صوتیات سے متعلق کچھ مشاہدات

اس لڑی میں صوتیات سے متعلق اپنے مشاہدات کی اشتراک گذاری کیجیے۔

ابتدا میں کر دیتا ہوں۔

انگریزی کے زیادہ تر لہجوں میں "د" اور "تھ" کی آوازیں موجود نہیں ہیں۔ اردو اور ہندی بولنے والے "ذ" اور "ث" کو "د" اور "تھ" کی آوازوں سے تبدیل کر دیتے ہیں۔
 

علی وقار

محفلین
انگریزی کے زیادہ تر لہجوں میں "د" اور "تھ" کی آوازیں موجود نہیں ہیں۔ اردو اور ہندی بولنے والے "ذ" اور "ث" کو "د" اور "تھ" کی آوازوں سے تبدیل کر دیتے ہیں۔
محترم قریشی صاحب! ایک دو مثالیں بھی عنایت فرمائیں تاکہ سمجھنے میں آسانی ہو۔ شکریہ۔
 
محترم قریشی صاحب! ایک دو مثالیں بھی عنایت فرمائیں تاکہ سمجھنے میں آسانی ہو۔ شکریہ۔
مثال کے طور پر انگریزی لفظ this کا تلفظ انگریزی کے زیادہ تر لہجوں میں "ذِس" ہے۔ اسی طرح thank you کا تلفظ "ثینک یو" کے قریب قریب ہے۔
ث اور ذ کی آوازیں اردو بول چال میں کم ہی مستعمل ہیں تاہم کچھ لوگ جو تجوید وغیرہ سے واقفیت رکھتے ہوں انھیں پہچان لیتے ہیں۔
ان آوازوں کے لیے مندرجہ ذیل روابط دیکھے جا سکتے ہیں:
Voiceless dental fricative - Wikipedia
Voiced dental fricative - Wikipedia
 

علی وقار

محفلین
مثال کے طور پر انگریزی لفظ this کا تلفظ انگریزی کے زیادہ تر لہجوں میں "ذِس" ہے۔ اسی طرح thank you کا تلفظ "ثینک یو" کے قریب قریب ہے۔
ث اور ذ کی آوازیں اردو بول چال میں کم ہی مستعمل ہیں تاہم کچھ لوگ جو تجوید وغیرہ سے واقفیت رکھتے ہوں انھیں پہچان لیتے ہیں۔
ان آوازوں کے لیے مندرجہ ذیل روابط دیکھے جا سکتے ہیں:
Voiceless dental fricative - Wikipedia
Voiced dental fricative - Wikipedia
شکریہ۔ پہلی بار یہ بات پڑھی۔ معلومات میں واقعی اضافہ ہوا۔
 

سید عاطف علی

لائبریرین
انگریزی میں کاف کی آواز کے لیے کے اور سی اور کبھی دونوں استعمال ہوتے ہیں لیکن ۔
کئی جگہ کے یا سی اگر لفظ کے شروع میں ہوں تو کھ سے مشابہ کی آواز بھی بناتے ہیں خصوصا اگر ان کے بعد واول حرف ہو ۔
 
انگریزی میں کاف کی آواز کے لیے کے اور سی اور کبھی دونوں استعمال ہوتے ہیں لیکن ۔
انگریزی میں ک، پ اور ٹ کی آوازیں صرف "س" کی آواز کے بعد آتی ہیں ورنہ سی، پی اور ٹی ہمیشہ کھ، پھ اور ٹھ کے نزدیک ہوتے ہیں۔ یہ آوازیں مندرجہ ذیل قبیل سے تعلق رکھتی ہیں:
Aspirated consonant - Wikipedia

ٹھ، اور ڈ کا معاملہ کچھ یوں ہے کہ وہ اردو-ہندی میں ریٹروفلیکس ہوتے ہیں(Retroflex consonant - Wikipedia) لیکن انگریزی ٹی اور ڈی کی آوازیں زبان کو سیدھا رکھ کر ہی ادا کی جاتی ہیں۔
 
آخری تدوین:

