشکیل نو کے حوالے سے تحریک منہاج القرآن کے سربراہ کی پیٹیشن کی سماعت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں انتخابات کی تیاریاں مکمل ہو چکی ہیں اور ہم چاہتے ہیں کہ جمہوریت کو مزید مستحکم کریں۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے پیٹیشن کی سماعت کرتے ہوئے کہا کہ ملک کا الیکشن کمیشن کافی غور و غوص کے بعد تشکیل پایا ہے اور اس کو عدالت خراب نہیں کرے گی۔
انہوں نے یہ ریمارکس منگل کو الیکشن کمیشن کی تشکیل نو کے حوالے سے درخواست کی سماعت کے دوران دیے۔

سماعت کے دوران طاہر القادری نے اپنی دوہری شہریت کے بارے میں تحریری جواب جمع کروایا اور اس حوالے سے بینچ کے سوالات کے جواب دیے۔

"اگر کوئی غیر ملکی پاکستان کے حساس معاملات کے متعلق درخواست لے کر آئے تو ہم اسے نہیں سنیں گے۔"
چیف جسٹس

سماعت کے دوران چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اگر کوئی غیر ملکی پاکستان کے حساس معاملات کے متعلق درخواست لے کر آئے تو ہم اسے نہیں سنیں گے۔

انھوں نے کہا کہ بیرون ملک سے آئے ہوئے شخص کو ملک کا سیاسی منظرنامہ تبدیل کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

ایک موقع پر جب ڈاکٹر طاہر القادری نے اپنے دلائل دینا شروع کیے تو چیف جسٹس نے ان سے کہا کہ عدالتی احترام ملحوظ رکھا جائے۔ چیف جسٹس نے مزید کہا کہ انھیں تو الیکشن کمیشن کے ارکان کی تعیناتی کی تاریخ ہی معلوم نہیں ہے۔

چیف جسٹس کا یہ بھی کہنا تھا کہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کو ووٹ ڈالنے کا حق ہے۔

مقدمے کی سماعت کے بعد طاہرالقادری نے سپریم کورٹ کے احاطے میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انتخابات میں بطورِ امیدوار حصہ لینے پر دہری شہریت نہ ہونے کی پابندی عائد ہے مگر ووٹ ڈالنے کے لیے آئین کی شق 51 کے تحت ایسی کوئی پابندی عائد نہیں ہے حتیٰ کہ سمندر پار پاکستانیوں کو بھی ووٹ ڈالنے کا حق حاصل ہے۔

انھوں نے کہا کہ میں نے عدالت کو بتایا کہ میں یہاں بطورِ شیخ الاسلام نہیں آیا بلکہ ایک عام شہری اور عام ووٹر کی حیثیت سے آیا ہوں۔

انھوں نے کہا کہ دہری شہریت جرم نہیں ہے، آئین کی کسی شق میں دہری شہریت والے کو رٹ دائر کرنے سے منع نہیں کیا گیا۔

دہری شہریت کے سلسلے میں منقسم وفاداریوں کے بارے میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ پاکستان کے آئین سے زیادہ دانشمندی کسی کے پاس نہیں اور آئین سولہ ممالک کے ساتھ دہری شہریت کی اجازت دیتا ہے۔

