طالبان کے تحت آج ان علاقوں کی صورتحال

کیفیت
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں

طالوت

محفلین
شاید نہیں بلکہ یقیننا اب بحث اسی فرقہ واریت کی طرف جا رہی ہے جس کا شکار کرم ایجنسی کے لوگ اور پورا پاکستان ہے ۔۔۔
سچ تو یہ ہے کہ شاید ہی دنیا میں کوئی فرد ہو جو کسی کی حمایت یا مخالفت کلی طور پر غیر جانبدرانہ کر سکے۔۔۔
سچ یہ بھی ہے کہ طالبان کا بیج امریکہ نے بویا "مرد مومن" نے اس پودے کی حفاظت کی اور مشرف نے اسے کھاد ڈالی ۔۔۔ اسی طرح سے اسی کی دھائی میں امریکہ نے ہی صدام کو اکسایا اور عراق ایران جنگ میں دونوں قوتوں نے لا حاصل جنگ کی اور اپنی طاقت کو ضائع کیا اور بعد ازاں ہمارے نااہل حکمرانوں نے کویت جنگ کی صورت میں امریکہ کو اس خطے میں پیر جمانے کا موقع دیا ۔۔ اس چند عشروں پہلے لارنس آف عربیہ نے نفرت کا بیج بویا اور سلطنت عثمانیہ کا خاتمہ کیا ۔۔ اس سے پہلے اس سے پہلے اس سے پہلے اور آج کے بعد بھی صہیونی و نصرانی قوتیں ہمیں لڑا رہی ہیں مروا رہی ہیں اور ان کے آلہ کار ہیں ہمارے مُلا چاہے وہ امام بارگاہوں میں بیٹھے ہوں یا مسجد کے منبروں پر برجمان ہوں۔۔۔ یہ وہ خبیث قوم ہے جس نے اسلامی مملکت میں آمریت اور مملوکیت کو تحفظ فراہم کیا اور برسوں پہلے نسلی ، تعصبی منافرت کو پروان چڑھایا۔۔۔ افسوس یہ ہے کہ آج چودہ صدیاں گزرنے کے بعد بھی ہم روز بروز اس پستی سے نکلنے کی بجائے اسی میں دھنستے جا رہے ہیں ۔۔۔
ریاست کے اندر ریاست ، چاہے طالبان ہوں یا مہدی ملیشیا ،قران سے ہٹ کر اور قران سے متصادم اسلام ، اپنی بات کو زور و زبرستی سے منوانا ، ہر صورت میں ظلم ہے چاہے وہ کسی بھی رو سے ہو ۔۔۔
آج ہماری حالت یہ ہے ہم باہم دست و گریبان ہیں ہم خود اپنے لیئے تو اسلام کی کوئی متفقہ تعریف پیش کر نہیں سکتے تو رسول عربی (صلوۃ و سلام ہو تمام انبیاء پر) کے اس عظیم کا م کو کیسے سر انجام دے سکتے ہیں ؟

بس یاد رکھنے کی چیز ایک ہی ہے کہ ہمارے درمیان اللہ کا قانون قران کی شکل میں موجود ہے اگر ہم اپنی توانائیاں اس پر خرچ کریں تو شاید کوئی بہتر حل نکل آئے ورنہ ہمارا اللہ ہی حافظ ہے

وسلام
 

طالوت

محفلین
لگے رہو صاحبو :beating: :box::beating::box::beating::box:
ہم لاعلاج ہو چکے بلکہ یہ فتنہ گری اتنی عام ہو چکی کہ ہمیں سمجھ ہی نہیں آ رہی کہ اس کا حل کیا ہے ؟
 
مہوش آپ کی کی گئی پوسٹ میں دو تین نکات ایسے ہیں جن کا میں جواب دینا چاہوں گا تاہم اس سے پہلے اپ سے ایک درخواست کہ آپ بھی کسی ایک گروہ کی نفرت میں‌اندھا دھند اپنے قلم کا استعمال نہ کیجئے اور ایک مرتبہ اور ٹھنڈے دل و دماغ سے اس خطے کی پوری صورت حال کا جائزہ لے لیجئے اور یہاں موجود دشمنوں جن میں امریکی اور بھارتی ایجنٹ شامل ہیں ان کو ذہن میں رکھئیے
آپ نے طالبان کے حوالے سے یہ نکات اٹھائے ہیں کہ
1۔ طالبان پاکستان کے دشمن ہیں
2۔ پاکستانی طالبان ملک میں فسادات ، جنگوںخودکش حملوں اور فوج سے لڑنے کے ذمہ دار ہیں
دیکھیئے یہ تاریخ سے ثابت ہے کہ افغان طالبان نے ہمیشہ پاکستانی حکومت کی حمایت کی یہاں تک کہ 1999 میں کاگل جنگ کے بعد جن بھارت نے پانچ لاکھ افواج پاکستانی سرحدوں پا لا کھڑی کیں تو طالبان کے یقین دلانے پر ہی پاکستان نے اپنئ مغربی سرحدوں کو بھول کر دولاکھ افواج مشرقی سرحڈوں پر جمع کر دیں یہ تعلقات اچھے رہے یہاں تک کہ 9/11 کا حادثہ ہو گیا۔تاہم طالبان نے اس بعد بھی کبھی پاکستانی حکومت کے خلاف کوئی کاروئی نہیں کی
2۔پاکستانی طالبان پر لگائے گئے الزامات کی حقیقت تو اسی تھریڈ میں ایک پوسٹ میں نے واضح کی تھی جس میں ساری صورت حال کا جائزہ لیا تھا اور یہ تجویز پیش کی تھی کہ پاکستانی حکومت اور فوج امریکی لڑائی پاکستان کے اوپر مسلط نہ کرے اور قبائلی علاقوں کو جہنم نہ بنائے اس میں بی بی سی کے حوالے سے کچھ رپورٹس پیش کی تھیں جن سے یہ ثابت ہوتا تھا کہ امن معاہدات پاکستان کے حق میں ہیں اور جنگ امریکا کے۔
http://www.urduweb.org/mehfil/showpost.php?p=299323&postcount=32
اس حوالے سے تازہ ترین تجزیہ Asia Times کا ہے جس کے کچھ اقتباسات میں یہاں نقل کر رہا ہوں آپ بھی پڑھیئے
The Taliban were viewed as a phenomenon spanning the southwestern Pashtun lands from Pakistan's Balochistan province to Afghanistan's provinces of Kandahar, Helmand, Urzgan and Zabul. This is the heartland of the Taliban in which leader Mullah Omar and majority of his shura (council) live.