سید عاطف علی

لائبریرین
سندھی زبان کے باون حروف میں سے چھے حروف ایسے ہیں جن کی آوااز اردو انگلش عربی فارسی اور شاید کسی پاکستانی زبان میں نہیں ہوتی ۔شاید بشمول پنجابی سرائیکی بھی ۔ حتی کہ ہماری طرح سندھ میں رہنے والے اردو خواں جو سندھی جانتے ہیں یہ تلفظ ادا نہیں کر پاتے ۔البتہ بہت مشاق لوگ درست بول لیتے ہیں ۔
یہاں سندھی ویب سائٹ سے پیسٹ نہیں ہو رہے ۔ کہیں سے تصویری شکل میں لکھ کا اس کے مخارج اور ادائیگی کا طریقہ لکھتا ہوں ۔
 

سید عاطف علی

لائبریرین
4-Table2-1.png

ان میں پہلا دوسرا تیسرا -پانچواں چھٹا اور دسواں ۔یہ حروف خاص ادائیگی رکھتے ہیں ۔

پہلا حرف ب کی طرح ہے لیکن فرق یہ ہے کہ عام ب میں (اجتماع شفتین یعنی) ہونٹ ملنے کے بعد آواز کے ساتھ ہوا باہر کو نکلتی ہے جبکہ سندھی کے اس حرف میں جس میں ب کے نیچے دو عمودی نقطے ہیں یہی ہوا اندر کی طرف لی جاتی ہے ۔ اور اس طرح یہ ب سے ذرا ممتاز آواز ہوتی ہے

بعینہ یہی فرق دو عمودی نقطوں والے جیم اور گاف میں ہوتا ہے جو بالترتیب پانچویں اور چھٹے نمبر پر ہیں ۔ اور بالکل یہی بات تین الٹے نقطے والے ڈ میں بھی ہوتی ہے جو دسویں نمبر پر ہے ۔ ان حروف کی ادائیگی کا ادراک عموما اہل زبان ہی کر پاتے ہیں ۔

اب رہ گئے دو افقی نقطوں والا جیم اور دو افقی نقطوں والا گاف۔ جو دوسرے اور تیسرے نمبر پر ہیں ۔
یہ در اصل جیم اور گاف کی طرح نہیں بلکہ "ن" کی وہ آوازیں ہیں جو جیم اور گاف میں مدغم ہو نے سے قبل ادا ہوتی ہیں ۔ جیسے سنجر کا نون اور انگارے کا نون عام نون سے ذرا محتلف ہوتے ہیں اور جیم اور گاف کے مطابق ذرا مختلف ادائیگی رکھتے ہیں ۔

اوپر کے چارٹ میں باقی تمام حروف کے اردو متبادل براہ راست یا دو چشمی ھ کے ساتھ مل جاتے ہیں ۔
 
آخری تدوین:

سید عاطف علی

لائبریرین
چھے حروف ایسے ہیں جن کی آوااز اردو انگلش عربی فارسی اور شاید کسی پاکستانی زبان میں نہیں ہوتی
کسی کو پنجابی یا سرائیکی میں ان کا علم ہو تو ضرور بتائے ۔
محمد وارث بھائی عبدالقیوم چوہدری بھئی وغیرہ ۔ اور پنجابی یا سرائیکی کی استعداد والے محفلین ۔
 

ظہیراحمدظہیر

لائبریرین
4-Table2-1.png

ان میں پہلا دوسرا تیسرا -پانچواں چھٹا اور دسواں ۔یہ حروف خاص ادائیگی رکھتے ہیں ۔

پہلا حرف ب کی طرح ہے لیکن فرق یہ ہے کہ عام ب میں (اجتماع شفتین یعنی) ہونٹ ملنے کے بعد آواز کے ساتھ ہوا باہر کو نکلتی ہے جبکہ سندھی کے اس حرف میں جس میں ب کے نیچے دو عمودی نقطے ہیں یہی ہوا اندر کی طرف لی جاتی ہے ۔ اور اس طرح یہ ب سے ذرا ممتاز آواز ہوتی ہے

بعینہ یہی فرق دو عمودی نقطوں والے جیم اور گاف میں ہوتا ہے جو بالترتیب پانچویں اور چھٹے نمبر پر ہیں ۔ اور بالکل یہی بات تین الٹے نقطے والے ڈ میں بھی ہوتا ہے جو دسویں نمبر پر ہے ۔ ان حروف کی ادائیگی کا ادراک عموما اہل زبان ہی کر پاتے ہیں ۔