بی بی سی اردو

کو وارنٹو ہمارے دائرہ اختیارمیں نہیں،آپ کو کہیں اور جانا پڑیگا،چیف جسٹس

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے ریمارکس دیے ہیں کہ پاکستانی پاسپورٹ استعمال کر کے یہاں آنے سے کوئی پاکستانی نہیں بن جاتا، آئین کا آرٹیکل 5 پاکستان سے وفاداری کا کہتا ہے، آپ آئینی ادارے پر حملہ اور سیاست کریں گے تو پھر آپ کی وفاداری پرسوالات اٹھیں گے۔31 جولائی کے فیصلہ کے بعد کسی کا ارادہ بھی ہو تو مارشل لاء نہیں لگ سکتا۔ چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بنچ طاہر القادری کی الیکشن کمیشن کے خلاف درخواست پر سماعت کل تک ملتوی کردی گئی۔ ڈاکٹر طاہر القادری نے حق دعویٰ ، قانونی جواز اور دہری شہریت کے بارے میں اپنا جامع جواب داخل کرا دیا۔ چیف جسٹس نے طاہرالقادری کومخاطب کرتے ہوئے کہاکہ وہ عام آدمی نہیں، شیخ الاسلام ہیں،90 ممالک میں دینی تعلیم دینے جاتے ہیں، جب باہر سفر کرتے ہیں تو بطور کینیڈین شہری کرتے ہیں، پاکستانی وہ ہوتا ہے جو دنیا کے کسی بھی خطے ، کونے یا نارتھ پول پر بھی بطور پاکستانی کھڑا ہو، آپ نے ملکہ الزبتھ دوئم اور اس کے جانشینوں سے وفاداری کا حلف اٹھا رکھا ہے۔ طاہر القادری کا کہنا تھا کہ دہری شہریت رکھنے والا پارلیمنٹ کا رکن بننے کے لیے نااہل ہے، ووٹ کے لیے نہیں۔ چیف جسٹس نے جواب دیا کہ ایک شخص ووٹر ہے اور جانتا ہے کہ پارلیمنٹ کا ممبر نہیں بن سکتا، پھر بھی آئینی ادارے کو چیلنج کر رہا ہے۔جسٹس گلزار احمد نے استفسارکیاکہ وہ کینیڈاکب جارہے ہیں ؟اس پرطاہرالقادری نے کہاکہ وہ ادھرہی ہیں کہیں نہیں جارہے۔ پاکستانی سپوت ہیں اور جب چاہیں کینیڈا کی شہریت ترک کر سکتے ہیں۔جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس د یے کہ ایک شخص اہل خانہ سے ملنے پاکستانی آئے، گھومے پھرے اور واپس چلا جائے، کیا وہ شخص ملک کی سیاست یا دیگر سرگرمیوں میں حصہ لے سکتا ہے؟ آپ یہاں پاکستانی سیاست میں حصہ لینے آئے جس کی اجازت نہیں دی جا سکتی، ایسی سرگرمی کی اجازت نہیں دی جا سکتی جس سے پورا ملک متاثر ہو۔چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے استفسار کیا کہ آپ حق دعویٰ ثابت کرنے کے لیے کون سے عدالتی فیصلوں کی نظیروں پر انحصار کر رہے ہیں، آپ نے جن کا حوالہ دیا ، وہ گراونڈ ہیں، فیصلے نہیں۔ ان میں انصاف تک رسائی کا معاملہ ہی نہیں، طاہر القادری نے موقف اختیار کیا کہ انہوں نے کو وارنٹو کی درخواست دی ہے۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ آپ نے درخواست 184 تھری کے تحت دی جو کو وارنٹو میں نہیں آتی، چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ کو وارنٹو ان کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا، آپ کو کہیں اور جانا پڑے گا،چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اکتیس جولائی کے فیصلہ کے بعد اگر کسی کا ارادہ بھی ہے تو مارشل لا نہیں لگ سکتا، عدالت نے مارشل لاء کا راستہ روک دیا ہے ،وہ پٹیشن بھی کالے کوٹ اور کالی ٹائی والے لائے تھے، انہوں نے کبھی مسقط یا کابل جا کر نہیں کہا کہ کینیڈا کے شہری ہیں، الیکشن کمیشن کی تشکیل 20 ویں آئینی ترمیم کے بعد ہوئی ،آپ دسمبر میں ملک آکر فروری میں الیکشن کمیشن ختم کرنے کی بات کر رہے ہیں۔

جیو ٹی وی

دوہری شہریت جرم نہیں ،آئین اجازت دیتا ہے :ڈاکٹر طاہر القادری

اسلام آباد(دنیا نیوز)تحریک منہاج القرآن کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا ہے کہ پاکستان کا سولہ ممالک سے دوہری شہریت کا معاہدہ ہے۔

سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ دوہری شہریت کوئی جرم نہیں اور نہ ہی آئین میں کوئی اعتراض ہے ۔میری پٹیشن سماعت کے لیے منظور ہو چکی ہے ۔انھوں نے کہا کہ سوال اٹھانا سپریم کورٹ کا حق ہے ۔کل پھر میرے کیس کی سماعت ہو گی۔انھوں نے کہا کہ سپریم کورٹ جو بھی فیصلہ کرے گی اس کو قبول کریں گے ۔