They have never troubled Pakistan and have not tried to impose sharia law or interfere in Shi'ite-Sunni feuds or meddle with the thousands of Hindus living in the border town of Chaman. These are the "real" Taliban and the core of the resistance fighting against the foreign occupation of Afghanistan.

Pakistan has never conducted any military operations against the Taliban in Balochistan - one NATO's main complaints.

In NWFP, the problem was more complex. There are Taliban such as Jalaluddin Haqqani steering the insurgency in Afghanistan, and Pakistan has never tried to target his outfit, despite repeated NATO requests.

Top al-Qaeda leaders also live here and in the tribal regions on the border with Afghanistan. They are not specifically anti-Pakistan and there was until 2007 a tacit agreement with the Pakistani security forces that they would be left alone. American intelligence was given a free hand to arrest them - al-Qaeda members had to look after themselves, with Pakistan acting more like a referee.
http://www.atimes.com/atimes/South_Asia/JH23Df01.html
ساتھ ہی خودکش حملوں اور خصوصا واہ کینٹ کے حملے کے بارے میں بھی کچھ انکشافات ہو رہے ہیں جن سےپاکستانی طالبان بے گناہ قرار پا رہے ہیں دیکھیے
http://www.urduweb.org/mehfil/showpost.php?p=326177&postcount=81
تاہم یہ ضرور ہے کہ پاکستانی طالبان کی حکمت عملی اور کئی باتوں سے مجھے بھی اختلاف ہے۔
لال مسجد کے حوالے سے میں نے یہ عرض کیا تھا کہ کوئی ایسا حوالہ آپ پیش کیجئے جس سے یہ ثابت ہو کہ لال مسجد والے خودکش حملوں میں ملوث تھے لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آپ نے سابقہ روش کو برقرار رکھتے ہوئے محض الزام تراشی سے کام لیا محترمہ ایسی باتوں سے تو صرف جذبات کا ہی پیٹ بھرا جاسکتا ہے حقائق کا نہیں آپ کو اشد ضرورت ہے کہ آپ موجودہ صورت حال کا ذرا گہرائی سے جائزہ لیجئے اور اس پیچیدہ صورت حال کو محض طالبان دشمنی تک محدود نہ رکھئیے۔
اللہ نے اپنے دو فرشتے اپنے ہر بندے کے اوپر مقرر کر رکھے ہیں جو اس کے اعمال قلمبند کر رہے ہیں اور باقی اللہ پاک تو ہر بات سے واقف ہے ہی تاہم اس کے بندوں تک بات کو صحیح پہچانے اور گمراہی سے بچانے کی ذمہ داری تو آپ اور مجھ پر بھی عائد ہوتی ہے اس سے منہ نہ موڑئیے
جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ طالبان امریکیوں کا کاشت کردہ پودا ہے تو یہ بہت بڑی غلط فہمی ہے جو بیشتر لوگوں کو ہے طالبان اپنے بل بوتے پر کھڑے ہو ئے اور جب وہ افغانستان کی ایک ناقابل تردید حقیقت بن گئے اور قندھار وغیرہ 1994 تھ انہوں نے فتح کر لیے پاکستانی ISI نے ان کی سپورٹ شروع کی اور کہیں بعد میں امریکی اپنے بعض مفادات کی خاطر اس کھیل میں کود گیا پوری افغان وار اور امریکی رول کے لیے آپ دیکھئے
The Bear Trap by Brigadier Yousuf
Taliban Militant Islam, Oil and Fundamentalism in Central Asia
By Ahmed Rashid
پہلی کتاب میں افغان وار کی ابتداء سے اوجڑی کیمپ تک کے حالات ہیں یہ وہ زمانہ تھا جب امریکا پاکستان کے ذریعے مجاہدین کی بھرپور مدد کرہا تھا اور دوسری کتاب خاص طالبان کے بارے میں ہے اور یہ بڑی شہرہ آفاق کتاب ہے اس کتاب کو پڑھ کر طالبان کے آغاز کے بارے میں تمام معلومات حاصل کی جاسکتی ہیں۔اور ساتھ ہی اس خطے میں امریکی گیم کو بھی سمجھا جاسکتا ہے۔ باقی جہاں تک بات ابو لولوہ اور ابن ملجم کی ہے تو درحقیقت یہ دونوں ہی اسلام اور مسلمانوں کے دشمن تھےا ور انہوں نے اپنے وقت کی دو برگزیدہ ہستیوں کو شہید کیا تاہم بات اسلامی تاریخ کے پہلے خودکش حملہ آور کی ہوہی تھی اس کے دین مذہب کی نہیں ابو لولوہ یقینا مسلمان نہیں تھا لیکن اس کے باوجود وہ تاریخ اسلام کا پہلا خودکش حملہ آور تھا ابن ملجم کس بھی طرح خودکش حملہ آور چابت نہیں ہوتا یقنی موت سے تو کئی مرتبہ مسلمانوں نے آنکھیں چار کی ہیں جیسا کہ غزوہ بدر میں یا سریہ موتہ میں جب تین ہزار مسلمانوں کے مدمقابل دو لاکھ کا لشکر آگیا تاہم گرفتاری اور موت کا خطرہ الگ شے ہے اور خود کو اپنے ہاتھوں مار ڈالنا الگ چیز۔
 
