صرف مسلمان نہیں، یہاں تو قرآن پر بھی شک کیا جاتا ہے!

کاشفی

محفلین
صرف مسلمان نہیں، یہاں تو قرآن پر بھی شک کیا جاتا ہے!
تحریر : ذیشان عثمانی
آج اتوار کا دن تھا۔ عبداللہ بھی باقی نوکری پیشہ لوگوں کی طرح گھر پر ہی تھا۔ اخبار کی سرخیوں سے فارغ ہو کر اس نے سوچا کہ چلو قرآنِ پاک کا مطالعہ کرلیا جائے۔ اس نے وضو کیا، سر پر ٹوپی رکھی اور قرآن کی تلاوت شروع کردی۔ چھٹی کی وجہ سے اس نے آج شلوار قمیض پہن رکھا تھا، جِسے وہ لباس کم اور سلیپنگ ڈریس زیادہ سمجھتا تھا۔
کوئی ایک آدھ گھنٹہ گذرا ہوگا کہ اس کی بیوی بھاگتی ہوئی آئی کہ اس کا بیٹا گلی میں سائیکل چلاتے گرگیا ہے اور گھٹنے پر شدید چوٹ آئی ہے۔ خون تو رک گیا ہے مگر ایکسرے کرانا ضروری ہوگا۔ عبداللہ نے بھاگم بھاگ گاڑی نکالی، بیوی اور بچے کو سوار کیا اور شہر کے سب سے مشہور اور مہنگے اسپتال کی طرف روانہ ہوگیا۔ بیوی بچے کو استقبالیہ پر اُتار کر اس نے گاڑی پارک کی اور تیز تیز قدموں سے اسپتال کے مین گیٹ کی جانب بڑھنے لگا۔ شلوار قمیض پہنے ہوئے، پیر میں چپل، سر پر ٹوپی۔ عبداللہ آج پہچانا ہی نہ جا رہا تھا کہ وہ شہر کا کوئی قابلِ ذکر آدمی بھی ہے۔ بے خیالی میں اس نے قرآنِ پاک بھی اُٹھالیا کہ اندر ویٹنگ روم میں پڑھتا رہے گا۔ ابھی عبداللہ گیٹ سے داخل ہوا ہی چاہتا تھا کہ پیچھے سے آواز آئی۔
’’اوئے کدھر منہ اُٹھائے جا رہا ہے، دفع ہو یہاں سے‘‘۔
عبداللہ نے آس پاس دیکھا، چھٹی کا دن کوئی ذی روح موجود نہ تھا۔ اِتنے میں پیچھے سے آواز لگاتے سیکیورٹی گارڈ نے عبداللہ کو جالیا۔
’’کدھر مرتا ہے، گیٹ سے باہر جا‘‘۔
گارڈ نے نخوست بھرے لہجے میں کہا۔ عبداللہ کو ایسے الفاظ سننے کی عادت نہ تھی۔ ابھی وہ کوئی جواب دینے کے لئے سوچ ہی رہا تھا کہ اسپتال کے اندر سے ڈاکٹر ناصر ملک جو کہ ایک ماہر نیورو سرجن تھے آتے ہوئے دِکھائی دیئے۔ وہ عبداللہ کے پرانے واقف کار تھے۔ دور سے ہی پہچان گئے۔ انہوں نے آواز لگائی۔
ڈاکٹر عبداللہ، سو نائس ٹو سِی یو۔ پلیز کم، ہیو آ ٹی۔ سرجن صاحب کو دیکھتے ہی سیکیورٹی گارڈ رفو چکر ہوگیا اور عبداللہ اندر چلا گیا۔ چائے پی کر عبداللہ نے بیٹے کی خیریت لی اور واپس گیٹ پر چلا گیا۔ کچھ ہی دیر بعد وہ گارڈ نظر آگیا۔ عبداللہ نے جا کر سلام کیا۔ اب گارڈ شرمندہ شرمندہ سا کھڑا تھا اور ایک ہاتھ سے سینے پر سجے نیم ٹیگ کو چھپانے کی کوشش کر رہا تھا۔ عبداللہ نے صورتِ حال کو بھانپتے ہوئے جیب سے100 کا نوٹ نکالا اور اُسے کہا۔ میں آپ کی شکایت کسی سے نہیں کروں گا۔ یہ روپے رکھ لو۔ صرف یہ بتاؤ کہ مجھے روکا کیوں تھا؟ میرے کپڑے بھی صاف ستھرے ہیں اور چال ڈھال بھی مناسب ہے۔
جی سر، بس معاف کردیں۔ جانے دیجیئے۔ غلطی ہو گئی، نہیں پلیز بتائیں۔ آپ کو کچھ نہیں کہوں گا، عبداللہ نے نرمی سے کہا۔
جی، دراصل وہ ایف ٹین کے باہر اور بھی کئی جگہوں پر جوان لڑکے ہاتھ میں قرآن لئے بھیک مانگتے ہیں۔ جلدی میں میری نظر آپ کے ہاتھ میں پکڑے قرآنِ پاک پر پڑی تو میں سمجھا آپ بھی بھکاری ہیں۔
لا اِلہ الاّللہ محمد رّسول اللہ کے نام پر بنائے جانے والے اِس دیس میں قرآن کی اِس تشریح پر عبداللہ کئی دن بول ہی نہ سکا۔
 

اکمل زیدی

محفلین
آپ کا مضمون اچھا ہے مگر اس کا عنوان درست نہیں ...قرآن پر شک کی بات نہیں قرآن کے misuse کی بات ہے ...اس میں گارڈ کا قصور نہیں ان افراد کا ہے جو قرآن جیسی کتاب کو اپنے مفاد کے لئے استعمال کرتے ہیں ...اگر تاریخ سے آگاہ ہیں اور گراں نہ گزرے تو کہوں کہ ایسے ہی ایک جنگ میں ایک موقع پر قرآن کو درمیان میں لا کر عیاری سے دھوکہ کیا گیا تھا ..اور سادہ لوح مسلمان اس چکمے میں آگئے تھے ...اسی لئے کہتے ہیں دینداری اور دین شناسی میں فرق ہے ...بہت بڑا فرق ....
 
Top