دنیا نیوز
 
ش

شہزاد احمد

مہمان
مجھے تو اس عدالت سے انصاف اور غیرجانبداری کی توقع نہیں ہے۔۔۔
سپریم کورٹ میں کاروائی جس انداز میں آگے بڑھ رہی ہے، بہتر یہی ہے کہ علامہ صاحب یہ پٹیشن فوراَ سے پیشتر واپس لے لیں اور اگر ممکن ہو تو عوامی تحریک کے صدر رحیق عباسی کو پٹیشنر بنا دیں ایک نئی رٹ پٹیشن کے ذریعے ۔۔
 
ڈبل سٹینڈرڈز چل رہے ہیں۔۔جب کینیڈا ہی کا ایک شہری خط لکھے تو اسکے خط کی بنیاد پر یہ عدالت امریکہ میں اپنے سفیر اور اپنے ملک کے صدر کے خلاف میمو گیٹ سکینڈل کا کیس کھول لیتی ہے، لیکن دوسری جانب اسی عدالت کے جج صاحبان کا کمال ہے کہ اوورسیز پاکستانیوں (جنکی بھیجی ہوئی کمائی سے ملک کی سسکتی معیشت سانسیں لے رہی ہے) کی حب الوطنی کو مشکوک اور نامعتبر قرار دے دیا جاتا ہے۔۔۔ایں چہ بوالعجبی ایست
 