پارا چنار کےلوگوں پر گزرنے والی قیامت کی روداد میثم طوری کی زبانی
جون 19 کے دن پارا چنار کے محصورین کا سامان 25 ٹرکوں پر مشتمل کاروان کی صورت میں کچا پکا سے روانہ ہوا تو یہ ایف سی کے جوانوں کی نگرانی میں ٹل تک پہنچا، ٹل پر کچھ توقف کرنے کے بعد یہ کاروان آگے کے حالات معلوم کر کے "سب ٹھیک ہے " کی رپورٹ ملنے پر ٹل سے چل پڑا۔ ٹل سے اڑاولی (علی زئی) پہنچ کر قیام کیا اور مزید حالات معلوم کر کے یہ کاروان "ایف سی" کے آفیسرز اور جوانوں کی نگرانی میں پارا چنار کی طرف چل پڑا۔ "ایف سی" کی یقین دہانی پر یہ قافلہ جب صدہ کے قریب پیر قیوم کے مقام پر پہنچا تو اس کو روک لیا گیا۔ ایف سی کے اہل کاروں اور آفیسرز کو دہشت گردوں نے بلایا اور انہیں محفوظ مقام کی طرف چلے جانے کو کہا اور ٹرک ڈرائیورز، کلینرز اور بعض ٹرکوں میں چھپے ہوئے افراد جو پشاور اور دیگر شہروں میں پھنسے ہوئے تھے مجبوری کی حالت میں سامان والے ٹرکوں میں چھپ کر پارا چنار جا رہے تھے کو اُتار لیا گیا، ایف سی کے اہلکار اپنی جانیں بچا کر بھاگ کئے اور کارواں کی نگرانی کرنے والے ہیلی کاپٹرز نہ جانے کہاں چلے گئے۔ کروڑوں کے سامان سے بھرے ٹرک اور اُن کے عملے کو نام نہاد مقامی طالبان کے سپرد کر کر گئے۔ اس وقت جو افراتفری مچی اس میں بعض ٹرک اور ہیلپروں نے ایف سی کی گاڑیوں میں سوار ہونے کی کوشش کی اور اہلکاروں کی گاڑیوں میں سوار ہونے کی کوشش کی مگر ایف سی کے اہلکار انہیں بندوقوں کے بٹ مار مار کر خود سے علیحدہ کرتے رہے۔
کروڑوں کا سامان جو محصورین تک پہنچانا تھا لوٹ لیا گیا اور ٹرکوں کو جلا دیا گیا ٹرکوں میں چھپے ہوئے لوگ بھی زندہ جل گئے، باقی افراد کو اغوا کر لیا گیا۔ اسی افراتفری میں 7 ٹرک نکل جانے میں کامیاب ہوگیے۔ اور بڑی مشکل سے شیعہ علاقہ جو صدہ کے فوری بعد شروع ہوتا ہے میں پہنچ گیے۔ ان لوگوں نے پیر قیوم میں ہونے والی ساری کاروائی مقامی شیعہ قبائل کو بتائی۔ پارا چنار میں تشویش کی لہر ڈوڑ گئی اس لیے کہ لوگ جانتے تھے کہ گرفتار ہونے والوں کے ساتھ کیا کیا جا سکتا ہے۔پھر وہی ہوا جس کا ڈر تھا۔مگر میں سوچتا ہوں کہ قیامت کیوں نہ آ گئی
آسمان ٹوٹ کیوں نہ پڑا۔۔۔۔
عذاب خداوند ی نے دیر کیوں کی ۔۔۔۔۔
ظلم کے اس انداز سے شاید تاریخ کے اوراق اس سے پہلے کبھی اس قدر شرمندہ نہ ہوئے ہوں گے۔۔۔۔۔۔۔کیا عجیب مناظر تھے۔۔۔۔۔۔!
بارہ لاشوں کے ٹکڑے، ان کے بدنوں کو آرے سے چیرا گیا تھا۔۔۔۔۔۔ ہاتھ کاٹ دیئے گیے تھے۔ ۔۔۔ پاوں جدا کر دیئے گئے۔۔۔۔۔۔۔ گردنیں بدنوں سے جدا کر دی گئی تھیں۔۔۔۔۔ بدنوں پر جگہ جگہ تشدد اور استریاں داغنے کے نشانات۔۔۔۔ بعض کی زبانیں بھی کاٹی گئی تھی ۔۔۔۔ اور یہ کچھ کرنے کے بعد بھی ظالموں کا دل نہیں بھرا تھا تو ان کو جلا دیا۔۔۔۔۔۔۔ اور ساتھ یہ پیغام بھی دیا کہ ہم اس سے بھی زیادہ ظلم کر سکتے ہیں۔
یہ وہ شہداء کی باقیات تھیں جو اہلیان کرم اور خانوادگان شہدا نے وصول کی تھیں۔
اِن 12 شہداء میں ایک شہید نوجوان ساجد حسین بھی تھا جو سات بہنوں کا اکلوتا بھائی تھا اور اس کے والدین نے ساتھ بیٹیوں کے بعد دعائیں مانگ مانگ کر خدا سے حاصل کیا تھا۔۔۔۔۔ جو بوڑھے باپ، ضعیف ماں اور سات بہنوں کی امید، آسرا اور لاڈو پیار کا محور تھا۔ ۔۔۔ اس کے بدن کے ٹکڑے وصول کرنے جب اس کے بوڑھے والدین اور سات بہنیں پہنچیں تو اہلیان کرم پر کیا بیتی ۔۔۔ کیا عجیب کہرام بپا ہوا۔۔۔۔۔۔ کیسا نالہ و فریاد اور بین تھے۔ یہ بیان سے باہر ہے۔ ذرا تصور میں جا کر اندازہ لگایئے گا ان کا درد سے کلیجہ پھٹ گیا ہو گا۔
 

ساجداقبال

محفلین
غازی برادران کھل کر دھمکیاں دے رہے ہیں کہ حکومت ان کے جرائم کے سامنے گھٹنے ٹیکے اور اپنے آپ کو ان انتہا پسندوں کے ہاتھوں یرغمال بنا دے ورنہ انکے خود کش حملہ بردار حملے کرنے کے لیے تیار کھڑے ہیں۔
میں پوری ”بحث“ میں صرف پڑھنے کی حد تک شریک ہوں لیکن اتنا بڑا جھوٹ مجھ سے ہضم نہیں ہو رہا(ہاجمولا کھا کر بھی)۔ میرے سوالات:
۔غازی برادران سے کون مراد ہیں؟
۔ اور قبر سے دھمکیاں دینا Ipv7 کا کوئی فنکشن تو نہیں؟
۔ نیز سلطان راہی کے بعد مولانا عزیز کو یہ اعزاز دیا جا سکتا ہے کہ جیل سے دھمکیاں دے؟
 