اب رہ گئے دو افقی نقطوں والا جیم اور دو افقی نقطوں والا گاف۔ جو دوسرے اور تیسرے نمبر پر ہیں ۔
یہ در اصل جیم اور گاف کی طرح نہیں بلکہ "ن" کی وہ آوازیں ہیں جو جیم اور گاف میں مدغم ہو نے سے قبل ادا ہوتی ہیں ۔ جیست سنجر کا نون اور انگارے کا نون عام نون سے ذرا محتلف ہوتے ہیں اور جیم اور گاف کے مطابق ذرا مختلف ادائیگی رکھتے ہیں ۔

اوپر کے چارٹ میں باقی تمام حروف کے اردو متبادل براہ راست یا دو چشمی ھ کے ساتھ مل جاتے ہیں ۔

کیا یاد دلادیا عاطف بھائی! سندھی واقعی خوبصورت زبان ہے ۔ سندھی زبان کا رسم الخط نہ صرف عربی سے مستعار ہے بلکہ خود سندھی زبان پر بھی عربی کا اچھا خاصا اثر آیا ہے ۔ اچھی بات یہ ہے کہ سندھی زبان دانوں نے سندھی کی مخصوص اور منفرد آوازوں کے لئے حروفِ تہجی بہت جلدی اختراع کرلئے ۔ اس لحاظ سے پنجابی زبان ابھی تک پیچھے ہے کہ گورمکھی کو چھوڑ کر اردو رسم الخط اپنا تو لیا ہے لیکن اس میں ضروری حروف کا اضافہ ابھی تک نہیں کیا گیا چنانچہ غیر پنجابی کو پڑھنے میں مشکل ہوتی ہے ۔ہوسکتا ہے کہ میرا یہ مشاہدہ پرانا اور غلط ہو ۔ برادرم عبدالقیوم چوہدری اس پرشاید کچھ روشنی ڈالیں ۔
 

ظہیراحمدظہیر

لائبریرین
سندھی زبان کے باون حروف میں سے چھے حروف ایسے ہیں جن کی آوااز اردو انگلش عربی فارسی اور شاید کسی پاکستانی زبان میں نہیں ہوتی ۔شاید بشمول پنجابی سرائیکی بھی ۔ حتی کہ ہماری طرح سندھ میں رہنے والے اردو خواں جو سندھی جانتے ہیں یہ تلفظ ادا نہیں کر پاتے ۔البتہ بہت مشاق لوگ درست بول لیتے ہیں ۔

ایک افسوسناک لیکن مزے کی بات یاد آئی ۔ جن دنوں میں لیاقت میڈیکل کالج جامشورو میں پڑھا کرتا تھا جی ایم سید کی جئے سندھ اور سندھو دیش کی تحریک اپنے عروج پر تھی ۔ میڈیکل کالج اور سندھ یونیورسٹی میں ان لوگوں کی اجارہ داری تھی ۔ ایسے میں جب ایم کیو ایم بنی تو لسانی کشاکش اور تعصبات ابھر کر سامنے آگئے ۔ اردو بولنے والوں کو بہت تنگ کیا گیا ۔ مارپیٹ تک نوبت آگئی ۔ بات یہاں تک پہنچی کہ اردو بولنےوالوں کو اکیلا دکیلا دیکھ کر گھیر لیا جاتا تھا اور حسبِ موقع تواضع کی جاتی تھی ۔ بہت سارے اردو بولنے والے اچھی خاصی سندھی بول لیتے تھے اور ایسے موقعوں پر سندھی بول کر جان بچانے کی کوشش کیا کرتے تھے لیکن سندھی بھائیوں نے اس کا حل یہ نکالا کہ ان لوگوں سے کچھ ایسے لفظ بولنے کا کہا جاتا کہ جن میں سندھی کے محولہ بالا منفرد حروف ہوتے تھے ۔ ظاہر ہے کہ غیر اہلِ زبان یہ حروف ادا نہیں کرسکتے سو اس طرح ان کا غیر سندھی ہونا کھل جاتا تھا اور وہ پکڑے جاتے تھے ۔
مزے کی بات یہ کہ ایک دن ایک دوست ان لوگوں کے ہتھے چڑھ گئے ۔ بعد میں ملے تو کہنے لگے " ظہیر بھائی ، اگر پکڑے جائیں تو یہ لوگ "ڈیڈر" بُلواتے ہیں ۔ آپ بولنے کی پریکٹس کرلیجئے "۔ :):):)
جو لوگ سندھی نہیں جانتے ان کے لئے عرض ہے کہ ڈیڈر سندھی میں مینڈک کو کہتے ہیں اور اس میں "ڈ" کی جو دو آوازیں استعمال ہوئی ہیں وہ دونوں ایک دوسرے سےمختلف آوازیں ہیں اور صرف سندھی سے مخصوص ہیں ۔ غیر اہلِ زبان انہیں ادا نہیں کرسکتے اِلّا یہ کہ کسی نے بالکل ہی ابتدائی عمر سے سندھی سیکھی ہو ۔
 