ویسے محمود بھائی جو کچھ بھی ہے عدالت نے گگلی اچھی کروائی ہے ڈاکٹرصاحب کو للوز
کہانی کچھ یوں ہے کہ۔۔۔
ایک طوطا اور طوطی، اڑتے اڑتے جنگل میں بہت دور نکل آئے۔ انکا گذر ایک نہایت ویران بستی سے ہوا۔ بستی کی ویرانی دیکھ کر طوطی نے اپنے شوہر سے کہا
کس قدر ویران بستی ہے۔ ضرور یہاں آس پاس کوئی الّو رہتا ہوگا جسکی نحوست کی وجہ سے یہ بستی ویران ہوگئی۔
طوطا نے تائید میں سر ہلایا ہی تھا کہ اچانک درختوں کے جھنڈ سے کسی کے کھنکارنے کی آواز سنائی دی اور پل بھر میں ہی ایک الّو کھسیانی سی ہنسی ہنستے ہوئے آموجود ہوا۔
خوش آمدید، آئیے آئیے۔۔۔ بڑی مدت کے بعد کوئی میرے غریب خانے کے پاس سے گذرا ہے۔ مجھے بیحد خوشی ہوگی اگر آپ کچھ دیر کیلئے اس الّو کو اپنی خدمت کا موقع دیں تو۔
طوطا اور طوطی جو اسکی اچانک آمد سے دہل سے گئے تھے، اپنے حواس مجتمع کئیے اور الّو کا شکریہ ادا کیا اور دل ہی دل میں شکر ادا کیا کہ اس نے تھوڑی دیر قبل کی انکی گفتگو نہیں سنی۔ اور انکار کرتے ہوئےعذر پیش کیا کہ وہ اپنے ٹھکانے سے کافی دور آچکے ہیں اور شام بھی سر پر ہے، پھر کبھی سہی۔ لیکن الّو نے بہت محبت کے ساتھ التجا کی کہ اسے مہمان نوازی کاموقع دیا جائے اور چونکہ رات سر پر ہے، اس لئے بہتر یہی ہوگا کہ وہ آج کی شب الّو کے گھر میں قیام کریں۔
انہوں نے مروتاّ ہاں کر دی مبادا کہ الّو کی دلشکنی نہ ہو۔
چنانچے الّو نے انکے لئے مزیدار کھانے پکائے، اور انکی مہمانداری میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ اگلے دن جب طوطا طوطی نے رخصت ہونا چاہا تو الّو نے دوبارہ نہایت لجاجت کے ساتھ التجا کی کہ اسے مزید خدمت کا موقع دیا جائے۔
مختصر یہ کہ انہوں نے تین دن الّو کے گھر قیام کیا اور اسکی مہمان نوازی اور اخلاق سے بیحد متاثر ہوئے۔ تین دل نے بعد انہوں نے فیصلہ کیا کہ بس اب چلتے ہیں الّو پر مزید بوجھ نہیں ڈالنا چاہئیے۔
الّو نے حسبِ سابق مزید رکنے کی فرمائش کی لیکن انکے اصرار کو دیکھ کر ہتھیار ڈالدیئے۔ چنانچہ جب طوطا طوطی اس سے رخصت ہونے کیلئے پر تولنے لگے تو اچانک الّو نے طوطے کو مخاطب کرتے ہوئے کہا
ٹھیک ہے طوطا بھائی، جیسی آپکی مرضی۔ آپ جانا چاہتے ہیں تو بسروچشم۔ لیکن میری بیوی کا ہاتھ تو چھوڑئیے، اسے کیوں ساتھ میں لیکر جا رہے ہیں۔
طوطا طوطی اس مذاق سے بیحد محظوظ ہوئے اور جب اڑنے لگے تو الّو نے انکا راستہ روک لیا اور بڑی سنجیدگی سے کہنے لگا کہ
بھائی طوطے، یہ کہاں کی شرافت ہے؟۔۔۔ ایک تو میں نے تین دن تمہاری مہمان نوازی اور خدمت کی، اور تم اس نیکی کا یہ صلہ دے رہے ہو کہ میری بیوی کو شاتھ لیجانے کی کوشش کر رہے ہو۔
الّو کی سنجیدگی کو دیکھ کرطوطا اور طوطی کے ہاتھوں کے طوطے اڑگئے اور پیروں تلے سے زمین کھسکنے لگی۔ چنانچہ طوطے نے دوبارہ عرض کی کہ
الّو صاحب۔۔۔ آپ یہ کیسی باتیں کررہے ہیں۔ جناب آپ اپنی شکل دیکھئے اور ہم دونوں کو دیکھئے۔ کیا کوئی بھی عقلمند آدمی یہ کہہ سکتا ہے کہ طوطی آپکی بیوی ہوسکتی ہے۔
لیکن الّو کے پائے ثبات میں کوئی لغزش نہ آئی اور وہ اسی طرح انکا راستہ روکے کھڑا رہا۔
یہ ماجرا دیکھ کر طوطا طوطی اپنی بے بسی پر رونا شروع ہوگئے۔ اچانک انہیں اسی ویران بستی کی طرف سے ایک آدمی آتا دکھائی دیا۔ اسے آلّو نے بھی آتا دیکھ لیا اور طوطے اور طوطی سے یوں کہنے لگا
رونے دھونے کا کوئی فائدہ نہیں۔ تم دونوں بیشک اس آدمی سے پوشھ لو۔ اگر اس نے تمہارے موقف کی حمایت کی تو میں اپنے موقف سے دستبردار ہوجاؤں گا اور تمہیں جانے دونگا، بصورت دیگر تمہیں اکیلے ہی جانا ہوگا طوطی کو یہاں چھوڑ کر۔
طوطا طوطی نے الّو کی یہ معقولیت پر مبنی بات سنی تو انکی جان میں جان آئی۔ اور وہ اس آدمی کے سامنے یہ مقدمہ پیش کرنے پر دل و جان سے راضی ہوگئے۔
چنانچہ اس آدمی کو بلا کر یہ سارا معاملہ اسکے گوش گذار کیا گیا۔ اس نے تمام روداد سن کر ان تینوں کا بڑی گہری نظر سے جائزہ لیا اور کہنے لگا کہ
تم تینوں کی یہ روداد سن کر اور حالات و واقعات اور قرائن کو دیکھ کر میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ۔۔یہ الّو ٹھیک کہہ رہا ہے۔ تم دونوں جھوٹے ہو۔
یہ سن کر وہ دونوں ہی رونا شروع ہوگئے اور آدمی نے اپنی راہ لی۔
تھوڑی دیر کے بعد الّو کے کھنکارنے کی آواز سنائی دی اور اس نے کہا۔۔
طوطا بھائی، پریشان مت ہو،تمہاری بیوی تمہیں مبارک ہو، میں نے یہ سب صرف ایک بات کو ثابت کرنے کیلئے کیا تھا اور وہ یہ کہ
"جس بستی میں ایسا انصاف کرنے والے انسان رہتے ہوں، وہ کسی الّو کی نحوست کی وجہ سے ویران نہیں ہوتی"
:) :) :)
(حکایات ِ رومی میں سے ایک حکایت)
 