الف نظامی

لائبریرین
پاکستان میں حالیہ دہشت گردی کی لہر میں امریکہ اور بھارت ملوث‌ ہیں۔ اور طالبان گروہوں کو وہی اسلحہ مہیا کر رہے ہیں۔
 

مہوش علی

لائبریرین
میں پوری ”بحث“ میں صرف پڑھنے کی حد تک شریک ہوں لیکن اتنا بڑا جھوٹ مجھ سے ہضم نہیں ہو رہا(ہاجمولا کھا کر بھی)۔ میرے سوالات:
۔غازی برادران سے کون مراد ہیں؟
۔ اور قبر سے دھمکیاں دینا Ipv7 کا کوئی فنکشن تو نہیں؟
۔ نیز سلطان راہی کے بعد مولانا عزیز کو یہ اعزاز دیا جا سکتا ہے کہ جیل سے دھمکیاں دے؟

ساجد بھائی،
بلاشبہ آپ اتنے ذہین ہیں کہ یہ بات بالضرور سمجھتے ہوں گے کہ "ہیں" کا صیغہ استعمال کرنے کے باوجود میری مراد ماضی میں غازی برادران اور اہلیان لال مسجد کی طرف سے کی گئی یہ کاروائیاں تھیں جو خود کش حملوں کی دھمکیوں سے لیکر غازی مولوی برادران کے پیچھے دوڑنے والوں کو "جنت کی بشارتوں" اور مسجد میں بڑے غازی برادر کے خون بہنے تک تھی [بجائے با برقع فرار ہونے کے]۔
آپ میں اور مجھ میں ہمیشہ لال مسجد کے حوالے سے بہت زیادہ اختلاف رہا تھا اور لگتا ہے کہ ابھی تک جوں کا توں قائم ہے۔
 

مہوش علی

لائبریرین
پارا چنار کےلوگوں پر گزرنے والی قیامت کی روداد میثم طوری کی زبانی
جون 19 کے دن پارا چنار کے محصورین کا سامان 25 ٹرکوں پر مشتمل کاروان کی صورت میں کچا پکا سے روانہ ہوا تو یہ ایف سی کے جوانوں کی نگرانی میں ٹل تک پہنچا، ٹل پر کچھ توقف کرنے کے بعد یہ کاروان آگے کے حالات معلوم کر کے "سب ٹھیک ہے " کی رپورٹ ملنے پر ٹل سے چل پڑا۔ ٹل سے اڑاولی (علی زئی) پہنچ کر قیام کیا اور مزید حالات معلوم کر کے یہ کاروان "ایف سی" کے آفیسرز اور جوانوں کی نگرانی میں پارا چنار کی طرف چل پڑا۔ "ایف سی" کی یقین دہانی پر یہ قافلہ جب صدہ کے قریب پیر قیوم کے مقام پر پہنچا تو اس کو روک لیا گیا۔ ایف سی کے اہل کاروں اور آفیسرز کو دہشت گردوں نے بلایا اور انہیں محفوظ مقام کی طرف چلے جانے کو کہا اور ٹرک ڈرائیورز، کلینرز اور بعض ٹرکوں میں چھپے ہوئے افراد جو پشاور اور دیگر شہروں میں پھنسے ہوئے تھے مجبوری کی حالت میں سامان والے ٹرکوں میں چھپ کر پارا چنار جا رہے تھے کو اُتار لیا گیا، ایف سی کے اہلکار اپنی جانیں بچا کر بھاگ کئے اور کارواں کی نگرانی کرنے والے ہیلی کاپٹرز نہ جانے کہاں چلے گئے۔ کروڑوں کے سامان سے بھرے ٹرک اور اُن کے عملے کو نام نہاد مقامی طالبان کے سپرد کر کر گئے۔ اس وقت جو افراتفری مچی اس میں بعض ٹرک اور ہیلپروں نے ایف سی کی گاڑیوں میں سوار ہونے کی کوشش کی اور اہلکاروں کی گاڑیوں میں سوار ہونے کی کوشش کی مگر ایف سی کے اہلکار انہیں بندوقوں کے بٹ مار مار کر خود سے علیحدہ کرتے رہے۔
کروڑوں کا سامان جو محصورین تک پہنچانا تھا لوٹ لیا گیا اور ٹرکوں کو جلا دیا گیا ٹرکوں میں چھپے ہوئے لوگ بھی زندہ جل گئے، باقی افراد کو اغوا کر لیا گیا۔ اسی افراتفری میں 7 ٹرک نکل جانے میں کامیاب ہوگیے۔ اور بڑی مشکل سے شیعہ علاقہ جو صدہ کے فوری بعد شروع ہوتا ہے میں پہنچ گیے۔ ان لوگوں نے پیر قیوم میں ہونے والی ساری کاروائی مقامی شیعہ قبائل کو بتائی۔ پارا چنار میں تشویش کی لہر ڈوڑ گئی اس لیے کہ لوگ جانتے تھے کہ گرفتار ہونے والوں کے ساتھ کیا کیا جا سکتا ہے۔پھر وہی ہوا جس کا ڈر تھا۔مگر میں سوچتا ہوں کہ قیامت کیوں نہ آ گئی
آسمان ٹوٹ کیوں نہ پڑا۔۔۔۔
عذاب خداوند ی نے دیر کیوں کی ۔۔۔۔۔
ظلم کے اس انداز سے شاید تاریخ کے اوراق اس سے پہلے کبھی اس قدر شرمندہ نہ ہوئے ہوں گے۔۔۔۔۔۔۔کیا عجیب مناظر تھے۔۔۔۔۔۔!
بارہ لاشوں کے ٹکڑے، ان کے بدنوں کو آرے سے چیرا گیا تھا۔۔۔۔۔۔ ہاتھ کاٹ دیئے گیے تھے۔ ۔۔۔ پاوں جدا کر دیئے گئے۔۔۔۔۔۔۔ گردنیں بدنوں سے جدا کر دی گئی تھیں۔۔۔۔۔ بدنوں پر جگہ جگہ تشدد اور استریاں داغنے کے نشانات۔۔۔۔ بعض کی زبانیں بھی کاٹی گئی تھی ۔۔۔۔ اور یہ کچھ کرنے کے بعد بھی ظالموں کا دل نہیں بھرا تھا تو ان کو جلا دیا۔۔۔۔۔۔۔ اور ساتھ یہ پیغام بھی دیا کہ ہم اس سے بھی زیادہ ظلم کر سکتے ہیں۔
یہ وہ شہداء کی باقیات تھیں جو اہلیان کرم اور خانوادگان شہدا نے وصول کی تھیں۔
اِن 12 شہداء میں ایک شہید نوجوان ساجد حسین بھی تھا جو سات بہنوں کا اکلوتا بھائی تھا اور اس کے والدین نے ساتھ بیٹیوں کے بعد دعائیں مانگ مانگ کر خدا سے حاصل کیا تھا۔۔۔۔۔ جو بوڑھے باپ، ضعیف ماں اور سات بہنوں کی امید، آسرا اور لاڈو پیار کا محور تھا۔ ۔۔۔ اس کے بدن کے ٹکڑے وصول کرنے جب اس کے بوڑھے والدین اور سات بہنیں پہنچیں تو اہلیان کرم پر کیا بیتی ۔۔۔ کیا عجیب کہرام بپا ہوا۔۔۔۔۔۔ کیسا نالہ و فریاد اور بین تھے۔ یہ بیان سے باہر ہے۔ ذرا تصور میں جا کر اندازہ لگایئے گا ان کا درد سے کلیجہ پھٹ گیا ہو گا۔