سید عاطف علی

لائبریرین

سید عاطف علی

لائبریرین
واہ ! جی ہاں یہی ادائیگی ہے اور یہ مثال ڈ کے ساتھ ہے ،
یہی چیز بے ، جیم اور گاف کے ساتھ بھی ہے ۔ دو عمودی نقطوں میں ۔ سندھی میں اس خاصیت کے بس یہ چار ہی حروف ہیں ۔ ب، ڈ، ج، گ ۔
باقی سندھی میں دو چشمی ھ کے ساتھ ملنے والے حروف لیے الگ حروف ہیں ۔ ان پر عموماََ چار نقاط (کہیں دو) ہوتے ہیں ۔
 

ظہیراحمدظہیر

لائبریرین
میرے خیال میں اس لفظ (ڈیڈر) میں ایک ہی حرف دونوں جگہ ہے ۔ (الٹے تین نقطوں والا ڈ )
عاطف بھائی لکھنے میں تو ایک ہی حرف ہے لیکن جیسا کہ عرض کیا بولنے میں دونوں کی آوازیں مختلف ہیں ۔ پہلا ڈ ذرا سخت اور دوسرا نرم ہے ۔
سندھی میں "ڈیڈر" سننے کے لئے سندھی لینگویج اٹھارٹی والوں کا یہ ربط دیکھئے گا ۔ :)
 

سید عاطف علی

لائبریرین
ریحان یہ آواز مجھے سندھی کے "ڈ" سے مختلف لگ رہی ہے ۔ ہے اسی قبیل کی لیکن بالکل ویسی نہیں ہے ۔

عاطف بھائی لکھنے میں تو ایک ہی حرف ہے لیکن جیسا کہ عرض کیا بولنے میں دونوں کی آوازیں مختلف ہیں ۔ پہلا ڈ ذرا سخت اور دوسرا نرم ہے ۔
سندھی میں "ڈیڈر" سننے کے لئے سندھی لینگویج اٹھارٹی والوں کا یہ ربط دیکھئے گا ۔ :)

ظہیر بھائی لیکن آواز کی ادائیگی اور آواز تو وہی ہے ۔ لیکن کیونکہ مجرد حرف بولا گیا ہے اس لیے سماعت پر مختلف لگ سکتا ہے جب یہ بندہ سندھی زبان بولے گا تو الفاظ اور جملوں میں پتہ نہیں چلے گا ۔ ویسے اس وکیپیڈیا والے شخص نے بھی دو آوازوں میں پہلی کو ذرا زور و شور سے اور دوسری کو قدرے نرم ادا کیا ہے ۔
دو حروف کے ساتھ آنے میں یہ انداز کہ پہلے کو واضح اور دوسرے کو ذرا کم کرنے کا طریقہ اور زبانوں میں بھی ہے ۔
 

یاسر شاہ

محفلین
سندھی زبان کے باون حروف میں سے چھے حروف ایسے ہیں جن کی آوااز اردو انگلش عربی فارسی اور شاید کسی پاکستانی زبان میں نہیں ہوتی ۔شاید بشمول پنجابی سرائیکی بھی ۔ حتی کہ ہماری طرح سندھ میں رہنے والے اردو خواں جو سندھی جانتے ہیں یہ تلفظ ادا نہیں کر پاتے ۔البتہ بہت مشاق لوگ درست بول لیتے ہیں ۔
یہاں سندھی ویب سائٹ سے پیسٹ نہیں ہو رہے ۔ کہیں سے تصویری شکل میں لکھ کا اس کے مخارج اور ادائیگی کا طریقہ لکھتا ہوں ۔
ان حروف کو ایک جملے میں اکٹھا کیا گیا ہے جس کی ادائیگی سے اہل زبان و غیر اہل زبان میں تفریق ہوتی ہے:

اڄ ڏيڏرن جي ڄڃ ۾ ڳڙ ورايو ویندو
مطلب :آج مینڈکوں کی بارات میں گڑ تقسیم کیا جائے گا۔
 
آخری تدوین:
Top