سید ذیشان

محفلین
میری رائے (اگرچہ میں قانوندان نہیں ہوں) کے مطابق تو سپریم کورٹ میں شہریوں کے بنیادی حقوق کی پامالی پر پٹیشین دائر کیا جا سکتا ہے۔ اور قادری صاحب جب تک اس ملک کے شہری ہیں وہ سپریم کورٹ میں پٹیشن دائر کر سکتے ہیں اور ان کا کیس غیر جانبدارانہ انداز سے سنا جانا چاہیے۔ فرض کریں اگر خدانخواستہ ان کے کسی رشتہ دار کو کوئی قتل کر دے تو بھی سپریم کورٹ یہ کہہ کر پٹیشن باہر پھینک دے گی کہ آپ کسی اور ملک کے بھی شہری ہیں۔
 
مجھے نجانے کیوں اس ساری صورتحال پر انور مسعود کی نظم ' جہلم دے پل تے' کا یہ حصہ یاد آرہا ہے۔۔۔
جنتری دا گاہک ایتھے کوئی وی نئیں دِسدا
چوراں دو جو مُٹھا ہووے کسے تے نہیں وِسدا (جس شخص کا چوروں سے پالا پڑچکا ہو، وہ کسی پر اعتبار کرنے کوتیار نہیں ہوتا)
ہدیہ روپیّا سی نہ مُل دھیلی دوستو۔۔۔۔
چنگا فیر رب راکھا، اللہ بیلی دوستو۔۔۔
:p:D:rolleyes:
 

اوشو

لائبریرین
محمود احمد غزنوی جی کاش یہ باتیں آپ طاہرالقادری صاحب کو سپریم کورٹ جانے سے پہلے سمجھا دیتے۔ ویسے جس عدلیہ پر آپ شک بلکہ یقین کا اظہار فرما رہے ہیں طاہرالقادری صاحب بیان دے چکے ہیں کہ وہ اسی عدلیہ کا فیصلہ تسلیم کریں گے۔
 

کاشفین

محفلین
کہانی کچھ یوں ہے کہ۔۔۔

"جس بستی میں ایسا انصاف کرنے والے انسان رہتے ہوں، وہ کسی الّو کی نحوست کی وجہ سے ویران نہیں ہوتی"
:) :) :)
(حکایات ِ رومی میں سے ایک حکایت)

میری بات کا برا مت مانئے گا ۔بہت اچھی بات کہی آپ نے بھائی۔لیکن میرے سے یہ نحوست خود قادری صاحب کی پھیلائی ہے۔
 

کاشفین

محفلین
ڈبل سٹینڈرڈز چل رہے ہیں۔۔جب کینیڈا ہی کا ایک شہری خط لکھے تو اسکے خط کی بنیاد پر یہ عدالت امریکہ میں اپنے سفیر اور اپنے ملک کے صدر کے خلاف میمو گیٹ سکینڈل کا کیس کھول لیتی ہے، لیکن دوسری جانب اسی عدالت کے جج صاحبان کا کمال ہے کہ اوورسیز پاکستانیوں (جنکی بھیجی ہوئی کمائی سے ملک کی سسکتی معیشت سانسیں لے رہی ہے) کی حب الوطنی کو مشکوک اور نامعتبر قرار دے دیا جاتا ہے۔۔۔ ایں چہ بوالعجبی ایست
یہاں قادری صاحب کا کیا ذکر سر۔
وہ تو بس نام کے کینڈین ہوئے نا۔اوور سیز کی حب الوطنی اور قادری صاحب الوطنی میں بہتتتت فرق ہے جی۔
 
فرض کریں اگر خدانخواستہ ان کے کسی رشتہ دار کو کوئی قتل کر دے تو بھی سپریم کورٹ یہ کہہ کر پٹیشن باہر پھینک دے گی کہ آپ کسی اور ملک کے بھی شہری ہیں۔
مجھے تو لگا ۔ خود قادری کسی کو قتل کرد ے تو بھی سپریم کورٹ یہی کہے گی
" جاؤ یار آپ توکسی اور ملک کے شہری ہو" :D:ROFLMAO::grin:

ویسے لگ ایسا رہا ہے کہ عدالت اپنی کوئی پرانی کُنس نکال رہی ہے ۔
(کُنس = ؟؟؟) :ROFLMAO:
 