سولنگی بھائی، مجھے اللہ کی ذات سے پوری امید ہے کہ ان معصوم شہداء کا خون اب رائیگاں جانے والا نہیں ۔۔۔۔ اور یہاں سے ہی طالبان کے زوال کی شروعات ہے۔۔۔۔۔[کم از کم میں تو ان شہداء کے کٹے ہوئے سروں اور کٹے ہاتھوں پاوں کو دیکھ لینے کے بعد اپنی ممکنہ حد تک توانائیوں کے ساتھ طالبان کے مظالم کا پردہ چاک کرنے کا عہد کر چکی ہوں کہ بغیر لگٹے لپیٹے اب طالبان کے خلاف جہاد کا وقت آ چکا ہے]۔

اور جو وہ کہتے ہیں کہ "جب ظلم حد سے بڑھ جاتا ہے تو مٹ جاتا ہے"

تو ان شہداء کے مثلے لاشے مجھے یہی پیغام دیتے نظر آئے کہ اب ظلم اُس حد سے بڑھ چکا ہے کہ جس کے بعد اب اسکے مٹنے کا وقت ہے۔

جس جس نے ان مظلوموں کے لاشوں کو دیکھا ہے، وہ اس درندگی پر طالبان کو بے ساختہ لعنت کرنے پر مجبور ہو گیا اور اللہ کی پناہ ڈھونڈنے لگا۔ یہ طالبانی ظلم و جبر کے خلاف انقلاب شروع ہونے کا پیغام ہے۔ انشاء اللہ۔
 

طالوت

محفلین
میں پہلے بھی عرض کر چکا ہوں اور پھر سے کر دیتا ہوں کہ "مقامی یا پاکستانی طالبان" اور "افغانی طالبان" میں فرق ملحوظ رکھا جائے ۔۔۔ بلکہ اگر اس موضوع کے ٹائیٹل میں بھی "مقامی یا پاکستانی" کا اضافہ کر دیا جائے تو مناسب رہے گا۔۔۔۔
کیونکہ اس فرق کے نہ کرنے کی وجہ سے یہاں ایک مخصوص مسلک کی ترجمانی یا مخالفت سمجھی جا رہی ہے ۔۔۔
اور یہ بحث ہر بار ہوتی ہوتی رہ جاتی ہے بیشتر اس کے کہ یہاں ایسے معاملات بھی زیر بحث آئیں جن کی وجہ سے انتظامیہ کو اس موضوع کو لاک کرنا پڑ جائے تو ہمیں پہلے سے ہی اس کی سمت واضح کر لینی چاہیئے۔۔۔
اور ازراہ کرم شہداء اور مقتولین میں فرق واضح رکھیں ۔۔۔ شہادت کا درجہ صرف اور صرف قتال فی سبیل اللہ کے صلے میں ملتا ہے اسلیئے اس درجے کے حاملین کے بارے نہ تو مقامی طالبان دعوہ کر سکتے ہیں اور نہ ان کے مقابل مقتول ہونے والے سرکاری اہلکار اور دوسرے سول پر امن انسان۔۔۔ کیونکہ یہ ساری لڑائی اللہ کے لیئے نہیں بلکہ ذاتی مفادات اور انانیت کے لیئے لڑی جا رہی ہے۔۔۔۔
وسلام
 

طالوت

محفلین
ویسے میرا مشاہدہ اس سے قدرے مختلف ہے۔ میں نے اپنے اب تک کے مشاہدات سے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ پاکستانی طالبان کی اکثریت مخلص مسلمانوں پر مشتمل ہے اور وہ بھی افغان طالبان کی طرح اللہ کی زمین پر اللہ کا قانون نافذ کرنا چاہتے ہیں۔
برادر آپ کا مشاہدہ سر آنکھوں پر یقیننا اس کے پیچھے ٹھوس وجوہات ہوں گی ۔۔۔ لیکن اللہ کی زمین پر اللہ کا قانون نافذ کرنے کا جو طریقہ انھوں نے اختیار کیا تھا اور اب جس قسم کی قبیح حرکتیں کر رہے ہیں اس کا کیا اسلامی یا اخلاقی جواز بچتا ہے ؟
اور پھر اللہ کے قانون کے متعلق پہلے طے تو کر لیں کہ کونسا قانون نافذ کرنا ہے ؟ میں تقریبا آپ سبھی کے نظریات سے اختلاف رکھتا ہوں اور اللہ کے قانون کو کسی اور نظر سے دیکھتا ہوں تو کیا آپ مجھے یہ حق دیں گے کہ میں بھی یہی رویہ اختیار کروں کہ مجھے بھی اپنا فرض ادا کرنا ہے ؟


برادر طالبان کی آبیاری کی جو میں نے بات کی تھی اس مقصد یہ نہیں تھا کہ امریکہ ، ضیاء یا مشرف براہ راست طالبان کو کھڑا کرنے میں ملوث رہے ہیں بلکہ میرا اشارہ ان حالات کی طرف تھا جن کی وجہ سے نیم خواندہ طالبان کا وجود ظہور پذیر ہوا۔۔ تاہم مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں "افغانی طالبان" افغانستان کی ضرورت تھے اور انھوں نے شکستہ حال اور بکھرے ٹوٹے ملک کو نا صرف یکجا کیا بلکہ کئی ایک کارنامے بھی سر انجام بھی دئیے خصو صا پاکستان کیے ساتھ ان کی ہمدردیاں بلاشبہ قابل تعریف ہیں ۔۔۔قطع نظر اس کہ ان سے بہت سی غلطیاں بھی سر زرد ہوئیں تو ایسا تو ہوتا ہے ایسے کاموں میں ۔۔۔۔۔۔۔
وسلام
 
سولنگی بھائی، مجھے اللہ کی ذات سے پوری امید ہے کہ ان معصوم شہداء کا خون اب رائیگاں جانے والا نہیں ۔۔۔۔ اور یہاں سے ہی طالبان کے زوال کی شروعات ہے۔۔۔۔۔[کم از کم میں تو ان شہداء کے کٹے ہوئے سروں اور کٹے ہاتھوں پاوں کو دیکھ لینے کے بعد اپنی ممکنہ حد تک توانائیوں کے ساتھ طالبان کے مظالم کا پردہ چاک کرنے کا عہد کر چکی ہوں کہ بغیر لگٹے لپیٹے اب طالبان کے خلاف جہاد کا وقت آ چکا ہے]۔

اور جو وہ کہتے ہیں کہ "جب ظلم حد سے بڑھ جاتا ہے تو مٹ جاتا ہے"

تو ان شہداء کے مثلے لاشے مجھے یہی پیغام دیتے نظر آئے کہ اب ظلم اُس حد سے بڑھ چکا ہے کہ جس کے بعد اب اسکے مٹنے کا وقت ہے۔

جس جس نے ان مظلوموں کے لاشوں کو دیکھا ہے، وہ اس درندگی پر طالبان کو بے ساختہ لعنت کرنے پر مجبور ہو گیا اور اللہ کی پناہ ڈھونڈنے لگا۔ یہ طالبانی ظلم و جبر کے خلاف انقلاب شروع ہونے کا پیغام ہے۔ انشاء اللہ۔
سات اگست کو ایک ٹریکٹر کے جلائے جانے کے بعد شیعہ سنی فسادات میں اب تک سرکاری اعداد وشمار کے مطابق پچھتر افراد ہلاک اور دو سو ایک زخمی ہیں۔ تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ مرنے والوں کی تعداد اس سے بھی کہیں زیادہ ہوسکتی ہے کیونکہ بقول ان کے لوئر کُرم میں سُنیوں کے گاؤں کو جلائے جانے کے دوران جن افراد کو ہلاک کیاگیا ہے ان کی لاشیں اب بھی جگہ جگہ پڑی ہیں۔

تازہ جھڑپیں سات اگست کو لوئر کُرم میں اس وقت شروع ہوئیں جب حکومتی ذرائع کے مطابق صدر مقام پاڑہ چنار سے تقریباً چار ہزار شیعوں پر مشتمل ایک لشکر نے سُنیوں کے گھروں پر حملہ کر کے ان میں موجود سامان کو لوٹ کر کئی گاؤں کو نذرِ آتش کردیا۔

اس لشکر نے منڈا، اسماعیل، حیدر خان، گالہ، مندری اور مدوخیل کلی اورمخیزئی کے چار چھوٹے چھوٹے دیہات کو آگ لگا دی اور سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ان تمام گاؤں میں تقریباً دو سو مکانات کو نذرِ آتش کردیا گیا ہے۔

از طالوت ۔۔شاید نہیں بلکہ یقیننا اب بحث اسی فرقہ واریت کی طرف جا رہی ہے جس کا شکار کرم ایجنسی کے لوگ اور پورا پاکستان ہے ۔۔۔
سچ تو یہ ہے کہ شاید ہی دنیا میں کوئی فرد ہو جو کسی کی حمایت یا مخالفت کلی طور پر غیر جانبدرانہ کر سکے۔۔۔

خالی یہی بحث نہیں طالوت طالبان کے نام پر مکمل فرقہ وارانہ ماحول اب بن چکا ہے کرم ایجنسی میں جو کچھ ہو راہ ہےاس کی مکمل طور پر یکرفہ تصویر پیش کی جارہی ہے اور پھر اس پر نوحے اور ماتم بھی پڑھے جارہے ہیں شاید یہ کوی تقیہ کی شکل جدید ہے۔
پنی ممکنہ حد تک توانائیوں کے ساتھ طالبان کے مظالم کا پردہ چاک کرنے کا عہد کر چکی ہوں کہ بغیر لگٹے لپیٹے اب طالبان کے خلاف جہاد کا وقت آ چکا ہے]
یہ کام تو کافی پہلے سے سے فرمایا جارہا ہے تاہم آخری فیصلہ صرف اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے۔
 