یہاں قادری صاحب کا کیا ذکر سر۔
وہ تو بس نام کے کینڈین ہوئے نا۔اوور سیز کی حب الوطنی اور قادری صاحب الوطنی میں بہتتتت فرق ہے جی۔
سوال یہ ہے کہ جب آپ پاکستان میں رہنا پسند نہیں کرتے، پاکستان میں اپنا پیسا رکھنا پسند نہیں کرتے، اپنے بچوں کو پڑھوانا پسند نہیں کرتے، پاکستان میں کاروبار کرنا پسند نہیں کرتے تو پھر یکدم اور اچانک آپکو پاکستان آکرکمی کمینوں کے پھڈے میں ٹانگ اڑانے یا کسی ادارے یا فرد کی ٹوپی اچھالنے کی ًاچھاً کیونکر پیدا ہوئی؟ الو اور طوطی کے انصاف والے بھائی سے معذرت کے ساتھ صرف یہ سوال ہے کہ کیا کبھی قادری صاحب نے ﴿جس ملک کے وہ نمک خوار ہیں ﴾ کے آئینی معاملات یا اداروں پر اسطرح کی طبہ ازمائی کی ہے؟ اگر نہیں کی تو کیوں نہیں کی ؟آخر وہ وہاں کے باعزت شہری ہیں ، آخر کیوں وہ اسکا شرف اس کمی کمین ملک کو دینا چاہتے ہیں؟
 

سید ذیشان

محفلین
سوال یہ ہے کہ جب آپ پاکستان میں رہنا پسند نہیں کرتے، پاکستان میں اپنا پیسا رکھنا پسند نہیں کرتے، اپنے بچوں کو پڑھوانا پسند نہیں کرتے، پاکستان میں کاروبار کرنا پسند نہیں کرتے تو پھر یکدم اور اچانک آپکو پاکستان آکرکمی کمینوں کے پھڈے میں ٹانگ اڑانے یا کسی ادارے یا فرد کی ٹوپی اچھالنے کی ًاچھاً کیونکر پیدا ہوئی؟ الو اور طوطی کے انصاف والے بھائی سے معذرت کے ساتھ صرف یہ سوال ہے کہ کیا کبھی قادری صاحب نے ﴿جس ملک کے وہ نمک خوار ہیں ﴾ کے آئینی معاملات یا اداروں پر اسطرح کی طبہ ازمائی کی ہے؟ اگر نہیں کی تو کیوں نہیں کی ؟آخر وہ وہاں کے باعزت شہری ہیں ، آخر کیوں وہ اسکا شرف اس کمی کمین ملک کو دینا چاہتے ہیں؟

قادری صاحب کے اعمال اور مقاصد سے قطع نظر، انصاف اندھا ہوتا ہے، وہ یہ نہیں دیکھتا کہ مدعی کون ہے، گواہ کون ہے۔ اس کو صرف اور صرف اس بات سے سروکار ہوتا ہے کہ سچ کیا ہے اور ذیادتی کس کے ساتھ ہوئی اور اس کا ازالہ کیسے کیا جائے۔
اس معاملے میں لگ رہا ہے کہ سپریم کورٹ نے دلائل سنے بغیر ہی اپنا ذہن بنا لیا ہے۔
یہ بتاتا چلوں کہ قادری صاحب اور ان کے مشن سے مجھے ذرا بھی ہمدردی نہیں ہے کیونکہ میں اس کو ایک اور رنگ میں دیکھتا ہوں۔ لیکن آزاد عدلیہ سے یہ توقع مجھے ہرگز نہیں تھی۔
 
ن

نامعلوم اول

مہمان
سپریم کورٹ میں کاروائی جس انداز میں آگے بڑھ رہی ہے، بہتر یہی ہے کہ علامہ صاحب یہ پٹیشن فوراَ سے پیشتر واپس لے لیں اور اگر ممکن ہو تو عوامی تحریک کے صدر رحیق عباسی کو پٹیشنر بنا دیں ایک نئی رٹ پٹیشن کے ذریعے ۔۔
میری بھی سو فیصد یہی رائے ہے۔جنابِ طاہر قادری صاحب کو اندازہ نہ تھا کہ عدالت شریف صاحبان سے اختلاف رکھنے والوں کے ساتھ کیا سلوک کر سکتی ہے۔عدالت کو علم نہیں کہ ایک عام پاکستانی کیا سوچتا ہے؟ مگر شاید شریف صاحبان کی رضا سب سے مقدم ہے۔
 
اور سب سے ہٹ کہ
مجھے ایسا لگتا ہے کہ قادری صاحب کے سارے پوائنٹس پر کورٹ جلد یا بدیر ایکشن لے گی ۔


لیکن فلحال وہ قادری صاحب کی کلاس لینے کے موڈ میں ہے ۔;)
 
Top