پارا چنار کےلوگوں پر گزرنے والی قیامت کی روداد میثم طوری کی زبانی
جون 19 کے دن پارا چنار کے محصورین کا سامان 25 ٹرکوں پر مشتمل کاروان کی صورت میں کچا پکا سے روانہ ہوا تو یہ ایف سی کے جوانوں کی نگرانی میں ٹل تک پہنچا، ٹل پر کچھ توقف کرنے کے بعد یہ کاروان آگے کے حالات معلوم کر کے "سب ٹھیک ہے " کی رپورٹ ملنے پر ٹل سے چل پڑا۔ ٹل سے اڑاولی (علی زئی) پہنچ کر قیام کیا اور مزید حالات معلوم کر کے یہ کاروان "ایف سی" کے آفیسرز اور جوانوں کی نگرانی میں پارا چنار کی طرف چل پڑا۔ "ایف سی" کی یقین دہانی پر یہ قافلہ جب صدہ کے قریب پیر قیوم کے مقام پر پہنچا تو اس کو روک لیا گیا۔ ایف سی کے اہل کاروں اور آفیسرز کو دہشت گردوں نے بلایا اور انہیں محفوظ مقام کی طرف چلے جانے کو کہا اور ٹرک ڈرائیورز، کلینرز اور بعض ٹرکوں میں چھپے ہوئے افراد جو پشاور اور دیگر شہروں میں پھنسے ہوئے تھے مجبوری کی حالت میں سامان والے ٹرکوں میں چھپ کر پارا چنار جا رہے تھے کو اُتار لیا گیا، ایف سی کے اہلکار اپنی جانیں بچا کر بھاگ کئے اور کارواں کی نگرانی کرنے والے ہیلی کاپٹرز نہ جانے کہاں چلے گئے۔ کروڑوں کے سامان سے بھرے ٹرک اور اُن کے عملے کو نام نہاد مقامی طالبان کے سپرد کر کر گئے۔ اس وقت جو افراتفری مچی اس میں بعض ٹرک اور ہیلپروں نے ایف سی کی گاڑیوں میں سوار ہونے کی کوشش کی اور اہلکاروں کی گاڑیوں میں سوار ہونے کی کوشش کی مگر ایف سی کے اہلکار انہیں بندوقوں کے بٹ مار مار کر خود سے علیحدہ کرتے رہے۔
کروڑوں کا سامان جو محصورین تک پہنچانا تھا لوٹ لیا گیا اور ٹرکوں کو جلا دیا گیا ٹرکوں میں چھپے ہوئے لوگ بھی زندہ جل گئے، باقی افراد کو اغوا کر لیا گیا۔ اسی افراتفری میں 7 ٹرک نکل جانے میں کامیاب ہوگیے۔ اور بڑی مشکل سے شیعہ علاقہ جو صدہ کے فوری بعد شروع ہوتا ہے میں پہنچ گیے۔ ان لوگوں نے پیر قیوم میں ہونے والی ساری کاروائی مقامی شیعہ قبائل کو بتائی۔ پارا چنار میں تشویش کی لہر ڈوڑ گئی اس لیے کہ لوگ جانتے تھے کہ گرفتار ہونے والوں کے ساتھ کیا کیا جا سکتا ہے۔پھر وہی ہوا جس کا ڈر تھا۔مگر میں سوچتا ہوں کہ قیامت کیوں نہ آ گئی
آسمان ٹوٹ کیوں نہ پڑا۔۔۔۔
عذاب خداوند ی نے دیر کیوں کی ۔۔۔۔۔
ظلم کے اس انداز سے شاید تاریخ کے اوراق اس سے پہلے کبھی اس قدر شرمندہ نہ ہوئے ہوں گے۔۔۔۔۔۔۔کیا عجیب مناظر تھے۔۔۔۔۔۔!
بارہ لاشوں کے ٹکڑے، ان کے بدنوں کو آرے سے چیرا گیا تھا۔۔۔۔۔۔ ہاتھ کاٹ دیئے گیے تھے۔ ۔۔۔ پاوں جدا کر دیئے گئے۔۔۔۔۔۔۔ گردنیں بدنوں سے جدا کر دی گئی تھیں۔۔۔۔۔ بدنوں پر جگہ جگہ تشدد اور استریاں داغنے کے نشانات۔۔۔۔ بعض کی زبانیں بھی کاٹی گئی تھی ۔۔۔۔ اور یہ کچھ کرنے کے بعد بھی ظالموں کا دل نہیں بھرا تھا تو ان کو جلا دیا۔۔۔۔۔۔۔ اور ساتھ یہ پیغام بھی دیا کہ ہم اس سے بھی زیادہ ظلم کر سکتے ہیں۔
یہ وہ شہداء کی باقیات تھیں جو اہلیان کرم اور خانوادگان شہدا نے وصول کی تھیں۔
اِن 12 شہداء میں ایک شہید نوجوان ساجد حسین بھی تھا جو سات بہنوں کا اکلوتا بھائی تھا اور اس کے والدین نے ساتھ بیٹیوں کے بعد دعائیں مانگ مانگ کر خدا سے حاصل کیا تھا۔۔۔۔۔ جو بوڑھے باپ، ضعیف ماں اور سات بہنوں کی امید، آسرا اور لاڈو پیار کا محور تھا۔ ۔۔۔ اس کے بدن کے ٹکڑے وصول کرنے جب اس کے بوڑھے والدین اور سات بہنیں پہنچیں تو اہلیان کرم پر کیا بیتی ۔۔۔ کیا عجیب کہرام بپا ہوا۔۔۔۔۔۔ کیسا نالہ و فریاد اور بین تھے۔ یہ بیان سے باہر ہے۔ ذرا تصور میں جا کر اندازہ لگایئے گا ان کا درد سے کلیجہ پھٹ گیا ہو گا۔

یہ میثم طوری شاید آپ حضرات کے ڈائریکٹ نامہ نگار ہیں۔جو http://www.shiacenter.org کے لیے خدمات انجام دے رہے ان کی روایات شاید اتنی ہی معتبر ہیں جتنی جنگ صفین کے معاملے میں ابو مخنف لعین کی۔

تاہم تصویر کا ایک اور رخ آپ ہی حضرات کی طرف سے یہ بھی پیش کیا جا رہا ہے جس کے مطابق مظلوم تو شاید وہ ہیں جن کو آپ مہا ظالم بنا کر پیش کر رہے ہیں

پاراچنار : اب تک تقریبا 350 ناصبی دہشت گرد ہلاک 600 سے زائد زخمی، 70 شیعہ شہید پی ڈی ایف چھاپیے برقیہ
جمعه, 22 اگست 2008 12:48

دو ہفتوں سے جاری جھڑپوں میں اب تک تقریبا 350 ناصبی دہشت گرد ہلاک اور چھ سو سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ جبکہ شیعہ شہدا‏ء کی تعداد 70 کے قریب ہے .

بنگش قبائل کو وزیرستان، اورکزئی اوردیگر علاقوں سے آنے والے دہشت گردوں کی مکمل حمایت حاصل ہے اور ان قبائل کی ابتدائی موقف کے برعکس اب وہ دہشت گردوں کی حمایت میں کھلی جنگ لڑ رہے ہیں.

دریں اثناء مقامی انتظامیہ اور فوجی افسران نے دہشت گردوں کے خلاف لڑنے کا دعوی کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے ہاتھوں شدت پسندوں کے خلاف کارروائی میں پندرہ سے زاید شدت پسند مارے گئے ہیں ۔ دوسری طرف سے سرکاری جرگے نے اعلان کیا ہے کہ شیعہ عمائدین قیام امن کے سلسلے میں مکمل تعاون کا یقین دلایا ہے جبکہ صدہ جانے والے جرگہ ارکان کو دہشت گرد یزیدیوں کے زیر اثر سنی قبائل کی طرف سے کوئی جواب نہیں ملا ہے جس کی وجہ سے جرگے نے مزید وقت مانگا ہے جبکہ شیعہ قبائل کا مطالبہ ہے کہ سرکاری فورسز وعدے کے مطابق شدت پسند یزیدیوں اور بیرونی دہشت گردوں سمیت دیگرعلاقوں سے آئے ہوئے دھشت گردوں کے خلاف کاروائی کریں مگر سرکاری فورسز اب جرگے کی درخواست کا بہانہ بنا کر مشیرداخلہ کے اعلان کی خلاف ورزی اور ملک دشمن دہشت گردوں کے خلاف کاروائیوں سے گریز کررہی ہیں.

دریں اثناء سرکاری فورسز نے نہ صرف آج 15 دہشت گرد ہلاک کرنے کا دعوی کیا ہے بلکہ کل بھی 25 دہشت گرد ہلاک کرنے کا دعوی کیا تھا.

سرکاری فورسز کی طرف سے کاروایی نہ ہونے کے باوجود شیعہ قبائل اپنا دفاع کرنے اور اپنے علاقوں سے ناصبی لشکر ماربھگانے کے لئے کاروائیاں کررہے ہیں اور گذشتہ 15 دنوں سے اپنی کاروائیوں کے دوران ستر کے قریب مدافعین کی قربانی دے کر دہشت گردوں کو بھاری جانی نقصان دینے کے علاوہ ان کے ایک ایف ایم ریڈیو اور 10 سے زائد اڈوں کو تباہ کیا ہے اور کل بھی ان کا نہایت اہم مورچہ دہشت گردوں سے قبضے میں لے لیا ہے. اس دوران دہشت گردوں کے ہتھیاروں کے کئی ڈپو بھی تباہ کئے گئے ہیں.

گوکہ حکومت نے دہشت گردوں کے خلاف موثر کاروائی کا اعلان کیا ہے مگر ایسی کسی کاروائی کے اثرات کم ہی دکھائے دے رہے ہیں اور اس سے قبل سرکاری فورسز کے مشکوک کردارکو دیکھتے ہوئے یہاں کے عوام کو ان سے کسی خیر کی کوئی توقع نہیں ہے اور کوئی بھی اس حوالے سے اطمینان کا اظہار نہیں کررہا.
یادرہے کہ اس وقت تقریبا تمام قبائلی علاقوں میں ریاست کے خلاف بغاوت کے جھنڈے اٹھے ہیں اور صرف کرم ایجنسی – جس کا صدر مقام پاراچنار ہے – ایسا علاقہ ہے جس نے ڈیڑھ سال سے جاری جنگ میں سرکار کی مجرمانہ خاموشی اور بہت سے مواقع میں سرکاری فورسز کے دہشت گردوں کے ساتھ تعاون کے نتیجے میں اپنے سینکڑوں عزیزوں کی شہادت اور ٹکڑے ٹکڑے کئے جانے کے باوجود، ریاست سے اپنی وفاداری مخدوش نہیں ہونے دی ہے مگر سرکار پاکستان اس علاقے سمیت ڈیرہ اسماعیل خان، ہنگو، کوہاٹ، تیراہ اور اورکزئی ایجنسی میں شیعیان اہل بیت (علیہم السلام) سے دشمنی کو اپنی تزویری حکمت عملی یا اسٹریٹجک پالیسی کا حصہ بنا کر گذشتہ 25 برسوں سے ان علاقوں کی ریاست سے وفاداری ثابت کرنے اور اس راہ میں خون کا نذرانہ پیش کرنے والے شیعیان اہل بیت (ع) کو یا خود سزادیتی ہے یا پھر انسانیت دشمن ناصبی دہشت گردوں کو ان کے خلاف ہر قسم کی کاروائی کی کھلی چھٹی دیتی رہی ہے
.
http://www.shiacenter.org/urdu/inde...----70--&catid=1:2008-03-08-19-45-03&Itemid=3
جن کارناموں کا اوپر دعوہ کیا گیا ہے وہ یقنا مظلوم ، نیہتے اور لاچار مومنین کا نہیں ہے بلکہ شاید کافی اسلحہ اور ٹینک توپ وغیرہ رکھنے والے ان ہی قبائلی طوریوں کا ہے جو اس پہلے بھی اس قسم کے کارنامے پیش کر چکے ہیں
پاکستان کے قبائلی علاقے کرم ایجنسی میں حکام کا کہنا ہے کہ گزشتہ روز طوری قبائل کی طرف سے اغواء کئے جانے والےفرنٹیر کور کے چوالیس اہلکاروں کو مقامی جرگہ کے توسط سے بازیاب کرا لیا گیا ہے۔
http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/story/2008/07/080701_kurram_fc_men_ra.shtml

یہ اتنے ہی مظلوم بے بس طور قبائل ہیں جو سرکاری اہلکاروں کو اغوا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور گزشتہ پندرہ دنوں سے شاید اپنی لکڑی کی تلواروں سے 350 طال؛بان کو ختم کرچکے ہیں ار خود صرف 70 مومنین کی قربانی انہوں نے دی ہے۔ ویسے ان کی اس پرفارمنس سے تو شاید اب امریکا بھی ان کی مدد لینا چاہے گا۔
اور میرے خیال میں جو خبر کل اور آج ڈان مین چھپی ہے کہ چھ ہزار افغان اہلکار طووریوں کی مدد کے لیے آ گئے ہیں را سر غلط ہے بھلا طوریوں کو کیا ضرورت ہے افغان اہلکاروں کی جو افغانستان میں طالبان سے پٹ رہے ہیں اب تو حامد کرزئی کو طوری قبائل سے مدد لینا چاہیے تاکہ جلد طالبان کا خاتمہ کیا جاسکے
 
کیفیت
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں
Top